وزیراعظم نے ایک لاکھ کروڑ روپے کی تحقیق، ترقی اور اختراع سے متعلق اسکیم کا آغاز کیا
ہم تحقیق میں آسانی پر توجہ دے رہے ہیں تاکہ بھارت میں اختراع کا ایک جدید ماحولیاتی نظام پروان چڑھ سکے: وزیراعظم
جب سائنس بلندی طے کرتی ہے، جب اختراع شمولیاتی ہوتی ہے اور جب ٹیکنالوجی بڑی تبدیلی کی محرک بنتی ہے، تب عظیم کامیابیوں کی بنیاد رکھی جاتی ہے: وزیر اعظم
بھارت اب ٹیکنالوجی کا محض صارف نہیں رہا، بلکہ ٹیکنالوجی کے ذریعے تبدیلی کا علمبردار بن چکا ہے: وزیر اعظم
آج بھارت کے پاس دنیا کا سب سے کامیاب ڈیجیٹل عوامی بنیادی ڈھانچہ ہے: وزیر اعظم
آج بھارت اخلاقی اور انسان پر مرکوز مصنوعی ذہانت(اے آئی) کے عالمی فریم ورک کو تشکیل دے رہا ہے: وزیر اعظم

ملک کے سائنس و ٹیکنالوجی کے وزیر ڈاکٹر جیتندر سنگھ جی،حکومت ہند کے پرنسپل سائنٹیفک ایڈوائزر اجے کمار سود، ہمارے درمیان موجود نوبیل انعام یافتہ سر آندرے گائم، ملک اور بیرون ملک سے آئے تمام سائنس دانوں،اخترا کاروں،ماہرین تعلیم و دیگر معزز مہمان، خواتین و حضرات!

آج کا یہ پروگرام سائنس سے متعلق ہے، لیکن میں سب سے پہلے کرکٹ میں ہندوستان کی شاندار فتح کا ذکر کرنا چاہوں گا۔ پورا ہندوستان اپنی کرکٹ ٹیم کی کامیابی سے بہت خوش ہے۔ یہ ہندوستان کاخواتین کے عالمی کپ میں پہلا خطاب ہے۔ میں خواتین کرکٹ ٹیم کو دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ ہمیں آپ پر فخر ہے۔ آپ کی یہ کامیابی ملک کے کروڑوں نوجوانوں  کے باعث تحریک ہوگی۔

 

ساتھیو،

کل ہندوستان نے سائنس اور ٹیکنالوجی کی دنیا میں بھی اپنا پرچم بلند کیا ہے۔ کل ہندوستان کے سائنسدانوں  نے ملک کے سب سے بھاری مواصلاتی سیٹلائٹ کو کامیابی کے ساتھ لانچ کیا ہے۔ میں اس مشن سے جڑے تمام سائنسدانوں اور اسرو کو تہہ دل سے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔

ساتھیو،

آج بھی سائنس اور ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک بہت بڑا دن ہے۔ اکیسویں صدی کے اس دور میں یہ بہت ضروری تھا کہ ابھرتی ہوئی سائنس(، ٹیکنالوجی اور اختراعات (ایمرجنگ سائنس ، ٹکنالوجی  اینڈ انوویشن) پر گفتگو کے لیے دنیا بھر کے ماہرین ایک جگہ جمع ہوں اور مل کر مستقبل کی سمت طے کریں۔ اسی ضرورت نے ایک خیال کو جنم دیا اور اسی خیال سے اس کانکلیو کا وِژن تیار ہوا۔ مجھے خوشی ہے کہ آج وہ وِژن اس کانکلیو کی شکل اختیار کر رہا ہے۔ کئی وزارتیں، پرائیویٹ سیکٹر، اسٹارٹ اپس اور طلبہ اس کوشش میں ایک ساتھ شامل ہیں۔ یہ ہمارے لیے فخر کی بات ہے کہ آج ہمارے درمیان ایک نوبیل انعام یافتہ شخصیت بھی موجود ہیں۔میں آپ سبھی کا دل کی گہرائیوں سے استقبال کرتا ہوں اور اس کانکلیو کے لیے آپ سب کو بے شمار نیک خواہشات پیش کرتا ہوں۔

