اسکول میں کثیر مقصدی اسپورٹس کمپلیکس کا سنگ بنیاد رکھا
سندھیا اسکول کی 125ویں سالگرہ کے اعزاز میں یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیا
ممتاز سابق طلبا اور سرفہرست کامیابی حاصل کرنے والوں کو اسکول کے سالانہ ایوارڈز پیش کیے
مہاراجہ مادھو راؤ سندھیا-I جی ایک وژنری تھے جنہوں نے آنے والی نسلوں کے لیے ایک روشن مستقبل بنانے کا خواب دیکھا تھا
پچھلی دہائی میں، ملک کی بے مثال طویل مدتی منصوبہ بندی کے نتیجے میں اہم فیصلے ہوئے ہیں
ہماری کوشش ہے کہ آج کے نوجوانوں کے لیے ملک میں ایک مثبت ماحول پیدا کیا جائے
سندھیا اسکول کے ہر طالب علم کو ہندوستان کو وکست بھارت بنانے کی کوشش کرنی چاہیے، خواہ وہ پیشہ ورانہ دنیا میں ہو یا کوئی اور جگہ
ہندوستان آج جو کچھ بھی کر رہا ہے، وہ بڑے پیمانے پر کر رہا ہے
آپ کا خواب ہی میرا عزم ہے

مدھیہ پردیش کے گورنر جناب منگو بھائی پٹیل، یہاں کے مقبول عام  وزیر اعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان، سندھیا اسکول کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چیئرمین اور کابینہ میں میرے ساتھی جناب جیوترادتیہ سندھیا جی، جناب نریندر سنگھ تومر، ڈاکٹر جتیندر سنگھ، اسکول انتظامیہ کے ساتھیوں اور اسکول کا تمام عملہ، اساتذہ اور والدین اور میرے پیارے نوجوان دوستو!

سندھیا اسکول کے 125 سال مکمل ہونے پر آپ سب کو بہت بہت مبارکباد۔ آج آزاد ہند حکومت کا یوم تاسیس بھی ہے۔ میں اس کے لیے تمام ہم وطنوں کو بھی مبارکباد دیتا ہوں۔ میں آپ سب کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے مجھے یہاں کی اس شاندار تاریخ سے جڑنے کا موقع دیا۔ یہ سندھیا اسکول کی تاریخ ہے اور اس تاریخی گوالیار شہر کی بھی۔ رشی گوالیپا، موسیقی کے شہنشاہ تانسین، شریمنت مہادجی سندھیا جی، راج ماتا وجے راجے جی، اٹل بہاری واجپائی جی اور استاد امجد علی خان تک، گوالیار کی یہ سرزمین نسلوں کا متاثر کرنے والے افراد پیدا کرتی رہی ہے۔

 

یہ سرزمین خواتین کی طاقت اور بہادر خواتین کا مسکن ہے۔ مہارانی گنگا بائی نے اس زمین پر اپنے زیورات بیچ کر فوج کو سوراج جنگ کے لیے تیار کیا۔ اس لیے گوالیار آنا اپنے آپ میں بہت خوشگوار ہے۔ اور میرا تعلق بھی گوالیار سے دو وجہ سے خاص ہے۔ سب سے پہلے، میں کاشی سے ایم پی ہوں اور سندھیا خاندان نے کاشی کی خدمت اور ہماری ثقافت کو بچانے میں بہت بڑا کردار ادا کیا ہے۔ سندھیا خاندان نے گنگا کے کنارے بہت سے گھاٹ بنوائے ہیں اور بی ایچ یو کے قیام کے لیے مالی مدد فراہم کی ہے۔ آج جس طرح کاشی ترقی کر رہا ہے، اس کو دیکھ کر مہارانی بائیجا بائی اور مہاراج مادھو راؤ جی کو، جہاں بھی ان کی آتما ہوگی، کتنی خوش ہورہی ہوگی، اس کا ہم اندازہ لگا سکتے ہیں۔

اور جیسا میں نے کہا کہ اس کی دو وجوہات ہیں، میں آپ کو دوسری وجہ بھی بتاتا ہوں۔ میرا گوالیار سے ایک اور تعلق بھی ہے۔ ہمارے جیوترا دتیہ جی گجرات کے داماد ہیں۔ اس وجہ سے گوالیار سے میری رشتہ داری بھی ہے۔ اور ایک اور بھی تعلق ہے، میرا گاؤں گائکواڑ ریاست کا ایک گاؤں تھا۔ اور میرے گاؤں میں بنایا گیا پہلا پرائمری اسکول گائیکواڑ خاندان نے بنایا تھا۔ اور میری خوش قسمتی تھی کہ مجھے اس اسکول میں مفت پرائمری تعلیم ملتی تھی جو گائیکواڑ جی نے بنایا تھا۔

