Share
 
Comments
’’بھارت @100 ایک معمول نہیں ہو سکتا۔ اس 25 سال کی مدت کو ایک اکائی کے طور پر دیکھا جانا چاہیے اور آج سے ہی ہمارے پاس آگے کے لیے ایک لائحہ عمل ہونا چاہیے۔ اس سال کے جشن کو بنیاد مان کر چلیں۔‘‘
’’ملک کے عام لوگوں کی زندگی میں تبدیلی آئے، ان کی زندگی آسان ہو اور انہیں اس کا احساس بھی ہو‘‘
’’ہمیں عام لوگوں کے سپنا (خواب) سے لے کر سنکلپ (عزم) اور سدھی (تکمیل) تک کے سفر میں، ہر ایک مرحلے پر ان کا ہاتھ تھامنے کے لیے موجود رہنا چاہیے‘‘
’’اگر ہم عالمی سطح پر ہونے والی سرگرمیوں پر نظر نہیں رکھیں گے، تو ہمارے لیے اپنی ترجیحات اور فوکس ایریا کا تعین کرنا بہت مشکل ہو جائے گا۔ ہمیں اسی تناظر کو ذہن میں رکھتے ہوئے اپنی اسکیمیں اور نظام حکومت کے ماڈل تیار کرنے کی ضرورت ہے‘‘
’’یہ حکومتی نظام کی ذمہ داری ہے کہ وہ معاشرے کی صلاحیت کو پروان چڑھائے، اسے اجاگر کرے اور اس کی مدد کرے‘‘
’’نظام حکومت میں اصلاح ہمارا فطری موقف ہونا چاہیے‘‘
’’ہمارے ہر فیصلے میں ’ملک سب سے پہلے‘ ہونا چاہیے‘‘
’’ہمیں اُن ضابطوں اور ذہنیت کے تحت نہیں چلنا چاہیے جو قلت کے دور میں سامنے آئے، بلکہ ہمیں فراوانی کا رویہ اپنانا چاہیے‘‘
’’میرا مزاج ’راج نیتی‘ (سیاست) نہیں ہے، بلکہ میں قدرتی طور پر ’جن نیتی‘ (عوامی پالیسی) کی طرف مائل ہوں‘

 کابینہ کے میرے ساتھی ڈاکٹر جتیندر سنگھ، پی کے مشرا جی، راجیو گوبا جی، جناب  وی سرینواسن جی اور یہاں  موجود سول سروس  کے تمام ارکان اور  ورچوئلی ملک بھر سے  جڑنے والے تمام ساتھیوں، خواتین  و حضرات! سول سروسز  ڈے   پر  آپ سبھی  کرمیوگیوں کو بہت بہت مبارک باد۔ آج جن ساتھیوں کو  یہ ایوارڈ ملے ہیں، ان کو ، ان کی پوری ٹیم کو  اور اس ریاست کو بھی  میری جانب سے  بہت بہت مبارک باد۔ لیکن میری  یہ  عادت   تھوڑی ٹھیک نہیں  ہے  اس لئے مفت میں مبارک باد نہیں دیتا ہوں میں۔ کچھ چیزوں کو اس کے ساتھ  ہم جوڑ سکتے ہیں کیا؟  یہ میرے  من میں ایسے    ہی  آئے  ہوئے خیالات ہیں  لیکن  آپ اس کو  اپنے  انتظامی  نظام کے  ترازو پر تولنا ایسا ہی مت شروع کردینا، جیسے ہم یہ کرسکتے ہیں کہ جہاں بھی ہمارے  سول سروسز   سے تعلق رکھنے والے جتنے  بھی  تربیتی ادارے ہیں، چاہئے  وزارت خارجہ کے ہوں، پولیس  محکمے کے ہوں، یا مسوری ہو ، روینیو ہو ، کوئی بھی   جہاں  بھی ہے، آپ  کے۔ کیونکہ  کافی  بکھرا ہوا یہ سارا یہ کاروبار  چل رہا ہے، ہر ہفتے  ایک ڈیڑھ  گھنٹہ ورچوئلی  یہ جو ایوارڈ ونر ہیں، وہ  اپنی  ہی ریاست  سے  اس کا پورا  تصور کیا تھا، کیسے شروع کیا، کون سی  دشواری پیش  آئی، پورا پرزنٹیشن  دیں  ورچوئلی ان سب  ٹرینیز  کو ۔ سوال وجواب ہوں اور  ہر ہفتے  ایسے دو  ایوارڈ  ونر  کے ساتھ  اگر خصوصی  چرچا ہو، تو میں سمجھتا ہوں  کہ جو نئی نسل آرہی ہے ، ان کو  ایک پریکٹیکل  تجربہ  سے بات  چیت کا فائدہ ملے گا اور اس کی  وجہ سے جن لوگوں نے  اس کام کو  اچیو  کیا ہے، ان کو  بھی اس  کام کے ساتھ منسلک رہنے  کا  لطف آئے گا۔  آہستہ آہستہ  اس میں اختراع  ہوتے  رہیں گے،  اضافہ ہوتا رہےگا۔ دوسرا  ایک کام  یہ جو آج  16  ساتھیوں  کو یہاں ایوارڈ ملا ہے، ہم  تمام ملک کے ساتھیوں سے  ویدک جو ضلع ہیں ان سب کو مدعو کریں۔ ان 16  میں  سے   آپ   کسی ایک  اسکیم کا انتخاب کیجئے، کسی ایک شخص  کو انچارچ  بنائے، اور آپ تین مہینے ، 6  مہینے کے  پروگرام کے تحت  اس کو  کیسے نافذ  کریں گے؟  نافذ کرنے کی سمت میں کیا کریں گے؟ اور مان لیجئے  پورے ملک میں سے  20  اضلاع ایسے نکلے، جنہو ں نے ایک اسکیم  کا انتخاب کیا ہے تو کبھی  ان 20  اضلاع  کا  ورچوئل  سمٹ  کرکے  جس  شخص  کا، جس ٹیم کا یہ کام ہے ان کے ساتھ ، ان کی بات چیت ہو  اور ریاستوں میں سے کون  ٹاپ بنتا ہے اس میں، نفاذ  میں۔اسی کو انسٹی ٹیوشنلائز کرتے ہوئے اس  ضلع کا  اس کو فطرت میں تبدیل کرنے کےلئے کیا کرسکتے ہیں؟ پورے ملک میں سے  ‘ون اسکیم  -  ون ڈسٹرکٹ، ہم   مسابقت کو اوپر  لاسکتے ہیں کیا؟   اور جب ایک سال کے بعد  ملیں تو اس کا بھی ذکر کریں، اس کو ایوارڈ ینے  کی ضرورت نہیں  ہے ابھی، لیکن  ذکر  ہو کہ بھئی  یہ اسکیم  جو  2022  میں ، جن  اعزاز  بخشا  گیا تھا، وہ چیز  یہاں تک پہنچ گئی۔  اگر میں سمجھتا ہوں کہ  ہم لوگ  اس کو انسٹی ٹیوشنلائز  کرنے کے لئے انسٹی ٹیوشنلائز  کریں، کیونکہ میں نے دیکھا ہے کہ  سرکار  کی فطرت  جب تک وہ  کسی   کاغذ  کے  چوکھٹ میں  نہیں آتی ہے  وہ  چیز  آگے  بڑھ نہیں پاتی ہے۔ اس لئے  کسی  چیز  کو  انسٹی  ٹیوشنلائز کرنا ہے  تو اس کے لئے ایک  انسٹی ٹیوشن بنا نا پڑتا ہے۔ تو ضرورت پڑے  تو یہ  بھی ایک نظام  کھڑا کردیا جائے تو ہو سکتا ہے کہ  دوسری  صورت میں کیا ہوگا کہ بھئی  چلئے کچھ تو ایسے لوگ  ہوتے ہیں کہ  جو من میں طے کرتے ہیں کہ مجھے یہ حاصل کرنا ہے تو   وہ 365  دن  اسی  میں کھپاتے ہیں۔ سبھی  کو  اسی میں جوڑ دیتے ہیں اور   آدھ حاصل کرلیتے ہیں اور ایوارڈ بھی حاصل کرلیتے ہیں۔ لیکن باقی  چیزوں کودیکھیں تو  کئی پیچھے  رہ جاتے ہیں۔ تو ایسی  خامیاں بھی محسوس نہ ہوں، ایک صحت مند مسابقت کا ماحول بنے، اس سمت میں ہم کچھ سوچیں تو  شائد  ہم جو چاہتے ہیں کہ  ایک تبدیلی آئے وہ تبدیلی  شائد ہم لاسکتے ہیں۔

