پونے میٹرو کے مکمل شدہ سیکشن کے افتتاح کے موقع پر میٹرو ٹرینوں کو جھنڈی دکھا کر روانہ کیا
پی ایم اے وائی کے تحت تعمیر کیے گئے مکانات کو استفادہ کنندگان کے حوالے کیا اور سنگ بنیاد رکھا
ویسٹ ٹو انرجی پلانٹ کا افتتاح کیا
’’پونے ایک درخشاں شہر ہے جو ملک کی معیشت کو رفتار دیتا ہے اور پورے ملک کے نوجوانوں کے خوابوں کو پورا کرتا ہے‘‘
’’ہماری حکومت شہریوں کے معیار زندگی کو بہتر کرنے کے لیے پرعزم ہے‘‘
’’میٹرو جدید ہندوستان میں شہروں کے لیے ایک نئی لائف لائن بن رہی ہے‘‘
’’مہاراشٹر کی صنعتی ترقی نے آزادی کے بعد سے ہندوستان کی صنعتی ترقی کی راہ ہموار کی ہے‘‘
’’غریب ہو یا متوسط، ہر خواب کوپورا کرنا مودی کی گارنٹی ہے‘‘

مہاراشٹر کے گورنر جناب رمیش بیس جی، وزیر اعلی ایکناتھ شنڈے جی، مرکزی کابینہ کے میرے ساتھیوں، مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس جی، اجیت پوار جی، بھائی دلیپ جی، دیگر وزرا، ارکان پارلیمنٹ اور اسمبلی ارکان بھائیو اور بہنو۔

ऑगस्ट महिना, हा उत्सव व क्रांतीचा महिना आहे.

क्रांतीच्या या महिन्याच्या सुरुवातीलाच, मला पुणे येथे,

येण्याचे सौभाग्य मिळाले.

واقعی، پونے کا بھارت کی آزادی کے آندولن میں بہت بڑا تعاون رہا ہے،پونے نے بال گنگا دھر تلک سمیت انیک انقلابیوں ، مجاہدین آزادی ملک کو دیئے ہیں آج ہی لوک شاہر اننا بھاؤ سیٹھ ساٹھے کی جینتی بھی ہے۔یہ ہم سب کے لیے بہت ہی خاص دن ہے۔ انا بھاؤ ساٹھے، مہنت سماج سدھارک تھے، بابا صاحت امبیڈکر کے خیالات سے متاثر تھے۔ آج بھی بڑی تعداد میں طلبا اور اسکالر ان کے ساہتیہ پر تحقیق کرتے ہیں۔ انا بھاؤ ساٹھے کے کام، ان کی اپیل آج ہم سب کو تحریک دیتی ہے۔

ساتھیو،

پونے ملک کی معیشت کو رفتار دینے، ملک بھر کے نوجوانوں کو خوابوں کو پورا کرنے والا ایک زندہ شہر ہے۔ آج جو پروجیکٹ پونے اور پمپری – چنچوڑ کو ملے ہیں اس سے یہ کردار اور مضبوط ہونے والا ہے۔ابھی یہاں قریب 15000 کروڑ روپئے کے پروجیکٹ کا  افتتاح اور سنگ بنیاد رکھا گیا ہے۔ ہزاروں کنبوں کو پکے گھر ملے ہیں۔ کچرے سے دولت بنانے کا، کچرے سے کنچن بنانے کا جدید پلانٹ ملا ہے۔ ان پروجیکٹوں کے لیے میں سبھی پونے کے لوگوں کو، یہاں کے سبھی شہریوں کو بہت بہت مبارکباد دیتا ہے۔

 

ساتھیو،

ہماری سرکار شہروں میں رہنے والے خاص کر متوسط طبقے کی  پیشہ ور افراد کی ان کی کوالٹی آف لائف کو لے کر بہت سنجیدہ ہے۔ جب زندگی کا معیار سدھرتا ہے تو اُس شہر کی ترقی بھی اور تیزی سے ہوتی ہے۔ پونے جیسے ہمارے شہروں میں زندگی کامعیار اور بہتر ہو اس کے لیے ہماری سرکار لگاتار کام کر رہی ہے۔ یہاں آنے سے پہلے پونے میٹرو کے ایک اور سیکشن کا افتتاح ہوا ہے، مجھے یاد ہے کہ جب پونے میٹرو کے لیے کام شروع ہوا تھا تو مجھے اس کا سنگ بنیاد رکھنے کا موقع ملا تھا اور دیویندر جی نے بڑے مزے دار ڈھنگ سے اس کا ذکر بھی کیا۔ ان پانچ سالوں میں لگ بھگ 24 کلو میٹر میٹرو نیٹ ورک شروع ہوچکاہے۔

