وزیراعظم نے اسمرتی ون میموریل کا بھی افتتاح کیا
’’ اسمرتی ون میموریل اور ویر بال اسمارک کَچھ، گجرات اور پورے ملک کے مشترکہ درد کی علامت ہیں‘‘
’’بہت سے ایسے لوگ تھے جنہوں نے کہا تھا کہ کَچھ کبھی اپنے پیروں پر کھڑا نہیں ہو سکے گا لیکن آج کَچھ کے لوگوں نے منظر نامہ بالکل بدل دیا ہے‘‘
’’ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ موت اور تباہی کے درمیان، ہم نے 2001 میں کَچھ عزم کیے تھے اور آج ہم نے انھیں حقیقت میں بدل دیاہے ۔ اسی طرح آج ہم نے جو عزم کیا ہے اسے یقیناً2047 میں سچ ثابت کریں گے ‘‘
’’ کَچھ نے نہ صرف خودکو بہتر بنایا ہے بلکہ پورے گجرات کو نئی بلندیوں پر پہنچایاہے‘‘
’’جب گجرات قدرتی آفات سے نمٹ رہا تھا، تب سازشوں کا دور شروع ہو گیا تھا ۔ گجرات کو ملک اور دنیا میں بدنام کرنے کے لئے یہاں کی سرمایہ کاری کو روکنے کی ایک کے بعد ایک سازش رچی گئی‘‘
’’ دھولاویرا کی ہر اینٹ ہمارے آبا و اجداد کی مہارت، علم اور سائنس کو ظاہر کرتی ہے‘‘
’’ کَچھ کی ترقی سب کا پریاس کے ساتھ ایک بامعنی تبدیلی کی بہترین مثال ہے‘‘

گجرات کے مقبول وزیر اعلیٰ بھوپیندر پٹیل جی، پارلیمنٹ میں میرے ساتھی اور گجرات بی جے پی کے صدر جناب سی آر پاٹل جی، گجرات حکومت کے تمام وزرا، ایم پی اور ایم ایل اے اور یہاں بڑی تعداد میں آئے ہوئے کچھ کے میرے پیارے بہنوں اور بھائیوں!

میرے پیارے بھائیو اور بہنو، آپ کیسے ہیں؟ سب کچھ ٹھیک ہے نا؟ کچھ میں خوب بارش ہوئی ہے، اس کی خوشی آپ سب کے چہروں پر نظر آ رہی ہے۔

ساتھیوں،

آج من بہت سے جذبات سے بھرا ہوا ہے۔ بھوجیا ڈنگر میں اسمرتی ون میموریل اور انجار میں ویر بال اسمارک کا افتتاح کچھ کے، گجرات کے، پورے ملک کے مشترکہ درد کی علامت ہے۔ اس کی تعمیر میں صرف پسینہ ہی نہیں بلکہ کئی خاندانوں کے آنسو بھی اس کی اینٹوں اور پتھروں کو سیراب کر چکے ہیں۔

مجھے یاد ہے کہ انجار میں بچوں کے اہل خانہ نے بال اسمارک بنانے کا خیال پیش کیا تھا۔ تب ہم سب نے فیصلہ کیا تھا کہ ہم اسے کار سیوا سے مکمل کریں گے۔ ہم نے جو عہد کیا تھا وہ آج پورا ہو گیا۔ جنھوں نے اپنے پیاروں کو کھو دیا، اپنے بچوں کو کھو دیا، آج میں ان یادگاروں کو بھاری دل کے ساتھ ان کے نام وقف کرتا ہوں۔

آج، کچھ کی ترقی سے متعلق 4000 کروڑ روپے سے زیادہ کے دیگر منصوبوں کا بھی سنگ بنیاد رکھا گیا اور افتتاح کیا گیا۔ ان میں پانی، بجلی، سڑکوں اور ڈیری سے متعلق منصوبے شامل ہیں۔ یہ کچھ، گجرات کی ترقی کے لیے ڈبل انجن والی حکومت کے عزم کو ظاہر کرتا ہے۔ ماں آشاپورہ کی زیارت کو آسان بنانے کے لیے آج نئی سہولیات کا سنگ بنیاد بھی رکھا گیا ہے۔ جب اس کی ترقی کے لیے یہ سہولتیں تیار ہوں گی تو ملک بھر سے آنے والے عقیدت مندوں کو ایک نیا تجربہ ملے گا۔ یہ اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ کس طرح کچھ، گجرات ہمارے مقبول وزیر اعلیٰ بھوپیندر بھائی کی قیادت میں ترقی کر رہا ہے۔

بھائیو اور بہنوں،

آج بھوج کی سرزمین پر آیا تھا اور اسمرتی ون جا رہا تھا، وہ محبت جو کچھ کے لوگوں نے پورے راستے میں نچھاور کی اس کے لیے میں ان کا شکر گزار ہوں۔ مجھے یہاں آنے میں تھوڑی دیر ہوئی، میں وقت پر بھوج پہنچ گیا تھا لیکن روڈ شو میں جو استقبال ہوا اور بعد میں میں اسمرتی ون میموریل گیا، وہاں سے نکلنے کو دل نہیں کر رہا تھا۔

