Terrorists had shaken Mumbai and the entire country. But it is India's strength that we recovered from that attack and are now crushing terrorism with full courage: PM Modi
26th November is very important. On this day in 1949, the Constituent Assembly adopted the Constitution of India: PM Modi
When there is 'Sabka Saath' in nation building, only then 'Sabka Vikas': PM Modi
In India today, it's evident that the 140 crore people are driving numerous changes: PM Modi
The success of 'Vocal For Local' is opening the doors to a developed India: PM Modi
This is the second consecutive year when the trend of buying goods by paying cash on Diwali is decreasing. People are making more and more digital payments: PM Modi
In contrast to a decade ago, our patents are now receiving approvals at a rate that is tenfold higher: PM Modi
One of the biggest challenges of the 21st century is – ‘Water Security’. Conserving water is no less than saving life: PM Modi

میرے پیارے ہم وطنو، نمسکار! من کی بات میں آپ کا خیر مقدم ۔  لیکن، ہم  26 نومبر  کے اِس دن کو کبھی نہیں بھلاسکتے۔ یہ وہی دن  ہے   ، جب ملک پر زبردست دہشت گردانہ حملہ کیا گیا تھا ۔ دہشت گردوں نے پورے ملک کے ساتھ ممبئی کو بھی ہلا کر رکھ دیا تھا لیکن یہ بھارت کا حوصلہ ہے،  جس نے ہمیں آزمائش سے باہر نکالا ۔ اب ہم پورے حوصلے کے ساتھ دہشت گردی پر قابو پا رہے ہیں۔ میں  ، ان تمام لوگوں کو خراج عقیدت پیش کرتا ہوں  ، جنہوں نے ممبئی حملے میں اپنی جانیں گنوائیں۔ آج ملک  ، ان بہادر   لوگوں کو یاد  کر  رہا ہے ، جنہوں نے حملے کے دوران  اپنی عظیم قربانیاں  پیش کیں۔

میرے  پریوار جنوں ، آج کا دن، 26 نومبر ایک اور  وجہ سے بہت اہم ہے۔   1949  ء میں  آج ہی کے دن    ،  آئین ساز اسمبلی نے بھارت کے آئین کو منظور کیا تھا اور اسے  اختیار کیا تھا۔ مجھے یاد ہے… سال  2015  ء میں، جب ہم بابا صاحب امبیڈکر کی 125 ویں یوم پیدائش منا رہے تھے،  میرے ذہن میں ایک خیال آیا کہ 26 نومبر کو یوم آئین کے طور پر منایا جائے اور تب سے ہم ہر سال  ، اس دن کو یوم آئین کے طور پر منارہے ہیں۔ میں یوم آئین کے موقع پر  ، تمام ہم وطنوں کو نیک خواہشات پیش کرتا ہوں۔  ہم مل کر یقینی طور پر شہریوں کے فرائض کو ترجیح دیتے ہوئے ایک ترقی یافتہ بھارت کا عزم حاصل کریں گے۔

ساتھیو ، ہم سب جانتے ہیں کہ آئین کو وجود میں آنے میں 2 سال 11 مہینے اور 18 دن لگے۔ آئین ساز اسمبلی کے سب سے پرانے رکن جناب سچیدانند سنہا جی تھے۔ ہمارے آئین کا مسودہ 60 سے زائد ممالک کے آئین کے قریبی مطالعہ  اور طویل غور و خوض کے بعد تیا ر کیا گیا ۔ مسودہ تیار کرنے کے بعد، حتمی ڈھانچہ  مکمل کئے جانے   سے پہلے، اس میں 2000 سے زیادہ ترامیم شامل کی گئیں۔  1950 ء میں آئین کے نافذ ہونے کے بعد سے آج تک آئین میں کل 106 ترامیم کی جا چکی ہیں۔ وقت، حالات اور ملک کے تقاضوں کے مطابق مختلف حکومتوں نے مختلف اوقات میں ترامیم کیں لیکن یہ بھی ایک بدقسمتی رہی ہے کہ آئین کی پہلی ترمیم تقریر اور اظہارِ رائے کی آزادی کو ختم کرنے سے متعلق تھی ،  جب کہ 44ویں ترمیم کے ذریعے ایمرجنسی کے دوران سرزد ہونے والی غلطیاں درست کر دی گئیں۔

