Share
 
Comments
انہوں نے بالغ آبادی کو پہلی خوراک کی صد فیصد کوریج کے لئے گوا سرکار کی تعریف کی
انہوں نے اس موقع پر جناب منوہر پاریکر کی خدمات کو یاد کیا
گوا نے ’سب کا ساتھ ، سب کا وکاس، سب کا وشواس اور سب کا پریاس‘ کی ایک شاندار مثال پیش کی ہے: وزیراعظم
سالگرہ تو بہت آئی اور میں ہمیشہ ان چیزوں سے دور رہا ہوں ، لیکن میری اتنی عمر میں کل کے دن نے مجھے جذباتی کردیا کیونکہ 2.5 کروڑ لوگوں کو ٹیکے لگائے گئے : وزیراعظم
کل ہر گھنٹے 15 لاکھ سے زیادہ خوراکیں ، ہر منٹ 26 ہزار سے زیادہ خوراکیں اور ہر سیکنڈ میں 425 سے زیادہ خوراکیں دی گئیں : وزیراعظم
’ایک بھارت – شریشٹھ بھارت ‘ کے تصور کی علامت گوا کی ہر حصولیابی مجھے بے انتہاخوشیوں سے بھر دیتی ہے : وزیراعظم
گوا صرف اس ملک کی ایک ریاست نہیں ہے، بلکہ یہ برانڈ انڈیا کی ایک مضبوط نشانی بھی ہے : وزیراعظم

گوا کے   توانائی سے بھرپور اور مقبول وزیراعلیٰ جناب  پرمود ساونت جی ، مرکزی کابینہ کے میرے ساتھی ، گوا کے سپوت شری پدنائیک جی ،  مرکزی حکومت میں وزارتی کونسل کی میری ساتھی ڈاکٹر بھارتی پوار جی، گوا کے سبھی وزرا، اراکان پارلیمنٹ اور ارکان اسمبلی ، دیگر عوامی نمائندگان ، سبھی کورونا واریئر، بھائیواور بہنو!

گونیچیا مہجا موگال بھاوا بہینونو، تمچے ابھیننندن

آب سبھی کو شری گنیش پرو کی ڈھیر ساری شبھ کامنائیں۔ کل اننت چتردشی کے مبارک موقع پر ہم سبھی بپّا کو وداعی دیں گے، ہاتھوں میں اننت سوتر بھی باندھیں گے۔ اننت سوتر یعنی زندگی میں سکھ-خوشحالی، طویل عمر کا آشرواد۔

مجھے خوشی ہے کہ اس مبارک دن سے پہلے گوا کے لوگوں نے اپنے ہاتھوں پر، بانہہ پر جیون رکشا سوتر، یعنی ویکسین لگوانے کا بھی کام بھی پورا کرلیا ہے۔ گوا کے ہر مجاز فرد کو ویکسین کی ایک ڈوز لگ چکی ہے۔ کورونا کےخلاف لڑائی میں یہ بہت بڑی بات ہے۔اس کے لئے گوا کے سبھی لوگوں کو بہت بہت مبارکباد۔

ساتھیو،

گوا ایک ایسی بھی ریاست ہے، جہاں بھارت کی متنوع کی طاقت کے دیدار ہوتے ہیں۔ مشرق اور مغرب کی ثقافت، رہن-سہن، کھان پان، یہاں ایک ہی جگہ دیکھنے کو ملتا ہے۔ یہاں گنیش اتسو بھی منایا جاتا ہے، دیپاولی بھی دھوم دھام سے منائی جاتی ہے اور کرسمس کے دوران تو گوا کی رونق  ہی اور بڑھ جاتی ہے۔ ایسا کرتے ہوئے گوا اپنی روایات کی ذمہ داری بھی نبھاتا ہے۔ایک بھارت –شریشٹھ بھارت کے جذبہ  کو مسلسل مضبوط کرنے والے گوا کی ہر حصولیابی، صرف مجھے ہی نہیں، پورے ملک کو خوشی دیتی ہے، فخر سے لبریز کردیتی ہے۔

بھائیو اور بہنو،

اس اہم موقع پر مجھے اپنے دوست، سچے کرم یوگی ، آنجہانی منوہرپاریکر جی کی یاد آنا فطری ہے۔ 100 سال کے سب سے بڑے بحران سے گوا نے جس طرح سے لڑائی لڑی ہے، پاریکر جی آج ہمارے بیچ ہوتے تو ان کو بھی آپ کی اس سدھی کے لئے، آپ کے اس اچیومنٹ کے لئے بہت فخر ہوتا۔

گوا، دنیا کے سب سے بڑی اور سب سے تیز ٹیکاری مہم – سب کو ویکسین ، مفت ویکسین – کی کامیابی میں اہم رول ادا کاررہا ہے۔ گزشتہ کچھ ماہ میں گوا نے شدید بارش ، سائیکلون ، سیلاب جیسی قدرتی آفات کے ساتھ بھی بڑی بہادری سے لڑائی لڑی ہے ۔ ان قدرتی چیلنجوں کے بیچ بھی پرمود ساونت جی کی قیادت میں بڑی بہادری سے لڑائی لڑی ہے ۔ ان قدرتی چیلنجوں کے بیچ کورونا ٹیکہ کاری کی رفتار کو برقرار رکھنے کے لئے سبھی کورونا واریرس کوحفظان صحت کے کارکنان کو ، ٹیم گوا کو ، ہر کسی کو بہت بہت مبارکباد دیتا  ہوں۔

