وزیر اعظم نے شری سنت گیانیشور مہاراج پالکھی مارگ اور شری سنت تکارام مہاراج پالکھی مارگ کے اہم سیکشن کو چار لین میں تبدیل کرنے کا سنگ بنیاد رکھا
وزیر اعظم نے پنڈھرپور سے ربط بڑھانے کےلئے کئی سڑک پروجیکٹوں کو قوم کے نام وقت کیا
’’یہ یاترا دنیا کی سب سے پرانی عوامی یاترا میں سے ایک ہے اور اِسے عوامی تحریک کی شکل میں دیکھا جاتا ہے، یہ ہندوستان کے داخلی علم کی علامت ہے، جو ہمارے اعتقاد کو قید نہیں کرتا، بلکہ آزاد کرتا ہے‘‘
’’بھگوان وٹھل کا دربار سب کے لئے یکساں طور سے کھلا ہے، سب کا ساتھ ، سب کا وکاس، سب کا وشواس کے پیچھے بھی یہی جذبہ کار فرما ہے‘‘
وقت وقت پر متعدد خطوں میں ایسی عظیم ہستیاں اُبھرتی رہیں اور ملک کو سمت دکھاتی رہیں‘‘
’’پنڈھری کی واری، موقع کی یکسانیت کی علامت ہے، وارکری تحریک امتیاز کو غلط مانتی ہے اور یہی اس کا عظیم نعرہ ہے‘‘
عقیدت مندوں سے یہاں تین وعدے لیے جاتے ہیں-شجرکاری، پینے کے پانی کا انتظام اور پنڈھرپور کو سب سے زیادہ شفاف تیرتھ مقام بنانا
’’’دھرتی پتروں ہندوستانی روایت اور ثقافت کو زندہ رکھا ہے، ایک سچا ’انّ داتا‘سماج کو جوڑتا ہے اور سماج کے لئے جیتا ہے، آپ ایک سبب ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ سماج کی ترقی کا عکس بھی ہے‘‘‘

رام کرشنا ہری

رام کرشنا ہری

پروگرام میں ہمارے ساتھ موجود مہاراشٹر کے گورنر جناب بھگت سنگھ کوشیاری جی ، مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ جناب ادھو ٹھاکرے جی، وزارتی کابینہ کے میرے ساتھی  جناب نتن گڈکری جی، میرے دیگر ساتھی نارائن رانے جی، راؤ صاحب دانوے جی، رام داس اٹھاولے جی، کپل پاٹل جی، ڈاکٹر بھاگوت کراڑجی، ڈاکٹر بھارتی پوارجی، جنرل وی کے سنگھ جی، مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار جی، مہاراشٹر اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور میرے دوست جناب دیویندر فڑنویس جی، قانون ساز کونسل کے چیئرمین رام راجے نائک جی، مہاراشٹر سرکار کے تمام معزز وزراء، پارلیمنٹ میں میرے ساتھی پارلیمنٹ ارکان ، مہاراشٹر کے ارکان اسمبلی ، دیگر تمام عوامی نمائندے ، یہاں ہمیں آشرواد دینے کے لئے موجود ہمارے تمام پوجیہ سادھو سنت اور عقیدت مند ساتھیو!

دو دن پہلے مجھے ایشور کی مہربانی سے کیدار ناتھ میں آدی شنکر اچاریہ جی کی نوتعمیر شدہ سمادھی کی سیوا کا موقع ملا اور آج بھگوان وٹھل نے اپنے استھان پنڈھرپور سے مجھے آپ سب کے بیچ جوڑلیا۔اس سے زیادہ خوشی کی اور بھگوان کی کرپا کی خوش قسمتی اور کیا ہوسکتی ہے۔ آدی شنکر اچاریہ جی نے خود کہا ہے۔

مہایوگ پیٹھے/تٹے بھیم رتھیام/ورم پنڈری کائے/داتم مونیندرے/سماگتیہ تیسٹھنتم/ آنند کنند/پربرہما لنگم/ بھجے پانڈورنگم۔

اس کا مطلب ہے کہ شنکر اچاریہ جی نے کہا ہے کہ پنڈھرپور کی اس مقدس زمین میں وٹھل بھگوان سراپا مسرت ہیں۔ اس لئے پنڈھر پور تو آنند کی ہی علامت ہے۔ اور آج تو اس میں سیوا کا آنند بھی ساتھ میں جڑرہا ہے۔ ملااتشے آنند ہوتو آہیں کی، سنت گیا نوباماؤلی انڈی سنت تکوبارا یانچیا،پالکھی مارگاچے آج اود گھاٹن ہوتے آہے۔وارک یاننا ادھک سودھا ترمٹھنارآہے تچ،پڑآپڑ جسے مہڑتوکی ، رستے ہے وکاساچے دوار استے۔ تسے پنڈھری- کڑے جاڑارے ہے مارگ بھاگوت دھرماچی پتا کا آڑکھی اونچ فڈکویڑارے مہامارگ ٹھرتیل۔ پوترمارگ کڑے نیڑارے تے مہادوار ٹھریل۔

