وزیر اعظم نے منگلورو میں تقریباً 3800 کروڑ روپے کی مالیت کے ترقیاتی پروجیکٹوں کا افتتاح کیا اور سنگ بنیاد رکھا
"ایک ترقی یافتہ بھارت کی تعمیر کے لیے 'میک ان انڈیا' اور ملک کے مینوفیکچرنگ سیکٹر کو توسیع دینا بہت ضروری ہے"
"کرناٹک ریاست ساگر مالا اسکیم سے فائدہ اٹھانے والوں میں سر فہرست ہے"
" پہلی بار کرناٹک کے 30 لاکھ سے زائد دیہی خاندانوں میں نل کے ذریعے پانی پہنچایا گیا ہے"
کرناٹک کے 30 لاکھ سے زائد مریضوں کو بھی آیوشمان بھارت کا فائدہ ملا ہے"
"جب سیاحت فروغ پاتی ہے تو اس سے ہماری گھریلو صنعتوں، ہمارے کاریگروں، دیہی صنعتوں، خوانچہ فروشوں، آٹو رکشہ ڈرائیوروں، ٹیکسی ڈرائیوروں کو فائدہ ہوتا ہے"
آج ڈیجیٹل ادائیگیاں تاریخ ساز سطح پر ہیں اور بھیم یو پی آئی جیسی ہماری اختراعات دنیا کی توجہ اپنی طرف مبذول کرا رہی ہیں"
گرام پنچایتوں کو تقریباً 6 لاکھ کلومیٹر آپٹیکل فائبر بچھا کر جوڑا جا رہا ہے"
"بھارت نے 418 ارب ڈالر یعنی 31 لاکھ کروڑ روپے کی تجارتی برآمد کا نیا ریکارڈ بنایا"
"وزیر اعظم گتی شکتی نیشنل ماسٹر پلان کے تحت ریلوے اور سڑکوں کے ڈھائی سو سے زائد پروجیکٹوں کی نشاندہی کی گئی ہے جس سے بندرگاہوں کے بلا روک ٹوک رابطے میں مدد ملے گی"

وزیر اعظم نے آج منگلورو میں 1800 کروڑ روپے مالیت کے مشین کاری اور صنعت کاری پروجیکٹوں کا افتتاح کیا اور 3800 کروڑ روپے کی مالیت کے صنعت کاری پروجیکٹوں کا سنگ بنیاد رکھا۔

مجمع سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ آج بھارت کی تاریخ کا اہم دن ہے۔ علاقائی سلامتی ہو یا اقتصادی سلامتی، بھارت کو بہت بڑے مواقع حاصل ہو رہے ہیں۔ آج اس سے قبل آئی این ایس وکرانت کے افتتاح کا ذکر کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے اس احساس فخر کا اظہار کیا جو ہر بھارتی کو ہو رہا ہے۔

جن پروجیکٹوں کا افتتاح کیا گیا یا سنگ بنیاد رکھا گیا ان کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ ان پروجیکٹوں سے کرناٹک میں زندگی اور روزگار میں آسانی میں اضافہ ہوگا خاص طور پر 'ون ڈسٹرکٹ ون پروڈکٹ' اسکیم سے خطے کے ماہی گیروں، کاریگروں اور کسانوں کی مصنوعات کے لیے مارکیٹ کی دستیابی میں آسانی ہوگی۔

پانچ عہد (پنچ پران) پر بات کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ لال قلعہ سے انھوں نے جن پانچ عہدوں کا ذکر کیا ہے ان میں سے پہلا عہد ایک ترقی یافتہ بھارت کی تخلیق ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ترقی یافتہ بھارت کی تعمیر کے لیے ملک کے مینوفیکچرنگ شعبے 'میک ان انڈیا' کو توسیع دینا بہت ضروری ہے۔

بندرگاہ کی قیادت میں ترقی کے لیے ملک کی کوششوں پر روشنی ڈالتے ہوئے وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ یہ ترقی کے لیے ایک اہم منتر ہے۔ اس طرح کی کوششوں کے نتیجے میں صرف 8 برسوں میں بھارت کی بندرگاہوں کی صلاحیت تقریباً دگنی ہوگئی ہے۔

