وزیراعظم نے کہا کہ گوہاٹی سے فلاحی اور بنیادی ڈھانچے سے متعلق متعدد اہم منصوبوں کا آغاز کیا جا رہا ہے، جو آسام کی ترقی کو نئی رفتار دیں گے اور ریاست بھر کے عوام کو فائدہ پہنچائیں گے
وزیراعظم نے کہا کہ پی ایم کسان سمان ندھی یوجنا ملک کے چھوٹے کسانوں کے لیے سماجی تحفظ کا ایک اہم ذریعہ بن چکی ہے
انہوں نے کہا کہ کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی)، سستے قرضے، فصل بیمہ اور پی ایم کسان سمان ندھی جیسی اسکیمیں کسانوں کے لیے ایک بڑی مدد اور سہارا بن گئی ہیں
وزیراعظم نے کہا کہ ہم نے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ عالمی سطح پر پیدا ہونے والے بحرانوں کا اثر زراعت اور کاشتکاری پر نہ پڑے
وزیراعظم کے مطابق آسام قابلِ تجدید توانائی سے متعلق ملک کے وعدوں کی تکمیل میں اہم کردار ادا کر رہا ہے اور لوور کوپیلی پن بجلی پروجیکٹ آسام کے ساتھ ساتھ پورے شمال مشرقی خطے کو فائدہ پہنچائے گا
انہوں نے کہا کہ ملک کے ہر خطے اور ہر طبقے کی ترقی ہماری ترجیح ہے، اسی جذبے کے تحت آج آسام کے چائے کے باغات میں کام کرنے والے مزدوروں کے لیے ایک بڑا اقدام کیا گیا ہے
وزیراعظم نے کہا کہ آج آسام ہمارے شمال مشرقی خطے اشٹ لکشمی کے نئے مستقبل کے لیے ایک مثال بنتا جا رہا ہے اور یہاں کی ترقی پورے شمال مشرقی خطے کو نئی رفتار دے رہی ہے

وزیراعظم جناب نریندر مودی نے آج گوہاٹی، آسام میں تقریباً 19,4800 کروڑ روپے مالیت کے ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح کیا اور ان کا سنگِ بنیاد رکھا۔ اس موقع پر وزیراعظم نے گوہاٹی میں ایک عظیم اجتماع سے خطاب کیا اور شہر کے عوام کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے ملک بھر سے اس پروگرام میں شامل ہونے والے کسانوں کے ساتھ ساتھ چائے کے باغات میں کام کرنے والے بھائیوں اور بہنوں کو بھی سلام پیش کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ انہیں ماں کاماکھیا کی مقدس دھرتی پر، نوراتری (نوراترہ) کے آغاز سے قبل حاضری کی سعادت حاصل ہونے پر بے حد خوشی اور شکرگزاری ہے۔ انہوں نے کہا: ’’مجھے یہ سعادت نصیب ہوئی ہے کہ نوراترہ شروع ہونے سے پہلے ماں کاماکھیا کی اس مقدس سرزمین پر آپ سب کے درشن کا موقع ملا۔‘‘

وزیراعظم نے کہا کہ ماں کاماکھیا کی برکت سے تھوڑی ہی دیر پہلے تقریباً 19,500 کروڑ روپے کے ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح اور سنگِ بنیاد رکھا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آسام کو متعدد اہم منصوبے ملے ہیں، جن میں توانائی کے شعبے میں آسام کو خود کفیل بنانے والے منصوبوں سے لے کر آسام آنے والے مسافروں کی سہولت بڑھانے والے اقدامات تک شامل ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ آج کا دن ملک کے کسانوں اور آسام کے چائے کے باغات میں کام کرنے والے مزدوروں کے لیے بھی نہایت اہم ہے۔ انہوں نے حاضرین کو بتایا کہ پی ایم کسان سمان ندھی اسکیم کے تحت 18,000 کروڑ روپے سے زائد کی رقم ملک بھر کے کروڑوں اَنّ داتا کسانوں کے کھاتوں میں براہِ راست منتقل کی گئی ہے۔ وزیراعظم نے یہ بھی بتایا کہ آسام کے چائے کے باغات سے وابستہ متعدد خاندانوں کو زمین کے پٹّے بھی تقسیم کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا: ’’ میں آسام کے عوام، یہاں کے تمام خاندانوں اور ملک بھر کے کسانوں کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔‘‘

 