دوستو،

ہمارے یہاں کہا گیا ہے – منسیکم وچسیکم کرمانیکم مہاتمانام۔

یعنی ایک شریف آدمی اپنے دماغ میں جو سوچتا ہے وہ کہتا اور کرتا ہے۔ یہ ایک فرض شناس شخصیت کی پہچان ہے۔ ایک باضمیر انسان فوری فائدے کے لیے نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے مستقبل کو روشن کرنے کے لیے کام کرتا ہے۔ ایک پرانی کہاوت بھی ہے۔ اگر آپ ایک سال کا سوچ رہے ہیں تو اناج بوئیں۔ اگر آپ ایک دہائی کا سوچ رہے ہیں تو پھل دار درخت لگائیں۔ اور اگر آپ ایک صدی کا سوچ رہے ہیں تو تعلیم سے متعلق ادارے قائم کریں۔

مہاراجہ مادھو راؤ سندھیا اول، ان کی سوچ فوری طور پر فائدے کے بارے میں نہیں تھی بلکہ آنے والی نسلوں کے مستقبل کو روشن بنانے کے بارے میں تھی۔ سندھیا اسکول، ان کی دوررس سوچ کا نتیجہ تھا، وہ جانتے تھے ہیومن ریسورس (انسانی وسائل) کی طاقت کو۔ بہت کم لوگ جانتے ہوں گے کہ ہندوستانی ٹرانسپورٹ کمپنی جس کی بنیاد مادھو راؤ جی نے رکھی تھی وہ اب بھی دہلی میں ڈی ٹی سی کے طور پر چل رہی ہے۔ وہ آنے والی نسلوں کے لیے پانی کے تحفظ پر بھی ان کا اتنا ہی دھیان تھا۔ انھوں نے اس دور میں پانی اور آبپاشی کا بہت بڑا نظام بنایا تھا۔ یہ جو 'ہرسی ڈیم' ہے، وہ 150 سال بعد بھی ایشیا کا سب سے بڑا مٹی کا ڈیم ہے۔ یہ ڈیم اب بھی لوگوں کے کام آرہا ہے۔ مادھوراؤ جی کی شخصیت سے ہم سبھی کے لئے یہ دور اندیشی سیکھنے کی ضرورت ہے۔ تعلیم ہو، کیرئیر ہو، زندگی ہو یا سیاست، شارٹ کٹ آپ کو فوری طور پر کچھ فائدے دے سکتے ہیں، لیکن آپ کو صرف طویل مدتی سوچ کے ساتھ کام کرنا چاہیے۔ کوئی بھی شخص جو معاشرے یا سیاست میں فوری خود غرضی کے لیے کام کرتا ہے اس سے معاشرے اور قوم کا ہی نقصان ہوتا ہے۔

 

دوستو۔

سال 2014 میں جب ملک نے مجھے وزیر اعظم کی ذمہ داری سونپی تھی تو میرے سامنے بھی دو راستے تھے۔ یا تو صرف فوری فائدے کے لیے کام کریں، یا طویل مدتی طریقہ اختیار کریں۔ ہم نے فیصلہ کیا کہ ہم ان کے لیے 2 سال، 5 سال، 8 سال، 10 سال، 15 سال، 20 سال جیسے مختلف ٹائم بینڈ رکھ کر کام کریں گے۔ آج آپ کہہ سکتے ہیں کہ ہماری حکومت 10 سال مکمل کر رہی ہے۔ ان 10 سالوں میں طویل مدتی منصوبہ بندی کے ساتھ ملک نے جو فیصلے کیے ہیں وہ بے مثال ہیں۔ ہم نے ملک کو اتنے زیر التواء فیصلوں کے بوجھ سے آزاد کرایا ہے۔ 60 سال سے مطالبہ تھا کہ جموں و کشمیر سے آرٹیکل 370 کو ہٹایا جائے۔ یہ کام ہماری حکومت نے کیا۔ 40 سال سے مطالبہ تھا کہ سابق فوجیوں کو ون رینک ون پنشن دی جائے۔ یہ کام ہماری حکومت نے کیا۔ جی ایس ٹی کو لاگو کرنے کا 40 سال کا مطالبہ تھا۔ یہ کام ہماری حکومت نے بھی کیا۔