ساتھیو،

ہمیں بھارت کے شہروں میں رہنے والے لوگوں کی زندگی کی سطح کو  اچھا بنانے اور اسے اگر ہمیں نئی اونچائی دینی ہے تو ہمیں پبلک ٹرانسپورٹ کو جدید بنانا ہی ہوگا اور اس لیے ہی آج بھارت کے شہروں میں لگاتار میٹرو نیٹ ورک کی توسیع ہو رہی ہے۔ نئے نئے فلائی اوور بنائے جارہے ہیں۔ ریڈ لائٹس کی تعداد کم کرنے پر بھی زور دیا جارہا ہے۔ سال 2014 تک بھارت میں 250 کلو میٹر سے بھی کم میٹرو نیٹ ورک تھا۔ اس میں سے بھی زیادہ تر دلّی این سی آر میں تھا۔ اب ملک میں میٹرو نیٹ ورک بڑھ کر 800 کلو میٹر سے بھی زیادہ ہوگیا ہے۔ اس کے علاوہ ایک ہزار کلو میٹر کی نئی میٹرو لائن کے لیے بھی کام چل رہا ہے۔ 2014 میں صرف پانچ شہروں میں میٹرو کا نیٹ ورک تھا۔ آج ملک کے 20 شہروں میں نیٹ ورک چل رہا ہے۔ مہاراشٹر میں بھی پونے کے علاوہ ممبئی اور ناگ پور میں بھی میٹرو کی توسیع ہو رہی ہے۔   یہ میٹرو نیٹ ورک جدید بھارت کے شہروں کی نئی لائف لائن بنتی جارہی ہے۔ پونے جیسے شہر میں ماحولیات کے تحفظ کے لیے آلودگی کم کرنے کے لیے میٹرو کی توسیع بہت ضروری ہے۔ اس لئے بھی ہماری سرکار میٹرو نیٹ ورک بڑھانے کے لیے اتنی محنت کر رہی ہے۔

بھائیو اور بہنو،

زندگی کے معیار کو سدھارنے کا ایک اہم فیکٹر شہروں میں صاف صفائی کا بندوبست بھی ہے۔ ایک وقت تھا جب ترقی یافتہ ملکوں کے شہروں کو دیکھ کر کہا جاتا تھا وہاں کتنا صاف شہر ہے۔ اب ہم بھارت کے شہروں کو بھی اسی طرح سے بنا رہے ہیں۔ سووچھ بھارت ابھیان صرف ٹوائلٹس کی تعمیر تک ہی محدود نہیں ہے۔ اس مہم میں ویسٹ مینجمنٹ پر بھی بہت زیادہ فوکس کیا جارہا ہے۔ ہمارے شہروں میں بڑے بڑے کچرےکے پہاڑ، بہت بڑا مسئلہ بنے ہوئے ہیں۔ آپ بھی جانتے ہیں کہ پونے میں جہاں میٹرو کا ڈپو بنا ہے وہ پہلے کوتھ روڈ کچرا ڈمپنگ یارڈ سے جانا جاتا تھا اب ایسے کوڑے کے پہاڑوں کو ہٹانے کے لیے بھی مشن موڈ پر کام چل رہا ہے۔ اور ہم کچرے سے کنچن یعنی ویسٹ ٹو ویلتھ کے منتر پر کام کر رہے ہیں۔ پمپری چنچواڑ کا ویٹ ٹو اینرجی پلانٹ بہت ہی بہترین پلانٹ ہے اس میں کچرے سے بجلی بن رہی ہے۔ یہاں جو بجلی پیدا ہوگی اس میں  ویسٹ ٹو انرجی پلانٹ بہت ہی بہترین پروجیکٹ ہے اس میں کچرے سے بجلی بن رہی ہے یہاں جو بجلی پیدا ہوگی اس سے نگم اپنی ضرورت بھی پوری کر پائے گا یعنی آلودگی کا مطلب ہی نہیں رہے گا اور نگر نگم کو بچت بھی ہوگی۔

