’’ہندوستان کے عوام نے پچھلے 10 سالوں میں ملک کی خدمت کرنے کے لئے ہماری حکومت کی کوششوں کی پورے دل سے حمایت کی ہے اور ان کے لئے اپنی نیک خواہشات دی ہیں‘‘
’’یہ بابا صاحب امبیڈکر کا دیا ہوا آئین ہے، جس نے مجھ جیسے لوگوں کو، جن کا سیاسی سلسلہ صفر ہے، کو سیاست میں آنے اور اس مقام تک پہنچنے کی راہ ہموار کی ہے‘‘
’’ہمارا آئین مینارہ نور کی طرح ہماری رہنمائی کرتا ہے‘‘
’’لوگوں نے ہمیں اس اعتماد اور پختہ یقین کے ساتھ تیسری مرتبہ خدمت کرنے کا موقع دیا ہے کہ ہم ہندوستان کی معیشت کو تیسری سب سے بڑ ی معیشت بنائیں گے‘‘
’’اگلے 5 سال ملک کے لیے اہم ہیں ‘‘
’’ اچھی حکمرانی کی مدد سے ہم اس دور کو بنیادی ضروریات کی تکمیل کے دور میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں‘‘
’’ہم یہاں رکنا نہیں چاہتے۔ اگلے پانچ سالوں کے لیے ہم نئے شعبوں میں پیدا ہونے والے مسائل کا مطالعہ کرکے، ان کو حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں‘‘
’’ہم نے کسانوں کو بیج سے لے کر مارکیٹ تک ہر مرحلے پر، مائیکرو پلاننگ کے ذریعے ایک مربوط نظام فراہم کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے‘‘
’’ہندوستان خواتین کی قیادت میں ترقی کے لیے صرف ایک نعرے کے طور پر ہی نہیں بلکہ مصمم ارادے کے ساتھ کام کر رہا ہے‘‘
وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج راجیہ سبھا میں پارلیمنٹ سے صدر جمہوریہ کے خطاب پر شکریہ کی تحریک کا جواب دیا۔
ایوان سے خطاب کرتے ہوئے، وزیراعظم نے متاثر کن اور حوصلہ افزا خطاب پر صدر جمہوریہ کا شکریہ ادا کیا۔ صدر جمہوریہ کے خطاب پر تقریباً 70 اراکین نے اپنے خیالات پیش کیے اور وزیراعظم نےان اراکین کا شکریہ ادا کیا۔

وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج راجیہ سبھا میں پارلیمنٹ سے صدر جمہوریہ کے خطاب پر شکریہ کی تحریک کا جواب دیا۔

ایوان سے خطاب کرتے ہوئے،  وزیراعظم نے متاثر کن اور حوصلہ افزا خطاب پر صدر جمہوریہ کا شکریہ ادا کیا۔ صدر  جمہوریہ کے خطاب پر تقریباً 70 اراکین نے اپنے خیالات پیش کیے اور وزیراعظم نےان  اراکین کا شکریہ ادا کیا۔

ملک کے جمہوری سفر کی عکاسی کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے کہا کہ 60 سال کے بعد ،ہندوستان کے رائے دہندگان نے مسلسل تیسری بار حکومت  کی تشکیل کے لئے اپنا حق رائے دہی دیا ہے ۔انہوں نے اسے ایک تاریخی کارنامہ قرار دیا ہے۔ رائے دہندگان کے فیصلے کو کمزور کرنے کے اپوزیشن کے اقدام کی مذمت کرتے ہوئے، جناب مودی نے کہا کہ پچھلے کچھ دنوں میں انہوں نے دیکھا ہے کہ اسی حلقے نے اپنی شکست اور ان کی  جیت کو بھاری دل کے ساتھ قبول کیا ہے۔

وزیراعظم نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ موجودہ حکومت نے اپنی حکمرانی کا صرف ایک تہائی یعنی 10 سال مکمل کیا ہے اور دو تہائی یا 20 سال باقی ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ’’ہندوستان کے لوگوں نے گزشتہ 10 سالوں میں ملک کی خدمت کرنے کے لئے ہماری حکومت کی کوششوں کی تہہ دل سے حمایت کی ہے اور ان کے لئے نیک خواہشات دی ہیں‘‘۔ انہوں نے  ان شہریوں فیصلے پر فخر کا اظہار کیا ، جنہوں نے پروپیگنڈے کو شکست دی، کارکردگی کو ترجیح دی، سراب کی سیاست کو مسترد کیا اور اعتماد کی سیاست پر فتح کی مہر ثبت کی ہے ۔

یہ واضح  کرتے ہوئے کہ ہندوستان آئین کے 75 ویں سال میں داخل ہو رہا ہے، وزیر اعظم نے کہا کہ یہ ایک خاص مرحلہ ہے، کیونکہ ہندوستان کی پارلیمنٹ بھی 75 سال مکمل کر رہی ہے۔  یہ ایک خوشگوار اتفاق ہے۔ جناب مودی نے،  بابا صاحب امبیڈکر کے ذریعہ تیار کئے گئے ہندوستان کے آئین کی تعریف کی اور کہا کہ جن لوگوں کا کبھی بھی ہندوستان میں سیاسی میدان سے کوئی تعلق نہیں تھا، انہیں اس میں درج حقوق کی وجہ سے ملک کی خدمت کرنے کا موقع مل رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’یہ بابا صاحب امبیڈکر کا دیا ہوا آئین ہے،  جس نے مجھ جیسے لوگوں کو، جن کا سیاسی سلسلہ صفر ہے، سیاست میں آنے اور اس مقام  تک پہنچنے کی راہ ہموار کی ہے‘‘ ۔ انہوں نے مزید کہا کہ اب جب کہ عوام نے اپنی منظوری کی مہر لگا دی ہے، تو مسلسل تیسری بار حکومت تشکیل ہوئی ہے۔ وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان کا آئین صرف مضامین کا مجموعہ نہیں ہے بلکہ اس کی روح اور نقوش انتہائی  بیش قیمت ہیں۔

