ہماری کوشش نوجوانوں کو ان مہارتوں کے ساتھ بااختیار بنانا ہے جو انہیں خود انحصار بناتی ہیں اور ہندوستان کو عالمی اختراعی مرکز کے طور پر قائم کرتی ہیں: وزیر اعظم
ہم 21 ویں صدی کی ضروریات کے مطابق ملک کے تعلیمی نظام کو جدید بنا رہے ہیں: وزیر اعظم
ملک میں ایک نئی قومی تعلیمی پالیسی متعارف کرائی گئی ہے ، یہ تعلیم کے عالمی معیارات کے مدنظر تیار کی گئی ہے:وزیر اعظم
ون نیشن ، ون سبسکرپشن نے نوجوانوں کو یہ اعتماد دیا ہے کہ حکومت ان کی ضروریات کو سمجھتی ہے ، آج اعلی تعلیم حاصل کرنے والے طلباء کو عالمی معیار کے تحقیقی جرائد تک آسان رسائی حاصل ہے: وزیر اعظم
ہندوستان کی یونیورسٹیوں کے کیمپس متحرک مراکز کے طور پر ابھر رہے ہیں جہاں یووا شکتی اختراعات کو آگے بڑھا رہی ہے: وزیر اعظم
صلاحیت ، مزاج اور ٹیکنالوجی کی تثلیث ہندوستان کے مستقبل کو بدل دے گی: وزیر اعظم
یہ نہایت اہم ہے کہ خیال سے لے کر پروٹوٹائپ تیار کرنے اور پھر مکمل مصنوعات تک کا سفر کم سے کم وقت میں طے کیا جائے: وزیر اعظم
ہم میک اے آئی ان انڈیا کے وژن پر کام کر رہے ہیں ، اور ہمارا ہدف- آئی (انڈیا)کے لئے میک اے آئی ہے: وزیر اعظم

مرکزی وزیر تعلیم جناب دھرمیندر پردھان جی، ڈاکٹر جتیندر سنگھ جی، جناب جینت چودھری جی، ڈاکٹر سکانتا مجمدار جی، ٹیکنالوجی کے ذریعے جڑے میرے دوست جناب رومیش وادھوانی جی، ڈاکٹر اجے کیلا جی، سائنس اور ٹیکنالوجی اور تعلیمی دنیا سے وابستہ آپ سبھی دوست، پروگرام میں موجود دیگر معززین، خواتین و حضرات!

آج حکومت، ماہرین تعلیم، سائنس اور تحقیق سے متعلق مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگ اتنی بڑی تعداد میں یہاں موجود ہیں۔ یہ اتحاد، یہ سنگم، اسی کو امتزاج کہتے ہیں۔ایک  ایسا امتزاج، جس میں ترقی یافتہ ہندوستان کے مستقبل کی ٹیک سے متعلق اسٹیک ہولڈرز ایک ساتھ جڑے اور متحد ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ یہ ایونٹ ان کوششوں کو مزید تقویت بخشے گا،  جو ہم ہندوستان کی اختراعی صلاحیت اور ڈیپ ٹیک میں ہندوستان کے کردار کو بڑھانے کے لیے کر رہے ہیں۔ آج، آئی آئی ٹی کانپور اور آئی آئی ٹی بامبے میں اے آئی، انٹیلی جنس سسٹمز اور بایو سائنس بایو ٹیکنالوجی ہیلتھ اینڈ میڈیسن کے سپر ہب شروع کیے جا رہے ہیں۔ وادھوانی انوویشن نیٹ ورک بھی آج شروع کیا گیا ہے۔ نیشنل ریسرچ فاؤنڈیشن کے تعاون سے تحقیق کو آگے بڑھانے کی قرارداد بھی پیش کی گئی ہے۔ میں اس کوشش کے لیے وادھوانی فاؤنڈیشن، آئی آئی ٹی اور دیگر تمام اسٹیک ہولڈرز کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ خاص طور پر میں اپنے دوست رومیش وادھوانی جی کی تعریف کرتا ہوں۔ آپ کی لگن اور فعالیت کے باعث نجی اور سرکاری شعبوں نے مل کر ملک کے تعلیمی نظام میں بہت سی مثبت تبدیلیاں کی ہیں۔

 

