Remembering Dr. Lohia

Published By : Admin | March 26, 2019 | 03:06 IST

Today is a day to honour revolutionaries.

We pay tributes to great sons of Mother India - Bhagat Singh, Sukhdev and Rajguru for their ultimate sacrifice.

We bow to a prolific thinker, exceptional intellectual, revolutionary and devout patriot, Dr. Ram Manohar Lohia on his Jayanti.

Dr. Lohia combined a sharp mind and a penchant for mass politics.

When top leaders were arrested during the Quit India movement, a young Dr. Lohia remained unfazed, went underground and even started an underground radio station to further the movement.

In the history of Goa’s liberation, the name of Dr. Lohia is etched in golden letters.

Wherever the marginalised needed a voice, Dr. Lohia was there.

Dr. Lohia’s thoughts inspire us. He wrote about modernising agriculture and empowering farmers, which the NDA Government is effectively doing through efforts such as PM Kisan Samman Nidhi, Krishi Sinchai Yojana, e-Nam, Soil Health Cards and more.

Nothing pained Dr. Lohia more than the caste hierarchy and inequality between women and men. Our Mantra of ‘Sabka Saath, Sabka Vikas’ as well as our track record in the last five years show that we have made a long-lasting contribution in fulfilling the vision of Dr. Lohia. He would surely have been very proud of the NDA Government’s work.

Whenever Dr. Lohia spoke, inside or outside Parliament, the Congress trembled with fear.

Dr. Lohia knew how disastrous Congress was. In 1962 he said, “During the Congress regime neither agriculture and industry nor the army has improved.”

These words can accurately describe even subsequent Congress regimes, where farmers were harassed, industry was discouraged (except if they belonged to friends and relatives of Congress leaders) and national security was ignored.

Anti-Congressism was Dr. Lohia’s heart and soul. His efforts ensured a shock to the then all-powerful Congress in 1967 elections. That time, Atal Ji remarked- “Due to Dr. Lohia’s efforts, one could travel on board the Howrah-Amritsar Mail without having to pass a single Congress state!”

Unfortunately, today Dr. Lohia would be horrified at the political developments taking place.

Those parties that claim inspiration from Dr. Lohia have completely abandoned his principles. They are leaving no opportunity to insult him.

The veteran socialist leader from Odisha, Shri Surendranath Dwivedy remarked, “He (Dr. Lohia) was imprisoned many times more during Congress regime than under the British rule.”

Yet, today those parties that falsely claim to be Dr. Lohia’s followers are desperate to form an opportunistic Maha Milawat or adulteration alliances with the same Congress. It is both ironical and reprehensible.

Dr. Lohia always believed that dynastic politics was inimical to democracy. He would have been flabbergasted to see his ‘followers’ think about their own families first instead of the nation.

Dr. Lohia stated that one who works with ‘Samta’, ‘Samanata’ and ‘Samatva Bhaav’ is a Yogi. Sadly, the parties that claim to be his followers forgot this principle. They believe in ‘Satta’, ‘Swarth’ and ‘Shoshan.’ These parties are experts at grabbing power, looting as much as possible and exploiting others. Poor people, Tribals, Dalits, OBCs and women are not safe in their rule because these parties give a free run to criminals and anti-social elements.

In his works, Dr. Lohia called for complete equality between men and women. But, neck deep in vote bank politics, it was parties that dishonestly claim to be Dr. Lohia’s followers that opposed the NDA Government’s move to abolish the inhuman practice of Triple Talaq.

Is the commitment to vote bank politics bigger than the commitment to Dr. Lohia’s thoughts?

Today, a moot question facing 130 crore Indians is:

How can those who betrayed Dr. Lohia be expected to serve the nation?

Today they are betraying the principles of Dr. Lohia, tomorrow they will also betray the people of India.

 

 

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
India's new FTA playbook looks beyond trade and tariffs to investment ties

Media Coverage

India's new FTA playbook looks beyond trade and tariffs to investment ties
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
سومناتھ سوابھیمان پَرْو — ایک ہزار سال کی اٹوٹ عقیدت (1026–2026)
January 05, 2026

سومناتھ… اس لفظ کو سنتے ہی ہمارے دل و دماغ میں فخر کا احساس جاگ اٹھتا ہے۔ یہ ہندوستان کی روح کا ابدی اعلان ہے۔ یہ شاندار مندر بھارت کے مغربی ساحل پر گجرات میں پربھاس پٹن نامی مقام پر واقع ہے۔ ’’دواَدش جیوتِرلنگ اسٹوترم‘‘ میں ہندوستان بھر کے بارہ جیوتِرلنگوں کا ذکر ملتا ہے۔ اس اسٹوترم کی ابتدا ان الفاظ سے ہوتی ہے: ’’سوراشٹرے سومناتھم چ...‘‘ جو اس بات کی علامت ہے کہ تہذیبی اور روحانی اعتبار سے سومناتھ کو پہلے جیوتِرلنگ کی حیثیت حاصل ہے۔

