‘‘شمال مشرق اور منی پورنے کھیل کود سے متعلق ملک کی روایت کو آگے لیجانے میں خاطرخواہ تعاون کیاہے’’
‘‘شمال مشرقی خطہ، ملک کی ثقافتی گوناگونیت میں نئی کیفیات کا اضافہ کررہاہے اورملک کے کھیل کود سے متعلق تنوع میں نئی جہتیں فراہم کررہاہے ’’
‘‘کوئی بھی ‘‘چنتن شیور’’ ارادہ اورنیت کے ساتھ شروع ہوتاہے ، غوروخوض اور سوچ بچار کے ساتھ آگے بڑھتاہے اورعمل آور ی کے ساتھ اختتام پذیرہوتاہے ’’
‘‘آپ کو ہرٹورنامنٹ کے مطابق کھیل کود سے متعلق بنیادی ڈھانچہ اور کھیل کود کی تربیت فراہم کرنے پرتوجہ مرکوز کرنی ہوگی ۔ آپ کوقلیل مدتی ،وسط مدتی اور طویل مدتی اہداف بھی مقررکرنے ہوں گے ’’
‘‘کھیلوں کے بنیادی ڈھانچہ سے متعلق 400 کروڑروپے سے زیادہ مالیت کے پروجیکٹس ، آج شمال مشرق کی ترقی کو ایک نئی سمت عطاکررہے ہیں ’’

پروگرام میں شرکت کر رہے ہیں کابینہ کے میرے  ساتھی انوراگ ٹھاکر جی، تمام ریاستوں کے نوجوانوں کے امور اور کھیلوں کے وزرا، دیگر معزز خواتین و حضرات،

مجھے خوشی ہے کہ اس سال ملک کے کھیلوں  کے وزراء کی یہ کانفرنس،’ چنتن شیویر منی پور کی سرزمین پر منعقد ہو رہی ہے۔ شمال مشرق کے کئی کھلاڑیوں نے ترنگے کی شان بڑھائی ہے اور ملک کے لیے تمغے حاصل کئے ہیں ۔شمال مشرقی اور منی پور نے ملک کی کھیلوں کی روایت کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔یہاں کے مقامی کھیل، جیسے سگول کانگجئی ، تھانگ تا، یوبی لاکپی، مُکنا اور ہیانگ تان با، اپنے آپ میں نہایت پرکشش  کھیل ہیں۔ مثال کے طور پر، جب ہم منی پور کے او-لوابی کو دیکھتے ہیں، تو ہمیں اس میں کبڈی کی جھلک نظر آتی ہے۔یہاں کی ہیانگ تان با کیرالہ کی کشتی دوڑ کی ایک یاد دلاتا ہے اورپولو کا بھی  منی پور کے ساتھ تاریخی تعلق ہے۔ یعنی جس طرح شمال مشرق ملک کے ثقافتی تنوع میں نئے رنگ بھرتا ہے، اسی طرح یہ ملک کے کھیلوں کے تنوع کو بھی نئی جہت دیتا ہے۔مجھے امید ہے کہ پورے ملک کے کھیلوں کےوزیر منی پور سے بہت کچھ سیکھ کر واپس جائیں گے۔ اور مجھے یقین ہے کہ منی پور کے لوگوں کی گرمجوشی اور مہمان نوازی آپ کے قیام کو مزید خوشگوار بنا دے گی۔ میں اس چنتن شیویر میں حصہ لینے والے تمام کھیلوں کے وزراء اور دیگر معززشخصیات کا خیرمقدم کرتا ہوں اورانہیں  مبارکباد پیش کرتا ہوں۔