ساتھیو

آزادی کے بعد سے ہی مہاراشٹر کی صنعت کی ترقی میں بھارت کی صنعت کی ترقی کو لگاتار رفتار دی ہے۔ مہاراشٹر میں صنعتی ترقی کو اور بڑھانے کے لیے یہاں جدید بنیادی ڈھانچے کی تعمیر اتنی ہی ضروری ہے۔ اس لیے آج ہماری سرکار مہاراشٹر میں بنیادی ڈھانچے پر جتنا سرمایہ کاری کر رہی ہے وہ بے مثال ہے۔ آج یہاں بڑے بڑے ایکسپریس وے، نئے نئے ریلوے روٹ، نئے نئے ہوائی اڈے کی تعمیر کی جارہی ہے۔ ریلوے کی ترقی کے لیے یہاں 2014 کے مقابلے میں 12 گنا زیادہ خرچ کیا جارہا ہے۔ مہاراشٹر کے الگ الگ شہروں کو آس پاس کی ریاستوں کے معاشی ہب سے بھی جوڑا جارہا ہے۔ ممبئی – احمدآباد ہائی اسپیڈ ریل سے گجرات اور مہاراشٹر دونوں کو فائدہ ہوگا، دلّی- ممبئی اقتصادی کوریڈور مہاراشٹر کو مدھیہ پردیش اور شمالی بھارت کے دیگر ریاستوں سے جوڑے گا۔ ویسٹرن ڈیڈی کیٹڈ فریڈ کوریڈور سے مہاراشٹر اور شمالی بھارت کے درمیان ریل رابطے بھی بالکل بدل جائے گا۔ مہاراشٹر کو تلنگانہ، چھتیس گڑھ اور دیگر پڑوسی ریاستوں سے جوڑنے کے لیے جو ٹرانسمشن لائن نیٹ ورک بچھائی گئی ہے اس سے بھی مہاراشٹر کے صنعتوں کو نئی رفتار ملنے والی ہے۔ تیل اور گیس پائپ لائن ہو، اورنگ آباد انڈسٹریل سٹی ہو، نوی ممبئی ایئرپورٹ ہو، شیندر بڑکن انڈسٹریئل پارک ہو یا مہاراشٹر کی اقتصادی معیشت کو نئی رفتار دینے کے  میں اہم رول ادا کرتے ہیں۔

 

ساتھیو،

ہماری سرکار ریاست کی ترقی سے ملک کی ترقی کے منتر کو لے کر چل رہی ہے۔ جب مہاراشٹر کی ترقی ہوگی تو بھارت کی ترقی ہوگی۔ اور جب بھارت کی ترقی ہوگی تو اس کا اتنا ہی فائدہ مہاراشٹر کو ملے گا۔ آج کال جگ بھارت لوک،  بھارتاچیہ، وکاساچی، چرچا کرت اہاتے۔ اس ترقی کا فائدہ مہاراشٹر کو بھی ہو رہا ہے۔ پونے کو بھی ہو رہا ہے۔ آپ دیکھ رہے ہیں گذشتہ 9 سالوں میں بھارت نے اختراع اور اسٹارٹ اپ کے معاملے میں دنیا میں نئی پہچان بنائی ہے۔ نو سال پہلے تک بھارت نے صرف کچھ سو اسٹارٹ اپس ہوتے تھے ۔ آج ہم ایک لاکھ اسٹارٹ اپس کو پار کر گئے ہیں۔ یہ اسٹارٹ اپ، یہ ایکوسسٹم اس لئے اتنا پھل پھول رہا ہے کیونکہ ہم نے ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے کو وسعت دی ہے اور بھارت میں ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے کی بنیاد بنانے میں پونے کا بہت ہی تاریخی کردار رہا ہے۔ سستے ڈاٹا، سستے فون اور گاؤں گاؤں پہنچی انٹرنیٹ سہولت نے  اس سیکٹر کو مضبوطی دی ہے۔ آج ہندوستان دنیا میں سب سے تیز رفتاری سے 5جی سروس رول آؤٹ کرنے والے ممالک میں سے ایک ہے ۔آج ملک میں فنٹیک ہو ، بائیوٹیک ہو، ایگری ٹیک ہو، ہرشعبے میں ہمارے نوجوان کمال کررہے ہیں ۔ اس کا بہت بڑا فائدہ پونے کو ہورہاہے ۔