کئی دہائیوں سے مسلم خواتین تین طلاق کے خلاف قانون کا مطالبہ کر رہی تھیں۔ تین طلاق کے خلاف قانون بھی ہماری حکومت کے دوران بنایا گیا۔ آپ نے دیکھا ہوگا کہ ابھی چند ہفتے قبل ہی لوک سبھا اور اسمبلی میں خواتین کے لیے ریزرویشن کا قانون بنایا گیا ہے۔ یہ کام بھی کئی دہائیوں سے زیر التوا تھا۔ ہماری حکومت نے ناری شکتی وندن ایکٹ بھی بنایا ہے۔

میرے پاس کاموں کی اتنی طویل فہرست ہے کہ پوری رات لگ جائے گی۔ میں آپ کو بتا رہا تھا کہ یہ کچھ بڑے فیصلے ہیں کیونکہ اگر ہماری حکومت یہ فیصلے نہ کرتی تو بوجھ کس پر کس کے کاندھوں پر پڑتا؟ اگر ہم نے یہ نہ کیا ہوتا تو یہ بوجھ آپ کی نسلوں  پر منتقل ہوتا؟ تو میں نے آپ کی جنریشن کا بھی کچھ بوجھ ہلکا کیا ہے۔ اور میری کوشش ہے کہ آج کی نوجوان نسل کے لیے ملک میں بہت مثبت ماحول پیدا کیا جائے۔ ایک ایسا ماحول جس میں آپ کی نسل کو مواقع کی کمی نہ ہو۔ ایسا ماحول جس میں ہندوستان کے نوجوان بڑے خواب دیکھیں اور اسے حاصل بھی کریں۔ ڈریم بگ اینڈ اچیو بگ۔ اور یہ بات میں اس لئے  کہہ رہا ہوں کہ جب سندھیا اسکول اپنے 150 سال مکمل کرے گا... تب ملک بھی ایک اہم سنگ میل پر ہوگا۔ یہ ایک سنگ میل ہوگا – ہندوستان کی آزادی کے 100 سال کا۔

آج ہم نے عزم کیا ہے کہ اگلے 25 سالوں میں ملک کو ترقی یافتہ بنائیں گے۔ اور یہ آپ کو کرنا ہے، ہندوستان کی نوجوان نسل کو کرنا ہے۔ میرا یقین آپ نوجوانوں پر ہے، آپ نوجوانوں پر میرا یقین ہے۔ اور مجھے امید ہے کہ آپ ان خوابوں کو سامنے رکھ کرکام کریں گے، خوابوں کو اپنے ارداوں میں بدل دیں گے اور اپنے عزم کو حاصل کرنے تک نہیں رکیں گے۔

اگلے 25 سال آپ کی زندگی کے لیے جتنے ضروری ہیں اتنے ہی ہندوستان کے لئے اہم ہیں۔ سندھیا اسکول کے ہر طالب علم کو یہ عزم کرنا چاہیے کہ میں ایک ترقی یافتہ ہندوستان بناؤں گا۔ دوستو، آپ یہ کریں گے نا، آپ یہ کریں گے نا؟ میں ہر کام نیشن فرسٹ کی سوچ کے ساتھ کروں گا۔ میں اختراع کروں گا، تحقیق کروں گا، چاہے میں پیشہ ورانہ دنیا میں رہوں یا کسی اور جگہ، میں ہندوستان کو ترقی یافتہ رکھوں گا۔

 

اور دوستو،

آپ جانتے ہیں کہ مجھے سندھیا اسکول پر اتنا اعتماد کیوں ہے؟ کیونکہ میں بھی آپ کے اسکول کے کچھ سابق طلباء کو بہت قریب سے جانتا ہوں۔ پی ایم او میں وزیر مملکت بھائی جتیندر سنگھ جی اسٹیج پر بیٹھے ہیں۔ وہ آپ کے ہی اسکول کےطالب علم ہیں۔ ریڈیو پر جن کی آوازیں سن کر ہم مسحور ہو جاتے تھے، امین سیانی جی، لیفٹیننٹ جنرل موتی در جی، ابھی جنہوں نے یہاں شاندار کارکردگی پیش کی، میت برادرس اور ہڑ ہڑ دبنگ سلمان خان اور میرے دوست نتن مکیش جی یہاں بیٹھے ہیں۔ سندھیا اسکول کے طلبہ کا کینوس اتنا بڑا ہے کہ ہم اس میں ہر طرح کے رنگ دیکھ سکتے ہیں۔

