“7,500 sisters and daughters created history by spinning yarn on a spinning wheel together”
“Your hands, while spinning yarn on Charkha, are weaving the fabric of India”
“Like freedom struggle, Khadi can inspire in fulfilling the promise of a developed India and a self-reliant India”
“We added the pledge of Khadi for Transformation to the pledges of Khadi for Nation and Khadi for Fashion”
“Women power is a major contributor to the growing strength of India's Khadi industry”
“Khadi is an example of sustainable clothing, eco-friendly clothing and it has the least carbon footprint”
“Gift and promote Khadi in the upcoming festive season”
“Families should watch ‘Swaraj’ Serial on Doordarshan”

‏گجرات کے ہر دل عزیز  وزیر اعلیٰ جناب بھوپیندر بھائی پٹیل، پارلیمنٹ میں میرے ساتھی جناب سی آر پاٹل جی، گجرات سرکار میں وزرا بھائی جگدیش پنچل ، ہرش سنگھوی، احمد آباد کے میئر کریت بھائی، کے وی آئی سی کے چیئرمین منوج جی، دیگر معززین اور گجرات کے کونے کونے سے آئے میرے پیارے بھائی اور بہنو۔ ‏

‏سابرمتی کا یہ کنارہ آج دھنیہ ہو گیا ہے۔ آزادی کے "پچھتر" سال کی تکمیل کے موقع پر 'پچھتر سو' بہنوں اور بیٹیوں نے مل کر چرخے پر سوت  کات کر ایک نئی تاریخ رقم کی ہے۔اس موقع پر مجھے یہ اعزاز حاصل ہوا ہے کہ میں نے کچھ وقت چرخے پر اپنا ہاتھ آزمایا  اور سوت کاتنے کا شرف بھی حاصل کیا۔ میرے لیے آج ان چرخوں کو چلانا جذباتی لمحات تھے جو مجھے اپنے بچپن کی یادوں کی طرف لے گئے ، یہ ساری چیزیں ہمارے چھوٹے سے گھر میں رہتی تھیں، ایک کونے میں ، اور ہماری ماں اضافی کمائی کے مدنظر جب بھی وقت ملتا سوت کاتنے بیٹھ جایا کرتی تھیں۔ آج وہ تصویر میری ذہن میں ایک بار پھر ابھر آئی۔ اور جب میں ان تمام چیزوں کو دیکھتا ہوں، آج یا اس سے پہلے بھی، کبھی کبھی مجھے لگتا ہے کہ جس طرح ایک بھکت بھگوان کی پوجا کرتا ہے، پوجا کا سامان استعمال کرتا ہے، ایسا لگتا ہے کہ سوت کاتنے کا عمل بھی گویا بھگوان کی پوجا سے کم نہیں ہے۔‏

‏جس طرح تحریک آزادی میں چرکھا ملک کی دھڑکن بن چکی تھی، آج میں یہاں سابرمتی کے کنارے بھی یہی دھڑکن محسوس کر رہا ہوں۔ مجھے یقین ہے کہ یہاں موجود ہر شخص، اس تقریب کو دیکھنے والے تمام لوگ آج یہاں کھادی تہوار کی توانائی محسوس کر رہے ہوں گے۔ آزادی کے امرت مہوتسو میں ملک نے آج کھادی فیسٹیول کا انعقاد کرکے اپنے مجاہدین آزادی کو ایک بہت خوبصورت تحفہ دیا ہے۔ آج گجرات اسٹیٹ کھادی ولیج انڈسٹریز بورڈ کی نئی عمارت اور سابرمتی ندی پر واقع عظیم الشان اٹل پل کا بھی افتتاح کیا گیا ہے۔ میں احمد آباد کے عوام، گجرات کے عوام کو مبارکباد پیش کرتا ہوں اور آج جب ہم اس نئے مرحلے پر آگے بڑھ رہے ہیں تو ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتا ہوں۔‏