دوستو،

ہمارے صحیفوں میں کہا گیا ہے – پَرم پروپ کارارتھ یو جیوتی سا جیوتی یعنی جو اپنی زندگی دوسروں کی خدمت اور رحم دلی کے لیے وقف کرتا ہے، وہی حقیقی زندگی جیتا ہے۔ اس لیے ہم سائنس اور ٹیکنالوجی کو بھی خدمت کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ جب میں اپنے ملک میں وادھوانی فاؤنڈیشن جیسے اداروں کو دیکھتا ہوں، جب میں رومیش جی اور ان کی ٹیم کی کوششوں کو دیکھتا ہوں تو مجھے خوشی اور فخر محسوس ہوتا ہے کہ ہم ہندوستان میں سائنس اور ٹیکنالوجی کو صحیح سمت میں آگے لے جا رہے ہیں۔ ہم سب جانتے ہیں کہ رومیش جی نے اپنی زندگی بہت جدوجہد کے ساتھ گزاری ہے اور اسے خدمت کے لئے وقف کیا ہے۔ اپنی پیدائش کے فوراً بعد، جب وہ کچھ ہی دن کے تھے، تب تقسیم کی ہولناکیوں کا سامنا کرنا، ، اپنی جائے پیدائش سے نقل مکانی  پر مجبور ہونا، بچپن میں پولیو جیسی بیماری کا شکار ہونا اور ان مشکل حالات سے نکل کر اتنی بڑی کاروباری سلطنت بنانا، اپنے آپ میں ایک غیر معمولی اور متاثر کن زندگی کا سفر ہے اور تعلیم اور تحقیق کے شعبے میں اس کامیابی کو ہندوستان کے لوگوں، ہندوستان کی نوجوان نسل، ہندوستان کے روشن مستقبل کے لیے وقف کرنا اپنے آپ میں ایک متاثر کن مثال ہے۔وادھوانی فاؤنڈیشن اسکولی تعلیم، آنگن واڑی سے متعلق ٹیکنالوجی اور ایگری ٹیک میں بھی کافی کام کر رہا ہے۔ میں اس کے لیے اور اس سے پہلے بھی وادھوانی انسٹی ٹیوٹ آف آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے قیام کے موقع پرآپ سب کے درمیان موجود رہا ہوں۔ مجھے یقین ہے کہ وادھوانی فاؤنڈیشن آنے والے وقتوں میں ایسے اور بھی بہت سے سنگ میل طے کرتا رہےگا۔ میری نیک تمنائیں آپ کی تنظیم کے ساتھ ہیں، آپ کی پہل  قدمیوں کے ساتھ ہیں۔

 

