قومی شاہراہوں کے 5پروجیکٹوں کوقوم کے نام وقف کیااور سنگ بنیاد رکھا
103 کلومیٹر لمبی رائے پور - کھریار روڈ ریل لائن اور کیوٹی - انٹا گڑھ کو جوڑنے والی 17 کلومیٹر لمبی نئی ریلوے لائن کو دوطرفہ کرنے کے لیے وقف کیا
کوربا میں انڈین آئل کارپوریشن بوٹلنگ پلانٹ کو وقف کیا
ویڈیو لنک کے ذریعے انٹا گڑھ - رائے پور ٹرین کو جھنڈی دکھا کر روانہ کیا
آیوشمان بھارت کے تحت استفادہ کنندگان میں 75 لاکھ کارڈ کی تقسیم کا آغاز کیا
’’آج کے پروجیکٹ چھتیس گڑھ کے قبائلی علاقوں میں ترقی اور سہولت کے ایک نئے سفر کی نشاندہی کرتے ہیں‘‘
’’حکومت ان مخصوص علاقوں میں بنیادی ڈھانچے کی ترقی کو ترجیح دے رہی ہے جو ترقی کے لحاظ سے پیچھے ہیں‘‘
’’جدید انفراسٹرکچر کا تعلق سماجی انصاف سے بھی ہے‘‘
’’آج چھتیس گڑھ دو اقتصادی راہداریوں سے منسلک ہو رہا ہے‘‘
’’حکومت قدرتی دولت کے شعبوں میں نئے مواقع پیدا کرنے اور مزید صنعتیں لگانے کے لیے پرعزم ہے‘‘
’’حکومت نے منریگا کے تحت مناسب روزگار فراہم کرنے کے لیے چھتیس گڑھ کو 25000 کروڑ روپے سے زیادہ فراہم کیے ہیں‘‘

وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج چھتیس گڑھ کے رائے پور میں تقریباً 7500 کروڑ روپے مالیت کے مختلف ترقیاتی پروجیکٹوں کا سنگ بنیاد رکھا اور قوم کے نام وقف کیا۔ انہوں نے تقریباً 6400 کروڑ روپے کے 5 نیشنل ہائی وے پراجیکٹس کووقف کیااور سنگ بنیاد رکھا۔ وزیر اعظم نے 103 کلومیٹر لمبی رائے پور - کھاریار روڈ ریل لائن کو دوگنا کرنے کا کام بھی قوم کے نام وقف کیا جو 750 کروڑ روپے کی لاگت سے مکمل کی گئی ہے۔کیوٹی - انٹا گڑھ کو جوڑنے والی 17 کلومیٹر لمبی نئی ریلوے لائن 290 کروڑروپے کی لاگت سے تیار کی گئی ہے۔مزید برآں، وزیر اعظم نے انڈین آئل کارپوریشن کا 130 کروڑ روپے سے زیادہ کی لاگت سے تعمیر کردہ کوربا میں سالانہ 60 ہزار میٹرک ٹن کی صلاحیت کے ساتھ ایک بوٹلنگ پلانٹ قوم کے نام وقف کیا۔ انہوں نے ویڈیو لنک کے ذریعے انٹا گڑھ – رائے پور ٹرین کو بھی جھنڈی دکھاکوروانہ کیا۔ مزید یہ کہ وزیر اعظم نے آیوشمان بھارت کے تحت استفادہ کنندگان میں 75 لاکھ کارڈوں کی تقسیم کی شروعات کی۔ 

اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ آج کا موقع چھتیس گڑھ کے ترقیاتی سفر کے لیے انتہائی اہم ہے کیونکہ ریاست کو بنیادی ڈھانچے اور کنیکٹیویٹی جیسے شعبوں میں 7000 کروڑ سے زیادہ کے ترقیاتی منصوبے مل رہے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ آج کے پروجیکٹ، لوگوں کی زندگیوں کو آسان بنائیں گے اور ریاست میں صحت کی دیکھ بھال کے نظام کو مضبوط بنائیں گے۔

نہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ان منصوبوں سے ریاست میں روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے جبکہ دھان کے کسانوں، معدنی صنعت اور چھتیس گڑھ کی سیاحت کی صنعت کو بھی فائدہ پہنچے گا۔ وزیر اعظم نے ریاست کے لوگوں کو ان منصوبوں کے لیے مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ’’آج کے پروجیکٹ چھتیس گڑھ کے قبائلی علاقوں میں ترقی اور سہولت کے ایک نئے سفر کی نشاندہی کریں گے‘‘۔ 

وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ کسی بھی خطے کی ترقی میں تاخیر کا براہ راست تعلق، بنیادی ڈھانچہ کی کمی سے ہوتا ہے، اس لیے، وزیراعظم نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ حکومت ان مخصوص خطوں میں بنیادی ڈھانچے کی ترقی کو ترجیح دے رہی ہے جو ترقی کے لحاظ سے پیچھے رہ گئے ہیں۔ وزیر اعظم نے زور دے کر کہا کہ’’بنیادی ڈھانچہ کا مطلب ہے زندگی میں آسانی اور کاروبار کرنے میں آسانی۔ بنیادی ڈھانچہ کا مطلب ہے روزگار کے مواقع اور تیز رفتار ترقی‘‘ ۔ انہوں نے کہا کہ چھتیس گڑھ میں بھی جدید بنیادی ڈھانچے کی ترقی کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے جہاں گزشتہ 9 سالوں میں پردھان منتری گرامین سڑک یوجنا کے تحت، ریاست کے ہزاروں قبائلی دیہاتوں تک سڑکوں کا رابطہ پھیل گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت نے تقریباً 3500 کلومیٹر طویل قومی شاہراہ کے منصوبوں کو منظوری دی ہے جس میں سے تقریباً 3000 کلومیٹر مکمل بھی ہو چکی ہیں۔ وزیر اعظم نے یہ بھی بتایا کہ آج رائے پور-کوڈے بوڈ اور بلاس پور-پتھراپلی شاہراہوں کا افتتاح کیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’’ریل ہو، سڑک ہو، ٹیلی کام ہو، حکومت نے چھتیس گڑھ میں پچھلے 9 سالوں میں تمام قسم کے رابطوں کو فروغ دینے کے لیے بے مثال کام کیا ہے‘‘۔ 

وزیر اعظم نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ جدید بنیادی ڈھانچہ کا تعلق، سماجی انصاف سے بھی ہے اور کہا کہ سڑکوں اور ریلوے لائنوں سمیت آج کے پروجیکٹس، جو غریبوں، دلتوں، پسماندہوں اور قبائلیوں کی بستیوں کو آپس میں جوڑ رہی ہیں، مریضوں اور خواتین کے لیے اسپتالوں سے رابطے کو بہتر بنائیں گی۔ انہوں نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ نو سال قبل چھتیس گڑھ کے 20 فیصد سے زیادہ دیہاتوں میں کسی قسم کی موبائل کنیکٹیویٹی نہیں تھی جبکہ آج یہ تعداد کم ہو کر تقریباً 6 فیصد پر آ گئی ہے اور اس علاقے کے کسان اور مزدور سب سے زیادہ مستفید ہیں۔ انہوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ ان قبائلی دیہاتوں میں سے زیادہ تر جہاں رابطہ بہتر ہوا ہے وہ کبھی نکسلائی تشدد سے متاثر ہوئے تھے۔ وزیر اعظم نے بتایا کہ حکومت اچھی 4جی کنیکٹیوٹی کو یقینی بنانے کے لیے 700 سے زیادہ موبائل ٹاورز لگا رہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ تقریباً 300 ٹاورزن کام کرنا شروع کر چکے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ’’قبائلی دیہات جو کبھی خاموش تھے اب رنگ ٹونز کی گونج سن سکتے ہیں‘‘۔ وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ موبائل کنیکٹیویٹی کی آمد سے گاؤں کے لوگوں کو بہت سے کاموں میں مدد ملی ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ’’یہ سماجی انصاف ہے۔ اور یہ سب کا ساتھ، سب کا وکاس ہے‘‘۔ 