ساتھیو! آج یہاں شری سنت گیا نیشور مہاراج پالکھی مارگ اور سنت تکارام مہاراج پالکھی مارگ کا سنگ بنیاد رکھا گیا ہے، شری سنت گیانیشور مہاراج پالکھی مارگ کی تعمیر ابھی آپ نے ویڈیو میں بھی دیکھی ہے۔ نتن جی کی تقریر میں بھی سنا ہے، یہ پانچ مرحلوں میں ہوگا اور سنت تکارام مہاراج پالکھی مارگ کی تعمیر تین مرحلوں میں مکمل کی جائے گی۔ ان سبھی مرحلوں میں 350 کلو میٹر سے زیادہ لمبائی کے ہائی وے بنیں گے۔اور اس پر گیارہ ہزار کروڑ روپے سے بھی زیادہ کا خرچ آئے گا۔ اس کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ ان شاہراہوں کے دونوں طرف پالکھی یاترا کے لئے پیدل چلنے والے عقیدت مندوں کے لئے مخصوص راستے بنائے جائیں گے۔ اس کے علاوہ آج پنڈھر پور کو جوڑنے والی تقریبا سوا دو سو کلو میٹر طویل قومی شاہراہ کا بھی مبارک آغازہوا ہے۔ اس کی تعمیر پر تقریبا بارہ سو کروڑ روپے خرچ کئے گئے ہیں۔ ستارا، کولیارپور، سانگلی،بیجا پور، مراٹھواڑہ کا علاقہ، ان سبھی مقامات سے پنڈھر پور آنے والے عقیدت مندوں کو یہ قومی شاہراہیں بہت مدد پہنچائیں گی۔ایک طرح سے یہ شاہراہیں بھگوان وٹھل کے بھکتوں کی سیوا کے ساتھ ساتھ اس پورے علاقہ کی ترقی کا بھی وسیلہ بنیں گی۔ خاص طورسے اس کے ذریعہ جنوبی ہندوستان کے لئے کنکٹوٹی اور بہتر ہوگی۔ اس سے اب اور زیارہ شردھالو یہاں آسانی سے آسکیں گے اور اس خطے کی ترقی سے متعلق سرگرمیاں بھی تیز ہوں گی۔ میں ان مقدس کاموں سے جڑے ہر شخص کا ابھینندن کرتا ہوں۔ یہ ایسی کوششیں ہیں جو ہمیں روحانی سکون بخشتی ہیں اور ہمیں زندگی کے معنیٰ پتہ چلتے ہیں۔ میں بھگوان وٹھل کے تمام بھکتوں کو اس علاقے سے جڑے سبھی لوگوں کو پنڈھرپور علاقے کی ترقی کی اس مہم کے لئے بہت بہت مبارکباد دیتاہوں۔ می سرووارک یاننا نمن کرتو، تیانا کوٹی کوٹی ابھیوادن کرتو۔ میں اس کرپا کے لئے بھگوان وٹھل جی کے چرنوں میں اپنا نمن کرتا ہوں، انھیں پوری عقیدت کے ساتھ پرنام کرتا ہوں۔ میں تمام سنتوں کے چرنوں میں بھی اپنا نمن کرتا ہوں۔

ساتھیو!

ماضی میں ہمارے بھارت پر کتنے ہی  حملے ہوئے ہیں۔ سیکڑوں سال کی غلامی میں یہ ملک جکڑگیا۔ قدرتی آفات آئیں،آزمائشوں کا سامنا ہوا۔ دشواریاں سامنے آئیں، لیکن بھگوان وٹھل دیو میں ہماری آستھا ایسے ہی ملتی رہی آ ج بھی یہ یاترا دنیا کی قدیم ترین اور سب سے بڑی عوامی یاتراؤں کی شکل میں عوامی تحریک کے طورپر دیکھی جاتی ہے۔ آشاڑھ ایکادشی پر پنڈھر پور یاترا کا نادر منظرکون بھول سکتا ہے۔ ہزاروں لاکھوں شردھالو بس کھنچے چلے جاتے ہیں۔ ہر طرف رام کرشن ہری، پنڈلک وردے ہاری وٹھل اور گیانباتکارام کے نعرے بلند ہوتے ہیں۔ پورے 21 دن تک ایک انوکھا نظم وضبط ایک غیر معمولی تحمل دیکھنے کو ملتا ہے۔ یہ یاترائیں الگ الگ پالکھی راستوں سے چلتی ہیں لیکن سب کی منزل مقصود ایک ہی ہوتی ہے۔ یہ ہندوستان کی اس عظیم تعلیم کی علامت ہے جو ہماری آستھا کو باندھتی نہیں بلکہ آزاد کرتی ہے، جو ہمیں سکھاتی ہے کہ راستے الگ الگ ہوسکتے ہیں۔ طور طریقے اور سوچ الگ الگ ہوسکتی ہے لیکن ہمارا مقصد ایک ہی ہوتا ہے۔ آخر میں تمام پنتھ بھگوان پنتھ ہی ہیں اور اس لئے ہمارے یہاں تو بڑے یقین کے ساتھ شاستروں میں کہا گیا ہے۔ایک ست وپرا:بہودھاودنتی۔

ساتھیو!