یہاں کئی ساتھیوں نے جو تجربات ہمارے ساتھ مشترک کئے، ان سے صاف ہے کہ یہ مہم کتنی مشکل تھی۔ ندیوں کی طغیانی کو پار کر کے، ویکسین کو محفوظ رکھتے ہوئے ، دور دور تک پہنچنے کے لئے فرض کی ادائیگی کا جذبہ بھی چاہئے، سماج کے تئیں عقیدت بھی چاہئے  اور بے مثال جرأت کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ آپ سبھی بنا رکے ،بنا تھکے، انسانیت کی خدمت کررہے ہیں۔ آپ کی یہ خدمت ہمیشہ-ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔

ساتھیو،

سب کا ساتھ، سب کا وکاس، سب کا وشواس اور سب کا پریاس ۔ یہ  ساری باتیں کتنے اعلیٰ نتائج پیش کرتی ہیں ، یہ گوا نے ، گوا کی سرکار نے، گوا کے باشندوں نے، گوا کے کورونا واریئرس نے ، فرنٹ لائن ورکرز نے یہ کردکھایا ہے۔ سماجی اور جغرافیائی چیلنجوں سےنمٹنے کے لئے جس طرح کا تال میل گوا نے دکھایا ہے ، وہ واقعی قابل تعریف ہے۔ پرمود جی آپ کو اور آپ کی ٹیم کو بہت بہت مبارکباد۔ ریاست کے دور-دراز علاقوں میں آباد ، کیناکونا سب ڈویژن میں بھی باقی ریاست کی طرح ہی تیزی سے ٹیکہ کاری ہونا یہ اس کا بہت بڑا ثبوت ہے۔

مجھے خوشی ہے کہ گوا نے اپنی رفتار کو سست نہیں پڑنے دیا۔ اس وقت بھی جب ہم بات کررہے ہیں تو دوسری ڈوز کے لئے ریاست میں ٹیکہ اتسوجاری ہے۔ ایسے ایماندار اور تنہاکوششوں سے ہی مکمل ٹیکہ کاری کے معاملے میں بھی گوا ملک  کی پیش پیش رہنے والی ریاست بننے کی طرف گامزن ہے۔ اور یہ بھی اچھی بات ہے کہ گوا نہ صرف اپنی آبادی کو بلکہ یہاں آنے والے سیاحوں، باہر سے آئے مزدوروں کو بھی ویکسین لگارہا ہے۔

ساتھیو،

آج اس موقع پر میں ملک کے سبھی ڈاکٹروں ، میڈیکل اسٹاف، انتظامیہ سے منسلک لوگوں کی بھی تعریف کرنا چاہتا ہوں ۔ آپ سبھی کی کوششوں سے کل بھارت نے ایک ہی دن میں ڈھائی کروڑ سے بھی زیادہ لوگوں کو ویکسین دینے کا ریکارڈ بنایا ہے۔ دنیا کے بڑے بڑے اور خوشحال اور صلاحیت رکھنے والے ملک بھی ایسا نہیں کرپائے ہیں۔ کل ہم دیکھ رہے تھے کہ کیسے ملک غور سے کوون ڈیش بورڈ کو دیکھ رہا تھا، بڑھتے ہوئے اعدادوشمار کو دیکھ کر جوش سے لبریز ہورہا تھا۔

کل ہر گھنٹے، 15 لاکھ سے زیادہ ویکسی نیشن ہوا ہے، ہر منٹ 26 ہزار سے زیادہ ویکسی نیشن ہوا، ہر سیکنڈ سوا چار سو سے زیادہ لوگوں کو ویکسین لگی۔ ملک کے کونے کونے میں بنائے گئے ایک لاکھ سے زیادہ ویکسی نیشن سنٹرز پر یہ ویکسین لوگوں کو لگائی گئی ہے۔ بھارت کی اپنی ویکسین، ویکسی نیشن کے لئے اتنا بڑا نیٹ ورک ،اسکلڈمین پاور، یہ بھارت کی طاقت کو دکھاتا ہے۔

ساتھیو،

کل کا آپ کو جو اچیومنٹ ہے نہ، وہ پوری دنیا میں صرف ویکسی نیشن  کے اعدادوشمار کی بنیاد پر نہیں ہے، بھارت کے پاس کتنی صلاحیت ہے اس کی پہچان دنیا کو ہونے والی ہے۔ اور اس لئے اس کی تعریف کرنا ہر بھارتی کا فرض بھی ہے اور جزبہ بھی ہونا چاہئے ۔

ساتھیو،

میں آج میرے من کی بات بھی کہنا چاہتا ہوں۔ سالگرہ تو بہت آئی ، بہت سالگرہ گئی ، لیکن میں من سے ہمیشہ ان چیزوں سےگریز کرتا  رہا ہوں، ان چیزوں سے میں دور رہا ہوں، لیکن میری اتنی عمر میں کل کا دن میرے لئے بہت جذباتی کردینے والا تھا۔ سالگرہ منانے کے بہت سارے طریقے ہوتے ہیں ، لوگ الگ الگ طریقہ سے مناتے بھی ہیں۔ اور اگر مناتے ہیں تو کچھ غلط کرتے ہیں، ایسا ماننے والوں میں میں نہیں ہوں، لیکن آپ سبھی کی کوششوں کی وجہ سے ، کل کا دن میرے لئے بہت خاص بن گیا ہے۔

میڈیکل فیلڈ کے لوگ ، جولوگ گزشتہ ڈیڑھ دو سال سے دن رات مصروف ہیں، اپنی جان کی پرواہ کئے بغیر کورونا سے لڑنے میں ملک کے لوگوں کی مدد کررہے ہیں، انہوں نے کل جس طرح سے ویکسی نیشن کا ریکارڈ بناکر دکھایا ہے، وہ بہت بڑی بات ہے۔ ہر کسی نے اس میں بہت تعاون کیا ہے۔ لوگوں نے اسے خدمت سے جوڑا۔ یہ ان کی رحم دلی کا جذبہ ، فرائض کا جذبہ ہی ہے جو ڈھائی کروڑ ویکسین ڈوز لگائی جاسکی۔

