بھارت نے تقسیم کے متاثرین کی یاد میں 14 اگست ’’تقسیم کی ہولناکیوں کی یاد کا دن‘‘ کے طور پر منانے کا ایک جذباتی فیصلہ لیا ہے: وزیر اعظم مودی
وزیر اعظم مودی نے پردھان منتری گتی شکتی قومی ماسٹر پلان کا اعلان کیا، جو جامع بنیادی ڈھانچہ ترقی کے لئے بنیاد فراہم کرے گا: وزیر اعظم مودی
یہ ہمارے لیے فخر کا لمحہ ہے کہ ہمارے سائنس دانوں کی وجہ سے ہم دو ’میک اِن انڈیا‘ کووِڈ ٹیکے تیار کرنے اور دنیا کی سب سے بڑی ٹیکہ کاری مہم چلانے میں کامیاب ہوئے: وزیر اعظم
بھارت کی نوجوان نسل نے ٹوکیو اولمپکس میں ہمارے ملک کو فخر کا احساس کرایا: وزیر اعظم مودی
’امرت کال‘ کا مقصد بھارت اور بھارت کے شہریوں کے لئے خوشحالی کی نئی بلندیوں کو سر کرنا ہے: وزیر اعظم مودی
بھارت کی اس وکاس یاترا میں، ہمیں اس امر کو یقینی بنانا ہے کہ جب بھارت کی آزادی کے 100 برس کا جشن منائیں تو اس وقت آتم نربھر بھارت کی تعمیر کا ہدف مکمل ہو جائے: وزیر اعظم
ہر اسکیم کے تحت فراہم کیے جانے والے چاولوں کو 2024 تک غذائیت سے مالامال بنایا جائے گا: وزیر اعظم مودی
ہمیں اپنے چھوٹے کاشتکاروں پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے: وزیر اعظم مودی
ترقی کے راستے پر آگے چلتے ہوئے، بھارت کو اپنی مینوفیکچرنگ اور برآمدات دونوں شعبوں میں تیزی لانی ہوگی: وزیر اعظم مودی
سیلف ہیلپ گروپوں کے ذریعہ تیار کردہ مصنوعات کی اندرونِ ملک اور غیر ممالک میں زبردست مارکیٹ کی یقین دہانی کرانے کے لئے حکومت ایک ای۔کامرس پلیٹ فارم تیار کرے گی: وزیر اعظم مودی
گرین ہائیڈروجن دنیا کا مستقبل ہے۔ آج، میں قومی ہائیڈروجن مشن کے قیام کا اعلان کرتا ہوں: وزیر اعظم مودی
ہمارے نوجوان ایک ’باحوصلہ‘ پیڑھی سے تعلق رکھتے ہیں، اور وہ جو ٹھان لیں اسے حاصل کر سکتے ہیں: وزیر اعظم مودی

میرے پیارے ہم وطنو! آزادی کا امرت مہوتسو! 75 ویں یوم آزادی کے موقع پر  آپ سبھی کو اور دنیا بھر میں بھارت سے محبت کرنے والے،  جمہوریت سے محبت کرنے والے  سبھی کو بہت بہت نیک خواہشات۔

آج آزادی کےاس امرت مہوتسو کے مبارک موقع پر ملک اپنے تمام مجاہدین آزادی، ملک کے دفاع میں اپنے آپ کو  دن رات کھپانے والے ، قربانی دینے والے، بہادر مرد و خواتین کو  ملک سلام پیش کررہا ہے۔آزادی کو عوامی تحریک بنانے والے ، لائق صد احترام باپو ہوں ،یا آزادی کے لئے اپنا سب کچھ نچھاور کرنے والے نیتاجی سبھاش چندر بوس، بھگت سنگھ، چندر شیکھر آزاد، بسمل اور اشفاق اللہ خان جیسے عظیم انقلابی ہوں، جھانسی کی رانی لکشمی بائی ہوں، کتور کی رانی چینما ہوں یا رانی گائی دنلیو ہوں، یا آسام میں ماتنگینی ہاجراکا کی بہادری ہو، ملک کے پہلے وزیر اعظم پنڈت نہرو جی ہوں، قوم کو ایک متحد ملک کی شکل  دینے والے سردار ولبھ بھائی پٹیل ہوں، بھارت کے مستقبل کی سمت کا تعین کرنے والے، راستہ طے کرانے والے بابا صاحب امبیڈکر سمیت ہر شخص کو ، ہر شخصیت کو آج ملک یاد کر رہا ہے۔ ملک ان سبھی عظیم شخصیات کا مقروض ہے۔

بھارت تو گونا گوں نگینوں سے مزین سرزمین ہے۔ آج بھارت کے ہر کونے میں، ہر دور میں، لاتعداد لوگوں نے، جن کے نام بھی شاید تاریخ میں نہیں ہوں گے، ایسے بے شمار لوگوں نے اس ملک کو بنایابھی ہے، آگے بڑھایا بھی ہے اور میں ایسے ہر شخص کو سلام کرتا ہوں۔

بھارت نے صدیوں تک مادر وطن، ثقافت اور آزادی کے لئے جدو جہد کی ہے۔ غلامی کی کسک، آزادی کی للک، اس ملک نے صدیوں تک کبھی چھوڑی نہیں۔ جیت اور شکست ہوتی رہی لیکن من مندر میں بسی ہوئی آزادی کی خواہش کبھی ختم  ہونے نہیں دی۔ آج ان تمام جدوجہد  کرنے والے  رہنماؤں، صدیوں کی جدوجہد میں شامل مجاہدین، ان سب کو سلام کرنے کا وقت ہے، اور وہ بھی سلام کے حقدار ہیں۔

کورونا عالمی وبا، اس وبا میں ہمارے ڈاکٹر، ہماری نرسیں، ہمارا پیرا میڈیکل اسٹاف، ہمارے صفائی ملازمین، ویکسین بنانے میں مصروف ہمارے سائنسداں ہوں، خدمت کے جذبے سے وابستہ کروڑوں اہل وطن ہوں، جنہوں نے اس کورونا کے دوران میں اپنا لمحہ عوامی خدمت میں وقف کیا ہے، یہ بھی ہم سب کے سلام کے مستحق ہیں۔

آج ملک کے کچھ علاقوں میں سیلاب آئے ہیں، مٹی کے تودے بھی گرے ہیں۔ کچھ تکلیف دہ خبریں بھی آتی رہتی ہیں۔ کئی علاقوں میں لوگوں کی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے۔ ایسے وقت میں، مرکزی حکومت ہو، ریاستی حکومتیں ہوں، سب ان کے ساتھ مستعدی کے ساتھ  کھڑی ہوئی ہیں۔ آج اس تقریب میں، اولمپکس میں، بھارت میں، بھارت کی نوجوان نسل، جس نے بھارت کا نام روشن کیا ہے، ایسے ہمارے ایتھلیٹ ، ہمارے کھلاڑی آج ہمارے درمیان ہیں۔

کچھ یہاں ہیں، کچھ سامنے بیٹھے ہیں، میں آج ہم وطنوں کو، جو یہاں موجود ہیں ، ان کو بھی  اور جو ہندوستان کے کونے کونے میں اس تقریب میں موجود ہیں ، ان سب سے میں کہتا ہوں کہ ہمارے کھلاڑیوں کے احترام میں آئیے کچھ پل تالیاں بجاکر ان کی عزت افزائی کریں۔

بھارت کے کھیلوں کا احترام، بھارت کی نوجوان نسل کی عزت و  احترام، بھارت کا سر فخر سے بلند کرنے والے نوجوانوں کی عزت ، ملک کے کروڑوں   ہم وطن لوگ آج تالیوں کی گڑگڑاہٹ کے ساتھ ہمارے ان جوانوں کا ، ملک کی نوجوان نسل پر فخر کرہے ہیں ، ان کی  عزت افزائی کررہے ہیں۔ ایتھلیٹس  پر ہم  خصوصی طور پر، فخر کرسکتے ہیں کہ انہوں نے ہمارا دل ہی نہیں جیتا ہے بلکہ انہوں نے آنے والی نسلوں  اور  بھارت کی نوجوان نسلوں کو تحریک دینے کا بہت بڑا کام کیا ہے۔

میرے پیارے ہم وطنو!

ہم آزادی کا جشن مناتے ہیں لیکن  تقسیم  کا درد آج بھی ہندوستان کے سینے کو چھلنی کرتا ہے۔یہ پچھلی صدی کے سب سے بڑے المیہ میں سے ایک ہے۔ آزادی کے بعد ان لوگوں کو بہت ہی جلد بھلا دیا گیا ۔ کل ہی بھارت نے ایک جذباتی فیصلہ کیا ہے۔ اب سے ہر سال 14 اگست کو وبھاجن وبھیشکا اسمرتی دیوس کے طور پر یاد کیا جائے گا۔ جو لوگ تقسیم کے وقت غیرانسانی حالات سے گزرے ، جنہوں نے ظلم برداشت کئے، جنہیں عزت کے ساتھ آخری رسوم تک نصیب نہیں ہوئی ان لوگوں کا ہماری یادوں میں زندہ رہنا بھی اتنا ہی ضروری ہے ۔ یوم آزادی کی 75 ویں  سالگرہ  پر تقسیم کے سانحہ کو یاد کرنے کے دن کا طے ہونا ، ایسے لوگوں کو ہر بھارتی کی طرف سے بصد احترام خراج عقیدت ہے۔

میرے پیارے ہم وطنو!

