Share
 
Comments
وزیر اعظم مودی نے #من کی بات میں کہا کہ ہر دوستانی کو ہماری مسلح افوار اور بہادر سپاہیوں پر فخر ہے۔
نیلے رنگ کا ہیلمیٹ پہنے ہوئے بھارتی سپاہی دہائیوں سے امن عالم کے عمل میں اپنا تعاون دیتے آئے ہیں : وزیر اعظم مودی # من کی بات
ہر ہندوستانی بلاتفریق خطہ، ذات، مذہب یا زبان، ہمیشہ ہمارے سپاہیوں کو تعاون دینے کے لئے مستعد رہتا ہے اور ان کی کامیابی پر مسرت کا اظہار کرتا ہے: وزیر اعظم # من کی بات
بھارت فخر کے ساتھ کہہ سکتا ہے کہ بری فوج نہ صرف مردوں بلکہ خواتین سے بھی اپنی قوت حاصل کرتی ہے۔ آج خواتین بااختیار ہیں ، اور مسلح بھی : وزیر اعطم مودی # من کی بات
بھارتی فضائیہ قدرتی آفات اور تباہی کے دوران راحت کاری اور بچاؤ کے کاموں میں سرفہرست رہتی ہے : وزیر اعظم مودی # من کی بات
بھارت مہاتما گاندھی کی 150 وی پیدائش کی سالگرہ کا جشن دو برسوں تک منائے گا : وزیر اعظم مودی # من کی بات
باپو نے ہم سب کو ایک ترغیباتی اصول مرحمت کیا تھا جسے گاندھی جی کا طلسمان یا تعویز کہا جاتا ہے۔ یہ منتر یا اصول آج از حد افادیت کا حامل ہے: وزیر اعظم # من کی بات کے دوران
پنڈت لال بہادر شاستری کی مضبوط شخصیت کی شناخت ان کے ’جے جوان جے کسان‘ کے نعرے سے ہوتی ہے: وزیر اعظم مودی # من کی بات
شاستری جی کی شریف النفس شخصیت ہمیشہ ہمیں فخر کا احساس دلاتی رہے گی: وزیر اعظم مودی # من کی بات کے دوران
# من کی بات ، وزیر اعظم نے ’سووَچھتا ہی سیوا‘ تحریک کی کامیابی کے لئے بھارت کے عوام کو مبارکباد دی ہے۔
آیئے ہم 31 اکتوبر کو ’اتحاد کے لئے دوڑیں‘ تاکہ معاشرے کے ہر طبقے کے شہری ایک متحد بھارت کی ہماری کوششوں کو مستحکم بنانے کے عمل میں شریک ہو سکیں: وزیر اعظم مودی # من کی بات کے دوران
# من کی بات ، وزیر اعظم مودی کا کہنا ہے کہ سردار پٹیل نے اپنی پوری زندگی ملک کے اتحاد کے لئے کام کیا
این ایچ آر سی جو اپنی 25 ویں سالگرہ منانے کے لئے تیار ہے، نے سروے بھونتو سکھینا کی بھارتی ویدک اقدار کو فروغ دیا ہے: وزیر اعظم مودی # من کی بات