گذشتہ 8 برسوں میں ترجیحی بنیادی ڈھانچے کی ترقی پر بات کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ کرناٹک نے اس سے بے حد فائدہ اٹھایا ہے۔ وزیر اعظم نے مزید کہا کہ کرناٹک ساگرمالا اسکیم سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے والی ریاستوں میں سے ایک ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ریاست میں گذشتہ 8 برسوں میں 70 ہزار کروڑ روپے کی مالیت کے شاہراہ پروجیکٹ شامل کیے گئے ہیں اور ایک لاکھ کروڑ روپے سے زائد مالیت کے منصوبے پائپ لائن میں ہیں۔ کرناٹک میں پروجیکٹوں کے لیے ریلوے بجٹ میں پچھلے 8 برسوں میں چار گنا اضافہ ہوا ہے۔

گذشتہ 8 برسوں میں پیش رفت کا مشاہدہ کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ ملک میں غریبوں کے لیے 3 کروڑ سے زائد مکانات تعمیر کیے گئے ہیں اور کرناٹک میں غریبوں کے لیے 8 لاکھ سے زائد پکے مکانات کی منظوری دی گئی ہے۔ وزیر اعظم نے مزید کہا کہ ہزاروں متوسط طبقے کے خاندانوں کو بھی اپنے گھروں کی تعمیر کے لیے کروڑوں روپے کی مدد دی گئی ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ جل جیون مشن کے تحت ملک میں 6 کروڑ سے زائد گھرانوں کو صرف 3 برسوں میں نل کے ذریعے پانی کی سہولیات سے جوڑا گیا ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ پہلی بار کرناٹک کے دیہی خاندانوں میں نل کے ذریعے پانی 30 لاکھ سے متجاوز ہوگیا ہے۔ وزیراعظم نے بتایا کہ آیوشمان بھارت اسکیم کے تحت ملک کے تقریباً 4 کروڑ غریب لوگوں نے اسپتال میں داخل ہونے کے دوران مفت علاج کرایا ہے۔ "اس کی وجہ سے غریبوں کے لیے تقریباً 50 ہزار کروڑ روپے خرچ ہونے سے بچ گئے ہیں۔ کرناٹک کے 30 لاکھ سے زائد مریضوں کو بھی آیوشمان بھارت کا فائدہ ملا ہے۔"

وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت اس بات کو یقینی بنا رہی ہے کہ جن لوگوں کو ان کے کمزور مالی حالات کی وجہ سے فراموش کردیا گیا تھا انھیں نظر انداز نہ کیا جائے۔ وزیراعظم نے مزید کہا کہ چھوٹے کسانوں، چھوٹے تاجروں، ماہی گیروں، خوانچہ فروشوں اور ایسے کروڑوں لوگوں کو پہلی بار ملکی ترقی کے فوائد ملنا شروع ہوگئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ وہ بھارت کی ترقی کے مرکزی دھارے میں شامل ہو رہے ہیں۔

بھارت کی ساڑھے سات ہزار کلومیٹر ساحلی لائن کی طرف سب کی توجہ مبذول کرانے کے لیے وزیراعظم نے کہا کہ ہمیں ملک کی اس صلاحیت سے بھرپور فائدہ اٹھانا ہوگا۔ وزیراعظم نے کہا کہ جب سیاحت بڑھتی ہے تو اس سے ہماری گھریلو صنعتوں، ہمارے کاریگروں، دیہی صنعتوں، خوانچہ فروشوں، آٹو رکشہ ڈرائیوروں، ٹیکسی ڈرائیوروں وغیرہ کو فائدہ ہوتا ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ نیو منگلور بندرگاہ کروز سیاحت کو فروغ دینے کے لیے مسلسل نئی سہولیات کا اضافہ کر رہی ہے۔ "

وزیر اعظم نے مزید کہا کہ آج ڈیجیٹل ادائیگیاں اپنی تاریخی سطح پر ہیں اور بھیم یو پی آئی جیسی ہماری اختراعات دنیا کی توجہ اپنی طرف مبذول کرا رہی ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ آج ملک کے عوام مضبوط کنکٹی ویٹی کے ساتھ تیز رفتار اور سستا انٹرنیٹ چاہتے ہیں۔ وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ آج گرام پنچایتوں کو تقریباً 6 لاکھ کلومیٹر آپٹیکل فائبر بچھا کر جوڑا جا رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ فائیو جی کی سہولت اس شعبے میں ایک نیا انقلاب لانے والی ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ کرناٹک کی ڈبل انجن حکومت بھی عوام کی ضروریات اور امنگوں کو تیز رفتاری سے پورا کرنے کے لیے کام کر رہی ہے۔"