اور میں مانتا ہوں ، ویکسین کی ہر ایک ڈوز ، ایک زندگی کو بچانے میں مدد کرتی ہے۔ ڈھائی کروڑ سے زیادہ لوگوں کو اتنے کم وقت میں ، اتنا بڑا سرکشا کوچ ملنا ، بہت اطمینان دیتا ہے۔سالگرہ آئے گی ، جائے گی، لیکن کل کا یہ دن میرے من کو چھو گیا ہے، یاد گار بن گیا ہے۔ میں جتنا شکریہ ادا کروں وہ کم ہے۔ میں دل سے ملک کے ہر باشندے کو سلام کرتا ہوں، سبھی کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔

بھائیو اور بہنو،

بھارت کی ٹیکہ کاری مہم، صرف صحت کا سرکشا کوچ ہی نہیں ہے، بلکہ ایک طرح سے ذریعہ معاش کے تحفظ کی بھی ڈھال ہے۔ ابھی ہم دیکھیں تو ہماچل، پہلی ڈوز کے معاملے میں 100 فیصد ہوچکا ہے، گوا 100 فیصد ہوچکا ہے، چنڈی گڑھ اور لکش دیپ میں بھی سبھی مجاز افراد کو بھی پہلی ڈوز لگ چکی ہے۔ سکم بھی بہت جلد 100 فیصد ہونے جارہا ہے۔ انڈمان نیکوبار ، کیرالہ، لداخ، اتراکھنڈ، دادرا اور نگرحویلی بھی بہت دور نہیں ہے۔

ساتھیو ،

اس سلسلے میں بہت زیادہ بات نہیں ہوئی لیکن بھارت نے اپنی ویکسی نیشن مہم میں ٹورزم سیکٹر سے جڑی ریاستوں کو کافی ترجیح دی ہے۔ ابتدا میں ہم نے کہا نہیں کیونکہ اس پر بھی سیاست ہونے لگ جاتی ہے۔ لیکن یہ بہت ضروری تھا کہ ہمارے ٹورزم ڈیسٹی نیشن جلد سے جلد کھلیں۔ اب اتراکھنڈ میں بھی چار دھام یاترا ممکن ہوپائے گی۔ اور ان سب کوششوں کے بیچ، گوا کا 100 فیصد ہونا ، بہت خاص ہوجاتا ہے۔

ٹورزم سیکٹر کو ریوائیو کرنے میں گوا کا رول بہت اہم ہے۔ آپ سوچئے ، ہوٹل انڈسٹری کے لوگ ہوں، ٹیکسی ڈرائیور ہوں، فیری والے ہوں، دکاندار ہوں، جب سبھی کو ویکسین لگی ہوگی تو سیاح بھی سیکیورٹی کے ایک جذبہ کے ساتھ یہاں آئے گا۔ اب گوا دنیا کے ان بہت گنے چنے انٹرنیشنل ٹورسٹ ڈیسٹی نیشن میں شامل ہوچکا ہے جہاں لوگوں کوویکسین کا سرکشا کوچ ملا ہوا ہے۔

ساتھیو،

آنے والے ٹورزم سیزن میں یہاں پہلے کی طرح ٹورسٹ ایکٹیویٹیز ہوں، ملک کے - دنیا کے ٹورسٹ یہاں لطف اندوز ہوسکیں، یہ ہم سبھی کی خواہش ہے۔ یہ تبھی ممکن ہے جب ہم کورونا سے متعلق احتیاط پر بھی اتنی توجہ دیں گے جتنی ٹیکہ کاری پر دے رہے ہیں۔ انفیکشن کم ہوا ہے لیکن ابھی بھی اس وائرس کو ہمیں ہلکے میں نہیں لینا ہے۔ سیفٹی اور ہائیجین پر یہاں جتنا فوکس ہوگا، سیاح اتنی ہی زیادہ تعداد میں یہاں آئیں گے۔

ساتھیو،

مرکزی حکومت نے بھی حال ہی میں غیرملکی سیاحوں کی حوصلہ افزائی کے لئے کئی قدم اٹھائے ہیں ۔ بھارت آنے والے پانچ لاکھ سیاحوں کو مفت ویزا دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔  ٹریول اور ٹورزم سے منسلک اسٹیک ہولڈرز کو دس لاکھ روپئے تک کا لون صدفیصد سرکاری گارنٹی کے ساتھ دیا جارہا ہے۔ رجسٹرڈ ٹورسٹ گائیڈ کو بھی ایک لاکھ روپئے تک کے لون کا بندوبست کیا گیا ہے۔ مرکزی حکومت آئندہ بھی ہر وہ قدم اٹھانے کے لئے پرعزم ہے، جو ملک کے ٹورزم سیکٹرکو تیزی سے آگے بڑھانے میں مددگار ہو۔

