ایودھیا اور اس کے آس پاس کے علاقوں کو 11,100 کروڑ روپے سے زیادہ کے ترقیاتی پروجیکٹوں سے فائدہ ہوگا
’’دنیا 22 جنوری کا بے صبری سے انتظار کر رہی ہے، میں بھی اس کا منتظر ہوں‘‘
ایودھیا سے وکست بھارت مہم کو نئی توانائی مل رہی ہے
’’آج کا ہندوستان قدیم اور جدید دونوں کو سمیٹ کر آگے بڑھ رہا ہے‘‘
’’ایودھیا، نہ صرف اودھ خطہ بلکہ پورے اتر پردیش کی ترقی کو نئی سمت دے گا‘‘
’’مہارشی والمیکی کی رامائن علم کی ایسی راہ ہے جو ہمیں شری رام سے جوڑتی ہے‘‘
’’غریبوں کی خدمت کا احساس جدید، امرت بھارت ٹرینوں میں شامل حال ہے‘‘
22 جنوری کو ہر گھر میں شری رام جیوتی روشن کریں
’’سکیورٹی اور لاجسٹک وجوہات کی بنا پر، 22 جنوری کو تقریب کے اختتام کے بعد ہی، ایودھیا کے اپنے دورے کا منصوبہ بنائیں‘‘
’’مکر سنکرانتی کے دن 14 جنوری سے ملک بھر میں یاتری مقامات پر صفائی کی ایک بڑی مہم کے ساتھ عظیم الشان رام مندر کا جشن منائیں‘‘
’’آج ملک کو مودی کی گارنٹی پر بھروسہ ہے، کیونکہ مودی نے جو گارنٹی دی ہے اسے پورا کرنے کی پوری کوشش کرتے ہیں، ایودھیا بھی اس کی گواہ ہے‘‘

وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج افتتاح کیا، قوم کے نام وقف کیا اور ایودھیا دھام میں 15,700 کروڑ روپے سے زیادہ کے متعدد ترقیاتی پروجیکٹوں کا سنگ بنیاد رکھا۔ ان میں ایودھیا اور اس کے آس پاس کے علاقوں کی ترقی کے لیے تقریباً 11,100 کروڑ روپے کے پروجیکٹ اور پورے اتر پردیش میں دیگر پروجیکٹوں سے متعلق تقریباً 4600 کروڑ روپے کے پروجیکٹ شامل ہیں۔

قبل ازیں وزیر اعظم مودی نے از سر نو تعمیر شدہ ایودھیا ریلوے اسٹیشن کا افتتاح کیا اور نئی امرت بھارت ٹرینوں اور وندے بھارت ٹرینوں کو ہری جھنڈی دکھائی۔ انہوں نے ریلوے کے کئی دیگر منصوبے بھی قوم کے نام وقف کئے۔ اس کے بعد انہوں نے نو تعمیر شدہ ایودھیا ہوائی اڈے کا بھی افتتاح کیا۔ ہوائی اڈے کا نام مہارشی والمیکی انٹرنیشنل ایئرپورٹ رکھا گیا ہے۔

 

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے ایودھیا دھام میں آنے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے، اپنے روڈ شو کے دوران اس مقدس شہر میں موجود جوش و خروش کا ذکر کیا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ دنیا 22 جنوری کا بے صبری سے انتظار کررہی ہے۔ میں ہندوستان کے ہر ذرّے اور فرد کا عقیدت مند ہوں، میں بھی آنے والے رام مندر میں پران پرتشٹھا کے دن کے لیے بے تاب ہوں۔

وزیر اعظم نے 30 دسمبر کی اہمیت کا ذکر کیا، کیونکہ نیتا جی سبھاس چندر بوس نے 1943 میں اسی دن انڈمان میں ترنگا لہرایا تھا۔ انھوں نے مزید کہا کہ ’’آزادی کی تحریک سے جڑے ایک ایسے مبارک دن پر، آج ہم امرت کال کے عزم کو آگے بڑھا رہے ہیں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ وکست بھارت مہم کو ایودھیا سے نئی توانائی مل رہی ہے۔ انھوں نے ترقیاتی منصوبوں کے لیے ایودھیا کے لوگوں کو مبارکباد دی۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ یہ پروجیکٹ ایودھیا کو قومی نقشے پر دوبارہ مرتسم کرنے کا کام کریں گے۔