ساتھیو،

اکیسویں صدی کا یہ دور بے مثال تبدیلیوں کا دور ہے۔ آج ہم عالمی نظام میں ایک نئے تغیر کو دیکھ رہے ہیں۔ یہ تبدیلی محض خطی رفتار سے نہیں بلکہ بہت تیز(exponential ) رفتار سے آگے بڑھ رہی ہے۔ اسی سوچ کے ساتھ آج  ہندوستان ایمرجنگ سائنس، ٹکنالوجی اینڈ انوویشن کے تمام شعبوں کو آگے بڑھا رہا ہے اور مسلسل ان پر توجہ مرکوز کر رہا ہے۔مثال کے طور پر تحقیقاتی فنڈنگ کو ہی لیجیے۔ آپ سب ’’جے جوان، جے کسان‘‘ کے نعرے سے تو لمبے عرصے سے واقف ہیں۔ تحقیق اور توجہ کے ساتھ ہم نے اس میں ’’جے وگیان اور جے انوسندھان‘‘ بھی جوڑاہے۔ ہم نے ’’انوسندھان نیشنل ریسرچ فاؤنڈیشن‘‘ قائم کیا ہے تاکہ ہماری یونیورسٹیوں میں تحقیق اور اختراع کومزید وسعت دی جاسکے۔ اس کے ساتھ ہم نے ’’ریسرچ، ڈیولپمنٹ اینڈ انوویشن اسکیم‘‘ بھی شروع کی ہے اور اس کے لیے ایک لاکھ کروڑ روپے مختص کیے ہیں۔آپ سوچ رہے ہوں گے کہ یہ ایک لاکھ کروڑ روپے مودی جی کے خزانے میں ہی رہنے والا ہے، اسی لیے تالیاں نہیں بجا رہے ہیں! (ہنستے ہوئے) نہیں — یہ ایک لاکھ کروڑ روپے آپ کے لیے ہیں، آپ کی صلاحیتیں بڑھانے کے لیے ہیں، آپ کے لیے نئے مواقع کے دروازے کھولنے کے لیے ہیں۔

 

ہماری کوشش ہے کہ پرائیویٹ سیکٹر میں بھی تحقیق اور ترقی کو فروغ ملے۔ پہلی بار، ہائی رسک اور ہائی امپیکٹ پروجیکٹس کے لیے بھی سرمایہ فراہم کیا جا رہا ہے۔

ساتھیو،

ہندوستان میں جدید اختراعات کا ایک مضبوط ماڈرن ایکو سسٹم تیار ہو، اس کے لیے ہم ایز آف ڈوئنگ ریسرچ پر بھی خاص توجہ دے رہے ہیں۔ اس سمت میں ہماری حکومت نے مالیاتی اصولوں اور خریداری پالیسیوںمیں کئی اہم اصلاحات کی ہیں۔ ہم نے ریگولیشن، ترغیبات اور سپلائی چینز میں بھی اصلاحات کی ہیں تاکہ پروٹوٹائپ جلد سے جلد لیب سے نکل کر مارکیٹ تک پہنچ سکیں۔

ساتھیو،

ہندوستان کو تخلیق کا مرکز بنانے کے لیے گزشتہ چند برسوں میں جو پالیسیاں بنیں، جو فیصلے کیے گئے، ان کے نتائج اب بالکل صاف نظر آ رہے ہیں۔ میں آپ کے سامنے بڑے اطمینان کے ساتھ کچھ اعداد و شمار رکھنا چاہتا ہوں۔ ویسے میں مزاجاً جلد مطمئن ہونے والا انسان نہیں ہوں، لیکن یہ اطمینان میرا گزرے ہوئے کل کے پس منظر میں ہے، آنے والے کل کے حوالے سے میرا اطمینان ابھی بہت باقی ہے — ہمیں  ابھی بہت آگے جانا ہے۔گزشتہ دہائی میں ہماراآر اینڈ ڈی(ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ) اخراجات دوگنا ہوا ہے۔ ہندوستان میں رجسٹر کیے گئے پیٹنٹس کی تعداد 17 گنا بڑھی ہے — 17؍ گنا کا اضافہ اسٹارٹ اپس کے میدان میں بھی ہندوستان آج دنیا کا تیسرا سب سے بڑا اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم بن چکا ہے۔ ہمارے 6,000 سے زیادہ ڈیپ ٹیک اسٹارٹ اپ آج صاف توانائی، جدید مادّوں (Advanced Materials) جیسے شعبوں میں کام کر رہے ہیں۔ہندوستان کا سیمی کنڈکٹر سیکٹر بھی اب تیزی سے ترقی کر رہا ہے۔ بایو اکنامی کی بات کریں تو 2014 میں یہ 10 بلین ڈالر کی تھی اور آج یہ بڑھ کر تقریباً 140 بلین ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔

ساتھیو،

گزشتہ چند برسوں میں ہم نے کئیابھرتے ہوئے شعبوں میں بھی نمایاں پیش قدمی کی ہے۔ گرین ہائیڈروجن، کوانٹم کمپیوٹنگ، گہرے سمندر کی تحقیق، انتہائی اہم معدنیات — ان تمام شعبوں میں ہندوستان نے اپنی امید افزا موجودگی درج کرائی ہے۔

 

ساتھیو،

جب سائنس کو اسکیل ملتا ہے، جب انویشن انکلوسیو بنتا ہے اور جب ٹیکنالوجی تبدیلی لاتی ہے، تو بڑی کامیابیوں کی بنیاد مضبوط ہو جاتی ہے۔ گزشتہ 10–11 برسوں میں ہندوستان کی ترقی کی یہ کہانی اسی وژن کی مثال ہے۔ آج  ہندوستان صرف ٹیکنالوجی کا صارف ہیں رہا، بلکہ ٹیکنالوجی کے ذریعے تبدیلی لانے والاقائدبن چکا ہے۔کووِڈ کے دوران ہم نے ریکارڈ وقت میں اپنی دیسی ویکسین تیار کی۔ ہم نے دنیا کا سب سے بڑا ویکسی نیشن پروگرام کامیابی سے چلایا۔

ساتھیو،

اتنے وسیع پیمانے پر پالیسیوں اور پروگراموں کو کامیابی سے نافذ کرنا — یہ کیسے ممکن ہوتا ہے؟ یہ اسی لیے ممکن ہو پایا ہے، کیونکہ آج دنیا کا سب سے پہلا اور سب سے کامیاب ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر اگر کسی ملک کے پاس ہے، تو وہ ملک ہندوستان ہے۔ ہم نے دو لاکھ گرام پنچایتوں کو آپٹیکل فائبر سے جوڑا ہے۔ موبائل ڈیٹا کوعام لوگوں کی پہنچ میں لایا ہے ۔

ساتھیو،

گزشتہ برسوں میں اگر ہمارا اسپیس پروگرام چاند اور مریخ تک پہنچا، تو دوسری طرف ہم نے اپنے کسانوں اور ماہی گیروں کو بھی خلائی سائنس کے فائدے سے جوڑا اوریقینی طور پر  ان تمام کامیابیوں کے پیچھے آپ سب کا بڑا کردار ہے۔

ساتھیو،

جب اختراع جامع ہوتی ہے، تو اس کے اصل مستفدین ہی اس کے راہنما بھی بن جاتے ہیں۔ہندوستان کی خواتین اس کی سب سے بڑی مثال ہیں۔
آپ دیکھئے، دنیا میں جب ہندوستان کے اسپیس مشنز کی بات ہوتی ہے تو وہاں ہندوستانی خواتین سائنسدانوں کا ذکر کافی زیادہ ہوتا ہے۔

