تقریباً 1.25 لاکھ کروڑ روپے مالیت کی 3 سیمی کنڈکٹر سہولیات کا سنگ بنیاد رکھا
’’ہندوستان ایک نمایاں سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ ہب بننے کے لیے تیار ہے‘‘
’’خود اعتمادی لبریز نوجوان ملک کی تقدیر بدل دیتا ہے‘‘
’’ہندوستان کی تیز رفتار ترقی ہماری یووا شکتی میں اعتماد پیدا کر رہی ہے‘‘
’’ہندوستان عہد کرتا ہے، ہندوستان اسے پورا کرتا ہے اور جمہوریت اس کی ترسیل کرتی ہے‘‘
’’چپ مینوفیکچرنگ ہندوستان کو خود کفیلی اور جدیدیت کی طرف لے جائے گی‘‘
’’چپ مینوفیکچرنگ لامحدود امکانات کے دروازے کھولے گی‘‘
ہندوستان کے نوجوان باصلاحیت ہیں اور انہیں ایک موقع کی ضرورت ہے۔ سیمی کنڈکٹر پہل آج ہندوستان کے لیے وہ موقع لے کر آئی ہے

نمسکار!

مرکزی کابینہ میں میرے ساتھی جناب اشونی ویشنو جی، راجیو چندر شیکھر جی، آسام اور گجرات کے وزرائے اعلیٰ، ٹاٹا گروپ کے چیئرمین جناب این چندر شیکھرن، سی جی پاور کے چیئرمین ویلاین سبییا جی، مرکز، ریاست اور صنعت سے وابستہ دیگر تمام سینئر معززین، خواتین و حضرات!

آج ایک تاریخی دن ہے۔ آج ہم تاریخ رقم کر رہے ہیں اور روشن مستقبل کی طرف ایک بڑا اور مضبوط قدم بھی اٹھا رہے ہیں۔ آج سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ سے متعلق تقریباً 1.25 لاکھ کروڑ روپے کے تین بڑے پروجیکٹوں کا سنگ بنیاد رکھا گیا ہے۔ گجرات میں دھولیرا اور سانند میں سیمی کنڈکٹر فیسلیٹی ہو، آسام کے موریگاؤں میں سیمی کنڈکٹر فیسلیٹی ہو، یہ ہندوستان کو سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ کا ایک بڑا عالمی مرکز بنانے میں مدد کریں گی۔ میں تمام ہم وطنوں کو اس اہم اقدام کے لیے، ایک اہم آغاز کے لیے، ایک مضبوط قدم کے لیے، اس انعقاد کے لیے بہت بہت مبارکباد دیتا ہوں۔ آج تائیوان سے ہمارے دوست بھی اس پروگرام میں ورچوول  طور پر شامل ہوئے ہیں۔ میں بھی ہندوستان کی ان کوششوں سے بہت پرجوش ہوں۔

ساتھیوں،

اس بے مثال موقع پر ملک کے 60 ہزار سے زائد کالجز، یونیورسٹیز اور تعلیمی ادارے بھی ہم سے وابستہ ہیں۔ یہ اپنے آپ میں ایک ریکارڈ ہے۔ میں نے وزارت سے خصوصی درخواست کی تھی کہ آج کا یہ پروگرام ملک کے نوجوانوں کے خوابوں کا پروگرام ہے۔ اس لیے آج ہمارے نوجوانوں کو زیادہ سے زیادہ تعداد میں اس پروگرام میں شامل ہونا چاہیے۔ آج کا پروگرام بھلے ہی  سیمی کنڈکٹر پروجیکٹوں کے آغاز کا ہو، لیکن اگر مستقبل کے ہندوستان کے کوئی حقیقی اسٹیک ہولڈر ہیں تو  یہ میرے سامنے بیٹھے ہوئے میرے یوا، میرے نوجوان، میرے طالب علم ہیں۔یہ ہی  میرے ہندوستان کی طاقت ہیں۔ اس لیے میری خواہش تھی کہ ہندوستان کے طلبہ اس تاریخی لمحے کے گواہ ضرور بنیں۔ آج وہ دیکھ رہے ہیں کہ ہندوستان کس طرح ترقی، خود انحصاری اور عالمی سپلائی چین میں اپنی مضبوط موجودگی کے لیے ہمہ جہت کام کر رہا ہے۔ ان کوششوں سے ان کی خوداعتمادی میں بھی اضافہ ہوگا۔ اور پراعتماد نوجوان جہاں بھی ہوتا ہے وہ اپنے ملک کی تقدیر بدل دیتا ہے۔ میں ملک کے کونے کونے سے اس پروگرام میں حصہ لینے والے ہر طالب علم کو خوش آمدید اور مبارکباد دیتا ہوں۔