‏ساتھیو

‏اٹل پل نہ صرف سابرمتی دریا کو دو کناروں سے جوڑ رہا ہے بلکہ یہ ڈیزائن اور اختراع میں بھی بے نظیر ہے۔ اس کے ڈیزائن میں گجرات کے مشہور پتنگ میلے کا بھی خیال رکھا گیا ہے۔ گاندھی نگر اور گجرات نے ہمیشہ اٹل جی کو بہت پیار دیا تھا۔ 1996 میں اٹل جی نے گاندھی نگر سے لوک سبھا انتخابات میں ریکارڈ ووٹوں سے کامیابی حاصل کی۔ یہ اٹل پل بھی یہاں کے لوگوں کی طرف سے ان کے لیے ایک جذباتی خراج عقیدت ہے۔‏

‏ساتھیو

‏چند روز قبل گجرات سمیت پورے ملک میں آزادی کے 75 سال مکمل ہونے پر امرت مہوتسو کو بڑے جوش و خروش سے منایا گیا ہے۔ گجرات میں بھی ہم نے ہر گھر، ہر گاؤں، گلی اور چاروں طرف من بھی ترنگا، تن بھی ترنگا، جن بھی ترنگا، جذبہ بھی ترنگا، اس کی جھلکیاں بڑے جذبے سے دیکھی ہیں۔ یہاں جو ترنگا ریلیاں ہوئیں، پربھات پھیریاں نکلیں، یہ نہ صرف حب الوطنی کا جوار تھا بلکہ امرت دور میں ایک ترقی یافتہ بھارت کی تعمیر کا عزم بھی تھا۔ آج یہاں کھادی فیسٹیول میں بھی یہی عزم نظر آ رہا ہے۔ چرخے پر سوت کاتنے والے آپ کے ہاتھ مستقبل کے بھارت کے تانے بانے بن رہے ہیں۔‏

‏ساتھیو

‏تاریخ گواہ ہے کہ کھادی کا ایک دھاگا غلامی کی زنجیریں توڑکر تحریک آزادی کی طاقت بن گیا۔ کھادی کا یہی دھاگا ایک خود کفیل بھارت کے خواب کو پورا کرنے، ترقی یافتہ بھارت کی امنگوں کی تکمیل کے لیے تحریک کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔ چراغ کی طرح، چاہے وہ کتنا ہی چھوٹا کیوں نہ ہو، اندھیرے کو شکست دیتا ہے۔ کھادی جیسی ہماری روایتی طاقت بھی بھارت کو نئی بلندیوں پر لے جانے کی تحریک بن سکتی ہے۔ اور اس لیے کھادی کا یہ تہوار تحریک آزادی کی تاریخ کو زندہ کرنے کی ایک کوشش ہے۔ کھادی کا یہ تہوار مستقبل کے روشن بھارت کے عزم کو پورا کرنے کے لیے ایک تحریک ہے۔‏

‏ساتھیو

‏اس بار 15 اگست کو لال قلعے سے میں نے پنچ پرانوں کی بات کہی ۔ آج سابرمتی کے کنارے، اس پنیہ بہاؤ کے سامنے، اس مقدس مقام پر، میں پنچ پرانوں کا اعادہ کرنا چاہتا ہوں۔ پہلا: ملک کے سامنے بہت بڑا مقصد، ایک ترقی یافتہ بھارت کی تشکیل کا مقصد، دوسرا : غلامی کی ذہنیت کو مکمل طور پر ترک کرنا، تیسرا : اپنے ورثے پر فخر، چوتھا : قومی یکجہتی کو فروغ دینے کی مضبوط کوششیں ، اور پانچواں: ہر شہری کا فرض۔‏

‏آج کا کھادی تہوار ان پنچ پرانوں کی خوبصورت عکاسی کرتا ہے۔ کھادی کے اس تہوار کے بہت بڑے مقصد میں ، اپنے ورثے پر فخر ، عوامی حصے داری ، اپنا فرض ، سب کچھ شامل ہے، یہ ہر ایک کا امتزاج  ہے۔ ہماری کھادی بھی غلامی کی ذہنیت کا شکار رہی ہے۔ تحریک آزادی کے دوران جس کھادی نے ہمیں دیسی محسوس کرایا، آزادی کے بعد اسی کھادی کو حقارت سے دیکھا گیا۔ تحریک آزادی کے وقت گاندھی جی نے جس کھادی کو ملک کی عزت بنایا تھا، وہی کھادی آزادی کے بعد احساس کمتری سے مملو ہوگئی ۔ اس کی وجہ سے کھادی اور کھادی سے وابستہ گاؤں کی صنعت مکمل طور پر تباہ ہو گئی۔ خاص طور پر گجرات کے لیے کھادی کی یہ صورتحال بہت تکلیف دہ تھی کیونکہ گجرات کا کھادی کے ساتھ بہت خاص تعلق ہے۔‏

