ہماچل بھارت کی پہلی ریاست بن گئی ہے جس نے اپنی پوری اہل آبادی کو کورونا ویکسین کی کم از کم ایک خوراک دے دی ہے
ہماچل اس بات کا ثبوت ہے کہ کس طرح ملک کا دیہی معاشرہ دنیا کی سب سے بڑی اور تیز ترین ٹیکہ کاری مہم کو بااختیار بنا رہا ہے: وزیر اعظم
ڈرون کے نئے قوانین صحت اور زراعت جیسے کئی شعبوں میں مدد کریں گے: وزیر اعظم
خواتین سیلف ہیلپ گروپس کے لیے آنے والا خصوصی آن لائن پلیٹ فارم ہماری بہنوں کو ملک اور بیرون ملک اپنی مصنوعات فروخت کرنے میں مدد دے گا: وزیراعظم
ہماچل کی مٹی کو کیمیکل سے پاک بنائیں ، ہماچل کے کسانوں اور باغبانوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ 'امرت کال' کے دوران ہماچل کو نامیاتی کاشتکاری کی طرف واپس لے جائیں

وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے ہماچل پردیش میں صحت کی دیکھ بھال کرنے والے کارکنوں اور کووڈ ویکسینیشن پروگرام کے مستفیدین کے ساتھ بات چیت کی۔ اس موقع پرمعززگورنر، معزز وزیراعلی ، مرکزی وزیرجناب جے پی نڈا، مرکزی وزیر جناب انوراگ سنگھ ٹھاکر، اراکین پارلیمان ، اراکین اسمبلی، پنچایتوں کے رہنماؤں کے ساتھ ساتھ دیگرشخصیات بھی اس موقع پر موجود تھیں۔

بات چیت کے دوران، سول اسپتال کے ڈاکٹرراہل ، ڈودرہ کوار شملہ سے بات کرتے ہوئے ، وزیر اعظم نے ویکسین کے ضیاع کو کم کرنے پر ٹیم کی تعریف کی اور مشکل ترین علاقے میں خدمات انجام دینے کے بارے میں ان کے تجربے پر تبادلہ خیال کیا۔حکومت کی  مف ٹیکہ کاری مہم  سے فائدہ اٹھانے والے(ٹیکہ لگانے والے)شری دیال سنگھ کے تھوناگ، منڈی سے بات کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے ویکسینیشن کی سہولیات اور ویکسینیشن سے متعلق افواہوں سے کیسے نمٹا جائے اس کے بارے میں دریافت کی۔ ٹیکہ لگانے والے اور خود کو کووڈ سے بچانے والے شخص نے وزیراعظم کی قیادت پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ وزیر اعظم نے ہماچل ٹیم کی کوششوں کی تعریف کی۔ کلو سے تعلق رکھنے والی آشا ورکر نرما دیوی کے ساتھ ، وزیر اعظم نے ویکسینیشن مہم کے بارے میں ان کے تجربے کے بارے میں دریافت کیا۔ وزیر اعظم نے ویکسینیشن مہم میں مقامی روایات کے استعمال کے بارے میں بھی بات کی۔ انہوں نے ٹیم کے تیار کردہ تبادلہ خیال کے نئے طریقوں اور بہتر تال میل اور تعاون کی ستائش کی۔ انہوں نے دریافت کیا کہ ٹیم نے ویکسین کے انتظامات کے لیے طویل فاصلہ کیسے طے کیا؟

محترمہ نرملا دیوی ، ہمیر پور کے ساتھ ، وزیر اعظم نے بزرگ شہریوں کے تجربات پر تبادلہ خیال کیا جنہوں نے ویکسین کی مناسب فراہمی پر وزیر اعظم کا شکریہ ادا کیا اور مہم کی جم کر ستائش کی۔ وزیر اعظم نے ہماچل میں چلنے والی صحت سکیموں کی تعریف کی۔ اونا کی کرمو دیوی جی کو 22500 افراد کو ویکسین لگانے کا اعزاز حاصل ہے۔ وزیر اعظم نے ان کے اس جذبے  اور شاندار کام کی تعریف کی کیونکہ وہ پیروں میں فریکچر کے باوجود مسلسل کام کرتی رہیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ کرمو دیوی جیسے لوگوں کی کوششوں کی وجہ سے دنیا کا سب سے بڑا ویکسینیشن پروگرام جاری ہے۔ جناب نوانگ اپشک ، لاہول اور اسپتی کے ساتھ بات چیت کے دوران وزیر اعظم نے دریافت کیا کہ وہ لوگوں کو ویکسین لینے کے لیے قائل کرنے کے لیے ایک روحانی پیشوا کی حیثیت سے کس طرح اپنی پوزیشن(اپنے رتبے) کا استعمال کرتے ہیں۔ جناب مودی نے علاقے میں زندگی پر اٹل سرنگ کے اثرات کے بارے میں بھی بات کی۔ جناب  اپشک نے سفر کے وقت کو کم کرنے اور بہتر رابطے کے بارے میں وزیراعظم کو آگاہ کیا۔ وزیر اعظم نے بدھ مت کے قائدین کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے لاہول اسپتی کو ویکسینیشن مہم میں سب سے آگے لانے میں کلیدی کردار ادا کی۔ بات چیت کے دوران وزیر اعظم نے بہت ہی ذاتی اور غیر رسمی نوعیت کی باتیں بھی کیں۔