جناب مودی نے یاد ددہانی کرائی کہ جب ان کی حکومت نے 26 نومبر کو ’’یوم آئین‘‘ کے طور پر منانے کی تجویز پیش کی تھی،  تو سخت مخالفت ہوئی تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ یوم آئین  منانے کے ان کے فیصلے نے آئین کی روح کو مزید پھیلانے، اس بات پر تبادلہ خیال اور غور و خوض کرنے میں مدد کی ہے کہ اسکولوں اور کالجوں کے نوجوانوں میں آئین میں بعض دفعات کیوں اور کیسے شامل اور ختم کی گئیں۔ وزیر اعظم پرامید تھے کہ آئین کے مختلف پہلوؤں پر ہمارے طلباء کے درمیان مضامین، مباحثے اور دیگر اسی طرح کے مقابلوں کا اہتمام کرنے سے،  ایمان کا جذبہ اور آئین کی ترقی یافتہ سمجھ میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا  کہ ’’آئین ہماری سب سے بڑی تحریک رہا ہے‘‘۔ جناب مودی نے اس بات پر زور دیا کہ جب آئین اپنے وجود کے 75 ویں سال میں داخل ہو رہا ہے، ان کی حکومت نے ملک گیر تقریبات کو یقینی بنانے کے لیے اسے ’’جن اتسو‘‘ کے طور پر منانے کا منصوبہ بنایا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ اس بات کو یقینی بنانے کی بھی کوشش کریں گے کہ ملک کے ہر کونے میں آئین کی روح اور مقصد سے آگاہی  پیدا کی جائے۔

رائے دہندگان کی ستائش کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ ہندوستان کے عوام     ان کی حکومت کو تین بار ووٹ دے کر اقتدار میں لائی ہے تاکہ ترقی اور انحصار کے اہداف کو  ’وکست بھارت‘ اور ’آتم نربھر بھارت‘کے ذریعہ  حاصل کیا جا سکے ۔ جناب مودی نے اس انتخابی جیت کو گزشتہ 10 سالوں میں ان کی حکومت کے فیصلوں پر نہ صرف شہریوں کی منظوری کی مہر کے طور پر،  بلکہ ان کے مستقبل کے خوابوں اور امنگوں کو پورا کرنے کے منشور کے طور پر بھی سراہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’’اس ملک کے لوگوں نے ہمیں اپنے مستقبل کی قراردادوں کو عملی جامہ پہنانے کا موقع فراہم کیا ہے۔‘‘

وزیر اعظم نے یاد دہانی کرائی  کہ ملک نے عالمی خلفشار اور وبائی امراض جیسے چیلنجوں کے باوجود ، پچھلے دس سالوں میں ہندوستانی معیشت کو دسویں  مقام سے پانچویں سب سے بڑی معیشت  بنتے ہوئے  دیکھا ہے۔ وزیر اعظم نے اس منشور  کو پورا کرنے کے لیے اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے مزید کہا  کہ ’’یہ  منشور،  معیشت کو موجودہ پانچویں نمبر سے تیسرے نمبر پر لے جانا ہے‘‘۔

جناب مودی نے پچھلے 10 سالوں میں ہونے والی ترقی کی رفتار اور دائرہ کار کو بڑھانے کے لیے حکومت کے عزم کو دہرایا۔ وزیراعظم نے ایوان کو یقین دلایا کہ اگلے 5 سالوں میں حکومت،  عوام کی بنیادی ضروریات کی تکمیل کے لیے کام کرے گی۔ وزیراعظم نریندر  مودی نے کہا کہ ’’ہم اس دور کو اچھی حکمرانی  کی مدد سے بنیادی ضروریات کی تکمیل کرنے کے دور میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں‘‘ ۔ انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ آئندہ 5 سال،  غریبی کے خلاف جنگ کے لیے انتہائی اہم ہیں اور گزشتہ 10 سالوں کے تجربات کی بنیاد پر ، غریبی کے خلاف ڈٹ جانے اور اس پر قابو پانے کے لیے غریبوں کی اجتماعی صلاحیتوں کے  تئیں  یقین کا اظہار کیا۔

لوگوں کی زندگیوں کے ہر پہلو میں ہندوستان کے تیسری سب سے بڑی معیشت بننے کے اثرات کی وضاحت کرتے ہوئے ، جناب مودی نے کہا کہ اس واقعہ کا عالمی منظر نامے پر بھی بے مثال اثر پڑے گا۔ انہوں نے اگلے پانچ سالوں میں ہندوستانی اسٹارٹ اپس اور کمپنیوں کی عالمی سطح پر بحالی اور ترقی کے انجن کے طور پر ابھرنے والے ٹیئر 2 اور ٹیئر 3 شہروں کے ابھرنے کے بارے میں بات کی۔

موجودہ صدی کو ٹکنالوجی پر مبنی صدی قرار دیتے ہوئے، وزیراعظم  نریندر مودی نے عوامی نقل و حمل  جیسے کئی نئے شعبوں میں نئی ​​ٹیکنالوجی کی نئی جہتوں کے بارے میں بات کی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ چھوٹے شہر طب، تعلیم یا اختراع جیسے شعبوں میں اہم کردار ادا کریں گے۔

کسانوں، غریبوں، ناری شکتی اور نوجوانوں کے چار ستونوں کو مضبوط بنانے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے ، وزیر اعظم نے کہا کہ ہندوستان کی ترقی کے سفر میں ان شعبوں پر حکومت کی توجہ اہم ہے۔

زراعت اور کسانوں کے لیے اراکین کی تجاویز پر شکریہ ادا کرتے ہوئے،  وزیر اعظم نے گزشتہ 10 سالوں میں کسانوں کے لیے زراعت کو منافع بخش بنانے کے لیے ، حکومت کی کوششوں کا ذکر کیا۔ انہوں نے قرض، بیج، سستی کھاد، فصل کے بیمہ، کم سے کم امدادی قیمت پر خریداری کو یقینی بنانے کا ذکر کیا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ’’ہم نے کسانوں کو بیج سے لے کر مارکیٹ تک، ہر مرحلے پر مائیکرو پلاننگ کے ذریعے ایک مربوط  نظام فراہم کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے‘‘۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے کسان کریڈٹ کارڈ کے فوائد پر روشنی ڈالی اور کہا کہ اس نے چھوٹے کسانوں کے لیے قرض حاصل کرنے کے عمل کو آسان بنا دیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کسان کریڈٹ کارڈ کے فوائد،  ماہی گیروں اور مویشیوں کے رکھوالوں تک پہنچائے گئے ہیں۔ وزیر اعظم نے چھوٹے کسانوں کے لیے فلاحی اسکیموں کا بھی تذکرہ کیا اور وزیر اعظم کسان سمان ندھی پر روشنی ڈالی،  جس سے 10 کروڑ کسانوں کو فائدہ ہوا ہے اور گزشتہ 6 سالوں میں تقریباً 3 لاکھ کروڑ روپے تقسیم کیے گئے ہیں۔ وزیر اعظم نے پچھلی حکومتوں میں قرض معافی کی اسکیموں کی ناکافی اور ساکھ کی کمی کی بھی نشاندہی کی اور موجودہ حکومت کی کسان کلیان اسکیموں کو اجاگر  کیا۔