دوستو،

کسی بھی ملک کا مستقبل اس کی نوجوان نسل پر منحصر ہوتا ہے۔ اس لیے یہ ضروری ہے کہ ہم اپنے نوجوانوں کو مستقبل اور ہندوستان کے روشن مستقبل کے لیے تیار کریں۔ اس میں ملک کے تعلیمی نظام کا بھی بڑا کردار ہے۔ اسی لیے ہم اکیسویں صدی کی ضروریات کے مطابق ملک کے تعلیمی نظام کو جدید بنا رہے ہیں۔ ملک میں نئی ​​قومی تعلیمی پالیسی متعارف کرادی گئی ہے۔ اسے تعلیم کے عالمی معیارات کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیا گیا ہے۔ نئی تعلیمی پالیسی کے متعارف ہونے کے بعد ہم ہندوستانی تعلیمی نظام میں بھی بڑی تبدیلیاں دیکھ رہے ہیں۔ قومی نصاب کا فریم ورک، لرننگ ٹیچنگ میٹریل اور پہلی جماعت سے ساتویں جماعت کی نئی نصابی کتابیں تیار کی گئی ہیں۔ پی ایم ای-وِدیا اور دیکشا پلیٹ فارم کے تحت  ون نیشن، ون ڈیجیٹل ایجوکیشن انفراسٹرکچر تیار کیا گیا ہے۔ یہ بنیادی ڈھانچہ اے آئی  پر مبنی ہےاور توسیع پذیر بھی ہے۔ اسے ملک کی 30 سے ​​زائد زبانوں اور 7 غیر ملکی زبانوں میں نصابی کتب کی تیاری کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔نیشنل کریڈٹ فریم ورک کے ذریعے طلباء کے لیے ایک ساتھ مختلف مضامین کا مطالعہ کرنا آسان ہو گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہندوستانی طلباء نے اب جدید تعلیم حاصل کرنا شروع کر دی ہے، ان کے کیریئر کے لیے نئی راہیں بن رہی ہیں۔ ہندوستان نے جو اہداف طے کیے ہیں ان کی سمت میں رفتار کو جاری رکھنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ ملک کے تحقیقی ماحولیاتی نظام کو مضبوط کیا جائے۔ پچھلی دہائی میں اس سمت میں تیزی سے کام ہوا ہے اور ضروری وسائل میں اضافہ کیا گیا ہے۔ 2014-2013 میں تحقیق  و ترقی  پر مجموعی اخراجات صرف 60 ہزار کروڑ روپے تھے۔ ہم نے اسے دوگنا سے بڑھا کر 1.25 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کر دیا ہے۔ ملک میں کئی جدید ترین ریسرچ پارکس بھی قائم کیے گئے ہیں۔ تقریباً 6 ہزار اعلیٰ تعلیمی اداروں میں ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ سیل قائم کیے گئے ہیں۔ ہماری کوششوں سے ملک میں اختراعی کلچر تیزی سے فروغ پا رہا ہے۔ بھارت میں 2014 میں تقریباً 40 ہزار پیٹنٹ فائل کئے گئے تھے، اب یہ تعداد بڑھ کر 80 ہزار سے زیادہ ہو گئی ہے۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ ملک کے نوجوانوں کو ہمارے دانشورانہ املاک کے ماحولیاتی نظام سے کتنی حمایت مل رہی ہے۔ ملک میں ریسرچ کلچر کو فروغ دینے کے لیے 50 ہزار کروڑ روپے کے نیشنل ریسرچ فاؤنڈیشن کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔ ون نیشن ون سبسکرپشن نے نوجوانوں کو یقین دلایا ہے کہ حکومت ان کی ضروریات کو سمجھتی ہے۔ آج اس اسکیم کی وجہ سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کو عالمی معیار کے تحقیقی جرائد تک آسانی سے رسائی حاصل ہے۔ ملکی ہنرمندوں کی ترقی میں کوئی رکاوٹ نہ آنے کو یقینی بنانے کے لیے پرائم منسٹر ریسرچ فیلو شپ کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔

 

دوستو،

انہی کوششوں کا نتیجہ ہے کہ آج کا نوجوان صرف تحقیق و ترقی میں ہی مہارت نہیں رکھتا بلکہ وہ خود بھی تحقیق و ترقی بن چکا ہے اور جب میں کہتا ہوں کہ وہ خود آر اینڈ ڈی ہے،تو میرا مطلب ہے – تیار اور مستعد! آج ہندوستان مختلف شعبوں میں تحقیق کے نئے سنگ میل طے کر رہا ہے۔ پچھلے سال، ہندوستان نے دنیا کا سب سے طویل ہائپر لوپ ٹیسٹ ٹریک شروع کیا۔ یہ 422 میٹر ہائپر لوپ آئی آئی ٹی مدراس میں ہندوستانی ریلوے کے تعاون سے تیار کیا گیا تھا۔ انڈین انسٹی ٹیوٹ آف سائنس(آئی آئی ایس سی) بنگلور کے سائنسدانوں نے ایک ایسی ٹیکنالوجی بھی تیار کی ہے جو روشنی کو نینو پیمانے پر کنٹرول کرتی ہے۔ خود آئی آئی ایس سی میں، محققین نے ‘برین آن چِپ’ ٹیکنالوجی تیار کی ہے۔‘برین آن چِپ’ یعنی  ایک مالیکیولر فلم کے اندر 16,000 سے زیادہ ترسیل کی حالت میں ہیں، جس میں ڈیٹا کو اسٹور کرنے اور پروسیس کرنے کی صلاحیت ہے! ابھی چند ہفتے قبل ملک نے پہلی دیسی ایم آر آئی مشین بھی بنا لی ہے۔ایسے بہت سے مثالی آر اینڈ ڈی  ہیں،  جو ہماری یونیورسٹیوں میں ہو رہے ہیں۔ یہ ترقی پذیر ہندوستان کی تیار، مستعد اور یکسر تبدیلی پر مبنی نوجوان طاقت ہے ۔

 