چند روز قبل سامنے آنے والے جی ڈی پی اعداد و شمار پر بات  کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ کورونا کے دور میں بھارت کی پالیسیوں اور کیے گئے فیصلوں نے بھارت کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ "گذشتہ سال اتنی عالمی رکاوٹوں کے باوجود بھارت کی برآمدات کی مجموعی مالیت 670 ارب ڈالر یعنی 50 لاکھ کروڑ روپے تھی۔ ہر چیلنج پر قابو پاتے ہوئے بھارت نے 418 ارب ڈالر یعنی 31 لاکھ کروڑ روپے کی تجارتی برآمد کا نیا ریکارڈ بنایا۔"

وزیراعظم نے کہا کہ ملک کے گروتھ انجن سے متعلق ہر شعبہ آج پوری صلاحیت سے چل رہا ہے۔ خدمات کا شعبہ بھی تیز رفتار ترقی کی طرف گام زن ہے۔ انھوں نے کہا کہ مینوفیکچرنگ کے شعبے میں پی ایل آئی اسکیموں کے اثرات بہت واضح طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ موبائل فون سمیت الیکٹرانک مینوفیکچرنگ کا پورا شعبہ کئی گنا بڑھ گیا ہے۔ وزیر اعظم نے بھارت کے ابھرتے ہوئے کھلونے کے شعبے کی طرف بھی سب کی توجہ مبذول کرائی جہاں 3 برسوں میں کھلونوں کی درآمد میں کمی آئی ہے اور برآمد میں تقریباً اتنا ہی اضافہ ہوا ہے۔ وزیر اعظم نے مزید کہا کہ ان سب سے براہ راست ملک کے ساحلی علاقوں کو فائدہ ہو رہا ہے جو بھارتی اشیا کی برآمد کے لیے اپنے وسائل فراہم کرتے ہیں جن میں منگلورو جیسی بڑی بندرگاہیں ہیں۔

وزیر اعظم نے مزید کہا کہ حکومت کی کوششوں سے گذشتہ برسوں کے دوران ملک میں ساحلی ٹریفک میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ملک کی مختلف بندرگاہوں پر سہولیات اور وسائل میں اضافے کی وجہ سے ساحلی نقل و حرکت اب آسان ہو گئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ بندرگاہوں کا رابطہ بہتر ہو، اسے تیز کیا جائے۔ اس لیے وزیر اعظم گتی شکتی نیشنل ماسٹر پلان کے تحت ریلوے اور سڑکوں کے ڈھائی سو سے زائد پروجیکٹوں کی نشاندہی کی گئی ہے جس سے بندرگاہوں کے بلا روک ٹوک رابطے میں مدد ملے گی۔"

وزیر اعظم نے آزادی کا امرت مہوتسو کی تقریبات پر روشنی ڈالی اور رانی ابکا اور رانی چنبھیرا دیوی کے ذریعے بھارت کو انگریزوں کی غلامی سے نجات دلانے میں کی گئی جدوجہد کو یاد کیا۔ انھوں نے مزید کہا کہ آج یہ بہادر خواتین برآمدات کے شعبے میں آگے بڑھنے کے لیے بھارت کے لیے ایک بہت بڑی تحریک ہیں۔

وزیر اعظم نے کرناٹک کے کروالی خطے کا حوالہ دے کر اپنا خطاب ختم کیا۔ انھوں نے کہا کہ میں ہمیشہ حب الوطنی کی اس توانائی، قومی عزم سے متاثر محسوس کرتا ہوں۔ "منگلورو میں دیکھی جانے والی یہ توانائی ترقی کی راہوں کو روشن کرتی رہے، میں ان ترقیاتی منصوبوں کے لیے بہت سی مبارکباد اور نیک خواہشات پیش کرتا ہوں۔"

اس موقع پر کرناٹک کے گورنر جناب تھاور چند گہلوت، کرناٹک کے وزیر اعلیٰ جناب بساوراج بوممائی، مرکزی وزیر پارلیمانی امور جناب پرہلاد جوشی، بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں کے مرکزی وزیر جناب سربانند سونووال، کرناٹک کے سابق وزیر اعلی جناب بی ایس یدیورپا، مرکزی وزرائے مملکت جناب شریپد یسو نائیک، جناب شانتنو ٹھاکر اور محترمہ شوبھا کرندلاجے، رکن پارلیمنٹ جناب نلین کمار کٹیل، ریاستی وزرا جناب انگرا ایس، جناب سنیل کمار وی اور شری کوٹا شرینواس پجاری بھی موجود تھے۔

منصوبوں کی تفصیلات

وزیراعظم نے منگلورو میں تقریباً 3800 کروڑ روپے مالیت کے مشین کاری اور صنعتکاری منصوبوں کا افتتاح کیا اور اس کا سنگ بنیاد رکھا۔