ساتھیو،

آپ جیسے ساتھیوں سے  اس  قسم کی بات چیت  مجھے  لگتا  ہے کہ  شاید 20-22  سال سے  میں  لگا تار   اس کام کو کر رہا ہوں۔  اور پہلے  وزیراعلیٰ  کے طور پر  کرتا تھا  ، ایک چھوٹے  دائرے  میں کرتا  تھا ، وزیراعظم  بننے کے  بعد  اب تھوڑا  بڑے دائرے میں ہوا اور بڑے بڑے   لوگوں کے ساتھ ہوا۔ اور اس کی وجہ سے  ایک طرح سے ہمیں دیگر  کچھ  باتیں میں آپ  سے سیکھتا  ہوں اور کچھ اپنی باتیں  آپ تک پہنچا پاتا ہوں تو ایک  طرح سے بات چیت  کا ایک اچھا  سا ہمارا یہ ذریعہ بنا ہے،  روایت  بنی ہے اور مجھے  خوشی  ہے  کہ مجھے  درمیان میں کورونا کے دور  میں تھوڑا مشکل  رہی ورنا میری  کوشش  رہی ہے کہ میں آپ سب سے ملتا رہوں، آ پ سے بہت کچھ جانتا رہوں، سمجھنے کی کوشش کروں اور اگر ممکن ہو تو  اس کو  اگر میری شخصیت  اور زندگی میں اتارنا  ہے تو اس کو اتاروں اور کہیں نظام میں شامل کرنا ہے تو نظام  میں لانے کی کوشش کروں، لیکن یہی  ایک عمل ہے  جو ہمیں آگے بڑھا تا ہے۔  ہر کسی سے  سیکھنے کا موقع  ہوتا ہی ہے، ہر کسی کے  پاس کسی نہ کسی کو  کچھ دینے  کی صلاحیت ہوتی ہی ہے اور اگر ہم اس  جذبے کو فروغ  دیتے ہیں تو فطری طور پر  اس کو تسلیم کرنے کا من بھی  بن جاتا ہے۔

 ساتھیو،

اس بار کا اہتمام تو روٹین عمل نہیں ہے، میں اسے  کچھ  خاص  سمجھتا ہوں، خاص اس لئے سمجھتا ہوں کہ آزادی کے امرت مہوتسو میں جب ملک   آزادی کے 75  سال   منا رہا ہے، تب ہم اس پروگرام کو کر رہے ہیں۔ کیا ہم ایک کام کرسکتے ہیں کیا؟ اور میں مانتا ہوں کہ  اس کو  ہم نے  کیونکہ کچھ چیزیں ہوتی ہیں  جو فطری طور پر  نئی  امنگ اور جوش  بھر دیتی ہیں، مان لیجئے  آپ  جس  ضلع میں کام کرتے ہیں اور پچھلے 75   سالوں میں  اس ضلع  کے  سربراہ کے طور پر، جنہوں نے کام کیا ہے، ان میں سے کچھ  زندہ ہوں گے  کچھ نہیں ہوں گے، اس آزادی کے امرت  مہوتسو کے لئے ایک بار اس ضلع میں ان سب کو بلایئے، ان کو بھی اچھا لگے گا  اور 30-40  سال کے بعد  وہ اس  جگہ پر واپس  گئے ہیں، آپ  کو بھی اچھا  لگے گا، ان کے پرانے  پرانے  لوگوں کو یاد  کریں گے۔ یعنی ایک طرح سے  اس ضلع اکائی میں کسی نے 30  سال پہلے کام کیا ہوگا کسی نے 40  سال پہلے کام کیا ہوگا، جو  باہر سے وہاں آئے گا وہ بھی  ایک نئی توانائی  لے کر جائے گا اور جو  وہاں ہے اس کو میں  اچھا اچھا  یہ ملک کے  کابینہ سکریٹری ، وہ  کبھی یہاں تھے، اس کے لئے بڑے  لطف   بات ہو جائے گی اور مجھے پکا  یقین  ہے کہ ہمیں    اس سمت میں  ضرور کوشش کرنی چاہئے۔ مجھے  اس کا خیال اس لئے  آیا کہ شائد  میں نام تو بھول  گیا  گوڈ بولے جی یا  دیش مکھ۔ میں نام بھول گیا، ہمارے  کابینہ سکریٹری رہے تھے، تو ایک بار اور بعد میں وہ اپنی زندگی  خون کی بیماری والے لوگوں کی خدمت میں انہوں نے  ریٹائر ہونے  کے بعد  لگادی۔ تو گجرات  میں  وہ بیماری سے متعلق پروگرام کے لئے آئے تھے۔ میری  ملاقات ہوئی، تو اس وقت  مشترکہ ممبئی   ریاستی تھی ، مہاراشٹر  اور گجرات  الگ الگ نہیں تھے۔ تو انہوں نے مجھے بتایا کہ  میں بناس  کانٹھا  کا تھا ، میں  ضلع  کلکٹر تھا اور بعد میں  بولے  مہاراشٹر  بنا تو میں مہاراشٹر کیڈر چلا گیا۔ اور پھر میں بھارت سرکا رمیں چلا گیا۔ لیکن  اتنا سا سن لینا  میرے لئے  مجھے ایک دم سے ان کے ساتھ منسلک کردیا ہے، تو میں نے  ان سے پوچھا وہ وقت  بناس کانٹھا کیڈر میں کیسا ہوتا تھا، کیسے کام کرتے تھے، یعنی  چیزی  چھوٹی ہوتی ہیں لیکن  ان کی صلاحیت  بہت زیادہ ہوتی ہے اور  ایک یکسانیت  والی زندگی میں تبدیلی لانے کے لئے  سسٹم میں جان بھرنا بہت ضروری ہوتا ہے۔ سسٹمز زندگی سے بھر پور ہونے چاہئے، سسٹمز  متحرک ہونے چاہئے اور جب پرانے لوگوں سے ملتے ہیں تو  ان کے زمانے میں  سسٹم کو کس وجہ سے فروغ حاصل ہوا تھا، اس کی بیک گراؤنڈ معلومات  ہمیں اس روایت کو چلانا ، نہیں چلانا، تبدیلی لانا ، نہیں لانا، بہت ساری چیزیں   سکھا کر  کے   جاتے ہیں۔ میں  چاہوں گا کہ  آزادی  کے اس امرت کال میں آپ  اپنے ضلع میں  جو  پہلے  ضلع کلکٹر  کے طور پر کام کر کے گئے ہیں، ایک بار    اگر ہو سکے تو ان سے ملاقات کرنے کا پروگرام بنائے۔ آپ  کے اس   پورے ضلع کے لئے وہ ایک تجربہ  نیا آئے گا۔ اسی طرح   سے ریاستوں میں جو  چیف  سکریٹری  کے طور پر کام کر کے گئے ہیں، ایک بار  ریاست کے وزیراعلیٰ ان سب کو  بلالیں، ملک کے وزیراعظم جتنے بھی  کابینہ سکریٹری  رہے ہیں، کبھی  ان کو بلالیں، ہو سکتا  ہے کہ  کیونکہ  آزادی  کے امرت کال   75  سال کے  اس سفر میں بھارت کو  آگے  بڑھانے میں سردار پٹیل کا  یہ جو تحفہ ہے، ہمیں سول سروسز  کا، اس کے جو علم بردار لوگ رہے ہیں، جو آج  ان میں سے  جتنے بھی زندہ ہیں، انہوں نے  کچھ نہ  کچھ  خدمات دی ہی ہیں ،اس  ملک   کو  آج  تک پہنچانے میں، ان سب کو  یاد کرنا ، ان کا احترام کرنا، یہ بھی آزادی کے امر کال میں اس   پوری سول سروسز  کو  اعزاز بخشے  والا  معاملہ بن جائے گا۔ میں چاہوں  اس  75  سال  کے سفر کو  ہم وقف  کریں، ان کی  شان میں  ترانے گائیں اور  ایک نیا شعور  لے کر  ہم آگے بڑھیں اور اس  سمت میں ہم کوشش کر سکتے ہیں۔

