Share
 
Comments
’’یہ ہوائی اڈہ پورے خطے کو قومی گتی شکتی ماسٹر پلان کی ایک طاقتور علامت بنا دے گا‘‘
’’یہ ہوائی اڈہ مغربی یوپی کے ہزارہا لوگوں کو نیا روزگار بھی دے گا‘‘
’’ڈبل انجن والی حکومت کی کاوشوں سے، آج اتر پردیش، ملک کے سب سے زیادہ رابطہ والے خطہ میں تبدیل ہو رہا ہے‘‘
’’خرجا دستکار، میرٹھ کھیلوں کی صنعت، سہارنپور کا فرنیچر، مرادآباد کی پیتل کی صنعت، آگرہ کے جوتے اور پیٹھا کی صنعت کو، آنے والے بنیادی ڈھانچے سے بہت زیادہ مدد ملے گی۔‘‘
’’پچھلی حکومتوں نے جس اتر پردیش کو جھوٹے خواب دکھائے تھے وہ اب نہ صرف قومی بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی، اپنی پہچان بنا رہا ہے‘‘۔
’’بنیادی ڈھانچہ، ہمارے لیے راج نیتی (سیاست) کا حصہ نہیں، بلکہ راشٹر نیتی (قومی پالیسی) کا حصہ ہے۔‘‘

بھارت ماتا کی جے، بھارت ماتا کی جے

اترپردیش کے مقبول کرم یوگی وزیر اعلی جناب یوگی آدتیہ ناتھ جی، یہاں کے محنتی ہمارے پرانے ساتھی نائب وزیر اعلی کیشو پرساد موریہ جی، مرکزی کابینہ میں میرے ساتھی جناب جیوترادتیہ سندھیا جی، جنرل وی کے سنگھ جی، جناب لکشمی نارائن چودھری جی، جناب جے پرتاپ سنگھ جی، جناب سری کانت شرما جی، بھوپیندر چودھری جی، جناب نند گوپال گپتا جی، انل شرما جی، دھرم سنگھ سینی جی،اشوک کٹاریا جی، جناب جی ایس دھرمیش جی، پارلیمنٹ میں میرے ساتھی ڈاکٹر مہیش شرما جی، جناب سریندر سنگھ ناگرجی، جناب بھولا سنگھ جی، مقامی ایم ایل اے جناب دھیریندر سنگھ جی، دیگر تمام عوامی نمائندے جو اس موقع پر بیٹھے ہیں ۔ اور ہم سب کو آشیرواد دینے کے لیے بڑی تعداد میں آئے میرے پیارے بھائیو اور بہنو ۔

نوئیڈا بین الاقوامی ہوائی اڈے کی بھومی پوجن تقریب پر آپ سبھی کو،ملک کے عوام کو، اترپردیش کے ہمارے کروڑوں بھائیوں اور بہنوں کو مبارکباد۔ آج اس ہوائی اڈے کا سنگ بنیاد رکھنےکے ساتھ ہی داؤجی میلے کے لیے مشہور جیور بھی بین الاقوامی نقشے پر ثبت ہوگیا ہے۔ اس سے دہلی-این سی آر اور مغربی یوپی کے کروڑوں لوگوں کو بہت فائدہ ہوگا۔ میں اس کے لیے آپ سب کو، پورے ملک کو مبارکباد پیش کرتا ہوں ۔

ساتھیو،

اکیسویں صدی کا نیا بھارت آج ایک سے بڑھ کر ایک بہترین، جدید ترین بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کر رہا ہے۔ بہتر سڑکیں ، بہتر ریل نیٹ ورک، بہتر ہوائی اڈے، یہ نہ صرف بنیادی ڈھانچے کے منصوبے ہیں بلکہ یہ پورے خطےکی کایا کلپ کردیتے ہیں اور لوگوں کی زندگیوں کو مکمل طور پر بدل دیتے ہیں ۔ غریب ہو یا متوسط طبقہ، کسان ہو یا تاجر،مزدور ہو یا کاروباری افراد، ہر ایک کو ان سے بہت فائدہ پہنچتا ہے۔ بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کی طاقت میں مزید اضافہ اس وقت ہوتا ہے جب ان کے ساتھ بلا روک ٹوک رابطہ، آخری میل کی کنکٹیویٹی ہوتی ہے۔ نوئیڈا بین الاقوامی ہوائی اڈہ بھی رابطے کے لحاظ سے ایک بہترین نمونہ بن جائے گا۔ ٹیکسیوں سے لے کر میٹرو اور ریل تک یہاں سفر کرنے کے لیے ہر قسم کا رابطہ ہوگا۔ ہوائی اڈے سے نکلتے ہی آپ براہ راست جمنا ایکسپریس وے، نوئیڈا گریٹر نوئیڈا ایکسپریس وے آسکتے ہیں ۔ اگر آپ کو کہیں جانا ہے تو دہلی، ہریانہ مختصر وقت میں پیریفیرل ایکسپریس وے تک پہنچ سکتے ہیں ۔ اور اب دہلی ممبئی ایکسپریس وے بھی تیار ہونے جا رہا ہے۔ اس سے بہت سے شہروں تک پہنچنا بھی آسان ہوجائے گا۔ یہی نہیں ،یہاں سے فریٹ کوریڈور سے براہ راست رابطہ بھی ہوگا۔ ایک طرح سے نوئیڈا بین الاقوامی ہوائی اڈہ شمالی بھارت کا لاجسٹک گیٹ وے بن جائے گا۔ یہ اس پورے خطہ کو نیشنل ڈائنامک ماسٹر پلان کا زبردست نمائندہ  بنائے گا۔