حزب اختلاف  کے واک آؤٹ کے بعد اپنی تقریر جاری رکھتے ہوئے ، وزیراعظم نے ایوان کے چیئرمین سے اظہار ہمدردی کیا اور کہا کہ ’’میں عوام کا خادم ہونے کا پابند ہوں۔ میں اپنے وقت کے ہر ایک منٹ کے لیے لوگوں کے سامنے جوابدہ ہوں۔‘‘ انہوں نے ایوان کی روایات کی توہین کرنے پر اپوزیشن کو تنقید کا نشانہ بھی بنایا۔

وزیر اعظم نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ ان کی حکومت نے غریب کسانوں کو کھادوں کے لیے 12 لاکھ کروڑ روپے کی سبسڈی دی، جو آزادی کے بعد سب سے زیادہ ہے۔ جناب مودی نے کہا کہ کسانوں کو بااختیار بنانے کے لیے،  ان کی حکومت نے نہ صرف کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی) میں ریکارڈ اضافہ کا اعلان کیا ، بلکہ ان سے خریداری کے ضمن میں بھی نئے ریکارڈ بنائے۔ پچھلی حکومت سے موازنہ کرتے ہوئے، انہوں نے روشنی ڈالی کہ ان کی حکومت نے گزشتہ 10 سالوں میں دھان اور گندم کے کسانوں کو 2.5 گنا زیادہ رقم فراہم کی ہے۔ ’’ہم یہاں رکنا نہیں چاہتے۔ اگلے پانچ سالوں کے لیے ہم نئے شعبوں میں پیدا ہونے والے مسائل کا مطالعہ کرکے ان کو حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہم نے فی الحال خوراک کو ذخیرہ کرنے کی دنیا کی سب سے بڑی مہم چلائی ہے،‘‘ انہوں نے کہا کہ مرکزی انتظامات کے تحت اناج  ذخیرہ کرنے کی  لاکھوں  اکائیاں بنانے کے لیے کام شروع ہو گیا ہے۔

وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ باغبانی، زراعت کا ایک اہم شعبہ ہے اور ان کی حکومت اس کے محفوظ ذخیرہ، نقل و حمل اور فروخت کے لیے بنیادی ڈھانچے  کو وسعت دینے کے لیے انتھک محنت کر رہی ہے۔

وزیر اعظم نے زور دے کر کہا کہ ’’حکومت نے سب کا ساتھ،  سب کا وکاس کے بنیادی منتر کے ساتھ،  ہندوستان کے ترقی کے سفر کے دائرہ کار کو مسلسل وسعت دی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ شہریوں کو باوقار زندگی فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ یہ بتاتے ہوئے کہ آزادی کے بعد کئی دہائیوں تک نظر انداز کیے جانے والوں کی نہ صرف دیکھ بھال کی جاتی ہے،  بلکہ آج ان کی پوجا بھی کی جاتی ہے، وزیر اعظم نے ’دیویانگ‘ بھائیوں اور بہنوں کے مسائل کو مشن موڈ اور مائیکرو لیول پر حل کرنے کا ذکر کیا،  تاکہ وہ اپنی زندگی  اس طرح پروقار طور پر گزار سکیں،  جس میں دوسروں پر کم سے کم انحصار کی ضرورت ہوتی ہے۔ اپنی حکومت کی جامع نوعیت کو اجاگر کرتے ہوئے، جناب مودی نے اس بات پر زور دیا کہ اس نے سماج کے ایک بھولے ہوئے طبقے، خواجہ سراؤں کے لیے ایک قانون نافذ کرنے کے لیے کام کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آج مغربی ممالک بھی ہندوستان کی ترقی پسند فطرت کو فخر سے دیکھتے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ ا ن کی حکومت نے اب  باوقار پدم ایوارڈز خواجہ سراؤں کو بھی عطا کیے ہیں۔

اسی طرح خانہ بدوش اور نیم خانہ بدوش برادریوں کے لیے ایک ویلفیئر بورڈ بنایا گیا ہے۔ وزیر اعظم نے خاص طور پر کمزور قبائلی گروپس (پی وی ٹی جی) کے لیے   کئے گئے اقدامات کا بھی ذکر کیا،  کیونکہ جن من اسکیم کے تحت 24 ہزار کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ حکومت ووٹ کی سیاست کے بجائے ترقی کی سیاست کر رہی ہے۔

وزیراعظم نریندر مودی نے ہندوستان کے وشوکرماؤں کے بارے میں بھی بات کی،  جنہوں نے ہندوستان کی ترقی کے سفر میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے  بتایا کہ حکومت نے تقریباً 13 ہزار کروڑ کی مدد سے پیشہ ورانہ مہارت پیدا کرکے اور ہنر مندی کے فروغ کے لیے وسائل فراہم کرکے،  ان کی زندگیوں کو بدل دیا ہے۔ انہوں نے پی ایم سواندھی اسکیم کا بھی تذکرہ کیا ، جس نے خوانچہ فروشوں کو بینک قرض حاصل کرنے اور اپنی آمدنی میں مزید اضافہ کرنے کے قابل بنایا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’’خواہ وہ غریب ہوں، دلت ہوں، پسماندہ طبقہ  سےہوں، قبائلی ہوں یا خواتین، انہوں نے ہمارا بھرپور ساتھ دیا ہے‘‘۔

وزیر اعظم نے خواتین کی قیادت میں ترقی کے ہندوستانی نقطہ نظر کو اجاگر کیا ، جس کے تئیں  ملک صرف ایک نعرے کے طور پر ہی  نہیں بلکہ غیر متزلزل عزم کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔ خواتین کی صحت سے متعلق محترمہ سدھا مورتی کی مداخلت کا حوالہ دیتے ہوئے ، وزیراعظم نریندر مودی نے خاندان میں ماں کی اہمیت کو واضح  کیا۔ جناب مودی نے خواتین کی صحت، صفائی ستھرائی اور تندرستی پر ترجیحی توجہ کا ذکر کیا۔ انہوں نے اس سمت میں کلیدی اقدامات کے طور پر بیت الخلاء، سینیٹری پیڈ، ویکسی نیشن، کھانا پکانے والی گیس کا ذکر کیا۔ انہوں نے روشنی ڈالی کہ 4 کروڑ گھر، جو غریبوں کے حوالے کیے گئے ہیں ، ان میں سے زیادہ تر خواتین کے نام پر رجسٹرڈ ہیں۔ انہوں نے مدرا اور سوکنیا سمردھی یوجنا جیسی اسکیموں کا بھی تذکرہ کیا جنہوں نے خواتین کو معاشی طور پر بااختیار بنایا ہے اور انہیں فیصلہ سازی کا حصہ بننے کے لیے آواز دی ہے۔ جناب مودی نے بتایا کہ اب تک چھوٹے گاؤں میں،  ذاتی مدد کے گروپوں  میں کام کرنے والی ایک  کروڑ خواتین،  آج لکھ پتی دیدی بن چکی ہیں ، جبکہ حکومت موجودہ مدت میں ان کی تعداد میں 3 کروڑ تک اضافہ کرنے پر کام کر رہی ہے۔

