وزیر اعظم پلانا، بیکانیر میں 26,000 کروڑ روپے سے زیادہ کے متعدد ترقیاتی منصوبوں کا سنگ بنیاد رکھیں گے، افتتاح کریں گے اور قوم کو وقف کریں گے
منصوبوں میں ریلوے، روڈ ویز، بجلی، پانی، نئی اور قابل تجدید توانائی کے شعبے شامل ہیں
وزیر اعظم ہندوستان کی 18 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے 86 اضلاع میں 103 نئے سرے سے تیار کردہ امرت اسٹیشنوں کا افتتاح کریں گے

وزیر اعظم جناب نریندر مودی 22 مئی کو راجستھان کا دورہ کریں گے۔ وہ بیکانیر کا سفر کریں گے اور تقریباً 11 بجے دیشنوک میں کرنی ماتا کے مندر میں درشن کریں گے۔

اس کے علاوہ صبح تقریباً 11:30 بجے، وزیر اعظم امرت بھارت اسٹیشن اسکیم کے تحت دوبارہ تیار کیے گئے دیشنوک اسٹیشن کا افتتاح کریں گے اور بیکانیر-ممبئی ایکسپریس ٹرین کو جھنڈی دکھائیں گے۔ اس کے بعد، وہ 26,000 کروڑ روپے سے زیادہ کے متعدد ترقیاتی پروجیکٹوں کا سنگ بنیاد رکھیں گے، افتتاح کریں گے  اور قوم کے نام وقف کریں گے اور پلانا  میں ایک عوامی جلسے سے بھی خطاب کریں گے۔

ملک میں ریل کے بنیادی ڈھانچے کو مسلسل بہتر بنانے اور بڑھانے کے اپنے عزم کے مطابق، وزیر اعظم ہندوستان کی 18 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے 86 اضلاع میں 1,100 کروڑ روپے سے زیادہ کی لاگت سے تیار کردہ 103 دوبارہ ترقی یافتہ امرت اسٹیشنوں کا افتتاح کریں گے۔ امرت بھارت اسٹیشن اسکیم کے تحت علاقائی فن تعمیر کی عکاسی کرنے اور مسافروں کی سہولیات کو بڑھانے کے لیے 1,300 سے زیادہ اسٹیشنوں کی جدید سہولیات کے ساتھ تعمیر نو کی جارہی ہے۔ دیشنوک ریلوے اسٹیشن، دیگر مسافروں کے علاوہ یاتریوں اور سیاحوں کی خدمت کرتا ہے ، بالخصوص ان کی جو کرنی ماتا مندر میں درشن کے لیے آتے ہیں، مندر کا فن تعمیر اور محراب اور کالم تھیم سے متاثر ہے۔ تلنگانہ میں بیگم پیٹ ریلوے اسٹیشن ککاتیہ  عہد کے فن تعمیر سے متاثر ہے۔ بہار کے تھاوے اسٹیشن میں مختلف دیواروں اور فن پاروں کو شامل کیا گیا ہے جو کہ 52 شکتی پیٹھوں میں سے ایک اور مدھوبنی کی پینٹنگز کی عکاسی کرتے ہوئے ما تا تھاوے والی کی نمائندگی کرتاہے۔ گجرات کا ڈاکور اسٹیشن رنچھوڑ رائے جی مہاراج سے متاثر ہے۔ ہندوستان بھر میں ازسر نو تعمیر کیے گئے امرت اسٹیشن جدید انفراسٹرکچر کو ثقافتی ورثے کے ساتھ مسافروں پر مرکوز سہولیات بشمول دیویانگ (معذورین) کے لیے اور سفری تجربے کو بڑھانے کے لیے پائیدار طریقوں سے مربوط کرتے ہیں۔

ہندوستانی ریلوے اپنے نیٹ ورک کی 100فیصد برقی کاری کی طرف گامزن ہے، جس سے ریلوے کی کارروائیوں کو زیادہ موثر اور ماحول دوست بنایا جا رہا ہے۔ اس کے مطابق، وزیر اعظم چورو-سادولپور ریل لائن (58 کلومیٹر) کا سنگ بنیاد رکھیں گے اور سورت گڑھ-پھلودی (336 کلومیٹر) کو قوم کے نام وقف کریں گے۔ پھولیرا-دیگانا (109 کلومیٹر)؛ ادے پور-ہمت نگر (210 کلومیٹر)؛ پھلودی-جیسلمیر (157 کلومیٹر) اور سمداری-باڑمیر (129 کلومیٹر) ریل لائن کی   برقی کاری شامل ہے۔