‏ساتھیو

‏مجھے خوشی ہے کہ گجرات کی اس سرزمین نے کھادی کو ایک بار پھر زندگی دینے کا کام کیا ہے۔ مجھے یاد ہے کہ 2003 میں ہم نے کھادی کی حالت کو بہتر بنانے کے لیے گاندھی جی کی جائے پیدائش پوربندر سے ایک خصوصی مہم شروع کی تھی۔ پھر ہم نے کھادی فار نیشن کے ساتھ کھادی فار فیشن کا عزم کیا۔ گجرات میں کھادی کی تشہیر کے لیے کئی فیشن شوز کا انعقاد کیا گیا، مشہور شخصیات اس سے وابستہ تھیں۔ لوگ ہمارا مذاق اڑاتے تھے، ہماری توہین بھی کرتے تھے۔ لیکن کھادی اور گرام ادیوگ سے غفلت گجرات کو قابل قبول نہیں تھی۔ گجرات لگن کے ساتھ آگے بڑھتا رہا اور اس نے کھادی کو نئی زندگی دینے کی ٹھانی اور یہ کرکے دکھایا بھی۔

‏2014 میں جب آپ نے مجھے دہلی جانے کا حکم دیا تو میں نے گجرات سے تحریک کو مزید آگے بڑھایا، اسے مزید وسعت دی۔ ہم نے کھادی فار نیشن ، کھادی فار فیشن میں کھادی فار ٹرانسفارمیشن کو شامل کیا۔ ہم نے ملک بھر میں گجرات کی کامیابی کے تجربات کو توسیع دینا شروع کیا۔ ملک بھر میں کھادی سے متعلق تمام مسائل کو دور کیا گیا۔ ہم نے اہل وطن کو کھادی مصنوعات خریدنے کی ترغیب دی۔ اور اس کا نتیجہ آج دنیا دیکھ رہی ہے۔‏

‏آج بھارت کے سرفہرست فیشن برانڈز خود کھادی میں شامل ہونے کے لیے آگے آرہے ہیں۔ آج بھارت میں کھادی کی ریکارڈ پیداوار ہے، ریکارڈ فروخت ہو رہی ہے۔ کھادی کی فروخت میں گزشتہ 8 سالوں میں 4 گنا سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ آج پہلی بار بھارت کی کھادی اور گرام ادیوگ کا کاروبار ایک لاکھ کروڑ روپے سے تجاوز کر گیا ہے۔ کھادی کی اس فروخت سے آپ کو سب سے زیادہ فائدہ ہوا ہے، میرے گاؤں میں رہنے والے کھادی سے وابستہ بھائیوں اور بہنوں کو فائدہ ہوا ہے۔‏

‏کھادی کی فروخت میں اضافے کی وجہ سے دیہاتوں میں زیادہ رقم گئی ہے، دیہاتوںمیں زیادہ لوگوں کو روزگار ملا ہے۔ خاص طور پر ہماری ماؤں اور بہنوں کو بااختیار بنایا گیا ہے۔ گزشتہ 8 سالوں میں صرف کھادی اور گرام ادیوگ میں 2 کروڑ نئی ملازمتیں پیدا ہوئی ہیں۔ اور ساتھیو، گجرات میں اب سبز کھادی کی مہم بھی چل پڑی ہے۔ کھادی اب یہاں شمسی چرخے سے بنائی جارہی ہے، کاریگروں کو شمسی چرخے دیے جارہے ہیں۔ یعنی گجرات ایک بار پھر نیا راستہ دکھا رہا ہے۔‏