جناب نریندر مودی نے امید ظاہر کی کہ ان کی حکومت کی کوشش ہے کہ خواتین کو ہر نئے شعبے میں آگے بڑھایا جائے اور ہر نئی ٹیکنالوجی کو سب سے پہلے خواتین تک پہنچانے کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے مزید کہا  کہ ’’آج نمو ڈرون دیدی ابھیان کو دیہاتوں میں کامیابی کے ساتھ نافذ کیا گیا ہے،  جس میں خواتین سب سے آگے ہیں۔‘‘ وزیراعظم نریندر مودی نے مزید کہا کہ ڈرون چلانے والی خواتین کو ’پائلٹ دیدی‘ کہا جاتا ہے اور اس طرح کی پہچان خواتین کے لیے ایک ترغیب ہے۔

خواتین کے مسائل پر سیاست کرنے کے رجحان اور منتخب رویہ پر تنقید کرتے ہوئے،  وزیر اعظم نے مغربی بنگال میں خواتین کے خلاف تشدد پر تشویش کا اظہار کیا۔

ملک کی نئی عالمی تصویر کو اجاگر کرتے ہوئے،  وزیر اعظم نے کہا کہ آج ’ اگر اور  لیکن‘ کا دور ختم ہو گیا ہے کیونکہ بھارت غیر ملکی سرمایہ کاری کا خیرمقدم کر رہا ہے،  جو اس کے نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع کی راہ ہموار کر رہے ہیں اور بین الاقوامی پلیٹ فارم پر اپنی صلاحیتوں اور ٹیلنٹ کو بھی ظاہر کر رہے ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ہندوستان کی آج کی جیت نے ان سرمایہ کاروں کے لیے امید پیدا کی ہے،  جو عالمی معیشت میں توازن کے منتظر ہیں۔ جناب مودی نے کہا کہ آج جب شفافیت کی بات آتی ہے،  تو بھارت ایک امید افزا مقام  کے طور پر ابھر رہا ہے۔

وزیر اعظم نے 1977 کے لوک سبھا انتخابات کے وقت کو یاد کیا جب پریس اور ریڈیو کو بند کر دیا گیا تھا اور لوگوں کی آوازوں کو خاموش کر دیا گیا تھا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ رائے دہندگان نے، ہندوستان کے آئین کی حفاظت اور جمہوریت کو دوبارہ قائم کرنے کے لیے ووٹ دیا، جب کہ آج آئین کو بچانے کی اس لڑائی میں ہندوستان کے عوام کی پہلی پسند موجودہ حکومت ہے۔ جناب مودی نے ایمرجنسی کے دوران قوم پر ڈھائے جانے والے مظالم کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے 38 ویں، 39 ویں اور 42 ویں آئینی ترامیم کے ساتھ ایک درجن دیگر شقوں کا بھی ذکر کیا جن میں ایمرجنسی کے دوران ترامیم کی گئی تھیں اورجس سے آئین کی روح کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی گئی تھی۔ جناب مودی نے قومی مشاوراتی کونسل (این اے سی) کی تقرری کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا ، جو  کابینہ کے فیصلوں کو نظر انداز کرنے کا اختیار رکھتی تھی  اور قائم کردہ پروٹوکول سے قطع نظر ایک ہی خاندان کے ساتھ ترجیحی سلوک کیا جاتا تھا۔ وزیر اعظم  نریندر مودی نے ، ایمرجنسی کے دور پر بحث سے بچنے کے لیے،  اپوزیشن کی جانب سے استعمال کیے جانے والے شاطرانہ  طریقوں پر بھی تنقید کی۔

وزیر اعظم نے کہا  کہ ’’ایمرجنسی کا دور صرف ایک سیاسی مسئلہ نہیں تھا،  بلکہ یہ ہندوستان کی جمہوریت، آئین اور انسانیت سے متعلق تھا‘‘۔ اُس وقت کے حزب اختلاف کے  لیڈروں پر ڈھائے جانے والے مظالم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے، جنہیں سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا گیا تھا، جناب مودی نے آنجہانی جناب  جئے پرکاش نارائن جی کا ذکر کیا جو رہائی کے بعد پوری طرح صحت یاب بھی  نہیں ہو سکے تھے۔ ایمرجنسی کے دوران مظفر نگر اور ترکمان گیٹ میں اقلیتوں کی حالت  زار کی یاددہانی کراتے ہوئے ، وزیر اعظم نے گہرے دکھ  کے ساتھ کہا کہ ’’بہت سے لوگ جو گھر چھوڑ کر گئے تھے وہ ایمرجنسی کے بعد کبھی واپس  ہی نہیں آئے‘‘۔

وزیراعظم نے اپوزیشن میں بعض حلقوں کی جانب سے بدعنوانوں کو تحفظ دینے کے رجحان پر تشویش کا اظہار کیا۔ اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے چلائی جانے والی مختلف حکومتوں کی طرف سے کئے گئے مختلف گھپلوں کا ذکر کرتے ہوئے ،وزیر اعظم نے  قانون نافذ کرنے والے اداروں کے غلط استعمال  کرنے کے الزام کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے بدعنوانی کے خلاف جنگ میں دوہرے معیار پر بھی تنقید کی۔ انہوں نے پچھلی حکومتوں میں تحقیقاتی ایجنسیوں کے غلط استعمال کی مثالیں بھی بیان کیں۔ وزیراعظم نریندر  مودی نے کہا کہ بدعنوانی کے خلاف جنگ،  میرے لیے انتخابی معاملہ نہیں ہے، بلکہ یہ میرے لیے ایک مشن ہے۔ وزیر اعظم نے 2014 میں نئی ​​حکومت کی تشکیل  کے وقت غریبوں سے لگن اور بدعنوانی کے خلاف سخت کارروائی کرنے کے دوہرے وعدوں کی یاد دہانی  کرائی۔ اس کا اظہار دنیا کی سب سے بڑی غریب فلاحی اسکیم اور بدعنوانی کے خلاف نئے قوانین، کالا دھن، بے نامی اور براہ راست فائدہ کی منتقلی کی دفعات اور ہر اہل مستفید کو فوائد کی منتقلی کو یقینی بنانا جیسے بدعنوانی کے خلاف قوانین سے ہوتا ہے۔  وزیراعظم نے زور دے کر کہا کہ میں نے تفتیشی اداروں کو بدعنوانوں کے خلاف کارروائی کی مکمل مہلت دی ہے۔