نئی دہلی۔30ستمبر میرے پیارے ہم وطنوں، نمسکار! شاید ہی کوئی ہندوستانی ہو سکتا ہے جس کو ہمارے مسلح افواج پر، ہمارے فوج کے جوانوں پر فخر نہ ہو۔ ہر ہندوستانی چاہے وہ کسی بھی علاقے، ذات، مذہب، قوم یا زبان کا کیوں نہ ہو – ہمارے افواج کے تئیں اپنی خوشی کا اظہار کرنے اور حمایت کرنے کے لیے ہمیشہ تیار رہتا ہے۔ کل ہندوستان کے سوا سو کروڑ ہم وطنوں نے، ‘پراکرم تہوار’ منایا تھا۔ ہم نے 2016 میں ہوئی اس سرجیکل اسٹرائک کو یاد کیا جب ہمارے افواج نے ہمارے قوم پر دہشت گرد کی آڑ میں پراکسی جنگ کی بے وقوفی کرنے والوں کو منھ توڑ جواب دیا تھا۔ ملک میں مختلف مقامات پر ہمارے مسلح افواج نے نمائش لگائے تاکہ زیادہ سے زیادہ ملک کے عوام خاص کر نوجوان نسل یہ جان سکے کہ ہماری قوت کیا ہے۔ ہم کتنے اہل ہیں اور کیسے ہمارے افواج اپنی جان جوکھم میں ڈال کر ہم وطنوں کی حفاظت کرتے ہیں۔‘ پراکرم تہوار’ جیسا دن نوجوانوں کو ہمارے مسلح افواج کے شاندار میراث کی یاد دلاتا ہے۔ اور ملک کی اتحاد اور سالمیت کو یقینی بنانے کے لیے ہمیں ترغیب بھی دیتا ہے۔ میں نے بھی بہادروں کی سرزمین راجستھان کے جودھپور میں ایک پروگرام میں حصہ لیا، اب یہ طے ہو چکا ہے کہ ہمارے فوج ان سب کو منھ توڑ جواب دیں گے جو ہمارے ملک میں امن اور ترقی کے ماحول کو نقصان پہنچانے کی کوشش کریں گے۔ ہم امن میں یقین کرتے ہیں اور اسے فروغ دینے کے لیے عہد بستہ ہیں، لیکن وقار سے سمجھوتہ کر کے اور ملک کی خود مختاری کی قیمت پر قطعی نہیں۔ ہندوستان ہمیشہ ہی امن کے تئیں عہدبند اور وقف کیا ہے۔ 20ویں صدی میں دو عالمی جنگوں میں ہمارے ایک لاکھ سے زائد افواج نے امن کے تئیں اپنی عظیم قربانی پیش کی اور یہ تب ہوا ، جب ہمارا اس جنگ سے کوئی واسطہ نہیں تھا۔ ہماری نظر کسی اور کی سرزمین پر کبھی بھی نہیں تھی۔ یہ تو امن کے تئیں ہماری عہدبندی تھی۔ کچھ دن پہلے ہی 23 ستمبر کو ہم نے اسرائیل میں حیفا کی لڑائی کے سو سال مکمل ہونے پر میسور، حیدرآباد اور جودھ پور لانسرز کے ہمارے بہادر افواج کو یاد کیا جنہوں حملہ آوروں سے حیفا کو نجات دلائی تھی۔ یہ بھی امن کی سمت میں ہمارے افواج کے ذریعہ کیا گیا ایک بہادری بھرا قدم تھا۔ آج بھی اقوام متحدہ کی مختلف مختلف امن برقرار رکھنے والی افواج میں ہندوستان سب سے زیادہ فوج بھیجنے والے ممالک میں سے ایک ہے۔ دہائیوں سے ہمارے بہادر فوج نے بلیو ہیلمیٹ پہن کر دنیا میں امن قائم رکھنے میں اہم رول ادا کیا ہے۔

