"فطرت اور لطف اندوزی کے علاوہ گوا ترقی نیز انتظامیہ سے پنچایت تک ترقی کی خاطر اجتماعی کوششوں اور یکجہتی کے ایک نئے ماڈل کا بھی عکاس ہے"
"گوا نے کھلے میں رفع حاجت سے نجات سے لے کر بجلی، پائپ کے پانی، غریبوں کو راشن جیسی تمام اہم اسکیموں میں 100 فیصد حاصل کیا ہے
"سویمپورنا گوا ٹیم گوا کی نئی ٹیم اسپرٹ کا نتیجہ ہے"
"گوا میں جو بنیادی ڈھانچہ تیار کیا جا رہا ہے وہ کسانوں، مویشی کسانوں اور ہمارے ماہی گیروں کی آمدنی بڑھانے میں بھی مدد دے گا"
"سیاحت پر توجہ دینے والی ریاستوں نے ٹیکہ کاری مہم میں بھی خصوصی توجہ دیاور گوا نے اس سے کافی فائدہ اٹھایا"

وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے آتم نربھر بھارت سویم پورنا گوا پروگرام کے مستفیدین اور اسٹیک ہولڈرز سے بات چیت کی۔

وزیر اعظم نے حکومت گوا کی انڈر سکریٹری محترمہ ایشا ساونت کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے، سویم پورنا مترا کے طور پر کام کرنے کا تجربہ پوچھا۔ انھوں نے بتایا کہ مستفیدین کو خدمات اور حل ان کی دہلیز پر فراہم کی جارہی ہے۔ سنگل پوائنٹ سروس ونڈوز ہونے کی وجہ سے آسانی ہوئی ہے۔ جب وزیر اعظم نے ٹکنالوجی کے استعمال کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے بتایا کہ ڈیٹا اکٹھا کرنے میں ٹکنالوجی کا استعمال کیا گیا۔ انھوں نے کہا کہ اس سے ضروری سہولیات کی نقشہ سازی ممکن ہوئی۔ خواتین کو بااختیار بنانے کے حوالے سے وزیراعظم کو بتایا گیا کہ تربیت اور سیلف ہیلپ گروپ میکنزم کے ذریعے خواتین کو سوشل میڈیا مارکیٹنگ اور برانڈنگ کے حوالے سے آلات اور مدد فراہم کی گئی۔ اٹل انکیوبیشن گروپس بھی استعمال کیے گئے۔ وزیر اعظم نے اپنے وزارت اعلیٰ کے دنوں کو یاد کیا اور خواتین کے سیلف ہیلپ گروپس کے ارکان کو تربیت کے ذریعے کھانا پیش کرنے، کیٹرنگ وغیرہ جیسی خدمات کے لیے تربیت دینے اور ایک اہلیت ساز ماحول بنانے کے بارے میں بات کی۔ وزیراعظم نے تجویز دی کہ مصنوعات کے علاوہ خدمات میں بھی بہت امکان موجود ہے۔ وزیراعظم نے بیوروکریسی کو حساس اور اختراعی ہونے کی نصیحت کی اور ایسے افسران کی ستائش کی۔

سابق ہیڈ ماسٹر اور ایک سرپنچ جناب کانسٹینسیو مرانڈا نے وزیر اعظم کو مطلع کیا کہ سویم پورنا مہم نے مختلف شعبوں میں آتم نربھرتا کے نشانون کو حاصل کرنے میں نئی ​​سرگرمیوں میں مدد کی ہے۔ انھوں نے ضرورت پر مبنی ریاست اور مرکزی اسکیموں کی نشان دہی کی اور مربوط انداز میں ان پر کام کیا ہے۔ وزیر اعظم نے طویل عرصے سے زیر التوا کاموں کو مکمل کرنے پر ان کی ستائش کی اور کہا کہ حکومت طویل عرصے سے زیر التوا کاموں کو مکمل کرنے کے لیے بھی کام کر رہی ہے جنھیں آزادی کے بعد طویل عرصے تک نظر انداز کیا گیا تھا۔

وزیر اعظم نے جناب کندن پھلاری سے بات کی جنھوں نے بتایا کہ وہ اور مقامی انتظامیہ کمیونٹی کے آخری فرد تک پہنچنے کے لیے تیار ہیں۔ انھوں نے اپنے علاقے میں سوانیدھی اسکیم کو مقبول بنانے کے اپنے تجربے کو بیان کیا۔ وزیر اعظم نے استفسار کیا کہ کیا یہ اسٹریٹ وینڈرز ڈیجیٹل لین دین کا استعمال کر رہے ہیں۔ اسکیم کی خوب صورتی یہ ہے کہ ڈیجیٹل لین دین کا استعمال لین دین کی ایک ہسٹری بناتا ہے جس سے بینکوں کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ انھیں تیزی سے بہتر مالیاتی خدمات دے سکیں۔ وزیر اعظم نے بتایا کہ گوا کی آزادی کی تکمیل کے 60 سال پر، مرکزی حکومت کی طرف سے گوا کو فی پنچایت 50 لاکھ اور ہر میونسپلٹی کے لیے ایک کروڑ کی خصوصی گرانٹ فراہم کی جا رہی ہے۔ وزیر اعظم نے مالی شمولیت کی حکومتی کوششوں کے بارے میں بات کی اور کہا کہ لوگوں کو سرکاری اسکیموں سے فائدہ اٹھانے کی ترغیب دی جانی چاہیے۔