‏ساتھیو

‏بھارت کی کھادی صنعت کی بڑھتی ہوئی طاقت میں خواتین کی طاقت بھی بہت بڑا حصہ دار ہے۔ انٹرپرینیورشپ کا جذبہ ہماری بہنوں اور بیٹیوں میں پیوست ہے۔ اس کا ثبوت گجرات میں سکھی منڈلوں کی توسیع بھی ہے۔ ایک دہائی قبل ہم نے گجرات میں بہنوں کو بااختیار بنانے کے لیے مشن منگلم کا آغاز کیا تھا۔ آج گجرات میں بہنوں کے 2 لاکھ 60 ہزار سے زائد سیلف ہیلپ گروپ تشکیل دیے گئے ہیں۔ ان سے 26 لاکھ سے زیادہ دیہی بہنیں وابستہ ہیں۔ ان سکھی منڈلوں کو ڈبل انجن حکومت سے بھی ڈبل مدد مل رہی ہے۔‏

‏ساتھیو

‏بہنوں اور بیٹیوں کی طاقت اس امرت دور میں حقیقی اثر پیدا کرنے والی ہے۔ یہ ہماری کوشش ہے کہ ملک کی بیٹیاں زیادہ سے زیادہ تعداد میں روزگار میں شامل ہوں، اپنے من پسند کام کریں۔ مدرا اسکیم اس میں بہت بڑا کردار ادا کر رہی ہے۔ ایک وقت تھا جب بہنوں کو چھوٹے قرضے حاصل کرنے کے لیے بھی ایک جگہ جگہ چکر کاٹنے پڑتے تھے۔ آج مدرا اسکیم کے تحت 50 ہزار سے 10 لاکھ روپے تک کے قرضے بغیر ضمانت کے دیے جا رہے ہیں۔ ملک میں کروڑوں بہنوں اور بیٹیوں نے مدرا اسکیم کے تحت قرض لے کر پہلی بار اپنا کاروبار شروع کیا ہے۔ یہی نہیں ایک یا دو افراد کو روزگار بھی دیا گیا ہے۔ ان میں سے بہت سی خواتین کھادی گرام ادیوگ سے بھی وابستہ ہیں۔‏

‏ساتھیو

‏یہ بہت اہم ہے کہ ہماری مصنوعات ماحول دوست ہوں، ماحول کو نقصان نہ پہنچائیں۔ آپ سب جو یہاں کھادی میلے میں آئے ہیں وہ سوچ رہے ہوں گے کہ میں پائیدار ہونے پر اتنا زور کیوں دے رہا ہوں۔ اس کی وجہ ہے کہ کھادی پائیدار لباس کی ایک مثال ہے۔ کھادی ماحول دوست لباس کی ایک مثال ہے۔ کھادی کاربن فٹ پرنٹ کو کم سے کم کرتی ہے۔ بہت سے ممالک ایسے ہیں جہاں درجہ حرارت زیادہ ہے، کھادی صحت کے نقطہ نظر سے بھی بہت اہم ہے۔ چنانچہ کھادی آج عالمی سطح پر بہت بڑا کردار ادا کر سکتی ہے۔ بس ہمیں اپنی اس وراثت پر فخر ہونا چاہیے۔‏

‏آج کھادی سے وابستہ آپ سب کے لیے ایک بہت بڑا بازار تیار کیا گیا ہے۔ ہمیں اس موقع کو گنوانا نہیں ہے۔ میں وہ دن دیکھ رہا ہوں جب بھارت کی کھادی دنیا کی ہر بڑی سپر مارکیٹ پر، کپڑے کی منڈی میں حاوی ہوگی۔ آپ کی محنت، آپ کا پسینہ، اب دنیا میں چھا جانے والا ہے۔ موسمیاتی تبدیلیوں کے درمیان کھادی کی مانگ میں اب تیزی سے اضافہ ہونے والا ہے۔ کوئی طاقت کھادی کو لوکل سے گلوبل ہونے سے نہیں روک سکتی۔‏