میرے نوجوان دوستو، وشنو پران میں لکھا ہے،

گاینتی دیوا: کل گیتکانی، دھنیاستو تے بھارت بھومی بھاگے۔

یعنی دیوتا بھی یہی گیت گاتے ہیں کہ جس نے بھی اس بھارت کی سرزمین میں جنم لیا ہے وہ انسان، دیوتاؤں سے بھی زیادہ خوش نصیب ہیں۔ آج بھارت کامیابی کی بلندی پر ہے وہ بے مثال ہے۔ پوری دنیا میں بھارت کی طاقت اثر بنا ہوا ہے۔ 23 اگست کو بھارت چاند کی اس سطح پر پہنچا، جہاں ابھی کوئی ملک نہیں پہنچ سکا۔ G-20 میں بھی آپ نے دیکھا کہ بھارت کا جھنڈا کیسے لہرایا؟ آج ہندوستان دنیا کی سب سے تیزی سے ترقی کرنے والی بڑی معیشت ہے۔ آج بھارت عالمی فن ٹیک گود لینے کی شرح میں پہلے نمبر پر ہے۔ آج بھارت حقیقی وقت میں ڈیجیٹل لین دین میں دنیا میں پہلے نمبر پر ہے۔ آج بھارت اسمارٹ فون ڈیٹا صارفین کے معاملے میں پہلے نمبر پر ہے۔

آج بھارت انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں کی تعداد کے لحاظ سے دنیا میں دوسرے نمبر پر ہے۔ آج بھارت دنیا کا دوسرا سب سے بڑا موبائل بنانے والا ملک ہے۔ آج بھارت کے پاس دنیا کا تیسرا سب سے بڑا اسٹارٹ اپ ماحولیاتی نظام ہے۔ آج بھارت دنیا کا تیسرا سب سے بڑا توانائی استعمال کرنے والا ملک ہے۔ آج بھارت خلا میں اپنا خلائی اسٹیشن قائم کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ آج صبح ہی آپ نے دیکھا کہ گگن یان کی آزمائشی پرواز اور 'کریو ایسکیپ سسٹم' کا کیسے کامیاب تجربہ کیا گیا ہے۔ گوالیار میں فضائیہ کا اتنا بڑا اڈہ ہے... آپ نے آسمان میں تیجس کی اُڑان دیکھی ہے۔ آپ نے سمندر میں آئی این ایس وکرانت کی ہنکار دیکھی ہے… آج بھارت کے لیے کچھ بھی ناممکن نہیں ہے۔ ہندوستان کی یہ بڑھتی ہوئی صلاحیت آپ کے لیے ہر شعبے میں نئے امکانات پیدا کر رہی ہے۔

ذرا تصور کریں، 2014 سے پہلے ہمارے پاس چند سو اسٹارٹ اپ ہوتے تھے۔ آج بھارت میں اسٹارٹ اپس کی تعداد تقریباً ایک لاکھ تک پہنچ رہی ہے۔ پچھلے کچھ سالوں میں، بھارت میں 100 سے زیادہ یونیکارن بنائے گئے ہیں۔ آپ لوگ بھی جانتے ہیں کہ ایک یونیکارن مطلب۔۔۔۔ کم سے کم 8 ہزار کروڑ روپے کی کمپنی۔ سندھیا اسکول کے طلباء کو بھی یہاں سے جانے کے بعد، یونیکارنس بنانے ہیں اور اپنے اسکول اور ملک کا نام روشن کرنا ہے۔

’دی ورلڈ از اوور اویسٹر!!! اور سرکار کے طور پر، ہم نے آپ کے لیے نئے شعبے بھی کھولے دئیے ہیں۔ پہلے سیٹلائٹس صرف سرکار بناتی تھی یا بیرون ملک سے منگوائے جاتے تھے۔ ہم نے آپ جیسے نوجوانوں کے لیے بھی خلائی سیکٹر کے دروازے کھول دئیے ہیں۔ پہلے دفاعی آلات بھی یا تو سرکار بناتی تھی یا بیرون ملک سے درآمد کرتی تھی۔ ہم نے دفاعی سیکٹر بھی آپ جیسے نوجوانوں کے لیے کھول دیا ہے۔ ایسے کتنے ہی سیکٹر ہیں جو بھارت میں اب آپ کے لیے بن رہے ہیں۔

 