ساتھیوں،

جب میں اسمرتی ون کے مختلف حصوں سے گزر رہا تھا تو میرے ذہن میں بہت سی پرانی یادیں آ رہی تھیں۔ دوستو، امریکہ میں 9/11 کے بہت بڑے دہشت گردانہ حملے کے بعد وہاں ایک یادگار ”گراؤنڈ زیرو“ بنائی گئی ہے، میں نے وہ بھی دیکھی ہے۔ میں نے جاپان میں ہیروشیما کے سانحے کے بعد ان کی یاد کو تازہ کرنے کے لیے بنایا ہوا میوزیم بھی دیکھا ہے۔ اور آج اسمرتی ون کو دیکھنے کے بعد، میں ہم وطنوں سے نہایت عاجزی کے ساتھ کہنا چاہتا ہوں، میں پورے ملک کے لوگوں سے کہتا ہوں کہ ہمارا اسمرتی ون دنیا کی بہترین یادگاروں کے مقابلے میں ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہے۔

یہاں فطرت، زمین، زندگی، اس کی تعلیم کا ایک مکمل نظام موجود ہے۔ میں کچھ کے لوگوں سے کہوں گا کہ اب یہاں کوئی مہمان آئے تو اسمرتی ون کو دیکھے بغیر نہیں جانا چاہیے۔ اب آپ کے اس کچھ میں محکمہ تعلیم سے بھی کہوں گا کہ جب اسکول کے بچے سیر کے لیے جائیں تو وہ ایک دن اسمرتی ون کے لیے بھی رکھیں۔

ساتھیوں،

مجھے یاد ہے کہ جب زلزلہ آیا تھا، اس دن 26 جنوری کو میں دہلی میں تھا۔ دہلی میں بھی زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے تھے۔ اور چند گھنٹوں میں میں دہلی سے احمد آباد پہنچ گیا تھا۔ اور اگلے دن میں کچھ پہنچ گیا۔ تب میں وزیر اعلیٰ نہیں تھا، میں بھارتیہ جنتا پارٹی کا چھوٹا سا کارکن تھا۔ میں نہیں جانتا تھا کہ میں کس طرح اور کتنے لوگوں کی مدد کر سکوں گا۔ لیکن میں نے فیصلہ کیا کہ میں دکھ کی اس گھڑی میں آپ سب کے ساتھ ہوں گا اور ہر ممکن طریقے سے آپ کی مدد کرنے کی پوری کوشش کروں گا۔

مجھے پتہ بھی نہیں تھا، اچانک مجھے وزیر اعلیٰ بننا پڑا۔ اور جب میں وزیر اعلیٰ بنا تو اس خدمت کے کام کا تجربہ میرے لیے بہت مفید رہا۔ مجھے اس وقت کی ایک بات اور یاد ہے۔ زلزلہ زدگان کی مدد کے لیے بیرون ملک سے بھی بہت سے لوگ یہاں پہنچے تھے۔ وہ سوچتے تھے کہ یہاں کتنے بے لوث رضاکار ہیں، ان کی مذہبی، سماجی تنظیمیں امداد اور بچاؤ میں مصروف ہیں۔ وہ مجھے بتاتے تھے کہ وہ دنیا میں بہت سی جگہوں پر جاتے ہیں، لیکن ہم نے شاید اس سے پہلے کبھی ایسی خدمت نہیں دیکھی۔ اجتماعیت کی یہی طاقت ہے جس نے اس مشکل وقت میں کچھ، گجرات کو سنبھالا۔

آج جب میں کچھ کی سرزمین پر آیا ہوں تو میرا آپ سے بہت پرانا رشتہ ہے، میرا بہت گہرا رشتہ ہے۔ ان گنت ناموں کی یادیں میرے سامنے ابھرتی ہیں۔ مجھے بہت سے لوگوں کے نام یاد ہیں۔ ہمارے دھیرو بھائی شاہ، تارا چند چیڈا، اننت بھائی ڈیو، پرتاپ سنگھ جڈیجا، نریندر بھائی جڈیجہ، ہیرا لال پاریکھ، بھائی دھنسکھ ٹھاکر، رسک ٹھاکر، گوپال بھائی، چمپک لال شاہ اپنے انجار کے ان گنت لوگ ہیں جن کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کام کرنے کا موقع ملا تھا۔ آج وہ اس دنیا میں نہیں ہے لیکن ان کی روح جہاں بھی ہے، انھیں کچھ کی ترقی کے لیے اطمینان کا احساس ضرور ہوا ہوگا۔