ساتھیو، یہ بات پھر سے متاثر کن ہے کہ آئین ساز اسمبلی کے انہی ارکان میں سے  ، جن کو نامزد کیا گیا تھا، 15 خواتین تھیں۔ ایسی ہی ایک رکن ہنسا مہتا جی تھیں، جنہوں نے خواتین کے حقوق اور انصاف کے لیے آواز بلند کی۔ اس عرصے کے دوران، بھارت اُن ممالک میں سے ایک تھا  ، جس کے آئین نے خواتین کو ووٹنگ کے حقوق فراہم کیے تھے۔ قوم کی تعمیر کے عمل میں اجتماعی ترقی سب کے تعاون سے ہی ممکن ہے۔ یہ میرے لیے انتہائی اطمینان کی بات ہے کہ آئین کے بنانے والوں کی دور اندیشی کی تعمیل میں، بھارت کی پارلیمنٹ نے  ، اب ناری شکتی وندن  ادھینیم  پاس کیا ہے۔ ناری شکتی وندن ادھینیم ، سنکلپ شکتی کی ایک مثال ہے،  جو جمہوریت کے عزم کی قوت  ہے ۔ اس سے ترقی یافتہ بھارت کے ہمارے عزم کو پورا کرنے کی رفتار کو تقویت ملے گی۔

میرے پریوار جنوں ، جب عوام بڑے پیمانے پر قوم کی تعمیر کی ذمہ داری سنبھالیں گے تو دنیا کی کوئی طاقت اس ملک کو آگے بڑھنے سے نہیں روک سکتی۔ آج بھارت میں صاف نظر آرہا ہے کہ ملک کے 140 کروڑ عوام کی قیادت میں بہت سی تبدیلیاں آ رہی ہیں۔ ہم نے اس کی براہ راست مثال ، اس تہوار کے موسم میں دیکھی ہے۔ پچھلے مہینے ’ من کی بات ‘ میں میں نے ’ ووکل فار لوکل‘ یعنی مقامی مصنوعات خریدنے پر زور دیا تھا۔ گزشتہ چند دنوں میں   ملک میں دیوالی، بھیا دوج اور چھٹھ پر  4 لاکھ کروڑ روپئے سے زیادہ کا   کاروبار ہوا اور اس  عرصے کے دوران  ، لوگوں میں بھارت میں بنی اشیاء کی خریداری میں زبردست جوش و خروش دیکھا گیا۔ اب تو ہمارے بچے بھی دکان پر کچھ خریدتے وقت یہ دیکھنا شروع کر دیتے ہیں کہ ان پر میڈ اِن انڈیا  لکھا ہے یا نہیں ۔ اتنا ہی نہیں، آج کل لوگ آن لائن سامان کی خریداری کے دوران کنٹری آف اوریجن کو چیک کرنا نہیں بھولتے۔

ساتھیو، جس طرح  ’سووچھ بھارت ابھیان ‘  کی کامیابی  ایک تحریک بن  گئی ہے ، اسی طرح ’ ووکل فار لوکل ‘   کی کامیابی  ’ ایک  ترقی یافتہ بھارت - خوشحال بھارت ‘  کے دروازے کھول رہی ہے۔   ’ووکل فار لوکل‘ کی یہ مہم پورے ملک کی معیشت کو مضبوط کرتی ہے۔ ووکل فار لوکل مہم روزگار کی ضمانت ہے۔ یہ ترقی کی ضمانت ہے۔ یہی ملک کی متوازن ترقی کی ضمانت ہے۔ یہ شہری اور دیہی دونوں لوگوں کو یکساں مواقع فراہم کرتا ہے۔ اس سے مقامی مصنوعات میں ویلیو ایڈیشن کی راہ بھی ہموار ہوتی ہے اور اگر کبھی عالمی معیشت میں اتار چڑھاؤ آتے ہیں تو مقامی کے لیے ووکل کا منتر ہماری معیشت کو بھی تحفظ فراہم کرتا ہے۔

ساتھیو، بھارتی مصنوعات کے تئیں یہ جذبہ صرف تہواروں تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ اب شادیوں کا سیزن بھی شروع ہو چکا ہے۔ کچھ تجارتی اداروں کا اندازہ ہے کہ شادی کے اس سیزن میں تقریباً 5 لاکھ کروڑ روپئے کا کاروبار ہو سکتا ہے۔ شادیوں کی خریداری کرتے وقت، آپ سب کو صرف بھارت میں بنی مصنوعات کو اہمیت دینی چاہیے اور ہاں، جب سے شادی کا موضوع آیا ہے، ایک بات مجھے کافی عرصے سے پریشان کر رہی ہے… اور اگر میں اپنے دل کا درد اپنے گھر والوں کے سامنے نہ کھولوں تو اور کس سے کروں؟ ذرا غور کریں… ان دنوں کچھ خاندانوں کی طرف سے بیرون ملک جا کر شادیاں کرنے کا ایک نیا ماحول بنایا جا رہا ہے۔ کیا یہ سب ضروری ہے؟ اگر ہم بھارتی سرزمین پر شادیوں کی خوشیاں بھارت کے لوگوں کے درمیان منائیں گے تو ملک کا پیسہ ملک میں ہی رہے گا۔ آپ کی شادی میں ملک کے لوگوں کو کوئی نہ کوئی خدمت کرنے کا موقع ملے گا… غریب لوگ بھی اپنے بچوں کو اس موقع کے بارے میں بتائیں گے۔ کیا آپ  ’ ووکل فار لوکل ‘  کے اس مشن کو آگے بڑھا سکتے ہیں؟ ہم اپنے ملک میں شادی کی ایسی تقریبات کیوں نہیں منعقد کرتے؟ ممکن ہے  ، جس طرح کا نظام آپ چاہتے ہیں  ، آج وہ نہ ہو لیکن اگر ہم اس قسم کی تقریبات منعقد کریں گے تو نظام بھی ترقی کرے گا۔ یہ بڑے  خاندانوں سے متعلق موضوع ہے۔ مجھے امید ہے کہ میرا یہ درد  ، ان بڑے خاندانوں تک ضرور پہنچے گا۔