وزیر اعظم نے ریمارک کرتے ہوئے کہا کہ ’’آج چھتیس گڑھ دو اقتصادی راہداریوں سے جڑ رہا ہے‘‘، انہوں نے زور دے کر کہا کہ رائے پور - دھنباد اقتصادی راہداری اور رائے پور - وشاکھاپٹنم اقتصادی راہداری، پورے خطے کی قسمت بدلنے والی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اقتصادی راہداری ان پرامید اضلاع سے گزر رہی ہے جو کبھی پسماندہ کہلاتے تھے، اور جہاں کبھی تشدد اور تانا شاہی ہوتی تھی۔ انہوں نے کہا کہ رائے پور-وشاکھاپٹنم اقتصادی راہداری، جس کا آج سنگ بنیاد رکھا گیا ہے، اس خطے کی نئی لائف لائن بن جائے گی کیونکہ رائے پور اور وشاکھاپٹنم کے درمیان کا سفر گھٹ کر آدھا رہ جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ 6 لین والی سڑک، دھمتری کی دھان کی پٹی، کانکیر کی باکسائٹ بیلٹ اور کونڈاگاؤں کی دستکاری کی دولت کو ملک کے دیگر حصوں سے جوڑے گی۔ وزیراعظم نے جنگلیاتی زندگی کی سہولت کے لیے سرنگوں اور جانوروں کے پاسوں کی تعمیر کو بھی سراہا کیونکہ یہ سڑک جنگلیاتی حیات کے علاقے سے گزرے گی۔، جناب مودی نے مزید کہا کہ ’’ڈلی راجہارا سے جگدل پور تک ریل لائن اور انٹا گڑھ سے رائے پور تک براہ راست ٹرین سروس بھی دور دراز کے علاقوں میں سفر کرنا آسان بنائے گی‘‘۔

وزیر اعظم نے کہا کہ’’حکومت قدرتی دولت کے علاقوں میں نئے مواقع پیدا کرنے اور مزید صنعتیں قائم کرنے کے لئے پرعزم ہے"۔ انہوں نے گزشتہ 9 سالوں میں اس سمت میں کی جانے والی کوششوں کو اجاگر کیا جس نے چھتیس گڑھ میں صنعت کاری کو نئی توانائی فراہم کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت کی پالیسیوں کی وجہ سے چھتیس گڑھ میں ریونیو کی شکل میں فنڈز میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چھتیس گڑھ کو، خاص طور پر مائنز اینڈ منرل ایکٹ میں تبدیلی کے بعد ،رائلٹی کی شکل میں زیادہ فنڈز ملنا شروع ہو گئے ہیں۔ وزیر اعظم نے بتایا کہ 2014سے پہلے کے چار سالوں میں، چھتیس گڑھ کو رائلٹی کے طور پر 1300 کروڑ روپے ملے تھے جبکہ ریاست کو 2015-16 سے 2020-21 کے درمیان تقریباً 2800 کروڑ روپے ملے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ضلعی معدنی فنڈ میں اضافے کے نتیجے میں، معدنی دولت والے اضلاع میں ترقی کے کام میں تیزی آئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ "بچوں کے اسکول ہوں، لائبریریاں ہوں، سڑکیں ہوں، پانی کا انتظام ہو، اب ڈسٹرکٹ منرل فنڈ کی رقم، ایسے بہت سے ترقیاتی کاموں میں خرچ ہو رہی ہے‘‘۔ 