ساتھیوں،

بطور وزیر اعلیٰ میری پہلی دیوالی اور زلزلے کے بعد کچھ کے لوگوں کے لیے پہلی دیوالی، میں نے وہ دیوالی نہیں منائی تھی۔ میری حکومت میں کسی وزیر نے دیوالی نہیں منائی تھی۔ زلزلے کے بعد پہلی دیوالی پر اپنے پیاروں کو یاد کرنا ایک فطری صورتحال تھی، میں آپ کے ساتھ رہا۔ اور آپ جانتے ہیں کہ میں ہر سال ملک کے سپاہیوں کے ساتھ دیوالی منانے سرحد پر جاتا تھا۔ لیکن اس سال میں نے اس روایت کو چھوڑ دیا اور میں زلزلہ زدگان کے درمیان رہنے آیا تاکہ ان کے ساتھ دیوالی مناؤں۔ مجھے سارا دن چوباری میں رہنا یاد ہے۔ اور پھر شام کو ٹرمبو گاؤں چلا گیا۔ میرے ساتھ میری کابینہ کے تمام ارکان، گجرات میں جہاں بھی زلزلہ آیا، وہاں گئے اور دیوالی کے دن تمام دکھ درد میں شریک ہوئے۔

زلزلے سے کچ کا ضلع ہسپتال مکمل طور پر تباہ ہو گیا تھا۔ آج کچھ میں ایک جدید زلزلہ مزاحم ہسپتال ہے، 200 سے زیادہ نئے طبی مراکز کام کر رہے ہیں۔ وہ کچھ جو ہمیشہ خشک سالی کی لپیٹ میں رہا، جہاں پانی زندگی کا سب سے بڑا چیلنج تھا، آج نرمدا کا پانی کچھ ضلع کے ہر گھر تک پہنچنے لگا ہے۔

کبھی ہم گنگا جی میں، جمنا جی میں، سریو میں اور نرمدا جی میں بھی عقیدت و احترام سے نہاتے ہیں اور یہاں تک کہتے ہیں کہ نرمدا جی اتنی پاکیزہ ہیں کہ اس کے  نام کے ذکر سے بھی برکت ملتی ہے۔ لوگ نرمدا جی کو دیکھنے جاتے تھے، آج وہ ماں نرمدا کچھ کی سرزمین پر آئی ہیں۔

کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ نرمدا کا پانی ٹپر، فتح گڑھ اور سوائی ڈیم تک پہنچ سکتا ہے۔ لیکن یہ خواب بھی کچھ کے لوگوں نے مکمل کرکے دکھایا ہے۔ کچھ میں جہاں کوئی آبپاشی کے منصوبے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا، وہاں ہزاروں چیک ڈیم بنا کر اور سجلام-سفلام آبی مہم چلا کر ہزاروں ہیکٹر اراضی کو سیراب کیا گیا ہے۔

بھائیو اور بہنوں،

گزشتہ ماہ جب ماں نرمدا کا پانی راین گاؤں پہنچا تو لوگوں نے جس طرح کا جشن منایا دنیا کے بہت سے لوگ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے۔ یہ حیرانی اس لیے تھی کہ انھیں اس بات کا اندازہ نہیں تھا کہ کچھ کے لیے پانی کا کیا مطلب ہے۔ ایک وقت تھا جب بچہ پیدا ہونے کے بعد چار سال کا ہونے تک بارش نہیں دیکھتا تھا۔ یہ میرا کچھ نے جیا ہے، زندگی مشکلات سے گزاری ہے، کچھ میں کبھی نہریں ہوں گی، ڈرپ ایریگیشن کی سہولت ہوگی، 2 دہائیوں پہلے کوئی اس کی بات کرتا تو بہت کم لوگ یقین کرتے۔

مجھے یاد ہے جب میں 2002 میں گجرات گورو یاترا کے دوران مانڈوی آیا تھا، میں نے کچھ کے باشندوں سے آشیرواد مانگی تھی کہ میں کچھ کے بیشتر حصوں کو ماں نرمدا کے پانیوں سے جوڑ سکتا ہوں۔ آپ کی عطا کردہ طاقت اسی کا نتیجہ ہے کہ آج ہم اس سارے نیک موقع میں شریک ہو رہے ہیں۔ کچھ-بھوج نہر کا آج افتتاح کیا گیا ہے۔ سینکڑوں دیہات کے ہزاروں کسان خاندان اس سے مستفید ہوئے ہیں۔

بھائیو اور بہنوں،

کچھ کے لوگوں کی بولی جانے والی زبان اتنی پیاری ہے کہ جو ایک بار یہاں آ گیا ہے وہ کچھ کو نہیں بھول سکتا۔ اور مجھے سینکڑوں بار کچھ جانے کا شرف حاصل ہوا ہے۔ یہاں دبیلی، بھیل پوری، ہمارے کچھ کی پتلی چھاچھ، کچھ کا نمک، زعفران کا ذائقہ، کیا کچھ نہیں۔ ایک پرانی کہاوت ہے کہ محنت کا پھل میٹھا ہوتا ہے۔ کچھ نے اس ضرب المثل کو زمین پر اتار کر دکھایا ہے۔