میرے  پریوار جنو ، اس تہوار کے موسم میں ایک اور بڑا رجحان دیکھا گیا ہے۔ یہ لگاتار دوسرا سال ہے  ، جب دیوالی کے موقع پر نقد ادائیگی کے ذریعے کچھ سامان خریدنے کا رجحان بتدریج کم ہو رہا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ لوگ اب زیادہ سے زیادہ ڈیجیٹل ادائیگیاں کر رہے ہیں۔ یہ بھی بہت حوصلہ افزا ہے۔ آپ ایک اور کام کر سکتے ہیں۔ خود فیصلہ کریں کہ ایک ماہ کے لیے آپ صرف  یو پی آئی  یا کسی بھی ڈیجیٹل میڈیم کے ذریعے ادائیگی کریں گے نہ کہ  نقد ۔ بھارت میں ڈیجیٹل انقلاب کی کامیابی نے یہ  سب ممکن بنا دیا ہے اور جب ایک مہینہ گزر جائے تو براہ کرم اپنے تجربات اور اپنی تصاویر مجھ سے شیئر کریں۔ میں آپ کو ابھی سے پیشگی نیک خواہشات پیش کرتا ہوں۔

میرے  پریوار جنو ، ہمارے نوجوان ساتھیوں نے ملک   کو ایک اور اہم خوشخبری سنائی ہے، جس سے ہم سب کا سر فخر سے بلند ہو جائے گا ۔ ’’ ذہانت، تخیل  اور اختراع‘‘ آج بھارتی نوجوانوں کی پہچان ہے۔ ٹیکنالوجی کے امتزاج کے ذریعے  ، ان کی دانشورانہ خصوصیات میں مسلسل اضافہ - یہ اپنے آپ میں ملک کی صلاحیت کو بڑھانے میں پیش رفت کا ایک اہم پہلو ہے۔ آپ کو یہ جان کر خوشی ہوگی کہ 2022 ء میں بھارتیوں کی جانب سے پیٹنٹ کی درخواستوں میں  31  فی صد سے زیادہ کا اضافہ ہوا ہے۔  دانشورانہ املاک کی عالمی تنظیم نے ایک انتہائی دلچسپ رپورٹ جاری کی ہے۔ یہ رپورٹ ظاہر کرتی ہے کہ پیٹنٹ فائل کرنے میں سب سے آگے رہنے والے ٹاپ 10 ممالک میں بھی ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا۔ میں اپنے نوجوان ساتھیوں کو  ،  اس شاندار کامیابی پر مبارکباد دیتا ہوں۔ میں اپنے نوجوان ساتھیوں کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ ملک ہر قدم پر آپ کے ساتھ ہے۔ حکومت کی طرف سے کی گئی انتظامی اور قانونی اصلاحات کے بعد  ، آج ہمارے نوجوان نئی توانائی کے ساتھ بڑے پیمانے پر اختراعات میں مصروف ہیں۔ اگر  10 سال پہلے کے اعداد و شمار سے موازنہ کیا جائے تو  آج، ہمارے پیٹنٹ کو 10 گنا زیادہ  تیزی سے منظوری مل رہی ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ پیٹنٹ نہ صرف ملک کی دانشورانہ املاک میں اضافہ کرتے ہیں ، بلکہ ان سے  نئے مواقع کے دروازے بھی کھلتے ہیں۔ یہی نہیں، یہ ہمارے اسٹارٹ اَپس کی طاقت اور صلاحیت کو بھی بڑھاتا ہے۔ آج ہمارے اسکول کے بچوں میں بھی جدت پسندی کے جذبے کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ اٹل ٹنکرنگ لیب، اٹل انوویشن مشن، کالجوں میں انکیوبیشن سینٹر، اسٹارٹ اپ انڈیا مہم ، اسی طرح کی انتھک کوششوں کے نتائج   ہم وطنوں کے سامنے ہیں۔ یہ بھی بھارت کی نوجوان  قوت کی  ایک واضح مثال ہے : بھارت کی اختراعی قوت ۔  اس  جوش  و جذبے کے ساتھ آگے بڑھتے ہوئے، ہم ایک ترقی یافتہ بھارت کے خواب کو حاصل کریں گے اور اسی لیے میں بار بار کہتا ہوں،  ’ جے  جوان-جے  کسان ‘ ، ’ جے  وگیان-جے  انوسندھان ‘ ۔