اس بات کو اجاگر کرتے ہوئے کہ چھتیس گڑھ میں کھولے گئے ایک کروڑ 60 لاکھ جن دھن بینک کھاتوں میں آج 6000 کروڑ روپے سے زیادہ کی رقم جمع ہے، وزیر اعظم نے کہا کہ یہ غریب خاندانوں، کسانوں اور مزدوروں سے تعلق رکھتے ہیں جنہیں کبھی اسے کہیں اور رکھنے پر مجبور کیا جاتا تھا۔ انہوں نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ جن دھن کھاتے، غریبوں کو حکومت سے براہ راست مدد حاصل کرنے میں مدد کر رہے ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت، چھتیس گڑھ کے نوجوانوں کے لیے روزگار اور ذاتی روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے مسلسل کام کر رہی ہے اور بتایا کہ مدرا یوجنا کے تحت چھتیس گڑھ کے نوجوانوں کو 40000 کروڑ روپے سے زیادہ کی رقم فراہم کی گئی ہے، جو کہ قبائلی نوجوانوں اور غریب خاندانوں کے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد کی مدد کے لیے آئی ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ حکومت نے کورونا کے دور میں ملک کی چھوٹی صنعتوں کی مدد کے لیے لاکھوں کروڑ روپے کی خصوصی اسکیم شروع کی ہے، جس میں چھتیس گڑھ کے تقریباً 2 لاکھ کاروباری اداروں کو تقریباً 5000 کروڑ روپے کی امداد ملی ہے۔

وزیر اعظم نے پی ایم سواندھی یوجنا پر بھی بات کی، جو سڑک کے دکانداروں کو بغیر ضمانت کے قرض فراہم کرتی ہے اور اس بات کا ذکر کیا کہ 60 ہزار سے زیادہ مستفیدین کا تعلق چھتیس گڑھ سے ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت نے گاؤں میں منریگا کے تحت مناسب روزگار فراہم کرنے کے لیے چھتیس گڑھ کو 25000 کروڑ روپے سے زیادہ کی رقم فراہم کی ہے۔

یہ واضح کرتے ہوئے کہ 75 لاکھ مستفیدین میں آیوشمان کارڈ کی تقسیم پہلے سے ہی جاری ہے، وزیر اعظم نے غریبوں اور قبائلی خاندانوں کے لیے ریاست کے 1500 سے زیادہ بڑے اسپتالوں میں ہر سال 5 لاکھ روپے تک کے مفت علاج کی ضمانت پر زور دیا۔ انہوں نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ آیوشمان یوجنا، غریب، قبائلی، پسماندہ اور دلت خاندانوں کی زندگیوں میں مدد کے لیے آرہی ہے۔ خطاب کے اختتام پر وزیر اعظم نے چھتیس گڑھ کے ہر خاندان کی، خدمت کے اسی جذبے کے ساتھ، خدمت کرنے کا یقین دلایا۔

چھتیس گڑھ کے گورنر جناب بسوا بھوسن ہری چندن، چھتیس گڑھ کے وزیر اعلیٰ جناب بھوپیش بگھیل، چھتیس گڑھ کے نائب وزیر اعلیٰ جناب ٹی ایس سنگھ دیو، سڑک ٹرانسپورٹ اور شاہراہوں کے مرکزی وزیر جناب نتن گڈکری، صحت اور خاندانی بہبود کے مرکزی وزیر ڈاکٹر منسکھ منڈاویہ، اراکین اسمبلی اور دیگر بھی اس موقع پر موجود تھے۔

بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے تیئں ایک بڑاقدم اٹھاتے ہوئے، وزیر اعظم نے تقریباً 6400 کروڑ روپے کی مالیت کے 5 قومی شاہراہوں کےپروجیکٹوں کو قوم کے نام وقف کیا اور سنگ بنیاد رکھا۔ جن پروجیکٹوں کو قوم کے نام وقف کیا جائے گا ان میں جبل پور-جگدل پور قومی شاہراہ پر رائے پور سے کوڈبوڈ سیکشن تک 33 کلومیٹر طویل 4 لیننگ شامل ہے۔ سیاحت کو فروغ دینے کے علاوہ، یہ حصہ جگدل پور کے قریب اسٹیل پلانٹس کے خام مال، تیار مصنوعات کی نقل و حرکت کے لیے لازمی ہے اور لوہے سے مالا مال علاقوں سے رابطہ فراہم کرتا ہے۔ وزیر اعظم نے این ایچ - 130 کے امبیکاپور سیکشن سے بلاسپور تک کے 53 کلومیٹر طویل 4 لین بلاس پور-پتھراپلی حصے کو بھی قوم کے نام وقف کیا۔ اس سے چھتیس گڑھ کے اتر پردیش کے ساتھ رابطے کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی اور ملحقہ علاقوں میں کوئلے کی کانوں سے رابطہ فراہم کرکے کوئلے کی نقل و حرکت کو فروغ ملے گا۔