آپ کو میک ان انڈیا کے عزم کو آگے بڑھانا ہوگا۔ آپ کو خود انحصار ہندوستان کے عزم کو آگے بڑھانا ہوگا۔ میرا ایک اور منتر یاد رکھیں۔ ہمیشہ آؤٹ آف دی باکس سوچئے۔ جیوتی رادتیہ سنگھ جی کے والد، ہمارے مادھو راؤ سندھیا جی کی طرح، جب وہ ریلوے کے وزیر تھے، انہوں نے شتابدی ٹرینیں شروع کی تھیں۔ ایسی جدید ٹرینیں تین دہائیوں تک ہندوستان میں دوبارہ شروع نہیں ہوئیں۔ اب ملک میں وندے بھارت کا جلوہ ہے اور کل ہی نمو بھارت کی رفتار بھی آپ نے دیکھ لی ہے۔

دوستو

یہاں آنے سے پہلے میں سندھیا اسکول کے الگ الگ گھرانوں کے نام دیکھ رہا تھا اور جیوترادتیہ جی بھی مجھے سمجھا رہے تھے۔ سوراج سے جڑے وہ نام کتنی بڑی تحریک ہے آپ کے لیے۔ شیواجی ہاؤس...مہادجی ہاؤس، رانوجی ہاؤس، دتاجی ہاؤس، کنارکھیڈ ہاؤس، نیماجی ہاؤس، مادھو ہاؤس، ایک طرح سے سپت رشیوں کی طاقت ہے آپ کے پاس۔ اور میں سوچ رہا ہوں کہ نوراتری کے اس پرمسرت موقع پر آپ سب کو نو ٹاسک بھی دوں کیونکہ اسکول کا پروگرام ہے اور اگر آپ ہوم ورک نہیں دیں گے تو پورا نہیں ہوتا۔ تو آج میں آپ کو نو کام دینا چاہتا ہوں، یاد رکھو گے؟ آپ کی آواز دب گئی بھائی، کیا وجہ ہے؟ یاد رکھو گے، اسے اپنا عزم بنائیں گے؟ زندگی بھر اسے پورا کرنے کے لیے کام کرو گے؟

 

پہلا- آپ لوگ یہاں پانی کے تحفظ کے لیے اتنا کام کرتے ہیں۔ پانی کا تحفظ 21ویں صدی کا ایک بڑا چیلنج ہے۔ اس کے لیے لوگوں میں بیداری لانے کے لیے مہم چلائیں۔

دوسرا- سندھیا اسکول میں گاؤں کو گود لینے کی روایت ہے۔ آپ لوگ زیادہ سے زیادہ دیہاتوں میں جائیں اور وہاں ڈیجیٹل لین دین شروع کریں۔

تیسرا- صفائی کا مشن۔ اگر مدھیہ پردیش کا اندور صفائی میں نمبر ون ہونے کا یہ مقام حاصل کر سکتا ہے تو میرا گوالیار کیوں نہیں ہو سکتا؟ آپ بھی اپنے شہر کو صفائی میں نمبر ون بنانے کی ذمہ داری اٹھائیں ۔

چوتھا- ووکل فار لوکل… جتنا ہوسکے آپ لوکل کو، مقامی مصنوعات کو زیادہ سے زیادہ فروغ دیں، میڈ ان انڈیا پروڈکٹس کا ہی استعمال کریں۔

پانچواں- ٹریول ان انڈیا فرسٹ یعنی سفر کریں تو پہلے بھارت کا… جتنا ممکن ہو، پہلے اپنے ملک کی سیاحت کریں، اپنے ہی ملک کے اندر سفر کریں، پھر باہر کے ممالک جائیں۔

چھٹا- نیچرل فارمنگ کے تئیں کسانوں کو زیادہ سے زیادہ آگاہ کریں۔ یہ دھرتی ماں کو بچانے کے لیے ایک بہت اہم مہم ہے۔

ساتواں- ملیٹس کو، شری انّ کو اپنی زندگی میں شامل کریں، اسے وسیع پیمانے پر مشتہر کریں۔ آپ جانتے ہیں نا یہ ایک سپر فوڈ ہوتا ہے۔

آٹھواں- فٹنس ہو، یوگا ہو یا کھیل ہو، اسے بھی اپنی زندگی کا لازمی حصہ بنائیں۔ آج یہاں ملٹی پرپز اسپورٹس کمپلیکس کا سنگ بنیاد بھی رکھا گیا۔ اس سے بھی بھرپور فائدہ اٹھائیں۔