میرے پیارے ہم وطنو، آپ کو یاد ہوگا کہ کچھ عرصہ پہلے  ، میں نے  ’ من کی بات ‘  میں بھارت میں بڑے پیمانے پر میلوں کے انعقاد کے بارے میں بات کی تھی۔ پھر ایک مقابلے کا خیال بھی ذہن میں آیا  ، جس میں لوگ میلوں سے متعلق تصاویر شیئر کریں گے۔  ثقافت کی وزارت نے  ، اسی سلسلے میں  ایک میلہ  مومنٹ مقابلہ منعقد کیا تھا۔ آپ کو یہ جان کر خوشی ہوگی کہ اس میں ہزاروں لوگوں نے شرکت کی اور بہت سے لوگوں نے انعامات بھی جیتے ۔ کولکاتہ کے رہنے والے راجیش دھارجی نے چرک میلہ میں غبارے اور کھلونے بیچنے والے کی اپنی حیرت انگیز تصویر کے لیے ایوارڈ جیتا۔ یہ میلہ بنگال  کے دیہی علااقوں میں بہت مشہور ہے۔ انوپم سنگھ جی کو وارانسی میں ہولی کی نمائش کے لیے میلا پورٹریٹ ایوارڈ ملا۔ ارون کمار نلی میلاجی کو ’کلاسائی دسہرہ ‘ سے متعلق ایک پرکشش پہلو دکھانے پر  ایوارڈ سے نوازا گیا۔ اسی طرح سب سے زیادہ پسند کی جانے والی تصویر میں پنڈھارپور کی عقیدت کو ظاہر کرنے والی ایک تصویر بھی شامل تھی، جسے مہاراشٹر کے جناب رال جی نے بھیجا تھا۔ اس مقابلے میں میلوں کے دوران مقامی پکوانوں کی بہت سی تصویریں نظر آئیں۔ اس میں پرولیا کے رہنے والے آلوک اویناش جی کی تصویر نے ایوارڈ جیتا ہے۔ انہوں نے ایک میلے کے دوران بنگال کے دیہی علاقوں کے کھانے کی نمائش کی تھی۔ پرنب بساک جی کی ایک تصویر، جس میں خواتین بھگوریا تہوار کے دوران قلفی سے لطف اندوز ہو رہی ہیں، کو بھی  ایوارڈ سے نوازا گیا۔ رومیلا جی نے چھتیس گڑھ کے جگدل پور میں ایک گاؤں کے میلے میں بھجیا چکھنے والی خواتین کی تصویر بھیجی تھی - جسے ایوارڈ  سے نوازا گیا۔

ساتھیو، ’من کی بات‘ کے ذریعے، میں آج ہر گاؤں، ہر اسکول، ہر پنچایت سے درخواست کرتا ہوں کہ اس طرح کے مقابلے باقاعدگی سے منعقد کریں۔ آج کل سوشل میڈیا کی  قوت بہت وسیع ہے ،  ٹیکنالوجی اور موبائل ہر گھر تک پہنچ چکے ہیں۔ آپ کے مقامی تہوار ہوں یا  مصنوعات ، آپ ان کے ذریعے بھی انہیں  دنیا تک پہنچا  سکتے ہیں۔

ساتھیو، جس طرح ہر گاؤں میں میلوں کا انعقاد ہوتا ہے، اسی طرح یہاں کے مختلف رقص  کی بھی اپنی الگ وراثتی پہچان  ہیں۔ جھارکھنڈ، اڈیشہ اور بنگال کے قبائلی علاقوں میں ایک بہت مشہور رقص ہے  ، جسے  ’ چھاؤ ‘  کہا جاتا ہے۔ سری نگر میں 15 سے 17 نومبر تک ’ایک بھارت  شریشٹھ بھارت‘ کے جذبے کے ساتھ ’چھاؤ‘ میلے کا انعقاد کیا گیا۔ اس پروگرام میں سب نے  ’ چھاؤ ‘   رقص  کا لطف اٹھایا۔ سری نگر کے نوجوانوں کو  ’ چھاؤ ‘  رقص کی تربیت دینے کے لیے ایک ورکشاپ کا بھی اہتمام کیا گیا۔ اسی طرح کٹھوعہ ضلع میں چند ہفتے قبل  ’ بسوہلی اتسو ‘  کا انعقاد کیا گیا تھا۔ یہ جگہ جموں سے 150 کلومیٹر دور ہے۔ اس تہوار میں مقامی فن، لوک رقص اور روایتی رام لیلا کا اہتمام کیا گیا۔

