’’آپ سب نے گزشتہ 25 دن میں جو تجربہ حاصل کیا ہے، وہ آپ کے کھیل کود سے متعلق کریر کے لئے ایک عظیم اثاثہ ہے‘‘
’’کسی بھی معاشرے کی ترقی کے لئے یہ اہم ہےکہ وہاں کھیلوں اور کھلاڑیوں کو پھلنے پھولنے کا موقع ملے‘‘
’’پورا ملک بھی کھلاڑیوں کی طرح سوچ رہا ہے اور ملک کو اولیت دے رہا ہے ‘‘
آج کی دنیا میں بہت سے مشہور اور باصلاحیت کھلاڑیوں کا تعلق چھوٹے قصبات سے ہے
’’سنسد کھیل پرتی یوگیتا ، باصلاحیت افراد کو تلاش کرنے اور ملک کےلئے ان کی مہارتوں کو فروغ دینے کا ایک بڑا وسیلہ ہے‘‘

امیٹھی پارلیمنٹ گیمز–کھیل کود مقابلوں کے اختتامی اجلاس میں  آپ کے درمیان آنا، آپ سے جڑنا، میرے لیے بہت خاص  بات ہے۔ ملک میں کھیلوں کے لیے یہ مہینہ بڑا خوش آئند  ہے۔ ہمارے کھلاڑیوں   نے ایشین گیمز  میں میڈل کی سنچری  لگا دی ہے۔ کھیل کود کے ان مقابلوں کے درمیان امیٹھی کے کھلاڑیوں نے بھی کھیلوں میں اپنی صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے۔ سانسد کھیل کود مقابلوں میں شامل تمام کھلاڑیوں کو میں مبارکباد دیتا ہوں۔اس مقابلے سے آپ کو  جونئی توانائی اور اعتماد حاصل ہوا ہے  اسے آپ بھی محسوس کرتے ہوں گے۔پورے علاقےکے لوگ بھی محسوس کرتے ہوں  گے اور میں تو سن کر ہی محسوس کرنے لگتا ہوں ۔اسی جوش اور خود اعتمادی کو ہمیں سنبھالنا ہے، سنوارنا ہے، اس کی آبیاری کرنی ہے، کھاد پانی دینا ہے۔ گزشتہ 25دنوںمیں آپ کو  جوتجربہ حاصل ہوا ہے وہ آپ کے کھیل کودسے متعلق کیرئیر کا بہت بڑا اثاثہ ہے۔ میں آج ہر اس  شخصکو بھی مبارکباددیتا ہوں ،جس نے ٹیچر کے رول میں نگراں کے رول میں، اسکول اور کالج کے نمائندے کے رول میں اس  مہاابھیان سے جڑ کر ان نوجوان کھلاڑیوں کو حوصلہ اور تعاون فراہم کیا ہے۔ ایک لاکھ سے زیادہ کھلاڑیوں  کا جڑنا ، وہ بھی اتنے چھوٹے سے علاقے میں  یہ اپنے آپ میں بہت بڑی بات  ہے۔ میں خاص طورپر امیٹھی کی پارلیمانی رکن بہن  اسمرتی ایرانی جی کو  مبارکباددیتا ہوں ، جنہوں نے اس اہتمام کو  بہت ہی کامیاب بنایا۔

 

ساتھیوں!

کسی بھی معاشرے کی ترقی کے لئے یہ بہت ضروری ہے کہ وہاں کھیلو ں کی ترقی ہو ، وہاں کھیل اور کھلاڑیوں کو پھلنے پھولنے کا موقع ملے ۔ہدف کو حاصل کرنے کے لئے زیادہ محنت کرنا ، ہارنے کے بعد سے پھر سے کوشش کرنا  ، ٹیم کے ساتھ جڑکر آگے بڑھنا،شخصیت سے متعلق فروغ  کے یہ سارے جذبے کھیلوں کے وسیلے سے بہت ہی آسانی سے نوجوانوں میں  پنپتے ہیں۔ بھاجپا کے سیکڑوں   پارلیمانی رکن نے اپنے اپنے علاقے میں کھیل کود مقابلے منعقد کرکے معاشرے اور دیش کی ترقی کا نیا راستہ تیار کیا ہے۔ ان کوششوں کا نتیجہ ملک کو  آنے والے برسوں  میں واضح طورپر دکھائی دے گا۔ مجھے یقین ہے کہ امیٹھی کے نوجوان  کھلاڑی آئندہ برسوں میں ملک  اور بیرون ملک سطح کے تمغے ضرور جیتیں گے او ر اس میں   اس مقابلے سے حاصل تجربہ بھی بہت کام آئے گا۔

ساتھیوں!