 ترقی کے راستے پر بڑھ رہے ہمارے ملک کے سامنے اور دنیا میں پوری انسانیت کے سامنے  کورونا کا یہ دور بہت بڑے چیلنج کی شکل میں آیا ہے۔ بھارت کے لوگوں نے بہت استقلال ، بہت صبر سے اس کے ساتھ اس لڑائی کو لڑا بھی ہے۔ اس لڑائی میں ہمارے سامنے بہت سے چیلنجز تھے ، لیکن ہر شعبے میں ہم ، ہم وطنوں نے غیرمعمولی رفتار سے کام کیا ہے۔ ہمارے سائنس دانوں  اور  ہمارے صنعت کاروں کی طاقت کا ہی نیتجہ ہے کہ بھارت کو ویکسین کے لئے  آج کسی اور پر یا  کسی اور ملک پر انحصار نہیں کرنا پڑا۔ آپ تصور کیجئے، پل بھر سوچئے اگر بھارت کے پاس اپنی ویکسین نہیں ہوتی تو کیا ہوتا، پولیو کی ویکسین پانے میں ہمارے کتنے سال گزر گئے تھے۔

اتنے بڑے بحران میں جب پوری دنیا میں وبا پھیلی ہو تب ہمیں ویکسین کیسے ملتی، لیکن بھارت کو شاید ملتی کہ نہیں ملتی اور کب ملتی، لیکن آج فخر سے کہہ سکتے ہیں کہ دنیا کا سب سے بڑا ٹیکہ کاری پروگرام ہمارے ملک میں چل رہا ہے۔ 54 کروڑ سے زیادہ لوگ ویکسین کی خوراک لے چکے ہیں۔ کوون جیسے آن لائن نظام، ڈیجیٹل سرٹیفکیٹ دینے کا نظم تھا جو آج پوری دنیا کو راغب کررہا ہے۔ وبا کے وقت بھارت نے، جس طرح سے 80 کروڑ ہم وطنوں کو، مہینوں تک مسلسل مفت اناج دے کر ،غریب کے گھر کے چولھے کو جلتے رکھا ہے، وہ بھی دنیا کے لئے حیرت کا باعث بھی ہے اور موضوع گفتگو بھی ہے۔ یہ بات صحیح ہے کہ دیگر ملکوں کے مقابلے میں بھارت میں کم لوگ متاثر ہوئے ہیں، یہ بھی صحیح ہے کہ دنیا کے ممالک کی آبادی کے مقابلے بھارت میں ہم زیادہ بڑی تعداد میں اپنے شہریوں کو بچاسکے، تاہم یہ ہمارے لئے پیٹھ تھپتھپانے کی بات نہیں ہے۔ مطمئن  ہو کر  سو جانے کی بات نہیں ہے۔ یہ کہنا کہ کوئی چیلنج نہیں تھا، یہ ہماری اپنی ترقی کے راستوں کو بند کرنے والی سوچ بن جائے گی۔

دنیا کے خوشحال ممالک کے مقابلے میں ہمارے پاس انتظامات کم ہیں، دنیا کے پاس اور خوش حال ممالک کے پاس جو ہے، وہ ہمارے پاس نہیں ہے، لیکن ان ساری کوششوں کے باوجود ۔۔۔ اور دوسری طرف ہمارے یہاں آبادی بھی بہت  زیادہ ہے اور ہماری  طرز زندگی بھی کچھ  الگ ہے، ساری کوششوں کے بعد بھی کتنے ہی لوگوں کو ہم بچا نہیں پائے، کتنے ہی بچوں کے سر پر ہاتھ پھیرنے والا چلا گیا، اسے دُلارنے، اس کی ضد پوری کرنے والا چلا گیا۔ یہ ناقابل برداشت درد، یہ تکلیف ہمیشہ ساتھ رہنے والی ہے۔

میرے عزیز ہم وطنو!

 ہر ملک کی ترقی کے سفر میں ایک ایسا وقت آتا ہے جب ملک خود کو نئے سرے سے متعارف کرتا ہے، خود کو نئے عزائم کے ساتھ آگے بڑھاتا ہے، بھارت کی ترقی کے سفر میں بھی آج وہ وقت آگیا ہے۔ 75 سال کے موقع کو ہمیں محض ایک تقریب تک ہی محدود نہیں کرنا ہے۔ ہمیں نئے عزائم کو بنیاد بنانا ہے، نئے عزائم کو لے کر چل پڑنا ہے۔ یہاں سے شروع ہوکر آئندہ 25 سال کا سفر جب ہم آزادی کی صدی منائیں گے، نئے بھارت کی اس تخلیق کا یہ ’امرت کال‘ یعنی سنہرا دور ہے۔ اس امرت کال میں ہمارے عزائم کی تکمیل، ہمیں آزادی کے 100 سال تک لے جائے گی، باوقار طریقے سے لے جائے گی۔

امرت کال کا ہدف ہے، بھارت اور بھارت کے شہریوں کے لئے خوش حالی کی نئی منازل طے کرنا۔ امرت کال کا ہدف ہے، ایک ایسے بھارت کی تعمیر جہاں سہولیات کی سطح گاؤں اور شہروں کو تقسیم کرنے والی نہ ہو۔ امرت کال کا ہدف ہے، ایک ایسے بھارت کی تعمیر جہاں شہریوں کی زندگی میں حکومت بے وجہ دخل نہ دے۔ امرت کال کا ہدف ہے، ایک ایسے بھارت کی تعمیر جہاں دنیا کا ہر طرح کا جدید بنیادی ڈھانچہ موجود ہو۔

ہم کسی سے بھی کم نہ ہوں، یہی ایک ایک ہم وطن کا عزم ہے، لیکن عزم تب تک ادھورا رہتا ہے جب تک عزم کے ساتھ محنت اور عمل کی انتہا نہ ہو، لہٰذا ہمیں اپنے سبھی عزائم کی محنت اور عمل کی انتہا کرکے تکمیل کرنی ہی ہوگی۔ اور یہ خواب، یہ عزائم اپنی حدوں کے پار محفوظ اور خوش حال دنیا کے لئے بھی مؤثر تعاون دینے کی خاطر ہیں۔ امرت کال 25 سال کا ہے، لیکن ہمیں اپنے اہداف کے حصول کے لئے اتنا طویل انتظار بھی نہیں کرنا ہے۔ ہمیں ابھی سے جٹ جانا ہے۔ ہمارے پاس گنوانے کے لئے ایک پل بھی نہیں ہے۔ یہی وقت ہے، صحیح وقت ہے، ہمارے ملک کو بھی بدلنا ہوگا اور ہمیں ایک شہری کے ناطے اپنے آپ کو بھی بدلنا ہی ہوگا۔ بدلتے ہوئے دور کے مطابق ہمیں بھی اپنے آپ کو ڈھالنا ہوگا۔ سب کا ساتھ، سب کا وکاس، سب کا وشواس،اسی جذبے کے ساتھ ہم سب جٹ چکے ہیں، لیکن آج لال قلعہ کی فصیل سے اپیل کررہا ہوں کہ سب کا ساتھ، سب کا وکاس، سب کا وشواس اور اب سب کا پریاس ، ہمارے اہداف کے حصول کے لئے بہت اہم ہے۔ گزشتہ 7 برسوں میں شروع کی گئی متعدد اسکیموں کا فائدہ کروڑوں غریبوں کو ان کے گھر تک پہنچا ہے۔ اُجولا سے لے کر آیوشمان بھارت کی طاقت سے آج ملک کا ہر غریب واقف ہے۔ آج سرکاری اسکیموں کی رفتار بڑھی ہے۔ وہ مقررہ اہداف کو حاصل کررہی ہے۔ پہلے کے مقابلے میں ہم بہت تیزی سے بہت آگے بڑھے ہیں، لیکن بات صرف یہیں تک مکمل نہیں ہوتی ہے، اب ہمیں سیچوریشن یعنی پختگی اور درجہ کمال تک جانا ہے۔ سو فیصد گاؤں میں سڑکیں ہوں، صد فیصد کنبوں کے بینک کھاتے ہوں، صد فیصد مستفیدین کے پاس آیوشمان بھارت کا کارڈ ہو، سو فیصد اہل اشخاص کے پاس اجولا اسکیم اور گیس کنکشن ہوں، حکومت کی بیمہ اسکیم ہو، پنشن اسکیم ہو، ہاؤسنگ اسکیم سے ہمیں ہر اس شخص کو جوڑنا ہے جو اس کے حقدار ہیں۔ سو فیصد کا موڈ بناکر چلنا ہے۔ آج تک ہمارے یہاں کبھی ان ساتھیوں کے بارے میں نہیں سوچا گیا جو ریہڑی لگاتے ہیں، پٹری پر بیٹھ کر، فٹ پاتھ پر بیٹھ کر سامان فروخت کرتے ہیں، ٹھیلا چلاتے ہیں۔ ہم ان ساتھیوں کو سواندھی اسکیم کے ذریعے بینکنگ نظام سے جوڑ رہے ہیں۔

جیسے ہم نے بجلی صد فیصد گھروں تک پہنچائی ہے ، جیسے ہم نے صد فیصد گھروں میں بیت الخلا کی تعمیر کی مستند کوشش کی ، ویسے ہی ہمیں اب اسکیموں کا  سیچوریشن تک کا ہدف لے کر آگے بڑھنا ہے اور اس کے لئے ہم  نے وقت کی حد بہت دور نہیں رکھنی ہے۔ ہمیں کچھ ہی سالوں میں اپنے عزم کو پورا کرنا ہے۔

ملک آج،‘ہر گھر جل’ مشن  کو لے کر تیزی سے کام کررہا ہے ۔ مجھے خوشی ہے کہ جل جیون مشن کے  تحت صرف دو سال میں ساڑھے چار کروڑ سے زیادہ کنبوں کو نل سے پانی ملنا شروع ہوگیا ہے۔ پائپ سے پانی ملنا شروع ہوگیا ہے۔ کروڑوں ماؤں ، بہنوں کا آشرواد ،یہی ہماراخزانہ ہے۔ اس صد فیصد  کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ سرکاری اسکیم کے فائدہ سے کوئی محروم نہیں رہتا۔ جب سرکار  یہ ہدف بناکر چلتی ہے کہ ہمیں سماج کی آخری صف میں جو شخص کھڑا ہے اس تک پہنچنا ہے تو ،نہ کوئی تفریق ہو پاتی ہے اور نہ ہی بدعنوانی کی کوئی  گنجائش رہتی ہے۔

میرے پیارے ہم وطنو!