ساتھیو،

گوا کے ٹورزم سیکٹر کو پرکشش بنانے کے لئے ، وہاں کے کسانوں ، ماہی گیروں  اور دوسرے لوگوں کی سہولت کے لئے ، انفرااسٹرکچر کو ڈبل انجن کی سرکار کی  ڈبل طاقت مل رہی ہے۔ خاص طور پر کنکٹیویٹی سے جڑے انفرااسٹرکچر پر گوا میں غیرمعمولی کام ہورہا ہے۔ ’موپا‘ میں بن رہا  گرین فیلڈ ایئرپورٹ اگلے کچھ ماہ میں بن کر تیار ہونے والا ہے۔ اس ایئرپورٹ کو نیشنل ہائی وے سے جوڑنے کے لئے تقریباً 12 ہزار کروڑ روپئے کی لاگت سے 6 لین کا ایک جدید کنکٹنگ  ہائی وے بنایا جارہا ہے۔ صرف نیشنل ہائی وے کی تعمیر میں ہی گزشتہ برسوں میں ہزاروں کروڑ روپئے کی سرمایہ کاری گوا میں ہوئی ہے۔

یہ بھی انتہائی خوشی کی بات ہے کہ نارتھ گوا کو ساوتھ گوا سے جوڑنے کے لئے ’ جھوری برج ‘ کا افتتاح بھی اگلے کچھ ماہ میں ہونے جارہا ہے۔ جیسا کہ آپ بھی جانتے ہیں ، یہ برج پنجی کو ’مارگوں‘ سے جوڑتا ہے۔ مجھے بتایا گیا ہے کہ گوا مکتی سنگرام کی انوکھی داستان کا گواہ ’اگوڑا ‘ فورٹ بھی جلد ہی لوگوں کے لئے پھر کھول دیا جائے گا۔

بھائیو اور بہنو،

گوا کی ترقی  کی جو وراثت منوہر پاریکر جی نے چھوڑی تھی، اس کو میرے دوست، ڈاکٹر پرمود جی اور ان کی پوری ٹیم لگن کے ساتھ آگے بڑھا رہی ہے۔ آزادی کے امرت کال میں جب ملک آتم نربھرتا کے نئے عہد کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے تو گوا نے بھی سوئم پورنا گوا کا بھی عہد کیا ہے۔ مجھے بتایاگیا ہے کہ آتم نربھر بھارت، سوئم پورنا گوا کے اس عزم کے تحت گوا میں 50 سے زیادہ کمپونینٹز کی مینوفیکچرنگ پر کام شروع ہوچکا ہے۔ یہ دکھاتا ہے کہ گوا قومی اہداف کے حصول کے لئے، نوجوانوں کے لئے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کے لئے کتنی سنجیدگی سے کام کررہا ہے۔

ساتھیو،

آج گوا صرف کووڈ ٹیکہ کاری میں پیش پیش نہیں ہے، بلکہ ترقی کے دیگر پیمانوں  پر بھی ملک کی پیش پیش رہنے والی ریاستوں میں ہے۔ گوا کا جو رورل اور اربن علاقہ ہے ، پوری طرح سے کھلے میں رفع حاجب سے پاک ہورہا ہے۔ بجلی اور پانی جیسی بنیادی سہولتوں کے تعلق سے بھی گوا میں بہتر کام ہورہا ہے ۔ گوا ملک کی ایسی ریاست ہے جہاں صد فیصد برق کاری ہوچکی ہے۔ ہر گھر نل سے جل کے معاملے میں تو گوا نے کمال ہی کردیا ہے ۔ گوا کے دیہی علاقہ میں ہر گھر میں نل سے پانی پہنچانے کی کوشش قابل تعریف ہے۔ جل جیون مشن کے تحت گزشتہ 2 برسوں میں ملک نے ابتک تقریباً 5 کروڑ کنبوں کو پائپ کے پانی کی سہولت سے جوڑا ہے ۔جس طرح گوا نے اس مشن کو آگے بڑھایا ہے ، وہ ’گڈگورننس ‘ اور ’از آف لیونگ‘ کے تعلق سے گوا سرکار کی ترجیحات کو بھی واضح کرتا ہے۔

بھائیو اور بہنو،

بہتر حکمرانی کے تعلق سے یہی عزم کورونا دور میں گوا سرکار نے دکھایا ہے۔ ہر طرح کے چیلنجنز کے باوجود ، مرکزی حکومت نے جو بھی مدد گوا کے لئے بھیجی ، اس کو تیزی سے ، کسی امتیازی سلوک کے بغیر ہر فیض حاص کرنے والے ہرفرد تک پہنچانے کا کام گوا کی ٹیم نے کیا ہیے۔ ہر غریب، ہرکسان، ہر ماہی گیر ساتھی تک مدد پہنچانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی گئی۔ مہینوں مہینوں سے گوا کے غریب کنبوں کو مفت راشن پوری ایمانداری کے ساتھ پہنچایا جارہا ہے ۔ مفت گیس سلنڈر ملنے سے گوا کی کئی بہنوں کو مشکل وقت میں سہارا ملا ہے۔

گوا کے کسان خاندانوں کو پی ایم کسان سمان نِدھی سے کروڑ روپئے براہ راست بینک اکاونٹ میں ملے ہیں۔ کورونا دور میں ہی یہاں کے چھوٹے کسانوں کو مشن موڈ پر کسان کریڈٹ کارڈ ملے ہیں۔ یہی نہیں گوا کے مویشی پالنے والوں اور ماہی گیروں کو پہلی بار بڑی تعداد میں کسان کریڈٹ کارڈ کی سہولت ملی ہے۔  پی ایم سوندھی یوجنا کے تحت بھی گوا میں ریہڑی پٹری اور ٹھیلے کے ذریعہ کاروبار کرنے والے ساتھیوں کو تیزی سے لون دینے کا کام جاری ہے۔ ان سبھی کوششوں کی وجہ سے گوا کے لوگوں کو سیلاب کے دوران بھی کافی مدد ملی ہے۔