 

وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ ورثے کی دیکھ بھال ترقی کی نئی بلندیوں کو سر کرنے کا ایک لازمی حصہ ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’’آج کا ہندوستان قدیم اور جدید دونوں کو شامل کرتے ہوئے آگے بڑھ رہا ہے۔‘‘ انھوں نے 4 کروڑ غریب شہریوں کے لئے پکے مکانات، ڈیجیٹل انڈیا میں پیش رفت کے ساتھ مذہبی مقامات کی تزئین و آرائش؛ 30000 سے زیادہ پنچایت بھونوں کے ساتھ کاشی وشوناتھ دھام ؛ 315 سے زیادہ میڈیکل کالجوں کے ساتھ کیدار دھام کے احیاء؛ ہر گھر جل کے ساتھ مہاکال مہالوک؛ بیرون ملک سے ورثے کے نمونوں کی واپسی، خلا اور سمندر میں حاصل کامیابیوں کے ساتھ رام للا کے عظیم الشان مندر کو جوڑکر اس نکتے کی وضاحت کی۔

انہوں نے سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے آنے والے پران پرتشٹھا کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آج یہاں ترقی کا جشن ہے، کچھ دنوں کے بعد روایت کا تہوار ہوگا، آج ہم ترقی کی شان دیکھ رہے ہیں، کچھ دنوں کے بعد ہمیں وراثت کی روحانیت کا احساس ہوگا۔ ترقی اور ورثے کی یہ اجتماعی طاقت ہندوستان کو  21ویں صدی میں آگے لے جائے گی۔ ایودھیا کی قدیم شان کا ذکر کرتے ہوئے، جیسا کہ خود مہارشی والمیکی نے بیان کیا ہے، وزیر اعظم نے اسے جدیدیت سے جوڑکر اس شان کو واپس لانے کی خواہش کا اعادہ کیا۔

وزیر اعظم مودی نے کہا کہ ’’ایودھیا، نہ صرف اودھ خطہ، بلکہ پورے اتر پردیش کی ترقی کو نئی سمت دے گا۔‘‘ انہوں نے عظیم الشان مندر کے تناظر میں اس مقدس شہر میں آنے والے یاتریوں اور سیاحوں کے متوقع اضافہ کی طرف اشارہ کیا اور کہا کہ مانگ کو پورا کرنے کے لئے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنایا جا رہا ہے۔

وزیر اعظم نے ایودھیا ہوائی اڈے کا نام مہارشی والمیکی کے نام پر رکھنے پر خوشی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ مہارشی والمیکی کی رامائن علم کی وہ راہ ہے جو ہمیں شری رام سے جوڑتی ہے۔ جدید ہندوستان میں مہارشی والمیکی بین الاقوامی ہوائی اڈہ ہمیں ایودھیا دھام اور عظیم الشان نئے رام مندر سے جوڑ دے گا۔ پہلے مرحلے میں ہوائی اڈہ سالانہ 10 لاکھ مسافروں کو سنبھال سکتا ہے اور دوسرے مرحلے کے بعد مہارشی والمیکی بین الاقوامی ہوائی اڈہ سالانہ  60 لاکھ مسافروں کو سنبھال سکے گا۔ انہوں نے بتایا کہ ایودھیا دھام ریلوے اسٹیشن 10 ہزار لوگوں کو ہینڈل کرتا ہے، اب تعمیر نو کے بعد یہ 60 ہزار تک مسافروں کو سنبھال سکے گا۔ اسی طرح انہوں نے بتایا کہ رام پتھ، بھکتی پتھ، دھرم پتھ اور شری رام جنم بھومی پتھ، کار پارکنگ، نئے میڈیکل کالج، سریو جی کی آلودگی کو روکنے، رام کی پیڑی کی شکل و صورت کو تبدیل کرنے، گھاٹوں کے اپ گریڈیشن، قدیم کنڈوں کی تزئین و آرائش، لتا منگیشکر چوک، ایودھیا کو نئی شناخت دے رہے ہیں اور مقدس شہر میں آمدنی اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کر رہے ہیں۔

 