ماہی گیری کے ایک کاروباری جناب لوئس کاردوزو نے سرکاری اسکیموں سے فائدہ اٹھانے کرنے اور ینسولیٹڈ گاڑیوں کے استعمال کی اپنی کہانی بیان کی۔ وزیر اعظم نے کسان کریڈٹ کارڈ، ناوک ایپ، کشتیوں کے لیے فنان جیسی اسکیموں کے بارے میں بات کی جو ماہی گیر برادری کی مدد کر رہی ہیں۔ وزیراعظم نے ماہی گیروں اور کسانوں کے لیے زیادہ منافع کے لیے خام پیداوار کے بجائے پروسیس شدہ مصنوعات کی توسیع کی خواہش کا اظہار کیا۔

جناب روکی احمد راجاساب نے سویم پورنا کے تحت معذوروں کے لیے کیے گئے اقدامات کے بارے میں آگاہ کیا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت معذوروں کے وقار اور آسانی کے لیے کام کر رہی ہے۔ انھوں نے سہولیات کو معیاری بنانے اور حالیہ پیرالمپکس میں پیرا ایتھلیٹس کی کام یابی جیسی کوششوں کو یاد کیا۔

سیلف ہیلپ گروپ کی سربراہ محترمہ نشیتا نام دیو گواس سے بات کرتے ہوئے وزیر اعظم نے گروپ کی مصنوعات اور وہ اپنی مصنوعات کی مارکیٹنگ کیسے کرتی ہیں، اس کے بارے میں پوچھا۔ وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت خواتین کے وقار اور اعتماد کو بڑھانے کے لیے اجوّلا، سوچھ بھارت، پی ایم آواس، جن دھن جیسی اسکیمیں شروع کر رہی ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ خواتین مسلح افواج کے کھیلوں کے میدان میں ہر میدان میں کام یابی حاصل کر رہی ہیں۔

جناب درگیش ایم شروڈکر کے ساتھ وزیر اعظم نے اپنے گروپ کی ڈیری سرگرمیوں پر تبادلہ خیال کیا۔ انھوں نے کہا کہ ان کے گروپ نے کسان کریڈٹ کارڈ سے فائدہ اٹھایا ہے۔ انھوں نے دیگر کسانوں اور ڈیری کاروباریوں کو بھی سہولت کے بارے میں آگاہ کیا ہے۔ وزیر اعظم نے کسان کریڈٹ کارڈ اسکیم کو مقبول بنانے کے لیے جناب شروڈکر کی کوششوں کو سراہا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت بیج سے مارکیٹ تک ایک ایکو سسٹم بنانے کے لیے پرعزم ہے تاکہ ان کی آمدنی میں اضافہ کیا جا سکے۔ انھوں نے کہا کہ کسان کریڈٹ کارڈ، سوئل ہیلتھ کارڈ، یوریا کی نیم کوٹنگ، ای این اے ایم، مستند بیج، ایم ایس پی کی خریداری، نئے زراعت کے قوانین اسی سمت میں کوششیں ہیں۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ گوا مسرت کی علامت ہے، گوا فطرت کی علامت ہے، گوا سیاحت کی علامت ہے۔ لیکن آج انھوں نے مزید کہا کہ گوا ترقی کے ایک نئے ماڈل کی بھی علامت ہے، جو کہ پنچایت سے لے کر انتظامیہ تک ترقی کے لیے اجتماعی کوششوں اور یکجہتی کی عکاسی کرتا ہے۔

مرکزی حکومت کی اسکیموں کو نافذ کرنے میں گوا کی شاندار کارکردگی پر تبصرہ کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ بھارت نے کھلے میں رفع حاجت سے نجات کا نشانہ مقرر کیا ہے۔ گوا نے یہ نشانہ 100 فیصد حاصل کیا۔ ملک نے ہر گھر کو بجلی کا کنکشن فراہم کرنے کا نشانہ مقرر کیا ہے۔ گوا نے 100 فیصد نشانہ حاصل کر لیا ہے۔ ہر گھر جل مہم میں گوا 100 فیصد نفاذ کو حاصل کرنے والی پہلی ریاست بن گئی ہے۔ غریبوں کو مفت راشن دینے کے معاملے میں گوا نے 100 فیصد نشانہ حاصل کیا ہے۔ وزیر اعظم نے ان حصولبایوں پر گوا کی ستائش کی۔