بھائیو اور بہنو،

گوا بے پناہ امکانات والی ریاست ہے۔ گوا ملک کی صرف ایک ریاست ہی نہیں ہے، بلکہ برانڈ انڈیا کی بھی ایک مضبوط شناخت ہے۔ یہ ہم سبھی کی ذمہ داری ہے کہ گوا کے اس رول کو ہم توسیع دیں۔ گوا میں آج جو اچھا کام ہورہا ہے ، اس میں تسلسل بہت ضروری ہے۔ طویل عرصہ بعد گوا کو سیاسی استحکام کا ، بہترحکمرانی کا فائدہ مل رہا ہے۔

ا س سلسلے کو گوا کے لوگ ایسے ہی برقرار رکھیں گے، اسی امید کے ساتھ آپ سبھی کو پھر سے بہت بہت مبارکباد۔ پرمود جی اور ان کی پوری ٹیم کو مبارکباد۔

سگلیانک دیو بریں کروں

شکریہ !

20 تصاویر سیوا اور سمرپن کے 20 برسوں کو بیاں کر رہی ہیں۔
Explore More
It is now time to leave the 'Chalta Hai' attitude & think of 'Badal Sakta Hai': PM Modi

Popular Speeches

It is now time to leave the 'Chalta Hai' attitude & think of 'Badal Sakta Hai': PM Modi
Narendra Modi’s Gettysburg Moment—A Billion Doses

Media Coverage

Narendra Modi’s Gettysburg Moment—A Billion Doses
...

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Share
 
Comments
After 100 crore vaccine doses, India moving ahead with new enthusiasm & energy: PM Modi
Sardar Patel played key role in uniting the princely states as one nation: PM Modi
PM Modi’s rich tributes to Bhagwaan Birsa Munda; urges youth to read more about tribal community in freedom movement
PM Modi: In 1947-48, when the Universal Declaration of UN Human Rights was being prepared, it was being written - “All Men are Created Equal”. But a delegate from India objected to this and then it was changed to - "All Human Beings are Created Equal"
Our women police personnel are becoming role models for millions of daughters of the country: PM Modi
India is one of the countries in the world, which is preparing digital records of land in the villages with the help of drones: PM Modi
Let us take a pledge that we will not let the momentum of Swachh Bharat Abhiyan go down. Together we will make our country clean: PM Modi

My dear countrymen, Namaskar…namaskar a billion times! And I am saying ‘koti-koti namaskar’ also since after crossing the 100 crore vaccine doses, the country is surging ahead with a new zeal; renewed energy. The success of our vaccine programme displays the capability of India…manifests the might of our collective endeavour.

Friends, the figure of 100 crore vaccine doses might surely be enormous, but there are lakhs of tiny inspirational and pride-evoking experiences, numerous examples that are associated with it. Many people are asking in their letters to me how, with the commencement itself of the vaccine, I had developed the belief that this campaign would achieve such a huge success! I had this firm faith, since I am well acquainted with the capabilities of my country and her people. I knew that our healthcare workers would leave no stone unturned in the vaccination of our countrymen. Our health workers, through their tireless efforts and resolve, set a new example…they established a new benchmark in service to humanity through innovation and sheer determination. There are innumerable instances about them that convey how they crossed all hurdles and provided the security shield to the maximum number of people. We’ve often read in newspapers, heard elsewhere as well how hard our people have worked to undertake this task; numerous inspiring examples are there in front of us, one better than the other. Today in Mann ki Baat, I want to introduce to the listeners, one such healthcare worker, Poonam Nautiyal ji from Bageshwar in Uttarakhand. Friends, she is from Bageshwar, part of the very land of Uttarakhand which accomplished the task of administering cent percent of the first dose. The government of Uttarakhand also rightfully deserves accolades since it’s a remote area with difficult terrain. Similarly, Himachal too has completed the task of cent-percent doses amid such difficulties. I am given to understand that Poonam ji has persevered day and night for the vaccination of people in her area.

PM – Poonam ji Namaste
Poonam – Sir Pranam
PM – Poonamji, just tell the country’s listeners something about yourself!
Poonam – Sir, I am Poonam Nautiyal. Sir, I work at the Chaani Koraali Centre in Bageshwar District, Uttarakhand. I am an ANM Sir.
PM – Poonam ji, I am fortunate to have got an opportunity to come to Bageshwar. In a way, it has been a pilgrimage site…there’s an ancient temple as well…I was deeply touched…wonder how people would have managed the task centuries ago!
Poonam – Yes Sir
PM – Poonam ji, have you undertaken the vaccination of all the people in your area?
Poonam – Yes Sir, all people are done with it…
PM – Did you also have to face hurdles of any kind?
Poonam – Yes Sir. Sir, when it used to rain there, the road used to get blocked. We’ve gone crossing the river Sir. And we have gone house to house, just as we’ve gone under the NHCVC…for people who were not able to come to the centre…the elderly, divyang people, pregnant women, lactating women…these people Sir!
PM – But there in the hills, houses too are situated rather distantly!
Poonam – Ji
PM – So, in a day, how much could you manage?
Poonam – Sir in terms of kilometres – 10 kilometres; at times 8!
PM – Well, people who stay in the terai plains would not be able to understand what 8-10 kilometres mean! I know that 8-10 kilometres in the hills mean consuming an entire day!
Poonam – Yes…
PM – But since for an entire day, it must have been an arduous task…along with lugging and carrying all the vaccination apparatus…did any assistant accompany you or not?
Poonam – Yes…team members…we were five people Sir!
PM – Yes…
Poonam –That comprised a doctor, then the ANM, the pharmacist, the ASHA worker and the data entry operator.
PM – O…was connectivity available there or you would do it after returning to Bageshwar?
Poonam – Sir, at places it was available…at times we would do it after coming to Bageshwar.
PM – Okay. I’ve been told Poonam ji, that you went out of the way to get people vaccinated. What was this idea…how did the thought come to your mind and how did you manage it?
Poonam – All of us…the entire team had taken a resolve that not a single person should be left out…the Corona ailment should be made to run away from our country. ASHA and I together prepared a village wise DUE list…and then accordingly, people who came to the centre were administered at the centre itself. Then we went from home to home. Sir, after that, people who were left out…those who could not make it to the centre…
PM – Okay…did you have to explain people?
Poonam – Yes…had to explain…
PM – Are people still keen to get vaccinated?
Poonam – Yes Sir, Yes…Now people have realized. Initially we faced a lot of problems. People had to be convinced that this vaccine is safe; effective as well…that we too had been vaccinated and we are well…right in front of you…all our staff have had it…we are fine!
PM – At any place, was any complaint received from anyone? Later?
Poonam – No no Sir. This did not happen.
PM – Nothing happened?
Poonam – Ji
PM – All were satisfied?
Poonam – Yes
PM – That it’s fine...
Poonam – Yes