 

دوستو،

اکیسویں صدی ٹیکنالوجی سے چلنے والی صدی ہے اور الیکٹرانک چپس کے بغیر اس کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔ میڈ ان انڈیا چپ...ڈیزائنڈ ان انڈیا چپ، ہندوستان کو خود انحصاری، جدیدیت کی طرف لے جانے کی بڑی صلاحیت پیدا کرے گی۔ پہلے، دوسرے اور تیسرے صنعتی انقلاب کے دوران ہندوستان کئی وجوہات کی بنا پر پیچھے رہ گیا تھا۔ لیکن اب ہندوستان چوتھے صنعتی انقلاب، انڈسٹری 4.0 کی قیادت کرنے کے ارادے کے ساتھ اعتماد کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔ ہم ایک لمحہ بھی کھونا نہیں چاہتے۔ اور آج کا پروگرام بھی اس بات کی ایک مثال ہے کہ ہم اس سمت میں کتنی تیزی سے کام کر رہے ہیں۔ ہم نے 2 سال قبل سیمی کنڈکٹر مشن شروع کرتے ہوئے پہل کرنے کا اعلان کیا تھا۔ چند ماہ کے اندر ہمارے پہلے مفاہمت نامے پر دستخط ہو گئے۔ اور آج صرف چند مہینوں میں ہم 3 منصوبوں کا سنگ بنیاد رکھ رہے ہیں۔ بھارت عزم کرتا ہے، بھارت ڈلیور  کرتا ہے اور جمہوریت ڈلیور کرتی  ہے!!!

ساتھیوں،

دنیا میں صرف چند ممالک ہی آج سیمی کنڈکٹر تیار کر رہے ہیں۔ اور کورونا نے ہمیں یہ سبق سکھایا ہے کہ دنیا کو ایک قابل اعتماد اور لچکدار سپورٹ سپلائی چین کی اشد ضرورت ہے۔ ہندوستان اس میں بڑا کردار ادا کرنے کا منتظر ہے۔ ہندوستان پہلے ہی  ایک خلائی، ایٹمی اور ڈیجیٹل طاقت ہے۔ آنے والے وقت میں، ہم سیمی کنڈکٹر سیکٹر سے متعلق مصنوعات کی تجارتی پیداوار کریں گے۔ وہ دن دور نہیں جب ہندوستان اس میں بھی  ایک عالمی طاقت بن جائے گا۔ ہمیں ان فیصلوں سے بھی اسٹریٹجک فائدہ ملے گا جو بھارت اب لے رہا ہے اور جو پالیسیاں بنا رہا ہے۔ ہم نے کاروبار کرنے میں آسانی کو فروغ دیا ہے، ہم نے قوانین کو آسان بنایا ہے۔ گزشتہ برسوں میں ہماری حکومت نے 40 ہزار سے زائد تعمیل کو ختم کیا ہے۔ ہندوستان میں سرمایہ کاروں کے لیے ایف ڈی آئی کے قوانین بھی آسان ہو گئے ہیں۔ ایف ڈی آئی پالیسی کو دفاع، انشورنس اور ٹیلی کام جیسے شعبوں میں مزید آزاد کیا گیا ہے۔ حالیہ برسوں میں، ہم نے الیکٹرانکس اور ہارڈویئر مینوفیکچرنگ میں بھی اپنی پوزیشن مضبوط کی ہے۔ بڑے پیمانے پر الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ اور آئی ٹی ہارڈویئر کے لیے پی ایل آئی اسکیمیں ہوں، الیکٹرانک پرزوں کی اسکیمیں ہوں، یا  پھرالیکٹرانکس مینوفیکچرنگ کلسٹرز ہوں، ہندوستان نے ان سب میں ترغیبات دے کر الیکٹرانکس ایکو سسٹم کو ترقی کے نئے مواقع فراہم کیے ہیں۔ آج ہندوستان پوری  دنیا کا دوسرا سب سے بڑا موبائل فون بنانے والا ملک ہے۔ کچھ عرصہ پہلے ہم نے نیشنل کوانٹم مشن بھی شروع کیا ہے۔ اختراع کو فروغ دینے کے لیے نیشنل ریسرچ فاؤنڈیشن بھی قائم کی گئی ہے۔ انڈیا اے آئی مشن  کی بھی  تیزی سے توسیع ہونے جا رہی  ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ہم نہ صرف ٹیکنالوجی کو اپنانے کی راہ پر گامزن ہیں بلکہ ٹیکنالوجی کی ترقی کی راہ پر بھی گامزن ہیں۔