ملک کے ہر غریب، ہر شخص تک تغذیہ  پہنچانا بھی سرکار کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ غریب خواتین، غریب بچوں میں نقص تغذیہ  اور ضروری قوت بخش غذا کی کمی ، ان کی نشو نما میں بڑی رکاوٹ بنتی ہے۔ اسے دیکھتے ہوئے یہ طے کیا گیا ہے کہ سرکار اپنی الگ الگ اسکیموں کے تحت جو چاول غریبوں کو دیتی ہے ، اسے   فورٹیفائی  کرے گی۔ غریبوں کو تغذیہ بخش چاول دے گی ۔ راشن کی دکان پر ملنے والا چاول ہو، مڈ- ڈے میل میں بلاکوں کو ملنے والا چاول ہو، سال 2024 تک ہر اسکیم کے توسط سے ملنے والا چاول فورٹیفائیڈ کردیا جائے گا۔

میرے پیارے ہم وطنوں،

آج ملک میں، ہر غریب تک بہتر صحت سہولت پہنچانے کی مہم بھی تیز رفتار سےجاری ہے۔ اس کے لئے میڈیکل تعلیم میں ضروری بڑے  بڑے سدھار بھی کئے گئے ہیں۔ حفظان صحت  پر بھی اتنی ہی توجہ دی گئی ہے ۔ ساتھ ساتھ  ملک میں میڈیکل سیٹوں میں بھی کافی اضافہ کیا گیا ہے۔ آیوشمان بھارت اسکیم کے تحت ملک کے گاؤں گاؤں تک معیاری صحت کی سہولیات پہنچائی جارہی ہیں۔ جن اوشدھی یوجنا کے توسط سے غریبوں کو ، متوسط طبقے  کو سستی دوائیاں دستیاب کرائی جارہی ہیں۔ ابھی تک 75 ہزار سے زیادہ صحت اور تندرستی کے مراکز بنائے جاچکے ہیں۔ اب بلاک سطح پر اچھے اسپتالوں اور جدید لیب کے نیٹ ورک پر خصوصی طور پر کام کیا جارہا ہے۔ بہت جلد ملک کے ہزاروں اسپتالوں کے پاس اپنے آکسیجن پلانٹ ہوں گے۔

میرے پیارے ہم وطنوں،

21 ویں صدی میں بھارت کو نئی اونچائی پر پہنچانے کے لئے بھارت کی صلاحیت کا صحیح استعمال ، پورا استعمال ، یہ وقت کی مانگ ہے،بہت ضروری ہے۔ اس کے لیے جو طبقات پسماندہ ہیں ، جو علاقے پچھڑے ہیں ، ان کی ہنڈ ہولڈنگ کرنی ہی ہوگی۔ بنیادی ضرورتوں کی فکر کے ساتھ ہی دلتوں ، پسماندہ  لوگوں، قبائلیوں ، عام زمرے کے غریبوں کے لیے ریزرویشن یقینی بنایا جا رہا ہے۔ ابھی حال ہی میں ، میڈیکل ایجوکیشن کے میدان میں ، آل انڈیا کوٹے میں او بی سی زمرے کے ریزرویشن کا انتظام بھی کیا گیا ہے۔ پارلیمنٹ میں قانون بنا کر ، او بی سی سے متعلقہ فہرست بنانے کا حق ریاستوں کو دے دیا گیا ہے۔

میرے پیارے ہم وطنو ،

جیسے ہم اس بات کو یقینی بنارہے ہیں کہ معاشرے کی ترقی کے سفر میں کوئی شخص پیچھے نہ رہے ، کوئی طبقہ پیچھے نہ رہے ،  ملک کا کوئی خطہ، ملک کا کوئی کونا بھی پیچھے نہیں چھوٹنا چاہیے۔ ترقی کلی ہونی چاہیے ، ترقی سبھی کی ہونی چاہیے ، ترقی میں سب کی شمولیت ہونی چاہیے۔ ملک کے ایسے علاقوں کو آگے لانے کے لیے پچھلے سات برسوں میں جو کوششیں کی گئی ہیں ، ہم اس کام میں اور تیزی لانے کی سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ ہمارا مشرقی بھارت ، شمال مشرق ، جموں کشمیر ، لداخ سمیت  پورے ہمالیہ کا علاقہ ہو، ہماری ساحلی پٹی ہو یا پھر قبائلی علاقہ ، یہ مستقبل میں بھارت کی ترقی کی، بھارت کی ترقی کے سفر کی بہت بڑی بنیاد بننے والے ہیں۔

آج شمال مشرق میں کنکٹی وٹی  کی نئی تاریخ رقم کی جا رہی ہے۔ یہ کنکٹی وٹی دلوں کی بھی ہے اور انفراسٹرکچر کی بھی۔ بہت جلد شمال مشرق کی تمام ریاستوں کو ریل خدمات سے جوڑنے کا کام مکمل ہونے جا رہا ہے۔ ایکٹ ایسٹ پالیسی کے تحت ، آج شمال مشرق ، بنگلہ دیش ، میانمار اور جنوب مشرقی ایشیا سے بھی جوڑا جا رہا ہے۔ گزشتہ برسوں میں جو کوششیں ہوئی ہیں، ان کی وجہ سے ، اب شمال مشرق میں پائیدار امن کے لیے شریشٹھ بھارت کی تعمیر کے لیے جوش و جذبے میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔

شمال مشرق سے ... وہاں پر سیاحت ، ایڈونچر اسپورٹس ، نامیاتی کاشتکاری، ہربل ادویات، آئل پمپ، ان کے امکانات بہت زیادہ ہیں۔ ہمیں پوری طرح اس امکان کا فائدہ اٹھانا ہوگا۔ اسے ملک کی ترقی کے سفر کا حصہ بنانا ہوگا۔ اور ہمیں یہ کام امرت کال کی چند دہائیوں میں مکمل کرنا ہوگا۔ سبھی کی صلاحیت کو مناسب موقع فراہم کرانا یہی جمہوریت کا حقیقی جذبہ ہے۔جموں ہو یا کشمیر ، ترقی کا توازن اب زمین پر نظر آرہا ہے۔

جموں و کشمیر میں ہی ڈی لمیٹیشن کمیشن کی تشکیل کی جاچکی ہے اور مستقبل میں اسمبلی انتخابات کے لئے تیاریاں بھی جاری ہیں۔ لداخ بھی ترقی کے اپنے لامحدود امکانات کی جانب گامزن ہے۔ ایک طرف لداخ جدید انفراسٹرکچر کی تعمیر کا مشاہدہ کر رہا ہے تو وہیں دوسری جانب سندھو سنٹرل یونیورسٹی لداخ کو اعلیٰ تعلیم کا ، ہائر ایجوکیشن کا مرکز بھی بنا رہی ہے۔ اکیسویں صدی کی اس دہائی میں بھارت بلیو اکانومی میں اپنی کوششوں کو مزید تیز کرے گا۔

ہمیں ایکوا کلچر کے ساتھ ساتھ سی ویڈ کی زراعت کے شعبے میں، جو نئے امکانات پیدا ہورہے ہیں، ان امکانات کا بھی بھرپور فائدہ اٹھانا ہے۔ ڈیپ اوشین مشن، سمندر میں موجود لامحدود امکانات کی تلاش و جستجو سے متعلق ہمارے بلند عزائم کا نتیجہ ہے۔ جو معدنیاتی دولت سمندر میں پوشیدہ ہے، جو تھرمل انرجی سمندر کے پانی میں ہے، وہ ملک کی ترقی کو نئی بلندی دے سکتی ہے۔

ملک کے جن اضلاع کے تعلق سے یہ خیال کیا گیا تھا کہ یہ پیچھے رہ گئے، ہم نے ان کی امنگوں کو بھی بیدار کیا ہے۔ ملک میں 110 سے زیادہ امنگوں والے اضلاع یا اسپائریشنل ڈسٹرکٹس میں تعلیم، صحت، غذائیت، سڑک، روزگار سے متعلق پروجیکٹوں کو ترجیح دی جارہی ہے۔ ان میں سے متعدد اضلاع ہمارے آدیواسی خطے میں ہیں۔ ہم نے ان اضلاع کے درمیان ترقی کی ایک صحت مند مسابقت کے تئیں جوش پیدا کیا ہے۔ یہ امنگوں والے اضلاع بھارت کے دیگر اضلاع کی برابری تک پہنچیں، اس سمت میں تیز مسابقت جاری ہے۔

میرے عزیز ہم وطنو!

اقتصادیات کی دنیا میں سرمایہ داری اور سوشل ازم کا ذکر بہت ہوتا ہے، لیکن بھارت امداد باہمی پر بھی زور دیتا ہے۔ امداد باہمی ہماری روایات سے بھی ہم آہنگ ہے۔ امداد باہمی، جس میں عوام کی اجتماعی قوت معیشت کے لئے قوت محرکہ بنے، یہ ملک کی زمینی سطح کی معیشت کے لئے ایک اہم شعبہ ہے۔ کوآپریٹیوز، صرف قوانین و ضوابط کے جنجال والا ایک نظام نہیں ہے، بلکہ کوآپریٹیو ایک روح ہے، کوآپریٹیو ایک کلچر ہے، کوآپریٹیو اجتماعی طور پر چلنے کا ایک رجحان ہے۔ ان کو مضبوط بنایا جائے، اس کے لئے ہم نے علاحدہ وزارت بناکر اس سمت میں اقدامات کئے ہیں اور ریاستوں کے اندر جو کوآپریٹیو شعبے ہیں، اس پر جتنا زیادہ سے زیادہ زور دے سکتے ہیں اتنا زور دینے کے لئے ہم نے یہ قدم اٹھایا ہے۔

میرے عزیز ہم وطنو!

اس دہائی میں ہمیں گاؤں میں نئی معیشت کی تعمیر کے لئے پوری قوت لگانی ہوگی۔ آج ہم اپنے گاؤں کو تیزی سے تبدیل ہوتے دیکھ رہے ہیں۔ گزشتہ چند سال، گاؤں تک سڑک اور بجلی کی سہولتیں پہنچانے کے سال رہے تھے۔ وہ پورا دور ہمارا رہا ہے، لیکن اب ان گاؤں تک آپٹیکل فائبر نیٹ ورک ڈیٹا کی قوت پہنچ رہی ہے، انٹرنیٹ پہنچ رہا ہے۔ گاؤں میں بھی ڈیجیٹل صنعت کاری تیار ہورہی ہے۔ گاؤں میں جو ہمارے خود امدادی گروپوں سے وابستہ 8 کروڑ سے زیادہ بہنیں ہیں، وہ ایک سے بڑھ کر ایک مصنوعات تیار کرتی ہیں۔

ان کی مصنوعات کو ملک و بیرون ملک میں بڑا بازار ملے، اس کے لئے اب حکومت ای- کامرس پلیٹ فارم بھی تیار کرے گی۔ آج جب ملک ووکل فار لوکل کے اصول کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے تو یہ ڈیجیٹل پلیٹ فارم خواتین کے خود امدادی گروپوں کی مصنوعات کو ملک کے دور دراز کے علاقوں میں بھی اور بیرون ممالک میں بھی لوگوں سے جوڑے گا اور ان کا دائرہ بہت وسیع ہوگا۔ کورونا کے دوران ملک نے ٹیکنالوجی کی قوت، ہمارے سائنس دانوں کی لیاقت اور ان کی عہد بستگی کو دیکھا ہے۔ ملک کے ہر خطے میں ہمارے ملک کے سائنس داں انتہائی سوجھ بوجھ کے ساتھ کام کررہے ہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ ہم اپنے زرعی شعبے میں بھی سائنس دانوں کی صلاحیتوں اور ان کے مشوروں کو بھی اپنے زرعی شعبے سے جوڑیں۔ اب ہم زیادہ انتظار نہیں کرسکتے اور ہمیں اس کا پورا فائدہ بھی اٹھانا ہے۔ اس سے ملک کو غذائی تحفظ ملنے کے ساتھ ساتھ پھل، سبزیوں اور اناجوں کی پیداوار بڑھانے میں بڑی مدد ملے گی اور ہم دنیا تک پہنچنے کے لئے اپنے آپ کو مضبوطی سے آگے بڑھائیں گے۔