اور نواں- کم از کم ایک غریب خاندان کا ہاتھ ضرور پکڑیں۔ جب تک ملک میں ایک بھی غریب ایسا نہیں ہے جس کے پاس گیس کنکشن نہیں ہے، بینک کھاتہ نہیں ہے، مستقل مکان نہیں ہے، آیوشمان کارڈ نہیں ہے… ہم سکون سے نہیں بیٹھیں گے۔ بھارت سے غربت دور کرنے کے لیے یہ بہت ضروری ہے۔ اس راستے پر چل کر صرف پانچ سالوں میں 13.5 کروڑ لوگ غربت سے باہر آئے ہیں۔ اس راستے پر چلنے سے بھارت سے غربت ختم ہوگی اور ملک ترقی یافتہ بھی بنے گا۔

 

دوستو،

بھارت آج جو کچھ بھی کر رہا ہے، وہ بڑے پیمانے پر کر رہا ہے۔ لہذا، آپ کو اپنے مستقبل کے بارے میں چھوٹا سوچنے کی ضرورت نہیں ہے. آپ کے خواب اور عزم دونوں بڑے ہونے چاہئیں۔ اور میں آپ کو یہ بھی بتادوں، آپ کا خواب میرا عزم و حوصلہ ہے۔ آپ اپنے خیالات، اپنے آئیڈیاز نمو ایپ پر بھی میرے ساتھ ن شیئر کر سکتے ہیں۔ اور اب میں واٹس ایپ پر بھی ہوں، وہاں بھی آپ سے رابطہ کر سکتا ہوں۔ آپ چاہیں تو اپنے راز بھی شیئر کرسکتے ہیں۔ اور میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ میں کسی کو نہیں بتاؤں گا۔

دوستو،

زندگی کو ایسے ہی چلتے رہنا چاہیے، ہنستے اور مذاق کرتے رہنا چاہیے۔ آپ خوش رہیں... سلامت رہیں۔ مجھے آپ سب پر پورا بھروسہ ہے۔ آپ کو یاد رکھنا ہے، سندھیا اسکول صرف ایک ادارہ نہیں ہے بلکہ ایک وراثت ہے۔ اس اسکول نے آزادی سے پہلے اور بعد میں مہاراج مادھوراؤ جی کی عہد و عزم کو مسلسل آگے بڑھایا ہے۔ اب اس کا پرچم آپ کے ہاتھوں میں ہے۔ میں ایک بار پھر ان نوجوان ساتھیوں کو مبارکباد پیش کرتا ہوں جنہیں ابھی کچھ دیر پہلے ایوارڈ دیا گیا ہے۔ ایک بار پھر، سندھیا اسکول اور تمام نوجوان ساتھیوں کو ایک بہتر مستقبل کے لیے بہت سی نیک خواہشات۔

آپ سب کا بہت بہت شکریہ۔

 

Explore More
لال قلعہ کی فصیل سے 77ویں یوم آزادی کے موقع پر وزیراعظم جناب نریندر مودی کے خطاب کا متن

Popular Speeches

لال قلعہ کی فصیل سے 77ویں یوم آزادی کے موقع پر وزیراعظم جناب نریندر مودی کے خطاب کا متن
G20 hosts Kashi blossoms with flowers from  6 states

Media Coverage

G20 hosts Kashi blossoms with flowers from 6 states
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Prime Minister Narendra Modi to visit Kerala,Tamil Nadu and Maharashtra
February 26, 2024
PM to visit Vikram Sarabhai Space centre (VSSC), Thiruvananthapuram, and inaugurate three important space infrastructure projects worth about Rs 1800 crore
Projects include ‘PSLV Integration Facility’ at Satish Dhawan Space Centre, Sriharikota; ‘Semi-cryogenics Integrated Engine and stage Test facility’ at ISRO Propulsion Complex at Mahendragiri; and ‘Trisonic Wind Tunnel’ at VSSC
PM to also review progress of Ganganyaan
PM to inaugurate, dedicate to nation and lay the foundation stone of multiple infrastructure projects worth more than Rs 17,300 crore in Tamil Nadu
In a step to establish a transshipment hub for the east coast of the country, PM to lay the foundation stone of Outer Harbor Container Terminal at V.O.Chidambaranar Port
PM to launch India's first indigenous green hydrogen fuel cell inland waterway vessel
PM to address thousands of MSME entrepreneurs working in Automotive sector in Madurai
PM to inaugurate and dedicate to nation multiple infrastructure projects related to rail, road and irrigation worth more than Rs 4900 crore in Maharashtra
PM to release 16th instalment amount of about Rs 21,000 crore under PM-KISAN; and 2nd and 3rd instalments of about Rs 3800 crore under ‘Namo Shetkari MahaSanman Nidhi’
PM to disburse Rs 825 crore of Revolving Fund to 5.5 lakh women SHGs across Maharashtra
PM to initiate the distribution of one crore Ayushman cards across Maharashtra
PM to launch the Modi Awaas Gharkul Yojana

Prime Minister Shri Narendra Modi will visit Kerala, Tamil Nadu and Maharashtra on 27-28 February, 2024.