ساتھیو،

 ہمارا جو  امرت کال ہے، یہ امرت  کال  صرف  گزشتہ 7  دہائیوں کے قصیدے پڑھنے کا نہیں ہے، ایسا نہیں ہے  میں سمجھتا ہوں کہ  ہم 70  سے 75   گئے ہوں گے، روٹین میں گئے ہوں گے۔ 60  سے 70  گئے ہوں گے،  70  سے 75  گئے ہوں گے، روٹین میں گئے ہوں گے۔ لیکن  75  سے 2047 انڈیا  ایٹ  100 یہ  روٹین نہیں ہوسکتا ہے، یہ آج کا امرت مہوتسو ، ہمارا وہ ایک  واٹر شیڈ ہونا چاہئے، جس میں اب 25  سال کو  ایک اکائی کی شکل میں ہی ہمیں دیکھنا چاہئے۔ ٹکڑوں میں نہیں دیکھنا چاہئے اور ہم نے انڈیا  ایٹ 100  ابھی  اس کا  ویژن دیکھ  کر کے  اور ویژن ملک میں  کیا وہ نہیں ، ضلع میں میرا ضلع 25  سال میں کہاں پہنچے گا ، میں اس ضلع  کو 25  سال بعد  کیسا  دیکھتا ہوں اور میں کاغذ  پر تحریری  شکل میں ہو سکے تو اپنے ضلع  کے دفتر میں لگائے ، ہمیں یہاں یہاں تک پہنچنا  ہے،  آپ دیکھئے  ایک نئی تحریک، نیا  جوش ، نئی  امنگ اس کے جڑ جائے گی اور  ضرب دینے  والی سرگرمی  کے ساتھ ہمیں  ضلع کو  اوپر اٹھانا ہے اور اب مرکز  ہمارا ہے۔  بھارت کہاں پہنچے گا، ریاست کہاں پہنچے گی، ہم  75  سال ان سارے  مقاصد کو لے کر چلے ہیں۔ انڈیا ایٹ  100 ، ڈسٹرکٹ  ہم  25  سال میں  کہا لے جائیں گے، ہندوستان میں میں اپنے  ضلع   کو نمبر ایک بنا کر رہوں گا، کوئی بھی شعبہ  ایسا نہیں ہوگا کہ میرا ضلع پیچھے  ہو، کتنی ہی  قدرتی مشکلات والا ضلع ہوگا  تو بھی میں کر کے رہوں گا۔ یہ تحریک  ، یہ خواب ، یہ عزم، اور اس کے لئے  مقصد کے لئے حصول  کے لئے مسلسل کوشش   ، محنت، اس کے امکانات  کو لے کر  کے ہم چلیں، تو یہ سول سروس کے ہمارے لئے ایک نئی تحریک کی وجہ بن جائے گا۔

ساتھیو،

بھارت کے لوگ  آج  آپ کو جس امید  اور  توقع سے دیکھ رہے ہیں، اسے پورا  کرنے میں آپ کی کوششوں میں کوئی کمی نہ ہو، اس کے لئے آج آپ کو بھی  سردار ولبھ بھائی پٹیل نے  ہم سب کو  جو تحریک دی ، جو پیغام دیا، اور جس عزم کے لئے  ہمیں متحرک کیا، ہمیں اس  عزم کو پھر ایک بار دہرانا ہے، ہمیں پھر سے  اپنے آپ کو اس کے لئے پابند عہد کرنا ہے اور یہیں سے قدم  کو  آگے بڑھاتے ہوئے نکلنا ہے۔ ہم  ایک جمہوری نظام میں  اور ہمارے  سامنے  تین  مقاصد  واضح ہونے  چاہئے اور میں مانتا ہو ں کہ اس میں کوئی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہئے اور تین ہی ہو ں ایسا  نہیں ہے، باقی  اور بھی چیزیں ہو سکتی ہیں، لیکن میں صرف  تین کو  آج شامل  کرنا چاہتا ہوں۔ پہلا مقصد  ہے کہ آخر  کار  ہم  اس ملک میں جو  سسٹم چلاتے ہیں، جو بھی  بجٹ  خرچ کرتے ہیں ، جو بھی  عہدہ ، عزت  حاصل کرتے ہیں،  کس کے   لئے ہے جی؟  یہ سب کیوں ہے ؟ یہ محنت  کس بات کے لئے ہے؟  یہ تام جھام  کس بات کے لئے ہے؟ اور اس لئے میں کہنا چاہوں گا کہ ہمارا پہلا مقصد  ہے کہ ملک میں   عام سے عام  آدمی  کی زندگی میں تبدیلی آئے۔ اس کی زندگی  میں آسانی  آئے اور اسے اس کا احساس بھی ہو۔ ملک کے عام شہریوں کو  اپنی عام زندگی کے لئے حکومت سے جو  ملتا ہے اس کے لئے  اسے جد وجہد نہ کرنی پڑے، آسانی سے سب دستیاب ہو۔ یہ مقصد ہمیشہ ہمیشہ  ہمارے سامنے  ہونا چاہئے۔ ہماری کوششیں اسی سمت میں ہونی چاہئے، کہ ملک کے عام انسانوں کے  خوابوں کو عزم میں  تبدیل کرنے کے لئے اس کا خواب  عزم کیسے  بنے، اس خواب کو  عزم  تک پہنچانے کے سفر کو مکمل کرنے میں ایک  مثبت ماحول، ایک فطری  ماحول پیدا کرنا، یہ سسٹم کی ذمہ داری ہے۔ جس کی قیادت  ہم سب کے پاس ہے۔ ہمیں یہ بھی دیکھنا چاہئے  کہ ملک کے شہریوں کو  اپنے عزائم  کو پورا کرنے کے سفر میں  خواب   عزم بن  جائے، بات  وہاں  اٹک نہیں سکتی۔ جب تک کہ عزم  پورا نہ ہو اور اس  لئے خواب عزم بنے، عزم پورا  ہو اس پورے سفر کو وہاں، جہاں بھی ضرورت ہو، ہم ایک ساتھی کی طرح ایک کلیگ  کی طرح اس کے ساتھ ہوں، اس کا ہاتھ  پکڑیں، زندہ رہنے کی آسانی میں اضافے کے لئے  ہم جو کچھ  بھی کر پائیں وہ ہمیں ضرور کرنا چاہئے۔ اگر میں دوسرے مقصد کی بات کروں تو  آج  ہم گلوبلائزیشن -  گلوبلائزیشن  پچھلی  کئی دہائیوں سے  سن رہے ہیں،  ہوسکتا ہے کہ بھارت کبھی  دور سے ان چیزوں کو دیکھتا تھا لیکن  آج صورت حال کچھ  الگ  ہے۔ آج بھارت  کی  پوزیشننگ میں تبدیلی آرہی ہے اور ایسے میں ہم ملک میں جو بھی  کریں اس کو دنیا کے ضمن میں اب ہمارے لئے وقت کا تقاضا ہے ، بھارت دنیا میں ٹاپ  پر کیسے  پہنچے۔ اگر دنیا کی  سرگرمیوں کو نہیں سمجھیں گے، نہیں جانیں گے تو ہمیں کہاں جانا ہے، اور ہمیں  چوٹی کے مقام پر جانا ہے تو ہماری راہ کون سی ہوگی، ہمارے علاقے کون سے ہوں گے، یہ ہمیں شناخت کر کے ا س کا  تقابلی مطالعہ کرتے ہوئے ہمیں آگے بڑھنا ہی پڑے گا۔ ہماری جو اسکیمیں ہیں، ہماری حکمرانی کے جو ماڈل ہیں، انہیں  ہمیں اسی عزم کے  ساتھ  فروغ دینا ہے، ہمیں کوشش یہ بھی کرنی  ہے کہ ان میں  نیا پن آتا  رہے، ان میں جدت  آتی رہے۔ ہم گزشتہ  صدی  کے نظریئے، گزشتہ صدی کی پالیسی، اصولوں سے آئندہ صدی کی مضبوطی   کا عزم نہیں کرسکتے ہیں اور اس لئے ہمارے  سسٹمز میں، ہمارے اصولوں میں، ہماری روایات میں، پہلے  شاید  تبدیلی لانے میں  30  سال  40  سال چلے جاتے ہوں گے، تو چلتا ہوگا، بدلتی ہوئی دنیا  اور تیز  رفتار سے بدلنے والی دنیا میں  ہمیں لمحہ   لمحہ کے حساب چلنا پڑے گا،  ایسا  میرا خیال ہے۔ اگر میں  آج  تیسرے مقصد کی بات کروں ، جو  ایک  طرح میں دہرا رہا ہوں، کیونکہ اس بات کو میں لگا تار کہہ رہا ہوں، سول سروس کا سب سے بڑا کام یہ کبھی  بھی ہمارا مقصد  اوجھل نہیں ہونا چاہئے۔ نظام میں ہم کہیں پر بھی   ہوں، عہدے پر  ہم کہیں پر ہوں، لیکن ہم جس  نظام سے نکلے ہیں، اس نظام میں  وہ  ہماری بنیادی ذمہ داری ہے۔ وہ  ہے ملک کی  یکجہتی، ملک کی سالمیت، اس میں ہم کوئی سمجھوتہ نہیں کر سکتے ہیں۔ مقامی سطح پر بھی  ہم جب بھی کوئی فیصلہ کریں، وہ فیصلہ  عوام کو کتنا ہی اچھا لگے واہ واہی بٹورنے والا ہو۔ کتنا ہی  دلکش لگتا ہو، لیکن  ایک بار اس ترازو سے بھی  اس کو تول لیجئے کہ میں  یہ چھوٹے سے گاؤں میں کر رہا ہوں، جو فیصلہ  ہے کہیں وہ میرے ملک کی  یکجہتی اور سالمیت کے لئے  رکاوٹ بننے والا تو   میں کوئی بیج  تو نہیں بو رہا ہوں۔ آج  تو اچھا لگتاہو  ، پیارا  لگتا  ہو، لیکن  بہترین کرنا ہو اور  مہاتما گاندھی ہمیشہ  بہتر  اور اچھے کی بات  لگا تار کرتے تھے۔ ہم  اس بات   پر زور دیں ، ہم منفی  خیالات کو چھوڑ کر  کے، ہم یہ بھی دیکھیں کہ ہمارا کوئی بھی فیصلہ  ملک کی  یکجہتی  کو  مضبوط کرنے والے جذبے سے   جڑا ہونا چاہئے۔ صرف  وہ توڑتا نہیں ہے، اتنا کافی نہیں ہے، وہ مضبوطی دیتا ہے کہ نہیں دیتا ہے، اور گونا گونیت  والے بھار ت کے اندر ہمیں لگا تار  یکجہتی  کے منتر  کا سالیوشن  کرتے ہی رہنا پڑے گا او ریہ نسل در نسل کرتے ہی  رہنا پڑے گا اور اس کی فکر  ہمیں نکالنی پڑے گی اور اس لئے میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں ،آج پھر  کہنا چاہتا ہوں، مستقبل میں بھی کہتا رہوں گا۔ ہمارے  ہر کام میں کسوٹی ایک ہونی چاہئے، انڈیا فرسٹ، نیشن فرسٹ، میرا  ملک  سب سے  اوپر، ہمیں جہاں پہنچنا ہے، جمہویت میں، نظام حکومت مختلف سیاسی نظریات  سے  متاثر ہوسکتا ہے اور وہ بھی جمہوریت میں ضروری بھی ہے۔ لیکن  حکومت کے جو نظام ہیں اس کے مرکز میں ملک کی یکجہتی اور سالمیت  او رمسلسل بھارت کی یکجہتی کو  مضبوط کرنے کے منتر کو ہمیں آگے بڑھانا چاہئے۔