ان کوششوں کے درمیان زرعی شعبے کو درپیش ایک بڑے چیلنج کی جانب توجہ دینی ہے۔ یہ چیلنج ہے، گاؤں کے لوگوں کے پاس کم ہوتی زمین، بڑھتی ہوئی آبادی کے ساتھ خاندانوں میں جو تقسیم ہورہی ہے ،اس کی وجہ سے کسانوں کی زمین چھوٹی چھوٹی، چھوٹی سے چھوٹی ہوتی جارہی ہے۔ ملک کے 80 فیصد سے زیادہ کسان ایسے ہیں جن کے پاس 2 ہیکٹیئر سے بھی کم زمین ہے۔ اگر ہم دیکھیں تو 100 میں سے 80 کسان ایسے ہیں جن کے پاس 2 ہیکٹیئر سے بھی کم زمین ہے۔ یعنی ملک کا کسان ایک طرح سے چھوٹا کسان ہے۔ پہلے جو ملک میں پالیسیاں بنائی گئیں ان میں ان چھوٹے کسانوں کو جتنی ترجیح دی جانی چاہئے تھی، ان پر جتنی توجہ مرکوز کی جانی چاہئے تھی، اتنی نہیں کی جاسکی۔ اب ملک میں انہی چھوٹے کسانوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے زرعی اصلاحات کی جارہی ہیں، فیصلے کئے جارہے ہیں۔

فصل بیمہ یوجنا میں سدھار ہو، ایم ایس پی کو ڈیڑھ گنا کرنے کا بڑا اور اہم فیصلہ ہو، چھوٹے کسانوں کو کسان کریڈٹ کارڈ سے سستی شرح پر بینک سے قرض ملنے کا نظم ہو، شمسی توانائی سے متعلق پروجیکٹوں کو کھیتوں تک پہنچانے کی بات ہو، کسان پیداواری تنظیمیں ہوں، یہ ساری کوششیں چھوٹے کسانوں کی طاقت میں اضافہ کریں گی۔ آنے والے وقت میں بلاک کی سطح تک ویئر ہاؤس کی سہولت تیار  کرانے کی بھی مہم چلائی جائے گی۔ ہر چھوٹے کسان کے چھوٹے چھوٹے اخراجات کو پیش نظر رکھتے ہوئے پی ایم کسان سمان ندھی اسکیم چلائی جارہی ہے۔ 10 کروڑ سے زیادہ کسان کنبوں کے بینک کھاتوں میں اب تک ڈیڑھ لاکھ کروڑ سے زیادہ کی رقم براہ راست کھاتوں میں جمع کرادی گئی ہے۔ چھوٹا کسان اب ہمارے لئے ہمارا منتر ہے، ہمارا عزم ہے۔ چھوٹا کسان بنے دیش کی شان، چھوٹا کسان بنے دیش کی شان، یہ ہمارا خواب ہے۔ آنے والے برسوں میں ہمیں ملک کے چھوٹے کسانوں کی اجتماعی قوت میں مزید اضافہ کرنا ہوگا، نئی سہولتیں دینی ہوں گی۔ آج ملک کے 70 سے زیادہ ریل روٹوں پر کسان ریل چل رہی ہے۔

کسان ریل، چھوٹے کسانوں کو اپنی مصنوعات، ٹرانسپورٹیشن پر کم خرچ کرکے دور دراز کے علاقوں تک پہنچانے کی سہولت دستیاب کراتے ہیں۔ کم یم ہو یا شاہی لیچی، بھت جولوکیا مرچ ہو ،یا کالا چاول یا ہلدی، متعدد مصنوعات دنیا کے الگ الگ علاقوں میں بھیجی جارہی ہیں۔ آج ملک کو خوشی ہوتی ہے جب بھارت کی مٹی میں پیدا ہوئی چیزوں کی خوشبو دنیا کے الگ الگ ممالک تک پہنچ رہی ہے۔ بھارت کے کھیت سے تیار ہوئیں سبزیاں اور خوردنی اناج آج دنیا کا ذائقہ بن رہے ہیں۔

فصل بیمہ یوجنا میں سدھار ہو، ایم ایس پی کو ڈیڑھ گنا کرنے کا بڑا اور اہم فیصلہ ہو، چھوٹے کسانوں کو کسان کریڈٹ کارڈ سے سستی شرح پر بینک سے قرض ملنے کا نظم ہو، شمسی توانائی سے متعلق پروجیکٹوں کو کھیتوں تک پہنچانے کی بات ہو، کسان پیداواری تنظیمیں ہوں، یہ ساری کوششیں چھوٹے کسانوں کی طاقت میں اضافہ کریں گی۔ آنے والے وقت میں بلاک کی سطح تک ویئر ہاؤس کی سہولت تیار  کرانے کی بھی مہم چلائی جائے گی۔ ہر چھوٹے کسان کے چھوٹے چھوٹے اخراجات کو پیش نظر رکھتے ہوئے پی ایم کسان سمان ندھی اسکیم چلائی جارہی ہے۔ 10 کروڑ سے زیادہ کسان کنبوں کے بینک کھاتوں میں اب تک ڈیڑھ لاکھ کروڑ سے زیادہ کی رقم براہ راست کھاتوں میں جمع کرادی گئی ہے۔ چھوٹا کسان اب ہمارے لئے ہمارا منتر ہے، ہمارا عزم ہے۔ چھوٹا کسان بنے دیش کی شان، چھوٹا کسان بنے دیش کی شان، یہ ہمارا خواب ہے۔ آنے والے برسوں میں ہمیں ملک کے چھوٹے کسانوں کی اجتماعی قوت میں مزید اضافہ کرنا ہوگا، نئی سہولتیں دینی ہوں گی۔ آج ملک کے 70 سے زیادہ ریل روٹوں پر کسان ریل چل رہی ہے۔

کسان ریل، چھوٹے کسانوں کو اپنی مصنوعات، ٹرانسپورٹیشن پر کم خرچ کرکے دور دراز کے علاقوں تک پہنچانے کی سہولت دستیاب کراتے ہیں۔ کم یم ہو یا شاہی لیچی، بھت جولوکیا مرچ ہو ،یا کالا چاول یا ہلدی، متعدد مصنوعات دنیا کے الگ الگ علاقوں میں بھیجی جارہی ہیں۔ آج ملک کو خوشی ہوتی ہے جب بھارت کی مٹی میں پیدا ہوئی چیزوں کی خوشبو دنیا کے الگ الگ ممالک تک پہنچ رہی ہے۔ بھارت کے کھیت سے تیار ہوئیں سبزیاں اور خوردنی اناج آج دنیا کا ذائقہ بن رہے ہیں۔

میرے عزیز ہم وطنو!

کیسے آج گاؤں کی اہلیت کو پروان چڑھایا جارہا ہے، اس کی ایک مثال ہے سوامتو یوجنا۔ ہم سب جانتے ہیں کہ گاؤں کی زمین کی قیمت کا کیا حال ہوتا ہے۔ زمین پر ان کو بینکوں سے کوئی قرض نہیں ملتا ہے۔ خود زمین کا مالک ہونے کے باوجود بھی، کیونکہ گاؤں میں زمینوں کے کاغذات پر کئی کئی نسلوں سے کوئی کام نہیں ہوا ہے۔ لوگوں کے پاس اس کا نظم نہیں ہے۔ اس صورت حال کو تبدیل کرنے کا کام آج سوامتو یوجنا کررہی ہے۔ آج گاؤں گاؤں ہر ایک گھر کی، ہر زمین کی، ڈرون کے ذریعے میپنگ ہورہی ہے۔ گاؤں کی زمینوں کے ڈیٹا اور اثاثہ جات کے کاغذات آن لائن اپلوڈ ہورہے ہیں۔ اس سے نہ صرف گاؤں میں زمین سے متعلق تنازعات ختم ہورہے ہیں بلکہ گاؤں کے لوگوں کو بینکوں سے آسانی سے قرض بھی ملنے کا نظم قائم ہوا ہے۔ گاؤں کے غریبوں کی زمینیں تنازعات کی نہیں بلکہ ترقی کی بنیاد بنیں، ملک آج اس سمت میں پیش قدمی کررہا ہے۔

میرے عزیز ہم وطنو!

سوامی وویکانند جی جب بھارت کے مستقبل کی بات کرتے تھے، اپنی آنکھوں کے سامنے ماں بھارتی کی شان و شوکت کا جب وہ درشن کرتے تھے تب وہ کہتے تھے – جہاں تک ہوسکے، ماضی کی طرف دیکھو۔ پیچھے جو مسلسل پاکیزہ جھرنا بہہ رہا ہے، جی بھرکر اس کا پانی پیو اور اس کے بعد دیکھئے سوامی وویکانند جی کی خصوصیت، اس کے بعد سامنے کی طرف دیکھو۔ آگے بڑھو اور بھارت کو پہلے سے بھی کہیں زیادہ تابناک، عظیم اور شاندار بناؤ۔ آزادی کے اس 75ویں سال میں ہمارا فرض ہے کہ اب ہم ملک کی لامحدود صلاحیتوں پر اعتماد کرتے ہوئے آگے بڑھیں۔ ہمیں مل کر کام کرنا ہوگا نئی نسل کے بنیادی ڈھانچے کے لئے، ہمیں مل کر کام کرنا ہوگا عالمی معیار کی مینوفیکچرنگ کے لئے، ہمیں مل کر کام کرنا ہوگا جدید ترین اختراعات کے لئے، ہمیں مل کر کام کرنا ہوگا جدید ترین ٹیکنالوجی کے لئے۔

میرے عزیز ہم وطنو!

جدید دنیا میں ترقی کی بنیاد جدید بنیادی ڈھانچے پر ہی استوار ہوتی ہے۔ یہ متوسط طبقے کی ضرورتوں، توقعات کی بھی تکمیل کرتے ہیں۔ امرت کال کی اس دہائی میں رفتار کی قوت بھارت کے کایاپلٹ کی بنیاد بنے گی۔

میرے عزیز ہم وطنو!

