ہمارے سیارے کے لیے درست فیصلے کرنے والے افراد سیارے کے لیے ہماری جنگ میں کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ مشن لائف کا بنیادی حصہ ہے
ماحولیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ صرف کانفرنس کی میزوں سے نہیں کیا جا سکتا۔ اس کا مقابلہ ہر گھر میں کھانے کی میزوں سے کرنا پڑتا ہے
مشن لائف موسمیاتی تبدیلی کے خلاف جنگ کو جمہوری بنانا ہے
ہندوستان کے لوگوں نے پچھلے چند سالوں میں عوامی تحریکوں اور رویے میں تبدیلی کے معاملے میں بہت کچھ کیا ہے
طرز عمل سے متعلق اقدامات کے لیے مالی اعانت کے مناسب طریقوں پر بھی کام کرنے کی ضرورت ہے۔ مشن لائف جیسے طرز عمل سے متعلق اقدامات کے لیے ورلڈ بینک کی طرف سے حمایت کا ایک بہت بڑا اثر ہوگا

وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج ویڈیو پیغام کے ذریعے عالمی بینک کی ایک تقریب سے خطاب کیا جس کا عنوان تھا ”اسے ذاتی بنانا: طرز عمل میں تبدیلی موسمیاتی تبدیلی سے کیسے نمٹ سکتی ہے“۔ وزیر اعظم نے اس موضوع سے اپنے ذاتی تعلق کا اعتراف کیا اور خوشی کا اظہار کیا کہ یہ ایک عالمی تحریک بن رہی ہے۔

چانکیہ کا حوالہ دیتے ہوئے، وزیر اعظم نے چھوٹے کاموں کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ ”بذات خود، کرہ ارض کے لیے ہر اچھا کام معمولی معلوم ہو سکتا ہے۔ لیکن جب دنیا بھر میں اربوں لوگ مل کر ایسا کرتے ہیں تو اس کا اثر بہت زیادہ ہوتا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہمارے سیارے کے لیے صحیح فیصلے کرنے والے افراد سیارے کے لیے ہماری جنگ میں کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ مشن لائف کا بنیادی حصہ ہے۔“

لائف (LiFE) تحریک کی ابتدا کے بارے میں بات کرتے ہوئے وزیر اعظم نے یاد کیا کہ 2015 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں انہوں نے رویے میں تبدیلی کی ضرورت کے بارے میں بات کی تھی اور اکتوبر 2022 میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اور انہوں نے مل کر مشن لائف کا آغاز کیا تھا۔ انہوں نے ذکر کیا کہ CoP-27 کے نتائج کی دستاویز کی تمہید پائیدار طرز زندگی اور استعمال کے بارے میں بھی بات کرتی ہے۔ اگر لوگ سمجھتے ہیں کہ صرف حکومت ہی نہیں بلکہ وہ بھی اس میں اپنا تعاون کر سکتے ہیں، تو وزیر اعظم نے نشاندہی کی کہ ”ان کی پریشانی عمل میں بدل جائے گی۔“ انہوں نے واضح کیا کہ ”موسمیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ صرف کانفرنس کی میزوں سے نہیں کیا جا سکتا۔ اس کا مقابلہ ہر گھر میں کھانے کی میزوں سے کرنا پڑتا ہے۔ جب کوئی خیال بحث کی میز سے کھانے کی میز پر منتقل ہوتا ہے تو یہ ایک عوامی تحریک بن جاتا ہے۔ ہر خاندان اور ہر فرد کو اس بات سے آگاہ کرنا کہ ان کے انتخاب سے کرہ ارض کو پیمانہ اور رفتار فراہم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ مشن لائف موسمیاتی تبدیلی کے خلاف جنگ کو جمہوری بنانے کے بارے میں ہے۔ جب لوگوں کو یہ احساس ہو جاتا ہے کہ ان کی روزمرہ کی زندگی میں سادہ سے کام بھی طاقتور ہیں، تو ماحول پر بہت مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔

جناب مودی نے ہندوستان کی مثالوں سے اپنی سوچ کو واضح کیا اور کہا کہ ”عوامی تحریکوں اور رویے کی تبدیلی کے معاملے میں، ہندوستان کے لوگوں نے پچھلے کچھ سالوں میں بہت کچھ کیا ہے۔“ انہوں نے جنسی تناسب میں بہتری، بڑے پیمانے پر صفائی کی مہم، ایل ای ڈی بلب کو اپنانے کی مثالیں دیں جس سے ہر سال تقریباً 39 ملین ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج سے بچنے میں مدد ملتی ہے۔ مائیکرو آب پاشی کے ذریعے تقریباً سات لاکھ ہیکٹر کھیتوں کے رقبے پر پانی کی بچت ہوتی ہے۔

