بھارت کے حفظان صحت کے شعبے میں جو عالمی اعتماد حاصل کیا ہے اس کی وجہ سے بھارت کو دنیا نے حالیہ دنوں میں دوا سازی کی دنیا کہا جا رہا ہے
’’ہم پورے بنی نوع انسان کی خوشحالی میں یقین رکھتے ہیں اور ہم نے اس جذبے کا اظہار کووڈ – 19 عالمی وبا کے دوران پوری دنیا کے سامنے کیا ہے‘‘
بھارت کے پاس بڑی تعداد میں ایسے سائنسداں اور ٹکنالوجی کے ماہرین ہیں جن میں صنعت کو اور زیادہ اونچائیوں پر لے جانے کی صلاحیت ہے؛ نئے موقعوں کی تلاش اور میک اِن انڈیا کے لیے اس طاقت کو بروئے کار لانے کی ضرورت ہے
ہمیں ویکسین اور دواؤں کے لیے کلیدی اجزاء کی گھریلو مینوفیکچرنگ میں اضافہ کرنے کے بارے میں سوچنا چاہیے۔ یہ ایک ایسا محاذ ہے جسے بھارت کو فتح کرنے کی ضرورت ہے۔
میں آپ سب کو بھارت میں نت نئے خیالات پیش کرنے ، بھارت میں اختراع کرنے ، بھارت میں مصنوعات سازی اور دنیا کے لیے مصنوعات سازی کی دعوت دیتا ہوں

نئی دہلی،  18/نومبر 2021 ۔ کابینہ میں میرے ساتھی جناب من سکھ بھائی، انڈین فارماسیوٹیکل الائینس کے صدر جناب سمیر مہتا، کیڈیلا ہیلتھ کیئر لمیٹڈ کے چیئرمین جناب پنکج پٹیل اور ممتاز شرکاء،

نمستے!

سب سے پہلے میں انڈین فارماسیوٹیکل ایسوسی ایشن کو اس گلوبل انوویشن سمٹ کے انعقاد کے لئے مبارک باد دیتا ہوں۔

کووڈ-19 کی وبا نے حفظان صحت کے شعبے کی اہمیت کو حددرجہ توجہ کے مرکز میں لادیا ہے۔ بات چاہے طرز زندگی کی ہو یا ادویات کی، میڈیکل ٹیکنالوجی کی ہو یا ٹیکوں کی، حفظان صحت کے ہر پہلو کو گزشتہ دو برسوں کے دوران عالمی توجہ حاصل ہوئی ہے۔ اس تناظر میں بھارت کی فارماسیوٹیکل صنعت کو بھی چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

بھارت کے حفظان صحت کے شعبے نے جو عالمی اعتبار حاصل کیا ہےاس کی وجہ سے بھارت کو حالیہ وقتوں میں ’’فارمیسی آف دی ورلڈ‘‘ کہا جانے لگا ہے۔ تقریباً 3 ملین لوگوں کو روزگار فراہم کرنے والی اور تقریباً 13 بلین ڈالر سے زیادہ کا کاروبار کرنے والی بھارت کی فارما صنعت ہماری اقتصادی ترقی کی ایک کلیدی محرک رہی ہے۔

سستی قیمتوں پر اعلیٰ معیار و مقدار کے امتزاج نے پوری دنیا میں بھارت کے فارما سیکٹر  میں زبردست دلچسپی پیدا کی ہے۔ 2014 سے بھارت کے حفظان صحت کے شعبے میں 12 بلین ڈالر سے زیادہ سے بیرونی راست سرمایہ کاری راغب کی ہے اور مزید زیادہ کے لئے اب بھی امکان موجود ہے۔

دوستو!

صحت مندی کی ہماری تاریخ جغرافیائی سرحدوں تک محدود نہیں ہے۔ ہم پوری انسانیت کی خیر و خیریت میں یقین رکھتے ہیں۔

سروے بھونتو سکھینہ: سروے سنتو نرامیہ:

اور ہم نے کووڈ-19 کی عالمی وبا کے دوران پوری دنیا کو اس اسپرٹ سے روبرو کرایا ہے۔ ہم نے وبا کے ابتدائی مرحلے کے دوران 150 سے زیادہ ملکوں کو حیات بخش ادویات اور طبی ساز و سامان کی برآمدات کی۔ ہم نے اس سال تقریباً 100 ملکوں کو کووڈ ویکسین کی 65 ملین سے زیادہ خوراکیں برآمد کیں۔ آنے والے مہینوں میں، جیسے جیسے ہم ٹیکے کی پیداوار کی اپنی صلاحیتوں میں اضافہ کرتے جائیں گے، ہم اس تعلق سے اور بھی زیادہ کریں گے۔

دوستو!