سنت تکارام مہاراج جی نے ہمیں منتر دیا ہے اور تکارام مہاراج جی نے کہا ہے :۔وشنومے  جگ ویشناوانچا دھرم، بھیدابھید بھرم امنگٹھ ایکاجی تمہی بھگت بھاگوت، کرال تیں ہت ستیہ کرا۔ کونا ہی جواچانہ گھڑو متسر، ورم سرویشور پوجناچے۔

یعنی دنیا میں سب کچھ وشنو مے ہے، اس لئے جیو جیو میں فرق کرنا، بھید بھاؤ رکھنا ہی غلط ہے۔ آپس میں حس نہ ہو، ناراضگی نہ ہو، ہم تمام لوگوں کو برابر مانیں، یہی سچا دھرم ہے۔ اس لئے دنڈی میں کوئی ذات پات نہیں ہوتی، کوئی بھید بھاؤ نہیں ہوتا، ہر وار کری یکساں ہے۔ ہروار کری ایک دوسرے کا گروبھاؤہے، گروبہن ہے۔ سب ایک وٹھل کی اولاد ہیں اس لئے سب کی ایک ذات ہے ایک گوتر ہے۔ وٹھل گوتر، بھگوان وٹھل کا دربار سب کے لئے یکساں طور پر  کھلا ہوا ہے اور جب میں سب کا ساتھ سب کا وکاس سب کا وشواس کہتا ہوں تو اس کے پیچھے بھی تو اسی عظیم روایت کی تحریک ہے، یہی جذبہ ہے۔ یہی جذبہ ہمیں ملک کی ترقی کے لئے ترغیب دیتا ہے۔

ساتھیو!

پنڈھرپور کی آبھااور پنڈھر پور کا تجربہ، سب کچھ ماورائی ہے۔ آپن مہونتو، ماجھے ماہیر پنڈھری ، آہے بھیوریچیا تیری، واقعی پنڈھر پور ماں کے گھر کی طرح ہے۔ لیکن میرے لئے پنڈھر پور سے دو اور بھی بہت خاص رشتے ہیں اور میں  سنتوں کے سامنے کہنا چاہتا ہوں، میرا خاص رشتہ ہے۔ میرا پہلا رشتہ ہے گجرات کا، دوارکا کا۔ بھگوان دوارکا دھیش ہی یہاں آکروٹھل کی شکل میں براجمان ہوئے ہیں اور میرا دوسرا رشتہ ہے کاشی کا۔ میں کاشی سے ہوں اور یہ پنڈھر پور ہماری جنوبی کاشی ہے۔اس لئے پنڈھر پور کی خدمت میرے لئے شری نارائن ہری کی خدمت ہے۔ یہ وہ زمین ہے جہاں بھکتوں کے بھگوان آج بھی مجسم براجتے ہیں۔ یہ وہ زمین  ہے جس کے بارے میں سنت نام دیوجی مہاراج نے کہا ہے کہ پنڈھر پور تب سے ہے جب دنیا بھی نہیں بنی تھی۔ ایسا اسلئے کہ پنڈھر پور مادی طور سے ہی نہیں بلکہ روحانی طور سے بھی ہمارے اندر بستا ہے۔ یہ وہ زمین ہے جس نے سنت گیانیشور ، سنت نام دیو، سنت تکارام اور سنت ایک ناتھ جیسے کتنے ہی سنتوں کو یُگ سنت بنایا ہے۔ اس زمین نے ہندوستان کو ایک نئی توانائی دی، ہندوستان کو پھر سے بیدار کیا اور ہندوستان کی سرزمین کی یہ خاصیت ہے کہ وقتاً فوقتاً، الگ الگ علاقوں میں ایسی عظیم ہستیاں ظاہر ہوتی رہیں، ملک کو راہ دکھاتی رہیں۔ آپ دیکھئے جنوب میں مدھوا چاریہ ، نمباکارچاریہ، رامانجاچاریہ ہوئے، مغرب میں نرسی مہتا، میرا بائی دھیروبھگت، بھوجا بھگت پریتم ، توشمال میں رامانند، کبیر داس، گوسوامی، تلسی داس، سورداس، گورونانک دیو، سنت ریداس ہوئے۔ مشرق میں چیتنیہ ماپربھو اور شنکر دیو جیسے سنتوں کے خیالات کےمالک کو مالا مال کیا، الگ الگ مقامات، الگ الگ زمانے ، لیکن ایک ہی مقصد۔ سب نے ہندوستان کے عوام میں ایک نئی چیتنا پھونکی۔پورے ہندوستان کو بھکتی کی شکتی سے واقف کرایا۔ اسی جذبے میں ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ متھرا کے کرشن، گجرات میں دواریکا دھیش بنتے ہیں، اڈپی میں بال کرشن بنتے ہیں اور پنڈھرپور میں آکر وٹھل کے روپ میں پدھارتے ہیں۔ وہی بھگوان وٹھل جنوبی ہندوستان میں کنک داس اور پرندرداس جیسے سنت شاعروں کے ذریعہ ہر شخص سے جڑجاتے ہیں یہی تو بھکتی ہے۔ جس کی طاقت جوڑنے والی طاقت ہے۔ یہی تو ایک بھارت شریشٹھ بھارت کی بے مثال نظیر ہے۔

