یہ 9 نئی وندے بھارت ریل گاڑیاں گیارہ ریاستوں میں کنکٹیویٹی کو تقویت بہم پہنچائیں گی
پوری، مدورائی اور تروپتی جیسے اہم مذہبی مقامات کو وندے بھارت سے مربوط کیا جائے گا
یہ اپنے راستوں پر تیز رفتار سے دوڑیں گی اور اس کے نیتجے میں مسافرین کے صرف ہونے والے وقت میں خاطر خواہ تخفیف ہوگی
یہ نئی ریل گاڑیاں مسافرین کو عالمی درجے کی سہولتیں فراہم کرائیں گی اور ساتھ ہی سیاحت کو تقویت بہم پہنچائیں گی

وزیر اعظم جناب نریندر مودی ویڈیو کانفرنسنگ کے توسط سے 24 ستمبر 2023 کو دوپہر 12:30 بجے 9 وندے بھارت ریل گاڑیوں کو جھنڈی دکھا کر رخصت کریں گے۔

یہ نئی وندے بھارت ریل گاڑیاں ملک بھر میں کنکٹیویٹی کو بہتر بنانے اور ریل مسافرین کو اعلیٰ درجے کی سہولتیں فراہم کرانے کے وزیر اعظم کے خواب کو پورا کرنے کی جانب ایک قدم ہیں۔ وہ ریل گاڑیاں جن کو جھنڈی دکھاکر رخصت کیا جائے گا، مندرذیل ہیں:

  1. اُدے پور – جے پور وندے بھارت ایکسپریس
  2. ترونیل ویلی – مدورائی- چنئی وندے بھارت ایکسپریس
  3. حیدرآباد – بنگلورو وندے بھارت ایکسپریس
  4. وجے واڑہ- چنئی (رینی گنتا سے ہوتے ہوئے) وندے بھارت ایکسپریس
  5. پٹنہ – ہاوڑا وندے بھارت ایکسپریس
  6. کاسرگوڑ – تروواننت پورم وندے بھارت ایکسپریس
  7. راؤرکیلا- بھوونیشور- پوری وندے بھارت ایکسپریس
  8. رانچی – ہاوڑا وندے بھارت ایکسپریس
  9. جام نگر- احمدآباد وندے بھارت ایکسپریس

یہ 9 ریل گاڑیاں گیارہ ریاستوں، راجستھان، تمل ناڈو، تلنگانہ، آندھراپردیش، کرناٹک، بہار، مغربی بنگال، کیرلا، اُڈیشا، جھارکھنڈ اور گجرات میں کنکٹیویٹی کو تقویت بہم پہنچائیں گی۔

یہ وندے بھارت ریل گاڑیاں اپنے راستوں پر تیز ترین رفتار سے دوڑیں گی اور مسافرین کےصرف ہونے والے وقت میں خاطر خواہ تخفیف کا باعث ثابت ہوں گی۔ فی الحال اسی راستے پر تیز ترین رفتار سے دوڑنے ریل گاڑی  کے مقابلے میں، راؤرکیلا – بھوونیشور – پوری وندے بھارت ایکسپریس اور کاسر گوڑ – ترووننت پورم وندے بھارت ایکسپریس تین گھنٹہ مزید تیز رفتار سے دوڑیں گی؛ حیدرآباد- بنگلورو وندے بھارت ایکسپریس 2.5 گھنٹہ مزید تیز رفتار سے دوڑے گی؛ ترونیل ویلی – مدورائی- چنئی وندے بھارت ایکسپریس 2 گھنٹہ مزید تیز رفتار سے دوڑے گی؛ رانچی – ہاوڑا وندے بھارت ایکسپریس، پٹنہ – ہاوڑا وندے بھارت ایکسپریس اور جام نگر – احمدآباد وندے بھارت ایکسپریس ایک گھنٹہ مزید تیزرفتار سے دوڑیں گی؛ اور اُدے پور – جے پور وندے بھارت ایکسپریس تقریباً آدھا گھنٹہ مزید تیزرفتار سے دوڑے گی۔

ملک بھر میں اہم مذہبی مقامات کی کنکٹیویٹی کو بہتر بنانے کے وزیر اعظم کے خواب سے ہم آہنگ، راؤرکیلا – بھوونیشور – پوری وندے بھارت ایکسپریس اور ترونیل ویلی – مدورائی – چنئی وندے بھارت ایکسپریس  ریل گاڑیاں پوری اور مدورائی کے اہم مذہبی شہروں کو مربوط کریں گی۔ علاوہ ازیں، وجے واڑہ- چنئی وندے بھارت ایکسپریس رینوگنتا روٹ سے ہوتے ہوئے گزرے گی اور تروپتی زائرین کے مرکز تک کنکٹیویٹی فراہم کرائے گی۔

ان وندے بھارت ریل گاڑیوں کا تعارف ملک میں ریل خدمات کے نئے معیار میں ایک نقیب ثابت ہوگا۔ یہ ریل گاڑیاں، جو عالمی درجے کی سہولتوں اور کَوَچ تکنالوجی سمیت جدید حفاظتی انتظامات  سے آراستہ ہیں،  عوام الناس، پیشہ واران، کاروباریوں، طلبا اور سیاحوں کو جدید، تیز رفتار اور آرام دہ نقل و حمل خدمات کی فراہمی کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہوں گی۔

 

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
Patience over pressure: A resolution for parents

Media Coverage

Patience over pressure: A resolution for parents
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
PM to inaugurate 28th Conference of Speakers and Presiding Officers of the Commonwealth on 15th January
January 14, 2026

Prime Minister Shri Narendra Modi will inaugurate the 28th Conference of Speakers and Presiding Officers of the Commonwealth (CSPOC) on 15th January 2026 at 10:30 AM at the Central Hall of Samvidhan Sadan, Parliament House Complex, New Delhi. Prime Minister will also address the gathering on the occasion.

The Conference will be chaired by the Speaker of the Lok Sabha, Shri Om Birla and will be attended by 61 Speakers and Presiding Officers of 42 Commonwealth countries and 4 semi-autonomous parliaments from different parts of the world.

The Conference will deliberate on a wide range of contemporary parliamentary issues, including the role of Speakers and Presiding Officers in maintaining strong democratic institutions, the use of artificial intelligence in parliamentary functioning, the impact of social media on Members of Parliament, innovative strategies to enhance public understanding of Parliament and citizen participation beyond voting, among others.