مجھے خوشی ہے کہ آج کچھ پھلوں کی پیداوار کے لحاظ سے پورے گجرات میں نمبر ایک ضلع بن گیا ہے۔ یہاں کی سبز کھجور، زعفران، آم، انار اور کملم ایسے بے شمار پھل نہ صرف ملک میں بلکہ بیرون ملک بھی اپنی مٹھاس لے کر جا رہے ہیں۔

ساتھیوں،

میں وہ دن نہیں بھول سکتا جب کچھ میں رہنے والے لوگ نہ چاہتے ہوئے بھی جانوروں کو لے کر میلوں دور ہجرت کرتے تھے یا بعض اوقات وہ جانوروں کو چھوڑ کر خود ہی جانے پر مجبور ہو جاتے تھے۔ وسائل کی کمی کے باعث مویشیوں کو ترک کرنا اس پورے علاقے کی مجبوری تھی۔ ایک ایسے علاقے میں جہاں سینکڑوں سالوں سے مویشی پالنا روزی روٹی کا ذریعہ رہا ہے، یہ صورتحال انتہائی تشویشناک تھی۔ لیکن آج اس کچھ میں کسانوں نے مویشیوں سے دولت میں اضافہ کرنا شروع کر دیا ہے۔ بیس سالوں میں کچھ میں دودھ کی پیداوار میں تین گنا سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔

جب میں یہاں بطور وزیر اعلیٰ کام کرتا تھا، اس وقت 2009 میں یہاں سرحد ڈیری کا آغاز ہوا۔ اس وقت یہ ڈیری ایک دن میں 1400 لیٹر سے کم دودھ ذخیرہ کرتی تھی۔ جب اس کا آغاز 1400 لیٹر سے کم تھا۔ لیکن آج یہ سرحدی ڈیری کسانوں سے روزانہ 5 لاکھ لیٹر تک دودھ اکٹھا کرتی ہے۔ آج اس ڈیری کی وجہ سے ہر سال تقریباً 800 کروڑ روپے کسانوں کی جیبوں میں جا رہے ہیں۔ دوستو، میرے کچھ کے کسانوں کی جیبوں میں۔ آج سرحد ڈیری کے نئے جدید پلانٹ کا افتتاح انجار تعلقہ کے چندرانی گاؤں میں کیا گیا ہے، اس سے کسانوں اور مویشی پالنے والوں کو بھی کافی فائدہ ہونے والا ہے۔ اس میں جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ دودھ کی ایسی مصنوعات بنائی جائیں گی جو کسانوں کی آمدنی بڑھانے میں معاون ثابت ہوں گی۔

بھائیو اور بہنوں،

کچھ نے نہ صرف خود کو اوپر اٹھایا ہے بلکہ پورے گجرات کو ترقی کی ایک نئی رفتار دی ہے۔ ایک وقت تھا جب گجرات پر ایک کے بعد ایک بحران آ رہا تھا۔ جب گجرات قدرتی آفت سے نمٹ رہا تھا، سازشیں شروع ہو گئیں۔ گجرات کو ملک اور دنیا میں بدنام کرنے کے لیے یہاں کی سرمایہ کاری کو روکنے کے لیے ایک کے بعد ایک سازش رچی گئی۔ ایسی صورتحال میں بھی ایک طرف گجرات ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایکٹ نافذ کرنے والی ملک کی پہلی ریاست بن گئی۔ اسی ایکٹ سے متاثر ہو کر پورے ملک کے لیے ایک جیسا قانون بنایا گیا۔ کورونا کے بحران میں اس قانون نے ہر حکومت اور انتظامیہ کی بہت مدد کی۔

ساتھیوں،

ہر سازش کو پس پشت ڈالتے ہوئے گجرات نے نئی صنعتی پالیسی لا کر گجرات میں صنعتی ترقی کی نئی راہ کا انتخاب کیا۔ اس سے کچھ کو کافی منافع ملا، کچھ میں سرمایہ کاری ہوئی۔ کچھ کی صنعتی ترقی کے لیے کروڑوں روپے کی سرمایہ کاری کی گئی ہے۔ آج کچھ میں دنیا کے سب سے بڑے سیمنٹ پلانٹ ہیں۔ ویلڈنگ پائپ مینوفیکچرنگ کے لحاظ سے کچھ دنیا میں دوسرے نمبر پر ہے۔ پوری دنیا کا دوسرا سب سے بڑا ٹیکسٹائل پلانٹ کچھ میں ہے۔ ایشیا کا پہلا اسپیشل اکنامک زون کچھ میں بنایا گیا ہے۔ کنڈلا اور موندرا بندرگاہیں ملک کے 30 فیصد کارگو کو سنبھالتی ہیں۔ کچھ ایسا علاقہ ہے جہاں سے ہندوستان کا تیس فیصد سے زیادہ نمک پیدا ہوتا ہے، ہندوستان کا کوئی لال ایسا نہیں ہوگا جس نے کچھ کا نمک نہ کھایا ہو۔ جہاں 30 سے ​​زائد سالٹ ریفائنریز موجود ہیں۔