ریاست میں سڑک کے بنیادی ڈھانچے کو ایک بڑے فروغ میں، وزیر اعظم گاڑیوں کے 3 انڈر پاسوں کی تعمیر، قومی شاہراہوں کو چوڑا اور مضبوط بنانے کے لیے سنگ بنیاد رکھیں گے۔ وہ راجستھان میں روڈ ویز کے 7 پروجیکٹوں کو بھی قوم کے نام وقف کریں گے۔ 4850 کروڑ روپے سے زیادہ مالیت کے روڈ ویز پروجیکٹس، سامان اور لوگوں کی آسانی سے نقل و حرکت میں سہولت فراہم کریں گے۔ یہ شاہراہیں بھارت- پاکستان  سرحد تک پھیلی ہوئی ہیں، جو سیکورٹی فورسز کے لیے رسائی کو بڑھاتی ہیں اور ہندوستان کے دفاعی ڈھانچے کو مضبوط کرتی ہیں۔

سب کے لیے بجلی اور گرین اینڈ کلین انرجی کے وژن کو آگے بڑھاتے ہوئے، وزیر اعظم بیکانیر اور ڈڈوانا کچمن کے ناوا میں سولر پروجیکٹس، اور پاور پارٹ بی پاور گرڈ سروہی ٹرانسمیشن لمیٹڈ اور پارٹ ای پاور گرڈ میوار ٹرانسمیشن لمیٹڈ کے انخلاء کے لیے ٹرانسمیشن سسٹمز سمیت پاور پروجیکٹوں کا سنگ بنیاد رکھیں گے۔ پاور گرڈ نیمچ اور بیکانیر کمپلیکس سے، فتح گڑھ-II پاور اسٹیشن میں تبدیلی کی صلاحیت میں اضافہ جو صاف توانائی فراہم کرے گا اور کاربن کے اخراج کو کم کرے گا۔

وزیر اعظم راجستھان میں بنیادی ڈھانچے، کنیکٹیویٹی، بجلی کی فراہمی، صحت کی خدمات اور پانی کی دستیابی کو بڑھانے کے لیے راجستھان بھر میں ریاستی حکومت کے 25 اہم پروجیکٹوں کا سنگ بنیاد رکھیں گے، افتتاح کریں گے اور انہیں  قوم کے نام وقف کریں گے۔ ان میں سنگ بنیاد رکھنا اور 3,240 کروڑ روپے سے زیادہ مالیت کی 750 کلومیٹر سے زیادہ کی کل لمبائی پر محیط 12 ریاستی شاہراہوں کو اپ گریڈ کرنے اور برقرار رکھنے کے منصوبوں کا قوم کو وقف کرنا شامل ہے۔ پروگرام کے تحت مزید توسیع میں اضافی 900 کلومیٹر نئی ہائی ویز شامل ہیں۔ وزیر اعظم بیکانیر اور ادے پور میں بجلی کے منصوبوں کا افتتاح کریں گے۔ وہ راجسمند، پرتاپ گڑھ، بھیلواڑہ، دھول پور میں نرسنگ کالجوں کا بھی افتتاح کریں گے جو ریاست میں صحت کے بنیادی ڈھانچے کو بڑھانے میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔ وہ اس خطہ میں پانی کے مختلف بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کا بھی سنگ بنیاد رکھیں گے اور قوم کے نام وقف کریں گے جن میں جھنجھنو ضلع میں دیہی پانی کی فراہمی اور فلوروسس مٹیگیشن پروجیکٹ، امرت 2.0 کے تحت پالی ضلع کے 7 قصبوں میں شہری پانی کی فراہمی کی اسکیموں کی تنظیم نو، اور دیگر منصوبے شامل ہیں۔

 

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
India's strong growth outlook intact despite global volatility: Govt

Media Coverage

India's strong growth outlook intact despite global volatility: Govt
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Prime Minister urges MPs to vote in favour of Nari Shakti Vandan Adhiniyam Amendment, Calls it Historic Opportunity
April 17, 2026

The Prime Minister, Shri Narendra Modi, has highlighted that a discussion is currently underway in Parliament on the amendment to the Nari Shakti Vandan Adhiniyam, noting that deliberations continued till 1 AM last night.

He stated that all misconceptions surrounding the amendment have been addressed with logical responses, and every concern raised by members has been resolved. The Prime Minister added that necessary information, wherever lacking, has also been provided to all members, ensuring that issues of opposition have been clarified.

Emphasising that the issue of women’s reservation has witnessed political debates for nearly four decades, the Prime Minister said that the time has now come to ensure that women, who constitute half of the country’s population, receive their rightful representation.

He observed that even after decades of independence, the low representation of women in the decision-making process is not appropriate and needs to be corrected.