ساتھیو،

ایک طرف مہاراشٹرمیں ہم چہارجانب ترقی ہوتی دیکھ رہے ہیں وہیں دوسرے طرف  پڑوسی ریاست کرناٹک میں جوہورہاہے  وہ بھی ہمارے سامنے ہے ۔ بینگلورو اتنا بڑا آئی ٹی ہب ہے ، گلوبل انویسٹرس کا سینٹرہے ۔یہ ضروری تھا کہ اس وقت بینگلورو کی ، کرناٹک کی تیزی سے ترقی ہو۔ لیکن وہاں جس طرح کے اعلانات کرکے حکومت بنائی گئی اس کے برے نتائج اتنے کم وقت میں آج پوراملک دیکھ رہاہے  اورتشویش کا تجربہ کررہاہے ۔جب کوئی پارٹی اپنے مفادات کے لئے حکومت کی تجوری خالی کرتی ہے تو اس کانقصان سب سے زیادہ ریاست کے لوگوں کو ہوتاہے ، ہماری نوجوان نسل کے مستقبل پرسوالیہ نشان لگ جاتاہے اس سے اس پارٹی کی حکومت تو بن جاتی ہے لیکن لوگوں کا مستقبل خطرے میں پڑجاتاہے ۔ حال یہ ہے کہ کرناٹک حکومت خود مان رہی ہے کہ اس کے بینگلورو کی ترقی کے لئے ، کرناٹک کی ترقی کے لئے تجوری خالی ہے ، پیسے نہیں ہیں ۔ بھائیو ، یہ ملک کے لئے بہت قابل تشویش ہے ۔ یہی صورتحال ہم راجستھان میں بھی ہم دیکھ رہے ہیں ۔ وہاں بھی قرض کا بوجھ بڑھ رہاہے، ترقی کے کام رکے پڑے ہیں ۔

 

ساتھیو،

ملک کو آگے بڑھانے کے لئے ترقی یافتہ بنانے کے لئے پالیسی ، نیت اورایمانداری اتنی ہی ضروری ہے ، حکومت کو سسٹم کو چلانے والوں کی پالیسی نیت اورایمانداری ہی طے کرتی ہے کہ ترقی ہوگی یانہیں ہوگی ۔ اب جیسے غریبوں کو پکامکان دینے کا منصوبہ ہے 2014سے پہلے جوحکومت تھی اس نے شہروں میں غریبوں کو مکان دینے کے لئے 10سالوں میں دومنصوبے شروع کئے ۔ ان منصوبو ں کے تحت 10سال میں ملک بھرکے شہری غریبوں کے لئے صرف 8لاکھ مکانات بنے ۔ لیکن ان مکانات کی حالت  اتنی بری تھی کہ زیادہ ترغریبوں نے ان مکانات کو لینے سے ہی انکارکردیا۔ اب آپ تصورکیجئے  ، جھگی جھونپڑی میں رہنے والا شخص بھی اس گھرکو لینے سے انکارکردےگا تووہ گھرکتنا براہوگا۔ آپ تصورکرسکتے ہیں  ملک میں یوپی اے کے وقت بنے ہوئے دولاکھ سے زیادہ مکانات ایسے تھے جن کو لینے کے لئے کوئی تیارہی نہیں ہوا۔ ہمارے یہاں مہاراشٹرمیں بھی اس وقت بنے ہوئے 50ہزارسے زیادہ مکانات ایسے ہی خالی پڑے تھے ۔ روپے کی بربادی ہے ، لوگوں کی مصیبتوں کی فکرنہیں۔