بھائیو اور بہنوں،

ایک وقت تھا جب کچھ میں کوئی سولر پاور، ونڈ پاور کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ آج کچھ میں تقریباً ڈھائی ہزار میگا واٹ بجلی سولر اور ونڈ انرجی سے پیدا ہوتی ہے۔ آج سب سے بڑا سولر ونڈ ہائبرڈ پارک کچھ کے کھاوڑا میں بنایا جا رہا ہے۔ آج ملک میں جو گرین ہائیڈروجن مہم چل رہی ہے اس میں گجرات کا بڑا کردار ہے۔ اسی طرح، جب گجرات دنیا کے گرین ہائیڈروجن کیپٹل کے طور پر اپنی شناخت بناتا ہے، تو اس میں کچھ کا بہت بڑا حصہ ہوگا۔

ساتھیوں،

کچھ کا یہ خطہ نہ صرف ہندوستان بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک مثال ہے۔ دنیا میں چند ایسے مقامات ہیں، جو زراعت اور مویشی پالنے میں آگے، صنعتی ترقی میں آگے، سیاحت میں آگے، فن اور ثقافت میں آگے ہوں۔ کچھ کے پاس کیا نہیں ہے؟ کچھ، گجرات نے بھی اپنے ورثے کو فخر کے ساتھ اپنانے کے لیے ملک کے سامنے ایک مثال قائم کی ہے۔

اس بار 15 اگست کو لال قلعہ سے میں نے ملک کو اس کی وراثت پر مزید فخر کرنے کی دعوت دی ہے۔ پچھلے 7 سے 8 سالوں میں ہماری وراثت کے تئیں فخر کا احساس مضبوط ہوا ہے، یہ آج ہندوستان کی طاقت بن رہا ہے۔ آج ہندوستان اس ذہنی کیفیت سے نکل آیا ہے جب اپنے ورثے کی بات کرنے والے احساس کمتری سے بھرے ہوئے تھے۔

اب دیکھیں کہ ہمارے کچھ میں کیا نہیں ہے۔ شہری تعمیر میں ہماری مہارت دھولا ویرا میں جھلکتی ہے۔ دھولا ویرا کو گزشتہ سال ہی عالمی ثقافتی ورثہ کا درجہ دیا گیا ہے۔ دھولا ویرا کی ہر اینٹ ہمارے آباؤ اجداد کی مہارت، علم اور سائنس کی عکاسی کرتی ہے۔ جب دنیا کی بہت سی تہذیبیں اپنے ابتدائی دور میں تھیں، تب ہمارے آباؤ اجداد نے دھولا ویرا جیسے ترقی یافتہ شہر بسائے تھے۔

اسی طرح مانڈوی جہاز سازی کے معاملے میں سب سے آگے تھا۔ ہماری تاریخ، ہماری وراثت اور آزادی کے جنگجوؤں کے تئیں کتنی بے حسی رہی ہے، اس کی ایک مثال ہمارے شیام جی کرشن ورما سے بھی وابستہ ہے۔ آزادی کے بعد ان کی راکھ کئی دہائیوں تک بیرون ملک رکھی رہی۔ بحیثیت وزیر اعلیٰ یہ میری خوش قسمتی تھی کہ میں نے ان کی راکھ لانے کے بعد اسے مادر وطن کے حوالے کر دیا۔ آج جب ملک آزادی کا امرت مہوتسو منا رہا ہے، تب گجرات کے لوگ اور اہل وطن مانڈوی میں بنے کرانتی تیرتھ پر انھیں خراج عقیدت پیش کر پا رہے ہیں۔

ساتھیوں،

گزشتہ 2 دہائیوں سے کچھ، گجرات کے ان ورثوں کو بچانے اور دنیا کے سامنے لانے کی مسلسل کوششیں جاری ہیں۔ رن آف کچھ، دھورڈو ٹینٹ سٹی، مانڈوی ساحل، آج ملک کے اہم سیاحتی مقامات بن رہے ہیں۔ یہاں کے کاریگروں، دستکاروں کی تیار کردہ مصنوعات آج پوری دنیا میں جا رہی ہیں۔ نیرونا، بھجوڑی اور اجرک پور جیسے دیہات کی دستکاری آج ملک اور دنیا میں دھوم مچا رہی ہے۔ روگن آرٹ، مٹی آرٹ، بندھانی، کچھ کی اجرک پرنٹنگ کے چرچے ہر طرف بڑھ رہے ہیں۔ کچھ شالوں اور کچھ کڑھائی کو جی آئی ٹیگ ملنے کے بعد ان کی مانگ میں مزید اضافہ ہوا ہے۔