میرے پیارے ہم وطنوں، آسمان کی باتیں تو نرالی ہوتی ہی ہیں اس میں کوئی حیرت کی بات نہیں کہ آسمان میں اپنی طاقت کا ثبوت دے کر کہ ہندوستانی فضائیہ نے ہر شہریوں کا توجہ اپنی جانب مبذول کرایا ہے۔ ہمیں تحفظ کا احساس دلایا ہے۔ یوم جمہوریہ کی تقریبات کے دوران لوگوں کو پریڈ کے جن حصوں کی سب سے بے صبری سے انتظار ہوتا ہے ان میں سے ایک ہے فلائی پاسٹ جس میں ہماری فضائیہ حیرت انگیز کارناموں کے ساتھ اپنی طاقت کا مظاہر کرتی ہے۔ 8 اکتوبر کو ہم ’یوم فضائیہ‘ مناتے ہیں۔ 1932 میں چھ پائلٹ اور 19 فضائی افواج کے ساتھ ایک چھوٹی سی شروعات سے بڑھتے ہوئے ہماری فضائیہ آج 21ویں صدی کی سب سے بہادریاور طاقتور فضائیہ میں شامل ہو چکی ہے۔ یہ اپنے آپ میں ایک یادگار سفر ہے۔ ملک کے لیے اپنی خدمات دینے والے سبھی فضائی جنگجوؤں اور ان کے کنبوں کا میں اپنے دل کی گہرائیوں سے خیرمقدم کرتا ہوں۔ 1947 میں جب پاکستان کے حملہ آوروں نے ایک غیر متوقع حملہ شروع کیا تو یہ ہندوستان کی فضائیہ ہی تھی جس نے سری نگر کو حملہ آور سے بچانے کے لیے یہ یقینی بنایا کہ ہندوستانی افواج اور آلات جنگ کے میدان تک وقت پر پہنچ جائیں۔ فضائیہ نے 1965 میں بھی دشمنوں کو منھ توڑ جواب دیا۔ 1971 میں بنگلہ دیش کی آزادی کی لڑائی کون نہیں جانتا ہے۔ 1999 کرگل کو دراندازوں کے قبضے سے آزاد کرانے میں بھی فضائیہ کا اہم کردار رہا ہے ٹائگر ہل میں دشمنوں کے ٹھکانوں میں رات دن بمباری کرکے فضائیہ نے انہیں دھول چٹا دی۔ راحت اور بچاؤ کام ہو یا پھر آفات سے نمٹنے کے انتظامات ہمارے فضائی جنگجو ؤں کے قابل ستائش کام کی وجہ سے ملک فضائی ا فواج کے تئیں احسان مند ہے۔ طوفان، بونڈر، سیلاب سے لے کر جنگل کی آگ تک کے قدرتی آفات سے نمٹنے اور ہم وطنوں کی مدد کرنے کا ان کا جذبہ حیرت انگیز رہا ہے۔ ملک میں صنفی مساوات یعنی عورت اور مرد کی برابری کو یقینی بنانے میں فضائیہ نے مثال قائم کی ہے اور اپنے سبھی محکموں کے دروازے ملک کی بیٹیوں کے لیے کھول دیے ہیں۔ اب تو فضائیہ خواتین کو قلیل مدتی سروس کمیشن کے ساتھ مستقل کمیشن کا متبادل بھی دے رہی ہے اور جس کا اعلان اسی سال 15 اگست کو میں نے لال قلعہ سے کیا تھا۔ ہندوستان فخر سے کہہ سکتا ہے کہ ہندوستان کی فوج میں مسلح افواج میں مرد ہی نہیں ، خواتین کی شراکت داری اتنی ہی ہوتی جا رہی ہے۔ خواتین بااختیار تو ہے، اب مسلح بھی بن رہی ہے۔

میرے پیارے ہم وطنوں، گزشتہ دنوں بحری کے ہمارے ایک افسر ابھیلاش ٹامی وہ اپنے زندگی اور موت کی لڑائی لڑ رہے تھے۔ پورا ملک فکرمند تھا کہ ٹامی کو کیسے بچا لیا جائے۔ آپ کو پتہ ہے ابھیلاش ٹامی ایک بہت بہادر افسر ہیں۔ وہ تنہا کوئی بھی جدید ٹکنالوجی کے بغیر ایک چھوٹی سی کشتی لے کر، پوری دنیا کی سیر کرنے والے پہلے ہندوستانی تھے۔ گزشتہ 80 دنوں سے، وہ جنوبی بحر ہند میں گولڈن گلوب ریس میں حصہ لینے سمندر میں اپنی رفتار بنائے رکھتے ہوئے آگے برھ رہے تھے لیکن خطرناک سمندری طوفان نے ان کے لیے مصیبت پیدا کی لیکن ہندوستان کے بحری فوج کا یہ بہادر سمندر میں کئی دنوں تک لڑتا رہا۔ وہ پانی میں بغیر کھائے پیے لڑتا رہا۔ زندگی سے ہار نہیں مانی۔ بہادری ، عزم مصمم ،بہادری ایک حیرت انگیز مثال – کچھ دن پہلے میں نے جب ابھیلاش کو سمندر سے بچا کر کے باہر لے آئے تو ٹیلیفون پر بات کی۔ پہلے بھی ٹامی سے میں مل چکا تھا۔ اتنے مصیبت سے باہر آنے کے بعد بھی ان کا جو جذبہ تھا، ان کا جو حوصلہ تھا اور پھر ایک بار ایسا ہی کچھ بہادری کرنے کا جو عہد انہوں نے مجھے بتایا ملک کی نوجوان نسل کے لیے وہ ترغیب کا باعث ہے۔ میں ابھیلاش ٹامی کے بہتر صحت کےلیے دعا کرتا ہوں اور ان کی یہ بہادری، ان کا حوصلہ ، ان کی عہدبستگی – لڑنے کی اور جیتنے کی طاقت، ہمارے ملک کی نوجوان نسل کو ضرور ترغیب دے گی۔