بھائیو اوربہنو،

2014میں آپ سب نے ہمیں خدمت کرنے کا موقع دیا ، حکومت میں آنے کے بعد ہم نے صحیح نیت سے کام شروع کیااور پالیسی بھی بنائی ۔ گذشتہ 9سالوں ہماری حکومت نے گاؤں اورشہروں میں غریبوں کے لئے 4کروڑسے زیادہ پکے مکانات بنائے ۔ اس میں بھی شہری غریبوں کے لئے 75لاکھ سے زیادہ مکانات بنائے گئے ہیں ۔ ہم ان  نئے مکانات کی تعمیرمیں شفافیت بھی لائے ہیں اوران معیاربھی بہترکیاہے ۔ ہماری حکومت نے ایک اوربڑا کام کیاہے  جومکان حکومت غریبوں کو بناکردے رہی ہے اس میں زیادہ ترگھرخواتین کے نام رجسٹرکئے جارہے ہیں ۔ ان مکانات کی قیمت کئی کئی لاکھ روپے ہیں ۔یعنی گذشتہ 9برسوں میں ملک میں کروڑوں بہنیں ایسی ہیں جو لکھ پتی بنی ہیں ۔میری لکھ پتی دیدی بن گئی ہیں ۔ ان کے نام پرپہلی بار ، پہلی مرتبہ کوئی جائیداد رجسٹرہوئی ہے ۔ آج بھی جن بھائیوں اوربہنوں کو اپنے مکانات ملے ہیں انھیں میں خاص طورپرمبارکباد دیتاہوں ۔ میں اپنی طرف سے بہت بہت نیک  خواہشات پیش کرتاہوں اوراس بار گنیش اتسو تو ان کے لئے بڑا شاندارہونے والا ہے ۔

 

بھائیواوربہنو ،

غریب ہو یامیڈل کلا س خاندان ہرخواب کو پوراکرنا ہی مودی ضمانت ہے ۔ ایک خواب جب پوراہوتاہے تو اس کامیابی کی کوک سے سینکڑوں عزم پیداہوتے ہیں ۔ یہی عزائم اس شخص کی زندگی کی سب سے بڑی طاقت بن جاتے ہیں ۔ ہمیں آپ کے بچوں ، آپ کے حال اورآپ کے مستقبل  کی نسلوں  کی فکرہے ۔

 

ساتھیو،

ستا یتے انی جاتے ، سماج انی دیش تتھیج راہتو، اس لئے ہماری کوشش آپ کے آج کے ساتھ ساتھ آپ کے کل کو بہتربنانے کی بھی ہے ۔ ترقی یافتہ ہندوستان کی تعمیرکاعزم اسی جذبے کا اظہارہے ۔ اس کے لئے ہم سبھی کو مل کر ایک ساتھ کام کرناہوگا۔ یہاں مہاراشٹرمیں اتنی الگ الگ پارٹیاں  ایک ساتھ اسی مقصد کے لئے آئے ہیں ۔ ہدف یہی ہے کہ سب کی حصہ داری سے مہاراشٹرکے لئے اوربہترکام ہوسکے ۔ مہاراشٹرتیز رفتاری سے ترقی کرے ۔ مہاراشٹرنے ہم سبھی کو ہمیشہ  بہت پیاردیاہے ۔ بہت آشیرواد دیاہے ۔ یہ آشیرواد یوں ہی بنارہے گا ، اسی خواہش کے ساتھ پھرسے ترقی کے منصوبوں کی  آپ سب کوبہت بہت مبارکباددیتاہوں ۔ میرے ساتھ بولیے ،بھارت ماتاکی جے !

بھارت ماتاکی جے !

بھارت ماتا کی جے !

شکریہ ۔

 

 

Explore More
لال قلعہ کی فصیل سے 77ویں یوم آزادی کے موقع پر وزیراعظم جناب نریندر مودی کے خطاب کا متن

Popular Speeches

لال قلعہ کی فصیل سے 77ویں یوم آزادی کے موقع پر وزیراعظم جناب نریندر مودی کے خطاب کا متن
GST collection rises 12.5% YoY to ₹1.68 lakh crore in February, gross FY24 sum at ₹18.4 lakh crore

Media Coverage

GST collection rises 12.5% YoY to ₹1.68 lakh crore in February, gross FY24 sum at ₹18.4 lakh crore
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
If Bihar becomes Viksit, India will also become Viksit: PM Modi
March 02, 2024
Dedicates to nation and lays foundation stone for multiple oil and gas projects worth about Rs 1.48 lakh crore
Dedicates to nation and lays foundation stone for several development projects in Bihar worth more than Rs 13,400 crores
Inaugurates Hindustan Urvarak & Rasayan Ltd (HURL) fertilizer plant in Barauni
Inaugurates and lays foundation stone for several railway projects worth about Rs 3917 crores
Dedicates to nation ‘Bharat Pashudhan’ - a digital database for livestock animals in the country
Launches ‘1962 Farmers App’
“Bihar is full of enthusiasm and confidence due to power of double engine government”
“If Bihar becomes Viksit, India will also become Viksit”
“History is proof that India has remained empowered when Bihar and Eastern India have been prosperous”
“True social justice is achieved by ‘santushtikaran’, not ‘tushtikaran’. True social justice is achieved by saturation”
“Bihar is bound to be Viksit with the double efforts of the double-engine government”