حالیہ پیپر لیکس پر صدر جمہوریہ کی تشویش کا اعادہ کرتے ہوئے،  وزیراعظم نے نوجوانوں کو یقین دلایا کہ ان کی حکومت ، ہمارے ملک کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کر رہی ہے اور انہیں سزا سے محروم نہیں ہونے دے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’’ہم پورے نظام کو مستحکم  کر رہے ہیں تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ ہمارے نوجوانوں کو کسی قسم کے شکوک و شبہات میں نہ رہنا پڑے اور وہ  اپنی صلاحیتوں کو پراعتماد طریقے سے ظاہر کریں۔‘‘

جموں و کشمیر میں حالیہ لوک سبھا انتخابات کے ووٹنگ کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے، وزیر اعظم نے کہا کہ مرکز کے زیر انتظام علاقے کے لوگ، بڑی تعداد میں ووٹ ڈالنے کے لیے باہر آئے ہیں، جس نے گزشتہ چار دہائیوں کا ریکارڈ توڑ دیا ہے۔ انہوں نے اس منشور  کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ’’جموں و کشمیر کے لوگوں نے ہندوستان کے آئین، اس کی جمہوریت اور انتخابی کمیشن کو منظوری دی ہے۔ جناب مودی نے اسے اس ملک کے شہریوں کے لئے ایسا لمحہ قرار دیا جس کا طویل مدت سے انتظار تھا۔ مرکز کے زیر انتظام  علاقے کے رائے دہندگان کو مبارکباد دیتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ گزشتہ چند دہائیوں میں متعدد بندوں، احتجاجوں، دھماکوں اور دہشت گردی کی سرگرمیوں نے ، جموں و کشمیر میں جمہوریت کو گرہن لگا دیا ہے۔ تاہم، جموں و کشمیر کے لوگوں نے آئین پر اپنے غیر متزلزل اعتماد کا مظاہرہ کیا ہے اور اپنے مستقبل کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ  ’’ایک طرح سے، ہم جموں و کشمیر میں دہشت گردی کے خلاف اپنی لڑائی کے آخری مرحلے میں ہیں۔ ہم دہشت گردی کے باقی ماندہ نیٹ ورکس کو تباہ کرنے کے لیے سخت محنت کر رہے ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ مرکز کے زیر انتظام  علاقے کے لوگ اس لڑائی میں ان کی مدد اور رہنمائی کر رہے ہیں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ شمال مشرق تیزی سے ملک کی ترقی کا گیٹ وے بن رہا ہے۔ انہوں نے گزشتہ چند سالوں میں اس سمت میں اٹھائے گئے اقدامات کو بیان کیا۔ انہوں نے شمال مشرق میں بنیادی ڈھانچے کی بے مثال ترقی کا ذکر کیا۔ انہوں نے خطے میں مستقل امن کو یقینی بنانے کی کوششوں کے دیرپا اثر کی امید بھی ظاہر کی کیونکہ ریاستوں کے درمیان سرحدی تنازعات کو بامعنی انداز میں اتفاق رائے کے ساتھ حل کیا جا رہا ہے۔

راجیہ سبھا کے پچھلے اجلاس میں منی پور کے بارے میں اپنی تفصیلی تقریر کی  یاد دہانی  کراتے ہوئے جناب مودی نے اس بات کا اعادہ کیا کہ حکومت، منی پور میں حالات کو معمول پر لانے کے لیے مسلسل کوششیں کر رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ منی پور میں بدامنی کے دوران اور اس کے بعد 11000 سے زیادہ ایف آئی آر درج کی گئی ہیں اور 500 سے زیادہ غلط کام کرنے والوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ ہمیں اس حقیقت کو تسلیم کرنا چاہیے کہ منی پور میں تشدد کے واقعات، مسلسل کم ہوتے  جا رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ منی پور میں امن کی امید ایک یقینی امکان ہے۔ جناب مودی نے ایوان کو بتایا کہ آج منی پور میں اسکول، کالج، دفاتر اور دیگر ادارے معمول کے مطابق کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بچوں کی ترقی کے سفر میں بھی کسی قسم کی رکاوٹ نہیں ڈالی گئی۔ وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ مرکزی اور ریاستی سرکاریں،  منی پور میں امن اور ہم آہنگی کو یقینی بنانے کے لیے تمام متعلقہ فریقوں کے ساتھ بات چیت کر رہی ہیں۔ انہوں نے روشنی ڈالی کہ وزیر داخلہ نے خود منی پور میں رہ کر امن کی کوششوں کی قیادت کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہاں تک کہ اعلیٰ حکام پر مسائل کا حل تلاش کرنے اور امن کو یقینی بنانے کے لیے دباؤ ڈالا گیا ہے۔

وزیر اعظم نے اس وقت منی پور میں سیلاب کی مشکل صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا۔ ایوان کو مطلع کرتے ہوئے کہ این ڈی آر ایف کی 2 کمپنیاں سیلاب سے متعلق امدادی کاموں کے لیے تعینات کی گئی ہیں، جناب مودی نے زور دے کر کہا کہ مرکزی حکومت امدادی کوششوں میں ریاستی سرکار کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔ جناب مودی نے اس بات پر زور دیا کہ منی پور میں امن  و امان کی صورت حال کو یقینی بنانے کے لیے سیاسی اور جماعتی خطوط پر عمل پیرا ہونا، تمام متعلقہ فریقین کی ذمہ داری  اور فرض ہے۔ وزیر اعظم نے منتشر افراد سے یہ بھی درخواست کی کہ وہ منی پور کی سلامتی کی صورتحال کو مزید خطرے میں ڈالنے اور اشتعال انگیزی سے باز رہیں۔ انہوں نے ایوان کو یاد دلایا کہ منی پور میں سماجی تنازعہ کی جڑیں ایک طویل تاریخ کے ساتھ منسلک ہیں، جس کی وجہ سے وہاں  آزادی کے بعد سے 10 بار صدر راج نافذ کیا جا چکا ہے۔ منی پور میں 1993 کے بعد سے، 5 سالہ طویل سماجی تنازعہ کو واضح  کرتے ہوئے، جناب مودی نے اس بات پر زور دیا کہ حالات کو عقلمندی اور صبر کے ساتھ سنبھالنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے تمام ہم خیال لوگوں کو مدعو کیا کہ وہ منی پور میں معمول اور امن کو یقینی بنانے کی کوششوں میں ان کی مدد کریں۔

وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ انہوں نے تجربے سے وفاقیت کی اہمیت کو سیکھا ہے ، کیونکہ وہ لوک سبھا میں قدم رکھنے اور ہندوستان کے وزیر اعظم بننے سے پہلے ، ریاست کے وزیر اعلیٰ تھے۔ جناب مودی نے تعاون پر مبنی اور مسابقتی وفاقیت کو مضبوط بنانے کے لیے اپنے موقف کی نشاندہی کی اور عالمی سطح پر ریاست اور اس کی صلاحیتوں کو فروغ دینے کے لیے ملک کی ہر ریاست میں اہم  جی 20 پروگراموں کے انعقاد کا ذکر کیا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ کووڈ  کے دوران ریاست اور مرکز کے اندر ریکارڈ تعداد میں بات چیت اور غور و خوض ہوا۔

یہ واضح  کرتے ہوئے کہ راجیہ سبھا ریاستوں کا ایوان ہے، وزیر اعظم نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ہندوستان سیمی کنڈکٹر اور الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ میں اگلے انقلاب کی رہنمائی کر رہا ہے اور ہندوستان کی ریاستوں کو ترقی، اچھی حکمرانی، پالیسی سازی، روزگار پیدا کرنے اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے پر مقابلہ کرنے کی ترغیب دی ہے۔   وزیر اعظم مودی نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ ہندوستان کی ہر ریاست کے پاس ایک موقع ہے،  جب دنیا ہندوستان کے دروازے پر دستک دے رہی ہے۔ انہوں نے تمام ریاستوں پر زور دیا کہ وہ ہندوستان کی ترقی کی کہانی میں اپنا حصہ رسدی کریں اور اس کے فوائد حاصل کریں۔ انہوں نے کہا کہ ریاستوں کے درمیان مقابلہ،  نوجوانوں کی بہت مدد کرے گا کیونکہ نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ انہوں نے شمال مشرق میں آسام کی مثال  بھی دی جہاں سیمی کنڈکٹرز سے متعلق کام تیز رفتاری سے ہو رہا ہے۔

سال 2023 کو اقوام متحدہ کے ذریعہ ’جوار کا سال‘ قرار دیئے جانے کے بارے میں بات کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے کہا کہ یہ ہندوستان کے چھوٹے پیمانے پر کسانوں کی طاقت کی نشاندہی کرتا ہے۔ انہوں نے ریاستوں پر زور دیا کہ وہ باجرے کی پیداوار کو فروغ دینے کے لیے پالیسیاں بنائیں اور اسے عالمی مارکیٹ میں جگہ دینے کے لیے ایک لائحہ عمل تیار کریں۔ انہوں نے یہ بھی واضح  کیا کہ جوار،  دنیا کی غذائیت کی منڈی میں ایک اہم کردار ادا کر سکتا ہے اور غذائی قلت کا شکار آبادی والے خطوں میں ایک اہم غذا بن سکتا ہے۔

وزیر اعظم نے ریاستوں کو پالیسیاں بنانے اور ایسے قوانین بنانے کی بھی ترغیب دی جو شہریوں کے درمیان ’زندگی کو آسان بنانا‘ کو بڑھاتے ہیں۔ انہوں نے ہر سطح پر بدعنوانی کے خلاف جنگ کو بلند کرنے کی ضرورت کا اظہار کیا ، چاہے وہ پنچایت، نگر پالیکا، مہانگر پالیکا، تحصیل یا ضلع پریشد ہو نیز  انہوں نے  ریاستوں کو متحد ہونے کی تلقین کی۔

ہندوستان کو 21ویں صدی کے بلیو پرنٹ میں تبدیل کرنے کے لیے حکومت کے فیصلہ سازی، ترسیل اور حکمرانی کے ماڈل میں کارکردگی کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے، وزیر اعظم نے یقین ظاہر کیا کہ ان شعبوں میں کام کی رفتار کو فروغ ملے گا۔ انہوں نے یہ بھی واضح  کیا کہ کارکردگی ، نظام میں شفافیت لاتی ہے، اس طرح شہریوں کے حقوق کا تحفظ،  زندگی کو آسان بنانے کو فروغ دیتا ہے اور  ’اگر اور لیکن‘ کو ختم کرتا ہے۔

وزیر اعظم نے شہریوں کی زندگی میں حکومت کی مداخلت کو کم کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور ان لوگوں کے لیے حکومت کی حمایت کو برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔

وزیر اعظم نے آب و ہوا کی تبدیلیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ قدرتی آفات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے تمام ریاستوں کو آگے آنے اور اس کا مقابلہ کرنے کی ترغیب دی۔ جناب مودی نے کہا کہ سب کو پینے کا پانی فراہم کرنے اور صحت کی خدمات کو اپ گریڈ کرنے کے لیے سب کو مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ یہ بنیادی اہداف،  سیاسی آمادگی کے ذریعے حاصل کیے جا سکتے ہیں اور ہر ریاست ان تک پہنچنے کے لیے آگے بڑھے گی اور تعاون کرے گی۔

اس بات کا اعادہ کرتے ہوئے کہ موجودہ صدی،  ہندوستان کی صدی ہونے جا رہی ہے، وزیر اعظم نے کہا کہ اب ہم اس موقع کو ضائع کرنے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ انہوں نے واضح  کیا کہ اسی طرح کے کئی ممالک ترقی یافتہ ہو گئے ہیں ،کیونکہ ہندوستان نے بہت سے مواقع گنوا دیئے۔ انہوں نے اصرار کیا کہ اصلاحات سے بچنے کی ضرورت نہیں ہے اور فیصلہ سازی کی زیادہ طاقت شہریوں کو منتقل ہونے کے ساتھ ہی ترقی اور نمو لازمی ہے۔

وزیر اعظم نے اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے اتحاد کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ’’وکست بھارت 140 کروڑ شہریوں کا مشن ہے‘‘۔ انہوں نے دہرایا کہ پوری دنیا ہندوستان کی صلاحیت میں سرمایہ کاری کرنے کے لئے تیار ہے اور کہا کہ ’’ہندوستان دنیا کی پہلی پسند ہے۔‘‘ انہوں نے ریاستوں کو موقع سے فائدہ اٹھانے کی تلقین کی۔

وزیر اعظم نے صدر کی رہنمائی اور اپنے خطاب میں اٹھائے گئے مسائل کا شکریہ ادا کرتے ہوئے  اپنے خطاب کا اختتام کیا۔

 

تقریر کا مکمل متن پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
‘Highly Focused’: Canada PM Mark Carney Calls PM Modi A ‘Unique Leader’ After India Visit

Media Coverage

‘Highly Focused’: Canada PM Mark Carney Calls PM Modi A ‘Unique Leader’ After India Visit
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
India – Finland Joint Statement on the State Visit of President of the Republic of Finland
March 05, 2026

At the invitation of the Hon'ble Prime Minister of India, Shri Narendra Modi, President of the Republic of Finland, H.E. Dr. Alexander Stubb, is on a State Visit to India from 4-7 March 2026. President Stubb, who is on his first visit to India in his present capacity, is visiting New Delhi and Mumbai and is accompanied by Ms. Sari Multala, Minister of Climate and the Environment of Finland, Mr. Matias Marttinen, Minister of Employment of Finland, and a high-level delegation comprising of officials and business leaders. Prime Minister Modi inaugurated the 11th edition of the Raisina Dialogue on 5 March 2026 in New Delhi with President Stubb as the Chief Guest delivering the Inaugural Keynote Address. President Stubb’s visit follows the visit of H.E. Mr. Petteri Orpo, Prime Minister of the Republic of Finland for the AI Impact Summit in February 2026.