ساتھیو!

وارکری آندرلن کی ایک اور خاصیت رہی اور وہ ہے مردوں کے قدم سے قدم ملا کر واری میں چلنے والی ہماری بہنیں، ملک کی ماتر شکتی ، ملک کی استری شکتی پنڈھر کی واری مواقع کی مساوات کی علامت ہے۔ وارکری آندولن کا خاص جملہ ہے ’’بھیدبھاؤامنگٹھ‘‘۔ یہ سماجی ہم آہنگی کا مقصد ہے اور اس یکجہتی میں عورت اور مرد برابر ہیں۔ بہت سے وار کری مردوعورت بھی ایک دوسرے کو ماؤلی نام سے پکارتے ہیں۔ بھگوان وٹھل اور سنت گیانیشور کا روپ ایک دوسرے میں دیکھتے ہیں۔ آپ بھی جانتے ہیں کہ ماؤلی کا مطلب ہے’ماں‘۔ یعنی ماتر شکتی کا بھی اعتراف ہے۔

ساتھیو!

مہاراشٹر کی زمین میں مہاتما پھولے ویرساورکر جیسے عظیم انسان اپنے کام کو کامیابی کے ساتھ جس مقام تک پہنچاپائے۔ اس سفر میں وارکری آندولن نے جو زمین بنائی تھی اس کا بہت بڑا رول رہا ہے۔ وارکری آندولن میں کون  نہیں تھے؟ سنت ساوتا مہاراج، سنت چوکھا، سنت نام دیو مہاراج، سنت گوروبا،سین جی مہاراج، سنت نرہری مہاراج، سنت کانہوپاترا، سماج کا ہر طبقہ وارکری آندولن کا حصہ تھا۔

ساتھیو!

پنڈھر پور انسانیت کو نہ صرف بھگتی اور راشٹر بھگتی کی راہ دکھاتی ہے بلکہ شکتی کی شکتی سے انسانیت کا تعارف بھی کرایا ہے۔ یہاں اکثر لوگ بھگوان سے کچھ مانگنے نہیں آتے۔ یہاں وٹھل بھگوان کا درشن ان کی شکتی ہی زندگی کا مقصد ہے۔ تبھی تو بھگوان یہاں خود بھکتوں کی ہدایت پر صدیوں سے کمر پر ہاتھ رکھ کر کھڑے ہیں۔ بھکت پنڈولیک  نے اپنے ماں باپ میں ایشور کو دیکھا تھا۔ ’نرسیوا نارائن سیوا ‘مانا تھا۔ آج تک وہی آدرش ہمارا سماج جی رہا ہے۔ سیوادنڈی کے ذریعہ انسان کی خدمت کو عبارت مان کر چل رہا ہے۔ ہروارکری جس بے لوث جذبے سے بھکتی کرتا ہے اسی جذبے سے بے لوث سیوا بھی کرتا ہے۔’ امرت کلش دان- انّ دان ‘سے غریبوں کی سیوا کا سلسلہ تو یہاں چلتا ہی رہتا ہے، تعلیم اور صحت کے میدان میں آپ سبھی کی سیوا سماج کی طاقت کی ایک مثال ہے ۔ ہمارے یہاں آستھا اور بھکتی کس طرح راشٹر سیوا اور راشٹر بھکتی سے جڑی ہے۔ سیوا دِنڈی اس کی بھی بہت بڑی مثال ہے۔ گاؤں کی ترقی گاؤں کی بہتری، اس کے لئے بھی سیوا دِنڈی بہت بڑا وسیلہ بن چکی ہے۔ ملک آج گاؤں کی ترقی کے لئے جتنے بھی عزم لے کر آگے بڑھ رہا ہے، ہمارے وارکری بھائی بہن اسکی بہت بڑی طاقت ہیں۔ ملک نے سوچھ بھارت ابھیان شروع کیا تھا تو آج وٹھووا کے بھکت نرمل واری ابھیان کے ساتھ اسے آگے بڑھا رہے ہیں۔ اسی طرح بیٹی بچاؤ بیٹی پڑھاؤ ابھیان ہو، پانی بچانے کے لئے ہماری کوششیں ہوں، ہماری روحانی چیتنا ہمارے قومی ارادوں کو توانائی دے رہی ہے ، اور آج جب میں اپنے وار کری بھائی بہنوں سے بات کررہا ہوں تو آپ سے آشرواد کی شکل میں تین چیزیں مانگنا چاہتا ہوں، مانگ لوں کیا؟ ہاتھ اوپر کرکے بتایئے، مانگ لو ں کیا؟ آپ دیں گے؟ دیکھئے جس طرح سے آپ سب نے ہاتھ اونچا کرکے ایک طرح سے مجھے آشروار دیئے ہیں، آپ کا ہمیشہ مجھ سے اتنا پیار رہا ہے، کہ میں خود کو روک نہیں پارہا ۔ مجھے پہلا آشرواد وہ چاہئے کہ ایک شری سنت گیا نیشور پالکھی مارگ کی تعمیر ہوگی، جس سنت تکارام مہاراج پالکھی مارگ کی تعمیر ہوگی، اس کے کنارے جو خصوصی پیدل راستہ بن رہا ہے اس کے دونوں طرف ہر کچھ میٹر پر سایہ دار درخت ضروری لگائے جائیں۔ یہ کریں گے کیا آپ کام؟ میرا تو سب کی کوشش منتر ہی ہے۔ جب یہ سڑکیں بن کر تیار ہوں گی تو یہ پیڑ بھی اتنے بڑے ہوجائیں گے کہ پورا پیدل راستہ درختوں کے سائے تلے ہوگا۔ میرا ان پالکھی مارگوں کے کنارے پڑنے والے گاؤوں سے اس آندولن کی قیادت کرنے کی درخواست ہے۔ ہرگاؤں اپنے علاقے سے گزرنے والے پالکھی مارگ کی ذمہ داری سنبھالے، وہاں پڑے لگائے، تو بہت جلد یہ کام کیا جاسکتا ہے۔