دوستو،

آج ہندوستان کے یونیورسٹی کیمپس نئے متحرک مراکز بن رہے ہیں۔ اس طرح کے مراکز جہاں نوجوانوں کی طاقت اہم اختراعات کو آگے بڑھا رہی ہے۔ حال ہی میں، ہائر ایجوکیشن امپیکٹ رینکنگ میں ہندوستان عالمی سطح پر سب سے زیادہ نمائندگی کرنے والا ملک تھا۔ 125 ممالک کے دو ہزار اداروں میں سے 90 سے زیادہ یونیورسٹیاں ہندوستان کی تھیں۔ 2014 میں، کیو ایس  عالمی درجہ بندی میں ہندوستان سے صرف 9 ادارے اور یونیورسٹیاں تھیں۔ 2025 میں یہ تعداد 46 تک پہنچ جائے گی۔ دنیا کے 500 اعلیٰ تعلیمی اداروں میں ہندوستانی اداروں کی تعداد بھی گزشتہ 10 سالوں میں تیزی سے بڑھی ہے۔ اب بیرون ملک ہمارے اہم اداروں کے کیمپس کھل رہے ہیں۔ ابوظہبی میں آئی آئی ٹی دہلی، تنزانیہ میں آئی آئی ٹی مدراس کے کیمپس کھولے گئے ہیں۔ دبئی میں آئی آئی ایم احمد آباد کا کیمپس کھولنے کی تیاریاں جاری ہیں اورایسا نہیں ہے کہ صرف ہمارے صرف اعلیٰ ادارے ہی باہر قدم رکھ رہے ہیں، بلکہ باہر کے بھی اعلیٰ ادارے بھارت آ رہے ہیں۔  بھارت میں دنیا کی اعلیٰ یونیورسٹیوں کے کیمپس کھلنا شروع ہو گئے ہیں۔ اس سے علمی تبادلے میں اضافہ ہوگا۔ تحقیق کے میدان میں تعاون بڑھے گا۔ ہمارے طالب علموں کو ایک دوسرے کی ثقافت کو سمجھنے کا موقع بھی ملے گا۔

 

دوستو،

ٹیلنٹ، مزاج اور ٹیکنالوجی کی تثلیث ہی ہندوستان کے مستقبل کو بدلے گی۔ اس کے لیے ہم  بچوں کو  بچپن میں ہی ضروری مواقع فراہم کرا رہے ہیں۔  ابھی ابھی ہمارے ساتھی دھرمیندر جی نے تفصیل سے بتایا، ہم نے اٹل ٹنکرنگ لیبز جیسے اقدامات کیے ہیں۔ اب تک ملک میں 10 ہزار اٹل ٹنکرنگ لیبز کھولی گئی ہیں۔ اس بجٹ میں حکومت نے مزید 50 ہزار اٹل ٹنکرنگ لیبز کھولنے کا اعلان کیا ہے۔ طلباء کو مالی مدد فراہم کرنے کے لیے پی ایم ودیا لکشمی یوجنا بھی شروع کی گئی ہے۔ اپنے طلباء کو اپنی تعلیم کو تجربے میں تبدیل کرنے کے قابل بنانے کے لیے، ہم نے 7 ہزار سے زائد اداروں میں انٹرنشپ سیل قائم کیے ہیں۔ آج نوجوانوں میں نئی ​​صلاحیتیں پیدا کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔ ان نوجوانوں کی قابلیت، مزاج اور ٹیکنالوجی کی یہ طاقت ہندوستان کو کامیابی کی چوٹی پر لے جائے گی۔