میرے پیارے ہم وطنوں، 2 اکتوبر ہمارے ملک کے لیے اس دن کی کیا اہمیت ہے، اسے بچہ بچہ جانتا ہے۔ اس سال کے 2 اکتوبر کی اور ایک خاص اہمیت ہے۔ اب سے دو سال کے لیے ہم مہاتما گاندھی کی 150 ویں یوم پیدائش کے موقع پر دنیا بھر میں مختلف پروگرام کرنےو الے ہیں۔ مہاتما گاندھی کے خیالات نے پوری دنیا کو ترغیب دی ہے۔ ڈاکٹر مارٹن لُتھر کنگ جونیئر ہوں یا نیلسن منڈیلا جیسی عظیم شخصیات ، ہر کسی نے گاندھی جی کے خیالات سے قوت پائی اور اپنے لوگوں کومساوات اور احترام کا حق دلانے کے لیے لمبی لڑائی لڑ سکے۔ آج کی من کی بات میں، میں آپ کے ساتھ عظیم باپو کے ایک اور اہم کام کا ذکر کرنا چاہتا ہوں، جسے زیادہ سے زیادہ ہم وطنوں کو جاننا چاہیے۔ 1941 میں مہاتما گاندھی نے تعمیری پروگرام یعنی تخلیقی پروگرام کے طور پر کچھ خیالات کو لکھنا شروع کیا۔ بعد میں 1945میں جب آزادی کی تحریک نے زور پکڑی تب انہوں نے، اس خیالات کے نظر ثانی شدہ کاپی تیار کی۔ عظیم باپو نے کسانوں، گاؤوں ، مزدوروں کے حق کے تحفظ، صفائی، تعلیم کی تشہیر جیسے کئی موضوعات پر اپنے خیالات کو ہم وطنوں کے سامنے رکھا ہے۔ اسے گاندھی چارٹر بھی کہتے ہیں۔ عظیم باپو لوگوں مجتمع کرنے والے تھے۔ لوگوں سے جڑ جانا اور انہیں جوڑ لینا باپو کی خاصیت تھی، یہ ان کی فطرت میں تھا۔ یہ ان کی شخصیت کی سب سے منفرد خصوصیت کے طور میں ہر کسی نے محسوس کیا ہے۔ انہوں نےہر فرد افراد کو یہ محسوس کرایا کہ وہ ملک کے لیے سب سے زیادہ اہمیت کے حامل اور بیحد ضروری ہیں۔ آزادی کی تحریک میں ان کا سب سے بڑا تعاون یہ رہا کہ انہوں نے اسے ایک وسیع عوامی تحریک بنا دیا۔ آزادی کی تحریک میں مہاتما گاندھی کے اعلان پر سماج کے ہر شعبے، ہر زمرے کے لوگوں نے خود کو وقف کر دیا۔ باپو نے ہم سب کو ایک قابل ترغیب نسخہ دیا تھا جسے اکثر‘گاندھی جی کا طلسمان’ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس میں گاندجی نے کہا تھا، ‘‘میں آپ کو ایک جنتر دیتا ہوں، جب بھی تمہیں شک ہو یا تمہاری انا تم پر حاوی ہونے لگے تو یہ نسخہ آزمائیں، جو سب سے غریب اور کمزور آدمی تم نے دیکھا ہو، اس کی شکل یاد کرو اور اپنے دل سے پوچھو کہ جو قدم اٹھانے کا تم ارادہ کر رہے ہو، وہ اس آدمی کےلیے کتنا فائدہ مند ہوگا۔ کیا اس سے ، اسے کچھ فائدہ پہنچے گا۔ کیا اس سے وہ اپنے ہی زندگی اور قسمت پر کچھ قابو رکھ سکے گا۔ یعنی کیا اس سے ان کروڑو لوگوں کو سوراج مل سکے گا جن کے پیٹ بھوکے ہیں اور روح پیاسی ہے۔ تب تم دیکھوگے کہ تمہارا شک مٹ رہا ہے اور انا ختم ہو رہی ہے۔’’