ساتھیو!

مجھے آپ کا دوسرا آشرواد چاہئے اور دوسرا ٓشرواد مجھے یہ چاہئے کہ اس پیدل مارگ پر ہر کچھ دوری پر پینے کے پانی کی اور وہ بھی پینے کے صاف پانی کی سہولت دی جائے۔ ان مارگوں پر بہت سے پیاؤ بنائے جائیں ، بھگوان وٹھل کی بھکتی میں غرق شردھالو جب پنڈھر پور کی طرف بڑھتے ہیں تو 21 دن تک اپنا سب کچھ بھول جاتے ہیں۔ پینے کے پیاؤ ایسے بھکتوں کے بہت کام آئیں گے، اور تیسرا ٓشرواد مجھے آج آپ سے ضرور لینا ہے اور مجھے آپ مایوس کبھی نہیں کریں گے۔ تیسرا آشرواد مجھے جو چاہئے وہ پنڈھر پور کے لئے ہے۔ میں مستقبل میں پنڈھر پور کو ہندوستان کے سب سے صاف ستھرے تیرتھ مقام کے طور پر دیکھنا چاہتا ہوں۔ ہندوستان میں جب بھی کوئی دیکھے کہ بھائی سب سے صاف ستھرا تیرتھ ستھان کون سا ہے تو سب سے پہلے نام میرے وٹھوباکا، میرے وٹھل کی بھومی کا ، میرے پنڈھر پور کا ہونا چاہئے۔ یہ چیز میں آپ سے چاہتا ہوں اور یہ کام بھی جن بھاگیداری سے ہی ہوگا، جب مقامی لوگ صفائی ستھرائی کی مہم کی قیادت اپنی کمان میں لیں گے تبھی ہم اس سپنے کو پورا کرسکیں گے اور میں ہمیشہ جس بات کی وکالت کرتا ہوں ، سب کا پریاس کہتا ہوں، اس کا حصول ایسے ہی ہوگا۔

ساتھیو!