 

ساتھیوں،

سیمی کنڈکٹر انڈسٹری سے اگر کسی کو سب سے زیادہ فائدہ ہونے والا ہے تو وہ ہمارے ہندوستان کے نوجوان ہیں۔ سیمی کنڈکٹر انڈسٹری میں مواصلات سے لے کر نقل و حمل تک بہت سے شعبے شامل ہیں۔ عالمی معیشت میں بھی یہ صنعت کئی ارب ڈالر کی آمدنی اور روزگار پیدا کرتی ہے۔ یعنی چپ کی تیاری صرف ایک صنعت نہیں ہے، یہ ترقی کے دروازے کھولتی ہے، جو لامحدود امکانات سے بھری ہوئی ہے۔ یہ شعبہ نہ صرف ہندوستان میں روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے والا ہے بلکہ تکنیکی ترقی کے میدان میں بھی بڑی پیش رفت ہونے والی ہے۔ آج دنیا بھر کی سیمی کنڈکٹر چپس کے پیچھے جو  ڈیزائن ہے اور اس ڈیزائن کے پیچھے  کا جودماغ ہے وہ دماغ  زیادہ تر ہندوستان کے نوجوانوں کا  ہی ہے۔ لہذا، آج جب ہندوستان سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ کے میدان میں آگے بڑھ رہا ہے،  توہم ایک طرح سے ٹیلنٹ ایکو سسٹم کے اس چکر کو مکمل کر رہے ہیں۔ آج جو نوجوان اس پروگرام میں ہم سے وابستہ ہیں وہ جانتے ہیں کہ ملک میں ان کے لیے کس طرح نئے امکانات اور نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔ خلائی شعبہ ہو یا نقشہ سازی کا شعبہ، ہندوستان نے ان شعبوں کو اپنے نوجوانوں کے لیے مکمل طور پر کھول دیا ہے۔ ہماری حکومت نے اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم کو جو ترغیبات دی ہیں اور حوصلہ افزائی کی ہے وہ بے مثال ہے۔ اور حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اتنے چند سالوں میں ہندوستان دنیا کا تیسرا سب سے بڑا اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم بن گیا ہے۔ اب آج کے اس ایونٹ کے بعد سیمی کنڈکٹر سیکٹر میں بھی ہمارے اسٹارٹ اپس کے لیے نئے مواقع پیدا ہونے والے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ یہ نئی شروعات ہماری نوجوان نسل کو جدید ترین ٹیکنالوجی کی ملازمتوں میں شامل ہونے کے نئے مواقع فراہم کرے گی۔