کووڈ-19 کے دور میں سبھی شعبۂ حیات میں اختراعات کی اہمیت ایک بار پھر اجاگر ہوئی ہے۔ وبا کے سبب پیدا شدہ رخنہ اندازیوں نے ہمیں مجبور کیا ہے کہ ہم اپنی طرز زندگی اور اپنے کام کرنے کے طریقے کے بارے میں ازسرنو سوچیں۔ بھارت کے فارما شعبے کے تناظر میں بھی رفتار، پیمانہ اور اختراعات کرنے کی خواہش حقیقی معنوں میں متاثر کن رہی ہے۔ مثال کے طور پر، اختراعات کی یہی وہ اسپرٹ ہے جس نے بھارت کو پی پی ای کا ایک بڑا پروڈیوسر اور ایکسپورٹر بننے کی راہ دکھائی ہے۔ اور اختراعات کی یہی وہ روح ہے جس نے بھارت کو کووڈ-19 کے ٹیکوں کی اختراعات کرنے، اس کی پیداوار کرنے، اسے لگانے اور اس کی برآمد کرنے کے کام میں پیش پیش رہنے کے لئے راغب کیا ہے۔

دوستو!

اختراعات کی یہی روح فارما سیکٹر کی ترقی کی حوصلہ افزائی کے لئے بھارت سرکار کے ذریعے کئے گئے اقدامات میں جھلکتی ہے۔ گزشتہ ماہ حکومت نے ایک ڈرافٹ ڈاکیومنٹ جاری کیا، جس میں ’’بھارت میں فارما – میڈ ٹیک سیکٹر میں تحقیق و ترقی و اختراعات کو تحریک دینے کی پالیسی‘‘ کا خاکہ پیش کیا گیا ہے۔ اس پالیسی سے فارماسیوکلس اور طبی آلات کے حوالے سے تحقیق و ترقی کی حوصلہ افزائی کے تئیں بھارت کی عہد بستگی کی عکاسی ہوتی ہے۔

ہمارا ویژن اختراعات کے لئے ایسا ماحول بنانے کا ہے جو دواؤں کی ایجاد اور اختراعاتی طبی آلات کے معاملے میں بھارت کو ایک لیڈر بناسکے۔ پالیسی سے متعلق ہمارے اقدامات سبھی حصص داروں کے ساتھ وسیع صلاح و مشورے کی بنیاد پر وضع کئے جارہے ہیں۔ ہم ریگولیٹری فریم ورک کے تعلق سے صنعت کے مطالبات کے تئیں حساس ہیں اور اس سمت میں سرگرمی کے ساتھ کام کررہے ہیں۔ صنعت نے فارماسیوٹیکل اور میڈیکل ڈیوائسس کے لئے 30 ہزار کروڑ روپئے سے زیادہ کی پروڈکشن سے مربوط مراعاتی اسکیموں کے توسط سے بڑی تقویت حاصل کی ہے۔

دوستو!

صنعت، اکیڈمک ورلڈ اور خاص طور پر ہمارے ہونہار نوجوانوں کا تعاون اہم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم اکیڈمیا اور صنعت کے درمیان شراکت داری کی حوصلہ افزائی کررہے ہیں۔ بھارت میں سائنس دانوں اور ماہرین ٹیکنالوجی کی ایک بڑی تعداد موجود ہے، جس کے اندر اس صنعت کو عظیم تر بلندیوں پر لے جانے کا امکان ہے۔ ’’ڈسکور اور میک اِن انڈیا‘‘ کے لئے اس قوت کو نکھارنے کی ضرورت ہے۔

دوستو!

میں ایسے دو شعبوں کو اجاگر کرنا چاہتا ہوں جس کے بارے میں میری خواہش ہے کہ پوری احتیاط کے ساتھ اس کا جائزہ لیا جائے۔ پہلے کا تعلق خام مواد سے متعلق ضرورتوں سے ہے۔ جب ہم کووڈ-19 سے لڑرہے ہیں، ہم نے پایا ہے کہ یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس پر مزید توجہ دیئے جانے کی ضرورت ہے۔ آج جب 1.3 بلین بھارت کے لوگوں نے بھارت کو آتم نربھر بنانے کی ذمے داری اپنے کاندھوں پر لی ہے، تو ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ٹیکوں اور دواؤں کے لئے درکار ضروری ساز و سامان کی گھریلو پیداوار میں اضافہ کے بارے میں سوچیں۔ یہ ایک ایسا محاذ ہے جسے بھارت کو جیتنے کی ضرورت ہے۔

مجھے یقین ہے کہ سرمایہ کار اور اختراع کار بھی اس چیلنج سے عہدہ برآ ہونے کے لئے مل کر کام کرنے کے خواہش مند ہیں۔ دوسرے شعبے کا تعلق بھارت کی روایتی دواؤں سے ہے۔ فی الحال بین الاقوامی بازار میں ان مصنوعات کی مانگ اہم ہے اور اس میں اضافہ ہورہا ہے۔ حالیہ برسوں میں ان مصنوعات کی برآمدات میں تیزی سے اضافہ کی شکل میں دیکھا جاسکتا ہے۔ محض 2020-21 میں ہی بھارت نے 1.5 بلین ڈالر سے زیادہ کی ہربل دوائیں  برآمد کیں۔ عالمی ادارۂ صحت بھی بھارت کی روایتی دواؤں کے لئے گلوبل سینٹر قائم کرنے پر کام کررہا ہے۔ کیا ہم عالمی ضرورتوں، سائنسی معیارات اور مینوفیکچرنگ کے بہترین طور طریقوں کے تناظر میں اپنی روایتی ادویات کو مقبول بنانے کے لئے مزید طریقوں کے بارے میں سوچ سکتے ہیں؟

دوستو!