ساتھیو، بھارتی ثقافت کا حسن سعودی عرب میں بھی  محسوس  کیا جاتا ہے ۔ اس ماہ سعودی عرب میں  ’ سنسکرت اتسو ‘ کے نام سے ایک تقریب منعقد ہوئی۔ یہ اپنے آپ میں منفرد تھا کیونکہ پورا پروگرام سنسکرت میں تھا۔ مکالمے، موسیقی، رقص، سب کچھ سنسکرت میں، جس میں مقامی لوگوں  نے بھی شرکت کی ۔

میرے  پریوار جنو ، ’  سووچھ بھارت ‘ اب پورے ملک کا پسندیدہ موضوع بن گیا ہے۔ یقیناً یہ میرا  بھی پسندیدہ موضوع ہے اور جیسے ہی مجھے اس سے متعلق کوئی خبر ملتی ہے، میرا ذہن اس کی طرف مرکوز ہوجاتا ہے اور یہ فطری بات ہے کہ  ’ من کی بات ‘  میں اس کا ذکر ضرور  ہوتا ہے۔ سووچھ بھارت ابھیان نے صفائی اور عوامی حفظان صحت کے حوالے سے لوگوں کی ذہنیت کو بدل دیا ہے۔ آج یہ پہل قومی جذبے کی علامت بن گئی ہے، جس سے کروڑوں ہم وطنوں کی زندگیوں میں بہتری آئی ہے۔ اس مہم نے زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں  ، خصوصاً نوجوانوں کو اجتماعی شرکت کی ترغیب دی ہے۔ ایسی ہی ایک قابل ستائش کوشش سورت میں دیکھنے میں آئی ہے۔ نوجوانوں کی ایک ٹیم نے وہاں ’پروجیکٹ سورت‘ شروع کیا ہے۔ اس کا مقصد سورت کو ایک ماڈل شہر بنانا ہے  ، جو صفائی  ستھرائی اور پائیدار ترقی کی ایک بہترین مثال بن جائے۔ اس کوشش کے تحت، جس کا آغاز ’صفائی سنڈے ‘ کے نام سے ہوا تھا، سورت کے نوجوان   ،  اس سے پہلے عوامی مقامات اور ڈوماس بیچ کی صفائی کیا کرتے تھے۔ بعد میں ان لوگوں نے خلوصِ دِل سے  تاپی دریا کے کناروں کی صفائی  میں حصہ لیا اور آپ کو یہ جان کر خوشی ہوگی کہ کچھ ہی عرصے میں اس سے وابستہ افراد کی تعداد 50 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔ لوگوں سے ملنے والے تعاون سے ٹیم کے اعتماد میں اضافہ ہوا  ، جس کے بعد انہوں نے کچرا اٹھانے کا کام بھی شروع کر دیا۔ آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ اس ٹیم نے لاکھوں کلو کچرا صاف کیا ہے۔ نچلی سطح پر کی جانے والی  ، اس طرح کی کوششیں بڑی تبدیلیاں لا سکتی ہیں۔

ساتھیو، گجرات سے ہی ایک اور خبر سامنے آئی  ہے ۔ چند ہفتے پہلے امباجی میں ’ بھدراوی پونم میلے ‘ کا انعقاد کیا گیا تھا۔ اس میلے میں 50 لاکھ سے زیادہ لوگ آئے تھے۔ یہ میلہ ہر سال لگتا ہے۔ اس کا سب سے نمایاں پہلو یہ تھا کہ میلے میں آنے والے لوگوں نے گبّر پہاڑی  کے ایک بڑے حصے میں صفائی مہم  کا انعقاد کیا ۔ مندروں کے آس پاس کے پورے علاقے کو صاف رکھنے کی یہ مہم بہت متاثر کن ہے۔