‏ساتھیو

‏آج سابرمتی کے کنارے سے میں ملک بھر کے لوگوں سے بھی اپیل کرنا چاہتا ہوں۔ آنے والے تہواروں میں اس بار صرف کھادی گرام ادیوگ میں تیار کردہ مصنوعات تحفے میں دیں۔ آپ گھر میں مختلف اقسام کے کپڑے سے بنے کپڑے بھی لے سکتے ہیں، لیکن اگر آپ اس میں کھادی کو تھوڑی سی جگہ دیں گے، تو آپ ووکل فار لوکل مہم میں اپنا کردار ادا کریں گے، اس سے ایک غریب شخص کی زندگی کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔ اگر آپ میں سے کوئی بیرون ملک رہ رہا ہے، کسی رشتہ دار یا دوست کے پاس جا رہا ہے، تو اسے بھی کھادی مصنوعات کو تحفے کے طور پر لے جانا چاہیے۔ اس سے نہ صرف کھادی کو فروغ ملے گا بلکہ دوسرے ممالک کے شہریوں میں کھادی کے بارے میں بھی بیداری پیدا ہوگی۔‏

‏جو قوم  اپنی تاریخ بھول جاتی ہے وہ نئی تاریخ کبھی نہیں بناسکتی۔ کھادی ہماری تاریخ، ہمارے ورثے کا لازمی حصہ ہے۔ جب ہمیں اپنے ورثے پر فخر ہوتا ہے تو دنیا بھی اس کا اتناہی احترام کرتی  ہے۔ اس کی ایک مثال بھارت کی کھلونا صنعت ہے۔ کھلونے، بھارتی روایات پر مبنی کھلونے بھی فطرت کے لیے اچھے ہیں، بچوں کی صحت کو نقصان نہیں پہنچاتے۔ لیکن گزشتہ دہائیوں میں غیر ملکی کھلونوں کے مقابلے میں بھارت کی اپنی ثروت مند کھلونا صنعت تباہ ہو رہی تھی۔‏

‏حکومت کی کوششوں سے کھلونا صنعتوں سے وابستہ ہمارے بھائیوں اور بہنوں کی محنت نے اب صورتحال کو بدلنا شروع کردیا ہے۔ اب بیرون ملک سے درآمد کیے جانے والے کھلونوں میں زبردست کمی آئی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بھارتی کھلونے زیادہ سے زیادہ عالمی منڈیوں میں اپنی جگہ بنا رہے ہیں۔ اس سے ہماری چھوٹی صنعتوں، کاریگروں، کارکنوں، وشوکرما معاشرے کے لوگوں کو فائدہ ہوا ہے۔‏

‏ساتھیو

‏حکومت کی کوششوں، دستکاری کی برآمد، ہاتھ سے بنے قالینوں کی برآمد میں بھی مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ آج دو لاکھ سے زائد بنکر اور دستکاری کاریگر جی ای ایم پورٹل سے جڑے ہوئے ہیں اور آسانی سے اپنا سامان حکومت کو فروخت کر رہے ہیں۔‏

‏ساتھیو

‏کورونا کے اس بحران میں بھی ہماری حکومت کاٹیج انڈسٹری سے وابستہ ہمارے دستکاری کاریگروں، بنکروں، بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ چھوٹے پیمانے کی صنعتوں، ایم ایس ایم ایز کو مالی امداد فراہم کرکے حکومت نے کروڑوں ملازمتوں کو ضائع ہونے سے بچایا ہے۔‏

‏بھائیو اور بہنو،‏

‏امرت مہوتسو کا آغاز گذشتہ سال مارچ میں ڈانڈی یاترا کی سالگرہ پر سابرمتی آشرم سے ہوا تھا۔ امرت مہوتسو اگلے سال اگست 2023 تک جاری رہنے والا ہے۔ میں گجرات حکومت کھادی سے وابستہ اپنے بھائیوں اور بہنوں کو اس عظیم الشان تقریب کے لیے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ امرت مہوتسو میں ہمیں اس طرح کی تقریبات کے ذریعے نئی نسل کو تحریک آزادی سے متعارف کرواتے رہنا ہوگا۔‏

