کووِن پلیٹ فارم کو ایک کھلا ذریعہ بنایا گیا ہے ، جو تمام ملکوں کو دستیاب ہے: وزیراعظم
تقریباً20 کروڑصارفین کے ساتھ ‘‘آروگیہ سیتو’’ ایپ، تیارکرنے والوں کے لئے آسانی سے دستیاب ایک پیکج ہے: وزیراعظم
گزشتہ 100برسوں میں اس قسم کی عالمی وبا جیسی بیماری کی کوئی مثال نہیں ملتی اورکوئی بھی ملک ،خواہ وہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو ، الگ تھلگ رہ کر اس طرح کے مسئلے کو حل نہیں کرسکتا : وزیراعظم
ہمیں آپس میں مل کر کام کرنا ہوگااور مل کر آگے بڑھنا ہوگا: وزیراعظم
بھارت نے ٹیکہ کاری سے متعلق اپنی حکمت عملی وضع کرنے کے دوران مکمل طور پر ایک ڈیجیٹل طریقہ کار اختیارکیا ہے: وزیراعظم
محفوظ اور قابل اعتماد ثبوت کی بدولت عوام کو یہ طے کرنے میں مددملے گی کہ انہوں نے کب ،کہاں اورکس سے ٹیکہ لگوایا ہے؟ وزیراعظم
ڈیجیٹل طریقہ کار کی بدولت ٹیکو ں کے استعمال کے بارے میں جانکاری حاصل کرنے اور ان کی بربادی کو کم سے کم کرنے میں بھی مددملی ہے: وزیراعظم
ایک کرہ ارض ، ایک صحت سے متعلق حکمت عملی کی رہنمائی کی بدولت ، انسانیت اس عالمی وبا پریقیناً قابوپالےگی: وزیر اعظم

نئی دہلی،  05 جولائی2021: وزیراعظم جناب نریندر مودی  نے  آج  کووِن عالمی اجلاس سے خطاب کیا ہے جبکہ بھارت نے  کووڈ-19 سے نمٹنے کی غرض  سےدنیا کو عوام کے لئے ایک ڈیجیٹل ماڈل  کے طور پر کووِن پلیٹ فارم پیش کیا ہے ۔

وزیراعظم نے اپنے خطاب کے آغازمیں تمام ملکوں میں اس عالمی وبا کے سبب ہوئے جانوں کے اتلاف  پر اپنی تعزیت کا اظہار کیا۔وزیراعظم نے دورانِ خطاب  یہ تبصرہ کیا کہ  گزشتہ 100برسوں میں  اس قسم کی عالمی وبا جیسی کوئی مثال نہیں ملتی  اورکوئی بھی ملک ،خواہ  وہ کتنا ہی طاقتور  کیوں نہ ہو ، الگ تھلگ رہ کر اس جیسے مسئلے کو حل نہیں کرسکتا۔ وزیراعظم نے کہا کہ کووڈ -19سے سب سے بڑا سبق ہمیں یہ ملا ہے کہ انسانیت کے لئےاور انسانی کاز کے لئے ہمیں  آپس میں  مل کر کام کرنا ہوگا اور مل کر آگے بڑھنا ہوگا۔ ہمیں ایک دوسرے سے سیکھناہوگا اور اپنے بہترین طور طریقوں کے بارے میں  ایک دوسرے کو واقف کرانا ہوگا۔

 عالمی برادری کے ساتھ اپنے تجربات  ، مہارت  اور وسائل  کے تبادلے سے متعلق بھار ت  کے عزم کو اجاگر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے عالمی طور طریقوں سے سیکھنے کی بھارت کی خواہش کا بھی اظہار کیا۔ عالمی وبا کے خلاف لڑائی میں  ٹکنالوجی کی اہمیت  پر زور دیتے ہوئے جناب نریندرمودی نے کہا کہ  سافٹ وئیر  ایک ایسا شعبہ ہے ،جس میں  وسائل کی کوئی رکاوٹ نہیں ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت نے کووڈ سے متاثرہ افراد   کا پتہ لگانے  سے متعلق  اپنی  ایپ جیسے ہی  یہ تکنیکی طورپر قابل عمل ہوئی   جاری کردی ۔ انہوں نے اس بات کو نمایاں  کیا کہ لگ بھگ  20 کروڑصارفین  کے ساتھ ‘‘آروگیہ سیتو ’’ ایپ ،  تیارکرنے والوں کے لئے آسانی سے دستیاب ایک پیکج ہے۔ وزیراعظم نے عالمی سامعین کو بتایا کہ بھارت  میں استعمال  کئے جانے کے بعد   آپ اس بات کو یقینی بناسکتے ہیں کہ  اس کی تیزی اور پیمانے کے لئے حقیقی دنیا میں  جانچ کی گئی ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ ٹیکہ کاری کی اہمیت کے مدنظر بھارت نے ٹیکہ کاری سے متعلق اپنی حکمت عملی تیار کرتے وقت   ایک مکمل ڈیجیٹل  طریقہ  کار اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔اس کی بدولت  عوام کو  یہ ثابت کرنے میں  مدد ملی ہے کہ انہوں نے ٹیکہ لگوالیا ہے اور عالمی وبا کے بعد کے  عالمی منظرنامے میں معمول کے حالات    تیزی سے بحا ل کرنے میں  بھی مدد ملی ہے۔