میرے پیارے ہم وطنوں، گاندھی جی کا ایک نسخہ آج بھی اتنا ہی اہم ہے۔ آج ملک میں ابھرتا ہوا متوسط طبقہ، بڑھتی ہوئی اس کی اقتصادی قوت، بڑھتی ہوئی اس کی قوت خریداری، کیا ہم کچھ بھی خریداری کے لیے جائیں تو پل بھر کے لیے باپو کو یاد کر سکتے ہیں۔ باپو کے اس نسخے کو یاد کر سکتے ہیں۔ کیا ہم خریداری کرتے وقت سوچ سکتےہیں کہ میں جو چیز خرید رہا ہوں اس سے میرے ملک کے کس عوام کا فائدہ ہوگا۔ کس کے چہرے پر خوشی آئے گی! کون خوش نصیب ہوگا جس کا براہ راست یا بالواسطہ آپ کی خریدی سے فائدہ ہوگا! اور غریب سے غریب کو فائدہ ہوگا تو میری خوشی زیادہ سے زیادہ ہوگی۔ گاندھی جی کےاس نسخے کو یاد کرتے ہوئے آنے والے دنوں میں ہم جب بھی کچھ خرید یں، گاندھی جی کی 150ویں یوم پیدائش مناتے ہیں تب ہم ضرور دیکھیں کہ ہماری ہر خریداری میں کسی نہ کسی باشندے کا فائدہ ہونا چاہیئے اور اس میں بھی جس نے اپنا پسینہ بہایا ہے، جس نے اپنے پیسے لگائے ہیں، جس نے اپنا ہنراستعمال کیا ہے، ان سب کو کچھ نہ کچھ فائدہ ہونا چاہیے۔ یہی تو گاندھی کا نسخہ ہے، یہی تو گاندھی کا پیغام ہے اور مجھے یقین ہے کہ جو سب سے غریب اور کمزور آدمی، اس کی زندگی میں آپ کا ایک چھوٹا سا قدم بہت بڑا نتیجہ لا سکتا ہے۔

میرے پیارے ہم وطنوں، جب گاندھی جی نے کہا تھا کہ صفائی کروگے تو آزادی ملے گی۔ شاید ان کو معلوم بھی نہیں ہوگا یہ کیسے ہوگا – پر یہ ہوا، ہندوستان کو آزادی ملی۔ اسی طرح آج ہم کو لگ سکتا ہے کہ میرے اس چھوٹے سے کام سے بھی میرے ملک کی اقتصادی ترقی میں، اقتصادی کو بااختیار بنانے میں، غریب کو غریبی کے خلاف لڑائی لڑنے کی قوت دینے میں میرا بہت بڑا تعاون ہو سکتا ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ آج کے زمانے کی یہی سچی حب الوطنی ہے، یہی عظیم باپو کو خراج تحسین ہے۔ جیسے خاص موقعوں پر کھادی اور ہینڈ لوم کے مصنوعات خریدنے کے بارے میں سوچیں، اس سے بہت سے بنکروں کو مدد ملے گی۔ کہتے ہیں کہ لال بہادر شاستری جی کھادی کے پرانے یا کٹے پھٹے کپڑوں کو بھی اس لیے سنبھال کر رکھتے تھے کیونکہ اس میں کسی کی محنت چھپی ہوتی ہے۔ وہ کہتے تھے یہ سب کھادی کے کپڑے بری محنت سے بنائے ہیں – اس کا ایک ایک سوت کام آنا چاہیے۔ ملک سے لگاؤ اور ہم وطنوں سے محبت کے یہ احساسات چھوٹے قد و قامت والے اس عظیم شخص کے رگ رگ میں رچے بسے تھے۔ دو دن بعد عظیم باپو کے ساتھ ہی ہم شاستری جی کی بھی یوم پیدائش منائیں گے۔ شاستری جی کا نام آتے ہی ہم ہندوستانیوں کے من میں بے حد عزت کا احساس امڈ پڑتا ہے۔ ان کی سیدھی سادھی شخصیت ہر ہم وطنوں کو ہمیشہ ہی فخر سے بھر دیتا ہے۔