On 5 March 2026, President Stubb was warmly welcomed by Hon’ble President of India Smt. Droupadi Murmu at Rashtrapati Bhavan. Prime Minister Modi and President Stubb held wide-ranging discussions during a bilateral meeting, and jointly addressed the media. Prime Minister Modi also hosted a luncheon in honour of the visiting dignitary.

The President of Finland congratulated India for successfully hosting the AI Impact Summit 2026. Both Leaders shared the view that working towards safe, trustworthy, and inclusive development of AI is of paramount importance.

The Leaders affirmed the deep and enduring friendship between India and Finland, built on a foundation of mutual respect and the values of democracy and rule of law, as well as commitment to global peace, security, and international law.

The Prime Minister of India and the President of Finland reiterated their commitment to the rules-based international order and multilateral cooperation, with the UN at its core.

The Leaders underlined the importance of redoubling efforts to reach the Sustainable Development Goals, and the importance of global cooperation against the challenges of climate change and loss of biodiversity.

Welcoming the landmark Free Trade Agreement between India and the European Union concluded in the India-EU Summit on 27 January 2026, the Leaders acknowledged the immense and mutually beneficial opportunities for both parties of increased trade and investments, including for the India-Finland bilateral relationship.

Building on the momentum provided by the India-Finland Virtual Summit on 16 March 2021 and the meetings of the Prime Ministers of both countries in the margins of two editions of India-Nordic Summit in 2018 and 2022 in Stockholm and Copenhagen respectively, as well as during the AI Impact Summit in February 2026, the Leaders emphasized their shared commitment to continue expanding and deepening the cooperation between the two nations. In this spirit, the leaders agreed to elevate the India-Finland relations to a Strategic Partnership in Digitalization and Sustainability, based on converging interests and mutual benefits.

Trade and Investment

The Prime Minister of India and the President of Finland called upon the business community to make use of the vast opportunities unleashed by the landmark India-EU FTA. In this context, The Leaders agreed that the aim should be to double the value of current trade between India and Finland by 2030.

The Leaders took note of the lively interactions between the respective business communities, reflected by the large business delegation visiting India together with the Finnish President, as well as the companies that joined the Finnish Prime Minister in February in connection with the AI Impact Summit in New Delhi. Both leaders expressed confidence that the India-Finland Business Summit and CEOs interaction scheduled to take place in Mumbai on 7 March would help pave the way for enhancing trade, technology collaboration and investments ties.

The Leaders welcomed the growing startup collaboration, manifested by the active participation of innovative Indian startups in Slush in Helsinki and Finnish startups in Startup Mahakumbh in New Delhi, as well as initiatives such as the Indo-Finland Startup Corridor.

Digitalization

Recognizing the transformative power of digitalization as a key driver of inclusive social and economic development, the Leaders identified digital transformation, including new and emerging technologies such as 5G, 6G, high-performance and quantum computing and Artificial Intelligence, as priority areas where collaboration based on mutual trust and benefit can be strengthened. The Leaders noted India’s experience in Digital Public Infrastructure, including digital payments such as the Unified Payments Interface (UPI), and discussed possibilities for cooperation in this area.

Against this backdrop, the Leaders asked the relevant ministries to establish a cross-sectoral Joint Working Group on Digitalization to define priorities and foster work on concrete and substantial actions driving the digital transition.

The Finnish President emphasized the positive impact of the considerable number of Indian professionals in the Finnish R&D and tech innovation ecosystems, contributing to social and economic development by means of digital transition and sustainability for the benefit of all.

The Leaders noted with satisfaction the Joint Calls by the Indian Department of Science and Technology and Business Finland to provide RDI funding for joint initiatives of Indian and Finnish companies and research organizations with focus on semiconductors, 6G, and energy systems. They also took note of the cooperation framework between Bharat 6G Alliance and the University of Oulu, Finland, welcoming all efforts to further strengthen bilateral collaboration on 6G.

Furthermore, the Leaders welcomed the work between the Indian Ministry of Electronics and Information Technology and Business Finland to further explore avenues of RDI collaboration with special focus on AI, noting also the discussions between the Indian Centre for Development of Advanced Computing and the Finnish IT Centre for Science with respect to High-Performance Computing.

In the field of advanced technology, the Leaders also highlighted Space tech as an emerging area of collaboration with considerable future potential and active private sector engagement between Indian and Finnish players.

Sustainability

On sustainability, both Leaders underlined the great potential in advancing clean energy solutions, notably in areas such as low carbon transition, energy efficiency, biofuels, smart grids, and green hydrogen. In addition, they highlighted the importance of cooperation in circular economy, sustainable water management and meteorology.

To this end, the Leaders welcomed the establishment of a Joint Working Group on Sustainability, bringing together relevant actors from both countries to enhance collaboration on sustainability-related issues.

Moreover, the Leaders underscored the importance of implementing the Memorandum of Understanding on Cooperation in the field of Renewable Energy, encompassing many key areas of collaboration that contribute to sustainability, including bioenergy and waste-to-energy solutions, power storage and flexible RE systems, green hydrogen, as well as wind, solar and small hydro power.

They acknowledged the renewal of the Memorandum of Understanding on Environmental Cooperation, and collaboration under the Leadership Group for Industry Transition (LeadIT) and encouraged the parties to advance the deeper collaboration in circular economy, climate action, and sustainability.

Both sides acknowledged that the rapid deployment of Smart Energy solutions, including Advanced Metering Infrastructure (AMI) and other digital grid technologies, has enhanced efficiency while increasing cybersecurity risks to critical power infrastructure. They agreed to explore future areas of cooperation in promoting resilient, reliable and sustainable smart grid systems.

The Finnish President extended his appreciation to India for hosting the next World Circular Economy Forum in the later part of 2026, a Finnish initiative providing a platform to enhance circular economy solutions and bring together leading expertise in the search for new collaborative initiatives.

The Prime Minister of India acknowledged Finland’s active role in bringing together Indian, Finnish and other Nordic stakeholders in the framework of the Indo-Nordic Water Forum, promoting new collaborations and best practices in water resources management and wastewater management for circular economy solutions.