اب جیسے ہم ضلع کی سطح پر کام کرتے ہیں، ریاست کی سطح پر کام کرتے ہیں یا بھارت سرکار میں کام کرتے ہیں۔ کیا اس کا کوئی سرکلر نکلے گا کیا؟ کہ قومی تعلیمی پالیسی میں سے کیا کیا مجھے اپنے ضلع کے لئے منتخب کرنا ہے۔  اس میں سے کون سی چیز نافذ کرنی ہے؟ اس اولمپک کے بعد ملک کے اندر کھیل کود کے تئیں جو بیداری آئی ہے، اس کو اپنے ضلع کی سطح پر ادارہ جاتی بناکر میں اپنے ضلع سے بھی کھلاڑی تیار ہوں، یہ قیادت کون دے گا؟ یہ صرف کھیل کود کا محکمہ دے گا یا پوری ٹیم کی ذمہ داری ہوگی۔ اب اگر میں ڈیجیٹل انڈیا کی بات کرتا ہوں تو کیا میرے ضلع میں ڈیجیٹل انڈیا کے لئے میں ایک ٹیم کی طرح سوچ رہا ہوں؟ آج رہنمائی کرنے کے لئے کچھ کرنا پڑے، ایسی ضرورت ہی نہیں ہے۔ اب جیسے آج یہاں دو کافی ٹیبل بک کا اجرا ہوا ہے، لیکن اس بات کو نہ بھولیں کہ یہ کافی ٹیبل بک ہارڈ کاپی نہیں ہے، ای کاپی ہے۔ کیا میں بھی اپنے ضلع میں اس ہارڈ کاپی کے چکر سے باہر نکلوں گا کیا؟ ورنہ میں بھی بڑے بڑے تھپے بنادوں گا اور بعد میں کوئی لینے والا کوئی نہیں نکلتا ہے۔ ہم بنائیں، اگر آج ہمیں دیکھنے کو ملتا ہے کہ یہاں ای کاپی ٹیبل بک بنی ہے تو مطلب ہم بھی عادت ڈالیں کہ ہم بھی ضرورت پڑنے پر ای کاپی ٹیبل بک بنائیں گے۔ یعنی یہ چیزیں جنھیں نقل کرنے کی ہماری ذمے داری بنتی ہے اس کو الگ سے کہنا  نہ پڑے۔ میرے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ آج ضلع کو گائیڈ کرنے کے لئے کسی نظام کی ضرورت پڑے، ایسی ضرورت نہیں ہے، ساری چیزیں دستیاب ہیں۔ ضلع میں کسی چیز میں پورا ضلع اگر اٹھ کر کھڑا ہوجاتا ہے، حاصل کرلیتا ہے تو باقی چیزوں پر مثبت اثر اپنے آپ پڑنا شروع ہوجاتا ہے۔