وزیر اعظم نے وندے بھارت اور نمو بھارت کے بعد نئی ٹرین سیریز ’امرت بھارت‘ ٹرینوں کے بارے میں بتایا اور اس بات پر مسرت کا اظہار کیا کہ پہلی امرت بھارت ٹرین ایودھیا سے گزر رہی ہے۔ انہوں نے یوپی، دہلی، بہار، مغربی بنگال اور کرناٹک کے لوگوں کو آج یہ ٹرینیں ملنے پر مبارکباد دی۔ وزیر اعظم نے غریبوں کی خدمت کے اس احساس کو اجاگر کیا جو جدید امرت بھارت ٹرینیں چلانے میں جاگزیں ہے۔وہ لوگ جو اکثر اپنے کام کی وجہ سے لمبی دوری کا سفر کرتے ہیں، اور جن کی اتنی آمدنی نہیں ہے، وہ بھی جدید سہولیات اور آرام دہ سفر کے حقدار ہیں۔ ان ٹرینوں کو غریبوں کی زندگی میں وقار کو مدنظر رکھتے ہوئے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ وزیر اعظم نے اس کردار کو بھی اجاگر کیا جو وندے بھارت ٹرینیں ترقی کو ورثے سے جوڑنے میں ادا کر رہی ہیں۔ ملک کی پہلی وندے بھارت ایکسپریس ٹرین کاشی سے چلی۔ آج وندے بھارت ایکسپریس ٹرینیں ملک کے 34 روٹوں پر چل رہی ہیں۔ وزیر اعظم مودی نے کہا کہ وندے بھارت کاشی، کٹرا، اجین، پشکر، تروپتی، شرڈی، امرتسر، مدورئی، جیسے ہر بڑے عقیدت کے مرکز کو جوڑتا ہے۔ اسی سلسلے میں، آج ایودھیا کو وندے بھارت ٹرین کا تحفہ بھی ملا ہے ۔‘‘

وزیر اعظم نے ملک کے تمام حصوں میں ’یاتراؤں‘ کی قدیم روایات کا ذکر کیا اور کہا کہ ایودھیا دھام میں جو سہولیات دستیاب کرائی جا رہی ہیں اس سے عقیدت مندوں کی دھام یاترا زیادہ آرام دہ ہو جائے گی۔

وزیر اعظم نے تمام 140 کروڑ ہندوستانیوں سے شری رام جیوتی روشن کرنے کی اپیل کی۔ وزیر اعظم مودی نے کہا کہ ’’یہ تاریخی لمحہ خوش قسمتی سے ہم سب کی زندگیوں میں آیا ہے۔ ہمیں ملک کے لیے ایک نیا عزم کرنا ہے اور اسے نئی توانائی سے پُر کرنا ہے۔‘‘  پران پرتشٹھا کے لیے ہر کسی کی حاضری کی خواہش کو ذہن میں رکھتے ہوئے، وزیر اعظم نے سبھی سے یہ بھی درخواست کی کہ وہ 22 جنوری کے پروگرام کے بعد ہی ایودھیا کے دورے کی منصوبہ بندی کریں، کیونکہ یہ سیکورٹی اور انتظامات کے نقطہ نظر سے اہم ہے۔ انہوں نے سب سے کہا کہ وہ 23 جنوری کے بعد اپنے دورے کی منصوبہ بندی کریں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے 550 سال انتظار کیا، کچھ اور انتظار سہی۔

 

ایودھیا کے لوگوں کو مستقبل میں لاتعداد یاتریوں کی آمد کے لیے تیار رکھنے کی بات کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے صفائی پر اپنا زور دہرایا اور ان سے کہا کہ وہ ایودھیا کو ملک کا سب سے صاف ستھرا شہر بنائیں۔ وزیر اعظم نے ہندوستان کے شہریوں سے مطالبہ کیا کہ ’’عظیم الشان رام مندر کے لیے، 14 جنوری، مکر سنکرانتی کے دن سے ملک بھر کے یاتری مقامات پر صفائی کی ایک بڑی مہم شروع کی جانی چاہیے۔‘‘