پیٹنٹ فائلنگ میں بھی ہندوستان کی خواتین کے ذریعہ سالانہ در درج کیے جانے والے پیٹنٹس کی تعداد 100 سے کم تھی۔ آج یہ تعداد سالانہ 5 ہزار سے بھی زیادہ ہو چکی ہے۔اسٹیم ایجوکیشن میں بھی خواتین کا حصہ تقریباً 43 فیصد ہے، جو کہ عالمی اوسط سے بھی زیادہ ہے۔میں ایک ترقی یافتہ ملک کے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے وزیر کے ساتھ لفٹ میں اوپرجا رہا تھا۔ لفٹ میں ان سے باتیں ہوئیں، تو انہوں نے مجھےپوچھا  کہ کیا ہندوستان میں لڑکیاں سائنس اور ٹیکنالوجی جیسے مضامین میں جاتی ہیں؟"یہ بات ان کے لیے واقعی حیران کن تھی۔ جب میں نے انہیں ہمارے ملک کا یہ اعداد و شمار بتایا، تو وہ حیرت زدہ رہ گئے۔یہ ہندوستان کی بیٹیوں نے کر کے دکھایا ہے اور آج بھی میں یہاں دیکھ رہا ہوں — کتنی بڑی تعداد میں ہماری بیٹیاں اور بہنیں موجود ہیں۔ یہ اعداد و شمار اس بات کا ثبوت ہیں کہ ہندوستان میں سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں خواتین کس تیزی سے آگے بڑھ رہی ہیں۔

 

ساتھیو،

تاریخ میں کچھ ایسے لمحے آتے ہیں جو کئی نسلوں کو تحریک ملتی ہے، چندبرس قبل ہمارے بچوں نے چندریان کا سفر دیکھا، اس کی کامیابی دیکھی اور یہ کامیابی سائنس کے تئیں انہیں بے مثال انداز میں متوجہ کرنے کا ذریعہ بنی، ایک موقع بن گئی اور انہوں نے ناکامی اور کامیابی دونوں کو دیکھا تھا۔ حال ہی میں گروپ کیپٹن شبھانشو شکلا کے اسپیس اسٹیشن کے سفر نے بچوں میں ایک نئی جستجو پیدا کی ہے۔ ہمیں نئی نسل میں پیدا ہونے والی اس تجسس کا بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے۔

ساتھیو،

جتنے زیادہ روشن دماغ نوجوانوں کو ہم سائنس، ٹیکنالوجی اور اختراع کی راہ پر لے جا سکیں، اتنا ہی بہتر ہوگا۔ اسی سوچ کے ساتھ ملک بھر میں تقریباً 10 ہزار اٹل ٹنکرنگ لیبز قائم کی گئی ہیں۔ ان میں ایک کروڑ سے زیادہ بچے تجسس اور تخلیقی صلاحیت کے ساتھ تجربات کر رہے ہیں اور آپ کو یہ جان کر خوشی ہوگی کہ ان لیبز کی کامیابی کو دیکھتے ہوئے ہم مزید 25 ہزار نئی اٹل ٹنکرنگ لیبز قائم کرنے جا رہے ہیں۔ گزشتہ چند برسوں میں ملک میں سیکڑوں نئی یونیورسٹیز قائم کی گئی ہیں، 7 نئی آئی آئی ٹی اور 16 ٹرپل آئی ٹی بھی بن چکی ہیں۔ نئی تعلیمی پالیسی میں ہم نے یہ بھی یقینی بنایا ہے کہ اب نوجوان سائنس اور انجینئرنگ جیسے اسٹیم کورسز اپنی مقامی زبان میں کر سکیں گے۔

ساتھیو،

ہماری حکومت کی وزیراعظم ریسرچ فیلوشپ نوجوان محققین کے درمیان بہت کامیاب رہی ہے۔ اس اسکیم کے تحت دی گئی گرانٹس نے نوجوانوں کی بے حد مدد کی ہے۔ ہم نے آئندہ 5؍برسوں میں 10؍ہزار فیلو شپ دے کر ملک میں تحقیق و ترقی(آر اینڈ ڈی) کو مزید مضبوط کرنے کا فیصلہ لیا ہے۔

 