ساتھیو،

نوئیڈا انٹرنیشنل ایئرپورٹ بھی آج ملک میں ہوابازی کے شعبے کی تیز رفتار ترقی میں بڑا کردار ادا کرے گا، جس تیزی سے بھارتی کمپنیاں سیکڑوں نئے طیارے خرید رہی ہیں ۔ ہوائی اڈہ طیاروں کی دیکھ بھال، مرمت اور آپریشن کے لیے ملک کا سب سے بڑا مرکز بھی ہوگا۔ یہاں 40 ایکڑ میں رکھ رکھاو، مرمت اور اوور ہال ایم آر او کی سہولیات ہوں گی جو ملک بھر اور بیرون ملک سے طیاروں کی سروس کریں گی اور سیکڑوں نوجوانوں کو روزگار فراہم کریں گی۔ آپ تصور کریں کہ آج بھی ہم اپنے 85 فیصد طیارے ایم آر او سروسز کے لیے بیرون ملک بھیجتے ہیں ۔ اور ہر سال 15,000 کروڑ روپے خرچ ہوتے ہیں ، یہ پروجیکٹ 30,000 کروڑ روپے میں تعمیر ہونے جا رہاہے۔ صرف مرمت کے لیے 15,000 کروڑ روپے باہر چلے جاتے ہیں ۔ ہزاروں کروڑ روپے خرچ ہوتے ہیں ۔ جس میں سے زیادہ تر دوسرے ممالک کو جاتےہیں۔ اب یہ ہوائی اڈہ اس صورت حال کو بھی تبدیل کرنے میں مدد کرے گا۔

بھائیو اور بہنو،

پہلی بار اس ہوائی اڈے کے ذریعے ملک میں مربوط ملٹی موڈل کارگو ہب کا خواب بھی پورا کیا جا رہا ہے۔ اس سے پورے خطے کی ترقی کو ایک نئی تحریک ملے گی، ایک نئی پرواز ملے گی۔ ہم سب جانتے ہیں کہ جن ریاستوں کی سرحد سمندر سے متصل ہوتی ہے بندرگاہیں ان ریاستوں کے لیے بہت بڑا اثاثہ ہوتی ہیں۔ ترقی کے لیے اس کی ایک بہت بڑی طاقت کام آتی ہے۔ لیکن یوپی جیسی زمین بند ریاستوں کے لیے ہوائی اڈے بھی یہی کردار ادا کرتے ہیں ۔ علی گڑھ، متھرا، میرٹھ، آگرہ، بجنور، مراد آباد، بریلی جیسے بہت سے صنعتی علاقے ہیں ۔ خدمت کے شعبے میں بھی ایک بڑا ایکو سسٹم ہے اور مغربی اترپردیش کا زراعت کے شعبے میں اہم حصہ ہے۔ اب ان علاقوں کی طاقت میں بھی بہت اضافہ ہوگا۔ اس لیے یہ بین الاقوامی ہوائی اڈہ ایک بہت بڑے برآمدی مرکز کو براہ راست بین الاقوامی منڈیوں سے جوڑے گا۔ اب یہاں کے کسان خاص طور پر چھوٹے کسان پیداوار کو براہ راست پھلوں اور سبزیوں ، مچھلیوں کی طرح برآمد کر سکیں گے۔ ہمارے خرجا علاقے کے فن کار ہیں، میرٹھ میں کھیلوں کی صنعت ہے، سہارنپور کا فرنیچرہے ، مراد آباد کی پیتل کی صنعت ہے، آگرہ کے جوتے اور پیٹھا ہیں ، مغربی یوپی کے بہت سے ایم ایس ایم ایز کو بھی غیر ملکی مارکیٹ تک پہنچنا آسان ہوگا۔