ساتھیو،

بھارت کی عظیم تہذیب کی یہ خصوصیت ہے کہ ہمارا ملک، اور میں یہ بات بڑی ذمے داری کے ساتھ کہہ رہا ہوں کہ ہمارا ملک ریاستی نظام سے نہیں بنا ہے۔ ہمارا ملک راج سنگھاسنوں کی جاگیرداری میں نہیں رہا ہے، نہ ہی راج سنگھاسنوں سے یہ ملک بنا ہے۔ یہ ملک صدیوں سے، ہزاروں برسوں کے طویل دور سے اس کی جو روایت رہی ہے، عام انسانوں کی صلاحیتوں کو لے کر چلنے کی روایت رہی ہے۔ آج جو بھی ہم نے حاصل کیا ہے وہ عوامی حصے داری کی ریاضت کا نتیجہ ہے، عوامی ریاضت کا نتیجہ ہے اور تب جاکر ملک نئی اونچائیوں کو حاصل کرسکتا ہے۔ نسل در نسل کے تعاون سے، وقت کی جو بھی ضرورتیں تھیں انھیں پورا کرتے ہوئے، ان میں تبدیلی کو تسلیم کرتے ہوئے، جو چیز پرانی ہوچکی ہے، اسے چھوڑتے ہوئے ہم ایسا سماج ہیں، ہم ایسا زندہ سماج ہیں جس نے پرانی اور متروک روایتوں کو خود ہی الگ کردیا ہے۔ ہم آنکھیں بند کرکے اس کو پکڑکر جینے والے لوگ نہیں ہیں۔ وقت کے مطابق تبدیلی کرنے والے لوگ ہیں۔ دنیا میں، میں ایک دن بہت پہلے کی بات ہے، امریکہ کے اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ سے میری بات ہورہی تھی، اس وقت تو سیاست میں میری کوئی پہچان بھی نہیں تھی، میں کونے میں ایک چھوٹا سا ورکر تھا، کسی وجہ سے میرا کچھ خاص تعلق رہتا تھا، تو وہاں مجھ سے بحث چلی، میں نے کہا دنیا کے اندر کویئ بھی سماج، آستک ہو، ناستک ہو، اس مذہب کو مانتا ہو یا اس مذہب کو مانتا ہو، لیکن مرنے کے بعد کی اس کی جو اقدار ہیں، اس معاملے میں وہ زیادہ تبدیلی کرنے کی ہمت نہیں کرتا ہے۔ وہ سائنسی ہے یا نہیں ہے، مفید ہے یا نہیں ہے، وقت رہتے اسے چھوڑنا چاہئے یا نہیں چھوڑنا چاہئے، اس میں وہ ہمت نہیں کرتا ہے۔ وہ موت کے بعد کی جو سوچ بنی ہوئی ہے، روایت بنی ہوئی ہے اسے جکڑ کر رکھا ہے۔ میں نے کہا کہ ہندو ایک ایسا سماج ہے بھارت کا، جو کبھی موت کے بعد گنگا کے کنارے چندن کی لکڑی میں اگر شریر کو جلایا جاتا تھا، تو اسے لگتا تھا کہ میرا آخری کام اچھی طرح مکمل ہوگیا۔ وہی انسان چلتے چلتے الیکٹرک شمشان بھومی تک پہنچ گیا۔ اسے کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہوئی۔ اس سماج کی تبدیلی والی صلاحیت کی ایک بہت بڑی طاقت کا اس سے بڑا کوئی ثبوت نہیں ہوسکتا۔ دنیا کا کتنا ہی جدید معاشرہ ہو، موت کے بعد اس کی جو اقدار ہیں، اس میں تبدیلی لانے کی ہمت نہیں ہوتی۔ ہم اس معاشرے کے لوگ ہیں، اس زمین کی طاقت ہیں کہ ہم موت کے بعد کی روایتوں میں بھی اگر جدت کی ضرورت پڑتی ہے تو اس کو تسلیم کرنے کے لئے تیار ہوتے ہیں۔ اور اس لئے میں کہتا ہوں کہ یہ ملک مسلسل جدت، مسلسل نئی تبدیلی کو تسلیم کرنے کی صلاحیت والے ایک معاشرے کے نظام کا نتیجہ ہے کہ آج اس عظیم روایت کو رفتار دینا ہماری ذمے داری ہے۔ کیا ہم اسے رفتار دینے کا کام کررہے ہیں؟ ساتھیو، فائل کو ہی رفتار دینے سے زندگی نہیں بدلتی ہے، ہمیں اس میں ایک سماجی نظام کے تحت حکمرانی کی ایک صلاحیت ہوتی ہے کہ مجھے پوری معاشرتی زندگی کی قیادت کرنی ہے، یہ ہماری ذمے داری بن جاتی ہے اور وہ صرف سیاسی لیڈر کا کام نہیں ہوتا ہے۔ ہر شعبے میں بیٹھے ہوئے سول سروس کے میرے ساتھیوں کو قیادت پیش کرنی ہوگی اور معاشرے میں تبدیلی کے لئے قیادت کرنے کا کام کرنے کی خاطر خود کو تیار کرنا ہوگا اور تب جاکر ہم تبدیلی لاسکتے ہیں دوستو۔ اور تبدیلی لانے کی صلاحیت آج ملک میں ہے اور صرف ہم ہی یقین کے ساتھ جی رہے ہیں، ایسا نہیں ہے۔ پوری دنیا بہت بڑی امید کے ساتھ ہماری طرف دیکھ رہی ہے۔ اب ہماری ذمے داری بنتی ہے کہ اس کام کو پورا کرنے کے لئے ہم اپنے آپ کو تیار کریں۔ اب، جیسے ہم قاعدے قانون کے بندھن میں ایسے جکڑ جاتے ہیں ، کہیں ایسا کرکے جو ہمارے سامنے ایک نئی نسل تیار ہوئی ہے، جو نوجوان نسل تیار ہورہی ہے، کیا ہم اس کی ہمت کو، اس کی صلاحیت کو اپنے قوانین کے جنجال سے اسے جکڑ تو نہیں رہے ہیں نا؟  اس کی صلاحیتوں کو متاثر تو نہیں کررہے ہیں؟ اگر یہ کررہے ہیں تو شاید میں وقت کے ساتھ چلنے کی صلاحیت کھوچکا ہوں۔ میں تابناک مستقبل کے لئے، بھارت کے تابناک مستقبل کے لئے اپنے آپ کو، خود کو صحیح سمت میں، صحیح صلاحیت کے ساتھ چلاسکوں، وہ ہمت میں شاید کھوچکا ہوں۔ اگر میں اس سے باہر نکلتا ہوں  تو میں صورت حال کو بدل سکتا ہوں۔ اور ہمارے ملک نے آج بھی دیکھا ہوگا۔ اب یہ آئی ٹی سیکٹر، پوری دنیا میں بھارت کی جو شبیہ بنانے میں اگر کسی نے شروعاتی رول ادا کیا ہے تو ہمارے آئی ٹی سیکٹر کے 20، 22، 25 سال کے نوجوانوں نے کیا ہے۔ لیکن اگر فرض کرلیجئے کہ ہم لوگوں نے ہی اس میں اڑنگے لگادیے ہوتے، قانون و ضوابط میں اسے جکڑ دیا ہوتا تو نہ ہی ہمارا آئی ٹی سیکٹر اتنا پھلا پھولا ہوتا اور نہ ہی دنیا میں اس کا ڈنکا بجا ہوتا۔

دوستو،

ہم نہ تھے تو وہ لوگ آگے بھی بڑھ پائے۔ تو کبھی کبھی ہمیں بھی تو سوچنا چاہئے کہ دور رہ کر، تالی بجاکر، ہمت افزائی کرکے بھی دنیا کو بدلا جاسکتا ہے۔ آج ہم فخر کرسکتے ہیں اسٹارٹ اپس کے معاملے میں۔ 2022 کی ابھی تو پہلی سہ ماہی پوری ہوئی ہے، 2022 کی پہلی سہ ماہی میں تین مہینے کے مختصر عرصے میں میرے ملک کے نوجوانوں نے اسٹارٹ اپ کی دنیا میں 14 یونیکورن کی جگہ حاصل کرلی۔ دوستو، یہ بہت بڑی حصول یابی ہے۔ اگر 14 یونیکورن، تین مہینے کے اندر اندر میرے ملک کا نوجوان ان اونچائیوں کو حاصل کرسکتا ہے۔ ہمارا کیا رول ہے؟ کبھی کبھی تو ہمیں جانکاری بھی نہیں ہوتی ہے کہ میرے ضلع کا نوجوان تھا اور دوسرے درجے کے شہر کے ایک کونے میں بیٹھا ہوا کام کررہا تھا، اور اخبار میں آیا تو پتہ چلا کہ ارے وہ تو یہاں تک پہنچ گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ حکومتی نظام کے باہر بھی معاشرے کی صلاحیت کی قوت بہت بڑی ہوتی ہے۔ کیا میں اس کی پرورش کرسکتا ہوں کہ نہیں؟ میں اس کی ہمت افزائی کرتا ہوں کہ نہیں کرتا ہوں؟ میں اسے تسلیم کرتا ہوں یا نہیں کرتا ہوں؟ کہیں ایسا تو نہیں ہے کہ بھائی تو نے جو کرلیا سو کرلیا، لیکن پہلے کیوں نہیں ملے تھے؟ سرکار کے پاس کیوں نہیں آئے تھے؟ ارے نہیں آیا وہی تو ہے۔ آپ کا ٹائم خراب نہیں کیا لیکن آپ کو بہت کچھ دے رہا ہے۔ آپ اس کی حوصلہ افزائی کیجئے۔

ساتھیو،

میں نے دو چیزوں کا ذکر کیا ہے، لیکن ایسی بہت سی چیزیں ہیں، یہاں تک کہ زراعت کے شعبے میں، میں دیکھ رہا ہوں، ہمارے ملک کے کسان جدت کی طرف جارہے ہیں۔ شاید ان کی تعداد کم ہوگی، لیکن میری نظر میں کہیں اس میں کوئی رکاوٹ نہیں آئی ہے۔