बिहार के राज्यपाल श्रीमान राजेंद्र अर्लेकर जी, मुख्यमंत्री श्रीमान नीतीश कुमार जी, मंत्रिमंडल के मेरे सहयोगी गिरिराज सिंह जी, हरदीप सिंह पुरी जी, उपमुख्यमंत्री विजय सिन्हा जी, सम्राट चौधरी जी, मंच पर विराजमान अन्य सभी महानुभाव और बेगुसराय से पधारे हुए उत्साही मेरे प्यारे भाइयों और बहनों।

जयमंगला गढ़ मंदिर और नौलखा मंदिर में विराजमान देवी-देवताओं को मैं प्रणाम करता हूं। मैं आज विकसित भारत के लिए विकसित बिहार के निर्माण के संकल्प के साथ बेगुसराय आया हूं। ये मेरा सौभाग्य है कि इतनी विशाल संख्या में आप जनता-जनार्दन, आपके दर्शन करने का मुझे सौभाग्य मिला है।

साथियों,

बेगूसराय की ये धरती प्रतिभावान युवाओं की धरती है। इस धरती ने हमेशा देश के किसान और देश के मज़दूर, दोनों को मजबूत किया है। आज इस धरती का पुराना गौरव फिर लौट रहा है। आज यहां से बिहार सहित, पूरे देश के लिए 1 लाख 60 हज़ार करोड़ रुपए उससे भी अधिक के प्रोजेक्ट्स का शिलान्यास और लोकार्पण हुआ है, डेढ़ लाख करोड़ से भी ज्यादा। पहले ऐसे कार्यक्रम दिल्ली के विज्ञान भवन में होते थे, लेकिन आज मोदी दिल्ली को बेगुसराय ले आया है। और इन योजनाओं में करीब-करीब 30 हज़ार करोड़ रुपए के प्रोजेक्ट्स सिर्फ और सिर्फ ये मेरे बिहार के हैं। एक ही कार्यक्रम में सरकार का इतना बड़ा निवेश ये दिखाता है कि भारत का सामर्थ्य कितना बढ़ रहा है। इससे बिहार के नौजवानों को यहीं पर नौकरी के, रोजगार के अनेकों नए अवसर बनेंगे। आज के ये प्रोजेक्ट, भारत को दुनिया की तीसरी बड़ी आर्थिक महाशक्ति बनाने का माध्यम बनेंगे। आप रूकिए भैया बहुत हो गया आपका प्यार मुझे मंजूर है, आप रूकिए, आप बैठिए, आप चेयर पर से नीचे आ जाइए, प्लीज, मेरी आपसे प्रार्थना है, आप बैठिए...हां। आप बैठ जाइए, वो कुर्सी पर बैठ जाइए आराम से, थक जाएंगे। आज की ये परियोजनाएं, बिहार में सुविधा और समृद्धि का रास्ता बनाएंगी। आज बिहार को नई ट्रेन सेवाएं मिली हैं। ऐसे ही काम है, जिसके कारण आज देश पूरे विश्वास से कह रहा है, बच्चा-बच्चा कह रहा है, गांव भी कह रहा है, शहर भी कह रहा है- अबकी बार...400 पार!, अबकी बार...400 पार!, अबकी बार...400 पार! NDA सरकार...400 पार!