وزیراعظم نے کہا کہ ملک بھر کے کسان آج ماں کاماکھیا کی مقدس سرزمین سے اس پروگرام کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کروڑوں کسانوں کو اپنے کھاتوں میں پی ایم کسان ندھی کی رقم جمع ہونے کے پیغامات موصول ہو چکے ہیں۔ وزیراعظم نے اس اسکیم کو واقعی غیر معمولی قرار دیا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ یہی وہ کسان بھائی اور بہنیں ہیں جن میں سے اکثریت کے پاس 2014 سے پہلے نہ موبائل فون تھا اور نہ ہی بینک کھاتہ۔ وزیراعظم نے بتایا کہ اب تک ایسے کروڑوں کسانوں کے کھاتوں میں 4.25 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ رقم جمع کرائی جا چکی ہے۔ انہوں نے خاص طور پر ذکر کیا کہ صرف آسام میں تقریباً 19 لاکھ کسانوں کو اب تک تقریباً 8,000 کروڑ روپے مل چکے ہیں۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا: ’’ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک بھی اس کی مثال پیش نہیں کر سکتے کہ صرف ایک کلک سے کروڑوں کسانوں کے کھاتوں میں براہِ راست رقم پہنچ جائے۔‘‘

وزیراعظم نے کہا: ’’ آج سمّان ندھی اسکیم ملک کے چھوٹے کسانوں کے لیے سماجی تحفظ کا ایک مؤثر ذریعہ بن چکی ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کے لیے کسانوں کی فلاح و بہبود سے زیادہ اہم کوئی چیز نہیں۔ وزیراعظم نے بتایا کہ گزشتہ دس برسوں کے دوران کسانوں کو کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی) کی صورت میں 20 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کی رقم حاصل ہوئی ہے۔

وزیراعظم جناب نریندر مودی نے کہا کہ گزشتہ 11 برسوں کے دوران موجودہ حکومت نے ملک کے کسانوں کے لیے ایک مضبوط حفاظتی حصار قائم کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چاہے کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی) ہو، سستے قرضے ہوں، فصل بیمہ ہو یا پی ایم کسان سمان ندھی جیسی اسکیمیں—یہ سب آج کسانوں کے لیے ایک مضبوط سہارا اور معاون نظام بن چکی ہیں۔ وزیراعظم نے مزید کہا کہ حکومت نے اس بات کا خاص خیال رکھا ہے کہ عالمی سطح پر پیدا ہونے والے بحرانوں کے اثرات زراعت اور کسانوں تک نہ پہنچیں۔

 

وزیراعظم نے یاد دلایا کہ کووڈ۔19 وبا اور اس کے بعد ہونے والی جنگوں کے باعث عالمی منڈی میں کھاد کی قیمتیں کئی گنا بڑھ گئی تھیں اور بیرونِ ملک سے کھاد کی فراہمی انتہائی مشکل ہو گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اس مشکل صورتحال میں مرکزی حکومت نے ہر ممکن کوشش کی کہ اس بحران کا بوجھ کسانوں پر نہ پڑے۔ وزیراعظم نے بتایا کہ عالمی منڈی میں جس یوریا کی ایک بوری تقریباً 3,000 روپے کی پڑتی ہے، وہی حکومت کی جانب سے ہندوستانی کسانوں کو صرف 300 روپے میں فراہم کی گئی۔ انہوں نے زور دے کر کہا: ’’ حکومت نے عالمی سطح پر کھاد کی قیمتوں میں اضافے کا بوجھ کسانوں پر نہ آنے دینے کے لیے اپنے خزانے سے 12 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ خرچ کیے ہیں۔‘‘

وزیراعظم نے کہا کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران موجودہ حکومت نے خود انحصاری کے لیے ایک بڑے پیمانے پر مہم شروع کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ زراعت کو بیرونی بحرانوں سے محفوظ رکھنے کے لیے خود کفالت کو فروغ دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آزاد ہندوستان کی تاریخ میں بارہا دیکھا گیا کہ دنیا کے دوسرے حصوں میں جنگ یا سپلائی چین میں رکاوٹ آنے سے ہندوستانی کسانوں کو مشکلات پیش آتی تھیں—کبھی کھاد مہنگی ہو جاتی تھی اور کبھی ڈیزل اور توانائی کی قیمتیں بڑھ جاتی تھیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ حکومت کا ویژن یہ ہے کہ زراعت کو نئی ٹیکنالوجی سے جوڑا جائے، کسانوں کو جدید آبپاشی کے طریقوں سے مربوط کیا جائے اور اس کے نتیجے میں فصلوں کو بھی فائدہ پہنچے۔ انہوں نے کہا کہ اسی مقصد کے تحت حکومت نے ’’ہر قطرہ زیادہ فصل‘‘ کی پالیسی اپنائی اور کسانوں تک مائیکرو آبپاشی کی ٹیکنالوجی، جیسے ڈرِپ اور اسپرنکلر نظام، پہنچایا۔ انہوں نے بتایا کہ اس سے نہ صرف آبپاشی بہتر ہوئی بلکہ لاگت میں بھی کمی آئی۔