ساتھیو،

یہ بہت ضروری ہے کہ ہم سائنس اور ٹیکنالوجی کی تبدیلی لانے والی قوت کو سمجھیں اور ساتھ ہی انہیں اخلاقی اور جامع بنائیں۔ مثال کے طور پر مصنوعی ذہانت(اے آئی)کو ہی دیکھئے، آج ریٹیل سے لے کر لاجسٹکس تک، کسٹمر سروس سے لے کر بچوں کے ہوم ورک تک، ہر جگہ اے آئی کا استعمال ہو رہا ہے۔ اسی لئے ہم ہندوستان میں بھی  اے آئی کی طاقت کو سماج کے ہر طبقے کے لئے کارآمد بنا رہے ہیں۔ انڈیا اے آئی مشن میں 10 ہزار کروڑ روپے سے زیادہ کی سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔

ساتھیو،

آج ہندوستان اخلاقی اور انسان نیت پر مرکوز مصنوعی ذہانت کے عالمی فریم ورک کو شکل دے رہا ہے۔ ہمارا آنے والا اے آئی گورننس فریم ورک اس سمت میں ایک بڑا قدم ہوگا۔ اس کا مقصد اختراع اور سلامتی دونوں کو ساتھ لے کر آگے بڑھنا ہے۔ اگلے برس فروری میں جب  ہندوستان عالمی اے آئی سمٹ کی میزبانی کرے گا ،تب جامع، اخلاقی اور انسانیت پر مرکوز کوششوں کو نئی رفتار ملے گی۔

 

ساتھیو،

اب وقت ہے کہ ہم ابھرتے ہوئے شعبوں میں دوگنی توانائی کے ساتھ کام کریں۔ یہ ہمارے وکست بھارت کے ہدف کو حاصل کرنے کے لیے بھی بہت اہم ہے۔ میں آپ کے ساتھ کچھ خیالات کا اشتراک کرنا چاہتا ہوں۔ ہم فوڈ سیکیورٹی سے آگے بڑھ کر نیوٹریشن سیکیورٹی کی سمت میں قدم بڑھائیں۔ کیا ہم ایسی نئی نسل کی غذائیت سے بھرپور فصلیں تیار کر سکتے ہیں، جو دنیا کو غذائی قلت کے خلاف لڑنے میں مددملے؟ کیا ہم مٹی کو زر خیز بنانے والے کم قیمت کے اجزا اور بایو فرٹیلائزرز میں ایسی اختراعات لا سکتے ہیں جو کیمیکل ان پٹس کا متبادل ہوں اور مٹی کی صحت بہتر کریں؟ کیا ہم ہندوستان کی جینومک تنوع کو مزید بہتر طریقے سے نقشہ بند کر سکتے ہیں، تاکہ ذاتی نوعیت کی ادویات اور بیماریوں کی پیش گوئی میں نئی سمت ملے؟ کیا ہم کلین انرجی اسٹوریج جیسے بیٹریز میں نئے اور سستے  اختراع کر سکتے ہیں؟ ہر شعبے میں ہمیں دیکھنا ہوگا کہ ہم کن شعبوں کے لیے ہم دنیا پر انحصار کرتے ہیں اور کس طرح ان میں خود کفالت حاصل کی جا سکتی ہے۔

ساتھیو،

مجھے یقین ہے کہ آپ سبھی سائنس اور ٹیکنالوجی کی دنیا سے وابستہ لوگ ، ان سوالوں سے بھی آگے جاکر نئے امکانات تلاش کریں گے۔ اگر آپ کے پاس خیالات ہیں، تو میں آپ کے ساتھ ہوں۔ ہماری حکومت تحقیق کے لیے فنڈ دینے اور سائنسدانوں کو مواقع فراہم کرنے کے لئے مکمل طور پر پرعزم ہے۔ میں یہ بھی چاہوں گا کہ اس کانکلیو میں ایک اجتماعی روڈ میپ تیار ہو۔ مجھے پورا یقین ہے کہ یہ کانکلیو  ہندوستان کے  اخترا کے سفر کو ایک نئی بلندی پر لے جائے گا۔ آپ سب کو ایک بار پھربہت بہت نیک خواہشات۔

جئے وگیان، جئے انوسندھان!

بہت بہت شکریہ!