ہم جب پنڈھر پور جیسے اپنے تیرتھ ستھانوں کی ترقی کرتے ہیں۔تو اس سے صرف تہذیبی ترقی ہی نہیں ہوتی بلکہ پورے علاقہ  کی ترقی کی راہ کھلتی ہے۔ جو سڑکیں یہاں چوڑی ہورہی ہیں، جو نئی شاہراہیں فروغ دی جارہی ہیں، اس سے یہاں مذہبی سیاحت بڑھے گی، نئے روزگار آئیں گے اور سیوا ابھیان کو بھی رفتار ملے گی۔ہم سبھی کے لئے عقیدت کا مرکز جناب اٹل بہاری واجپئی جی مانتے بھی تھے کہ جہاں ہائی وے پہنچ جاتے ہیں، سڑکیں پہنچ جاتی ہیں وہاں ترقی کا نیا باب کھل جاتا ہے۔ اسی سوچ کے ساتھ انھوں نے سورنم چتر بھج کی شروعات کرائی ، ملک کے گاؤں کو سڑکوں سے جوڑنے کی مہم شروع کی۔ آج اپنے اصولوں پر ملک میں جدید ترین بنیادی ڈھانچے پر تیزی سے کام ہورہا ہے۔ ملک میں صحت کے بنیادی ڈھانچےکو بڑھاوا دینے کے لئے ویلنیس سینٹر کھولے جارہے ہیں، میڈیکل کالج کھولے جارہے ہیں، ڈیجیٹل نظام کو بڑھایا جارہا ہے۔ ملک میں آج نئے ہائی ویز، واٹرویز، نئی ریل لائنیں ، میٹرو لائنیں، جدید ریلوے اسٹیشن، نئے ہوائی اڈے نئے ہوائی راستوں کا ایک بڑا وسیع نیٹ ورک بن رہا ہے۔ ملک کے ہر گاؤں تک آپٹکل فائبر نیٹ ورک پہنچانے کے لئے بھی تیزی سے کام ہورہا ہے۔ ان سارے پروجیکٹوں میں اور تیزی لانے کے لئے پی ایم گتی  شکتی نیشنل ماسٹر پلان کی بھی شروعات کی گئی ہے۔ آج ملک سو فی صد کوریج کے ویژن کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔ ہر غریب کو پکامکان، ہر گھر میں بیت الخلاء، ہر کنبے کو بجلی کنکشن، ہر گھر کو نل سے جل اور ہماری ماؤں بہنوں کو گیس کنکشن، یہ سپنے آج سچ ہورہے ہیں، سماج کے غریب ، محروم، دلت ، پسماندہ، درمیانی طبقے کو ان کا سب سے زیادہ فائدہ مل رہا ہے۔

ساتھیو!

ہمارے زیادہ تر وارکری گرو بھاؤتو کسان کنبوں سے آتے ہیں ۔ گاؤں غریب کے لئے ملک کی کوششوں سے آج عام آدمی کی زندگی میں کس طرح سے تبدیلیاں آرہی ہیں آپ سب اسے دیکھ رہے ہیں۔ ہمارے گاؤں غریب سے، زمین سے جڑا ان داتا ایسا ہی ہوتا ہے۔ وہ دیہی اقتصادی بندوبست کا بھی سارتھی ہوتا ہے اور سماج کی ثقافت، قوم کی ایکتا کو بھی مضبوطی دیتا ہے۔ ہندوستان کی سنسکرتی کو، ہندوستان کے آدرشوں کو صدیوں سے یہاں کے دھرتی کے سپوت ہی زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ ایک سچا ان داتا سماج کو جوڑتا ہے ، سماج کو جیتاہے۔ سماج کے لئے جیتا ہے۔آپ سے ہی سماج کی ترقی ہے اور آپ ہی کی ترقی میں سماج کی ترقی ہے۔ اس لئے امرت کال میں ملک کے قراردادوں  میں ہمارے ان داتا ہماری ترقی کی اہم بنیاد ہیں۔ اسی جذبے کے ساتھ ملک آگے بڑھ رہا ہے۔

ساتھیو!

سنت گیانیشور جی نے ایک بہت بڑھیا بات ہم سب کو کہی ہے۔ سنت گیانیشور مہاراج نے کہا ہے۔

دری تانچے تمرجاوو،وشوسرودھرم سوریو پاہو۔ جو جے وانچھل تو تیں لاہو،پرانی جات۔

یعنی کہ دنیا سے برائیوں کا اندھیرا ختم ہو، دھرم کا ، فرض کا سورج پوری دنیا میں طلوع ہو اور ہرجاندار کی خواہش پوری ہوں۔ ہمیں پورا یقین ہے کہ ہم سب کی بھکتی ، ہم سب کی کوشش سنت گیانیشور جی کے ان جذبوں کو ضرور ثابت کریں گے۔ اسی یقین کے ساتھ میں پھر ایک بار سبھی سنتوں کو نمن کرتے ہوئے وٹھوبا کے چرنوں میں نمن کرتے ہوئے آپ تمام لوگوں کا بہت بہت شکریہ ادا کرتا ہوں۔

جے جے رام کرشن ہری

جے رام کرشن ہری

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
India records highest-ever startup surge with 55,200 recognised in FY26

Media Coverage

India records highest-ever startup surge with 55,200 recognised in FY26
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
I assure every woman of this nation that every obstacle in the path of women’s reservation will be removed: PM Modi
April 18, 2026
Women may forget everything, but will never forget insult to their pride: PM
Those parties that have opposed the Nari Shakti Vandan Adhiniyam Amendment in Parliament are taking women's power for granted: PM
Nari Shakti Vandan Adhiniyam Amendment was a 'Mahayagya' to empower women of the 21st century : PM
One major reason for opposition to Nari Shakti Vandan Adhiniyam by dynastic parties is their fear : PM
The blessings of the country's 100 percent Nari Shakti are with us: PM
We will remove every obstacle coming in the way of women's reservation: PM
Snatching away women's rights, these people were thumping the tables ; That was an assault on the dignity of women, on their self-respect: PM
For opposing women’s reservation, the opposition will be punished for the sin they have committed: PM

Today I have come to speak on a very important subject, especially to the mothers, sisters, and daughters of the country! Today every citizen of India is watching how the flight of women power has been stopped. Their dreams have been ruthlessly crushed. Despite our utmost efforts, we could not succeed, the amendment to the Nari Shakti Vandan Act could not be passed! And for this, I seek forgiveness from all the mothers and sisters.