 

وزیراعظم نے مزید کہا کہ حکومت اب کھیتوں کو سولر پمپ سے جوڑنے پر کام کر رہی ہے تاکہ کسانوں کے ڈیزل پر ہونے والے اخراجات کم کیے جا سکیں۔ انہوں نے بتایا کہ اسی مقصد کے لیے مرکز کی جانب سے کُسُم یوجنا شروع کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا:
’’آج بہت سے کسان سولر پمپ کے ذریعے نہ صرف آبپاشی کر رہے ہیں بلکہ بجلی پیدا کر کے اس سے آمدنی بھی حاصل کر رہے ہیں۔‘‘

وزیراعظم نے کہا کہ حکومت کسانوں کی کھاد اور کیڑے مار ادویات پر انحصار کم کرنے کے لیے مسلسل کوششیں کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ موجودہ حکومت نے کئی کھاد کے کارخانے دوبارہ فعال کیے ہیں اور کسانوں کو نینو یوریا سے جوڑنے کے لیے متعدد اقدامات کیے گئے ہیں، جن سے آج ملک کے کسان فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اب حکومت کسانوں کو قدرتی کھیتی اختیار کرنے کی ترغیب دے رہی ہے۔

 

وزیراعظم نے زور دیتے ہوئے کہا: ’’جب بڑے پیمانے پر کسان قدرتی کھیتی اپنائیں گے تو زمین بھی محفوظ رہے گی اور ہمارے اَنّ داتا بھی عالمی بحرانوں سے محفوظ رہیں گے۔‘‘

وزیراعظم جناب نریندر مودی نے کہا کہ موجودہ حکومت کسانوں کے لیے مسلسل اور انتھک محنت کر رہی ہے اور ملک کو خود کفیل بنانے کے لیے سرگرمِ عمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے ہندوستان کی ریفائنریوں کی ترقی اور تیل صاف کرنے کی صلاحیت میں اضافے کے لیے نمایاں کام کیا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ آج ہندوستان ایک ایسا ملک بن چکا ہے جو نہ صرف اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے بلکہ دنیا کی توانائی کی ضروریات میں بھی حصہ ڈال سکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ برسوں میں آسام کی ریفائنریوں میں بھی توسیع کی گئی ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ آسام اور پورے شمال مشرقی خطے میں گیس پائپ لائن کے بنیادی ڈھانچے میں بے مثال سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ نومالی گڑھ–سلی گوڑی پائپ لائن کی اپ گریڈیشن مکمل ہو چکی ہے اور آسام کے گولاگھاٹ میں دنیا کا پہلا دوسری نسل کا بایو ایتھانول پلانٹ قائم کیا گیا ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ یہ تمام منصوبے پورے خطے کے لیے بے حد فائدہ مند ثابت ہوں گے۔

 

وزیراعظم نے کہا کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران ریلوے کو بیرونی وسائل پر انحصار سے آزاد کرنے اور تیل کی درآمدات کم کرنے کے لیے اہم اقدامات کیے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ آج ملک کا تقریباً پورا ریلوے نیٹ ورک برقی خطوط سے منسلک ہو چکا ہے اور جلد ہی 100 فیصد برقی کاری کا ہدف حاصل کر لیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ریلوے کی برقی کاری کی بدولت ملک تقریباً 1.75 ارب لیٹر ڈیزل کی بچت کر رہا ہے، اور آسام کے ریلوے نیٹ ورک کی بھی تیزی سے برقی کاری کی جا رہی ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ آسام قابلِ تجدید توانائی سے متعلق قومی اہداف کی تکمیل میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ لوور کوپیلی پن بجلی پروجیکٹ نہ صرف آسام بلکہ پورے شمال مشرقی خطے کو فائدہ پہنچائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہزاروں کروڑ روپے کے یہ منصوبے آسام کے نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کر رہے ہیں اور ریاست کی خوشحالی میں اضافہ کر رہے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ موجودہ ڈبل انجن حکومت کی پہچان اس کی حساسیت اور بہتر حکمرانی ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ملک کے ہر خطے اور معاشرے کے ہر طبقے کی ترقی حکومت کی ترجیح ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اسی جذبے کے تحت آج آسام کے چائے کے باغات کے مزدوروں کے لیے ایک بڑا قدم اٹھایا گیا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ انہی محنت کشوں کی محنت نے آسام کی عالمی شناخت کو مضبوط بنایا ہے اور ان کے اگائے ہوئے چائے کی خوشبو نے دنیا بھر میں ہندوستان کی پہچان بنائی ہے۔