یہ بھی کہا گیا ہے:

سوملِنگم نرو درِشٹوا سروپاپیہ پرموچیتے
لبھتے پھلَم منووانچھتم مرتَہ سوَرگم سماشرَیَت

اس کا مفہوم یہ ہے: سومناتھ کے شِولِنگ کے دیدار سے انسان تمام گناہوں سے نجات پا لیتا ہے، اپنی جائز اور نیک خواہشات کو حاصل کرتا ہے اور وفات کے بعد جنت میں مقام پاتا ہے۔

افسوسناک امر یہ ہے کہ یہی سومناتھ جو کروڑوں عقیدت مندوں کی عقیدت اور دعاؤں کا مرکز تھا، غیر ملکی حملہ آوروں کے نشانے پر آیا، جن کا مقصد عبادت نہیں بلکہ تخریب تھا۔

سال 2026 سومناتھ مندر کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ اس عظیم عبادت گاہ پر پہلے حملے کو ایک ہزار سال مکمل ہو رہے ہیں۔ جنوری 1026 میں محمود غزنوی نے اس مندر پر حملہ کیا تھا، جس کا مقصد تشدد اور بربریت کے ذریعے عقیدے اور تہذیب کی ایک عظیم علامت کو مٹانا تھا۔

تاہم ایک ہزار سال گزر جانے کے باوجود یہ مندر آج بھی پوری آب و تاب کے ساتھ قائم ہے اور اس کا سہرا ان بے شمار کوششوں کو جاتا ہے جن کے ذریعے سومناتھ کو اس کی عظمتِ رفتہ لوٹائی گئی۔ ایسی ہی ایک اہم سنگِ میل کو 2026 میں 75 برس مکمل ہو رہے ہیں۔ 11 مئی 1951 کو، اس وقت کے صدرِ جمہوریہ ہند ڈاکٹر راجندر پرساد کی موجودگی میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران بحال شدہ مندر کو عقیدت مندوں کے لیے دوبارہ کھول دیا گیا تھا۔

ایک ہزار سال قبل 1026 میں سومناتھ پر ہونے والا پہلا حملہ شہر کے باشندوں پر ڈھائے گئے مظالم اور مندر کو پہنچائی گئی تباہی مختلف تاریخی حوالوں میں نہایت تفصیل کے ساتھ درج ہیں۔ جب ان واقعات کو پڑھا جاتا ہے تو دل لرز اٹھتا ہے۔ ہر سطر اپنے اندر غم، درندگی اور ایسے دکھ کا بوجھ سمیٹے ہوئے ہے جو وقت گزرنے کے باوجود کم نہیں ہوتا۔

اس کے اثرات کا اندازہ کیجیے کہ اس نے بھارت اور عوام کے حوصلے پر کیا اثر ڈالا ہوگا۔ آخرکار سومناتھ کو غیر معمولی روحانی اہمیت حاصل تھی۔ یہ سمندر کے کنارے واقع تھا، جو ایک ایسی سماج کو طاقت بخشتا تھا جو معاشی اعتبار سے بھی نہایت مضبوط تھا اور جس کے سمندری تاجر اور جہاز ران اس کی عظمت کے قصے دور دور تک لے کر جاتے تھے۔

اس کے باوجود، میں پورے یقین اور فخر کے ساتھ یہ کہنا چاہتا ہوں کہ پہلے حملے کے ایک ہزار سال بعد سومناتھ کی کہانی تباہی سے متعین نہیں ہوتی بلکہ یہ بھارت ماتا کے کروڑوں فرزندوں کے ناقابلِ شکست حوصلے اور عزم سے عبارت ہے۔

1026 میں ایک ہزار سال قبل شروع ہونے والی قرونِ وسطیٰ کی بربریت نے دوسروں کو بھی بار بار سومناتھ پر حملہ کرنے کی ’ترغیب‘ دی۔ یہ ہمارے عوام اور ہماری تہذیب کو غلام بنانے کی ایک کوشش کا آغاز تھا، لیکن ہر بار جب مندر پر حملہ ہوا تو ایسے عظیم مرد و خواتین بھی سامنے آئے جنہوں نے اس کے دفاع کے لیے کھڑے ہو کر اپنی جان تک قربان کر دی۔ اور ہر مرتبہ نسل در نسل ہماری عظیم تہذیب کے لوگوں نے خود کو سنبھالا، مندر کی ازسرِ نو تعمیر کی اور اسے نئی زندگی بخشی۔ یہ ہمارے لیے باعثِ افتخار ہے کہ ہم اسی دھرتی کی آغوش میں پلے بڑھے ہیں جس نے اہلیابائی ہولکر جیسی عظیم شخصیات کو جنم دیا، جنہوں نے سومناتھ میں عقیدت مندوں کی عبادت کو ممکن بنانے کے لیے ایک عظیم اور نیک کوشش کی۔