میں آپ سب کو دعوت دیتا ہوں کہ آپ بھارت میں سوچیں، بھارت میں اختراع کریں، بھارت میں بنائیں اور دنیا کے لئے بنائیں۔اپنی حقیقی صلاحیتوں سے آگاہ ہوں اور دنیا کی خدمت کریں۔

اختراعات اور انٹرپرائز کے لئے ہمارے پاس صلاحیت، وسائل اور ماحول موجود ہے۔ ہماری فوری کوششوں، اختراعات کے تئیں ہمارے جذبے اور فارما سیکٹر میں ہماری حصول یابیوں کی سطح کا دنیا نے نوٹس لیا ہے۔ یہ بہترین موقع ہے کہ ہم آگے بڑھیں اور نئی بلندیوں کو سر کریں۔ میں عالمی اور گھریلو صنعتی لیڈروں اور حصص داروں کو یقین دلاتا ہوں کہ بھارت اختراعات کے تئیں ماحول کو مزید بہتر بنانے کے تئیں پابند عہد ہے۔ میری دعا ہے کہ آر اینڈ ڈی اور اختراعات کے حوالے سے بھارت کی فارماسیوٹیکل صنعت کو مضبوط بنانے کے لئے یہ سربراہ اجلاس ایک فلیگ شپ ایونٹ کا کام کرے۔

میں ایک بار پھر منتظمین کو مبارک دیتا ہوں  اور دعاگو ہوں کہ اس دوروزہ سربراہ اجلاس کے دوران جو غور و خوض ہوگا وہ نتیجہ خیز ثابت ہوگا۔

شکریہ،

آپ کا بہت بہت شکریہ

 

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
A big deal: The India-EU partnership will open up new opportunities

Media Coverage

A big deal: The India-EU partnership will open up new opportunities
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
PM Modi interacts with Energy Sector CEOs
January 28, 2026
CEOs express strong confidence in India’s growth trajectory
CEOs express keen interest in expanding their business presence in India
PM says India will play decisive role in the global energy demand-supply balance
PM highlights investment potential of around USD 100 billion in exploration and production, citing investor-friendly policy reforms introduced by the government
PM calls for innovation, collaboration, and deeper partnerships, across the entire energy value chain

Prime Minister Shri Narendra Modi interacted with CEOs of the global energy sector as part of the ongoing India Energy Week (IEW) 2026, at his residence at Lok Kalyan Marg earlier today.

During the interaction, the CEOs expressed strong confidence in India’s growth trajectory. They conveyed their keen interest in expanding and deepening their business presence in India, citing policy stability, reform momentum, and long-term demand visibility.

Welcoming the CEOs, Prime Minister said that these roundtables have emerged as a key platform for industry-government alignment. He emphasized that direct feedback from global industry leaders helps refine policy frameworks, address sectoral challenges more effectively, and strengthen India’s position as an attractive investment destination.

Highlighting India’s robust economic momentum, Prime Minister stated that India is advancing rapidly towards becoming the world’s third-largest economy and will play a decisive role in the global energy demand-supply balance.

Prime Minister drew attention to significant investment opportunities in India’s energy sector. He highlighted an investment potential of around USD 100 billion in exploration and production, citing investor-friendly policy reforms introduced by the government. He also underscored the USD 30 billion opportunity in Compressed Bio-Gas (CBG). In addition, he outlined large-scale opportunities across the broader energy value chain, including gas-based economy, refinery–petrochemical integration, and maritime and shipbuilding.

Prime Minister observed that while the global energy landscape is marked by uncertainty, it also presents immense opportunity. He called for innovation, collaboration, and deeper partnerships, reiterating that India stands ready as a reliable and trusted partner across the entire energy value chain.

The high-level roundtable saw participation from 27 CEOs and senior corporate dignitaries representing leading global and Indian energy companies and institutions, including TotalEnergies, BP, Vitol, HD Hyundai, HD KSOE, Aker, LanzaTech, Vedanta, International Energy Forum (IEF), Excelerate, Wood Mackenzie, Trafigura, Staatsolie, Praj, ReNew, and MOL, among others. The interaction was also attended by Union Minister for Petroleum and Natural Gas, Shri Hardeep Singh Puri and the Minister of State for Petroleum and Natural Gas, Shri Suresh Gopi and senior officials of the Ministry.