دوستو،

ہم نے ترقی یافتہ ہندوستان کے ہدف کو حاصل کرنے کے لیے اگلے 25 سال کا ٹائم فریم مقرر کیا ہے۔ ہمارے پاس وقت محدود ہے اور ہمارے مقاصد بڑے ہیں۔ میں یہ موجودہ حالات کے لیے نہیں کہہ رہا ہوں، اور اس لیے ضروری ہے کہ ہمارے آئیڈیا کا پروٹو ٹائپ سے پروڈکٹ تک کا سفر بھی کم سے کم وقت میں مکمل ہو۔ جب ہم لیب سے مارکیٹ تک کا فاصلہ کم کرتے ہیں تو تحقیق کے نتائج تیزی سے لوگوں تک پہنچتے ہیں۔ اس سے محققین کی حوصلہ افزائی بھی ہوتی ہے، ان کے کام کی ترغیب اور ان کی محنت ان تک پہنچتی ہے۔ اس سے تحقیق، جدت طرازی اور ویلیو ایڈیشن کا پہیہ مزید تیز ہو جاتا ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ہمارا پورا ریسرچ ایکو سسٹم، تعلیمی اداروں سے لے کر سرمایہ کاروں اور صنعت  تک، ہر کوئی محققین کے ساتھ کھڑا ہو اور ان کی رہنمائی کرے۔ صنعت کے رہنما ہمارے نوجوانوں کی رہنمائی کرکے، فنڈز کا بندوبست کرکے اور نئے حل تیار کرنے کے لیے مل کر کام کرکے اسے ایک قدم آگے بڑھا سکتے ہیں۔ لہذا، حکومت بھی قواعد کو آسان بنانے اور منظوریوں کو تیز کرنے کی کوششوں کو تیز کر رہی ہے۔

 

دوستو،

ہمیں  اے آئی، کونٹم کمپیوٹنگ، ایڈوانسڈ انالیٹکس، اسپیس ٹیک، ہیلتھ ٹیک، سنتھیٹک بایولوجی کومسلسل فروغ دینا ہوگا۔ آج ہم دیکھتے ہیں کہ ہندوستان اے آئی کی ترقی اور موافقت میں سرفہرست ممالک میں شامل ہے۔ اس کو وسعت دینے کے لیے حکومت نے انڈیا-اے آئی مشن کا آغاز کیا ہے۔ اس سے عالمی معیار کا بنیادی ڈھانچہ، اعلیٰ معیار کے ڈیٹا سیٹس اور تحقیقی سہولیات پیدا ہوں گی۔ ہندوستان میں اے آئی سینٹرز آف ایکسی لینس کی تعداد میں بھی اضافہ کیا جا رہا ہے۔ان سینٹرز آف ایکسیلنس کو ملک کے نامور اداروں، صنعتوں اور اسٹارٹ اپس کی جانب سے تیز کیا جا رہا ہے۔ ہم میک اے آئی ان انڈیا کے وژن پر کام کر رہے ہیں  اور ہمارا مقصد ہے –میک اے آئی ورک فار انڈیا۔ اس بار  کےبجٹ میں ہم نے آئی آئی ٹی میں سیٹوں کی تعداد اور گنجائش بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ میڈی ٹیک کے بہت سے کورسز یعنی میڈیکل پلس ٹیکنالوجی ملک میں آئی آئی ٹی اور ایمس کے تعاون سے شروع کیے گئے ہیں۔ ہمیں یہ سفر وقت پر مکمل کرنا ہے۔ ہمیں مستقبل کی ہر ٹیکنالوجی میں ہندوستان کو ‘بیسٹ اِن ورلڈ’  کی فہرست میں شامل کرنا ہے۔ امتزاج کے ذریعے ہم ان کوششوں کو نئی توانائی دے سکتے ہیں۔ وزارت تعلیم اور وادھوانی فاؤنڈیشن کے اس مشترکہ اقدام کے ذریعے ہم ملک کے اختراعی منظرنامے کو بدل سکتے ہیں۔ آج کا واقعہ اس میں بہت مدد کرے گا۔ میں یوگم پہل کے لیے ایک بار پھر وادھوانی فاؤنڈیشن کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ میں اپنے دوست رومیش جی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتا ہوں۔

 