 

وزیراعظم نے کہا کہ آج موجودہ حکومت ان محنت کشوں کو عزت بھی دے رہی ہے اور سہارا بھی فراہم کر رہی ہے۔ انہوں نے آسام کے وزیر اعلیٰ ہمنتا بسوا سرما اور ان کی پوری ٹیم کو چائے کے باغات سے وابستہ خاندانوں کے لیے شاندار کام کرنے پر مبارکباد دی۔ وزیراعظم نے کہا کہ آسام حکومت اس تاریخی ناانصافی کو ختم کرنے کے لیے کام کر رہی ہے اور اب ان خاندانوں کو اپنی زمین مل رہی ہے، جس کے بعد انہیں پکے مکانات فراہم کرنے کی راہ بھی ہموار ہو گئی ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ اس اقدام سے خاص طور پر چائے کے باغات میں رہنے والی خواتین کو بہت فائدہ ہوگا۔ انہوں نے اپنی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ چائے کے باغات کے مزدور خاندانوں کے بچے اچھی تعلیم حاصل کریں اور زندگی میں آگے بڑھیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ حکومت نے اس مقصد کے لیے تمام ضروری سہولیات فراہم کی ہیں۔

وزیراعظم جناب نریندر مودی نے اعلان کیا کہ آج سے مشہور نیماتی گھاٹ اور بشوناتھ گھاٹ پر جدید کروز ٹرمینلز کی تعمیر کا کام بھی شروع کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ یہ صرف ایک بنیادی ڈھانچے کا منصوبہ نہیں بلکہ ایسا قدم ہے جو آسام میں سیاحت اور مقامی معیشت کو نئی سمت دے گا۔

وزیراعظم نے کہا کہ موجودہ حکومت نے سیاحت کو صرف سیر و سیاحت تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے روزگار اور ترقی کے ایک بڑے موقع کے طور پر دیکھا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اسی ویژن کے تحت دریائے برہم پتر پر آبی سیاحت کے امکانات کو وسیع کیا جا رہا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ جب یہ کروز ٹرمینلز مکمل ہو جائیں گے تو برہم پتر پر کروز سروس مزید ترقی کرے گی اور ہندوستان سمیت دنیا بھر کے سیاحوں کے لیے آسام تک پہنچنا اور بھی آسان ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ جیسے جیسے کروز سیاحت بڑھے گی ویسے ویسے مقامی نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے، دستکاروں اور ہنرمندوں کو اپنی مصنوعات کے لیے نئی منڈیاں ملیں گی، اور چھوٹے دکانداروں، کشتی بانوں اور ہوٹل و ٹرانسپورٹ سے وابستہ افراد کی آمدنی میں بھی اضافہ ہوگا۔

وزیراعظم نے زور دیتے ہوئے کہا: ’’ آسام میں سیاحت اب صرف سفر اور تفریح تک محدود نہیں رہی بلکہ یہ مقامی ترقی اور عوامی خوشحالی کا ایک نیا محرک بنتی جا رہی ہے۔‘‘ وزیراعظم نے کہا کہ آج آسام ہندوستان کے شمال مشرقی خطے اشٹ لکشمی کے نئے مستقبل کے لیے ایک نمونہ بنتا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آسام کی ترقی پورے شمال مشرقی خطے کو نئی رفتار دے رہی ہے۔ انہوں نے ہر نوجوان اور ہر خاندان سے اپیل کرتے ہوئے کہا: ’’ہم سب کو ایک ترقی یافتہ آسام کے لیے مل کر کام کرنا ہوگا تاکہ آسام پورے ملک کے لیے ایک مثالی ریاست بن کر ابھرے۔‘‘

 

تقریر کا مکمل متن پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
India identifies 102 GWp floating solar potential, eyes new push for reservoir-based projects