On 27th February, at around 10:45 AM, Prime Minister will visit Vikram Sarabhai Space centre (VSSC) at Thiruvananthapuram, Kerala. At around 5:15 PM, Prime Minister will participate in the programme ‘Creating the Future – Digital Mobility for Automotive MSME Entrepreneurs’ in Madurai, Tamil Nadu.

On 28th February, at around 9:45 AM, Prime Minister will inaugurate, and lay the foundation stone of multiple development projects worth about Rs 17,300 crore at Thoothukudi, Tamil Nadu. At around 4:30 PM, Prime Minister will participate in a public programme in Yavatmal, Maharashtra, and inaugurate and dedicate to nation multiple development projects worth more than Rs 4900 crore at Yavatmal, Maharashtra. He will also release benefits under PM KISAN and other schemes during the programme.

PM in Kerala

Prime Minister’s vision to reform the country’s space sector to realise its full potential, and his commitment to enhance technical and R&D capability in the sector will get a boost as three important space infrastructure projects will be inaugurated during his visit to Vikram Sarabhai Space Centre, Thiruvananthapuram. The projects include the PSLV Integration Facility (PIF) at the Satish Dhawan Space Centre, Sriharikota; new ‘Semi-cryogenics Integrated Engine and stage Test facility’ at ISRO Propulsion Complex at Mahendragiri; and ‘Trisonic Wind Tunnel’ at VSSC, Thiruvananthapuram. These three projects providing world-class technical facilities for the space sector have been developed at a cumulative cost of about Rs. 1800 crore.

The PSLV Integration Facility (PIF) at the Satish Dhawan Space Centre, Sriharikota will help in boosting the frequency of PSLV launches from 6 to 15 per year. This state-of-the-art facility can also cater to the launches of SSLV and other small launch vehicles designed by private space companies.

The new ‘Semi-cryogenics Integrated Engine and stage Test facility’ at IPRC Mahendragiri will enable development of semi cryogenic engines and stages which will increase the payload capability of the present launch vehicles. The facility is equipped with liquid Oxygen and kerosene supply systems to test engines up to 200 tons of thrust.

Wind tunnels are essential for aerodynamic testing for characterisation of rockets and aircraft during flight in the atmospheric regime. The “Trisonic Wind Tunnel” at VSSC being inaugurated is a complex technological system which will serve our future technology development needs.

During his visit, Prime Minister will also review the progress of Gaganyaan Mission and bestow ‘astronaut wings’ to the astronaut-designates. The Gaganyaan Mission is India’s first human space flight program for which extensive preparations are underway at various ISRO centres.

PM in Tamil Nadu

In Madurai, Prime Minister will participate in the programme ‘Creating the Future – Digital Mobility for Automotive MSME Entrepreneurs’, and address thousands of Micro, Small and Medium enterprises (MSMEs) entrepreneurs working in the automotive sector. Prime Minister will also launch two major initiatives designed to support and uplift MSMEs in the Indian automotive industry. The initiatives include the TVS Open Mobility Platform and the TVS Mobility-CII Centre of Excellence. These initiatives will be a step towards realising the Prime Minister’s vision of supporting the growth of MSMEs in the country and helping them to formalise operations, integrate with global value chains and become self-reliant.

In the public programme at Thoothukudi, Prime Minister will lay the foundation stone of Outer Harbor Container Terminal at V.O.Chidambaranar Port. This Container Terminal is a step towards transforming V.O.Chidambaranar Port into a transshipment hub for the east coast. The project aims to leverage India's long coastline and favourable geographic location, and strengthen India's competitiveness in the global trade arena. The major infrastructure project will also lead to creation of employment generation and economic growth in the region.

Prime Minister will inaugurate various other projects aimed at making the V.O.Chidambaranar Port as the first Green Hydrogen Hub Port of the country. These projects include desalination plant, hydrogen production and bunkering facility etc.