1890 کی دہائی میں سوامی وویکانند نے سومناتھ کا دورہ کیا اور یہ تجربہ ان کے دل کو گہرائی سے چھو گیا۔ انہوں نے 1897 میں چنئی میں ایک لیکچر کے دوران اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا: ’’جنوبی ہندوستان کے یہ قدیم مندر اور گجرات کے سومناتھ جیسے مندر تمہیں علم و حکمت کے انبار سکھائیں گے اور کسی بھی تعداد میں پڑھی گئی کتابوں سے بڑھ کر تمہیں اس قوم کی تاریخ کا گہرا شعور عطا کریں گے۔ ذرا غور کرو کہ یہ مندر کس طرح سو حملوں اور سو بار کی تجدید کے نشانات اپنے اندر سموئے ہوئے ہیں—بار بار تباہ کیے گئے اور بار بار کھنڈرات میں سے ابھر کر کھڑے ہوئے، پہلے کی طرح توانا اور مضبوط! یہی قومی ذہن ہے، یہی قومی زندگی کی دھارا ہے۔ اس کی پیروی کرو تو یہ تمہیں عظمت تک لے جائے گی۔ اگر اسے ترک کر دو تو تمہاری موت یقینی ہے، اس زندگی کی دھارا سے ہٹتے ہی انجام صرف فنا اور نیست و نابودی ہوگا۔‘‘

آزادی کے بعد سومناتھ مندر کی ازسرِ نو تعمیر کی مقدس ذمہ داری سردار ولبھ بھائی پٹیل کے باصلاحیت ہاتھوں میں آئی۔ دیوالی کے موقع پر 1947 میں کیے گئے ایک دورے نے انہیں اس قدر متاثر کیا کہ انہوں نے اعلان کیا کہ اسی مقام پر مندر کی دوبارہ تعمیر کی جائے گی۔ بالآخر 11 مئی 1951 کو سومناتھ میں ایک عظیم الشان مندر نے عقیدت مندوں کے لیے اپنے دروازے کھول دیے اور اس موقع پر بھارت کے پہلے صدرِ جمہوریہ ڈاکٹر راجندر پرساد موجود تھے۔ عظیم سردار صاحب اس تاریخی دن کو دیکھنے کے لیے حیات نہیں تھے، مگر ان کا خواب شرمندۂ تعبیر ہو کر پوری شان و شوکت کے ساتھ قوم کے سامنے کھڑا تھا۔ اُس وقت کے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو اس پیش رفت سے زیادہ خوش نہیں تھے۔ وہ نہیں چاہتے تھے کہ معزز صدرِ جمہوریہ اور وزراء اس خصوصی تقریب سے وابستہ ہوں۔ ان کا خیال تھا کہ اس تقریب سے بھارت کی شبیہ پر منفی اثر پڑے گا۔ تاہم ڈاکٹر راجندر پرساد اپنے موقف پر ثابت قدم رہے اور پھر جو ہوا وہ تاریخ بن گیا۔ سومناتھ کا ذکر کے۔ ایم۔ منشی کی خدمات کو یاد کیے بغیر ادھورا ہے، جنہوں نے سردار پٹیل کا نہایت مؤثر انداز میں ساتھ دیا۔ سومناتھ پر ان کے کام، خصوصاً ان کی کتاب ’سوماناتھ: دی شرائن ایٹرنل‘ نہایت معلوماتی اور تعلیمی اہمیت کی حامل ہیں۔

واقعی، جیسا کہ منشی جی کی کتاب کے عنوان سے ظاہر ہوتا ہے، ہم ایک ایسی تہذیب ہیں جو روح اور خیالات کی ابدیت پر کامل یقین رکھتی ہے۔ ہم پختہ طور پر اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ جو چیز ابدی ہے وہ ناقابلِ فنا ہے، جیسا کہ گیتا کے مشہور شلوک
’’نَینَم چھِندَنتی شَسترانی...‘‘ میں بیان کیا گیا ہے۔ ہماری تہذیب کی ناقابلِ تسخیر روح کی اس سے بہتر مثال کوئی نہیں ہو سکتی کہ سومناتھ آج بھی تمام مشکلات اور جدوجہد پر قابو پاتے ہوئے پوری شان کے ساتھ قائم ہے۔