ساتھیوں،

کوئی بھی چنتن شیویریعنی  مراقبہ سے متعلق کیمپ غور و فکر کے ساتھ شروع ہوتا ہے،غور و فکر کے ساتھ ہی  آگے بڑھتا ہے اور عمل آوری پر ختم ہوتا ہے۔ یعنی پہلے غور و فکر، پھر احساس اور پھر عمل کانفاذ ۔ لہٰذا، اس چنتن شیویر میں، آپ کو مستقبل کے اہداف پرتو بات چیت کرنی ہی ہے اور  ساتھ ہی ساتھ پچھلی کانفرنسوں کا جائزہ بھی لینا ہے۔آپ سب کو یاد ہوگا، اس سے قبل جب ہم 2022 میں کیوڑیا میں ملے تھے، بہت سے اہم مسائل پر بات چیت ہوئی تھی۔ ہم نے مستقبل کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک خاکہ وضع کرنے اور کھیلوں کی بہتری کے لیے ایک ماحولیاتی نظام تشکیل دینے سے اتفاق کیا تھا۔ ہم نے کھیلوں کے شعبے میں مرکزی حکومت اور ریاستوں کے درمیان شراکت  داری بڑھانے کی بات کہی تھی۔ اب امپھال میں آپ سبھی  کو دیکھنا چاہیے کہ ہم نے اس سمت میں کتنی ترقی کی ہے۔اور میں آپ کو یہ بھی بتانا چاہوں گا کہ یہ جائزہ محض پالیسیوں اور پروگراموں کی سطح پر نہیں ہونا چاہیے۔ بلکہ یہ نظر ثانی بنیادی ڈھانچے کے فروغ اور پچھلے ایک سال کی کھیلوں کی کامیابیوں پر بھی ہونا چاہیے۔

ساتھیوں،

یہ بات  سچ ہے کہ پچھلے ایک سال میں بھارتی ایتھلٹس اور کھلاڑیوں نے کئی بین الاقوامی کھیلوں کے مقابلوں میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ ہمیں  ان کامیابیوں کا جشن منانے کے ساتھ ساتھ اس بات پر بھی غور و فکر کرنا ہوگاکہ ہم اپنے کھلاڑیوں کی اور زیادہ کیسے مدد کرسکتے ہیں ۔ آئندہ وقت میں اسکواش ورلڈ کپ، ہاکی ایشین چیمپئنز ٹرافی، ایشین یوتھ اینڈ جونیئر ویٹ لفٹنگ چیمپئن شپ،جیسے کھیلوں میں آپ کی وزارت اور آپ کے محکموں کی تیاریوں کو اس طرح کے پروگراموں میں آزمایا جائے گا۔یہ ٹھیک ہے کہ ایک طرف تو کھلاڑی اپنی تیاریاں کررہے ہیں لیکن اب ہماری وزارتوں کو بھی کھیلوں کے ٹورنامنٹس کے حوالے سے مختلف انداز سے کام کرنا ہو گا۔ جس طرح فٹ بال اور ہاکی جیسے کھیلوں میں انسان سےانسان  کی  مارکنگ ہوتی ہے، اسی طرح آپ سب کو میچ ٹو میچ مارکنگ کرنی ہوگی ، ہر ٹورنامنٹ کے لیے مختلف حکمت عملیاں تیار کرنی ہوں گی ۔آپ کو ہر ٹورنامنٹ کے مطابق کھیلوں کے بنیادی ڈھانچے، کھیلوں کی تربیت پر توجہ دینی ہوگی۔آپ کو قلیل مدتی، وسط مدتی اور طویل مدتی اہداف کا بھی فیصلہ کرنا ہوگا۔

ساتھیوں،

کھیلوں کی ایک اور خصوصیت  ہوتی ہے ۔ اکیلے کوئی  کھلاڑی مسلسل پریکٹس کر کے فٹنس  توحاصل کر سکتا ہے لیکن بہترین کارکردگی کے لیے اس کا مسلسل کھیلنا بھی ضروری ہے۔ لہذا یہ بھی ضروری ہے کہ مقامی سطح پر زیادہ سے زیادہ مقابلے، کھیلوں کے ٹورنامنٹس ہوں۔ کھلاڑیوں کو بھی اس سے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملے گا۔ بطور وزیر کھیل آپ کو اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ کھیل کے کسی بھی ہنر کو نظر انداز نہ کیا جائے۔