وزیراعظم نے نیو منگلور پورٹ اتھارٹی کے ذریعہ شروع کیے گئے کنٹینرز اور دیگر کارگو کو سنبھالنے کے لیے برتھ نمبر 14 کی مشین کاری کے لیے 280 کروڑ روپے سے زائد مالیت کے پروجیکٹ کا افتتاح کیا۔ مشینی ٹرمینل سے کارکردگی میں اضافہ ہوگا اور ٹران اراؤنڈ ٹائم، پری برتھنگ ڈلے اور ڈویل ٹائم میں تقریباً 35 فیصد کمی آئے گی اور اس طرح کاروباری ماحول کو فروغ ملے گا۔ پروجیکٹ کا پہلا مرحلہ کامیابی سے مکمل ہو چکا ہے جس کے ذریعے ہینڈلنگ کی صلاحیت میں 4.2 ایم ٹی پی اے سے زائد کا اضافہ ہو جائے گا جو 2025 تک بڑھ کر 6 ایم ٹی پی اے سے زیادہ ہو جائے گا۔

وزیراعظم نے بندرگاہ کے تحت تقریباً 1000 کروڑ روپے مالیت کے پانچ پروجیکٹوں کا سنگ بنیاد رکھا۔ جدید ترین کریوجینک ایل پی جی اسٹوریج ٹینک ٹرمینل سے لیس مربوط ایل پی جی اور بلک لیکوئڈ پی او ایل سہولت 45 ہزار ٹن کے فل لوڈ وی ایل جی سی (بہت بڑے گیس کیریئرز) کو انتہائی موثر طریقے سے اتارنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس سہولت سے خطے میں پردھان منتری اجولا یوجنا کو تقویت ملے گی جبکہ ملک میں ایل پی جی درآمد کرنے والی سرفہرست بندرگاہوں میں سے ایک کے طور پر بندرگاہ کی حیثیت کو تقویت ملے گی۔ وزیراعظم نے اسٹوریج ٹینکوں اور خوردنی تیل ریفائنری کی تعمیر، بیٹومین اسٹوریج اور متعلقہ سہولیات کی تعمیر اور بیٹومین اور خوردنی تیل ذخیرہ کرنے اور متعلقہ سہولیات کی تعمیر کے منصوبوں کا سنگ بنیاد بھی رکھا۔ ان منصوبوں سے بیٹومین اور خوردنی تیل کے جہازوں کی ٹرن اراؤنڈ میں بہتری آئے گی اور تجارت کے لیے مال برداری کی مجموعی لاگت میں کمی آئے گی۔ وزیراعظم نے کلائی کےمقام پر ماہی گیری بندرگاہ کا سنگ بنیاد بھی رکھا جس سے مچھلی پکڑنے کی محفوظ ہینڈلنگ میں آسانی ہوگی اور عالمی منڈی میں بہتر قیمتیں ممکن ہوں گی۔ یہ کام ساگرمالا پروگرام کے تحت کیا جائے گا اور اس کے نتیجے میں ماہی گیر برادری کو نمایاں سماجی و اقتصادی فوائد حاصل ہوں گے۔

وزیراعظم نے منگلور ریفائنری اینڈ پیٹرو کیمیکلز لمیٹڈ کے ذریعہ کیے گئے دو پروجیکٹوں بی ایس سکس اپ گریڈیشن پروجیکٹ اور سی واٹر ڈی سیلینیشن پلانٹ کا بھی افتتاح کیا۔ بی ایس سکس اپ گریڈیشن پروجیکٹ جس کی مالیت تقریباً 1830 کروڑ روپے ہے، انتہائی خالص ماحول دوست بی ایس-سکس گریڈ ایندھن (جس میں گندھک کی مقدار 10 پی پی ایم سے کم ہے) کی پیداوار میں آسانی ہوگی۔ تقریباً 680 کروڑ روپے کی لاگت سے قائم کردہ سمندری پانی کے ڈی سیلینیشن پلانٹ سے تازہ پانی پر انحصار کم کرنے اور سال بھر ہائیڈرو کاربن اور پیٹرو کیمیکلز کی باقاعدہ فراہمی کو یقینی بنانے میں مدد ملے گی۔ 30 ملین لیٹر یومیہ (ایم ایل ڈی) کی گنجائش رکھنے والا یہ پلانٹ ریفائنری کے عمل کے لیے درکار سمندری پانی کو تازہ پانی میں تبدیل کرتا ہے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

تقریر کا مکمل متن پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
Tier-2 cities drive growth in India's tech hiring as GCC expansion spreads beyond metros