لال بہادر شاستری جی کی یہ خاصیت تھی کہ باہر سے وہ بہت ہی زیادہ سنجیدہ دکھائی دیتے تھے لیکن اندر سے چٹان کی طرح عزم مصمم کے حامل تھے۔ ‘جے جوان جے کسان’ کا نعرہ ان کے اسی عظیم شخصیت کی شناخت ہے۔ قوم کے تئیں ان کی بے لوث خدمت کا ہی نتیجہ تھا کہ تقریباً ڈیڑھ سال کے مختصر مدت میں، وہ ملک کے جوانوں اور کسانوں کو کامیابی کی بلندی پر پہنچنے کیا گڑ دے گئے۔

میرے پیارے ہم وطنوں، آج جب ہم عظیم باپو کو یاد کر رہے ہیں تو بہت فطری بات ہے کہ صفائی کی بات کے بغیر رہ نہیں سکتے۔ 15 ستمبر سے ’سوچھتا ہی سیوا‘ ایک مہم کا آغاز ہوا۔ کروڑوں لوگ اس مہم میں جڑے اور مجھے بھی موقع ملا کہ میں دلی کے امبیڈکر اسکول میں بچوں کے ساتھ سوچھتا شرم دان کروں۔ میں اس اسکول میں گیا جن کی سنگ بنیاد خود عزت مآب بابا صاحب نے رکھی تھی۔ ملک بھر میں ہر طبقے کے لوگ، اس 15 تاریخ کو اس شرم دان سے جڑے۔ تنظیموں نے بھی اس میں بڑھ چڑھ کر اپنا تعاون دیا۔ اسکولی بچوں، کالج کے طالب علموں، این سی سی ، این ایس ایس ، نوجوان تنظیم، میڈیا گروپس، کارپوریٹ سبھی نے ، سبھی نے بڑے پیمانے پر سوچھتا شرمدان کیا۔ میں اس کے لیے ان سبھی صفائی سے محبت کرنے والے ہم وطنوں کو دل سے بہت بہت مبارک باد دیتا ہوں۔ آیئے سنتے ہیں ایک فون کال –

‘‘نمسکار! میرا نام شیطان سنگھ ضلع بیکانیر، تحصیل – پوگل ، راجستھان سے بول رہا ہوں۔ میں بلائنڈ انسان ہوں۔ دونوں آنکھوں سے مجھے دکھائی نہیں دیتا میں پوری طرح اندھا ہوں تو میں یہ کہنا چاہتا ہوں ‘من کی بات’ میں جو سوچھ بھارت کا جو مودی جی نے قدم اٹھا تھا بہت ہی بہتر ہے۔ ہم بلائنڈ لوگ بیت الخلاء میں جانے کے لیے پریشان ہوتے تھے۔ ابھی کیا ہے ہر گھر میں بیت الخلاء بن چکا ہے تو ہمارا بہت فائدہ ہوا ہے اس میں۔ یہ قدم بہت ہی بہتر اٹھایا تھا اور آگے چلتا رہے یہ کام۔’’