ترقی کی راہ پر آگے بڑھتے ہوئے بھارت کو اپنی مینوفیکچرنگ اور برآمدات دونوں میں اضافہ کرنا ہوگا۔ آپ نے دیکھا ہے کہ ابھی کچھ دن قبل ہی بھارت نے اپنے پہلے سودیشی ایئر کرافٹ کیریئر  ،آئی این ایس وکرانت کو سمندر میں آزمائش کے لئے اتارا ہے۔ بھارت آج اپنا لڑاکا طیارہ بنارہا ہے، اپنی آبدوز بنارہا ہے، گگن یان بھی خلا میں بھارت کا پرچم لہرانے کے لئے تیار ہورہا ہے۔ یہ سودیشی مینوفیکچرنگ میں ہماری اہلیت کو اجاگر کرتا ہے۔

کورونا کے بعد پیدا شدہ نئے اقتصادی حالات میں میک اِن انڈیا کو مستحکم کرنے کے لئے ملک نے پیداوار سے مربوط مراعات کا بھی اعلان کیا ہے۔ اس اسکیم سے جو تبدیلی آرہی ہے، اس کی مثال الیکٹرانک مینوفیکچرنگ شعبے سے ہے۔ سات سال قبل ہم تقریباً آٹھ بلین ڈالر کے موبائل فون درآمد کرتے تھے۔ اب درآمدات میں تو بہت زیادہ کمی آئی ہے۔ آج ہم 3 بلین ڈالر کے موبائل فون برآمد بھی کررہے ہیں۔

آج جب ہمارے مینوفیکچرنگ شعبے کو رفتار مل رہی ہے، تو ہمیں یہ پیش نظر رکھنا ہے کہ ہم بھارت میں جو بنائیں، اس سے ہم بہترین معیار کے ساتھ عالمی مسابقت میں ٹکیں اور ممکن ہو تو ایک قدم آگے بڑھیں۔ یہ تیاری کرنی ہے اور عالمی بازار کو ہمیں اپنا ہدف بنانا ہے۔ ملک کے سبھی مینوفیکچررس سے میں مؤدبانہ کہنا چاہتا ہوں کہ ہمارے مینوفیکچررس کو یہ بات کبھی نہیں بھولنی چاہئے کہ آپ جو مصنوعات باہر فروخت کرتے ہیں، وہ صرف آپ کی کمپنی کے ذریعے بنایا ہوا محض ایک پرزہ نہیں ہے، ایک پروڈکٹ نہیں ہے، بلکہ اس کے ساتھ بھارت کی پہچان وابستہ ہے، بھارت کا وقار وابستہ ہے، بھارت کے ایک ایک فرد کا اعتماد اس سے جڑا ہوتا ہے۔

میرے عزیز ہم وطنو!

آج ملک کے الگ الگ شعبے اور ملک کے چھوٹے چھوٹے شہروں میں بھی ٹیئر-2، ٹیئر-3 شہروں میں بھی نئے نئے اسٹارٹ اپ بن رہے ہیں۔ ان کا بھارتی مصنوعات کو بین ریاستی بازاروں تک لے جانے میں بھی بڑا رول ہے۔

حکومت اپنے اس اسٹارٹ اپ کے ساتھ، پوری طاقت کے ساتھ کھڑی ہے۔ انھیں اقتصادی مدد دینی ہو، نقدی میں رعایت دینی ہو، ان کے لئے ضابطوں کو سہل بنانا ہو، سب کچھ کیا جارہا ہے۔ ہم نے دیکھا ہے کہ کورونا کے اس مشکل دور میں بھی ہزاروں ہزار نئے اسٹارٹ اپس ابھرکر آئے ہیں۔ بڑی کامیابی سے وہ آگے بڑھ رہے ہیں۔ کل کے اسٹارٹ اپ آج کے یونیکورن بن رہے ہیں۔ ان کی بازاری قدر ہزاروں کروڑ روپئے تک پہنچ رہی ہے۔ یہ ملک میں نئی طرح کے ویلتھ کریئٹرس ہیں۔ یہ اپنے منفرد تصورات کی قوت سے اپنے پیروں پر کھڑے ہورہے ہیں۔ آگے بڑھ رہے ہیں اور دنیا پر چھا جانے کا خواب لے کر چل رہے ہیں۔ اس دہائی میں بھارت کے اسٹارٹ اپس، بھارت کے اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم، اس کو ہم پوری دنیا میں بہترین بنائیں، ہمیں اس سمت میں کام کرنا ہے، ہمیں رکنا نہیں ہے۔

میرے عزیز ہم وطنو!

بڑی تبدیلی لانے کے لئے، بڑی اصلاحات کے لئے، سیاسی قوت ارادی کی ضرورت ہوتی ہے۔ آج دنیا دیکھ رہی ہے کہ بھارت میں سیاسی قوت ارادی کی کوئی کمی نہیں ہے۔ اصلاحات کو نافذ کرنے کے لئے اچھی اور اسمارٹ حکمرانی چاہئے۔ آج دنیا اس بات کی بھی گواہ ہے کہ کیسے بھارت اپنے یہاں حکمرانی کا نیا باب رقم کررہا ہے۔ امرت کال کی اس دہائی میں ہمیں اگلی دور کی اصلاحات کو اور اس میں ہماری ترجیح ہوگی شہریوں کو جو ملنا چاہئے، جو سروس ڈیلیوری ہے وہ آخری میل تک، آخری فرد تک بلا روک ٹوک، بلا جھجک، بلا کسی دشواری کے پہنچے۔ ملک کی جامع ترقی کے لئے لوگوں کی زندگی میں حکومت اور سرکاری طریقہ کار کی بے وجہ دخل اندازی ختم کرنی ہی ہوگی۔

پہلے کے دور میں حکومت خود ہی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ گئی تھی، یہ اس وقت کی شاید مانگ رہی ہوگی، لیکن اب وقت بدل چکا ہے۔ گزشتہ 7 برسوں میں ملک میں اس کے لئے کوشش بھی بڑھی ہے کہ ملک کے لوگوں کو غیر ضروری قوانین کے جال سے، غیر ضروری طریقہ عمل کے جال سے آزادی دلائی جائے۔ اب تک ملک کے سیکڑوں پرانے قوانین ختم کئے جاچکے ہیں۔ کورونا کے اس دور میں بھی حکومت نے 15 ہزار سے زیادہ احکامات کو ختم کیا ہے۔ اب آپ دیکھئے، آپ کو بھی محسوس ہوگا کہ کوئی ایک چھوٹا  سا سرکاری کام ہو، ڈھیر سارے کاغذات، بار بار کاغذات، ایک ہی جانکاری متعدد مرتبہ، یہی چلتا رہا ہے۔ 15 ہزار کمپلائنسیز کو ہم نے ختم کیا ہے۔

آپ سوچئے، 200 سال قبل،۔۔۔ ایک مثال میں دینا چاہتا ہوں، 200 سال سے ہمارے یہاں ایک قانون چلا آرہا ہے، 200 سال یعنی 1857 سے بھی پہلے سے، جس کی وجہ سے ملک کے شہریوں کو میپنگ یعنی نقشہ بنانے کی آزادی نہیں تھی۔ اب غور کیجئے، 1857 سے یہ چل رہا ہے، نقشہ بنانا ہے تو حکومت سے پوچھئے، نقشہ کسی کتاب میں چھاپنا ہے تو حکومت سے پوچھئے، نقشہ کھو جانے پر گرفتاری کا بھی اس میں التزام ہے۔ آج کل ہر فون میں نقشے کا ایپ ہے۔ سیٹلائٹ کی اتنی طاقت ہے کہ پھر ایسے قوانین کا بوجھ سر پر لے کر ملک کو آگے کیسے بڑھائیں گے ہم۔ کمپلائنسیز کا یہ بوجھ اُترنا بہت ضروری ہے۔ نقشہ سازی کی بات ہو، خلا کی بات ہو، اطلاعاتی ٹیکنالوجی کی بات ہو، بی پی او کی بات ہو، ایسے متعدد شعبوں میں بہت سارے ضوابط کو ہم نے ختم کردیا ہے۔

میرے عزیز ہم وطنو!

غیر ضروری قوانین کی جکڑ سے آزادی ایز آف لیونگ کے ساتھ ساتھ ایز آف ڈوئنگ بزنس، دونوں کے لئے بہت ہی ضروری ہے۔ ہمارے ملک کی صنعتیں اور کاروبار آج اس تبدیلی کو محسوس کررہی ہیں۔

ایک وقت تھا جب کھیل کود کو اصل دھارا نہیں سمجھا جاتا تھا ، ماں باپ بھی بچوں سے کہتے تھے کہ کھیلتے ہی رہوگے تو زندگی برباد کرلوگے۔ اب ملک میں فٹ نیس کو لے کر ، اسپورٹس کو لے کر ایک بیداری آئی ہے۔ اس بار اولمپک میں بھی ہم نے دیکھا ہے ، ہم نے مشاہدہ کیا ہے، یہ تبدیلی ہمارے ملک کے لئے بہت بڑا ٹرننگ پوائنٹ ہے۔ اس لئے آج ملک میں کھیلوں میں ٹیلنٹ، ٹکنالوجی اور پروفیشنلزم لانے کے لئے جو مہم چل رہی ہے ، اس دہائی میں ہمیں اسے اور تیز کرنا ہے اور وسیع کرنا ہے۔ یہ ملک کے لئے فخر کی بات ہے کہ تعلیم ہو یا کھیل ، بورڈ کے نتیجے ہوں ، یا اولمپک کا میدان، ہماری بیٹیاں آج غیرمعمولی  اور شاندار مظاہرہ کررہی ہیں۔ آج بھارت کی بیٹیاں اپنی جگہ لینے کے لئے بے تاب ہیں۔  ہمیں یہ یقینی بنانا ہے کہ ہر کیریر اور کام کے شعبے میں خواتین کی مساوی شراکت داری ہو۔ ہمیں یہ یقینی بنانا ہے کہ سڑک سے لے کرکام کی جگہ تک ، ہر جگہ پر خواتین میں تحفظ کا احساس ہو ، عزت و احترام  کا جذبہ ہو، اس کے لئے ملک کی انتظامیہ کو ،پولیس اور عدلیہ کو ، شہریوں کو اپنی صد فیصد ذمہ داری نبھانی ہے۔ اس عہد کو ہمیں آزادی کے 75 سال کا عہد بنانا ہے۔ آج میں یہ خوشی  ہم وطنوں سے ساجھاکررہا ہوں۔ مجھے لاکھوں بیٹیوں کے پیغام ملتے تھے کہ وہ بھی فوجی اسکول میں پڑھنا چاہتی ہیں۔ ان کے لئے بھی فوجی اسکول کے دروازے کھول دیئے جائیں۔ دو ڈھائی سال پہلے میزورم کے فوجی اسکول میں پہلی بار بیٹیوں کو داخلہ دینے کے لئے ہم نے چھوٹا سا تجربہ شروع کیا تھا۔ اب سرکار نے طے کیا ہے کہ ملک کے سبھی فوجی اسکولوں کو ملک کی بیٹیوں کے لئے بھی کھول دیا جائے گا۔ ملک کے سبھی فوجی اسکولوں میں بیٹیاں بھی پڑھیں گی۔ دنیا میں قومی سلامتی کی جتنی اہمیت ہے ، ویسے ہی اہمیت ماحول کے تحفظ کو دی جانے لگی ہے۔ بھارت آج ماحولیاتی تحفظ کی ایک اہم آواز ہے۔ آج بایو ڈائورسٹی ہو، یا لینڈ نیوٹریلیٹی ، کلائمٹ چینج ہو، یا ویسٹ ری سائکلنگ ، آرگینک فارمنگ ہو، یا بایو گیس ہو ، انرجی کنزرویشن ہو، یا کلین انرجی ٹرانزیشن ، ماحولیات کی سمت میں بھارت کی کوشش آج نتائج دے رہی ہیں۔بھارت نے جنگل کے شعبے کو یا پھر نیشنل پارک کی تعداد ، شیروں کی تعداد اور ایشیاٹک لائین ، سبھی میں اضافہ ہر شہری کے لئے خوشی کی بات ہے۔

میرے پیارے ہم وطنو!