Friends,

For us, national interest is paramount, but when for some people party interest becomes everything, when party interest becomes bigger than national interest, then women power and national interest have to bear the consequences. This time too, the same has happened. The selfish politics of parties like Congress, DMK, TMC, and Samajwadi Party has harmed the women power of the country.

Friends,

Yesterday, the eyes of crores of women in the country were on Parliament, the women power of the nation was watching. I too felt very sad to see that when this proposal in favor of women fell, parties like Congress, DMK, TMC, and SP, family-oriented parties, were clapping with joy. By snatching away the rights of women, they were thumping the tables. What they did was not just thumping on the tables, it was a blow to the self-respect and dignity of women. And women forget everything, but they never forget their insult. Therefore, the pain of the behavior of Congress and its allies in Parliament will always remain in the hearts of women. Whenever the women of the country see these leaders in their areas, they will remember that it was these very people who celebrated in Parliament when women’s reservation was stopped, they rejoiced. To those parties who opposed the Nari Shakti Vandan amendment in Parliament yesterday, I will say clearly: these people are taking women power for granted. They are forgetting that the women of the 21st century are watching every event in the country, they are sensing their intentions, and they have fully understood the truth. Therefore, for opposing women’s reservation, the sin committed by the opposition will surely bring punishment to them. These parties have also insulted the sentiments of the framers of the Constitution, and they will not escape the punishment from the people either.

Friends,

The Nari Shakti Vandan amendment was not about taking anything away from anyone. The Nari Shakti Vandan amendment was about giving something to everyone, it was an amendment to give. It was about giving women the right that has been pending for 40 years, from the 2029 Lok Sabha elections onwards.

The Nari Shakti Vandan amendment was a great effort to give new opportunities, new flight, and to remove obstacles from the path of the women of 21st century India. It was a sacred effort made with clear intent and honesty to give rights to 50% of the country’s population. It was an effort to make women co-travelers in India’s journey of development and to include everyone. The Nari Shakti Vandan amendment is the demand of the time. The Nari Shakti Vandan amendment was an effort to equally increase the strength of every state, North, South, East, West. It was an effort to give more strength to the voice of every state in Parliament. Whether the state is small or big, whether the population is less or more, it was an effort to increase everyone’s strength in equal proportion. But this honest effort has been subjected to foeticide in Parliament by Congress and its allies, foeticide. Congress, TMC, Samajwadi Party, DMK—these parties are guilty of this foeticide. They are criminals against the Constitution of the country, they are criminals against the women power of the country.

Friends,

Congress hates the subject of women’s reservation, it has always conspired to stop women’s reservation. Every time efforts were made in this direction, Congress obstructed them. This time too, Congress and its allies relied on one falsehood after another to stop women’s reservation. Sometimes about numbers, sometimes in other ways, Congress and its allies tried to mislead the country. By doing so, these parties have revealed their true face before the women power of India. They have removed their mask.

Friends,

Personally, I had hoped that Congress would correct its decades-old mistake. Congress would repent for its sins. But Congress lost the opportunity to create history, to stand in favor of women. Congress has already lost its existence in most parts of the country. Congress is surviving like a parasite, riding on the back of regional parties. But Congress does not even want regional parties to grow stronger, so Congress conspired politically to push the future of many regional parties into darkness by making them oppose this amendment.

Friends,

Congress, Samajwadi Party, DMK, TMC, and other parties have, for so many years, every time created the same excuses, the same false arguments, always inserting some technical snag, and they have looted the rights of women. The country has understood this ugly pattern of politics, and it has also understood the reason behind it.

Brothers and sisters,

One big reason for the opposition to the Nari Shakti Vandan Act is the fear of these family-oriented parties. They fear that if women become empowered, then the leadership of these family-oriented parties will be in danger. They will never want women outside their families to move forward. Today, in Panchayats and local bodies, thousands and millions of women have proven their capability. When they want to move forward into Lok Sabha and Legislative Assemblies, when they want to serve the country, these family-oriented parties feel insecure. After delimitation, there will be many more seats for women, women’s stature will increase, and that is why these people opposed the Nari Shakti Vandan amendment. The women power of the country will never forgive Congress and its allies for this sin.