With respect to meteorological collaboration, the Leaders underscored the ongoing cooperation in aerosol monitoring and air quality forecasting between the Finnish Meteorological Institute (FMI) and the Indian Meteorological Department (IMD). They welcomed the work to establish a Virtual Research Center between FMI and the Indian Institute of Technology Madras (IITM), also taking note of the already ongoing FMI-IITM research collaboration with multilateral projects exceeding a total value of Euros 11 million.

The Leaders also took note of the exchange of experiences between the Indian Ministry of Rural Development and the National Land Survey of Finland and the Finnish Environment Institute, cities, and companies about Land Stack, an integrated GIS based digital platform of land and property information.

The Leaders welcomed the signing of Memorandum of Understanding on fostering cooperation in the field of Official Statistics which provides a framework for exchange of best practices, methodologies, and technical expertise in the area of official statistics.

Mobility, education, and people-to-people contacts

The Prime Minister of India and the President of Finland recognized the importance of people-to-people contacts in all fields, including skilled workers, specialists and young professionals, researchers and students, businesspersons, and academics, thereby nurturing economic prosperity, contributing to a rich social fabric, and enhancing mutual understanding.

In this context, the Leaders hailed the signing of a Memorandum of Understanding on Migration and Mobility Partnership, laying the frameworks for smooth, orderly, and mutually beneficial mobility for the years to come. Both sides agreed to take the steps required for the implementation of the MoU in a comprehensive and coordinated manner, that serves both India’s and Finland’s prosperity and economic growth. The Leaders also acknowledged the contacts between the respective Foreign Ministries, looking into possibilities of establishing bilateral dialogue on consular matters.

The Leaders took note of the Joint Statement endorsed by the High-Level Dialogue on Cooperation in Education (31 January 2024) and encouraged the relevant parties to accelerate their joint efforts to advance the common agenda, focusing on the agreed areas of secondary education, higher education, skill development, and student mobility.

In this context, they noted the growing interest in India towards the Finnish education system, the increasing cooperation in teacher training, as well as early childhood education institutions and schools that are being set up according to the Finnish model, as concrete expressions of the stakeholders’ shared will and commitment to continue developing the collaboration on education.

Furthermore, the Leaders highlighted the discussions on a bilateral audiovisual co-production agreement that will provide a solid frame to enhance cooperation in the film and gaming industries.

India-EU-relations

Both Leaders welcomed the new Joint India-EU Comprehensive Strategic Agenda, endorsed in the India-EU Summit on 27 January 2026, based on shared values and principles, mutual trust, converging interests, and shared political will. They agreed that India and the EU can be stable, predictable, and trusted partners, building a multifaceted and deepening long-term relationship with many positive outcomes for both sides.

The Leaders underlined that the conclusion of Free Trade Agreement takes the India-EU relations to a new level. In addition to clear economic benefits by enhancing market access and removing trade barriers, both Leaders noted that the FTA could support economic security and resilience through diversifying critical value chains and opening new markets.

As a platform to address key trade, technology, and economic security issues, the Leaders reaffirmed their support to further enhance the work of the India-EU Trade and Technology Council as the cornerstone of the India-EU technology partnership.

The Prime Minister of India and the President of Finland underscored that the signing of India-EU Security and Defense Partnership added another meaningful dimension to the India-EU Strategic Partnership that will deepen co-operation in areas of shared interests, including maritime security, defense industry, cyber and hybrid threats, space, as well as counter-terrorism.

The leaders lauded the signing of the MoU on Comprehensive Framework of Cooperation on Mobility and the launch of pilot European Union Legal Gateway Office in India.

Multilateral cooperation

The Leaders recognized the need to reform the UN system. In this context, they emphasized the importance of a comprehensive reform of the UN Security Council to make it more efficient, representative, inclusive, and reflective of contemporary geopolitical realities. The President of Finland reiterated Finland’s support for the permanent membership of India in a reformed UNSC.

The leaders underscored the vital role of cooperation within the United Nations and other international bodies to safeguard multilateralism and uphold a rules-based international order, including supporting mutual candidacies and nominations.

Both sides agreed to continue their constructive cooperation in multilateral fora, including on peace and security, human rights, sustainable development as well as climate change and biodiversity.

The Leaders reiterated their shared commitment to promoting a free, open, peaceful and prosperous Indo‑Pacific, in accordance with international law, including the UNCLOS. In this context, India welcomed Finland to join the Indo-Pacific Oceans Initiative.

Both leaders reaffirmed their commitment to further strengthening cooperation and dialogue on Arctic matters, including through joint research initiatives, academic exchanges, and capacity-building programmes. They took note of the first India–Finland Arctic Dialogue titled "The Himalayan and Arctic Ecosystems: India–Finland Partnership for a Sustainable Future” held in January 2026 in Rovaniemi, Finland, which brought together parliamentarians, government officials, academics and experts to deliberate on strategies and pathways for deepening collaboration on Arctic matters. Both leaders also underscored the importance of advancing cooperation in the structures of the Arctic Council, and within the broader framework of the India-Nordic Summit.

Both leaders unequivocally and strongly condemned terrorism and violent extremism in all its forms and manifestations, including cross-border terrorism. They called for decisive and concerted international efforts to combat terrorism in a comprehensive and sustained manner and in accordance with international law. They agreed to enhance cooperation to counter violent radicalization and extremism, combat financing of terrorism, promote internationally agreed anti‑money laundering standards, prevent exploitation of new and emerging technologies for terrorist purposes, and tackle terrorist recruitment. The leaders reaffirmed strong commitment to continue taking active measures to disrupt the terror financing channels including at the UN and FATF. They condemned in the strongest terms the terrorist attack in Pahalgam, Jammu and Kashmir on 22 April 2025 and the terror incident near Red Fort, New Delhi on 10 November 2025.

Both Leaders agreed to continue to support efforts towards the achievement of a comprehensive, just, and lasting peace in Ukraine through dialogue and diplomacy, based on the principles of the UN Charter and international law, including independence, sovereignty, and territorial integrity.

Conclusion

To take forward the cooperation under the India-Finland Strategic Partnership in Digitalization and Sustainability, the Leaders asked the respective Working Groups on Digitalization and Sustainability to develop a future-oriented and concrete Action Plan, including definition of priority areas and related actions, and report back to the Ministry for Foreign Affairs of the Republic of Finland and the Ministry of External Affairs of the Republic of India on the progress achieved.

The President of Finland thanked the Prime Minister of India for the excellent arrangements during his state visit, and both Leaders expressed their appreciation of the open and constructive dialogue, and the forward-reaching and evolving cooperation. They agreed to continue their interaction with a solid foundation in a shared spirit of mutual respect and collaboration. President Stubb invited Prime Minister Modi to pay a visit to Finland, and Prime Minister Modi accepted the invitation.