Prime Minister will also launch India's first indigenous green hydrogen fuel cell inland waterway vessel under Harit Nauka initiative. The vessel is manufactured by Cochin Shipyard and underscores a pioneering step for embracing clean energy solutions and aligning with the nation's net-zero commitments. Also, Prime Minister will also dedicate tourist facilities in 75 lighthouses across ten States/UTs during the programme.

During the programme, Prime Minister will dedicate to nation rail projects for doubling of Vanchi Maniyachchi - Nagercoil rail line including the Vanchi Maniyachchi - Tirunelveli section and Melappalayam - Aralvaymoli section. Developed at the cost of about Rs 1,477 crore, the doubling project will help in reducing travel time for the trains heading towards Chennai from Kanyakumari, Nagercoil & Tirunelveli.

Prime Minister will also dedicate four road projects in Tamil Nadu, developed at a total cost of about Rs 4,586 Crore. These projects include the four-laning of the Jittandahalli-Dharmapuri section of NH-844, two-laning with paved shoulders of the Meensurutti-Chidambaram section of NH-81, four-laning of the Oddanchatram-Madathukulam section of NH-83, and two-laning with paved shoulders of the Nagapattinam-Thanjavur section of NH-83. These projects aim to improve connectivity, reduce travel time, enhance socio-economic growth and facilitate pilgrimage visits in the region.

PM in Maharashtra

In a step that will showcase yet another example of commitment of the Prime Minister towards welfare of farmers, the 16th instalment amount of more than Rs 21,000 crores under the Pradhan Mantri Kisan Samman Nidhi (PM-KISAN), will be released at the public programme in Yavatmal, through direct benefits transfer to beneficiaries. With this release, an amount of more than 3 lakh crore, has been transferred to more than 11 crore farmers’ families.

Prime Minister will also disburse 2nd and 3rd instalments of ‘Namo Shetkari MahaSanman Nidhi’, worth about Rs 3800 crore and benefiting about 88 lakh beneficiary farmers across Maharashtra. The scheme provides an additional amount of Rs 6000 per year to the beneficiaries of Pradhan Mantri Kisan Samman Nidhi Yojana in Maharashtra.

Prime Minister will disburse Rs 825 crore of Revolving Fund to 5.5 lakh women Self Help Groups (SHGs) across Maharashtra. This amount is additional to the Revolving fund provided by the Government of India under National rural livelihood Mission (NRLM). Revolving Fund (RF) is given to SHGs to promote lending of money within SHGs by rotational basis and increase annual income of poor households by promoting women led micro enterprises at village level.

Prime Minister will initiate distribution of one crore Ayushman cards across Maharashtra. This is yet another step to reach out to beneficiaries of welfare schemes so as to realise the Prime Minister’s vision of 100 percent saturation of all government schemes.

Prime Minister will launch the Modi Awaas Gharkul Yojana for OBC category beneficiaries in Maharashtra. The scheme envisages the construction of a total 10 lakh houses from FY 2023-24 to FY 2025-26. Prime Minister will transfer the first instalment of Rs 375 Crore to 2.5 lakh beneficiaries of the Yojana.

Prime Minister will dedicate to nation multiple irrigation projects benefiting Marathwada and Vidarbha region of Maharashtra. These projects are developed at a cumulative cost of more than Rs 2750 crore under Pradhan Mantri Krishi Sinchai Yojna (PMKSY) and Baliraja Jal Sanjeevani Yojana (BJSY).

Prime Minister will also inaugurate multiple rail projects worth more than Rs. 1300 crore in Maharashtra. The projects include Wardha-Kalamb broad gauge line (part of Wardha-Yavatmal-Nanded new broad gauge line project) and New Ashti - Amalner broad gauge line (part of Ahmednagar-Beed-Parli new broad gauge line project). The new broad gauge lines will improve connectivity of the Vidarbha and Marathwada regions and boost socio-economic development. Prime Minister will also virtually flag off two train service during the programme. This includes train services connecting Kalamb and Wardha; and train service connecting Amalner and New Ashti. This new train service will help improve rail connectivity and benefit students, traders and daily commuters of the region.

Prime Minister will dedicate to nation several projects for strengthening the road sector in Maharashtra. The projects include four laning of the Warora-Wani section of NH-930; road upgradation projects for important roads connecting Sakoli-Bhandara and Salaikhurd-Tirora. These projects will improve connectivity, reduce travel time and boost socio-economic development in the region. Prime Minister will also inaugurate the statue of Pandit Deendayal Upadhyay in Yavatmal city.