وزیر اعظم نے کہا، خواتین کی سہولت اور وقار کے لیے، گوا مرکزی حکومت کی اسکیموں کو کام یابی کے ساتھ زمین پر لاگو کر رہا ہے اور ان میں توسیع بھی کر رہا ہے۔ انھوں نے خواتین کو بیت الخلا، اجولا گیس کنکشن یا جن دھن بینک اکاؤنٹس جیسی سہولیات فراہم کرنے کے لیے حکومت گوا کی ستائش کی۔

وزیراعظم نے مرحوم منوہر پاریکر کو یاد کیا جنھوں نے گوا کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا تھا۔ انھوں نے گوا کی ترقی کے پروجیکٹ کو خلوص نیتی سے آگے بڑھانے اور گوا کو نئی بلندیوں پر پہنچانے کے لیے موجودہ وزیر اعلیٰ اور ان کی ٹیم کی ستائش کی۔ آج گوا نئے اعتماد کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔ ڈبل انجن حکومت ریاست کی ترقی کے لیے توانائی اور عزم کے ساتھ کام کر رہی ہے۔ جناب مودی نے زور دیا کہ ٹیم گوا کی اسی نئی ٹیم اسپرٹ کا نتیجہ سویم پورنا گوا کا عزم ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ گوا میں جو بنیادی ڈھانچہ تیار کیا جا رہا ہے اس سے کسانوں، مویشی کسانوں اور ہمارے ماہی گیروں کی آمدنی بڑھانے میں بھی مدد ملے گی۔ انھوں نے مزید کہا کہ دیہی بنیادی ڈھانچے کو جدید بنانے کے لیے گوا کے فنڈ میں اس سال پہلے کے مقابلے میں 5 گنا اضافہ کیا گیا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ ماہی گیروں کی کشتیوں کو جدید بنانے کے لیے مختلف وزارتوں سے ہر سطح پر مراعات دی جا رہی ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ گوا کے ماہی گیروں کو پردھان منتری متسیا سمپدا یوجنا کے تحت بھی کافی مدد مل رہی ہے۔

ٹیکہ کاری مہم کے بارے میں وزیراعظم نے کہا کہ گوا سمیت ملک میں سیاحت پر مبنی ریاستوں کو خصوصی مراعات دی گئی ہیں۔ اس سے گوا کو بھی کافی فائدہ ہوا ہے۔ انھوں نے تمام اہل لوگوں کو ویکسین کی پہلی خوراک کے انتظام میں دن رات کوشش کرنے پر حکومت گوا کی تعریف کی۔

 

 

تقریر کا مکمل متن پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
India records highest-ever startup surge with 55,200 recognised in FY26

Media Coverage

India records highest-ever startup surge with 55,200 recognised in FY26
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Cabinet approves Continuation of Pradhan Mantri Gram Sadak Yojana-III till March 2028
April 18, 2026

The Union Cabinet, chaired by the Prime Minister Shri Narendra Modi, today has given its approval for the continuation of Pradhan Mantri Gram Sadak Yojana-III (PMGSY-III) beyond March 2025 upto March 2028. It involves consolidation of Through Routes and Major Rural Links connecting habitations to Gramin Agricultural Markets (GrAMs), Higher Secondary Schools and Hospitals. The revised outlay of the scheme will be Rs.83,977 crore.

The Cabinet further, amongst other things, approved the following:

  • Extension of timeline till March 2028 for completion of roads and bridges in plain areas and roads in hilly areas.
  • Extension of timeline till March 2029 for completion of bridges in hilly areas.
  • Works sanctioned before 31.03.2025 but un-awarded till now may be taken up for tender/award.
  • Long Span Bridges (LSBs) (161 Nos. with estimated cost of Rs.961 crore) pending for sanction but lying on the alignment of already sanctioned roads may be sanctioned and tendered/awarded.
  • Revision of outlay to Rs. 83,977 crore from original outlay of Rs.80,250 crore.

Benefits:

The extension of the timeline of PMGSY-III will enable the full realization of its intended socio-economic benefits by ensuring completion of targeted upgradation of rural roads. It will significantly boost the rural economy and trade by enhancing market access for agricultural and non-farm products, reducing transportation time and costs, and thereby improving rural incomes. Improved connectivity will facilitate better access to education and healthcare institutions, ensuring timely delivery of essential services, particularly in remote and underserved areas.

The continued implementation will also generate substantial employment opportunities, both directly through construction activities and indirectly by promoting rural enterprises and services. Overall, the extension will contribute to inclusive and sustainable development by bridging the rural-urban divide and advancing the vision of Viksit Bharat 2047.