ساتھیو، میں ہمیشہ کہتا ہوں کہ صفائی ایک دن یا ایک ہفتے کی مہم نہیں ہے بلکہ  یہ زندگی بھر نافذ کرنے کی کوشش ہے۔ ہم اپنے ارد گرد ایسے لوگوں کو بھی دیکھتے ہیں  ، جنہوں نے اپنی پوری زندگی صفائی سے متعلق مسائل کے لیے وقف کر رکھی ہے۔ تمل ناڈو کے کوئمبٹور میں رہنے والے لوگناتھن جی  منفرد شخصیت ہیں ۔ بچپن میں وہ اکثر غریب بچوں کے پھٹے ہوئے کپڑے دیکھ کر پریشان ہو جاتے تھے۔ اس کے بعد  ، انہوں  نے ایسے بچوں کی مدد کرنے کا عزم کیا اور اپنی کمائی کا ایک حصہ  ، انہیں عطیہ کرنا شروع کردیا۔ جب پیسے کی کمی تھی تو لوگناتھن جی نے بیت الخلا بھی صاف کئے  تاکہ ضرورت مند بچوں کی مدد کی جا سکے۔ وہ گزشتہ 25 سالوں سے پوری لگن کے ساتھ  ، اس کام میں مصروف ہیں اور اب تک 1500 سے زائد بچوں کی مدد کر چکے ہیں۔ میں ایک بار پھر ایسی کوششوں کو سراہتا ہوں۔ ملک بھر میں ہونے والی ایسی بہت سی کوششیں نہ صرف ہمیں حوصلہ دیتی ہیں بلکہ کچھ نیا کرنے کا  حوصلہ بھی   دیتی ہیں۔

میرے پریوار جنو ، 21ویں صدی کے سب سے بڑے چیلنجوں میں سے ایک  ’  آبی  سکیورٹی ‘  ہے۔ پانی کو بچانا زندگی بچانے سے کم نہیں ہے ۔ جب ہم اجتماعیت کے اس جذبے کے ساتھ کوئی بھی کام کرتے ہیں تو ہمیں کامیابی بھی ملتی ہے۔ اس کی ایک مثال ملک کے ہر ضلع میں بنایا جا رہا  ’ امرت سروور ‘ ہے۔ ’امرت مہوتسو‘ کے دوران بھارت نے  ، جو 65 ہزار سے زیادہ ’امرت سروور‘ تیار کیے ہیں  ، ان سے آنے والی نسلوں کو فائدہ ہوگا۔ اب یہ ہماری ذمہ داری بھی بنتی ہے کہ جہاں جہاں امرت سروور بنائے گئے ہیں، ان کی باقاعدگی سے دیکھ بھال کی جائے تاکہ وہ پانی کے تحفظ کا اہم ذریعہ  بنے رہیں۔

ساتھیو، پانی کے تحفظ پر اس طرح کے مباحثے کے درمیان؛ مجھے گجرات کے امریلی میں منعقد ہونے والے ’ جل اتسو ‘  کے بارے میں معلوم ہوا۔ گجرات میں بارہ ماسی بہنے والے دریاؤں کی بھی کمی ہے، اس لیے لوگوں کو زیادہ تر بارش کے پانی پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔ پچھلے 20-25 سالوں میں حکومت اور سماجی تنظیموں کی کوششوں کے بعد  ، وہاں کے حالات میں تبدیلی آئی ہے اور اس لیے وہاں  ’جل اتسو ‘  کا بڑا کردار ہے۔ امریلی میں منعقد ’جل اتسو‘ کے دوران ’پانی کے تحفظ‘ اور جھیلوں کے تحفظ کے بارے میں لوگوں میں بیداری بڑھانے کی کوششیں کی گئیں۔ اس  کے تحت واٹر اسپورٹس کو بھی فروغ دیا گیا اور آبی تحفظ کے ماہرین کے ساتھ غور و فکر بھی کیا گیا ۔  اس پروگرام میں  شرکت کرنے والوں نے پانی کے ترنگے فواروں کو بہت پسند کیا ۔ یہ واٹر فیسٹیول سورت کے ہیروں کے کاروبار میں اپنا نام بنانے والے ساؤجی بھائی ڈھولکیا کی فاؤنڈیشن نے منعقد کیا تھا۔ میں  ، اس میں شامل تمام لوگوں کو مبارکباد دیتا ہوں اور پانی کے تحفظ کے لیے ، اسی طرح کے کام کرنے کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتا ہوں۔