اگر ساتھیو،

ہم اگر ان چیزوں کو کرتے ہیں تو میں سمجھتا ہوں کہ بہت بڑی تبدیلی آئے گی۔ ایک اور بات میں کہنا چاہتا ہوں، کبھی کبھی میں نے دیکھا ہے کہ صرف کھیلنا ہی زیادہ تر لوگوں کی فطرت کا حصہ بن جاتا ہے، ارے چھوڑو یار، چلو بھائی ہمیں کہاں کتنے دن رہنا ہے، ایک ضلع میں تو دو سال، تین سال بہت ہوگئے، چلے جائیں گے آگے۔ ہوا کیا؟ میں کسی کو دوش نہیں دیتا ہوں، لیکن جب ایک یقینی نظام مل جاتا ہے، زندگی کی سکیورٹی پکی ہوجاتی ہے تو کبھی کبھی مسابقت کا جذبہ نہیں رہتا ہے۔ لگتا ہے کہ اب تو یار سب کچھ مل گیا ہے، چلو نئی پریشانی کو کیوں مول لیں، زندگی تو چلی جانے والی ہے، بچے بڑے ہوجائیں گے، کہیں نہ کہیں موقع تو ملنا ہی ہے، ہمیں کیا کرنا ہے؟ اور اس میں سے خود کے تئیں بھی مایوس ہوجاتے ہیں۔ یہ زندگی جینے کا طریقہ نہیں ہے دوستو، خود کے لئے کبھی بھی مایوس نہیں ہونا چاہئے۔ جی بھر کے جینے کا مزہ لینا چاہئے اور کچھ کر گزرنے کا ہر پل کا حساب لیتے رہنا چاہئے۔ تب جاکر زندگی جینے کا مزہ آتا ہے۔ گزرے ہوئے پل میں میں نے کیا پایا، گزرے ہوئے پل میں میں نے کیا دیا، اس کا حساب کتاب کرنے کا اگر جذبہ نہیں ہے تو زندگی آہستہ آہستہ خود کو ہی خود سے مایوس کردیتی ہے اور پھر جینے کا وہ جذبہ نہیں رہتا ہے دوستو۔ میں تو کبھی کبھی کہتا ہوں کہ ستاروادک اور ایک ٹائیپسٹ دونوں کا فرق دیکھا ہے کیا؟ ایک کمپیوٹر آپریٹر انگلیوں سے کھیل کرتا ہے، لیکن 45 – 50 کی عمر پر پہنچتے ہوئے کبھی ملے گا تو بڑی مشکل سے اوپر دیکھتا ہے۔ ایک دو بار میں تو وہ سنتا بھی ہے۔ بڑی خوشامد سے کہو، ہاں صاحب کیا تھا، آدھی مری ہوئی زندگی جی رہا ہے وہ، زندگی بوجھ بن گئی ہے، کرتا تو انگلی کا ہی کام ہے۔ ٹائپ رائٹر پر انگلیاں ہی گھماتا ہے۔ دوسری طرف ایک ستاروادک، وہ بھی تو انگلیوں کا کھیل کرتا ہے، لیکن اس سے 80 سال کی عمر میں ملئے، چہرے پر رونق نظر آئے گی۔ زندگی بھری ہوئی نظر آتی ہے، خوابوں میں جینے والا انسان نظر آتا ہے دوستو۔ انگلیوں کے یہ کھیل دونوں نے کھیلے ہیں، لیکن ایک چلتے چلتے مرتا چلا جاتا ہے، دوسرا چلتے چلتے جیتا چلا جاتا ہے۔ کیا یہ تبدیلی زندگی کو اندر سے جینے کا ہمارا جذبہ ہوتا ہے تب جاکر زندگی بدلی جاتی ہے اور اس لئے میں کہتا ہوں ساتھیو، میری اسٹریم میں ملک کے ہر کونے میں لاکھوں میرے ساتھی ہیں، ان کی زندگی میں رونق ہونی چاہئے، صلاحیت ہونی چاہئے، کچھ کر گزرنے کا عہد ہونا چاہئے تبھی تو زندگی جینے کا مزہ آتا ہے دوستو۔ کبھی کبھی لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ صاحب تھکتے نہیں ہو؟ شاید یہی وجہ ہے جو مجھے تھکنے نہیں دیتی ہے۔ میں لمحہ لمحہ جینا چاہتا ہوں۔ لمحہ لمحہ جی کرکے اوروں کے جینے کے لئے جینا چاہتا ہوں۔

ساتھیو،

اس کا نتیجہ کیا آیا ہے؟ نتیجہ یہ آیا ہے کہ ہم جہاں بھی جاتے ہیں، اپنے آپ کو اس میں ڈھال لیتے ہیں اور اس میں تو آپ کی ماسٹری ہے، اپنے آپ کو ڈھال لینے میں۔ کسی کو یہ اچھا لگتا ہوگا، لیکن مجھے ایسا لگتا ہے کہ شاید یہ زندگی نہیں ہے دوستو۔ جہاں ضرورت ہے وہاں تو ڈھال لیں اور جہاں ضرورت ہے وہاں ڈھال بن جائیں۔ لیکن ضرورت ہے وہاں ڈھال بن کر اس میں تبدیلی کے لئے بھی قدم اٹھائیں۔ یہ بھی ضرورت ہوتی ہے۔ کیا ہم نے حکمرانی میں آسانی سے اصلاحات کی ہیں، یہ ہماری سہل پسندی کی فطرت بن گئی ہے، چھوٹی چھوٹی چیزوں کے لئے کمیشن بنانا پڑے۔ اخراجات کم کرو، کمیشن بٹھاؤ۔ حکمرانی میں تبدیلی لاؤ کمیشن بٹھاؤ۔ چھ مہینے کے، بارہ مہینے کے بعد رپورٹ آئے، پھر رپورٹ دیکھنے کے لئے ایک اور کمیٹی بناؤ۔ اس کمیٹی کی نفاذ کے لئے پھر ایک اور کمیشن بناؤ۔ اب یہ جو ہم نے کیا ہےاس کی اصل حقیقت یہ ہے کہ حکمرانی میں اصلاحات وقت کے مطابق تبدیلی بہت ضروری ہوتی ہے جی۔ کبھی جنگ ہوتی تھی تو ہاتھی ہوتے تھے، ہاتھی والوں نے ہاتھی چھوڑکر گھوڑے پکڑے، آج نہ ہاتھی چلتا ہے نہ گھوڑا چلتا ہے، کچھ اور ضرورت پڑتی ہے۔ یہ اصلاحات درست ہوتی ہیں لیکن جنگ کا دباؤ ہمیں ریفارم کرنے کے لئے مجبور کرتا ہے۔ ہمیں ملک کی امیدیں اور آرزوئیں مجبور کررہی ہیں یا نہیں کررہی ہیں، جب تک ملک کی امیدوں – آرزوؤں کو ہم سمجھ نہیں پاتے، تب ہم خود بخود حکمرانی میں ریفارم نہیں کرسکتے ہیں۔ حکمرانی میں ریفارم ایک مسلسل عمل ہونا چاہئے۔ آسان عمل ہونا چاہئے اور تجربے پر مبنی نظام ہونا چاہئے۔ اگر تجربہ کامیاب نہیں ہوا تو چھوڑکر چلے جانے کی ہمت ہونی چاہئے۔ اپنے ہی ذریعےکی گئی غلطی کو تسلیم کرتے ہوئے مجھے نئی چیز تسلیم کرنے کی ہمت ہونی چاہئے تب جاکر تبدیلی آتی ہے جی۔ اب آپ دیکھئے، سیکڑوں قانون ایسے تھے، میں مانتا ہوں کہ ملک کے شہریوں کے لئے بوجھ بن گئے تھے۔ مجھے جب 2013 میں پہلی مرتبہ وزیر اعظم کے عہدے کے امیدوار کے طور پر میری پارٹی نے اعلان کیا اور میں تقریر کررہا تھا تو دہلی میں ایک کاروباری کمیونٹی نے مجھے بلایا تھا، چناؤ کے چار چھ مہینے ابھی باقی تھے، 2014 کے۔ تو انھوں نے مجھ سے پوچھا کہ کیا کروگے؟ میں نے کہا میں روز ایک قانون ختم کروں گا، ایک قانون نہیں بناؤں گا۔ تو انھیں تعجب ہوا اور میں نے پہلے پانچ سال میں 1500 قانون ختم کئے تھے۔ مجھے بتائیے ساتھیو، ایسے قانون کو لے کر ہم کیوں زندہ ہوتے اور مجھے آج بھی - - - - میرے خیال سے کئی ایسے قانو ن ہوں گے جو بے وجہ پڑے ہوئے ہیں، ارے آپ تو کوئی پہل کرکے انھیں ختم کرو بھائی۔ ملک کو اس جنجال سے باہر نکالو۔ اسی طرح سے عمل آوری، ہم نہ جانے شہریوں سے کیا کیا طلب کرتے رہتے ہیں۔ مجھ سے کابینہ سکریٹری نے کہاکہ باقی دنیا کے دیش کے کام ہوں گے، آپ اس کی ذمے داری لیجئے، اس عمل آوری سے ملک کو آزاد کیجئے، شہریوں کو آزاد کیجئے۔ آزادی کے 75 سال ہوئے، شہریوں کو اس جنجال میں کیوں پھانس کر رکھا ہوا ہے، ایک اور دفتر میں چھ لوگ بیٹھے ہوں گے، ہر ٹیبل والے کے پاس جانکاری ہوگی، لیکن پھر بھی وہ الگ سے مانگیں گے۔ برابر والے سے نہیں لے گا۔ اتنی چیزیں ہم شہریوں سے بار بار مانگتے آرہے ہیں۔ آج ٹیکنالوجی کا دور ہے۔ ہم ایسا نظام کیوں نہ قائم کریں، ہم عمل آوری سے، اس بوجھ سے ملک کو آزاد کیوں نہ کریں۔ میں تو حیران ہوں، ابھی ہمارے کابینہ سکریٹری نے ایک بیڑا اٹھایا ہے۔ میں نے ایک ایسا قانون دیکھا ہے کہ اگر کارخانے میں جو ٹوائلٹ ہے اس میں ہر چھ مہینے میں سفیدی نہیں کرائی جاتی تو آپ جیل جائیں گے، اب بتائیے؟ ہم کیسے ملک کو آگے لے جانا چاہتے ہیں؟ اب ان ساری چیزوں سے آزادی چاہئے۔ اب یہ آسان عمل ہونا چاہئے، اس کے لئے کوئی سرکلر نکالنے کی ضرورت نہیں ہونی چاہئے۔ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ ریاستی سرکار کے بس کا کام ہے، ریاستی سرکار کو بتائیے، بھارت سرکار کی ذمے داری ہے تو انھیں بتائیے۔ ہچکچائیے نہیں۔ کہنا یہ ہے کہ جتنا ہم شہری کو اس بوجھ سے آزاد کریں گے، اتنا ہی ہمارا شہری کھلے گا۔ ہمیں چھوٹی سی سمجھ ہے، بڑے پیڑ کے نیچے کتنا ہی اچھا پھول کا پودا لگانا چاہتے ہیں، لیکن بڑے کے سائے کا دباؤ اتنا ہی ہوتا ہے کہ وہ پھول نہیں پاتا ہے۔ وہی پودا اگر کھلے آسمان کے نیچے چھوڑ دیا جائے، وہ بھی قوت کے ساتھ کھڑا ہونا چاہتا ہے، اسے اس بوجھ سے باہر نکال دیجئے۔