بہت بہت شکریہ! آپ نے بہت بڑی بات کہی ہر کسی کے زندگی میں صفائی کی اپنی اہمیت ہے اور سوچھ بھارت مہم کے تحت آپ کے گھر میں بیت الخلاء بنا اور اس سے اب آپ کو سہولت ہو رہی ہے ہم سب کےلیے اس سے زیادہ خوشی کی بات اور کیا ہو سکتی ہے۔ اور شاید اس مہم سے جڑے لوگوں کو بھی اندازہ نہیں ہوگا کہ بینائی سے معذور ہونے کے ناطے آپ دیکھ نہیں سکتے ہیں، لیکن بیت الخلاء نہ ہونے کے پہلے آپ کتنی دقتوں سے زندگی گزارتے تھے اور بیت الخلاء ہونے کے بعد آپ کے لیے کتنا بڑا تحفہ بن گیا، شاید آپ نے بھی اس پہلو کو جوڑتے ہوئے فون نے کیا ہوتا تو شاید صفائی کے اس مہم سے جڑے لوگوں کے ذہن میں بھی ایسا حساس پہلو ذہن میں نہ آتا۔ میں آپ کے فون کے لیے خاص طور سے اپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔

میرے پیارے ہم وطنوں، ’سوچھ بھارت مشن‘ صرف ملک میں ہی نہیں بلکہ پوری دنیا میں ایک کامیاب کہانی بن چکی ہے جس کے بارے میں ہر کوئی بات کر رہا ہے۔ اس بار ہندوستان تاریخ میں دنیا کا سب سے بڑا سوچھتا کانفرنس منعقد کر رہا ہے۔‘مہاتما گاندھی بین الاقوامی حفظان صحت کانفرنس’ یعنی ’مہاتما گاندھی انٹرنیشنل سینی ٹیشن کنوینشن‘ دنیا بھر کے حفظان صحت کی وزارتوں اور اس شعبے کے ماہرین ایک ساتھ آکرحفظان صحت سے متعلق اپنے تجربات اور مشاہدات کا تبادلہ کر رہے ہیں۔ ’مہاتما گاندھی انٹرنیشنل سینی ٹیشن کنوینشن کا اختتام 2 اکتوبر 2018 کو باپو کے 150 ویں یوم پیدائش کے اجلاس کے افتتاح کے ساتھ ہوگا۔

میرے پیارے ہم وطنوں، سنسکرت کا ایک جملہ ہے‘نیائے مولم سوراجیم سیات’ یعنی سوراج کے مول میں انصاف ہوتا ہے جب انصاف کی بحث ہوتی ہے، تو انسانی حقوق کا اثر اس میں پوری طرح سے جاگزیں رہتا ہے۔ مظلوم ، متاثرہ اور محروم طبقات کی آزادی، امن اور انہیں انصاف کو یقینی بنانے کے لیے – یہ خاص طور سے ضروری ہے۔ ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر کے ذریعے دیئے گئے آئین میں غریبوں کے اصل حق کی حفاظت کے لیے کئی گنجائشیں ہیں۔ انہیں کے تصور سے متاثر ہوکر 12 اکتوبر 1993 کو‘انسانی حقوق کے قومی کمیشن یعنی نیشنل ہومین رائٹ کمیشن (این ایچ آر سی) تشکیل دی گئی تھی۔ کچھ ہی دنوں بعد این ایچ آر سی کے 25 سال پورے ہونے والے ہیں، این ایچ آر سی نے نہ صرف انسانی حقوق کی حفاظت کی بلکہ انسانی وقار کو بھی بڑھانے کا کام کیا ہے۔ ہمارے پیارے رہنما ہمارے ملک کے سابق وزیراعظم جناب اٹل بہاری واجپئی جی نے صاف طور سے کہا تھا کہ انسانی حقوق ہمارے لیے کوئی اجنبی تصور نہیں ہے۔ ہمارے قومی انسانی حقوق کمیشن کے علاماتی نشان میں ویدک کال کا آدرش سُتر ’’سروے بھونتو سوکھنہ‘‘ درج ہے۔ این ایچ آر سی نے انسانی حقوق کی وجہ سے وسیع طور پر بیداری پیدا کی ہے، ساتھ ہی اس کے غلط استعمال کو روکنے میں بھی قابل ستائش رول ادا کی ہے۔ 25 سال کے اس سفر میں اس نے ہم وطنوں میں ایک امید ، ایک یقین کا ماحول پیدا کیا ہے۔ ایک صحت مند سماج کے لیے اعلیٰ جمہوریتی اقدار کے لیے میں سمجھتا ہوں کہ ایک بہت بڑا پر امید واقعہ ہے۔ آج قومی سطح پر انسانی حقوق کے کام کے ساتھ ساتھ 26 ریاستی انسانی حقوق کمیشن بھی تشکیل دی گئی ہے۔ ایک سماج کے طور پر ہمیں انسانی حقوق کی اہمیت کو سمجھنے اور عادات و اطوار میں لانے کی ضرورت ہے - یہی ’ سب کا ساتھ – سب کا وکاس‘ کی بنیاد ہے۔