ساتھیوں،

یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے ملک کے ہر باصلاحیت کھلاڑی کو کھیلوں کا معیاری بنیادی ڈھانچہ فراہم کریں۔ اس کے لیے مرکزی حکومت اور ریاستی حکومت کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ کھیلو انڈیا اسکیم سے یقینی طور پر ضلع سطح پر کھیلوں کے بنیادی ڈھانچے میں بہتری آئی ہے۔ لیکن اب ہمیں اس کوشش کو بلاک سطح تک لے جانا ہوگا۔ اس میں نجی شعبے سمیت تمام متعلقہ فریقوں کی شرکت ضروری ہے۔ایک موضوع نیشنل یوتھ فیسٹیول کا بھی ہے اسے مزید مؤثر بنانے کے لیے اس پر دوبارہ غور کرنا چاہیے۔ اس طرح کے پروگرام جو ریاستوں میں منعقد ہوتے ہیں محض رسمی نہ بنے ، اس بات کو بھی  دیکھاجانا چاہیے۔ جب اس طرح کی ہمہ جہت  کوششیں ہوں گی، تب ہی بھارت خود کو کھیلوں کے ایک سرکردہ ملک کے طور پرمقام دلانے میں کامیاب ہوگا۔

ساتھیوں،

آج شمال مشرق میں کھیلوں کے حوالے سے جو کام ہو رہا ہے وہ بھی آپ کے لیے  تحریک دینے کا ایک بڑاوسیلہ ہے۔ کھیلوں کے بنیادی ڈھانچے سے متعلق 400 کروڑ سے زیادہ کے پروجیکٹ آج شمال مشرق کے فروغ کو ایک نئی سمت دے رہے ہیں۔امپھال کی  کھیلوں سے متعلق قومی یونیورسٹی آئندہ وقت میں ملک کے نوجوانوں کو نئے مواقع فراہم کرے گی۔ کھیلو انڈیا اسکیم اور ٹاپس جیسی کوششوں نے اس میں بڑا کردار ادا کیا ہے۔ شمال مشرق کے ہر ضلع میں کم از کم 2 کھیلو انڈیا سینٹرز اور ہر ریاست میں کھیلو انڈیا اسٹیٹ سینٹر آف ایکسی لینس قائم کیے جا رہے ہیں۔ یہ کوششیں کھیلوں کی دنیا میں ایک نئے بھارت کی بنیاد بنیں گی، ملک کو ایک نئی شناخت دیں گی۔ آپ کو اپنی متعلقہ ریاستوں میں بھی اس طرح کے  کاموں کو تیز کرنا ہوگا۔ مجھے یقین ہے کہ یہ چنتن شیویر اس سمت میں اہم کردار ادا کرے گا۔ اس یقین کے ساتھ، آپ سب کا بہت شکریہ!

 

Explore More
لال قلعہ کی فصیل سے 77ویں یوم آزادی کے موقع پر وزیراعظم جناب نریندر مودی کے خطاب کا متن

Popular Speeches

لال قلعہ کی فصیل سے 77ویں یوم آزادی کے موقع پر وزیراعظم جناب نریندر مودی کے خطاب کا متن
A Leader for a New Era: Modi and the Resurgence of the Indian Dream

Media Coverage

A Leader for a New Era: Modi and the Resurgence of the Indian Dream
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Srinagar Viksit Bharat Ambassadors Unite for 'Viksit Bharat, Viksit Kashmir'
April 20, 2024

Srinagar hosted a momentous gathering under the banner of the Viksit Bharat Ambassador or VBA 2024. Held at the prestigious Radisson Collection, the event served as a unique platform, bringing together diverse voices and perspectives to foster the nation's collective advancement towards development.

Graced by the esteemed presence of Union Minister Shri Hardeep Singh Puri as the Chief Guest, the event saw the attendance of over 400 distinguished members of society, representing influencers, industry stalwarts, environmentalists, and young minds, including first-time voters. Presidents of Chambers of Commerce, Federation of Kashmir Industrial Corporation, House Boat Owners Association, and members of the writers' association were also present.