‏میں آپ سب سے اپیل کرنا چاہتا ہوں، آپ نے دیکھا ہوگا کہ دوردرشن پر سوراج سیریل شروع ہوا ہے۔ آپ ملک کی آزادی کے لیے، ملک کی عزت کے لیے، ملک کے کونے کونے میں کیا جدوجہد ہوئی تھی، کیا قربانیاں دی گئیں، اس سیریل میں تحریک آزادی سے متعلق کہانیاں بڑی تفصیل سے دکھائی جارہی ہیں۔ آج کی نوجوان نسل اتوار کو دوردرشن پر شاید رات نو بجے آتی ہے، اس سوراج سیریل کو پورے  خاندان کو دیکھنا چاہیے ۔ ہماری آنے والی نسل کو معلوم ہونا چاہیے کہ ہمارے اجداد نے ہمارے لیے کیا کیا برداشت کیا ہے۔ اس خواہش کے ساتھ کہ ملک میں حب الوطنی، قوم کے شعور اور خود انحصاری کا یہ احساس بڑھتا رہے، میں ایک بار پھر آپ سب کا دلی شکریہ ادا کرتا ہوں!‏

‏میں خاص طور پر آج اپنی ان ماؤں اور بہنوں کو سلام کرنا چاہتا ہوں کیونکہ چرخہ  چلانا بھی ایک طرح کی پوجا ہے۔ پوری توجہ سے، یوگیوں والے  جذبے کے ساتھ، یہ مائیں اور بہنیں قوم کی ترقی میں اپنا حصہ ڈال رہی ہیں۔ اور اتنی بڑی تعدادمیں  تاریخ میں پہلی بار یہ واقعہ رونما ہوا ہوگا۔ تاریخ میں پہلی بار۔ ‏

‏جو لوگ برسوں سے اس خیال سے وابستہ ہیں وہ اس تحریک سے وابستہ ہیں۔ میں ایسے تمام دوستوں سے درخواست کرتا ہوں کہ جس طرح آپ نے اب تک کام کیا ہے، جس طرح آپ نے کام کیا ہے، آج حکومت ہند کی جانب سے مہاتما گاندھی کی ان اقدار کی بحالی کے لیے کو کوششیں ہورہی ہیں ان کو سمجھا جانا چاہیے۔ اسے قبول کرکے آگے بڑھنے میں مدد ملے۔ اس کے لیے میں ایسے تمام ساتھیوں کو مدعو کر رہا ہوں۔ ‏

آؤ ہم سب ساتھ مل کر آزادی کے امرت مہوتسو میں پوجیہ باپو نے جو عظیم روایت پیدا کی ، جو روایت بھارت کے روشن مستقبل کی بنیاد بن سکتی ہے،  اس میں اپنی پوری طاقت لگائیں، اس کی طاقت میں اضافہ کریں، اپنا فرض ادا کریں اور اپنے ورثے پر فخر کریں اور آگے بڑھیں۔ اس توقع کے ساتھ، ایک بار پھر میں آپ سب ماؤں اور بہنوں کے سامنے ادب سے نمن کرتا ہوں اور اپنی بات ختم کرتا ہوں۔‏

‏شکریہ!‏

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
India's private credit market doubles to $25 billion in 5 years: Moody's

Media Coverage

India's private credit market doubles to $25 billion in 5 years: Moody's
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
PM to visit Rajasthan and Gujarat on 4 July
July 03, 2026
PM to dedicate, inaugurate, and lay the foundation stone for development projects worth around ₹1.06 lakh crore in Balotra
Projects span across sectors including petrochemicals, urban transport, railways, roads, renewable energy and power transmission
PM to dedicate India’s first greenfield integrated Refinery-cum-Petrochemical Complex at Pachpadra in Balotra
The state-of-the-art complex integrates refining and petrochemical production; has been established with an investment of over ₹79,450 crore
PM to lay the foundation stone for Phase 2 of the Jaipur Metro Rail Project
PM to launch the Modified UDAN scheme in Jodhpur
PM to inaugurate the Terminal Building of Jodhpur Airport
Marking a significant milestone in India's semiconductor manufacturing journey, PM to inaugurate CG Semi OSAT facility in Sanand, Ahmedabad
CG Semi plant to feature one of India's first end-to-end OSAT facilities offering semiconductor assembly and test services
Once fully ramped up, the facility will have an annual production capacity of up to 5 billion semiconductor chips