وزیر اعظم نے 6 لین والے گرین فیلڈ رائے پور - وشاکھاپٹنم کوریڈور کے چھتیس گڑھ سیکشن کے لیے 3 نیشنل ہائی وے پروجیکٹوں کا سنگ بنیاد بھی رکھا۔ ان میں این ایچ 130 سی ڈی پر 43 کلومیٹر طویل چھ لین جھانکی-سرگی سیکشن کی ترقی شامل ہے۔ اس میں این ایچ 130 سی ڈی پر 57 کلومیٹر طویل چھ لین والا سرگی-بسنواہی سیکشن؛ اور این ایچ 130 سی ڈی کا 25 کلومیٹر طویل چھ لین والا بسنواہی-مرنگ پوری سیکشن شامل ہے۔ ایک اہم جزو 2.8 کلومیٹر لمبائی کی 6 لین والی سرنگ ہے جس میں جانوروں کے گزرنے 27باسس اور 17 بندروں کی کینوپیزشامل ہے جس میں اودانتی وائلڈ لائف سینکچری کے علاقے میں، جنگلیاتی حیات کی غیر محدود نقل و حرکت کی سہولیت ہے۔ یہ پروجیکٹ دھمتری میں چاول کی ملوں اور کانکیر کے باکسائٹ سے مالا مال علاقوں کو بہتر رابطہ فراہم کریں گے اور کونڈاگاؤں میں دستکاری کی صنعت کو بھی فائدہ پہنچے گا۔ مجموعی طور پر، یہ منصوبے خطے کی سماجی و اقتصادی ترقی کو بہت استحکام بخشیں گے۔

وزیر اعظم نے 103 کلومیٹر طویل رائے پور - کھریار روڈ ریل لائن کو دوگنا کرنے کا کام بھی قوم کو وقف کیا جو 750 کروڑ روپے کی لاگت سے مکمل کی گئی ہے۔ اس سے چھتیس گڑھ میں صنعتوں کے لیے بندرگاہوں سے کوئلہ، اسٹیل، کھاد اور دیگر اجناس کی نقل و حمل میں آسانی ہوگی۔ انہوں نے 290 کروڑ روپے کی لاگت سے کیوٹی-انٹا گڑھ کو جوڑنے والی 17 کلومیٹر لمبی نئی ریلوے لائن بھی قوم کے نام وقف کی۔ نئی ریلوے لائن بھیلائی اسٹیل پلانٹ کو دلی راجہارا اور روگھاٹ علاقوں کی لوہے کی کانوں کے ساتھ رابطہ فراہم کرے گی اور گھنے جنگلات سے گزرتے ہوئے جنوبی چھتیس گڑھ کے دور دراز علاقوں کو منسلک کرے گی۔

وزیر اعظم نے، کوربا میں سالانہ 60 ہزار میٹرک ٹن کی صلاحیت کے ساتھ، انڈین آئل کارپوریشن کا ایک بوٹلنگ پلانٹ بھی قوم کو وقف کیا، جو 130 کروڑ روپے سے زیادہ کی لاگت سے تعمیر کیا گیا ہے۔ انہوں نے ویڈیو لنک کے ذریعے انٹا گڑھ – رائے پور ٹرین کو بھی جھنڈی دکھا کر روانہ کیا۔ مزید یہ کہ وزیر اعظم نے آیوشمان بھارت کے تحت استفادہ کنندگان میں 75 لاکھ کارڈوں کی تقسیم کی شروعات کی۔ 