اسی لیے آج نہ صرف گجرات بلکہ ملک و دنیا میں یہ چرچا ہے کہ جس نے کچھ نہیں دیکھا اس نے کچھ نہیں دیکھا۔ ان میں سے بہت کچھ میری نوجوان نسل کو کچھ، گجرات کی سیاحت کو فائدہ پہنچا رہا ہے۔ آج قومی شاہراہ نمبر 41 کو چوڑا کرنے کا کام شروع ہو گیا ہے، اس سے نہ صرف سیاحوں کو مدد ملے گی بلکہ یہ سرحدی علاقے کے نقطہ نظر سے بھی بہت اہم ہے۔

ساتھیوں،

ہند-پاک جنگ کے وقت یہاں کی ماؤں بہنوں بیٹیوں کی بہادری آج بھی بہترین بہادری کی داستانوں میں لکھی جاتی ہے۔ کچھ کی ترقی سب کی کوششوں سے ایک با معنی تبدیلی کی بہترین مثال ہے۔ کچھ صرف ایک جگہ نہیں ہے، یہ زمین کا حصہ نہیں ہے، یہ کچھ ایک روح ہے، ایک زندہ احساس ہے، ایک زندہ روح ہے۔ یہ احساس ہی ہمیں آزادی کے امرت کی عظیم قراردادوں کی تکمیل کا راستہ دکھاتا ہے۔

میں آپ کے استقبال کے لیے، آپ کی محبت کے لیے آپ کا تہہ دل سے مشکور ہوں۔ لیکن یہ اسمرتی ون اس دنیا کے لیے اہمیت کا حامل ہے۔ اسے سنبھالنے کی ذمہ داری میرے کچھ کی ہے، میرے بھائیوں اور بہنوں کی ہے۔ کوئی ایک گوشہ ایسا نہ ہو جہاں گھنا جنگل نہ بنا ہو۔ ہمیں اس بھوجیا ڈنگر کو ہریالی بنانا ہے۔

دوستو، آپ سوچ بھی نہیں سکتے کہ اس اسمرتی ون میں اس سے زیادہ طاقت ہے جو کچھ کے رنوتسو میں ہے۔ بھائی یہ موقع ہاتھ سے نہ جانے دیں۔ میں نے یہ کام کرنے کے لیے بہت خواب دیکھے ہیں۔ میں نے بڑے عزم کے ساتھ کام کیا ہے، اور میں اس میں آپ کی بھر پور شرکت چاہتا ہوں۔ مسلسل تعاون کی ضرورت ہے۔ دنیا میں میرا بھوجیا ڈنگر گونجے اس کے لیے مجھے آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

ایک بار پھر تمام ترقیاتی منصوبوں کے لیے آپ سب کو بہت بہت مبارکباد اور نیک خواہشات۔ آج بہت دنوں بعد آئیے میرے ساتھ بولیے-

میں کہوں گا نرمدے، آپ کہیں گے سرودے۔

 

نرمدے - سرودے!

نرمدے - سرودے!

نرمدے - سرودے!

 

بہت بہت شکریہ!

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
Engineering goods exports up 10.4% in January,2026, crosses $100 billion mark in April-January Period of FY26

Media Coverage

Engineering goods exports up 10.4% in January,2026, crosses $100 billion mark in April-January Period of FY26
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Text of PM’s address at the News18 Rising Bharat Summit
February 27, 2026
Developed nations are eager to sign trade deals with India because a confident India is rising beyond doubt and despair: PM
In the last 11 years, a new energy has flowed into the nation's consciousness, India is determined to regain its rightful strength: PM
India's Digital Public Infrastructure has today become a subject of global discussion: PM
Today, every move India makes is closely watched and analysed across the world, the AI Summit is a clear example of this: PM
Nation-building never happens through short-term thinking; It is shaped by a long-term vision, patience and timely decisions: PM

The air of Israel has reached here too.

Namaskar!

All journalists of Network 18, all colleagues overseeing this arrangement, all distinguished guests present here, ladies and gentlemen!

You are all discussing Rising India. And in this, your emphasis is on strength within-in simple words, your focus is on the nation’s own inherent capability. In our scriptures it is said: Tat Tvam Asi!-that which we seek in the Brahman is within us, it is us ourselves. The strength lies within us, and we must recognize it. In the past 11 years, India has recognized that very strength, and today the nation is continuously striving to empower it.

Friends,

Strength in a nation does not suddenly emerge; it is built over generations. It is refined through knowledge, tradition, hard work, and experience. But during a long period of history, through centuries of slavery, the very spirit of being strong was filled with inferiority. Imported ideologies instilled deeply into society the belief that we were uneducated and mere followers. Our scriptures say: Yādṛśī bhāvanā yasya, siddhir bhavati tādṛśī-as is one’s belief, so is the accomplishment. When the belief itself was inferior, the accomplishment was also inferior. We copied foreign technologies, waited for foreign approval-this was slavery not just political or geographical, but mental. Unfortunately, even after independence, India could not free itself from this mentality of slavery. And we are still paying the price for it. A fresh example can be seen in the discussions around trade deals. Some people are surprised-how did this happen, why are developed nations so eager to make trade deals with India? The answer lies in a confident India, emerging out of despair and hopelessness. If the country were still stuck in the pre-2014 gloom, counted among the “Fragile Five,” trapped in policy paralysis-who would have made trade deals with us, who would have even looked at us?