بھارت کی اس کامیابی کے دوران ایک اور سچ کو بھی ہمیں سمجھنا ہوگا۔ بھارت آج توانائی کے شعبے میں آزاد نہیں ہے۔ بھارت آج توانائی کی درآمد کے لئے  سالانہ 12 لاکھ کروڑ روپئے سے بھی زیادہ خرچ کرتا ہے۔

بھارت آج توانائی کی درآمدات کے لئے سالانہ 12 لاکھ کروڑ روپئے سے بھی زیادہ خرچ کرتا ہے۔ بھارت کی ترقی کے لئے، خودکفیل بھارت بنانے کے لئے، بھارت کا توانائی کے معاملے میں خودمختار ہونا وقت کی مانگ ہے، لازمی ہے۔ اس لئے آج بھارت کو یہ عزم کرنا ہوگا کہ ہم آزادی کے 100 سال مکمل ہونے سے قبل بھارت کو توانائی کے معاملے میں خودمختار بنائیں گے اور اس کے لئے ہمارا لائحۂ عمل بہت واضح ہے۔ گیس پر مبنی معیشت  ہو، ملک بھر میں سی این جی، پی این جی کا نیٹ ورک ہو، 20 فیصد ایتھنول بلینڈنگ کا ہدف ہو، بھارت ایک مقررہ ہدف کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔ بھارت نے الیکٹرک موبیلٹی کی طرف بھی قدم بڑھایا ہے اور ریلوے کی 100 فیصد برق کاری پر بھی کام تیزی کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔ بھارتی ریلوے نے 2030 تک نیٹ زیرو کاربن ایمیٹر بننے کا ہدف رکھا ہے۔ ان سبھی کوششوں کے ساتھ ہی ملک مشن سرکلر اکونومی پر بھی زور دے رہا ہے۔ ہماری وہیکل اسکریپ پالیسی اس کی ایک بڑی مثال ہے۔ آج جی-20 ممالک کا جو گروپ ہے، اس میں بھارت واحد ایسا ملک ہے، جو اپنے آب وہوا سے متعلق  اہداف کے حصول کی سمت میں تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ بھارت نے اس دہائی کے آخر تک قابل تجدید توانائی کا 450 گیگاواٹ کا ہدف مقرر کیا ہے۔ 2030 تک 450 گیگاواٹ۔ اس میں سے 100 گیگاواٹ کے ہدف کو بھارت نے مقررہ وقت سے پہلے حاصل کرلیا ہے۔ ہماری یہ کوشش دنیا کو بھی ایک بھروسہ دے رہی ہے۔ عالمی افق پر بین الاقوامی شمسی اتحاد کی تشکیل اس کی ایک بڑی مثال ہے۔ بھارت آج جو بھی کام کررہا ہے، اس میں سب سے بڑا ہدف ہے، جو بھارت کو کلائمیٹ جمپ دینے والا ہے، آب و ہوا کے شعبے میں کوانٹم جمپ دینے والا ہے، وہ ہے گرین ہائیڈروجن کا شعبہ، گرین ہائیڈروجن کے شعبے کے اہداف کے حصول کے لئے میں آج اس ترنگے کو گواہ بناکر نیشنل ہائیڈروجن مشن کا اعلان کررہا ہوں۔ امرت کال میں ہمیں بھارت کو گرین ہائیڈروجن کی پیداوار اور برآمدات کا عالمی مرکز بنانا ہے۔ یہ توانائی کے شعبے میں بھارت کی ایک نئی پیش رفت کو خودکفیل بنائے گا اور پوری دنیا میں کلین انرجی ٹرانزیشن کی نئی تحریک بھی ملے گی۔ گرین گروتھ سے گرین جاب کے نئے نئے مواقع ہمارے نوجوانوں کے لئے، ہمارے اسٹارٹ اپس کے لئے، آج دستک دے رہے ہیں۔

میرے عزیز ہم وطنو!

اکیسویں صدی کا آج کا بھارت بڑے اہداف کا تعین کرنے اور انھیں حاصل کرنے کی اہلیت رکھتا ہے۔ آج بھارت ان مسائل کو بھی حل کررہا ہے جنھیں حل کرنے کا دہائیوں سے، صدیوں سے انتظار تھا۔ آرٹیکل 370 کو بدلنے کا تاریخی فیصلہ ہو،  ملک کو ٹیکس کے جال سے آزادی دلانے والا نظام جی ایس ٹی ہو، ہمارے فوجی ساتھیوں کے لئے ’وَن رینک – وَن پنشن‘ کا فیصلہ ہو،  رام جنم بھومی ہو، ان سب کا پرامن حل ہم نے گزشتہ چند برسوں میں حقیقت بنتے ہوئے دیکھا ہے۔

تری پورہ میں دہائیوں بعد برو ریانگ معاہدہ ہو، او بی سی کمیشن کو آئینی درجہ دینا ہو، یا پھر جموں و کشمیر میں آزادی کے بعد پہلی مرتبہ بی ڈی سی اور ڈی ڈی سی انتخابات ہوں، بھارت کی قوتِ ارادی کو مسلسل ثابت  کر  رہے ہیں۔

آج کورونا کے اس دور میں، بھارت میں ریکارڈ غیرملکی سرمایہ کاری آرہی ہے۔ بھارت کا غیرملکی زرمبادلہ کا ذخیرہ بھی اب تک کی سب سے بلند سطح پر ہے۔ سرجیکل اسٹرائیک اور ایئر اسٹرائیک کرکے بھارت نے ملک کے دشمنوں کو نئے بھارت کی اہلیت کا پیغام بھی دے دیا ہے۔ یہ بتاتا ہے کہ بھارت بدل رہا ہے۔ بھارت بدل سکتا ہے۔ بھارت مشکل سے مشکل فیصلے بھی لے سکتا ہے اور سخت سے سخت فیصلے کرنے میں بھی جھجکتا نہیں ہے، رکتا نہیں ہے۔

میرے عزیز ہم وطنو!

دوسری عالمی جنگ کے بعد عالمی تعلقات کی نوعیت بدل گئی ہے۔ کورونا کے بعد بھی نئے عالمی نظام کا امکان ہے۔ کورونا کے دوران دنیا نے بھارت کی کوششوں کو دیکھا بھی ہے اور سراہا بھی ہے۔ آج دنیا بھارت کو ایک نئے نقطہ نظر سے دیکھ رہی ہے۔ اس نقطہ نظر کے دو اہم پہلو ہیں – ایک دہشت گردی اور دوسری توسیع پسندی۔ بھارت ان دونوں ہی چیلنجوں سے نبردآزما ہے اور نپے تلے انداز سے بڑی ہمت کے ساتھ جواب بھی دیا ہے۔ ہم، بھارت اپنی ذمے داریوں کو صحیح طریقے سے نبھا پائے، اس کے لئے ہماری دفاعی تیاریوں کو بھی اتنا ہی مضبوط رہنا ہوگا۔ دفاع کے شعبے میں ملک کو خودکفیل بنانے، بھارتیوں، بھارت کی کمپنیوں کی حوصلہ افزائی کرنے کے لئے ہمارے محنتی صنعت کاروں کو نئے مواقع دستیاب کرانے کے لئے، ہماری مسلسل کوشش جاری ہے۔ میں ملک کو یقین دلاتا ہوں کہ ملک کی حفاظت میں مصروف ہماری افواج کے ہاتھ مضبوط کرنے کے لئے ہم کوئی کسر اٹھا نہیں رکھیں گے۔

میرے عزیز ہم وطنو!