Media Coverage

Tier-2 cities drive growth in India's tech hiring as GCC expansion spreads beyond metros
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
List of Outcomes: Prime Minister of Japan’s visit to India for the 16th India-Japan Annual Summit
July 02, 2026
Sl. No.OutcomeDescription
1. India-Japan Joint Declaration on Economic Security Promotes project-based collaboration for enhancing joint resilience in key sectors including semiconductors, critical minerals, information and communication technology including AI, clean energy and pharmaceuticals. India-Japan Fact Sheet 2.0 captures growing India-Japan G2G and B2B engagement in this crucial area.
2. India-Japan Joint Statement on Cooperation in the Field of Artificial Intelligence Elevates the India-Japan relationship to a strategic research and development partnership in the AI domain. Building on the India-Japan AI Initiative, the Joint Statement provides a roadmap for greater cooperation across the entire AI technology stack in pursuit of the shared vision of safe, secure, trusted, inclusive, and human-centric AI.
3 Joint Statement on Energy Resilience (between MoPNG and METI, Japan) Strengthens cooperation in strategic stockpiling and reserve mechanisms for crude oil and petroleum products. Promotes collaboration in joint investments across the maritime energy transport value chain.
4. Celebrating the 75th Anniversary of India-Japan Diplomatic Relations Outlines a series of commemorative events to celebrate 2027, the 75th anniversary of establishment of diplomatic relations, as the India-Japan Year of Shared Horizons
5. Memorandum of Cooperation for India-Japan Cooperative Biogas for Growth (CBG) Initiative Promotes cooperation towards the goal of establishing 1,000 biogas and organic fertilizer plants all across India, leveraging the extensive network of dairy cooperatives.
6. Memorandum of Cooperation in the Field of Batteries Promotes cooperation in battery-related projects and expands business opportunities with an aim of building a trusted, resilient and sustainable battery supply chain.
7. Memorandum of Cooperation in the Field of Pharmaceuticals and Medical Devices Sector Strengthens pharma supply chains, including in Active Pharmaceutical Ingredients (APIs) and Key Starting Materials (KSMs), through promotion of bilateral investment and business linkages, technical collaboration and industry-academia collaboration.
8. Memorandum of Cooperation in the Field of Geology and Mineral Exploration Strengthens cooperation in upstream critical minerals exploration through exchange of technical expertise.
9. Memorandum of Cooperation between IndiaAI Mission and Ministry of Economy, Trade and Industry (METI), Japan Promotes institutional cooperation between IndiaAI Mission and Japan’s GENIAC initiative – through B2B matchmaking, webinars on AI policies and challenges and support for joint projects through access to computing resources
10. Memorandum of Cooperation on Next Generation Mobility Partnership (NGMP) Establishes a framework for operationalizing the Next Generation Mobility Partnership (NGMP) which was announced at the 15th Annual Summit in August 2025. The NGMP would accelerate private sector-led cooperation and investment in mobility sectors including rail, automotive and road infrastructure, aviation, shipbuilding and ports, logistics, and urban development, positioning India as a hub for “Make in India for the World” exports to third countries.
11. Memorandum of Understanding between India’s Centre for Cellular and Molecular Platforms (C-CAMP) and RIKEN, Japan Establishes a framework for academic, translational research and start-up oriented innovation in deep-tech and life sciences, covering healthcare, agriculture and environment.
12. Memorandum of Understanding between National Center for Biological Sciences-Tata Institute of Fundamental Research and RIKEN, Japan Creates a framework for cooperation in basic biological and neuroscience research between the two leading research institutions
13. Memorandum of Understanding between IIT Bombay, BharatGen Technology Foundation and National Institute of Informatics, Japan Furthers collaboration on large language models (LLMs), with a focus on developing LLMs for enhanced scientific reasoning, through joint research exchanges
14. Memorandum of Understanding between SarvamAI and Preferred Network on LLM Development Creates a framework for cooperation across the full AI technology stack, including foundation models.
15. Memorandum of Understanding Between National Internet Exchange of India (NIXI) and Japan Network Information Center (JPNIC) Promotes cooperation in National Internet Registry operations, IPv6 adoption, internet security improvements, capacity building, student/professional exchanges and exchange of views on internet governance at regional and global forums.
16. Exchange of Letters Between International Financial Services Centres Authority (IFSCA) and Financial Services Agency, Japan (JFSA) Establishes a framework for cooperation in development, regulation and supervision of financial services as well as information exchange on financial-market trends and best practices, particularly in FinTech and RegTech.