یہی روح آج ہماری قوم میں بھی نمایاں ہے جو صدیوں کی یلغاروں اور نوآبادیاتی لوٹ مار پر قابو پاتے ہوئے عالمی ترقی کے روشن ترین مراکز میں سے ایک بن چکی ہے۔ ہماری اقدار اور عوام کے عزم و استقلال نے آج بھارت کو عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔ دنیا بھارت کو امید اور رجائیت کی نظر سے دیکھ رہی ہے۔ وہ ہمارے اختراعی نوجوانوں میں سرمایہ کاری کرنا چاہتی ہے۔ ہماری فنونِ لطیفہ، ثقافت، موسیقی اور متعدد تہوار عالمی سطح پر مقبول ہو رہے ہیں۔ یوگا اور آیوروید دنیا بھر میں صحت مند طرزِ زندگی کو فروغ دیتے ہوئے اثر ڈال رہے ہیں۔ عالمی سطح کے بعض نہایت سنگین مسائل کے حل بھی بھارت سے سامنے آ رہے ہیں۔

ازمنۂ قدیم سے سومناتھ مختلف شعبۂ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو یکجا کرتا آیا ہے۔ صدیوں پہلے، کالی کل سرواگیہ ہیمنچندر آچاریہ، جو ایک معزز جین راہب تھے، سومناتھ آئے۔ کہا جاتا ہے کہ وہاں عبادت کے بعد انہوں نے یہ شعر پڑھا: ’’بھَو بیج آنکُر جننا راگادیاہ کشَیَمُپگتا یَسّیَ۔‘‘ جس کا مطلب ہے: اُس ذات کو سلام ہے جس میں دنیوی وجود کے بیج فنا ہو چکے ہیں، جس میں خواہش، لگاؤ اور تمام آلائشیں مٹ چکی ہیں۔ آج بھی سومناتھ کے اندر وہی صلاحیت موجود ہے کہ وہ ذہن اور روح کے اندر کسی گہری اور بامعنی کیفیت کو بیدار کر دے۔

1026 میں ہونے والے پہلے حملے کے ایک ہزار سال بعد بھی سومناتھ کے ساحل پر سمندر اسی شدت کے ساتھ گرجتا ہے جیسا کہ اُس وقت گرجتا تھا۔ سومناتھ کے کناروں کو چھوتی ہوئی موجیں ایک کہانی سناتی ہیں۔ ہر حال میں، بالکل موجوں کی طرح یہ بار بار اٹھتا رہا اور پھر کھڑا ہو گیا۔

ماضی کے حملہ آور آج ہوا میں اڑتی ہوئی خاک بن چکے ہیں اور ان کے نام تباہی کے مترادف سمجھے جاتے ہیں۔ وہ تاریخ کے اوراق میں محض حاشیے بن کر رہ گئے ہیں، جبکہ سومناتھ پوری تابانی کے ساتھ آج بھی قائم ہے، افق سے کہیں آگے تک اپنی روشنی بکھیرتا ہوا اور ہمیں اس ابدی روح کی یاد دلاتا ہے جو 1026 کے حملے کے باوجود کمزور نہ پڑی۔ سومناتھ امید کا وہ نغمہ ہے جو ہمیں یہ بتاتا ہے کہ نفرت اور جنون گرچہ لمحاتی طور پر تباہی کی طاقت رکھتے ہیں، مگر نیکی کی قوت پر ایمان اور یقین میں ایسی تخلیقی طاقت ہے جو ہمیشہ کے لیے قائم رہتی ہے۔

اگر سومناتھ مندر، جس پر ایک ہزار سال قبل حملہ ہوا اور جسے بعد ازاں بھی مسلسل حملوں کا سامنا کرنا پڑا، بار بار اٹھ کھڑا ہو سکتا ہے تو ہم بھی یقیناً اپنی عظیم قوم کو اس شان و شوکت کی طرف دوبارہ لے جا سکتے ہیں جو حملوں سے قبل ایک ہزار سال پہلے اس کا خاصہ تھی۔ شری سومناتھ مہادیو کی برکتوں کے ساتھ ہم ایک نئے عزم کے ساتھ وِکست بھارت کی تعمیر کے لیے آگے بڑھ رہے ہیں، جہاں تہذیبی دانش ہمیں پوری دنیا کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرنے کی رہنمائی کرے گی۔

جے سومناتھ!