میرے پریوار جنو ، آج کل اسکل ڈیولپمنٹ کی اہمیت کو پوری دنیا میں پذیرائی مل رہی ہے۔ جب ہم کسی کو کوئی ہنر سکھاتے ہیں، تو ہم نہ صرف اس شخص کو وہ ہنر دیتے ہیں ، بلکہ  ہم آمدنی کا ذریعہ بھی فراہم کرتے ہیں اور جب مجھے معلوم ہوا کہ ایک تنظیم گزشتہ چار دہائیوں سے اسکل ڈیولپمنٹ کے کام میں مصروف ہے تو مجھے اور بھی اچھا لگا۔ یہ  ادارہ آندھرا پردیش  کے سری کاکولم میں ہے اور اس کا نام ’بیلجی پورم یوتھ کلب‘ ہے۔ ہنر کی ترقی پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے، ’بیلجی پورم یوتھ کلب‘ نے تقریباً 7000 خواتین کو بااختیار بنایا ہے۔ ان میں سے زیادہ تر خواتین آج کوئی نہ کوئی کام خود کر رہی ہیں۔ اس تنظیم نے چائلڈ لیبر میں پھنسے بچوں کو کوئی نہ کوئی ہنر سکھا کر  ، اس چکر سے نکلنے میں بھی مدد کی ہے۔ ’بیلجی پورم یوتھ کلب‘ کی ٹیم نے فارمر پروڈیوسر آرگنائزیشنز یعنی ایف پی اوز سے وابستہ کسانوں کو نئے ہنر بھی سکھائے، جس نے کسانوں کی ایک بڑی تعداد کو بااختیار بنایا ہے۔ یہ یوتھ کلب ہر گاؤں میں صفائی ستھرائی کے حوالے سے بیداری بھی پھیلا رہا ہے، اس نے کئی بیت الخلاء کی تعمیر میں بھی مدد کی ہے۔ میں ہنر کے فروغ کے لیے  ، اس تنظیم سے وابستہ تمام لوگوں کو مبارکباد  پیش کرتا ہوں اور ان کی ستائش کرتا ہوں۔ آج ملک کے ہر گاؤں میں اسکل ڈیولپمنٹ کے لیے ایسی اجتماعی کوششوں کی ضرورت ہے۔

ساتھیو  ، جب کسی مقصد کے لیے اجتماعی کوشش ہوتی ہے تو کامیابی کا درجہ بھی بلند ہوجاتا ہے۔ میں آپ سب کے ساتھ لداخ کی ایک متاثر کن مثال شیئر کرنا چاہتا ہوں۔ پشمینہ شال کے بارے میں آپ نے یقیناً سنا ہوگا۔ لداخی پشمینہ کا بھی کچھ عرصے سے کافی چرچا ہو رہا ہے۔ لداخی پشمینہ ’لومز آف لداخ‘ کے نام سے دنیا بھر کے بازاروں میں پہنچ رہی ہے۔ آپ کو یہ جان کر حیرانی ہوگی کہ 15  گاؤوں  کی 450 سے زائد خواتین  ، ان کی بنائی میں شامل ہیں۔ پہلے وہ اپنی مصنوعات  ، وہاں آنے والے سیاحوں کو ہی فروخت کرتی تھیں ۔ لیکن اب ڈیجیٹل انڈیا کے اس دور میں ان کی بنائی ہوئی مصنوعات ملک اور دنیا کے مختلف بازاروں میں پہنچنا شروع ہو گئی ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ ہمارا لوکل اب گلوبل ہو رہا ہے اور اس کی وجہ سے  ، ان خواتین کی کمائی  میں بھی  اضافہ ہو رہا ہے۔

ساتھیو، خواتین کی  قوت کی کامیابیوں کی ایسی کہانیاں  ،  ملک کے کونے کونے میں موجود ہیں۔ ایسی مثالوں کو زیادہ سے زیادہ سامنے لانے کی ضرورت ہے اور یہ بات بتانے کے لیے ’من کی بات‘ سے بہتر اور کیا ہو سکتا ہے؟ تو آپ بھی  ، اس طرح کی مثالیں میرے ساتھ زیادہ سے زیادہ شیئر کریں۔ میں بھی انہیں آپ تک پہنچانے کی پوری کوشش کروں گا۔