دوستو،

ہمیں  اے آئی، کونٹم کمپیوٹنگ، ایڈوانسڈ انالیٹکس، اسپیس ٹیک، ہیلتھ ٹیک، سنتھیٹک بایولوجی کومسلسل فروغ دینا ہوگا۔ آج ہم دیکھتے ہیں کہ ہندوستان اے آئی کی ترقی اور موافقت میں سرفہرست ممالک میں شامل ہے۔ اس کو وسعت دینے کے لیے حکومت نے انڈیا-اے آئی مشن کا آغاز کیا ہے۔ اس سے عالمی معیار کا بنیادی ڈھانچہ، اعلیٰ معیار کے ڈیٹا سیٹس اور تحقیقی سہولیات پیدا ہوں گی۔ ہندوستان میں اے آئی سینٹرز آف ایکسی لینس کی تعداد میں بھی اضافہ کیا جا رہا ہے۔ان سینٹرز آف ایکسیلنس کو ملک کے نامور اداروں، صنعتوں اور اسٹارٹ اپس کی جانب سے تیز کیا جا رہا ہے۔ ہم میک اے آئی ان انڈیا کے وژن پر کام کر رہے ہیں  اور ہمارا مقصد ہے –میک اے آئی ورک فار انڈیا۔ اس بار  کےبجٹ میں ہم نے آئی آئی ٹی میں سیٹوں کی تعداد اور گنجائش بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ میڈی ٹیک کے بہت سے کورسز یعنی میڈیکل پلس ٹیکنالوجی ملک میں آئی آئی ٹی اور ایمس کے تعاون سے شروع کیے گئے ہیں۔ ہمیں یہ سفر وقت پر مکمل کرنا ہے۔ ہمیں مستقبل کی ہر ٹیکنالوجی میں ہندوستان کو ‘بیسٹ اِن ورلڈ’  کی فہرست میں شامل کرنا ہے۔ امتزاج کے ذریعے ہم ان کوششوں کو نئی توانائی دے سکتے ہیں۔ وزارت تعلیم اور وادھوانی فاؤنڈیشن کے اس مشترکہ اقدام کے ذریعے ہم ملک کے اختراعی منظرنامے کو بدل سکتے ہیں۔ آج کا واقعہ اس میں بہت مدد کرے گا۔ میں یوگم پہل کے لیے ایک بار پھر وادھوانی فاؤنڈیشن کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ میں اپنے دوست رومیش جی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتا ہوں۔

آپ کا بہت بہت شکریہ۔

نمسکار،

 

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
Engineering goods exports up 10.4% in January,2026, crosses $100 billion mark in April-January Period of FY26

Media Coverage

Engineering goods exports up 10.4% in January,2026, crosses $100 billion mark in April-January Period of FY26
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
PM to visit Tamil Nadu and Puducherry on 1st March
February 27, 2026
PM to inaugurate, dedicate to the Nation and lay the foundation stone of various development projects worth over Rs. 2,700 crore in Puducherry
Projects aimed at strengthening infrastructure, urban services, industrial development, education, healthcare and sustainable growth in Puducherry
PM to inaugurate, dedicate to nation and lay the foundation stone and inaugurate infrastructure projects worth over Rs. 4,400 crore in Madurai
PM to lay the foundation stone for four-laning of Marakkanam–Puducherry Section of NH-332A and the Paramakudi–Ramanathapuram Section of NH-87
PM to inaugurate 8 redeveloped railway stations in Tamil Nadu and dedicate to the nation Chennai Beach–Chennai Egmore 4th Line
PM to perform darshan and pooja at Arulmigu Subramaniyaswamy Temple at Tirupparankundram

Prime Minister Shri Narendra Modi will visit Tamil Nadu and Puducherry on 1st March 2026. After his visit to Rajasthan and Gujarat, Prime Minister will reach Chennai on 28th February night at around 9 PM.

On 1st March, at around 11:45 AM, Prime Minister will inaugurate, dedicate to the Nation and lay the foundation stone of various development projects worth over Rs. 2,700 crore in Puducherry. He will also address the gathering on the occasion.

Thereafter, he will travel to Madurai where, at around 3 PM, he will inaugurate, dedicate to the nation and lay the foundation stone of infrastructure projects worth over Rs. 4,400 crore. He will also address the gathering on the occasion. At around 4 PM, Prime Minister will perform darshan and pooja at Arulmigu Subramaniyaswamy Temple, Tirupparankundram in Madurai.

PM in Puducherry

Prime Minister will inaugurate, dedicate to the Nation and lay the foundation stone of multiple projects aimed at strengthening infrastructure, urban services, industrial development, education, healthcare and sustainable growth in Puducherry.

Prime Minister will inaugurate several key initiatives including the launch of e-Buses under the PM e-Bus Seva Initiative, the Integrated Command and Control Centre under the Smart City Mission, tenements for Economically Weaker Sections under City Investments to Innovate, Integrate and Sustain (CITIIS) initiative, and important sewerage and water supply sector projects of the Government of Puducherry. He will also inaugurate the Composite Engineering Block- Dr. APJ Abdul Kalam Block and Ganga Hostel of National Institute of Technology, Karaikal; the modernization of the Regional Cancer Centre at JIPMER; and new annexe buildings, lecture halls and hostels of Pondicherry University, further strengthening higher education and healthcare infrastructure in the region.