Prime Minister Shri Narendra Modi will visit Rajasthan and Gujarat on 4 July 2026. At around 10:45 AM, Prime Minister will inaugurate the Terminal Building of Jodhpur Airport and launch the Modified UDAN scheme in Jodhpur. Subsequently, at around 12:15 PM, he will travel to Balotra to dedicate, inaugurate, and lay the foundation stone for development projects worth approximately ₹1.06 lakh crore. He will also address a public gathering on the occasion.

Thereafter, Prime Minister will travel to Gujarat. At around 4:30 PM, Prime Minister will inaugurate the CG SEMI Outsourced Semiconductor Assembly and Test (OSAT) Facility in Sanand, Ahmedabad. He will also address the gathering on the occasion.

PM in Jodhpur

In a major boost to the aviation sector, with a particular focus on regional connectivity, Prime Minister will launch the Modified UDAN Scheme in Jodhpur. This marks a significant leap forward in India's civil aviation landscape and will further advance the vision of "Ude Desh ka Aam Nagrik". With an allocation of ₹28,840 crore over the next 10 years, the scheme aims to accelerate the next phase of aviation-led development. It focuses on multiple strategic components designed to ensure comprehensive and sustainable connectivity.

A key emphasis is on the development of 100 aerodromes from existing unserved airstrips, supported by an outlay of over ₹12,000 crore, to expand aviation infrastructure across the country. In addition, over ₹2,500 crore has been earmarked for Operations and Maintenance (O&M) support to ensure the viability of regional airports during their initial years of operation. To address accessibility challenges in remote and difficult terrains, the scheme also proposes the development of 200 modern helipads.

The scheme also continues Viability Gap Funding (VGF) support of over ₹10,000 crore for airlines, ensuring sustained regional operations while encouraging gradual commercial viability. Further strengthening the vision of Aatmanirbhar Bharat, the initiative includes the procurement of indigenous aircraft and helicopters, such as HAL Dhruv and Dornier platforms, to enhance connectivity and operations in underserved regions.

During the programme, the Prime Minister will also inaugurate the New Terminal Building at Jodhpur Airport. The project has been developed at a total cost of ₹480 crore. Spread over an area of more than 23,000 sqm., the New Terminal Building is designed to handle up to 20 lakh passengers annually. It is equipped with modern passenger amenities to ensure a seamless and comfortable travel experience.

Architecturally inspired by Rajasthan's royal heritage, the terminal seamlessly blends traditional elements such as arches and jharokhas with contemporary design. Sustainability has been integral to the terminal's design, with features such as energy-efficient systems, water conservation measures, and green building practices aimed at achieving a 5-Star GRIHA rating. The inauguration of the New Terminal Building at Jodhpur Airport will provide a significant boost to tourism, trade, and employment generation in the region.

PM in Balotra

Prime Minister will lay the foundation stone and inaugurate various development projects worth around ₹1.06 lakh crore in Balotra. These projects span multiple sectors, including petrochemicals, urban transport, railways, roads, renewable energy, and power transmission

Prime Minister will dedicate India's first greenfield integrated refinery-cum-petrochemical complex to the nation at Pachpadra in Balotra, marking a landmark achievement in the country's energy and petrochemical sector.

Developed as a joint venture between Hindustan Petroleum Corporation Limited (HPCL) and the Government of Rajasthan, the 9 Million Metric Tonnes Per Annum (MMTPA) Greenfield Refinery-cum-Petrochemical Complex has been established with an investment of over ₹79,450 crore.

The state-of-the-art complex integrates refining and petrochemical production, with a petrochemical capacity of 2.4 MMTPA. The refinery features a high Nelson Complexity Index of 17.0 and petrochemical yields exceeding 26%, aligning with global benchmarks for efficiency and sustainability.