But friends,

In the past 11 years, new energy has flowed into the nation’s consciousness. India is now striving to regain its lost strength. Once upon a time, when India had the greatest dominance in the global economy, what was our strength? India’s manufacturing, the quality of Indian products, India’s economic policies. Today’s India is once again focusing on these aspects. That is why we worked on manufacturing, emphasized Make in India, strengthened our banking system, controlled inflation that was running in double digits, and made India the growth engine of the world. It is this strength of India that has developed nations themselves coming forward to make trade deals with us.

Friends,

When the hidden power of a nation awakens, it achieves new milestones. Let me give you some more examples. Whenever I meet heads of government from other countries, they are eager to hear about the immense power of Jan Dhan, Aadhaar, and Mobile. In a country where ATMs arrived much later compared to developed nations, how did India achieve global leadership in digital payments? Where leakage in government aid was accepted as bitter truth, how did India, through DBT, transfer 24 lakh crore rupees-twenty-four trillion rupees-to beneficiaries? India’s digital public infrastructure has today become a subject of global discussion.

Friends,

The world is astonished-how India where until 2014 nearly 30 million families lived in darkness, became one of the top countries in solar power capacity? How did India whose cities had no hope of improved public transport, become the third-largest metro network country in the world? How did India whose railways were known only for delays and slow speed achieve semi-high-speed connectivity with Vande Bharat and Namo Bharat?

Friends,

There was a time when India was only a consumer of new technology. Today, India is also a creator of new technology and is setting new standards. And this has happened because we recognized our own strength-the very strength within you are discussing is an example of this.

Friends,

When we move forward with pride, the way the world looks at us also changes. Remember, just a few years ago, how little global media discussed India’s events. Events in India were not given much importance. And today, see how every action of India is analyzed globally. The AI Summit is an example-it was held right here in this building. More than 100 countries participated. Whether Global North or Global South, all sat together at one table. From large corporations to small startups, all gathered together.

Friends,

In all the industrial revolutions so far, India and the entire Global South were only followers. But in this era of Artificial Intelligence, India is not only a participant in decisions but is also shaping them. Today we have our own AI startup ecosystem, the strength to invest in data centers, and we are working rapidly on the power most needed to store and process AI data. The reforms we have made in the nuclear power sector will also help strengthen India’s AI ecosystem.

Friends,

The organization of the AI Summit was a moment of pride for the whole of India. But unfortunately, the country’s oldest party tried to tarnish this celebration. In front of foreign guests, Congress did not just strip off clothes, but also exposed its ideological bankruptcy. When failure breeds despair and arrogance takes over, such thinking emerges that seeks to defame the nation. Clearly, Congress’s actions have angered the country. To justify its sin, they brought Mahatma Gandhi forward. Congress always does this-when it wants to hide its sins, it puts Bapu forward; when it wants to glorify itself, it gives all credit to one family.

Friends,

Congress has now reduced itself to a mere toolkit of opposition in the name of ideology. This mentality of blind opposition has grown so much that they do not miss any chance to belittle the nation on every stage, every platform. Whatever good happens for the country, whatever auspicious occurs, Congress only knows how to oppose.

Friends,

I have a long list-the new Parliament building was constructed, they opposed it. The lions of the Ashoka pillar atop Parliament-they opposed it. Those whose lions once ran away after eating ordinary citizens’ shoes, were frightened by the teeth of the Parliament’s lions. The Kartavya Path was built, they opposed it. The armed forces carried out surgical strikes, they opposed it. The Balakot air strike happened, they opposed it. Operation Sindoor was conducted, they opposed it. In short, for every achievement of the nation, Congress’s toolkit produces only one thing-opposition.

Friends,

The nation brought down the wall of Article 370, the country rejoiced. But Congress opposed it. We enacted the CAA law-they opposed it. We introduced the Women’s Reservation Bill-they opposed it. We brought a law against triple talaq-they opposed it. We launched UPI-they opposed it. We initiated the Swachh Bharat Mission-they opposed it. The country developed its own COVID vaccine, and even that they opposed.

Friends,

In a democracy, opposition does not mean blind resistance. In democracy, opposition means presenting an alternative vision. That is why the enlightened citizens of the country have been teaching Congress a lesson-not just today, but continuously for the past four decades. What I am about to say, I urge my media colleagues to analyze as well. You will see that Congress’s votes are not being stolen; rather, the people of the country no longer consider Congress worthy of their vote. And this decline began after 1984. In 1984, Congress received 39 percent of the vote and more than 400 seats. In subsequent elections, Congress’s vote share kept declining. And today, Congress’s condition is such that only four states remain where Congress has more than 50 legislators. Over the past 40 years, the number of young voters has increased, and Congress has steadily disappeared. Congress has become a club of people enslaved to one family. That is why first the millennials taught Congress a lesson, and now Gen Z is also ready.