Prime Minister will dedicate to the nation the 750-acre Karasur-Sedarapet Industrial Estate, which will house a Pharma Park, Textile Park, IT Park, state-of-the-art research and development centre of IIT Madras and advanced healthcare facilities of JIPMER, thereby providing a major boost to industrial growth and employment generation in the region.

Prime Minister will lay the foundation stone of water supply projects to improve drinking water systems and ensure clean and safe water for residents of Puducherry region. He will also lay the foundation stone for construction of 41 rural roads under the Pradhan Mantri Gram Sadak Yojana (PMGSY), development of Heritage Town in Puducherry, mangrove restoration under the MISHTI (Mangrove Initiative for Shoreline Habitats & Tangible Incomes) scheme, projects in water supply and sanitation sectors, and power sector projects under the Revamped Distribution Sector Scheme (RDSS), among others.

Prime Minister will also lay the foundation stone of various projects covering major sectors like urban roads, drainage networks, public buildings, student hostels and sport facilities under the Special Assistance to States for Capital Investment (SASCI) scheme. The Government of India has approved inclusion of the Puducherry under SASCI scheme which was originally limited to States alone, allowing for capital asset creation works to be taken up for improving infrastructure and common utilities meant for people’s use.

PM in Madurai

Prime Minister will inaugurate, dedicate to the nation and lay the foundation stone and inaugurate infrastructure projects worth over Rs. 4,400 crore in Madurai, aimed at enhancing connectivity, improving mobility and accelerating regional economic development. He will also address the gathering on the occasion.

Prime Minister will lay the foundation stone for four-laning of Marakkanam–Puducherry Section of NH-332A and the Paramakudi–Ramanathapuram Section of NH-87. The four-laning of the Marakkanam–Puducherry section will help reduce traffic congestion in urban areas of Puducherry, reduce travel time by nearly 50%, from one hour to about 30 minutes. The project will provide seamless connectivity among key National Highways and State Highways, enhance access to prominent destinations such as Mamallapuram (Mahabalipuram), Kalpakkam Atomic Power Station and Auroville, strengthen connectivity between coastal villages and Viluppuram district headquarters, and boost tourism and economic activity in the region.

The four-laning of the Paramakudi–Ramanathapuram Section of NH-87 will provide faster access to major religious destinations including Madurai, Rameswaram and Dhanushkodi. The project will reduce travel time by around 40%, from one hour to approximately 35 minutes. It will strengthen multi-modal connectivity by linking major railway stations at Madurai and Rameswaram, airports at Madurai and INS Parundu, and non-major ports at Pamban and Rameswaram. Aligned with the principles of PM Gati Shakti, the corridor will integrate key economic nodes including fishing clusters, a Special Economic Zone, a Mega Food Park and a textile cluster, thereby catalysing trade, industry and socio-economic development across the region.

Prime Minister will inaugurate and dedicate to the Nation rail infrastructure projects aimed at enhancing passenger convenience, improving operational efficiency and strengthening rail-based connectivity in the State.

Prime Minister will inaugurate 8 redeveloped railway stations under the Amrit Bharat Station Scheme. These redeveloped railway stations are Morappur, Bommidi, Srivilliputtur, Sholavandan, Manaparai, Pollachi Junction, Karaikkudi Junction, Thiruvarur Junction in Tamil Nadu. These stations have been upgraded with modern passenger-centric amenities while incorporating local architectural elements and cultural aesthetics, including improved accessibility, enhanced station buildings, modern waiting halls, lifts and escalators, upgraded platforms and Divyangjan-friendly facilities.

Prime Minister will also dedicate to the Nation the Chennai Beach-Chennai Egmore 4th Line, a rail line that will significantly enhance operational efficiency in the Chennai suburban rail network by facilitating additional passenger and freight train services and benefiting lakhs of daily commuters including office-goers, IT professionals, students and traders.

To further strengthen broadcasting services in Tamil Nadu, Prime Minister will inaugurate three new Akashvani FM relay transmitters at Kumbakonam, Yercaud and Vellore. These transmitters will expand regional coverage, ensure uninterrupted FM broadcasting and enhance access to public broadcasting services across multiple districts of the State.