وزیر اعظم نے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہماچل پردیش 100 سالوں میں سب سے بڑی وبا کے خلاف جنگ میں چیمپئن بن کر ابھرا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہماچل ہندوستان کی پہلی ریاست بن گئی ہے جس نے اپنی پوری اہل آبادی کو کورونا ویکسین کی کم از کم ایک خوراک دے دی ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ اس کامیابی نے آتم وشواس (خود اعتمادی) اور آتمنربھرتا(خود کفالت) کی اہمیت کو واضح کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت میں ٹیکہ کاری مہم کی کامیابی اس کے شہریوں کے جذبے اور محنت کا نتیجہ ہے۔ بھارت 1.25 کروڑ کی ریکارڈ رفتار سے ویکسینیشن کر رہا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بھارت میں ایک دن میں ویکسینیشن کی تعداد کئی ممالک کی آبادی سے زیادہ ہے۔ وزیر اعظم نے ویکسینیشن مہم میں ڈاکٹروں ، آشا ورکرز ، آنگن واڑی ورکرز ، طبی عملے ، اساتذہ اور خواتین کی شراکت کی تعریف کی۔ وزیراعظم نے یاد دلایا کہ انہوں نے یوم آزادی کے موقع پر 'سب کا پریاس' کی بات کی ، انہوں نے کہا کہ یہ کامیابی اسی کا مظہر اور بین ثبوت ہے۔ انہوں نے ہماچل کو دیوتاؤں کی سرزمین بھی قرار ددیا  اور اس سلسلے میں تبادلہ خیال کے نئے طریقوں اور بہتر تال میل اور تعاون کے منفرد ماڈل کی تعریف کی۔

وزیر اعظم نے خوشی کا اظہار کیا کہ لاہول سپتی جیسے دور دراز ضلع میں بھی ہماچل 100 فیصد پہلی خوراک دینے میں سرفہرست رہا ہے۔ یہ وہ علاقہ ہے جو اٹل سرنگ کی تعمیر سے قبل مہینوں تک ملک کے باقی حصوں سے کٹ جاتا تھا۔ انہوں نے ہماچل کے لوگوں کی تعریف کی کہ وہ کسی بھی افواہ یا غلط معلومات کو ویکسینیشن کی کوششوں میں رکاوٹ نہ بننے دیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہماچل اس بات کا ثبوت ہے کہ کس طرح ملک کا دیہی معاشرہ دنیا کی سب سے بڑی اور تیز ترین ویکسینیشن مہم کو بااختیار بنا رہا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ سیاحت کو مضبوط روابط کا براہ راست فائدہ بھی مل رہا ہے ، پھل اور سبزیاں پیدا کرنے والے کسان اور باغبان بھی اسے حاصل کر رہے ہیں۔ دیہات میں انٹرنیٹ کنیکٹی ویٹی کے استعمال سے ہماچل کے نوجوان اپنی ہنرمندی کے ذریعہ اپنی پیش بہا ثقافت اور سیاحت کے نئے امکانات کو ملک اور بیرون ملک تک لے جا سکتے ہیں۔

حال ہی میں عام لوگوں کے لیے جاری  کیے گئے ڈرونز کے قوانین کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ یہ قوانین صحت اور زراعت جیسے کئی شعبوں میں مددگار ثابت ہوں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ اس سے نئے امکانات کے دروازے کھلیں گے۔ وزیراعظم نے اپنے یوم آزادی کے اعلانات کا حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت اب خواتین سیلف ہیلپ گروپس کے لیے ایک خصوصی آن لائن پلیٹ فارم بنانے جا رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس میڈیم کے ذریعے ہماری بہنیں ملک اور دنیا میں اپنی مصنوعات فروخت کرسکیں گی۔ وہ سیب ، سنترے ، کینو ، مشروم ، ٹماٹر جیسی بہت سی مصنوعات کو ملک کے ہر کونے اورحصے تک پہنچا سکیں گی۔

آزادی کا امرت مہوتسو کے موقع پر ، وزیر اعظم نے ہماچل کے کسانوں اور باغبانوں پر زور دیا کہ وہ اگلے 25 سالوں میں ہماچل میں کاشتکاری کو نامیاتی بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ آہستہ آہستہ ہمیں اپنی مٹی کو کیمیکل سے پاک کرنا ہوگا۔

 

تقریر کا مکمل متن پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
PM Modi Praises Farmers For Taking India's Rich Mango Heritage To Global Markets

Media Coverage

PM Modi Praises Farmers For Taking India's Rich Mango Heritage To Global Markets
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
India-Myanmar Joint Statement during the Official Visit of the President of Myanmar to India
June 01, 2026

At the invitation of H.E. Shri Narendra Modi, Prime Minister of India, H.E. U Min Aung Hlaing, President of the Republic of the Union of Myanmar paid his first Official Visit to India from 30 May to 3 June 2026.