جب کوئی کھلاڑی میدان میں اترتا ہے تو اس کا صرف ایک ہی مقصدہوتا ہے کہ وہ کیسے خودکواور اپنی ٹیم کو فاتح بنائے۔آج  پورا ملک کھلاڑیوں کی طرح ہی سوچ رہا ہے۔ کھلاڑی بھی جب کھیلتے  ہیں تو  ملک  پہلے کی سوچ رکھتے  ہیں۔اس لمحے وہ سب کچھ داؤ ں پر لگاکر ملک کے لئے ہی کھیلتے ہیں۔اس وقت ملک بھی  ایک بڑا مقصد لے کر چل رہا ہے۔ بھارت کو ترقی یافتہ  بنانے میں  ملک کے ہر ضلعے  کے  ہر شہری کا رول  ہے۔ اس کے لیے ہر علاقے کو ایک جذبہ، ایک ہدف اور ایک عزم سے آگے بڑھنا پڑے گا۔اسی سوچ سے ہم  ملک میں  آپ جیسے نوجوانوں کے لیے ٹاپس اسکیم اور کھیلو انڈیا گیمز جیسےمنصوبے چلارہے ہیں۔ آج سیکڑوں  ایتھلیٹس کو ٹاپس اسکیم کے تحت ملک اور  بیرون ملک تربیت  اور کوچنگ دلائی  جا رہی ہے۔ ان کھلاڑیوں کو  کروڑوں روپے کی مددفراہم کی جارہی ہے۔ کھیلو انڈیا گیمز کے تحت  بھی تین ہزار سے زیادہ کھلاڑیوں کو   50 ہزار روپے ماہ کی مدد دی جا رہی ہے۔ آپ کو ان کی تربیت، ڈائٹ، کوچنگ، کٹ، ضروری آلات  اور دیگر اخراجات پورے کرپارہے ہیں۔

 

میرے پیارے  کنبے کے ساتھیوں!

بدلتے ہوئے آج کے ہندوستان میں چھوٹے-چھوٹے شہر کے ہنر  کو کھل کر آگے  آنے کا موقع مل رہا ہے۔ اگر آج اسٹارٹ اپس میں بھارت کا اتنا نام ہے تو اس میں چھوٹے شہر وں  کا بھی بڑا رول ہے۔ گزشتہ برسوںمیں آپ نے دیکھا ہوگا کہ کھیلوں کی دنیا میں  چھا جانے والے بہت سارے نام چھوٹے شہروں سے ہی نکل کر آئے ہیں ۔ایسا اس لئے ہوا ہے  کیونکہ آج بھارت  میں  پوری شفافی کے ساتھ  نوجوانوں  کو آگے بڑھنے کا  موقع مل رہا ہے ۔ایشین گیمز میں بھی میڈل حاصل  کرنے والے ایتھلیٹس بہت بڑے شہروں سے نہیں آئے ہیں ۔ا ن میں سے بہت  سے کھلاڑی چھوٹے چھوٹے شہروں سے ہی ہیں۔ ان کے ہنر  کااحترام کرتے ہوئے  ہم نے انہیں  ہر ممکن  سہولیات  فراہم کی ہیں۔ اس کا نتیجہ ان ایتھلیٹس نے دیا ہے۔ ہمارے اترپردیش کی انورانی  ، پارل چودھری کی کارکردگی  نے پورے دیش کا سر فخر سے بلند کردیا ہے۔ اسی زمین نے ملک کو سدھا سنگھ جیسی ایتھلیٹ بھی دی ہے۔ ہمیں ایسے ہی ہنر کو باہر نکال کر ،اسے نکھار کر آگے بڑھانا  ہے اور سانسد کھیل کودمقابلے اس کا بھی بہت بڑا ذریعہ ہیں۔

میرے پیارے کھلاڑیوں !

مجھے پورا یقین ہے کہ آپ سبھی کی محنت آنے  والے دنوں میں رنگ لائےگی۔ آپ میں سے ہی کوئی کسی دن بھارت کے  ترنگے  کے ساتھ  دنیا میں ملک کا نام روشن کرے گا۔امیٹھی کے نوجوان  کھیلیں  بھی، پھلیں پھولیں بھی ،اسی نیک خواہش کے ساتھ  ایک بار پھر  آپ سب کو میری ڈھیر   ساری  نیک خواہشات ۔بہت بہت شکریہ۔

 

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
Moving beyond Western paradigms: The geopolitical lesson of India’s multi-alignment

Media Coverage

Moving beyond Western paradigms: The geopolitical lesson of India’s multi-alignment
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Prime Minister condoles loss of lives in a mishap in Surat, Gujarat
June 02, 2026
PM announces ex-gratia from PMNRF

Prime Minister Shri Narendra Modi today expressed deep pain over the tragic mishap in Surat district, Gujarat. He extended his heartfelt condolences to those who have lost their loved ones and prayed for the earliest recovery of the injured. The Prime Minister noted that rescue operations are underway and authorities are providing all possible assistance at the accident site.

The Prime Minister has announced an ex-gratia of Rs. 2 lakh from the Prime Minister’s National Relief Fund (PMNRF) for the next of kin of each deceased. Shri Modi also noted that Rs. 50,000 would be provided to those who sustained injuries in the incident.

The Prime Minister posted on X:

"Deeply pained to hear about a mishap in Surat district, Gujarat. My condolences to those who have lost their loved ones. May the injured recover at the earliest. Rescue operations are underway and authorities are providing all possible assistance at the accident site.

An ex-gratia of Rs. 2 lakh from PMNRF would be given to the next of kin of each deceased. The injured would be given Rs. 50,000: PM"