ساتھیوں،

آپ کو یاد ہوگا، میں نے لال قلعہ سے کہا تھا، یہی وقت ہے، یہی صحیح وقت ہے۔ جب ہم اس جذبے سے پالیسیاں بناتے اور فیصلے کرتے ہیں تو ہمیں نتائج بھی ملتے ہیں۔ بھارت نے اب پرانی سوچ اور پرانے نقطہ نظر کو چھوڑ کر آگے بڑھ گیا ہے۔ بھارت اب تیز رفتاری سے فیصلے کر رہا ہے اور پالیسیاں بنا رہا ہے۔ ہم پہلے ہی سیمی کنڈکٹر کی تیاری میں کئی دہائیاں کھو چکے ہیں، لیکن اب  ہمیں ایک لمحہ بھی نہیں کھونا ہے اور اب ایسا دوبارہ نہیں ہوگا۔ بھارت نے پہلی بار ساٹھ کی دہائی میں سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ کا خواب دیکھا تھا، اور اس بارے میں سوچا تھا۔ لیکن اس خواب کے بعد بھی اس سوچ کے باوجود اس وقت کی حکومتیں ان مواقع سے فائدہ نہ اٹھا سکیں۔ اس کی سب سے بڑی وجوہات یہ تھیں۔ قوت ارادی کا فقدان، اپنی قراردادوں کو کامیابیوں میں تبدیل کرنے کی کوشش کا فقدان، اور ملک کے لیے دور رس فیصلے لینے کی صلاحیت کا فقدان۔ جس کی وجہ سے برسوں تک بھارت کا سیمی کنڈکٹر بنانے کا خواب محض خواب ہی رہ گیا۔ ان دہائیوں میں جو لوگ حکومت میں تھے وہ بھی یہی سوچتے تھے کہ اتنی جلدی کیا ہے، وقت آنے پر ہو جائے گا۔ حکومتوں  کو لگتا تھا کہ یہ تو مستقبل کی ضرورت ہے،  اس کا حل ابھی کیوں کرنا۔ وہ لوگ ملک کی ترجیحات میں توازن نہیں رکھ سکے اور ملک کی صلاحیت کو بھی نہ سمجھ سکے۔ ان لوگوں کا خیال تھا کہ ہندوستان ایک غریب ملک ہے... ہندوستان سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ جیسی ہائی ٹیک چیز کا انتظام کیسے کر پائے گا۔ ہندوستان کی غربت کی آڑ میں وہ جدید تقاضوں کی ایسی ہر سرمایہ کاری کو نظر انداز کرتے رہے۔ وہ ہزاروں کروڑ کے گھوٹالے کرتے تھے لیکن سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ میں ہزاروں کروڑ روپے نہیں لگا سکے۔ ایسی سوچ کے ساتھ کوئی ملک ترقی نہیں کر سکتا۔ اس لیے ہماری حکومت مستقبل کی سوچ اور مستقبل کے نقطہ نظر  کے ساتھ کام کر رہی ہے۔ آج ہم سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ میں ان عزائم کے ساتھ ترقی کر رہے ہیں جو ترقی یافتہ ممالک کا مقابلہ کر سکے۔ ہمارے ملک کی تمام تر ترجیحات کا بھی خیال رکھا گیا ہے۔ ایک طرف ہم غریبوں کے لیے پکے  مکانات بنوا رہے ہیں تو دوسری طرف ہندوستان تحقیق کو فروغ دینے کے لیے لاکھوں کروڑوں روپے خرچ کر رہا ہے۔ ایک طرف، ہم دنیا کی سب سے بڑی صفائی کی تحریک چلا رہے ہیں، وہیں دوسری طرف، ہندوستان بھی سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ میں بھی آگے بڑھ رہا ہے۔ ہم ایک طرف، ملک میں تیزی سے غربت کو کم کر رہے ہیں اور دوسری طرف، ہم ہندوستان میں جدید انفراسٹرکچر بھی بنا رہے ہیں اور ملک کو خود کفیل بنا رہے ہیں۔ صرف 2024 میں، اب تک میں نے 12 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کی اسکیموں کا سنگ بنیاد رکھا اور افتتاح کیا۔ ابھی کل ہی ہم نے پوکھرن میں اکیسویں صدی کے ہندوستان کے خود کفیل دفاعی شعبے کی ایک جھلک دیکھی۔ صرف دو دن پہلے، ہندوستان نے اگنی-5 کی شکل میں ہندوستان کو دنیا کے خصوصی کلب میں شامل ہوتے دیکھا۔ صرف 2 دن پہلے  ملک کی زراعت میں ڈرون انقلاب کی  شروعات ہوئی۔ نمو ڈرون دیدی اسکیم کے تحت ہزاروں ڈرون خواتین کے حوالے کیے گئے۔ گگن یان کے لیے ہندوستان کی تیاریاں بھی اور  زور پکڑ چکی ہیں۔ حال ہی میں، ملک کو اپنا پہلا میڈ ان انڈیا فاسٹ بریڈر نیوکلیئر ری ایکٹر ملا ہے۔ یہ تمام کوششیں، یہ تمام منصوبے، ہندوستان کو ترقی  یافتہ ہونے کے ہدف کے  اور قریب لے جا رہے ہیں، اسے تیز رفتاری سے لے جا رہے ہیں۔ اور یقیناً آج کے ان تینوں پروجیکٹوں کا بھی اس میں بڑا کردار ہوگا۔