साथियों,

2014 में जब आपने NDA को सेवा का अवसर दिया, तब मैं कहता था कि पूर्वी भारत का तेज़ विकास ये हमारी प्राथमिकता है। इतिहास गवाह रहा है, जब-जब बिहार और ये पूर्वी भारत, समृद्ध रहा है, तब-तब भारत भी सशक्त रहा है। जब बिहार में स्थितियां खराब हुईं, तो देश पर भी इसका बहुत बुरा असर बड़ा। इसलिए मैं बेगुसराय से पूरे बिहार की जनता को कहता हूं- बिहार विकसित होगा, तो देश भी विकसित होगा। बिहार के मेरे भाई-बहन, आप मुझे बहुत अच्छी तरह जानते हैं, और जब आपके बीच आया हूं तो मैं दोहराना चाहता हूं- ये वादा नहीं है- ये संकल्प है, ये मिशन है। आज जो ये प्रोजेक्ट बिहार को मिले हैं, देश को मिले हैं, वो इसी दिशा में बहुत बड़ा कदम हैं। इनमें से अधिकतर पेट्रोलियम से जुड़े हैं, फर्टिलाइज़र से जुड़े हैं, रेलवे से जुड़े हैं। ऊर्जा, उर्वरक और कनेक्टिविटी, यही तो विकास का आधार हैं। खेती हो या फिर उद्योग, सब कुछ इन्हीं पर निर्भर करता है। और जब इन पर तेजी से काम चलता है, तब स्वाभाविक है रोजगार के अवसर भी बढ़ते हैं, रोजगार भी मिलता है। आप याद कीजिए, बरौनी का जो खाद कारखाना बंद पड़ चुका था, मैंने उसे फिर से चालू करने की गारंटी दी थी। आपके आशीर्वाद से मोदी ने वो गारंटी पूरी कर दी। ये बिहार सहित पूरे देश के किसानों के लिए बहुत बड़ा काम हुआ है। पुरानी सरकारों की बेरुखी के कारण, बरौनी, सिंदरी, गोरखपुर, रामागुंडम, वहां जो कारखाने थे, वो बंद पड़े थे, मशीन सड़ रहे थे। आज ये सारे कारखाने, यूरिया में भारत की आत्मनिर्भरता की शान बन रहे हैं। इसलिए तो देश कहता है- मोदी की गारंटी यानि गारंटी पूरा होने की गारंटी। मोदी की गारंटी यानि गारंटी जे पूरा होय छय !

साथियों,

आज बरौनी रिफाइनरी की क्षमता के विस्तार का काम शुरु हो रहा है। इसके निर्माण के दौरान ही, हजारों श्रमिकों को महीनों तक लगातार रोजगार मिला। ये रिफाइनरी, बिहार में औद्योगिक विकास को नई ऊर्जा देगी और भारत को आत्मनिर्भर बनाने में मदद करेगी। मुझे आपको ये बताते हुए खुशी है कि बीते 10 साल में पेट्रोलियम और प्राकृतिक गैस से जुड़े 65 हज़ार करोड़ रुपए से अधिक के प्रोजेक्ट्स बिहार को मिले हैं, जिनमें से अनेक पूरे भी हो चुके हैं। बिहार के कोने-कोने में जो गैस पाइपलाइन का नेटवर्क पहुंच रहा है, इससे बहनों को सस्ती गैस देने में मदद मिल रही है। इससे यहां उद्योग लगाना आसान हो रहा है।

साथियों,

आज हम यहां आत्मनिर्भर भारत से जुड़े एक और ऐतिहासिक पल के साक्षी बने हैं। कर्नाटक में केजी बेसिन के तेल कुओं से तेल का उत्पादन शुरु हो चुका है। इससे विदेशों से कच्चे तेल के आयात पर हमारी निर्भरता कम होगी।

साथियों,

राष्ट्रहित और जनहित के लिए समर्पित मजबूत सरकार ऐसे ही फैसले लेती है। जब परिवारहित और वोटबैंक से बंधी सरकारें होती हैं, तो वो क्या करती हैं, ये बिहार ने बहुत भुगता है। अगर 2005 से पहले के हालात होते तो बिहार में हज़ारों करोड़ की ऐसी परियोजनाओं के बारे में घोषणा करने से पहले सौ बार सोचना पड़ता। सड़क, बिजली, पानी, रेलवे की क्या स्थिति थी, ये मुझसे ज्यादा आप जानते हैं। 2014 से पहले के 10 वर्षों में रेलवे के नाम पर, रेल के संसाधनों को कैसे लूटा गया, ये पूरा बिहार जानता है। लेकिन आज देखिए, पूरी दुनिया में भारतीय रेल के आधुनिकीकरण की चर्चा हो रही है। भारतीय रेल का तेज़ी से बिजलीकरण हो रहा है। हमारे रेलवे स्टेशन भी एयरपोर्ट की तरह सुविधाओँ वाले बन रहे हैं।