آج ملک کے عظیم  مفکر جناب اربندو کا یوم پیدائش بھی ہے۔ سال 2022 میں ان کا 150واں یوم پیدائش منایا جانا ہے۔ جناب اربندو بھارت کے تابناک مستقبل کا خواب بننے والے تھے۔ وہ کہتے تھے کہ ہمیں اُتنا صلاحیت مند بننا ہوگا جتنا پہلے ہم کبھی  نہیں تھے۔ ہمیں اپنی عادتیں بدلنی ہوں گی۔ ایک نئے دِل کے ساتھ اپنے کو پھر سے بیدار کرنا ہوگا۔ جناب اربندو کی یہ باتیں ہمیں اپنے فرائض کی جانب توجہ دلاتی ہیں۔ ایک شہری کے طور پر، ایک سماج کے طور پر ہم ملک کو کیا دے رہے ہیں، یہ بھی ہمیں سوچنا ہوگا۔ ہم نے حقوق کو ہمیشہ اہمیت دی ہے، اس عہد میں اس کی ضرورت بھی تھی، لیکن اب ہمیں فرائض کو سب سے مقدم بنانا ہے، سب سے اوپر رکھنا ہے۔ جن عزائم کا بیڑاآج ملک نے اٹھایا ہے، انھیں پورا کرنے کے لئے ہر فرد کو جڑنا ہوگا۔

ہم نے افسروں کو ہمیشہ اہمیت دی ہے۔ اس دور میں اس کی ضرورت بھی رہی ہے  لیکن اب ہمیں فرائض کو اولین ترجیح دینا ہے  اور عزیز رکھنا ہے۔ جس عہد کا بیڑا آج ملک نے اٹھایا ہے ، اسے پورا کرنے کے لئے ہر فرد کو جڑنا ہوگا، ہر شہری کو اسے اپنانا ہوگا۔

ملک نے پانی کے تحفظ کی مہم شروع کی ہے تو ہمارا فرض ہے کہ پانی  بچانےکواپنی عادت سے جوڑیں۔  ملک اگر ڈیجیٹل لین دین پر زور دے رہا ہے تو ہمارا بھی فرض ہے کہ ہم بھی کم از کم نقد والا لین دین کریں۔ ملک نے لوکل فار ووکل کی مہم شروع کی  ہے تو ہمارا فرض ہے کہ زیادہ سے زیادہ مقامی مصنوعات  کو خریدیں۔ ملک کے پلاسٹک سے پاک، بھارت کی ہمارا جو تصور ہے ، ہمارا فرض یہ ہے کہ سنگل یوز پلاسٹک کا استعمال پوری طرح سے ہمیں روکنا ہوگا۔ یہ ہمارا ہی فرض ہے کہ ہم اپنی ندیوں میں گندگی ہٹانے ، اپنے سمندر کے کناروں کو صاف ستھرا رکھیں۔ ہمیں صاف ستھرےبھارت مشن کو بھی ایک اور نئے مقام تک پہنچانا ہے۔

آج جب  ملک ،آزدی کے 75 سال کے موقع پر آزادی کا امرت مہوتسو منا رہا ہے تو ہمیں اس اسکیم سے جڑنا، اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا، عزائم کو بار بار جگاتے رہنا ، یہ ہم سب کا فرض ہے ۔ اپنی آزادی کی جدوجہد  کو دھیان میں رکھتے ہوئے آپ جو بھی کریں گے ، ۔۔۔ جو بھی ۔۔۔امرت کی بوند کی طرح یقینی طور پر مقدس ہوگا۔بھارت کے ایک ایک فرد کی کوشش سے بنا یہ امرت کمبھ آنے والے سالوں کے لئے تحریک بن کر جوش جگائے گا۔

میرے پیارے ہم وطنو!

میں مستقبل کو دیکھنے والا نہیں ہوں، میں کام کےنیتجے  پر یقین کرتا ہوں۔میرا یقین اپنے ملک کے نوجوانوں پر  ہے، میرا یقین ملک کی بہنوں پر ہے، ملک کی بیٹیوں پر، ملک کے کسانوں پر ، ملک کے پرفیشنلز پر ہے، یہ لوگ کچھ کر سکنے والی نسل ہے، یہ ہر ہدف حاصل کرسکتی ہے۔

مجھے یقین ہے کہ جب 2047، آزادی کا سنہرا تہوار ، آزادی کی گولڈن تقریب، آزادی کے 100 سال ہوں گے۔۔۔ ، جو بھی وزیراعظم ہوگا ، آج سے 25 سال کے بعد جو بھی وزیراعظم ہوں گے ، وہ جب  پرچم کشائی کریں گے ۔۔۔، تو میں آج یقین سے کہتا ہوں۔۔۔ وہ اپنی تقریر میں جن حصولیابیوں کا ذکر کریں گے ، وہ حصولیابیاں وہی ہوں گی جس کا آج ملک عہد کررہا ہے، یہ میری جیت کا  یقین ہے۔

آج میں جو عہد لیتے ہوئے بول رہا ہوں ، وہ 25 سال کے بعد جو بھی پرچم کشائی کریں  گے ، وہ کامیابی کی شکل میں بولیں گے۔ ملک ،کامیابی کے طور پر اس کا ،فخر سے گن گان  کرتا رہے  گا۔ جو آج ملک کے نوجوان ہیں ، وہ اس وقت بھی دیکھیں گے کہ ملک نے کیسے یہ کمال کرکے دکھایا ہے۔

21 ویں صدی میں بھارت کے خوابوں اور خواہشات کو پورا کرنے سے کوئی بھی رکاوٹ اب ہمیں روک نہیں سکتی۔

 ہماری طاقت ، ہماری یکجہتی ہے، ہماری تحریک دینے والی قوت، ملک پہلے، ہمیشہ پہلے کا جذبہ ہے۔ یہی وقت ہے مشترکہ خوابوں کی تعبیر کا۔ یہ وقت ہے مشترکہ عہد لینے کا ، یہ وقت ہے کہ مشترکہ کوششیں کرنے کا  اور یہی وقت ہے کہ ہم فتح کی طرف گامزن ہوں۔

اور اس لئے میں پھر کہتا ہوں۔

یہی وقت ہے ،

یہی وقت ہے ... درست وقت ہے،

بھارت کا یہ بیش قیمت وقت ہے!

یہی وقت ہے ، صحیح وقت ہے ! بھارت کا بیش قیمت وقت ہے !

لاتعداد بازوؤں کی طاقت ہے ،

لاتعداد بازوؤں کی طاقت ہے ،

ہر طرف حب الوطنی ہے!

لاتعداد بازوؤں کی طاقت ہے ، ہر طرف حب الوطنی ہے...

تم اٹھو ترنگا لہرا دو ،

تم اٹھو ترنگا لہرا دو ،

بھارت کی قسمت کو لہرا دو ،

بھارت کی قسمت کو لہرا دو،

یہی وقت ہے ، صحیح وقت ہے! بھارت کا بیش قیمت وقت ہے!

کچھ ایسا نہیں ...

کچھ ایسا نہیں، جو کر نہ سکو،

کچھ ایسا نہیں ، جو پا نہ سکو

تم اٹھ جاؤ...

تم اٹھ جاؤ، تم جُٹ جاؤ،

اپنی صلاحیت کو پہچانو ...

اپنی صلاحیت کو پہچانو...

اپنی تمام ذمہ داریوں کو جانو...

اپنی تمام ذمہ داریوں کو جانو!

یہی وقت ہے ، صحیح وقت  ہے! بھارت کا بیش قیمت وقت ہے!

جب ملک آزادی کے 100 سال پورے کرے گا، تو شہریوں کے ہدف حقیقت میں تبدیل ہوں  گے، میری یہی آرزو ہے۔ انہی نیک خواہشات کے ساتھ ، تمام باشندگان وطن کو 75 ویں یوم آزادی کی میں ایک بار پھر سے مبارکباد پیش کرتا ہوں اور میرے ساتھ ہاتھ اوپر کرکے بولیں گے

جے ہند ،

جے ہند ،

جے ہند!

وندے ماترم ،

وندے ماترم ،

وندے ماترم !

بھارت ماتا کی جے ،

بھارت ماتا کی جے ،

بھارت ماتا کی جے!

بہت بہت شکریہ !

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
India's Merchandise Exports Defy Global Headwinds, Rise 15 Per Cent In April–14 June Period

Media Coverage

India's Merchandise Exports Defy Global Headwinds, Rise 15 Per Cent In April–14 June Period
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
India is not only a fast-growing economy, but also a credible one: PM Modi
June 22, 2026
India is not only a fast-growing economy, but also a credible one: PM
Along with being a rising power, India is also a reliable power: PM
For India, Nation First is the highest guiding principle: PM
Maoist terror is breathing its last in India: PM
The shift in mindset from "this can never be done" to "this will be done" is India's greatest achievement: PM
The government is empowering the poor and middle-class: PM
The collective efforts of 140 crore Indians will realise the dream of a Viksit Bharat: PM

Swar Sadhana, Manokamana, Aradhana - after such an auspicious beginning, it would have been wonderful if your program had continued. Greetings to all of you.

I extend my regards to all viewers of Republic TV Network, which now broadcasts in many languages. I also welcome all companions who have come to participate in this summit. In 24-hour news channels, breaking news holds great importance. And nowadays, if you look anywhere in the world, the entire world seems to be in breaking news mode. Amidst such hustle and bustle, you are hosting and participating in this summit, and therefore you deserve special congratulations. This time, your theme of discussion is equally significant: Great Power India: Nation First.

Friends,

Our scriptures say: Yato Dharmastato Jayah! - meaning, the root of victory and strength is Dharma. And Dharma means duty, Dharma means justice, Dharma means equality, Dharma means dialogue, Dharma means compassion. This very essence is embedded in the spirit of Nation First. India views its power through this lens, weighing it on this scale.

Friends,

India has another unique quality, which the world has now acknowledged. We are not a nation that reacts hastily to momentary events. We are a nation that has witnessed both development and destruction, endured them as well. We are a nation with the memory chip of ages embedded in our consciousness - a nation with the memory chip of millennia. That is why what India is doing today - and I say this with full responsibility - what India is doing today will write the future of the next thousand years. This is India’s greatest guarantee to the world. India is not only a fast-growing economy, it is also a credible economy. Alongside being a rising power - and you even stretched the dictionary to call it a superpower - I would certainly say that India is a reliable power. Just a few days ago, I returned from the G7 Summit, and every leader, every country understands very well that for today’s India, Nation First is the greatest mantra, the highest principle.

Friends,

Just a few days ago, our government completed 12 years. Arnab even compelled you to clap for that. If you weigh the achievements of the past twelve years, you will find that at the core of every decision, every step, every effort lies the spirit of Nation First. From the Swachh Bharat Abhiyan to Make in India, from emphasizing khadi to encouraging local products - all these initiatives succeeded because the people of the country placed the nation above all and fulfilled their duty. I salute the citizens of this country.

Friends,

Here with us is our companion, Shri Sridhar Vembu ji. When our entrepreneurs walk with the spirit of Nation First, when they set their goals by understanding the needs of the nation, institutions are built and the country prospers. I don’t know how much has been discussed here about Shri Vembu ji’s work, but recently I went to VivaTech in France. There were nearly 1.5 to 2 lakh young people there. As I and the President of France walked through different stalls to see the innovations of the youth, we came to the Zoho stall. I was astonished and filled with pride to see the crowd of European youth gathered there, eager to understand what this new creation was. Perhaps in India it is not discussed as much, but what I saw in France was remarkable. Congratulations to you.

Friends,

The impact of Nation First in government policy and decisions can be seen in our tribal regions. I am not here to deliver philosophy, but let me share a few light examples so you can understand how work happens. I speak of tribal areas - a population of more than 100 million, the tribal society. We all know that for decades, Maoist terror had entrenched itself there. Even in the 21st century, these terrorists did not allow a single facility to reach those areas. No government vehicle could pass through; they would be riddled with bullets. Many governments came and went, generations passed, and it seemed this misfortune of violence would remain forever. You can imagine - between 2004 and 2014, in those ten years, due to Maoist terror, more than 17,000 violent incidents occurred, and nearly 7,000 lives were lost.

