وزیر اعظم وڈودرا میں گجرات گورَو ابھیان میں شرکت کریں گے
وزیر اعظم 21000 کروڑ روپئے کے بقدر کے ترقیاتی پروجیکٹوں کا آغاز کریں گے اور سنگ بنیاد رکھیں گے
پی ایم آواس یوجنا کے تحت 1.4 لاکھ سے زائد مکانات کا افتتاح کریں گے اور سنگ بنیاد رکھیں گے
16000 کروڑ روپئے سے زائد کے بقدر کے پروجیکٹوں کے توسط سے خطے میں ریلوے کنکٹیویٹی کو زبردست تقویت حاصل ہوگی
مختلف النوع ترقیاتی کاموں سے عوام الناس کے لیے زندگی بسر کرنا مزید آسان ہوگا
ریاست میں ماں اور بچے کی صحت کو مزید بہتر بنانے سے متعلق اسکیم کا بھی آغاز کیا جائے گا
وزیر اعظم پاواگڑھ پہاڑی پر واقع شری کالیکا ماتا کے ازسر نو تعمیر شدہ مندر کا افتتاح کریں گے

وزیر اعظم جناب نریندر مودی 17 اور 18 جون کو گجرات کا دورہ کریں گے۔ 18 جون کی صبح تقریباً 9:15 بجے، وزیر اعظم پاواگڑھ  میں شری کالیکا ماتا کے از سر نو تعمیر شدہ مندر کا  دورہ کریں گے اور اس کا افتتاح کریں گے۔ بعد ازاں موصوف تقریباً 11:30 بجے وراثت ون کا دورہ کریں گے۔ اس کے بعد تقریباً 12:30 بجے، وہ وڈودرا میں گجرات گورَو ابھیان میں شرکت کریں گے، جہاں وہ 21000 کروڑ روپئے کے بقدر کے پروجیکٹوں کا افتتاح کریں گے اور سنگ بنیاد رکھیں گے۔

گجرات گورَو ابھیان

حکومت کی مختلف اسکیموں کے مستفیدین وڈودرا میں گجرات گورَو ابھیان میں شرکت کریں گے۔ وزیر اعظم 16000 کروڑ روپئے سے زائد کے بقدر کے مختلف ریلوے پروجیکٹوں کو وقف کریں گے اور سنگ بنیاد رکھیں گے۔ ان میں کلی طور پر وقف مال بھاڑا گلیارے کے 357 کلو میٹر طویل نیو پالن پور ۔ مدار سیکشن کو قوم کے نام وقف کرنا ؛ 166 کلومیٹر طویل احمدآباد-بوٹاڈ سیکشن کی گیج تبدیلی؛ 81 کلو میٹر طویل پالن پور ۔میٹھا سیکشن کی برق کاری؛ وغیرہ شامل ہیں۔  وزیر اعظم ریلوے کے شعبہ میں دیگر پروجیکٹوں کا سنگ بنیاد رکھنے کے ساتھ ساتھ سورت، اُدھنا، سومناتھ اور سابرمتی اسٹیشنوں کی نوتجدیدکاری کے کاموں کا سنگ بنیاد بھی رکھیں گے۔ان پروجیکٹوں سے اشیاء کی نقل و حمل پر ہونے والی لاگت میں تخفیف واقع ہوگی اور خطے میں صنعتی و زرعی شعبے کو تقویت حاصل ہوگی۔ان پروجیکٹوں سے خطے میں کنکٹیویٹی میں بہتری رونما ہوگی اور مسافرین کی سہولتوں میں بھی اضافہ ہوگا۔

پردھان منتری آواس یوجنا کے تحت، وزیر اعظم کے ذریعہ مجموعی طور پر 1.38 لاکھ مکانات وقف کیے جائیں گے، جن میں شہری علاقوں میں تقریباً 1800 کروڑ روپئے کے بقدر کے مکانات اور دیہی علاقوں میں 1530 کروڑ روپئے کے بقدر کے مکانات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، 310 کروڑ روپئے سے زائد کے بقدر کے تقریباً 3000 مکانات کا کھت مہورت بھی کیا جائے گا۔

اس پروگرام کے دوران وزیر اعظم کھیڑا، آنند، وڈودرا، چھوٹا ادے پور اور پنچ محل میں 680 کروڑ روپئے سے زائد کے بقدر کے مختلف ترقیاتی کاموں کو وقف کریں گے اور سنگ بنیاد رکھیں گے۔ ان پروگراموں کا مقصد خطے میں زندگی بسر کرنا مزید آسان بنانا ہے۔