PM– Well…you have accomplished a great feat. And I know how difficult the entire area is, along with trudging through the hills! One climbs up a hill…then descends…then walk up another hill…houses too are located afar! Despite that, you accomplished this impressive task!
Poonam – Thank you Sir. Am fortunate to have spoken to you!

PM - It is on account of the hard work put in by lakhs of health workers like you that India could cross the hundred crore vaccine doses mark. Today, I am gratefully expressing thanks, not just to you but to every Bharatvasi, every Indian who raised the ‘Sabko vaccine – Muft vaccine’ campaign to such lofty heights of success. Many good wishes to you and family from my side.

My dear countrymen, you are aware that next Sunday, the 31st of October is the birth anniversary of Sardar Patel ji. On behalf of every listener of Mann ki Baat…and from myself…I bow to the Lauh Purush, the Iron Man. Friends, we celebrate the 31st of October as National Unity Day.
It is our duty that we must associate ourselves with some activity that conveys the message of national unity. You must have noticed that recently Gujarat Police took out a Bike rally from the Lakhpat Fort in Kutch to the Statue of Unity. To celebrate Unity Day the personnel of Tripura Police are organising a Bike Rally from Tripura to the Statue of Unity… That is connecting the country from East to West. Personnel of Jammu- Kashmir police too are giving this message of unity of the country by taking out a similar Bike Rally from Uri to Pathankot. I salute all these jawans. I have also come to know of many sisters from Kupawara district of Jammu-Kashmir itself. In Kashmir, these sisters are working to make the Tricolour for the Army and government offices. This work is brimming with the sentiment of patriotism. I appreciate the spirit of these sisters. You too must do something for the unity of India, for the greatness of India. You will see how satisfying this is.
Friends, Sardar Sahab used to say- “We can take our country to loftier heights only through our united efforts. If we don’t have unity amongst ourselves, we will get entangled in ever new calamities”. That is, with national unity, the nation has stature and has development. We can learn a lot from the life and thoughts of Sardar Patel. The Information and Broadcasting Ministry of the country has recently published a pictorial biography of Sardar Saheb too.I would want that all our young friends must read this. By this you will get a chance to know of Sardar Saheb in an interesting way.

Dear countrymen, life desires continuous progress, desires development, desires to surpass heights. However much science may advance, however much the pace of progress may be, however grand the buildings may be, life feels incomplete. But when song-music, art, drama-dance, literature is added to these, their aura , their liveliness increases many times. In a way if life has to be meaningful, all these too are as necessary….that is why it is said that all these forms act as a catalyst in our lives, act to enhance our energy. The role of songs – music and other art forms is major in developing the inner self of humans, in creating the path of journey of our inner self. And another strength of these is that neither time nor boundaries can limit them…not even beliefs or discordance can limit these. The colours of one’s art, culture, song, music must certainly be filled in Amrit Mahotsav too. I too am getting several suggestions from you regarding Amrit Mahotsav and this strength of songs-music-arts. These suggestions are very valuable for me. I had sent them to the Culture Ministry for analysis. I am happy that in such a short time span the Ministry took up the suggestions very seriously and has also worked on it. One of these suggestions is of a competition on patriotic songs! During the freedom struggle patriotic songs and devotional songs in different languages, dialects had united the entire country. Now in this Amrit kaal, our young people can instill this event with energy by writing such patriotic songs. These patriotic songs can be in the mother tongue, can be in national language, and can be written in English too. But it is essential that these creations reflect the thought of new India; inspired by the current success of the country, it should be such that fuels the country’s resolve for the future. The Culture Ministry is geared to conduct a competition related to this from tehsil to the national level.

Friends, similarly a listener of “Mann Ki Baat” has suggested that Amrit Mahotsav should be connected to the art of Rangoli too. For centuries, we have had a tradition of lending colours to festivals through Rangoli. The diversity of our country is visible in Rangoli. Rangoli is drawn in different states with different names and on different themes. Therefore, the Ministry of Culture is also going to conduct a National Competition associated with this. Just imagine, when a Rangoli related to the freedom movement will be created, people will draw a picture of a hero of the freedom struggle at their door, on their wall and depict an event of our independence movement with colours, hues of the Amrit festival will also increase manifold.

Friends, we also have another art form known as Lori. Here, samskars are inculcated in young children through lullabies and they are introduced to the culture. Lullabies also have their own diversity. So why don't we, in the Amritkaal period, revive this art also and write lullabies pertaining to patriotism, write poems, songs, something or the other which can be easily recited by mothers in every home to their little children. In these lullabies there should be reference to modern India, the vision of 21st century India and its dreams. The ministry has decided to organize a competition related to it after receiving suggestions from the listeners.