 

اور ساتھیوں،

آپ جانتے ہیں، آج کل ہر جگہ اے آئی کے بارے میں بہت چرچا ہے۔ ہندوستان کے ہنر کا آج اے آئی (مصنوعی ذہانت) کی دنیا میں بہت زیادہ اثر ہے۔ گزشتہ ایک دو ہفتے سے   میری جتنی تقریریں ہوئی ہیں آپ نے دیکھا ہوگا۔ کچھ نوجوان میرے پاس آئے اور کہنے لگے کہ جناب ہم آپ کی ہر بات ہر گاؤں تک ہر زبان میں پہنچانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے اے آئی ٹول استعمال کیا اور آج آپ کچھ عرصے بعد میری ہر تقریر اپنی زبان میں سننا شروع کر دیں گے۔ اس کا مطلب ہے، کسی کو تمل سننا ہے، کسی کو پنجابی، کسی کو بنگالی، کسی کو آسامی، اڑیہ، جو بھی سننا ہے۔ اے آئی کا یہ کمال  میرے ملک کے نوجوان کر رہے ہیں۔ اور میں ایسی نوجوان ٹیم کا شکرگزار ہوں کہ انہوں نے ہندوستان کی تمام زبانوں میں ترجمانی کے ساتھ میری تقریریں پیش کرنے کے لیے میرے لیے اے آئی سے پیدا ہونے والی اتنی بہترین کوشش کی ہے، یہ میرے لیے بڑی خوشی اور مسرت کی بات ہے۔  اور جلد ہی ہمارا پیغام تمام زبانوں میں بھی اے آئی کے ذریعے پہنچ جائے گا۔ میرے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ہندوستان کے نوجوانوں کو، جن کے پاس صلاحیت ہے، مواقع کی ضرورت ہے۔ اور ہماری یہ سیمی کنڈکٹر پہل ملک کے نوجوانوں کے لیے ایک بہت بڑا موقع لے کر آئی ہے۔

ساتھیوں،

ایک بار پھر میں آپ سب کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتا ہوں۔ اور میں ہیمنت جی سے پوری طرح متفق ہوں کہ شمال مشرق میں کبھی کسی نے سوچا بھی نہیں تھا کہ اتنے بڑے اقدام کیے جا سکتے ہیں، ہم نے یہ فیصلہ کیا ہے۔ اور مجھے یقین ہے کہ جنوب مشرقی ایشیا کے ساتھ ہمارا رابطہ بڑھ رہا ہے، اس لیے میرا شمال مشرق،  جنوب مشرقی ایشیا سے جڑنے کے لیے سب سے طاقتور خطہ بننے جا رہا ہے۔ میں اسے صاف  صاف دیکھ رہا ہوں، اور میں اس کا آغاز دیکھ رہا ہوں۔ اس لیے آج میں آسام کے لوگوں اور شمال مشرق کے لوگوں کے لیے بہت زیادہ  نیک خواہشات کا اظہار کرتا ہوں اور انہیں بہت بہت مبارکباد دیتا ہوں۔

ساتھیوں،

آپ سب  ایسے ہی ہندوستان کی ترقی کو ایک نئی طاقت دینے کے لیے جڑتے  رہیں، آگے بڑھتے رہیں - مودی کی گارنٹی  آپ کے لیے ہے، آپ کے مستقبل کے لیے ہے، آپ کا ساتھ دینے  کے لیے ہے۔

بہت بہت شکریہ!