Friends,

Congress and its allies have such a narrow mindset that they have even made long-term vision a crime. Today, when we talk about a developed India by 2047, some people ask-“Why talk about something so far ahead now?” Some even say, “Modi won’t be alive till then.” The truth is that nation-building never happens through short-term thinking. It happens through a grand vision, patience, and timely decisions. Let me present some facts before Network 18’s viewers. Every year, India spends more than 6 lakh crore rupees on freight through foreign ships. On fertilizer imports, we spend 2.25 lakh crore rupees annually. On petroleum imports, we spend 11 lakh crore rupees annually. That means, every year, trillions of rupees are flowing out of the country. If this investment had been directed towards self-reliance 20–25 years ago, today this capital would have been strengthening India’s infrastructure, research, industry, farmers, and youth. Today, our government is working with this very vision. To avoid paying 6 lakh crore rupees to foreign ships, Indian shipping and port infrastructure is being strengthened. To increase domestic fertilizer production, new plants are being set up, and nano-urea is being promoted. To reduce dependence on petroleum, ethanol blending, the Green Hydrogen Mission, solar energy, and electric mobility are being prioritized.

And friends,

We must take decisions today while keeping the future in mind. That is why India is building a semiconductor ecosystem. In defense production, mobile manufacturing, drone technology, the critical minerals sector, and investments therein-we are laying the foundation for economic security in the coming decades. The 2047 goal is not a political slogan. It is also a resolve to correct the historical mistakes where Congress governments failed to invest in time. Today, if we build indigenous ships, produce our own energy, and develop new technologies ourselves, then future generations will not discuss the burden of imports, but the capacity for exports. The progress of a nation is determined not by “today’s convenience” but by “tomorrow’s preparation.” And the hard work done with foresight is the foundation of a self-reliant, strong, and prosperous India in 2047. And no matter how many clothes Congress tears in protest, we will continue to work tirelessly.

Friends,

One very important condition of nation-building is sincerity of intent. Congress and its allies have failed even here. They have never worked with sincerity. They have no concern for the suffering of the poor. For example, in Bengal, the Ayushman Bharat scheme has still not been implemented. If there were sincerity, would they have blocked a scheme that provides free treatment up to 5 lakh rupees for the poor? No. You also know that under the PM Awas Yojana, permanent houses are being built for the poor. Let me give another figure to Network 18’s viewers. In Tamil Nadu, about 9.5 lakh permanent houses have been allocated for poor families-9.5 lakh. But construction of 3 lakh of these houses has stalled. Why? Because the DMK government is not showing interest in building these homes for the poor. And the reason is clear-their intent is not sincere.

Friends,

Let me also give you an example from the agriculture sector. During Congress’s time, farming was left to its fate. Small farmers were ignored, crop insurance was in shambles, the Swaminathan Committee’s report on MSP was buried in files. Congress made announcements in the budget, but nothing happened on the ground-because they lacked sincerity. We began working sincerely for the farmers of the country, and today the world is witnessing the results. Today, India is becoming one of the major agricultural exporters in the world. We have created a safety net for farmers at every level. Through the PM Kisan Samman Nidhi, more than 4 lakh crore rupees have been deposited directly into farmers’ accounts. We set MSP at 1.5 times the cost and made record purchases. Let me give you just one figure-pulses. The UPA government, in 10 years, purchased only 6 lakh metric tons of pulses at MSP-6 lakh metric tons. Our government has already purchased about 170 lakh metric tons of pulses at MSP-nearly 30 times more. Now you decide who truly works for the farmers.

Friends,

The UPA government was also stingy in providing help to farmers through the Kisan Credit Card. In its 10 years, the UPA government gave 7 lakh crore rupees in agricultural loans-7 lakh crore rupees. Whereas our government has given four times more-28 lakh crore rupees. During UPA’s time, only 5 crore farmers benefited from this. Today, the number has more than doubled, reaching nearly 12 crore farmers. That means, for the first time, even small farmers have received help. Our government has also given farmers the protective shield of the PM Fasal Bima Yojana. Under this, about 2 lakh crore rupees have already been provided to farmers in times of crisis. Because we are working with sincerity, the confidence of India’s farmers is rising, their productivity is increasing, and their incomes are growing.

Friends,

A quarter of the 21st century has already passed. The next phase is the decisive period of India’s development. The decisions taken today will determine the direction of the future. We must move forward by recognizing and enhancing our strength. Every individual must aim for excellence in their field, every institution must make excellence its culture. We should not just produce products, but produce best-quality products. We should not just do routine work, but world-class work. We must convert capability into performance. As I said from the Red Fort-this is the time, the right time. This is the time to take India to new heights. Once again, my heartfelt congratulations and thanks to all of you. Namaskar.