ساتھیو،

کسی بھی علاقے میں ہوائی اڈےکی آمد تبدیلی کا ایک ایسا دور شروع ہوجاتا ہے جس سے چاروں سمتوں کو فائدہ ہوتا ہے۔ ہوائی اڈے کی تعمیر کے دوران روزگار کے ہزاروں مواقع پیدا ہوتے ہیں۔  ہزاروں افراد کو ہوائی اڈے کو آسانی سے چلانے کی بھی ضرورت ہے۔ یہ ہوائی اڈہ مغربی یوپی میں ہزاروں لوگوں کو نئی ملازمتیں بھی فراہم کرے گا۔ دارالحکومت کے قریب ہونے سے پہلے ایسے علاقے ہوائی اڈے جیسی سہولیات سے منسلک نہیں تھے۔ خیال کیا جاتا تھا کہ دہلی میں ہوائی اڈے اور دیگر سہولیات ہیں ۔ ہم نے اس سوچ کو تبدیل کر دیا۔ آج دیکھیے، ہم نے ہنڈن ہوائی اڈے کو مسافر خدمات کے لیے شروع کیا۔ اسی طرح ہریانہ کے حصار کے ہوائی اڈے پر بھی تیزی سے کام جاری ہے۔

بھائیو اور بہنو،

جب فضائی رابطے بڑھتے ہیں تو سیاحت بھی  اتنی ہی فروغ پاتی ہے۔ ہم سب نے دیکھا ہے کہ ماتا ویشنو دیوی کی یاترا ہو یا کیدارناتھ یاترا،ہیلی کاپٹر سروس آنے کے بعد وہاں عقیدت مندوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ نوئیڈا بین الاقوامی ہوائی اڈہ مغربی یوپی میں مشہور سیاحتی اور عقیدے کے مراکز کے لیے بھی ایسا ہی کرنے جا رہا ہے۔

ساتھیو،

آزادی کی 7 دہائیوں میں پہلی باراترپردیش کو وہ ملنا شروع ہوا ہے جس کا وہ ہمیشہ مستحق رہا ہے۔ ڈبل انجن کی حکومت کی کوششوں سے اترپردیش آج ملک کے سب سے زیادہ مربوط خطے میں تبدیل ہو رہا ہے۔ مغربی یوپی میں لاکھوں کروڑ روپے کے پروجیکٹ پر بھی تیزی سے کام جاری ہے۔ چاہے وہ تیز رفتار ریل راہداریاں ہوں ، ایکسپریس وے ہوں ، میٹرو کنکٹیویٹی ہو، یوپی کو مشرقی اور مغربی سمندروں سے ملانے والی مال بردار راہداریاں ہوں ،یہ جدید اترپردیش کی ایک نئی شناخت بن رہی ہیں ۔ آزادی کے اتنے برسوں تک اترپردیش طعنے سننے پر مجبور کردیا گیا تھا۔ کبھی غربت کے طعنے،کبھی ذات پات کی سیاست کے طعنے،کبھی ہزاروں کروڑ روپے کے گھوٹالوں کے طعنے، کبھی بری سڑکوں کے طعنے،کبھی صنعتوں کی کمی کے طعنے،کبھی رکی ہوئی ترقی کے طعنے،کبھی جرائم پیشہ مافیا اور سیاسی اتحادوں کے طعنے۔ یوپی کے لوگوں کا یہی سوال تھا کہ کیا واقعی کبھی یوپی کی مثبت شبیہ بن سکے گی۔

بھائیو اور بہنو،

پچھلی حکومتوں نے جس اترپردیشکو قلت اور تاریکی میں بنائے رکھا تھا، پچھلی حکومتوں نے جس اترپردیش کو ہمیشہ جھوٹے خواب دکھائے،وہی اترپردیش آج صرف قومی نہیں بلکہ بین الاقوامی سطح پر اپنےنقوش چھوڑ رہا ہے۔ آج یوپی میں بین الاقوامی سطح کے طبی ادارے قائم کیے جا رہے ہیں۔  آج یوپی میں بین الاقوامی سطح کے تعلیمی ادارے تعمیر ہو رہے ہیں ۔ بین الاقوامی سطح کی شاہراہیں ، ایکسپریس وے، بین الاقوامی ریل کنکٹیویٹی، آج یوپی ملٹی نیشنل کمپنیوں کا سرمایہ کاری مرکز ہے،یہ سب کچھ ہمارے یوپی میں ہو رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج ملک اور دنیا کے سرمایہ کار کہتے ہیں : اترپردیش کا مطلب بہترین سہولیات، مستقل سرمایہ کاری ۔ یوپی کا بین الاقوامی فضائی رابطہ یوپی کی اسی بین الاقوامی شناخت کو ایک نئی جہت دے رہا ہے۔ اگلے 2-3 برسوں میں جب ہوائی اڈہ کام کرنا شروع کرے گا تو یوپی 5 بین الاقوامی ہوائی اڈوں والی ریاست بن جائے گی۔