محفو ظ اور قابل اعتماد  ثبوت کی بدولت عوام کویہ طے  کرنے میں مدد ملے گی کہ انہوں نے  کب ،  کہاں  اور کس سے ٹیکہ لگوایا ہے۔ ڈجیٹل طریقہ کار کی وجہ سے ٹیکوں کے استعمال کے بارے میں جانکاری حاصل کرنے اور ان کی بربادی  کو کم سے کم کرنے میں  بھی مدد ملی ہے۔

پوری دنیا کو ایک خاندان سمجھنے سے متعلق بھارت کے فلسفے  کے عین مطابق  وزیراعظم نے کہا کہ کووڈ ٹیکہ کاری سے متعلق  پلیٹ فارم  کوون  کو ایک کھلا ذریعہ  بنانے کے طو پر تیار کیا گیا ہے۔ جلد ہی اسے تمام ملکوں کو دستیاب کرادیا جائے گا۔

جناب مودی نے اس بات پر زور دیا کہ آج کا یہ اجلاس اس  پلیٹ فارم کو   عالمی سامعین سے  متعارف کرانے کی جانب  پہلا قدم ہے۔ وزیراعظم نے جانکاری دی  کہ  کوون کے ذریعہ  بھارت  نے  کووڈ ویکسین کے   35 کروڑ ٹیکے لگائے ہیں ۔  ان میں   چند رو ز پہلے ایک دن میں ہی 90 لاکھ لوگوں  کو   لگائے گئے  ٹیکے  بھی شامل ہیں۔اس کے علاوہ   جن افراد نے ٹیکے لگوالئے ہیں  انہیں  کچھ بھی ثابت کرنے کے لئے کسی بھی قسم کا کوئی  کاغذ اپنے پاس رکھنے کی ضرورت  نہیں  ہے۔ یہ ڈیجیٹل فارمیٹ میں دستیاب ہے۔

وزیراعظم نے  دلچسپی  رکھنے والے ملکوں کی  مقامی ضروریات کے مطابق سافٹ ویئر کو اسی کے مطابق  بنانے کی ضرورت  پر بھی زوردیا۔وزیراعظم  نے اس امید  کے ساتھ  اپنا خطاب مکمل کیا کہ ‘پوری دنیا کے لئےصحت کے ایک نظام’ سے متعلق حکمت عملی کے ذریعہ   انسانیت  یقینی طورپر اس عالمی وبا پر قابو پالے گی۔

تقریر کا مکمل متن پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
As Naxalism ends in Chhattisgarh, village gets tap water for first time

Media Coverage

As Naxalism ends in Chhattisgarh, village gets tap water for first time
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
PM to visit Uttarakhand and UP on 14 April
April 13, 2026
PM to inaugurate Delhi–Dehradun Economic Corridor
Corridor to reduce travel time between Delhi and Dehradun from over 6 hours to around 2.5 hours
Corridor has been designed with several features aimed at significantly reducing man-animal conflict
Project include a 12 km long wildlife elevated corridor which is one of the longest in Asia
PM to also visit and undertake review of the Wildlife Corridor

Prime Minister Shri Narendra Modi, will visit Uttarakhand and Uttar Pradesh on 14 April 2026. At around 11:15 AM, the Prime Minister will visit Saharanpur in Uttar Pradesh to undertake a review of the Wildlife Corridor on the elevated section of the Delhi-Dehradun Economic Corridor. At around 11:40 AM, the Prime Minister will perform Darshan and Pooja at Jai Maa Daat Kali Temple near Dehradun. Thereafter, at around 12:30 PM, Prime Minister will inaugurate the Delhi-Dehradun Economic Corridor at a public function in Dehradun and will also address the gathering on the occasion.

The 213 km long six-lane access-controlled Delhi-Dehradun Economic Corridor has been developed at a cost of over ₹12,000 crore. The corridor traverses through the states of Delhi, Uttar Pradesh and Uttarakhand, and will reduce travel time between Delhi and Dehradun from over six hours at present to around two and a half hours.

Implementation of the project also includes the construction of 10 interchanges, three Railway Over Bridges (ROBs), four major bridges and 12 wayside amenities to enable seamless high-speed connectivity. The corridor is equipped with an Advanced Traffic Management System (ATMS) to provide a safer and more efficient travel experience for commuters.

Keeping in view the ecological sensitivity, rich biodiversity and wildlife in the region, the corridor has been designed with several features aimed at significantly reducing man-animal conflict. To ensure the free movement of wild animals, the project incorporates several dedicated wildlife protection features. These include a 12 km long wildlife elevated corridor, which is one of the longest in Asia. The corridor also includes eight animal passes, two elephant underpasses of 200 metres each, and a 370 metre long tunnel near the Daat Kali temple.

The Delhi-Dehradun Economic Corridor will play a pivotal role in strengthening regional economic growth by enhancing connectivity between major tourism and economic centres as well as opening new avenues for trade and development across the region. The project reflects the vision of the Prime Minister to develop next-generation infrastructure that combines high-speed connectivity with environmental sustainability and improved quality of life for citizens.