ساتھیو،

عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ جیسا چل رہا ہے، اسی نظام میں میں نے کہا ویسے ڈھالتے رہو، جیسے تیسے گزارا کرتے ہیں، وقت کاٹنے کی کوشش کرتے ہیں۔ گزشتہ 7 دہائیوں میں اگر ہم اس کا تجزیہ کریں تو ایک بات آپ کو ضرور دکھے، جب بھی کوئی پریشانی آئی ، کوئی قدرتی مصیبت آئی اور کوئی خاص قسم کا دباؤ پیدا ہوا تو پھر ہم نے تبدیلی کی، کورونا آیا تو دنیا بھر کے بدلاؤ ہم نے کئےاپنے حق میں، لیکن کیا یہ صحت مند صورتحال ہے؟ بڑا پریشر آجائے تب جاکر کے ہم بدلے، یہ کوئی طریقہ ہے کیا؟ ہم اپنے آپ کو کیوں نہ سنواریں۔ دوستوں اور اس لیے ہم نے مصیبت کے وقت میں راستہ تلاش کرنے۔۔۔ اب ایک وقت تھا ہم کمی میں گزارا کرتے تھے اور اس لئے ہمارے سارے جو قانون ترقی کئے وہ کمی کے درمیان کیسے جینا، وہ بنے، لیکن اب کمی سے جب باہر آئے ہیں تو قانون بھی تو کمی سے باہر لائیے بھیا، کثرت کی طرف کیا سوچنا چاہئے اس پر ہم سوچیں۔ اگر کثرت کے لئے ہم نہیں سوچیں گے، اگر ایگری کلچر میں آگے بڑھ رہے ہیں، اگر فوڈ پروسیسنگ کا نظام پہلے کردی ہوتی تو آج کبھی کبھی کسانوں پر جو چیزیں بوجھ بن جاتی ہیں وہ شاید نہ بنتیں اور اس لئے میں کہتا ہوں کہ مصیبت میں سے راستے تلاش کرنے کا تو طریقہ سرکار نے سیکھ لیا ہے، لیکن مستقل طور پر نظاموں کو ترقی دینا، یہ ہم لوگوں کا۔۔۔ اور ہمیں وزوالائز کرنا چاہئے کہ ہمیں یہ ۔ یہ مشکلیں آتی ہیں، یہ مشکلیں ختم کیسے ہوں، اس کے لئے حل کیا نکلے، اس کے لئے کام کرنا چاہئے۔ اسی طرح سے ہمیں چیلنجوں کے پیچھے مجبوراً بھاگنا پڑے۔ یہ ٹھیک نہیں ہے جی۔ ہمیں چیلنجوں کو محسوس کرنا چاہئے، اگر ٹکنالوجی نے دنیا بدلی ہے تو مجھے اس گورننس میں اس کے ساتھ آنے والے چیلنجوں کا مجھے پتہ ہونا چاہئے۔ میں اپنے آپ کو اس کے لئے سنواروں۔ اور اس لئے میں چاہوں گا کہ گورننگ ریفارم یہ ہمارامعمول کا کام ہونا چاہئے۔ لگاتار کوشش ہونی چاہئے اور میں تو کہوں گا کہ جب بھی ہم ریٹائر ہوجائیں تو من میں سے ایک آواز نکلنی چاہئے کہ میرے دور میں میں نے گورننس میں اتنے اتنے ریفارم کئے اور وہ نظام تیار کی جو شاید آنے والے 30-25 سال تک ملک کو کام آنے والی ہیں اگر یہ بدلاؤ ہوتا ہے تو تبدیلی آتی ہے۔

ساتھیو،

گزشتہ 8 سالوں کے دوران ملک میں کئی بڑے کام ہوئے ہیں۔ ان میں سے کئی مہم ایسی ہیں جن کی اصل میں بیہیورل چینج ہے۔ یہ مشکل کام ہوتا ہے اور قائد تو اس میں کبھی ہاتھ لگانے کی ہمت ہی نہیں کرتا ہے، لیکن میں سیاست سے بہت پرے ہوں دوستو، جمہوریت میں ایک نظام ہے، مجھے حکومتی نظام سے گزر کر آنا پڑا ہے وہ الگ بات ہے۔ میں بنیادی طور پر سیاست کے مزاج کا نہیں ہوں۔ میں عوام کی سیاست سے جڑا ہوا انسان ہوں۔ عام لوگوں کی زندگی سے جڑا ہوا انسان ہوں۔