ساتھیو،

یوپی اورمرکز میں پہلے جو حکومتوں رہیں انھوں نے مغربی اترپردیش کی ترقی کو کس طرح ترقی کو نظر انداز یہ جیور ہوائی اڈہ اس بات کی بھی ایک مثال ہے ۔ یوپی میں بی جے پی حکومت نے 2  دہائیاں پہلے اس پروجیکٹ کا خواب دیکھا تھا۔ لیکن بعدمیں یہ ہوائی اڈہ کئی برسوں سے دہلی اور لکھنؤ کی جو سابقہ حکومتیں رہیں ان کی رسہ کشی میں الجھا رہا۔ اس سے پہلے جو حکومت تھی اس نے تو باقاعدہ ایک خط لکھ کر مرکزی حکومت سے اس ہوائی اڈے کے منصوبے کو بند کرنے کو کہا تھا۔ اب ڈبل انجن حکومت کی کوششوں سے ہم اسی ہوائی اڈے کی بھومی پوجن کے گواہ بن رہے ہیں ۔

ویسے ساتھیو،میں آج ایک اور بات کہوں گا۔ مودی -یوگی بھی اگر چاہتےتو 2017 میں حکومت بنتے ہی یہاں آکر بھومی پوجن کردیتے۔ فوٹو کھچوا دیتے ، اخبار میں پریس نوٹ بھی چھپ جاتا اور اگرہم ایسا کرتے تو پچھلی حکومتوں کی عادت کی وجہ سے لوگوں کو یہ بھی محسوس نہ ہوتا کہ ہم کچھ غلط کر رہے ہیں ۔ اس سے قبل سیاسی فوائد کے لیے آنا فاناً میں ریواڈی جیسے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کا اعلان کیا گیا تھا۔ کاغذوں پر لکیریں کھینچی گئی تھیں۔ لیکن منصوبے زمین پر کیسے اتریں گے، رکاوٹوں کو کیسے دور کیا جائے گا، پیسے کا انتظام کہاں سے کیا جائے گا۔ ان پر بالکل بھی غور نہیں کیا گیا۔ اس وجہ سے کئی دہائیوں سے منصوبے تیار ہی نہیں ہوتے۔ اعلان ہوجاتا تھا۔ منصوبے کی لاگت میں کئی گنا اضافہ ہوجاتا تھا۔ پھر بہانے بازی شروع ہوتی،تاخیر کا ٹھیکرا دوسرے کے سر پھوڑںے کی کسرت ہوتی تھی۔ لیکن ہم نے ایسا نہیں کیا کیوں کہ بنیادی ڈھانچہ سیاست کا حصہ نہیں بلکہ ہمارے لیے قومی پالیسی کا حصہ ہے۔ بھارت کا روشن مستقبل ایک ذمہ داری ہے۔ ہم اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ منصوبے اٹکے نہیں، لٹکے نہیں، منصوبے بھٹکے نہیں۔ ہم اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کرتے ہیں کہ بنیادی ڈھانچے کا کام مقررہ وقت میں مکمل ہو جائے۔ ہم نے تاخیر کی صورت میں جرمانے کا بھی التزام کیا ہے۔

ساتھیو،

اس سے قبل کسانوں کی زمین پر جس طرح کی بے ضابطگیاں ہوتی تھی وہ بھی منصوبوں میں تاخیر میں ایک بڑی رکاوٹ بن جاتی تھیں۔ پچھلی حکومتوں کے دوران بہت سے منصوبے ایسے ہیں جن کے لیے کسانوں سے زمین لی گئی تھی لیکن ان میں یا تو معاوضے کے مسائل تھے یا وہ برسوں سےبے کار پڑے ہوئے ہیں ۔ ہم نے کسانوں کے مفاد میں ، منصوبوں کے مفاد میں ،ملک کے مفاد میں ان رکاوٹوں کو بھی دور کیا۔ ہم نے اس بات کو یقینی بنایا کہ انتظامیہ مکمل شفافیت کے ساتھ کسانوں سے بروقت زمین خریدے۔ اور پھر ہم 30,000 کروڑ روپے کے اس پروجیکٹ کا سنگ بنیاد رکھنے کے لیے آگے بڑھے ہیں ۔