साथियों,

बिहार ने दशकों तक परिवारवाद का नुकसान देखा है, परिवारवाद का दंश सहा है। परिवारवाद और सामाजिक न्याय, ये एक दूसरे के घोर विरोधी हैं। परिवारवाद, विशेष रूप से नौजवानों का, प्रतिभा का, सबसे बड़ा दुश्मन है। यही बिहार है, जिसके पास भारत रत्न कर्पूरी ठाकुर जी की एक समृद्ध विरासत है। नीतीश जी के नेतृत्व में NDA सरकार, यहां इसी विरासत को आगे बढ़ा रही है। वहीं दूसरी तरफ RJD-कांग्रेस की घोर परिवारवादी कुरीति है। RJD-कांग्रेस के लोग, अपने परिवारवाद और भ्रष्टाचार को उचित ठहराने के लिए, दलित, वंचित, पिछड़ों को ढाल बनाते हैं। ये सामाजिक न्याय नहीं, बल्कि समाज के साथ विश्वासघात है। ये सामाजिक न्याय नय, समाज क साथ विश्वासघात छय। वरना क्या कारण है कि सिर्फ एक ही परिवार का सशक्तिकरण हुआ। और समाज के बाकी परिवार पीछे रह गए? किस तरह यहां एक परिवार के लिए, युवाओं को नौकरी के नाम पर उनकी जमीनों पर कब्जा किया गया, ये भी देश ने देखा है।

साथियों,

सच्चा सामाजिक न्याय सैचुरेशन से आता है। सच्चा सामाजिक न्याय, तुष्टिकरण से नहीं संतुष्टिकरण से आता है। मोदी ऐसे ही सामाजिक न्याय, ऐसे ही सेकुलरिज्म को मानता है। जब मुफ्त राशन हर लाभार्थी तक पहुंचता है, जब हर गरीब लाभार्थी को पक्का घर मिलता है, जब हर बहन को गैस, पानी का नल, घर में टॉयलेट मिलता है, जब गरीब से गरीब को भी अच्छा और मुफ्त इलाज मिलता है, जब हर किसान लाभार्थी के बैंक खाते में सम्मान निधि आती है, तब सैचुरेशन होता है। और यही सच्चा, सामाजिक न्याय है। बीते 10 वर्षों में मोदी की ये गारंटी, जिन-जिन परिवारों तक पहुंची हैं, उनमें से सबसे अधिक दलित, पिछड़े, अतिपिछड़े वही मेरे परिवार ही हैं।

साथियों,

हमारे लिए सामाजिक न्याय, नारीशक्ति को ताकत देने का है। बीते 10 सालों में 1 करोड़ बहनों को, मेरी माताएं-बहनें इतनी बड़ी तादाद में आशीर्वाद देने आई हैं, उसका कारण है। 1 करोड़ बहनों को हम लखपति दीदी बना चुके हैं। मुझे खुशी है इसमें बिहार की भी लाखों बहनें हैं, जो अब लखपति दीदी बन चुकी हैं। और अब मोदी ने 3 करोड़ बहनों को, आंकड़ा सुनिए जरा याद रखना 3 करोड़ बहनों को लखपति दीदी बनाने की गारंटी दी है। हाल में हमने बिजली का बिल जीरो करने और बिजली से कमाई करने की भी योजना शुरु की है। पीएम सूर्यघर- मुफ्त बिजली योजना। इससे बिहार के भी अनेक परिवारों को फायदा होने वाला है। बिहार की NDA सरकार भी बिहार के युवा, किसान, कामगार, महिला, सबके लिए निरंतर काम कर रही है। डबल इंजन के डबल प्रयासों से बिहार, विकसित होकर रहेगा। आज इतना बड़ा विकास का उत्सव हम मना रहे हैं, और आप इतनी बड़ी तादाद में विकास के रास्ते को मजबूत कर रहे हैं, मैं आपका आभारी हूं। एक बार फिर आप सभी को विकास की, हजारों करोड़ की इन परियोजनाओं के लिए मैं बहुत-बहुत बधाई देता हूं। इतनी बड़ी तादाद में माताएं-बहनें आई हैं, उनको विशेष रूप से प्रणाम करता हूं। मेरे साथ बोलिए-

भारत माता की जय !

दोनों हाथ ऊपर करके पूरी ताकत से बोलिए-

भारत माता की जय !

भारत माता की जय !

भारत माता की जय !

बहुत-बहुत धन्यवाद।