My dear countrymen,

Congress and its allied parties are continuously, continuously lying about delimitation. They want to ignite the fire of division under this pretext. Because “divide and rule” politics is something Congress inherited from the British. And Congress is still running on that same path today. Congress has always fueled sentiments that create rifts in the country. Therefore, this lie was spread that delimitation would harm some states! Whereas the government has made it clear from the very first day that neither the proportion of participation of any state will change, nor will anyone’s representation be reduced. In fact, the seats of all states will increase in equal proportion. Yet Congress, DMK, TMC, and Samajwadi Party were not ready to accept this.

Friends,

This amendment bill was an opportunity for all parties and all states. If this bill had passed, Tamil Nadu, Bengal, Uttar Pradesh, Kerala, every state’s seats would have increased. But because of their selfish politics, these parties betrayed even the people of their own states. For example, DMK had the chance to make more Tamil people MPs and MLAs, to strengthen Tamil Nadu’s voice! But it lost that chance. TMC also had the chance to advance the people of Bengal. But TMC too lost that chance. Samajwadi Party had the chance to reduce the stain of its anti-women image. But SP missed it too. SP has already forgotten Lohia ji. By opposing the Nari Shakti Vandan amendment, SP trampled all of Lohia ji’s dreams underfoot. SP is anti-women reservation, and the women of UP and the country will never forget this.

Friends,

By opposing women’s reservation, Congress has once again proved one thing. Congress is an anti-reform party. For a developed India in the 21st century, whatever decisions, whatever reforms are necessary, whatever decisions the country takes, Congress opposes them, rejects them, obstructs them. This is the history of Congress and this is Congress’s negative politics.

Friends,

This is the same Congress that opposed the trinity of Jan Dhan–Aadhaar–Mobile. Congress opposed digital payments. Congress opposed GST. Congress opposed reservation for the poor in the general category. Congress opposed the law against triple talaq. Congress opposed the removal of Article 370. Our Constitution, our courts, have said that the Uniform Civil Code, UCC, is necessary, but Congress opposes that too. At the very mention of reform, Congress runs with placards of protest. Any work that strengthens the country, Congress puts all its strength into creating obstacles in it. Congress opposes One Nation One Election. Congress opposes driving out infiltrators from the country. Congress opposes purification of the voter list, SIR. Congress opposes reforms in the Waqf Board.

Friends,

Congress even opposed the CAA law that gave security to refugees. By lying and spreading rumors, it created a storm in the country. Congress obstructs the country’s efforts to end Maoist–Naxalite violence. Congress has had only one pattern: whenever a reform comes, lie, spread confusion. History is witness, Congress has always chosen this negative path.

Friends,

Whatever decision is necessary for the country, Congress sweeps it under the carpet. Because of this attitude of Congress, India has not reached the heights of development it deserves. At the time of independence, many other countries were freed along with us. Most of those countries went far ahead of us, and the reason was that Congress kept blocking every reform. Delay, diversion, obstruction—this was Congress’s principle, this was Congress’s work culture. Congress delayed border disputes with neighboring countries. Congress delayed water-sharing disputes with Pakistan. Congress delayed the decision on OBC reservation for 40 years. Congress delayed One Rank One Pension for soldiers for 40 years.

Friends,

This attitude of Congress has always caused great harm to the country. The nation has suffered from every opposition, every indecision, every deceit of Congress. Generations of the country have suffered. Today, all the major challenges before the country have arisen from this attitude of Congress. Therefore, this fight is not just about one law, this fight is against Congress’s anti-reform mentality, which is filled only with negativity. And I have no doubt that the women and daughters of the country will give a strong reply to this mentality of Congress.

Friends,

Some people are calling the breaking of the dreams of the women of the country a failure of the government. But this subject was never about success or failure, never about credit. I had said in Parliament too: let half the population get their rights, I will give the credit to the opposition by publishing advertisements with all their photos. But those who look at women with outdated thinking still stuck to their lies, remained firm!

Friends,

The fight to give women power participation has been going on for decades. For years, I too have been among those making efforts for it. So many women have raised this subject before me. So many sisters have written letters to me explaining everything. My country’s mothers, sisters, daughters—I know you are all sad today. I too share in your sorrow. Today, even though we did not get the required 66 percent votes to pass the bill, I know that 100 percent of the women power of the country has blessed us. I assure every woman of the country: we will remove every obstacle in the path of women’s reservation. Our courage is high, our determination unbreakable, and our resolve unwavering. The parties opposing women’s reservation will never be able to stop the women power of this country from increasing their participation in Parliament and Legislative Assemblies. It is only a matter of time. The BJP–NDA’s resolve for the empowerment of women power is intact. Yesterday we did not have the numbers, but that does not mean we lost. Our inner strength is invincible. Our effort will not stop, our effort will not pause. We will have more opportunities ahead. For the dreams of half the population, for the future of the country, we must fulfill this resolve. Thank you all very much.