The VBA 2024 meetup began with an interesting panel discussion on Viksit Kashmir, which focused on the symbiotic relationship between industry growth and sustainable development. This was followed by an interactive session by Minister Puri, who engaged with the attendees through an engaging presentation. Another event highlight was the live doodle capture by a local artist of the discussions.

Union Minister Hardeep Singh Puri discussed how India has changed in the last decade. He said India is on track to become one of the world's top three economies, surpassing Germany and Japan soon.

 

"The country is set to surpass Germany and Japan and will become the world's third-largest economy by 2027-28," he said.

 

According to official estimates, India's economy is projected to reach a remarkable $40 trillion by 2040. Presently, the economy stands at approximately $3.5 trillion.

He also stressed that India's progress is incomplete without a developed Kashmir.

 

"Bharat cannot be Viksit without a Viksit Kashmir," he said.

Hardeep Puri reflected on India's economic journey, noting that in the 1700s, India contributed a significant 25% to the global GDP. However, as experts documented, this figure gradually dwindled to a mere 2% by 1947.

 

He highlighted how India, once renowned as the 'sone ki chidiya' (golden bird), lost its economic strength during British colonial rule and continued to struggle even after gaining independence, remaining categorized under the 'Fragile Five' until 2014.

 

Puri emphasized that the true shift in India's economic trajectory commenced under the Modi government. Over the past decade, the nation has ascended from among the top 11 economies to ranking among the top 5 globally.

The Union Minister also encouraged everyone to participate in the Viksit Bharat 2047 mission, emphasizing that achieving this dream requires the active engagement and coordination of all "ambassadors" of change.

He highlighted India's rapid progress in metro network development, stating that the operational metro network spans approximately 950 kilometres. He expressed confidence that within the next 2-3 years, India's metro network will expand to become the second-largest globally, surpassing that of the United States.

 

Regarding Jammu and Kashmir, he mentioned that through the Smart project, over 68 projects totalling Rs 6,800 crores were conceptualized, with Rs 3,200 crores worth of projects already completed.

 

He further stated that Jammu and Kashmir possesses more potential than Switzerland but has faced setbacks due to man-made crises. He emphasized the Modi government's dedication to the comprehensive development of the region.

The minister highlighted a significant government policy shift from women-centred to women-led development. Drawing from his extensive experience as a diplomat spanning 39 years, he shared that when a country transitions to women-led development, there is typically a substantial GDP increase of 20-30%. 

He mentioned that the government is actively pursuing this objective, citing examples such as the Awas Yojana, where houses are registered in the names of women household members, and the implementation of 33% reservation for women in elected bodies as part of this broader mission. 

He also provided insight into the transformative impact of the Modi government's welfare policies on people's lives. He highlighted the Ujjwala Yojana, noting that 32 crore individuals have received LPG cylinders, a significant increase from the 14 crore connections in 2014. Additionally, he mentioned the expansion of the gas pipeline network, which has grown from 14,000 km to over 20,000 km over the past ten years.

The Vision of Viksit Bharat: 140 crore dreams, 1 purpose 

The Viksit Bharat Ambassador movement aims to encourage citizens to take responsibility for contributing to India's development. VBA meet-ups and events are being organized in various parts of the country to achieve this goal. These events provide a platform for participants to engage in constructive discussions, exchange ideas, and explore practical strategies for contributing to the movement.

Join the movement on the NaMo App: https://www.narendramodi.in/ViksitBharatAmbassador

The NaMo App: Bridging the Gap

Prime Minister Narendra Modi's app, the NaMo App, is a digital bridge that empowers citizens to participate in the Viksit Bharat Ambassador movement. The NaMo App serves as a one-stop platform for individuals to:

Join the cause: Sign up and become a Viksit Bharat Ambassador and make 10 other people

Amplify Development Stories: Access updates, news, and resources related to the movement.

Create/Join Events: Create and discover local events, meet-ups, and volunteer opportunities.

Connect/Network: Find and interact with like-minded individuals who share the vision of a developed India.

The 'VBA Event' section in the 'Onground Tasks' tab of the 'Volunteer Module' of the NaMo App allows users to stay updated with the ongoing VBA events.