اس کے علاوہ وزیر اعظم گجرات کے دبھوئی تعلقہ کے کنڈیلا گاؤں میں گجرات سینٹرل یونیورسٹی کا سنگ بنیاد بھی رکھیں گے۔ یہ وڈودرا شہر سے تقریباً 20 کلو میٹر دور واقع ہے۔ اس یونیورسٹی کی تعمیر تقریباً 425 کروڑ روپئے کی لاگت سے کی جائے گی اور یہ 2500 سے زائد طلبا کی اعلیٰ تعلیمی  ضرورتوں کو پورے کرے گی۔

ماں اور بچے کی صحت میں بہتری پر توجہ دینے کے لیے وزیر اعظم ’مکھیہ منتری ماترو شکتی یوجنا‘ کی شروعات کریں گے۔ اس پر 800 کروڑ روپئے خرچ ہوں گے۔ اس اسکیم کے تحت آنگن واڑی مراکز سے حاملہ اور دودھ پلانے والی ماؤں کو ہر مہینے 2 کلو چنا، ایک کلو ارہر کی دال اور ایک کلو خوردنی تیل بلاقیمت فراہم کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ وزیر اعظم ’پوشن سُدھا یوجنا‘ کے لیے تقریباً 120 کروڑ روپئے بھی تقسیم کریں گے، جسے اب ریاست کے تمام قبائلی مستفیدین کو بھی فراہم کرایا جا رہا ہے۔ قبائلی اضلاع کی حاملہ اور دودھ پلانے والی ماؤں کو آئرن اور کیلشیم کی گولیاں دستیاب کرانے اور غذائیت کے بارے تعلیم دینے کے تجربہ کی کامیابی کے بعد یہ قدم اٹھایا جا رہا ہے۔

وزیر اعظم، شری کالیکا ماتا کے مندر میں

وزیر اعظم پاواگڑھ پہاڑی پر واقع شری کالیکا ماتا کے نوتعمیر شدہ مندر کا افتتاح کریں گے۔ یہ علاقے کے قدیم ترین مندروں میں سے ایک ہے اور بڑی تعداد میں زائرین کو اپنی جانب راغب کرتا ہے۔ مندر کی تعمیر نو کا کام دو مرحلوں میں کیا گیا۔ اس کے پہلے مرحلے کا افتتاح وزیر اعظم نے اس سال اپریل میں کیا تھا۔ وہیں، اس پروگرام میں دوسرے مرحلے کے تحت نوتعمیر شدہ جس حصہ کا افتتاح کیا جانا ہے، اس کا سنگ بنیاد وزیر اعظم نے 2017 میں رکھا تھا۔ اس میں تین سطحوں پر مندر کی بنیاد اور عمارت کی توسیع، اور اسٹریٹ لائٹس، سی سی ٹی وی نظام وغیرہ جیسی سہولتوں کی تنصیب شامل ہے۔

 

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
India records highest-ever startup surge with 55,200 recognised in FY26

Media Coverage

India records highest-ever startup surge with 55,200 recognised in FY26
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Cabinet approves Continuation of Pradhan Mantri Gram Sadak Yojana-III till March 2028
April 18, 2026

The Union Cabinet, chaired by the Prime Minister Shri Narendra Modi, today has given its approval for the continuation of Pradhan Mantri Gram Sadak Yojana-III (PMGSY-III) beyond March 2025 upto March 2028. It involves consolidation of Through Routes and Major Rural Links connecting habitations to Gramin Agricultural Markets (GrAMs), Higher Secondary Schools and Hospitals. The revised outlay of the scheme will be Rs.83,977 crore.

The Cabinet further, amongst other things, approved the following:

  • Extension of timeline till March 2028 for completion of roads and bridges in plain areas and roads in hilly areas.
  • Extension of timeline till March 2029 for completion of bridges in hilly areas.
  • Works sanctioned before 31.03.2025 but un-awarded till now may be taken up for tender/award.
  • Long Span Bridges (LSBs) (161 Nos. with estimated cost of Rs.961 crore) pending for sanction but lying on the alignment of already sanctioned roads may be sanctioned and tendered/awarded.
  • Revision of outlay to Rs. 83,977 crore from original outlay of Rs.80,250 crore.

Benefits:

The extension of the timeline of PMGSY-III will enable the full realization of its intended socio-economic benefits by ensuring completion of targeted upgradation of rural roads. It will significantly boost the rural economy and trade by enhancing market access for agricultural and non-farm products, reducing transportation time and costs, and thereby improving rural incomes. Improved connectivity will facilitate better access to education and healthcare institutions, ensuring timely delivery of essential services, particularly in remote and underserved areas.

The continued implementation will also generate substantial employment opportunities, both directly through construction activities and indirectly by promoting rural enterprises and services. Overall, the extension will contribute to inclusive and sustainable development by bridging the rural-urban divide and advancing the vision of Viksit Bharat 2047.