یہ جو بیہیورل چینج کی میری جو کوشش رہی ہے، سماج کے روز مرہ کی چیزوں میں تبدیلی لانے کی جو کوشش ہوئی ہے،عام سے عام آدمی کی زندگی میں تبدیلی لانے کی میری جو امید اور توقعات ہیں اسی کا یک حصہ ہے اور جب میں سماج کی بات کرتا ہوں تو حکمرانی میں میں سمجھتا ہوں کہ بیٹھے لوگ الگ نہیں ہیں اس سے۔ وہ کسی دوسرے کرہ سے نہیں آئے ہیں۔ وہ بھی اسی کا حصہ ہیں۔ کیا ہم یہ جو تبدیلی کی بات کرتے ہیں، میں دیکھتا ہوں کبھی افسر مجھے شادی کا کارڈ دینے آتے تو میرا تو مزاج ہے، میں چھوڑ نہیں پاتا ہوں اور میں ذرا ، میرے پاس آتے ہیں تو بڑا مہنگا کارڈ نہیں لے کے آتے ہیں، بہت ہی سستا کارڈ لاتے ہیں، لیکن اس پر پلاسٹک کا کور ہوتا ہے۔ ٹرانسپیرینٹ، تو میں آسانی سے پوچھتا ہوں کہ یہ سنگل یوز پلاسٹک ابھی بھی استعمال کرتے ہیں آپ؟ تو بیچارے شرمندگی محسوس کرتے ہیں۔ میرا کہنا یہ ہے جو ہم ملک سے امید کرتے ہیں کہ بھائی سنگل یوز پلاسٹک استعمال نہ کریں، چاہے میرے دفتر میں میں جہاں ہوں، میں کام کرتا ہوں، کیا میں اپنی زندگی میں تبدیلی لارہا ہوں۔ میں نظام میں بدلاؤ لارہا ہوں۔ میں چیزوں کو چھوٹی چھوٹی چیزوں کو اس لئے ہاتھ لگاتا ہوں کہ ہم بڑی چیزوں میں اتنے کھوئے ہوئے ہیں کہ چھوٹی چیزوں سے دور چلے جاتے ہیں اور جب چھوٹی چیزوں سے دور چلے جاتے ہیں تب چھوٹے لوگوں سے بھی دیواریں بن جاتی ہیں دوستو، مجھے ان دیواروں کو توڑنا ہے۔ اب صفائی کی مہم، مجھے کوشش کرنی پڑتی ہے، ہر 15 دن میں ڈپارٹمنٹ میں کیا چل رہا ہے، دیکھوں سووچھتا کا کچھ ہورہا ہے۔ کیا اتنے دو سال، تین سال، پانچ سال ہوگئے دوستو، کیا اب وہ ہمارے ڈپارٹمنٹ میں وہ مزاج بننا چاہئے کہ نہیں بننا چاہئے؟ اگر یہ مزاج نہیں بنا ہے تو ملک کے عام شہریوں سے اس کا وہ مزاج بن جائے گا، یہ امید کرنا  اگر زیادہ ہی ہوگا اور اس لئے میں کہتا ہوں ساتھیو ہم نے اس کے نظام کو قبول کیا۔ اب ہم ڈیجیٹل انڈیا کی بات کرتے ہیں۔ ایک فن ٹیک کا تذکرہ کرتے ہیں۔ بھارت نے فن ٹیک میں جو رفتار لائی ہے، ڈیجیٹل پیمنٹ کی دنیا میں جو قدم اٹھایا، جب کاشی کے کسی نوجوان کو انعام ملتا ہے ہمارے افسر کو تو تالی بجانے کا من تو کرجاتا ہے کیوں، کیوں کہ وہ ریہڑی پٹری والا کوئی ڈیجیٹل پیمنٹ کا کام کررہا ہے اور ہمیں وہ تصویر پر دیکھ کرکے اچھا لگتا ہے، لیکن میرا بابو وہ ڈیجیٹل پیمنٹ نہیں کرتا ہے۔ اگر میرے نظام میں بیٹھا ہوا انسان وہ کام نہیں کرتا ہے مطلب میں اسے عوامی تحریک بنانے میں رکاوٹ بنا ہوں۔ سول سروس ڈے میں ایسی باتیں کرنی چاہئے یا نہیں کرنی چاہئے، اختلاف ہوسکتا ہے، آپ تو دو دن بیٹھنے والے ہو تو میری بھی بال کی کھال اتار لوگے، مجھے پتہ ہے۔ لیکن پھر بھی ساتھیو میں کہتا ہوں جو چیزیں اچھی لگتی ہیں، جو ہم سماج سے امید کرتے ہیں اس کا کہیں نہ کہیں ہمیں اپنے سے بھی شروع کرنا چاہئے، ہمیں یہ کوشش کرنی چاہئے۔ اگر ہم ان چیزوں کی کوشش کریں گے تو ہم بہت بڑی تبدیلی لاسکتے ہیں۔ ہم کوشش کریں، اب جیم پورٹل ، کیا بار بار سرکلر نکالنا پڑے گا کیا کہ ہم اپنے ڈپارٹمنٹ کے جیم پورٹل پر سو فیصد کیسے لے جائیں؟ ایک طاقت ور ذریعہ بنا ہے دوستو، ہمارا یو پی آئی گلوبلی اپریشیٹ ہورہا ہے۔ کیا میرے موبائل فون پر یو پی آئی کی سہولت ہے کیا؟ میں یو پی آئی کی عادت ڈال چکا ہوں کیا؟ میرے خاندان کے ممبران نے ڈالا ہوا ہے کیا؟ بہت بڑی طاقت ہمارے ہاتھ میں ہے لیکن اگر میں، میری یوپی آئی کو قبول نہیں کرتا ہوں اور میں کہوں گا کہ گوگل تو باہر کا ہے، دوستو اگر ہمارے دل میں اگر یو پی آئی کے اندر وہ مطلب ہوتا تو ہماری یو پی آئی بھی گوگل سے آگے نکل سکتی ہے۔ اتنی طاقت رکھ سکتا ہے۔ فن ٹیک کی دنیا میں نام رکھ سکتا ہے۔ ٹکنالوجی کے لئے فل پروف ثابت ہوچکا ہے۔ ورلڈ بینک اس کی تعریف کررہا ہے۔ ہمارے اپنے نظام میں وہ حصہ کیوں نہیں بنتا ہے۔ پیچھے پڑتے ہیں تو کرتے ہیں میں نے دیکھا ہے۔ میں نے دیکھا ہے کہ ہمارے جتنے یونیفارم فورسیز ہیں انہوں نے اپنی کینٹین کے اندر لازمی کردیا ہے۔  وہ ڈیجیٹل پیمنٹ ہی لیتے ہیں، لیکن آج بھی ہمارے سکریٹریٹ کے اندر کینٹین ہوتے ہیں، وہاں نہیں ہےانتظام۔ کیا یہ بدلاؤ ہم نہیں لاسکتے ہیں کیا؟ باتیں چھوٹی لگتی ہوں گی لیکن اگر ہم کوشش کریں دوستو، تو ہم بہت بڑی باتوں کو کرسکتے ہیں اور ہمیں آخری فرد تک مناسب فائدہ پہنچانے کے لئے ہمیں مسلسل ایک پرفیکٹ سیم لیس میکانزم کھڑے کرتے رہنا چاہئے اور جتنا زیادہ ہم اس میکانزم کو کھڑا کریں گے، میں سمجھتا ہوں کہ ملک کا آج آخری فرد کا امپاورمنٹ کا ہمارا جو مشن ہے اس مشن کو بہت اچھے ڈھنگ سے آج ہم پورا کرسکتے ہیں۔

ساتھیو،

میں نے کافی وقت لیا ہے آپ کا، کئی موضوعات پر میں نے آپ سے بات کی ہے، لیکن میں چاہوں گا کہ ہم ان چیزوں کو آگے بڑھائیں۔ اس سول سروس ڈے ہمارے اندر ایک نئی توانائی بھرنے کا موقع بننا چاہئے۔ نئے عہد لینے کا موقع بننا چاہئے۔ نئے جوش اور جذبے سے جو نئے لوگ ہمارے درمیان آئے ہیں ان کا ہینڈ ہولڈنگ کریں۔ ان کو بھی اس نظام کا حصہ بننے کے لئے جوش سے بھر دیں۔ ہم خود زندہ دل زندگی جیتے ہوئے اپنے ساتھیو کو آگے بڑھائیں۔ اسی ایک امید کے ساتھ میری آپ سب کو بہت بہت نیک خواہشات۔ بہت بہت شکریہ!

Explore More
لال قلعہ کی فصیل سے، 76ویں یوم آزادی کے موقع پر، وزیراعظم کے خطاب کا متن

Popular Speeches

لال قلعہ کی فصیل سے، 76ویں یوم آزادی کے موقع پر، وزیراعظم کے خطاب کا متن
'India on track to attract $100 billion FDI this fiscal: Govt

Media Coverage

'India on track to attract $100 billion FDI this fiscal: Govt
...

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
PM pays homage to Pandit Deen Dayal Upadhyaya on his Jayanti
September 25, 2022
Share
 
Comments

The Prime Minister, Shri Narendra Modi has paid homage to Pandit Deen Dayal Upadhyaya on his Jayanti.

In a tweet, the Prime Minister said;

"I pay homage to Pandit Deen Dayal Upadhyaya Ji on his Jayanti. His emphasis on Antyodaya and serving the poor keeps inspiring us. He is also widely remembered as an exceptional thinker and intellectual."