وزیر اعظم نے اُجولا گیس کنکشن کے 10 کروڑ استفادہ کنندگان کے گھر جانے کا اپنا تجربہ بھی بیان کیا۔ انہوں نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ یکم مئی 2016 کو یوپی کے بلیا ضلع سے شروع ہونے والی اُجولا اسکیم نے دھواں سے حفاظت کرنے میں بہت سی خواتین کی مدد کی ہے اور ان کی زندگیوں کو بدل دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 10 سالوں میں 18 کروڑ گیس کنکشن فراہم کئے گئے جن میں 10 کروڑ مفت کنکشن بھی شامل ہیں، جبکہ اس سے پہلے 50-55 سالوں میں صرف 14 کروڑ کنکشن فراہم کیے گئے تھے۔

وزیراعظم نے پوری قوت سے عوام کی خدمت کرنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’آج کل کچھ لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ مودی کی گارنٹی میں اتنی طاقت کیوں ہے؟ مودی کی گارنٹی میں اتنی طاقت ہے، کیونکہ مودی وہی کرتا ہے جو وہ کہتا ہے۔ آج ملک کو مودی کی گارنٹی پر بھروسہ ہے، کیونکہ مودی جو گارنٹی دیتے ہیں اسے پورا کرنے کی پوری کوشش کرتے ہیں۔ ایودھیا کا یہ شہر بھی اس کا گواہ ہے۔ اور آج میں ایک بار پھر ایودھیا کے لوگوں کو یقین دلاتا ہوں کہ ہم اس مقدس مقام کی ترقی میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے۔‘‘

 

منصوبے کی تفصیلات

ایودھیا میں شہری بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنایا گیا

وجود میں آنے والے شری رام مندر تک رسائی کو بڑھانے کے لیے، وزیر اعظم نے ایودھیا میں چار نئی تعمیر شدہ، چوڑی اور خوبصورت سڑکوں - رام پتھ، بھکتی پتھ، دھرم پتھ اور شری رام جنم بھومی پتھ کا افتتاح کیا۔

 

وزیر اعظم نے کئی پروجیکٹوں کا بھی افتتاح کیا اور انھیں قوم کے نام وقف کیا جو شہری بنیادی ڈھانچے کو مضبوط کریں گے اور ایودھیا اور اس کے آس پاس کے عوامی مقامات کو خوبصورت بنائیں گے۔ جن منصوبوں کا افتتاح کیا گیا ان میں راجرشی دشرتھ خود مختار ریاستی میڈیکل کالج شامل ہیں۔ ایودھیا-سلطان پور روڈ-ایئرپورٹ کو جوڑنے والی چار لین سڑک؛ اینچ ایچ-27 بائی پاس مہوبرا بازار ہوتے ہوئے ٹیڑھی بازار شری رام جنم بھومی تک چار لین والی سڑک؛ شہر بھر میں کئی خوبصورت سڑکیں اور ایودھیا بائی پاس؛ این ایچ- 330 اے کا جگدیش پور-فیض آباد سیکشن؛ مہولی-باراگاؤں-ڈیوڑھی روڈ اور جسر پور-بھاؤپور-گنگارامن-سریش نگر روڈ کو چوڑا اور مضبوط کرنا، پنچکوسی پریکرما مارگ پر بڑی بوا ریلوے کراسنگ پر آر او بی ؛ پکھرولی گاؤں میں ٹھوس کچرے کا ٹریٹمنٹ پلانٹ؛ اور ڈاکٹر برج کشور ہومیو پیتھک کالج اور اسپتال میں نئی عمارتیں اور کلاس روم وغیرہ شامل ہیں۔وزیر اعظم نے مکھیہ منتری نگر سریجن یوجنا کے کام اور پانچ پارکنگ اور تجارتی سہولیات سے متعلق کاموں کا بھی افتتاح کیا۔