The President was accompanied by the Union Ministers for President’s Office, Foreign Affairs, Finance & Revenue, Agriculture, Livestock & Irrigation, and Industry & MSME Business Development, and Governor of the Central Bank of Myanmar. A business delegation from diverse sectors including agriculture, pharmaceuticals, energy, banking, construction, IT, communications, trading and logistics, as well as members of the Myanmar-India Friendship Association, were part of the Myanmar delegation.

The Prime Minister of India and the President of Myanmar held talks on 1 June 2026, during which they reviewed bilateral, regional and global issues of mutual interest and charted the way forward for the relationship. The Prime Minister hosted a luncheon in honour of the visiting dignitary. Hon’ble President of India Smt. Droupadi Murmu received the President of Myanmar on the same day. Earlier, External Affairs Minister Dr. S. Jaishankar and National Security Adviser Shri Ajit Doval separately called on the President of Myanmar.

At the commencement of the visit, the President visited Bodh Gaya on 30 May 2026, where he offered prayers at Mahabodhi Temple, Mahabodhi Meditation Centre and Sujata Temple. These visits to deeply revered sites underscored the enduring spiritual and Buddhist ties, as well as the people-to-people links, between the two countries.

The President delivered a keynote speech at the India-Myanmar Business Conclave, jointly organised by the UMFCCI and CII, in New Delhi on 31 May 2026, where business heads from both sides discussed avenues for further strengthening and expanding bilateral trade and commercial opportunities. The President also toured the NTPC Energy Technology Research Alliance (NETRA) complex in Greater Noida to observe advanced R&D work, including in clean energy innovation, energy efficiency, renewable energy integration and grid resilience.

In his interaction with the President, the Prime Minister stated that Myanmar lies at the confluence of India’s Neighbourhood First, Act East and MAHASAGAR (Mutual and Holistic Advancement for Security and Growth Across Regions) policies. The discussions underscored the importance of strengthening bilateral cooperation, including trade and economic ties, defence and security, border management, development assistance and cultural exchanges. Both sides noted ongoing discussions on various bilateral Agreements and Memoranda of Understanding and looked forward to their early conclusion.

The Prime Minister underlined that enhanced connectivity would foster mutually beneficial economic linkages and shared prosperity in the region. In this regard, both sides shared the importance of working closely towards the completion of Kaladan Multi-Modal Transit Transport project and the India-Myanmar-Thailand trilateral highway.

The Prime Minister conveyed that the Mekong Ganga ICCR scholarships for Myanmar students would be enhanced from 36 to 100 from 2026 onwards.

Both sides agreed to facilitate and enhance bilateral trade including through the Rupee-Kyat settlement mechanism, and appreciated the steady growth in the volume of transactions recorded since its operationalisation in May 2024. Both sides also expressed support for closer trade and investment cooperation in the areas of mutual interest such as agro-processing, petroleum, energy, mining sectors, in accordance with their respective national laws and regulations.

The Prime Minister reaffirmed India’s support for the sovereignty and territorial integrity of the Republic of the Union of Myanmar. Both sides underscored the importance of preventing the misuse of sovereign territory for activities inimical to their security interests. The President reiterated Myanmar’s assurance that its territory would not be permitted to be used against India’s security interests. The Prime Minister affirmed that India, as a steadfast and trusted partner of Myanmar, remained committed to deepening security cooperation between the two countries.

The Prime Minister conveyed support for Myanmar-led efforts towards achieving peace, stability, national reconciliation and socio-economic development. He also offered continued assistance and cooperation, based on mutual respect and friendly relations between the two countries. The President appreciated India’s constructive support and cooperation.

The Prime Minister expressed confidence that the meetings of the President with the Governor of Maharashtra and the Chief Minister, as well as his business engagements during his upcoming visit to Mumbai on 02 - 03 June 2026 would further strengthen existing bilateral cooperation and economic ties.

The official visit of President U Min Aung Hlaing reaffirmed the long-standing friendship and close partnership between Myanmar and India and the shared commitment of both countries to further strengthen cooperation for the mutual benefit of the two countries. Both sides agreed to continue close engagement at all levels.

President U Min Aung Hlaing expressed his sincere appreciation to Prime Minister Shri Narendra Modi for the warm hospitality extended to him and to the members of his delegation during their stay in India. The President also extended an invitation to the Prime Minister of India to visit Myanmar at mutually convenient dates.