Media Coverage

India identifies 102 GWp floating solar potential, eyes new push for reservoir-based projects
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
PM chairs 11th Governing Council Meeting of NITI Aayog
June 11, 2026
Vision of Viksit Bharat should become the collective resolve of every State, district, block and village: PM
PM calls India's 70 crore youth its asset, urges States to transform this Demographic dividend into Development dividend
PM encourages States to create opportunities for youth and MSMEs and actively attract investments from countries with which India has signed FTAs
States to strengthen ODOP and leverage opportunities in defence manufacturing: PM
PM emphasizes that AI should be viewed as an opportunity and people should be equipped with future ready skills
PM highlights the need for coordinated efforts to address emerging social challenges such as drug abuse and cyber fraud
PM draws attention to concerns arising from El Niño and urges States to conserve water and promote natural farming
CMs/LGs/Administrators congratulate PM Modi on completing 12 years in office
States express solidarity with the Centre to withstand the global geo-political crisis and to strengthen India’s resilience
All States and 5 UTs attend meeting; first time when CMs of all 28 States participate
Theme of meeting : Inclusive Human Development for Viksit Bharat@2047

Prime Minister Shri Narendra Modi chaired the 11th Governing Council Meeting of NITI Aayog at Rashtrapati Bhavan Cultural Centre, New Delhi, earlier today. This year’s theme was Inclusive Human Development for Viksit Bharat@2047. It was attended by Chief Ministers, Lt. Governors and Administrators representing 28 States and 5 UTs. This was the first time when Chief Ministers of all 28 States participated in the Governing Council Meeting of NITI Aayog.

Prime Minister noted that at a time when many major economies are facing uncertainty and economic challenges, India’s growth story continues to inspire the world. He emphasized the need to further strengthen the nation’s resolve towards self-reliance and highlighted the importance of adopting and implementing global best practices, particularly in the renewable energy sector.

Underscoring the importance of cooperative federalism, Prime Minister stated that the Centre and the States must work together to achieve the goal of a Viksit Bharat. He stressed that the vision of Viksit Bharat should become the collective resolve of every State, district, block and village.

Highlighting the strength of India’s demographic profile, Prime Minister observed that the country’s youth constitute its greatest asset, with nearly 70 crore Indians below the age of 25 years. Calling this a demographic dividend, he urged States to focus on transforming it into a development dividend through education, skilling and capacity-building initiatives that prepare young people for future opportunities and challenges.

Referring to India’s recently concluded trade agreements with several countries, Prime Minister encouraged States to create opportunities for youth and MSMEs and to equip stakeholders to effectively leverage the benefits arising from these agreements. He also urged States to actively attract investments from partner countries.

Emphasizing women-led development, Prime Minister called upon States to work towards increasing the number of Lakhpati Didis from 3 crore to 6 crore and stressed the importance of ensuring a safe and secure environment for Nari Shakti.

Prime Minister urged States to focus on One District One Product (ODOP) initiatives and develop export-oriented strategies around it. He also identified defence manufacturing as an emerging sector where India is establishing a distinct identity and encouraged States to formulate policies to leverage the opportunities arising from its growth.

Prime Minister highlighted the need for coordinated efforts to address emerging social challenges such as drug abuse and cyber fraud through preventive measures, awareness campaigns and effective governance.

Prime Minister also drew attention to concerns arising from El Niño conditions and appealed to States to promote water conservation and encourage natural and organic farming practices. He noted that the purchase of 11 lakh tonnes of organic manure by farmers during the current Kharif season reflected growing confidence in sustainable agriculture.

Prime Minister emphasized the need to evaluate progress at the district level, particularly through aspirational district parameters. Prime Minister suggested that on similar lines, 100 districts should be identified in the field of agriculture to bring positive results. He urged the States to take lead in this pursuit so that a phenomenal change can be achieved through the aspirational approach.

Prime Minister emphasised the need for a monitoring framework and targeted 100-day and five-year goals towards achieving the vision of Viksit Bharat@2047.

Highlighting the importance of good governance, transparency, and infrastructure for attracting investment, he urged States to focus on branding, ease of doing business, and emerging opportunities in sectors such as data centres and artificial intelligence. He emphasized that AI should be viewed as an opportunity and called for greater efforts to equip people with the skills required for the future economy.

The Chief Ministers/Lt. Governors/Administrators congratulated Prime Minister Modi on completing 12 years in his office. They also expressed solidarity with the Centre to withstand the global geo-political crisis and to strengthen India’s resilience with respect to energy requirements, and sustain its growth trajectory.

Prime Minister noted that the discussions were constructive and reflected the aspirations, hopes, experiences, best practices, and challenges of the States. Prime Minister expressed his gratitude to all the CMs, LGs and Administrators for participating in the meeting and expressed confidence that Together, through cooperation, innovation, and a shared commitment to development, India can accelerate its journey towards a Viksit Bharat by 2047.