Friends,

For you, today’s headline or half-hour TV debate might be that Maoist terrorism has ended. But things don’t happen like that. It requires immense effort, and that is why I want to explain. Nowadays, some people keep waving the Constitution, but when they were in government, in Naxal-affected areas, even uttering the word “Constitution” could get you shot. At that time, they sat silently, their hands trembling, unable to hold up the Constitution. The Congress was hardly affected by that painful situation.

Friends,

After 2014, we moved forward with the spirit of Nation First to change the situation. We did not just talk, we did not just announce, we acted. We resolved to uproot Naxalism-Maoism completely, and today the whole country can see the result. Maoist terrorism in India is now counting its final breaths.

And friends,

Often the final outcome is so vast and significant that the hard work behind it goes unnoticed. I want to especially tell Republic TV viewers about this.

Friends,

In those Naxal-affected areas where even going out in daylight would terrify ordinary people - fearing abduction, extortion, or looting - where even speaking of development was impossible, we advanced with a pledge of progress. In the past 12 years, our government has built more than 12,000 kilometers of roads in such regions. Many times, our construction equipment was burned, contractors were chased away. If 25 people worked on a road, 200 police personnel had to guard them so the work could continue. We did all this because we had resolved to do it.

Friends,

We built more than 9,500 mobile towers. Earlier, even one tower could not be installed, and if installed, it would be destroyed. Because they always wanted to fuel anger. We brought mobile connectivity to nearly 45,000 villages. In Naxal-affected districts, more than 1,800 bank branches were opened. Around 75,000 banking correspondents and more than 6,000 new post offices were established. We did not rely only on bombs, guns, and bullets, friends - we invested every ounce of strength given by God to win hearts.

Friends,

With firm resolve, we went into Naxal-affected areas to fulfill the hopes and aspirations of ordinary people. You will be astonished - a notorious Naxalite, with a bounty of crores on his head, his mother received a ration card from us for the first time. Her son never allowed her to get one, because he wanted to run his terror regime. There are countless such incidents. I was shocked. And the government of that time sat silently, blind to the Constitution. But the result of all these efforts was a new wave of trust among the people. Today, look at Bastar - instead of bombs and guns, Bastar Olympics are celebrated with great enthusiasm. Two editions have already been held. In the first, more than 1.5 lakh youth participated, and in the second, nearly 4 lakh youth joined. Where once there was terror, now talent is finding opportunity, and sports are flourishing.

Friends,

One of the greatest achievements of these 12 years of service has been building an India filled with hope and aspiration, rising out of despair.

Friends,

Naxalism may have been concentrated in certain areas, but its pain was felt across every corner of India. And when news began to spread that Naxalism was ending, the sense of trust was not limited to those affected regions - it spread across the entire nation. In the ten years before 2014, under the Congress government, the discontent was not only about governance. The despair was far deeper. The nation had lost hope. People felt nothing could change, nothing could improve.

Friends,

In the past 12 years, India has transformed despair into hope, and this gives me the greatest satisfaction. Today, everyone feels that with a little more effort, things can be achieved. Gone are the days when the only refrain was “It cannot happen, it cannot happen.” That era has passed. Today, the spirit is “It will happen.” This new confidence is India’s true achievement, and this is real power. Challenges remain, and they always will. Challenges are shape-shifters, appearing in new forms. But whatever form they take, we will fight and we will win. When the nation moves forward with the belief that “it can be done and we will do it,” dreams are fulfilled.

Friends,

I want to speak here about more than 100 districts and over 500 blocks in India. These were left behind on every parameter of development, and earlier governments had stamped them as “backward districts” and “backward areas.” We lifted these vast regions out of the despair of backwardness and ignited aspirations for development. First, we changed their identity. We said these are “aspirational districts,” these are “aspirational blocks.” We created programs for aspirational districts and aspirational blocks, and the government began working meticulously on every parameter of development. In each district, we identified three aspects to overcome, in others six aspects, and focused efforts began. Today, these aspirational districts and blocks are driving the overall growth of states. Earlier, they dragged growth backward. These districts had large populations living in poverty and deprivation. In recent years, 250 million poor people have defeated poverty, and aspirational districts have played a major role in this.

Friends,

We see that when one person is cured of illness, it is not just that individual who recovers - the whole family feels relief. Similarly, when a son or daughter achieves something, it is not just their achievement, but the entire family is filled with pride and confidence. In the same way, when someone rises out of poverty, the entire society benefits, the nation benefits. When 250 million people have come out of poverty and entered the neo-middle class, the benefit is not limited to those families. The middle class also gains, because these are new consumers who drive the economy, ultimately creating opportunities for the middle class. Thus, poverty reduction is not merely a matter of welfare - it is a story of expanding opportunities, a source of new aspirations.

Friends,

The vast middle class that has emerged in the country over the past 12 years has been a major priority for the government. For the ease of living of the middle class, the government has worked at every level. Take the dream of owning a home. Every middle-class family desires to have their own house. In 2014, if a family wanted to buy a home, home loans came with double-digit interest rates. Today, loans are available from banks at 7–8 percent interest. Earlier, getting a loan was like winning a war, requiring immense effort. Today, it is possible from the comfort of one’s home. Here in Delhi-NCR, people know how thousands of urban middle-class homes were stuck incomplete. Families had paid their life savings to builders, who showed glossy pamphlets and dreams, but the houses were never delivered. Families had to pay rent while waiting endlessly for their homes. It was a terrible situation. To complete these stalled projects, we created a special fund of ₹25,000 crore. You will be glad to know that nearly 60,000 long-delayed homes have now been delivered across the country.

Friends,

Another aspect that affects daily life is connectivity and transport. Today, if you look at social media, tourists from around the world are amazed by our metro system.

Friends,

In 2014, about 2.8 million people traveled daily by metro. Today, nearly 12.8 million people travel by metro every day. Now, high-speed trains like Vande Bharat, Namo Bharat, and Amrit Bharat are connecting the nation. With better roads and highways, not only is time saved, but vehicle maintenance costs have also reduced. In recent years, the number of airports has doubled. This has given the middle class in many smaller cities the opportunity to fly for the first time.

Friends,

In the past 12 years, India has not only increased the earnings of the middle class but also their savings. In 2013–14, income up to about ₹2 lakh was taxable, and the middle class bore that burden. Today, income up to ₹12 lakh is tax-free. In other words, tax-free income has multiplied several times.

Friends,

GST reforms have also brought great convenience to the middle class. Filing taxes has become easier, saving both time and money. Income tax returns can now be filed from home, and even settlement issues are handled in a faceless manner.

Friends,

A major expense for middle-class families is treatment for diabetes and other lifestyle-related conditions. At Jan Aushadhi Kendras, such medicines are available at an 80 percent discount. If earlier you spent ₹1,000, today you spend only ₹200, saving ₹800. Over the years, this has resulted in savings of nearly ₹40,000 crore for countless families. Another significant portion of the middle-class budget goes toward healthcare for the elderly. Today, every citizen above 70 years of age is entitled to free treatment up to ₹5 lakh.

Friends,

It is human nature to forget past difficulties when conveniences become routine. Earlier, you paid tax on ₹2 lakh income; now, up to ₹12 lakh is tax-free. Yet applause comes only when reminded. On the other hand, if a bus or train is delayed, complaints pour in. This is the most vocal class.

Friends,

As I said, people forget old troubles. You may not even remember the difficulties once faced in getting a driving license or passport. Earlier, it was a struggle. Today, obtaining a driving license is easier, and passports are usually issued within three days.

Friends,

I know the way our government works has raised people’s aspirations. Once a demand is met, people immediately seek something better, something upgraded. If earlier the demand was for a new road, once built, the next question is: when will the metro arrive? Earlier, expectations were that trains should arrive on time and provide clean seating. Today, the demand is: why isn’t Vande Bharat running on our route?

Friends,

Some see this as dissatisfaction, but it is aspiration. In fact, even the Congress party constantly says, “Modi ji, this should happen, that should happen.” They trust that if anyone can deliver, it is this government.

Friends,

Aspirations arise only where people believe dreams can be fulfilled. This is the aspiration of India’s youth, poor, and middle class. Today, it is the driving energy of BJP-NDA governments.

Friends,

On one side, a large section of the nation is aspirational. On the other side, there is a political group whose life mantra has become “Always Against.” This group is filled with chronic dissatisfaction. Let me share some symptoms so Republic TV viewers can recognize them. They will say, “Why doesn’t this place have 24-hour electricity?” But the next day, they protest against dams, solar parks, thermal plants, or nuclear projects. One day they ask why there is no electricity, the next day they oppose power generation. These are the same people who once opposed mineral mining, but today ask where India’s rare earth mineral reserves and supply chains are, and why India doesn’t have an EV ecosystem like other countries. They once debated “data versus flour,” but now demand to know what India has done in AI. In one breath, they say AI should have advanced further, and in the next, they oppose data centers and semiconductor plants, listing endless drawbacks on social media, TV debates, and newspapers.

Friends,

These people bring up corruption indices from around the world to put India in the dock. Their ecosystem’s media amplifies it 24/7. But when action is taken against corruption, they are the first to cry foul, claiming raids and investigations are harassment. They question why action is taken now, why not then, why against A and not B. This is their game.

Friends,

It is vital for the nation to understand their character. Especially our youth, and Gen Z in particular, must recognize them quickly. Otherwise, as I say, “Suryavanshi has arrived,” and he explains swiftly.

Friends,

These people claim the armed forces lack freedom and weapons. But when the government makes a defense deal or buys modern arms, they are the first to question why. They challenge India’s diplomacy worldwide, but when India builds infrastructure projects for diplomacy and security, they protest loudly.

Friends,

At this crucial juncture, India must identify such people, understand their flawed arguments, and remain alert. Unfortunately, today the main opposition party, Congress, has been taken over by such elements. To imagine Congress speaking of Nation First, as it did in Gandhi ji’s time, is now a false dream.

Friends,

The world today is challenging old paradigms, and the scale of disruption is immense. But these challenges also bring new opportunities. Every youth, entrepreneur, innovator, and startup in India must focus on these opportunities. The government, with the spirit of Nation First, stands fully with the people. India is now riding the Reform Express. This momentum will only accelerate. From this Republic TV platform, I say again: our dreams are vast, and our efforts will be equally immense. The collective endeavor of 1.4 billion Indians will build a developed India. And I assure you, you will see this developed India with your own eyes. It will not be left for future generations to wait. With this confidence, I once again extend my best wishes to Republic TV, its viewers, and all of you. Thank you very much!