 

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
India's electronics exports cross $47 billion in 2025 on iPhone push

Media Coverage

India's electronics exports cross $47 billion in 2025 on iPhone push
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
List of Outcomes: Visit of His Highness Sheikh Mohamed bin Zayed Al Nahyan, President of UAE to India
January 19, 2026
S.NoAgreements / MoUs / LoIsObjectives

1

Letter of Intent on Investment Cooperation between the Government of Gujarat, Republic of India and the Ministry of Investment of the United Arab Emirates for Development of Dholera Special Investment region

To pursue investment cooperation for UAE partnership in development of the Special Investment Region in Dholera, Gujarat. The envisioned partnership would include the development of key strategic infrastructure, including an international airport, a pilot training school, a maintenance, repair and overhaul (MRO) facility, a greenfield port, a smart urban township, railway connectivity, and energy infrastructure.

2

Letter of Intent between the Indian National Space Promotion and Authorisation Centre (IN-SPACe) of India and the Space Agency of the United Arab Emirates for a Joint Initiative to Enable Space Industry Development and Commercial Collaboration

To pursue India-UAE partnership in developing joint infrastructure for space and commercialization, including launch complexes, manufacturing and technology zones, incubation centre and accelerator for space start-ups, training institute and exchange programmes.

3

Letter of Intent between the Republic of India and the United Arab Emirates on the Strategic Defence Partnership

Work together to establish Strategic Defence Partnership Framework Agreement and expand defence cooperation across a number of areas, including defence industrial collaboration, defence innovation and advanced technology, training, education and doctrine, special operations and interoperability, cyber space, counter terrorism.

4

Sales & Purchase Agreement (SPA) between Hindustan Petroleum Corporation Limited, (HPCL) and the Abu Dhabi National Oil Company Gas (ADNOC Gas)

The long-term Agreement provides for purchase of 0.5 MMPTA LNG by HPCL from ADNOC Gas over a period of 10 years starting from 2028.

5

MoU on Food Safety and Technical requirements between Agricultural and Processed Food Products Export Development Authority (APEDA), Ministry of Commerce and Industry of India, and the Ministry of Climate Change and Environment of the United Arab Emirates.

The MoU provides for sanitary and quality parameters to facilitate the trade, exchange, promotion of cooperation in the food sector, and to encourage rice, food products and other agricultural products exports from India to UAE. It will benefit the farmers from India and contribute to food security of the UAE.

S.NoAnnouncementsObjective

6

Establishment of a supercomputing cluster in India.

It has been agreed in principle that C-DAC India and G-42 company of the UAE will collaborate to set up a supercomputing cluster in India. The initiative will be part of the AI India Mission and once established the facility be available to private and public sector for research, application development and commercial use.

7

Double bilateral Trade to US$ 200 billion by 2032

The two sides agreed to double bilateral trade to over US$ 200 billion by 2032. The focus will also be on linking MSME industries on both sides and promote new markets through initiatives like Bharat Mart, Virtual Trade Corridor and Bharat-Africa Setu.

8

Promote bilateral Civil Nuclear Cooperation

To capitalise on the new opportunities created by the Sustainable Harnessing and Advancement of Nuclear Energy for Transforming India (SHANTI) Act 2025, it was agreed to develop a partnership in advance nuclear technologies, including development and deployment of large nuclear reactors and Small Modular Reactors (SMRs) and cooperation in advance reactor systems, nuclear power plant operations and maintenance, and Nuclear Safety.

9

Setting up of offices and operations of UAE companies –First Abu Dhabi Bank (FAB) and DP World in the GIFT City in Gujarat

The First Abu Dhabi Bank will have a branch in GIFT that will promote trade and investment ties. DP World will have operations from the GIFT City, including for leasing of ships for its global operations.

10

Explore Establishment of ‘Digital/ Data Embassies’

It has been agreed that both sides would explore the possibility of setting up Digital Embassies under mutually recognised sovereignty arrangements.

11

Establishment of a ‘House of India’ in Abu Dhabi

It has been agreed in Principle that India and UAE will cooperate on a flagship project to establish a cultural space consisting of, among others, a museum of Indian art, heritage and archaeology in Abu Dhabi.

12

Promotion of Youth Exchanges

It has been agreed in principle to work towards arranging visits of a group of youth delegates from either country to foster deeper understanding, academic and research collaboration, and cultural bonds between the future generations.