Friends, these three competitions are going to commence on the birth anniversary of Sardar Sahib from 31st October. In the coming days, the Ministry of Culture will provide all the information related to these events. This information will also be available on the website of the ministry, and will be circulated through social media. I want you all to be associated with this. Our young friends must showcase their art, their talent in this. Through this the art and culture of your area will also reach every nook and corner of the country, your stories will be heard by the whole country.

Dear countrymen, during this period of Amrit Mahotsav, we are remembering the brave sons and daughters of the country, those great and virtuous souls. Next month, the birth anniversary of one such icon and a brave warrior, Bhagwan Birsa Munda ji is falling on the 15th of November. Bhagwan Birsa Munda is also known as 'Dharti Aaba'. Do you know what this epithet means? It means the father of earth. The way Bhagwan Birsa Munda fought to protect his culture, his forest, his land, it could have only been done by ‘Dharti Aaba'! He taught us to be proud of our culture and roots. The foreign rule subjected him to countless threats and applied immense pressure, but he did not relinquish the tribal culture.

If we have to learn to love nature and the environment, then for that too, Dharati Aaba Bhagwan Birsa Munda is one of our greatest inspirations. He strongly opposed every such policy of foreign rule, which was detrimental for the environment. Bhagwan Birsa Munda was always at the forefront while helping the poor and the distressed. He also made the society aware towards eliminating social evils. Who can forget his leadership during the Ulgulan movement! This movement shook the British and as an aftermath the British had placed a huge reward on Bhagwan Birsa Munda. The British government put him in jail; he was tortured to such an extent that he left us at the age of less than 25years. He left us, but only in the body; in the public psyche, Lord Birsa Munda resides forever! His life remains an inspirational force for the people. Even today folk songs and stories, full of his courage and valour are very popular in the central region of India. I bow to 'Dharti Aaba' Birsa Munda and urge the youth to read more about him. The more you know about the unique contribution of our tribal populace in the freedom struggle of India, the more you will feel proud.

My dear countrymen, today on 24th October, UN Day i.e. ‘United Nations Day’ is celebrated. This is the day when the United Nations was established; India has been a member since the formation of the United Nations. Do you know that India had signed the Charter of the United Nations in 1945 prior to independence. A unique feature related to the United Nations is that the woman power of India has played a large role in increasing the influence and strength of the United Nations.

In 1947-48, when the Universal Declaration of UN Human Rights was being drafted, it was being inscribed in that Declaration "All Men are Created Equal". But a Delegate from India objected to this and then it was written in the Universal Declaration - "All Human Beings are Created Equal". This was in consonance with India's age-old tradition of Gender Equality. Did you know that Smt. Hansa Mehta was the delegate because of whom this became possible? At the same time, another delegate Smt. Lakshmi Menon had strongly put forth her views on the issue of gender equality. And not only this, in 1953, Smt. Vijaya Lakshmi Pandit became the first woman President of the UN General Assembly.
Friends, we are the people of a land, who believe and pray:

Om Dyau Shanti-Rantariksha-GwamShantih,
Prithvi Shanti-Rapah Shanti-RoshadhayahShantih।
Vanas-Patayah Shanti-VishwedDevah Shanti-Brahma Shantih,
Sarvag-WamShantih Shanti-Reva Shantih Sa Ma Shanti-Redhi॥
Om ShantihShantihShantih॥

India has always strove for world peace. We are proud of the fact that India has been a part of UN peacekeeping missions continuously since the 1950s.India is also playing a leading role in addressing issues related to poverty alleviation, climate change and workers. Apart from this, India is working closely with WHO or World Health Organization to popularize Yoga and AYUSH. In March 2021, WHO announced that a Global Centre for Traditional Medicine would be set up in India.

Friends, today while talking about the United Nations I’m also remembering the words of Atal ji. In 1977, he made history by addressing the United Nations in Hindi. Today I want to play an excerpt of Atal ji's address for the listeners of 'Mann Ki Baat'. Listen to Atal ji's resounding voice -
” Here I am not thinking about the supremacy and prominence of nations. The esteem and advancement of the common man are of more importance to me. Ultimately, the only criterion to measure our successes and failures is whether we strive to assure justice and dignity to the entire humanity, virtually every man, woman and child.”
Friends, these words of Atal ji show us the way even today. India's contribution in making this earth a better and safer planet is a big inspiration for the entire world.

My dear countrymen, just a few days ago, on the 21st of October, we celebrated Police Commemoration Day. On this day we especially remember our brave hearts of the police who have laid down their lives in the service of the country. Today I would like to remember these policemen along with their families. A tough service like the police is very difficult without the support and sacrifice of the family.

There is one more thing related to police service that I want to convey to the listeners of 'Mann Ki Baat'. Earlier it was believed that services like army and police are meant only for men. But today it is not so. The statistics from the Bureau of Police Research and Development show that in the last few years, the number of women police personnel has doubled. In 2014, while their number was close to 1 lakh 5 thousand, by 2020 it has increased by more than double and this number has now reached up to 2 lakh 15 thousand.

Even in the Central Armed Police Forces, the number of women has almost doubled in the last seven years. And I'm not talking just about numbers. Today the daughters of the country are performing even the toughest duties with full force and zeal. For example, many daughters are currently undergoing one of the most difficult trainings, that of Specialized Jungle Warfare Commandos. They will be a part of our Cobra Battalion. Friends, today when we go to airports, metro stations or see government offices, brave women of CISF are seen guarding every sensitive place.