میرے پیارے ہم وطنوں، اکتوبر کا مہینہ ہو، جے پرکاش نارائن جی کی یوم پیدائش ہو، راج ماتا وجے راجے سندھیا جی کی سالگرہ کی صد سالہ تقریب کا آغاز ہوتا ہو – یہ سبھی عظیم شخصیات ہم سب کو ترغیب دیتے رہے ہیں ان کو ہم سلام کرتے ہیں اور 31 اکتوبر سردار صاحب کی یوم پیدائش ہے، میں اگلی ’ من کی بات‘ میں تفصیل سے بات کروں گا لیکن آج میں ضرور اس لیے ذکر کرنا چاہتا ہوں کہ کچھ سالوں سے سردار صاحب کی یوم پیدائش پر 31 اکتوبر کو ’رن فار یونیٹی‘ ہندوستان کے ہر چھوٹے موٹے شہر میں، قصبوں میں ، گاؤوں میں ’یکجہتی کے لیے دوڑ‘‘ اس کا انعقاد ہوتا ہے۔ اس سال بھی ہم کوشاں رہ کر اپنے گاؤں میں، قصبوں میں، گاؤوں میں، شہر میں، مہانگر میں ’رن فار یونیٹی‘ کو منظم کریں۔ ’یکجہتی کے لیے دوڑ‘‘ یہی تو سردار صاحب کا، ان کو یاد کرنے کا صحیح راستہ ہے کیونکہ انہوں نے زندگی بھر ملک کی یکجہتی کے لے کام کیا۔ میں آپ سب سے گزارش کرتا ہوں کہ 31 اکتوبر کو ’رن فار یونیٹی‘ کے ذریعہ سماج کے ہر زمرے کو، ملک کے ہر یونٹ کو یکجہتی کے دھاگے میں باندھنے کے ہمارے کوششوں کو قوت دیں اور یہی ان کے لیے اچھی خراج عقیدت ہوگی۔

میرے پیارے ہم وطنوں، نوراتری، درگا پوجا ہو، وجے دشمی ہو اس مبارک تہواروں کے لیے میں آپ سب کو دل سے بہت بہت مبارکباد دیتا ہوں۔ شکریہ۔

 

بھارتی اولمپئنس کی حوصلہ افزائی کریں۔ #Cheers4India
Modi Govt's #7YearsOfSeva
Explore More
It is now time to leave the 'Chalta Hai' attitude & think of 'Badal Sakta Hai': PM Modi

Popular Speeches

It is now time to leave the 'Chalta Hai' attitude & think of 'Badal Sakta Hai': PM Modi
Highlighting light house projects, PM Modi says work underway to turn them into incubation centres

Media Coverage

Highlighting light house projects, PM Modi says work underway to turn them into incubation centres
...

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
You gave your best and that is all that counts: PM to fencer Bhavani Devi
July 26, 2021
Share
 
Comments

The Prime Minister, Shri Narendra Modi has appreciated efforts of  India's fencing player C A Bhavani Devi who registered India's first win in an Olympic fencing match before bowing out in the next round. 

Reacting to an emotional tweet by the Olympian, the Prime Minister tweeted: 

"You gave your best and that is all that counts. 

Wins and losses are a part of life. 

India is very proud of your contributions. You are an inspiration for our citizens."