تقریر کا مکمل متن پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
Emerging cities see 42% growth in GCC jobs, outpacing metros: Report

Media Coverage

Emerging cities see 42% growth in GCC jobs, outpacing metros: Report
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
PM Modi chairs 51st PRAGATI Meeting
May 27, 2026
PM reviews seven critical infrastructure projects across the Railways, Power and Road sectors
Projects reviewed span across 9 States with cumulative investment of around ₹30,000 crore
PM also reviews Ken Betwa Link Project and Swachh Bharat Mission-Urban 2.0
PM says Ken-Betwa River Inter-linking Project should serve as a model for other States to resolve inter-State water issues amicably
PM asks States to expedite the completion of solid waste management-related infrastructure, including waste processing plants and GOBARdhan plants
PM calls for mission-mode rooftop solar coverage in urban areas
Acting upon the advice of PM, system of monthly review of social sector schemes at State level operationalised, starting with review of Swachh Bharat Mission

Prime Minister Shri Narendra Modi chaired the 51st meeting of PRAGATI, the ICT-enabled, multi-modal platform aimed at fostering Pro-Active Governance and Timely Implementation, by seamlessly integrating efforts of the Central and State governments, at Seva Teerth, earlier today.

During the meeting, the Prime Minister reviewed seven critical infrastructure projects across the Railways, Power and Road sectors covering nine States worth around ₹30,000 crore. These projects, pivotal to economic growth and public welfare, were reviewed with a focus on timelines, inter-agency coordination, and timely issue resolution. Prime Minister also reviewed Ken Betwa Link Project and Swachh Bharat Mission-Urban 2.0.

While reviewing power sector projects, Prime Minister emphasized the need to accelerate rooftop solar adoption across urban areas, with a special focus on cities, residential clusters and public institutions. He underlined that rooftop solar should be taken up in mission mode to reduce electricity costs, improve energy security and promote clean energy at the household and community level.

While reviewing road and port connectivity projects, it was emphasised that Vadhavan Port should be developed as a model of port-led, multi-modal development, where every major mode of transport is seamlessly integrated to create a future-ready logistics ecosystem. The project should not be seen merely as a port, but as a national gateway connected through coastal shipping, inland waterways, dedicated freight corridors, high-speed rail connectivity, highways and airport linkages.

Prime Minister emphasised the need for effective implementation of Swachh Bharat Mission 2.0 and underlined that the mission should move beyond infrastructure creation and ensure measurable outcomes through regular monitoring, citizen participation and convergence between various stakeholders. He asked States to expedite the completion of solid waste management-related infrastructure, including waste processing plants and GOBARdhan plants.

While reviewing Ken-Betwa River Inter-linking Project, Prime Minister observed that Ken-Betwa project should serve as a model for other States to resolve inter-State water issues through cooperation, timely clearances, technology-based monitoring and mission-mode execution. States were encouraged to identify similar opportunities where river-linking, water conservation, groundwater recharge and efficient irrigation can be taken up in an integrated manner to ensure long-term water security.

Prime Minister also underlined that the delay in the implementation of public projects leads not only to cost escalation but also deprives citizens of timely access to essential facilities and development benefits. He observed that every delay has a direct impact on people’s lives, regional growth and public resources. He stressed that Ministries, Departments and States must adopt a more proactive and time-bound approach to resolve pending issues, remove bottlenecks and ensure faster execution.

Prime Minister also emphasized that innovative use of canal networks should be explored, including installation of solar panels along canals and over canals for clean electricity generation. This would help optimize land use, reduce evaporation losses, generate renewable energy and create additional economic value from water infrastructure.

At the beginning of the meeting, the Cabinet Secretary informed that, in pursuance of the directions of the Prime Minister, a system of monthly review of social sector schemes at the State level has also been operationalised. This mechanism aims to ensure regular monitoring, faster resolution of implementation issues and greater accountability at the State and district levels. As part of this initiative, Swachh Bharat Mission has been taken up for review at the State level in the first instance.