The most positive effect of this is on the morale of our police force as well as society. The presence of women security personnel naturally instills a sense of confidence among the people, especially women. They naturally feel connected to women security personnel. Because of the sensitivity in women, people tend to trust them more. These policewomen of ours are also becoming role models for lakhs of other daughters of the country. I would like to request the women police personnel to visit the schools in their areas once the schools open and talk to the girls there.
I am sure that this conversation will give a new direction to our new generation. Not just that, it will also increase public confidence in the police. I hope that more women will join the police service in future, lead the New Age Policing of our country.

My dear countrymen, in the last few years, the pace at which the use of modern technology has increased in our country, the listeners of 'Mann Ki Baat' often keep writing to me about it. Today I want to discuss with you one such topic, which has caught the imagination of our country, especially our youth and even little children. This topic is of Drones, of the Drone Technology. Up until a few years ago, when the name of Drone used to come up, what used to be the first feeling in the minds of the people?... Of the army, of weapons, of war. But today if we have any wedding procession or function, we see a drone shooting photos and videos. The spectrum of a drone's usage and its capabilities is not just limited to that. India is one of the first countries in the world, which is preparing digital records of land in its villages with the help of drones. India is working extensively on using drones for transportation. Whether it is farming in the village or delivery of goods at home; Providing help in emergency or monitoring law and order ; it is not long before we will see drones being deployed for all these needs of ours. Most of these have already started. Like a few days ago, nano-urea was sprayed in the fields through drones in Bhavnagar, Gujarat. Drones are also playing their role in the Covid vaccine campaign. We got to see a picture of this in Manipur, where vaccines were delivered via a drone to an island. Telangana has also done trials for vaccine delivery by drone. Not just that, drones are also being used to monitor many big infrastructure projects. I have also read about a young student who, with the help of his drone, worked to save the lives of fishermen. Friends, earlier there were so many rules, laws and restrictions in this sector that it was not possible to unlock the real capabilities of a drone. The technology that should have been seen as an opportunity was seen as a crisis. If you have to fly a drone for any work, then there was such a hassle of license and permission that people would give up on the mere mention of the name of drone. We decided that this mindset has to be changed and new trends have to be adopted. Which is why on the 25th of August this year, the country brought forward a new drone policy. This policy has been formulated according to the present and future prospects related to drones. With this, you will neither have to be entangled in the web of multiple forms anymore, nor will you have to pay as much fees as before. I am happy to inform you that after the introduction of the new drone policy, foreign and domestic investors have invested in many drone start-ups. Many companies are also setting up manufacturing units. The Army, Navy and Air Force have also placed orders worth more than Rs 500 crores with the Indian drone companies. And this is just the beginning. We must not stop here. We have to become a leading country in Drone Technology. For this, the Government is taking all possible steps. I will also urge the youth of the country to certainly think about taking advantage of the opportunities created after the Drone Policy and come forward.

My dear countrymen, a listener of 'Mann Ki Baat', Shrimati Prabha Shukla from Meerut in UP has sent me a letter related to cleanliness. She has written – “We all celebrate cleanliness during festivals in India. Similarly, if we make cleanliness a daily habit, then the whole country will become clean.” I appreciate Prabha ji's message. Indeed, where there is cleanliness, there is health, where there is health, there is capability, and where there is capability, there is prosperity. That is why the country is giving so much emphasis on Swachh BharatAbhiyan.

Friends, I was happy to know about Saparom Naya Sarai, a village near Ranchi. There used to be a pond in this village, but people had started using this pond area for defecating in the open. Under the Swachh Bharat Abhiyan, after toilets were built in everyone's homes, the villagers thought why not make the village clean as well as beautiful. Lo and behold! Everyone got together and made a park at the place of the pond. Today that place has become a community spot for people, for children. This has brought a big change in the life of the whole village. I also want to tell you about the women of Deur village of Chhattisgarh. The women here run a self-help group and work together to clean the village squares, roads and temples.

Friends, the people of Ghaziabad in UP know Ramveer Tanwar as the 'Pond Man'. Ramveer ji was doing a job after completing his mechanical engineering. However, such a sense of devotion for cleanliness ignited in his mind that he left his job and started cleaning ponds. So far, Ramveer ji has revived many ponds by cleaning them.

Friends, the efforts of cleanliness can be fully successful only when every citizen understands cleanliness as his or her responsibility. Now, during Diwali, we are all about to get involved in cleaning our houses. But during this time we have to take care that our neighbourhood along with our house should also be clean. It should not be that we clean our house, but the dirt of our house reaches outside, on our roads. And yes, when I talk about cleanliness, then please do not forget the mantra of getting rid of Single Use Plastic. Come, let us take a pledge that we will not let the enthusiasm of Swachh Bharat Abhiyan diminish. Together, we will make our country completely clean and keep it clean!

My dear countrymen, the whole month of October is painted in the hues of festivals and after a few days from now Diwali will be around the corner. Diwali, then Govardhan Puja, then Bhai Dooj, these three festivals shall of course be there and there will also be Chhath Puja during this interregnum. It is also the birth anniversary of Guru Nanak Dev Ji in November. When so many festivals happen together then their preparations also start long before. All of you must have started planning for shopping from now on, but do you remember, shopping means 'VOCAL FOR LOCAL'. If you buy local, then your festival will also be illuminated and the house of a poor brother or sister, an artisan, or a weaver will also be lit up. I am sure that the campaign which we all have started together will be stronger this time during the festivals. Do share on social media about the local products you buy from there too. Inform those around you too. We'll meet again next month, and we'll once again discuss many such topics.

Many thanks to all of you! Namaskar !