ایودھیا میں نئے پروجیکٹوں کا سنگ بنیاد

وزیر اعظم نے نئے پروجیکٹوں کا سنگ بنیاد بھی رکھا جس سے ایودھیا میں شہری سہولیات کی بحالی میں مزید مدد ملے گی، جبکہ شہر کے امیر ثقافتی ورثے کو بھی تقویت ملے گی۔ ان میں ایودھیا میں چار تاریخی داخلی دروازوں کا تحفظ اور تزئین کاری، گپتر گھاٹ اور راج گھاٹ کے درمیان کنکریٹ کے نئے گھاٹ اور پہلے سے بنے ہوئے گھاٹوں کی بحالی؛ نیا گھاٹ سے لکشمن گھاٹ تک سیاحتی سہولیات کی ترقی اور تزئین کاری؛ رام کی پیڑی میں دیپوتسو اور دیگر میلوں کے لیے وزیٹر گیلری کی تعمیر؛ رام کی پیڑی سے راج گھاٹ اور راج گھاٹ سے رام مندر تک یاتریوں کے راستے کی مضبوطی اور تزئین و آرائش شامل ہیں۔

وزیر اعظم نے ایودھیا میں  2180 کروڑ روپے سے زیادہ کی لاگت سے تیار ہونے والی گرین فیلڈ ٹاؤن شپ اور تقریباً 300 کروڑ روپے کی لاگت سے تیار ہونے والی وششٹھ کنج رہائشی اسکیم کا سنگ بنیاد بھی رکھا۔

وزیر اعظم نے این ایچ- 28 (نیا این ایچ- 27) لکھنؤ-ایودھیا سیکشن کا بھی سنگ بنیاد رکھا، جن میں موجودہ ایودھیا بائی پاس این ایچ- 28 (نیا این ایچ-27) کی مضبوطی اور ترمیم؛ ایودھیا میں سی آئی پی ای ٹی سینٹر کا قیام، اور میونسپل کارپوریشن ایودھیا اور ایودھیا ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے دفتر کا تعمیراتی کام شامل ہیں۔

پورے اتر پردیش میں دیگر پروجیکٹ

عوامی پروگرام کے دوران، وزیر اعظم نے پورے اتر پردیش میں دیگر اہم پروجیکٹوں کا افتتاح کیا اور انھیں قوم کے نام وقف کیا۔ ان میں گوسائیں کی بازار بائی پاس- وارانسی (گھاگھرا پل- وارانسی) (این ایچ-233) کو چوڑا کرکے چار لین میں تبدیل کرنا،  این ایچ- 730 کے کھتر سے لکھیم پور سیکشن کو مضبوط اور اپ گریڈ کرنا، امیٹھی ضلع کے ترشنڈی میں ایل پی جی پلانٹ کی صلاحیت میں اضافہ، پنکھا میں 30 ایم ایل ڈی اور جاجماؤ، کانپور میں 130 ایم ایل ڈی کا سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ؛ اناؤ ضلع میں نالوں اور سیوریج ٹریٹمنٹ کا انٹرسیپشن اور ڈائیورژن؛ اور کانپور کے جاجماؤ میں ٹینری کلسٹر کے لیے سی ای ٹی پی شامل ہیں۔

 

ریلوے پروجیکٹس:

وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج ازسرنو تعمیر شدہ ایودھیا ریلوے اسٹیشن کا افتتاح کیا اور نئی امرت بھارت ٹرینوں اور وندے بھارت ٹرینوں کو ہری جھنڈی دکھائی۔ انہوں نے ریلوے کے کئی دیگر منصوبے بھی قوم کے نام وقف کئے۔

ایودھیا دھام جنکشن ریلوے اسٹیشن کے نام سے مشہور ایودھیا ریلوے اسٹیشن کا پہلا مرحلہ 240 کروڑ روپے سے زیادہ کی لاگت سے تیار کیا گیا ہے۔ تین منزلہ جدید ریلوے اسٹیشن کی عمارت تمام جدید خصوصیات، جیسے لفٹیں، ایسکلیٹرز، فوڈ پلازہ، پوجا کی ضروریات کے لیے دکانیں، کلاک روم، بچوں کی دیکھ بھال کے کمرے، ویٹنگ ہال شامل ہیں۔ اسٹیشن کی عمارت ’سب کے لیے قابل رسائی‘ اور ’آئی جی بی سی سرٹیفائیڈ گرین اسٹیشن بلڈنگ‘ ہوگی۔

ایودھیا دھام جنکشن ریلوے اسٹیشن پر پروگرام میں وزیر اعظم نے ملک میں سپر فاسٹ مسافر ٹرینوں کے ایک نئے زمرے - امرت بھارت ایکسپریس کو جھنