دنیا کوہندوستان پر اعتماد ہے، دنیا کو ہندوستان پر یقین ہے اور دنیا ہندوستان کے ساتھ مل کر سیمی کنڈکٹر کا مستقبل سنوارنے کے لیے تیار ہے: وزیراعظم
چِپس ڈیجیٹل ہیرے ہیں: وزیراعظم
کاغذی کام جتنا کم ہوگا، اتنی ہی جلدی سے ویفر کا کام شروع ہوسکے گا: وزیراعظم
ہندوستان کی معمولی سی چِپ بہت جلد دنیا کی سب سے بڑی تبدیلی کا محرک بنے گی: وزیراعظم
و ہ دن دورنہیں جب دنیا یہ کہےگی – ہندوستان کا ڈیزائن، ہندوستان کی ساختہ، دنیا کے لیے قابل اعتماد: وزیر اعظم

مرکزی کابینہ میں میرے ساتھی اشونی ویشنو جی ، دہلی کی وزیر اعلی ریکھا گپتا جی ، اڈیشہ کے وزیر اعلی موہن چرن ماجھی جی ، مرکزی وزیر مملکت جیتین پرساد جی ، ایس ای ایم آئی کے صدر اجیت منوچا جی ، ہندوستان اور بیرون ملک سے سیمی کنڈکٹر صنعت کے سی ای اوز  اور ان کے ساتھی ، مختلف ممالک سے یہاں آئے  ہمارے  معزز مہمان ، اسٹارٹ اپس سے وابستہ کاروباری افراد  اورمختلف ریاستوں کے میرے نوجوان  طلباء دوست ، خواتین اور معزز افراد!

ابھی کل رات ہی میں جاپان اور چین کے اپنے دورے سے واپس آیا ہوں ۔   میں آگیا ہوں اس لیے آپ تالی بجا کر میرا استقبل کر رہے ہیں یا اس لیے کی میں وہاں گیا تھا ؟   اور آج میں آپ کے درمیان یشو بھومی کے اس ہال میں موجود ہوں ، جو امنگوں اور اعتماد سے بھرا ہوا ہے ۔  جیسا کہ آپ سب جانتے ہیں ، مجھے ٹیکنالوجی کا فطری  طور پرشوق ہے ۔  حال ہی میں ، جاپان کے اپنے دورے کے دوران ، مجھے جاپان کے وزیر اعظم شیگیرو اشیبا سین کے ساتھ ٹوکیو الیکٹران فیکٹری کا دورہ کرنے کا موقع ملا ۔  اور ان کے سی ای او بھی ابھی ہمیں بتا رہے تھے کہ مودی صاحب آ گئے ہیں ۔

 

دوستوں ،

ٹیکنالوجی میں میری یہ دلچسپی مجھے بار بار آپ کے درمیان لاتی ہے ۔  اس لیے آج بھی میں آپ کے درمیان آکر بہت خوش ہوں ۔

دوستوں ،

دنیا بھر سے سیمی کنڈکٹر سے وابسطہ ماہرین  یہاں موجود ہیں ، 40-50 سے زیادہ ممالک کے نمائندگان یہاںموجود ہیں  اور ہندوستان کی اختراع اور نوجوانوں کی طاقت بھی یہاں نظر آ رہی ہے    اور  یہ جو امتزاج تشکیل دیا گیا ہے اس کا صرف ایک ہی پیغام ہے-دنیا ہندوستان پر بھروسہ کرتی ہے ، دنیا ہندوستان پر یقین رکھتی ہے ، اور دنیا ہندوستان کے ساتھ سیمی کنڈکٹر کا مستقبل بنانے کے لیے تیار ہے ۔

سیمیکون انڈیا میں آنے والے آپ تمام معزز مہمان  کا میں خیر مقدم کرتا ہوں ۔  آپ سب ترقی یافتہ ہندوستان کے سفر میں ، خود کفیل ہندوستان کے سفر میں ہمارے بہت اہم شراکت دار ہیں ۔

دوستوں ،

ابھی کچھ دن پہلے ہی اس سال کی پہلی سہ ماہی کے مجموعی گھریلو پیداوار  (جی ڈی پی) کے اعداد  وشمار جاری کیے گئے تھے ۔  ایک بار پھر ہندوستان نے ہر امید ، ہر توقع ، ہر تشخیص سے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے ۔  ایک طرف ، جب دنیا بھر کی معیشتوں میں خدشات ہیں اور معاشی خود غرضی سے پیدا ہونے والے چیلنجز ہیں ، تو اس صورت حال میں بھی  ہندوستان نے 7.8 فیصد کی ترقی حاصل کی ہے ۔  اور یہ ترقی ہر شعبے میں ہے ، مینوفیکچرنگ ، سروسز ، زراعت  اور تعمیرات وغیرہ۔  جوش و خروش ہر جگہ نظر آتا ہے ۔  آج ہندوستان جس رفتار سے ترقی کر رہا ہے ، اس سے ہم سب میں ، صنعت میں ، ملک کے ہر شہری میں نئی توانائی پیدا ہو رہی ہے ۔  یہ ترقی کی سمت ہے ، جو یقینی طور پر ہندوستان کو تیسری سب سے بڑی معیشت بنانے کی طرف تیزی سے آگے بڑھے گی ۔

 

دوستوں ،

سیمی کنڈکٹر کی دنیا میں ایک کہی جاتی ہے ، تیل سیاہ سونا تھا ، لیکن چپس ڈیجیٹل ہیرے ہیں ۔  ہماری پچھلی صدی تیل سے تشکیل پائی تھی۔   دنیا کی قسمت کا تعین تیل کے کنوؤں سے ہوتا تھا ۔  عالمی معیشت میں اتار چڑھاؤ اس بات پر منحصر ہے کہ ان تیل کے کنوؤں سے کتنا پٹرولیم پیدا ہوتا ہے ۔  لیکن اکیسویں صدی کی طاقت ایک چھوٹی چپ تک محدود رہی ہے ۔  یہ چپس چھوٹے ہو سکتے ہیں ، لیکن ان میں دنیا کی ترقی کو بڑا فروغ دینے کی طاقت ہے ۔  اور یہی وجہ ہے کہ آج سیمی کنڈکٹر کا عالمی بازار 600 ارب ڈالر تک پہنچ رہا ہے ۔  اور اگلے چند سالوں میں یہ ایک کھرب ڈالر سے تجاوز کر جائے گا ۔  اور مجھے یقین ہے کہ جس رفتار سے ہندوستان سیمی کنڈکٹر کے شعبے میں ترقی کر رہا ہے ، اس ایک ٹریلین مارکیٹ شیئر میں ہندوستان کا نمایاں حصہ بننے والا ہے ۔

دوستوں ،

میں آپ کے سامنے یہ بھی پیش کرنا چاہتا ہوں کہ ہندوستان کی رفتار کتنی ہے ۔  سال 2021 میں ، ہم نے  سیمی کون انڈیا پروگرام شروع کیا ، سال 2023 تک ، ہندوستان کے پہلے سیمی کنڈکٹر پلانٹ کو منظوری دی گئی ۔  سال 2024 میں ہم نے کچھ اور پلانٹس کو منظوری دی ، سال 2025 میں ہم نے مزید 5 پروجیکٹوں کو منظوری دی ۔  مجموعی طور پر ،  10 سیمی کنڈکٹر پروجیکٹوں میں اٹھارہ بلین ڈالر یعنی ڈھیڑ لاکھ کروڑ روپے  سے زیادہ کی سرمایہ کاری کی جا رہی ہے ۔  یہ ہندوستان پر دنیا کے بڑھتے ہوئے اعتماد کو ظاہر کرتا ہے ۔

دوستوں ،

آپ جانتے ہیں ، سیمی کنڈکٹر میں رفتار اہمیت رکھتی ہے ۔  فائل سے فیکٹری تک کا وقت جتنا کم ہوگا ، کاغذی کارروائی اتنی ہی کم ہوگی ، ویفر کا کام اتنی ہی جلدی شروع ہو سکے گا ۔  ہماری حکومت اسی نقطہ نظر سے کام کر رہی ہے ۔  ہم نے نیشنل سنگل ونڈو سسٹم نافذ کیا ہے۔  اس کے ذریعے مرکز اور ریاستوں سے تمام منظوریاں ایک ہی پلیٹ فارم پر حاصل کی جا رہی ہیں ۔  اس نے ہمارے سرمایہ کاروں کو بہت زیادہ کاغذی کارروائی سے آزاد کر دیا ہے ۔  آج ملک بھر میں سیمی کنڈکٹر پارک پلگ اینڈ پلے انفراسٹرکچر ماڈل پر بنائے جا رہے ہیں ۔  ان پارکوں میں زمین ، بجلی کی فراہمی ، بندرگاہیں ، ہوائی اڈے ، ان سب سے رابطہ اور ہنر مند ورکر پول جیسی سہولیات موجود ہیں   اور جب ان میں ترغیبات بھی شامل کی جائیں گی تو صنعت کا پھلنا پھولنا یقینی ہوگا ۔  چاہے وہ پی ایل آئی مراعات ہوں یا ڈیزائن سے منسلک گرانٹ ، ہندوستان ہر طرح کی صلاحیت اور سہولیات  کی پیش کش کر رہا ہے ۔  اس لیے سرمایہ کاری بھی مسلسل آ رہی ہے ۔  ہندوستان اب بیک اینڈ سے فل اسٹیک سیمی کنڈکٹر نیشن بننے کی طرف بڑھ رہا ہے ۔  وہ دن دور نہیں جب ہندوستان کی سب سے چھوٹی چپ دنیا کی سب سے بڑی تبدیلی لائے گی ۔ بلا شبہ ہمارا سفر دیر سے شروع ہوا لیکن اب ہمیں کوئی نہیں روک سکتا ۔  مجھے بتایا گیا ہے کہ سی جی پاور کا پائلٹ پلانٹ 4-5 دن پہلے ہی  شروع ہوا ہے  یعنی  28 اگست سے  شروع ہوا ہے۔   کینز کا پائلٹ پلانٹ بھی کام شروع کرنے والا ہے ۔  مائکرون اور ٹاٹا کے ٹیسٹ چپس پہلے ہی تیار کیے جا رہے ہیں ۔  جیسا کہ میں پہلے کہہ چکا ہوں ، تجارتی چپس کی پیداوار اسی سال سے شروع ہو جائے گی ۔  اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سیمی کنڈکٹر کے شعبے میں ہندوستان کتنی تیزی سے ترقی کر رہا ہے ۔

 

دوستوں ،

ہندوستان میں سیمی کنڈکٹر کی کامیابی کی کہانی کسی ایک دائرہ یا کسی ایک ٹیکنالوجی تک محدود نہیں ہے ۔  ہم ایک مکمل ماحولیاتی نظام بنا رہے ہیں ، ایک ایسا ماحولیاتی نظام جہاں ڈیزائننگ ، مینوفیکچرنگ ، پیکیجنگ اور ہائی ٹیک ڈیوائسز ، سب کچھ یہاں ہندوستان میں دستیاب ہے ۔  ہمارا سیمی کنڈکٹر مشن صرف ایک  فیب یا ایک چپ بنانے تک محدود نہیں ہے ۔  ہم ایک سیمی کنڈکٹر ایکو سسٹم بنا رہے ہیں جو ہندوستان کو خود کفیل اور عالمی سطح پر مسابقتی بناتا ہے ۔

دوستوں ،

ہندوستان کے سیمی کنڈکٹر مشن کی ایک اور خاص خصوصیت ہے ۔  ہندوستان دنیا کی جدید ترین ٹیکنالوجی کے ساتھ اس شعبے میں آگے بڑھ رہا ہے ۔  یہ ہماری توجہ  اور محنت ہے کہ ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی ہندوستان میں بنی چپس سے نئی طاقت حاصل کرے ۔  نوئیڈا  اور بنگلور میں بنائے جانے والے ہمارے ڈیزائن سینٹر دنیا کے کچھ جدید ترین چپس بنانے پر کام کر رہے ہیں ۔  یہ وہ چپس ہیں جن میں اربوں ٹرانجسٹر جمع کیے جا رہے ہیں ۔  یہ چپس 21 ویں صدی کی عمیق ٹیکنالوجیز کو نئی طاقت دیں گے ۔

دوستوں ،

آج ہندوستان دنیا کے سیمی کنڈکٹر سیکٹر کو درپیش چیلنجوں پر مسلسل کام کر رہا ہے ۔  آج ہم شہروں میں فلک بوس عمارتیں اور شاندار ساختیاتی بنیادی ڈھانچہ دیکھتے ہیں ۔  اس طرح کے بنیادی ڈھانچے کی بنیاد اسٹیل ہے ۔  اور ہمارے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی بنیاد اہم معدنیات ہیں ۔  یہی وجہ ہے کہ ہندوستان آج نیشنل کریٹیکل منرل مشن پر کام کر رہا ہے ۔  ہم اپنے ملک میں نایاب معدنیات کی اپنی مانگ کو پورا کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں ۔  پچھلے چار سالوں میں ، ہم نے اہم معدنیات کے منصوبوں پر بڑے پیمانے پر کام کیا ہے ۔

 

دوستوں ،

ہماری حکومت سیمی کنڈکٹر سیکٹر کی ترقی میں اسٹارٹ اپس اور ایم ایس ایم ایز کے لیے بھی بہت اہم کردار دیکھتی ہے ۔  آج دنیا کے سیمی کنڈکٹر ڈیزائن صلاحیت میں ہندوستان کا حصہ 20 فیصد ہے ۔  ہندوستان میں نوجوان سیمی کنڈکٹر صنعت کا سب سے بڑا انسانی سرمایہ کارخانہ ہیں ۔  میں اپنے نوجوان کاروباریوں ، اختراع کاروں اور اسٹارٹ اپس سے کہنا چاہوں گا کہ آگے آئیں ، حکومت آپ کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر چل رہی ہے ۔  ڈیزائن سے منسلک ترغیبی اسکیم اور چپس ٹو اسٹارٹ اپ پروگرام آپ کے لیے ہیں ۔  حکومت ڈیزائن سے منسلک ترغیبی اسکیم کو بھی نئی شکل دینے جا رہی ہے ۔  ہماری کوشش اس شعبے میں ہندوستانی دانشورانہ املاک (آئی پی) کو فروغ دینا ہے ۔  حال ہی میں شروع کیے گئے انوسندھان نیشنل ریسرچ فنڈ کے ساتھ معاہدہ کرنے سے بھی آپ کو مدد ملے گی ۔

دوستوں ،

کئی ریاستیں بھی یہاں  اس پروگرام میں حصہ لے رہی ہیں ، کئی ریاستوں نے سیمی کنڈکٹر سیکٹر کے لیے خصوصی پالیسیاں بنائی ہیں ، یہ ریاستیں اپنی ریاستوں میں خصوصی بنیادی ڈھانچے پر زور دے رہی ہیں ۔  میں ملک کی تمام ریاستوں سے بھی درخواست کرنا چاہوں گا کہ وہ اپنی ریاستوں میں سیمی کنڈکٹر ایکو سسٹم کو فروغ دینے اور اپنی ریاستوں میں سرمایہ کاری کے ماحول کو بڑھانے کے لیے دیگر ریاستوں کے ساتھ صحت مند مقابلہ کریں ۔

 

دوستوں ،

اصلاح ، کارکردگی اور تبدیلی کے منتر پر چل کر ہندوستان یہاں پہنچا ہے ۔  آنے والے وقت میں ہم اگلی نسل کی اصلاحات کا ایک نیا مرحلہ شروع کرنے جا رہے ہیں ۔  ہم انڈیا سیمی کنڈکٹر مشن کے اگلے مرحلے پر بھی کام کر رہے ہیں ۔  میں یہاں موجود تمام سرمایہ کاروں کو بتانا چاہوں گا کہ ہم کھلے دل سے آپ کا استقبال کرنے کے لیے تیار ہیں   اور اگر میں آپ کی زبان میں کہوں ، ڈیزائن تیار ہے ، ماسک  ہم آہنگ  ہے ۔  اب درستگی کے ساتھ عمل درآمد کرنے اور  ایک پیمانے پر انجام دینے کا وقت ہے ۔  ہماری پالیسیاں قلیل مدتی اشارے نہیں ہیں ۔ وہ طویل مدتی وعدے ہیں ۔  ہم آپ کی ہر ضرورت کو پورا کریں گے ۔  وہ دن دور نہیں جب پوری دنیا کہے گی-ہندوستان میں ڈیزائن کیا گیا ، ہندوستان میں بنایا گیا  اور دنیا  نے اس پر بھروسہ کیا ۔  ہماری ہر کوشش کامیاب ہو ، ہر چیز اختراع سے بھرپور ہو  اور ہمارا سفر ہمیشہ غلطی سے پاک اور اعلی کارکردگی سے بھرپور ہو ۔  اسی جذبے کے ساتھ  میں  آپ سب کو نیک خواہشات پیش کرتا ہوں!

آپ کا بہت بہت شکریہ!