جناب مودی نے بتایا کہ مشن لائف کے تحت حکومت کی کوششیں بہت سے شعبوں میں پھیلی ہوئی ہیں جیسے کہ مقامی اداروں کو ماحول دوست بنانا، پانی کی بچت کرنا، توانائی کی بچت کرنا، فضلہ اور ای ویسٹ کو کم کرنا، صحت مند طرز زندگی کو اپنانا، قدرتی کھیتی کو اپنانا، باجرے کو فروغ دینا وغیرہ۔

انہوں نے کہا کہ یہ کوششیں بائیس بلین یونٹ سے زیادہ توانائی کی بچت کریں گی، نو ٹریلین لیٹر پانی کی بچت کریں گی، فضلے کو تین سو پچھتر ملین ٹن تک کم کریں گی، تقریباً ایک ملین ٹن ای ویسٹ کو ری سائیکل کریں گی اور 2030 تک تقریباً ایک سو ستر ملین ڈالر کی اضافی لاگت کی بچت ہو گی۔ یہ کتنا بڑا ہے یہ جاننے کے لیے میں آپ کو ایک موازنہ دیتا ہوں۔ ایف اے او کے مطابق 2020 میں عالمی بنیادی فصل کی پیداوار تقریباً نو بلین ٹن تھی“، انہوں نے وضاحت کی۔

وزیر اعظم مودی نے زور دے کر کہا کہ دنیا بھر کے ممالک کی حوصلہ افزائی میں عالمی اداروں کا اہم رول ہے۔ مجموعی سرمایہ کاری کے حصے کے طور پر ورلڈ بینک گروپ کی کلائمیٹ فنانس میں 26 فیصد سے 35 فیصد تک مجوزہ اضافے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس کلائمیٹ فنانس کا فوکس عموماً روایتی پہلوؤں پر ہوتا ہے۔ آخر میں انھوں نے کہا، ”طرز عمل سے متعلق اقدامات کے لیے مالی اعانت کے مناسب طریقوں پر بھی کام کرنے کی ضرورت ہے۔ مشن لائف جیسے طرز عمل کے اقدامات کے لیے ورلڈ بینک کی طرف سے حمایت کا مظاہرہ بہت زیادہ اثر ڈالے گا“۔

تقریر کا مکمل متن پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
Second consignment of 37.5 tonnes HADR aid reaches flood-hit Nepal; India sends 47.5 tonnes of relief material in total

Media Coverage

Second consignment of 37.5 tonnes HADR aid reaches flood-hit Nepal; India sends 47.5 tonnes of relief material in total
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
PM’s Departure Statement ahead of visit to Uzbekistan and Kyrgyz Republic
August 29, 2026

I am embarking on a visit to the Republic of Uzbekistan and the Kyrgyz Republic from 29 August-1 September 2026.

At the invitation of President Shavkat Mirziyoyev, I will visit Tashkent on 29-30 August for a State Visit. In recent years, India-Uzbekistan Strategic Partnership has seen significant advancement. I look forward to my discussions with President Mirziyoyev on further deepening our cooperation in trade and investment, digital connectivity, defence, energy, and on advancing our shared visions of Viksit Bharat and Yangi Uzbekistan. I will also visit the Shastri Memorial and the Mahatma Gandhi Centre at the Tashkent State University of Oriental Studies, a tribute to the close cultural and people-to-people ties that bind our two countries.

From Tashkent, at the invitation of the President of the Kyrgyz Republic, H.E. Mr. Sadyr Zhaparov, I will travel to Bishkek to participate in the 26th SCO Summit, marking 25 years of this important organisation. India has been an active and constructive member of the SCO since 2017. I look forward to advancing India’s vision for the region, anchored in Security, Connectivity and Opportunity, and to working with fellow members for a region free from the scourge of terrorism, separatism and extremism, which continue to threaten peace and stability in our neighbourhood and beyond.

I also look forward to meeting President Zhaparov and other SCO leaders, and to attend the Opening Ceremony of the 6th World Nomad Games, a celebration of the rich living heritage of Central Asia that India holds in deep respect.

I am confident that this visit will strengthen India’s strategic partnerships in Central Asia, deepen our civilisational connect with the region, and advance our shared pursuit of peace, stability and prosperity, values that lie at the heart of India’s engagement with the world.