میرے  پریوار جنو ،  ’من کی بات ‘ میں ہم ایسی اجتماعی کوششوں پر بات کر رہے ہیں  ، جن سے معاشرے میں بڑی تبدیلیاں  آئی ہیں۔ ’من کی بات‘ کی ایک اور کامیابی یہ ہے کہ اس نے ریڈیو کو ہر گھر میں مقبول بنا دیا ہے۔  مائی گوو  پر، مجھے اتر پردیش میں امروہہ کے رام سنگھ بودھ جی کا ایک خط  موصول ہوا ہے۔ رام سنگھ جی پچھلی کئی دہائیوں سے ریڈیو سیٹ جمع کرنے کے کام میں مصروف ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’ من کی بات ‘ کے بعد  ، ان کے ریڈیو میوزیم کے بارے میں لوگوں کا تجسس مزید بڑھ گیا ہے۔ اسی طرح ’من کی بات‘ سے متاثر ہو کر احمد آباد کے قریب تیرتھ دھام پریرنا تیرتھ نے ایک دلچسپ نمائش کا اہتمام کیا ہے۔ بھارت اور بیرون ملک سے 100 سے زیادہ قدیم ریڈیو یہاں دکھائے جاتے ہیں۔ یہاں، ’من کی بات‘ کے اب تک کے تمام  ایپی سوڈ  سنے جا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ  ، اور بھی بہت سی مثالیں ہیں، جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ لوگ کس طرح ’من کی بات‘ سے متاثر ہوئے اور اپنا کاروبار شروع کیا۔ ایسی ہی ایک مثال کرناٹک کے چام راج نگر کی ورشا جی کی ہے، جنہوں نے ’ من کی بات ‘  سے متاثر ہو کر اپنے پیروں پر کھڑے ہو نے  کی کوشش کی ۔ اس پروگرام کی ایک قسط سے متاثر ہو کر  ، انہوں  نے کیلے سے نامیاتی کھاد بنانے کا کام شروع کیا۔ ورشا جی کی  اس  پہل سے ، جو فطرت سے بے حد پیار کرتے ہیں، دوسرے لوگوں کے لیے بھی روزگار کے مواقع  پیدا ہوئے ہیں۔

میرے  پریوار جنو ، کل 27 نومبر کو ، کارتک پورنیما کا تہوار ہے۔ اس دن ’دیو دیوالی‘ بھی منائی جاتی ہے اور  میں ہمیشہ  کاشی کی ’ دیو دیوالی ‘ کو دیکھنے کی خواہش رکھتا ہوں ۔ اس  مرتبہ میں کاشی نہیں جا سکوں گا لیکن میں  ’ من کی بات ‘ کے ذریعے بنارس کے لوگوں کو اپنی نیک خواہشات ضرور بھیج رہا ہوں۔ اس بار بھی کاشی کے گھاٹوں پر لاکھوں چراغ جلیں گے۔ ایک عظیم الشان آرتی ہو گی۔ ایک لیزر شو ہوگا ،  بھارت اور بیرون ملک سے لاکھوں لوگ  ’ دیو دیوالی ‘  سے لطف اندوز ہوں گے۔

ساتھیو، کل پورے چاند کے دن، گرو نانک دیو جی کا پرکاش پرو بھی ہے۔ گرو نانک جی کے قیمتی پیغامات  ، آج بھی نہ صرف بھارت بلکہ پوری دنیا کے لیے متاثر کن اور مفید ہیں۔ وہ ہمیں سادگی  ، ہم آہنگی  اور دوسروں کے لیے وقف ہونے کی  تحریک دیتے ہیں۔ پوری دنیا میں ہمارے سکھ بھائی اور بہنیں خدمت کے جذبے اور خدمت  پر عمل در آمد کرنے کے بارے میں گرو نانک دیو جی کی تعلیمات پر عمل کرتے نظر آتے ہیں۔ میں  ’ من کی بات  ‘کے تمام سننے والوں کو گرو نانک دیو جی کے  ’ پرکاش پرو  ‘ پر اپنی نیک خواہشات پیش کرتا ہوں۔

میرے  پریوار جنو ،  ’من کی بات ‘ میں ، اِس وقت اتنا ہی ۔ بہرحال، 2023  رفتہ رفتہ اپنے اختتام کی طرف بڑھ رہا ہے اور ہر بار کی طرح، میں اور آپ بھی سوچ رہے ہیں کہ دیکھو... یہ سال اتنی جلدی گزر گیا۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ یہ سال بھارت کے لیے بے پناہ کامیابیوں کا سال رہا ہے اور بھارت کی کامیابیاں ہر بھارتی کی کامیابی ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ ’من کی بات‘ بھارتیوں کی ایسی کامیابیوں کو اجاگر کرنے کا ایک طاقتور ذریعہ بن گیا ہے۔ اگلی بار ہم  ، آپ سے اپنے ہم وطنوں کی بہت سی کامیابیوں کے بارے میں پھر بات کریں گے۔ تب تک میں آپ سے رخصت لیتا ہوں۔

بہت بہت شکریہ ۔

نمسکار۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

Explore More
لال قلعہ کی فصیل سے 77ویں یوم آزادی کے موقع پر وزیراعظم جناب نریندر مودی کے خطاب کا متن

Popular Speeches

لال قلعہ کی فصیل سے 77ویں یوم آزادی کے موقع پر وزیراعظم جناب نریندر مودی کے خطاب کا متن
UPI payment: How NRIs would benefit from global expansion of this Made-in-India system

Media Coverage

UPI payment: How NRIs would benefit from global expansion of this Made-in-India system
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
سوشل میڈیا کارنر، 21 فروری 2024
February 21, 2024

Resounding Applause for Transformative Initiatives: A Glimpse into PM Modi's Recent Milestones