 

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
India's electronics exports cross $47 billion in 2025 on iPhone push

Media Coverage

India's electronics exports cross $47 billion in 2025 on iPhone push
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
List of Outcomes: Visit of His Highness Sheikh Mohamed bin Zayed Al Nahyan, President of UAE to India
January 19, 2026
S.NoAgreements / MoUs / LoIsObjectives

1

Letter of Intent on Investment Cooperation between the Government of Gujarat, Republic of India and the Ministry of Investment of the United Arab Emirates for Development of Dholera Special Investment region

To pursue investment cooperation for UAE partnership in development of the Special Investment Region in Dholera, Gujarat. The envisioned partnership would include the development of key strategic infrastructure, including an international airport, a pilot training school, a maintenance, repair and overhaul (MRO) facility, a greenfield port, a smart urban township, railway connectivity, and energy infrastructure.

2

Letter of Intent between the Indian National Space Promotion and Authorisation Centre (IN-SPACe) of India and the Space Agency of the United Arab Emirates for a Joint Initiative to Enable Space Industry Development and Commercial Collaboration

To pursue India-UAE partnership in developing joint infrastructure for space and commercialization, including launch complexes, manufacturing and technology zones, incubation centre and accelerator for space start-ups, training institute and exchange programmes.

3

Letter of Intent between the Republic of India and the United Arab Emirates on the Strategic Defence Partnership

Work together to establish Strategic Defence Partnership Framework Agreement and expand defence cooperation across a number of areas, including defence industrial collaboration, defence innovation and advanced technology, training, education and doctrine, special operations and interoperability, cyber space, counter terrorism.

4

Sales & Purchase Agreement (SPA) between Hindustan Petroleum Corporation Limited, (HPCL) and the Abu Dhabi National Oil Company Gas (ADNOC Gas)

The long-term Agreement provides for purchase of 0.5 MMPTA LNG by HPCL from ADNOC Gas over a period of 10 years starting from 2028.

5

MoU on Food Safety and Technical requirements between Agricultural and Processed Food Products Export Development Authority (APEDA), Ministry of Commerce and Industry of India, and the Ministry of Climate Change and Environment of the United Arab Emirates.

The MoU provides for sanitary and quality parameters to facilitate the trade, exchange, promotion of cooperation in the food sector, and to encourage rice, food products and other agricultural products exports from India to UAE. It will benefit the farmers from India and contribute to food security of the UAE.

S.NoAnnouncementsObjective

6

Establishment of a supercomputing cluster in India.

It has been agreed in principle that C-DAC India and G-42 company of the UAE will collaborate to set up a supercomputing cluster in India. The initiative will be part of the AI India Mission and once established the facility be available to private and public sector for research, application development and commercial use.

7

Double bilateral Trade to US$ 200 billion by 2032

The two sides agreed to double bilateral trade to over US$ 200 billion by 2032. The focus will also be on linking MSME industries on both sides and promote new markets through initiatives like Bharat Mart, Virtual Trade Corridor and Bharat-Africa Setu.

8

Promote bilateral Civil Nuclear Cooperation

To capitalise on the new opportunities created by the Sustainable Harnessing and Advancement of Nuclear Energy for Transforming India (SHANTI) Act 2025, it was agreed to develop a partnership in advance nuclear technologies, including development and deployment of large nuclear reactors and Small Modular Reactors (SMRs) and cooperation in advance reactor systems, nuclear power plant operations and maintenance, and Nuclear Safety.

9

Setting up of offices and operations of UAE companies –First Abu Dhabi Bank (FAB) and DP World in the GIFT City in Gujarat

The First Abu Dhabi Bank will have a branch in GIFT that will promote trade and investment ties. DP World will have operations from the GIFT City, including for leasing of ships for its global operations.

10

Explore Establishment of ‘Digital/ Data Embassies’

It has been agreed that both sides would explore the possibility of setting up Digital Embassies under mutually recognised sovereignty arrangements.

11

Establishment of a ‘House of India’ in Abu Dhabi

It has been agreed in Principle that India and UAE will cooperate on a flagship project to establish a cultural space consisting of, among others, a museum of Indian art, heritage and archaeology in Abu Dhabi.

12

Promotion of Youth Exchanges

It has been agreed in principle to work towards arranging visits of a group of youth delegates from either country to foster deeper understanding, academic and research collaboration, and cultural bonds between the future generations.