The project is expected to play a pivotal role in strengthening India's energy security, enhancing petrochemical self-sufficiency, and driving industrial growth. It will serve as an anchor industry for the development of a Petrochemical and Plastic Park in the region, promoting downstream industries and ancillary sectors. Additionally, the refinery is poised to generate significant employment opportunities, contributing to the socio-economic development of the region.

Prime Minister will lay the foundation stone for Phase 2 of the Jaipur Metro Rail Project, which has a total cost of over ₹13,000 crore. Under Phase 2, a 41-km north-south metro corridor will be developed from Prahladpura to Todi Mod, connecting the industrial and residential areas of Sitapura and Vishwakarma Industrial Area (VKI) through 36 stations. The corridor will provide seamless connectivity to key locations, including the Sitapura Industrial Area, VKI, Jaipur Airport, Tonk Road, SMS Hospital, SMS Stadium, Ambabari, and Vidyadhar Nagar. The project will significantly improve connectivity to Jaipur's major industrial and residential areas, providing residents with faster, safer, and more convenient public transport. Under Phase 1, an 11.64-km metro corridor with 11 stations is already operational.

Prime Minister will further dedicate to the nation the Churu–Sadulpur (58 km) and Churu–Ratangarh (46 km) rail doubling projects, constructed at a cost of around ₹900 crore. Spanning a total length of 104 km, these projects will strengthen rail connectivity in north-west Rajasthan. They will enhance rail line capacity, enabling smoother, safer, and more punctual operation of both passenger and freight trains while easing congestion on the rail network. The projects will also provide impetus to investment, employment generation, and industrial development in the region.

Prime Minister will also inaugurate the four-laning of NH-125A, Jodhpur Ring Road Section-2 (Karwar–Dangiyawas). Developed at a cost of about ₹740 crore, the project will improve regional connectivity around Jodhpur and make travel smoother and safer.

Further, Prime Minister will dedicate to the nation SJVN Limited's 1,000 MW Bikaner Solar Energy Project, developed with an investment of about ₹5,500 crore. The project uses 24.22 lakh domestically manufactured solar modules. The Prime Minister will also dedicate NHPC's 300 MW Karnisar Bikaner Solar Energy Plant. The project uses about 7.75 lakh domestically manufactured solar PV cells and modules.

Prime Minister will also inaugurate the transmission line constructed at a cost of over ₹1,900 crore for power evacuation from the Rajasthan Renewable Energy Zone (REZ) and lay the foundation stone for the 530 km-long power transmission system for the Rajasthan REZ. These transmission systems will facilitate the evacuation of renewable energy generated in Rajasthan and help ensure an uninterrupted power supply in the state.

Prime Minister will also hand over appointment letters to around 54,000 youth recruited across various departments of the Government of Rajasthan. The recruits include personnel from the Departments of Education, Energy, Home, Panchayati Raj, Transport, Higher Education, Skill Development, Planning, Agriculture, Information Technology, and Administrative Reforms.

PM in Sanand

Prime Minister will inaugurate the CG Semi Outsourced Semiconductor Assembly and Test (OSAT) facility in Sanand, Gujarat. The inauguration marks a significant milestone in India's semiconductor manufacturing journey with the commencement of commercial production at the facility. It represents a major step forward in strengthening India's position in the global semiconductor value chain. The project is one of the first four approved under the India Semiconductor Mission (ISM) and has been developed with a total investment of over ₹7,500 crore.

Once fully ramped up, the facility will have an annual production capacity of up to 5 billion semiconductor chips and will help address the growing global demand for memory and storage solutions driven by rapid advancements in Artificial Intelligence (AI) and high-performance computing. The facility will cater to customers across the automotive, industrial, telecommunications, 5G, and Internet of Things (IoT) sectors. The CG Semi facility offers end-to-end semiconductor assembly and testing services, including wafer sorting, assembly, testing, package design, failure analysis, test programme development, product characterisation, and logistics support.

The operationalisation of this facility underscores India's emergence as a trusted and self-reliant semiconductor manufacturing destination and aligns with the Prime Minister's vision of building a resilient and self-reliant technology ecosystem in the country.