ساتھیو،

آج ملک کے ہر عام باشندے کے لیے معیاری بنیادی ڈھانچے،معیاری سہولیات کو یقینی بنایا جارہا ہے۔ آج اڑان یوجنا نے ملک کے عام آدمی کے ہوائی سفر کے خواب کو بھی پورا کردیا ہے۔ آج جب ایک ساتھی یہ کہتے ہوئے خوش ہوتا ہے کہ اس نے اپنے گھر کے قریب ہوائی اڈے سے پہلی بار اپنے والدین کے ساتھ ہوائی سفر کیا ہے، جب وہ اپنی تصویر شیئر کرتا ہے تو میں سمجھتا ہوں کہ ہماری کوششیں کام یاب ہیں ۔ مجھے خوشی ہے کہ صرف یوپی میں گذشتہ چند برسوں میں 8 ہوائی اڈوں سے پروازیں شروع ہوئی ہیں ، بہت سے منصوبوں پر ابھی کام جاری ہے۔

بھائیو اور بہنو،

ہمارے ملک کی کچھ سیاسی جماعتوں نے ہمیشہ اپنے مفاد کو سب سے اوپر رکھا ہے۔ یہ لوگ سوچتے ہیں کہ وہ اپنی غرض، صرف اپناخاندان یا وہ جس علاقے میں رہتے ہیں اسی علاقے کی ترقی کو ترقی مانتے تھے۔ جب کہ ہم قوم کے جذبوں پر چلتے ہیں ۔ یہ ہمارا منتر ہے: سب کا ساتھ سب کا وکاس، سب کا وشواس سب کا پریاس۔ یوپی کے عوام گواہ ہیں ، ملک کے عوام گواہ ہیں ،گذشتہ چند ہفتوں میں کچھ سیاسی جماعتوں نے کس طرح کی سیاست کی ہے،لیکن بھارت ترقی کے راستے نہیں ہٹاہے۔ کچھ عرصہ پہلے بھارت نے 100 کروڑ ویکسین کی خوراک کے ساتھ ایک مشکل مرحلہ عبور کیا ہے۔ رواں ماہ کے اوائل میں بھارت نے 2070 تک نیٹ زیرو کے ہدف کا اعلان کیا تھا۔ کچھ عرصہ قبل کشی نگر کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کا افتتاح کیا گیا تھا۔ یوپی میں ہی بیک وقت 9 میڈیکل کالج شروع کرکے ملک کے صحت کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط کیا گیا تھا۔ مہوبا میں نئے ڈیم اور آبپاشی کے منصوبے وقف کیے گئے ، جھانسی میں دفاعی راہداری کے کام میں تیزی آئی، پوروانچل ایکسپریس وے کو گذشتہ ہفتے ہی یوپی کے عوام کے لیے وقف کیا گیا تھا۔ اس سے ایک دن پہلے ہم نے قبائلی فخر کا دن منایا، مدھیہ پردیش میں ایک بہت عظیم الشان اور جدید ریلوے اسٹیشن وقف کیا گیا تھا۔ اسی ماہ مہاراشٹر کے پنڈہار پور میں سیکڑوں کلومیٹر کی قومی شاہراہیں وقف کی گئی ہیں اور سنگ بنیاد رکھا گیا ہے۔ اور اب نوئیڈا بین الاقوامی ہوائی اڈے کا سنگ بنیاد رکھا گیا ہے۔ بعض سیاسی جماعتوں کی خود غرضی ہماری حب الوطنی کے سامنے،قوم کے لیے ہماری خدمت کے سامنے کبھی ٹک نہیں سکتی۔

ساتھیو،

میرے ساتھ بولیے:

بھارت ماتا کی جے

بھارت ماتا کی جے

بھارت ماتا کی جے

آپ کا بہت بہت شکریہ۔

 

Explore More
لال قلعہ کی فصیل سے، 76ویں یوم آزادی کے موقع پر، وزیراعظم کے خطاب کا متن

Popular Speeches

لال قلعہ کی فصیل سے، 76ویں یوم آزادی کے موقع پر، وزیراعظم کے خطاب کا متن
ASI sites lit up as India assumes G20 presidency

Media Coverage

ASI sites lit up as India assumes G20 presidency
...

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
سوشل میڈیا کارنر،2 دسمبر 2022
December 02, 2022
Share
 
Comments

Citizens Show Gratitude For PM Modi’s Policies That Have Led to Exponential Growth Across Diverse Sectors