The Prime Minister informed that voting in the Lok Sabha is expected shortly and urged all political parties to take a thoughtful and sensitive decision by voting in favour of the women’s reservation amendment.

Appealing on behalf of the women of the country, he urged all Members of Parliament to ensure that no action hurts the sentiments of Nari Shakti. He noted that crores of women are looking towards the Parliament, its intent, and its decisions.

The Prime Minister called upon MPs to reflect upon their families-mothers, sisters, daughters, and wives—and listen to their inner conscience while making the decision.

He described the amendment as a significant opportunity to serve and honour the women of the nation and urged members not to deprive them of new opportunities.

Expressing confidence, the Prime Minister said that if the amendment is passed unanimously, it will further strengthen Nari Shakti as well as the country’s democracy.

Calling it a historic moment, he urged all members to come together to create history by granting rightful representation to women, who form half of India’s population.

The Prime Minister wrote on X;

“संसद में इस समय नारीशक्ति वंदन अधिनियम में संशोधन पर चर्चा चल रही है। कल रात भी एक बजे तक चर्चा चली है।

जो भ्रम फैलाए गए, उनको दूर करने के लिए तर्कबद्ध जवाब दिया गया है। हर आशंका का समाधान किया गया है। जिन जानकारियों का अभाव था, वो जानकारियां भी हर सदस्य को दी गई हैं। किसी के मन में विरोध का जो कोई भी विषय था, उसका भी समाधान हुआ है।

महिला आरक्षण के इस विषय पर देश में चार दशक तक बहुत राजनीति कर ली गई है। अब समय है कि देश की आधी आबादी को उसके अधिकार अवश्य मिलें।

आजादी के इतने दशकों बाद भी भारत की महिलाओं का निर्णय प्रक्रिया में इतना कम प्रतिनिधित्व रहे, ये ठीक नहीं।

अब कुछ ही देर लोकसभा में मतदान होने वाला है। मैं सभी राजनीतिक दलों से आग्रह करता हूं… अपील करता हूं...

कृपया करके सोच-विचार करके पूरी संवेदनशीलता से निर्णय लें, महिला आरक्षण के पक्ष में मतदान करें।

मैं देश की नारी शक्ति की तरफ से भी सभी सदस्यों से प्रार्थना करूंगा… कुछ भी ऐसा ना करें, जिनसे नारीशक्ति की भावनाएं आहत हों।

देश की करोड़ों महिलाओं की दृष्टि हम सभी पर है, हमारी नीयत पर है, हमारे निर्णय पर है। कृपया करके नारीशक्ति वंदन अधिनियम में संशोधन का साथ दें।”

“मैं सभी सांसदों से कहूंगा...

आप अपने घर में मां-बहन-बेटी-पत्नी सबका स्मरण करते हुए अपनी अंतरात्मा को सुनिए ...

देश की नारीशक्ति की सेवा का, उनके वंदन का ये बहुत बड़ा अवसर है।

उन्हें नए अवसरों से वंचित नहीं करिए।

ये संशोधन सर्वसम्मति से पारित होगा, तो देश की नारीशक्ति और सशक्त होगी… देश का लोकतंत्र और सशक्त होगा।

आइए… हम मिलकर आज इतिहास रचें। भारत की नारी को… देश की आधी आबादी को उसका हक दें।”

"Parliament is discussing a historic legislation that paves the way for women’s reservation in legislative bodies. The discussions, which began yesterday, lasted till around 1 AM and have continued since the House proceedings began this morning.

The Government has addressed all apprehensions and misconceptions relating to the legislation with facts and logic. All concerns have been addressed and any gaps in information have also been filled.

For nearly four decades, this issue of women’s reservation in legislative bodies has been inordinately delayed. Now is the time to ensure that half of the nation’s population receives its rightful due in decision making. Even after so many decades of Independence, it is not right that women in India have such limited representation in this area.

In a short while from now, voting will take place in the Lok Sabha. I urge and appeal to all political parties to reflect carefully and take a sensitive decision by voting in favour of women’s reservation.

On behalf of our Nari Shakti, I also request all members not to do anything that may hurt the sentiments of women across India. Crores of women are watching us…our intent and our decisions. I once again request that everyone support the amendments to the Nari Shakti Vandan Adhiniyam.”

"I would like to appeal to all Members of Parliament…

Please reflect upon your conscience, remembering the women in your own families.

The legislation to ensure women’s reservation in legislative bodies is a significant opportunity to do justice to women of our nation.

Please do not deprive our Nari Shakti of new opportunities.

If this amendment is passed unanimously, it will further empower the women of our country and strengthen our democracy.

Let us come together today to create history.

Let us ensure that the women of India, who are half of the nation’s population, receive their rightful due.”