 

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
Teachers: The artists of education

Media Coverage

Teachers: The artists of education
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
PM to Visit Gujarat and Maharashtra on 8th September
September 07, 2026
PM to Lay Foundation Stones, Inaugurate and Dedicate to the Nation Development Projects Worth More Than ₹35,000 Crore in Vadodara
PM to Dedicate Three Key Sections of Western Dedicated Freight Corridor to the Nation, Marking Completion of the Project
PM to Lay Foundation Stone for three Railway Projects and three Highway Projects
PM to Inaugurate Global Fintech Fest 2026 in Mumbai
Theme of GFF 2026: “Potential to Impact: Agentic AI, Tokenisation, Quantum - Trusted, Connected, Global Systems for Inclusive Finance”

Prime Minister Shri Narendra Modi will visit Gujarat and Maharashtra on 8th September 2026. At around 12 noon, Prime Minister will lay the foundation stones, inaugurate and dedicate to the nation various development projects worth more than ₹35,000 crore in Vadodara. He will also address the gathering on the occasion.

At around 5:45 PM, Prime Minister will inaugurate Global Fintech Fest (GFF) 2026 in Mumbai and address the gathering as well.

PM in Vadodara

Prime Minister will dedicate to the nation three important sections of the Western Dedicated Freight Corridor (WDFC), covering 326 route kilometres and developed at a cost of more than ₹20,700 crore. These include the New Sanand (N)- New Makarpura, New Umbergaon-New Saphale and New Saphale- New JNPT sections.

The direct connectivity of Jawaharlal Nehru Port Authority (JNPA) will facilitate faster movement of EXIM cargo, strengthen connectivity between industrial centres and ports, reduce logistics costs and help decongest Mumbai’s railway network.

With the commissioning of these sections, the Dedicated Freight Corridor (DFC) network will stand fully operational across its entire length. The dedicated freight infrastructure will further strengthen the country’s logistics ecosystem by improving multimodal connectivity, reducing transit time and facilitating seamless movement of cargo across different regions.

Prime Minister will also flag off freight train services from New Sanand (North), New Makarpura, New Umbergaon and New JNPT, Mumbai. In addition, he will flag off a new passenger train service between Tanda Road and Vadodara (Pratapnagar).

Prime Minister will dedicate to the nation the Jobat–Tanda Road new rail line, developed as part of the Chhota Udepur–Dhar project. The new rail line will connect remote and tribal areas of Alirajpur with the national rail network.

Prime Minister will lay the foundation stone for three railway projects spanning 329 kilometres and costing more than ₹9,700 crore. These include the Vadodara-Ratlam third and fourth lines, Miyagam Karjan-Choranda–Malsar gauge conversion and the Vishwamitri-Dabhoi doubling project. The projects will enhance passenger and freight capacity, ease congestion and strengthen connectivity between Gujarat and Madhya Pradesh.

Prime Minister will lay the foundation stone for three National Highway projects costing around ₹1,780 crore. These include six-laning of the Kamrej-Chalthan section of NH-48; construction of additional structures, including major bridges over the Tapi and Narmada, on the Vadodara-Surat section of NH-48; and grade-separated structures at Abhava, Mindhola and Khajod junctions on NH-53.

Prime Minister will also lay the foundation stone for and inaugurate various Government of Gujarat projects worth around ₹2,600 crore. Major projects for which the foundation stone will be laid include Vadodara Urban Development Authority Ring Road Phase II and a 110 MW floating solar project at Kadana Dam, construction of new office of Vadodara Municipal Corporation, among others. Projects to be inaugurated include housing projects under the Pradhan Mantri Awas Yojana (PMAY) and a water-supply project for 11 villages in eastern Vadodara, among others.

PM in Mumbai

Prime Minister will inaugurate Global Fintech Fest (GFF) 2026, one of the world’s largest and most influential annual fintech conferences.

The seventh edition of the Global Fintech Fest is being held from 8th to 11th September 2026 in Mumbai. Since 2020, GFF has emerged as an international thought leadership platform bringing together policymakers, regulators, central banks, financial institutions, fintechs, technology companies, investors, academia and other global stakeholders to deliberate on shaping the future of finance.

The theme of GFF 2026 is “Potential to Impact: Agentic AI, Tokenisation, Quantum - Trusted, Connected, Global Systems for Inclusive Finance.”

GFF 2026 has been designed as a convergence point for policy, regulation, technology, capital and industry on a common platform. It seeks to build on India’s leadership in digital payments and financial inclusion and move from potential to impact. The discussions will focus on how Agentic AI, programmable finance, quantum technologies and other critical and emerging technologies can create trusted, inclusive and measurable outcomes for citizens, enterprises and economies globally.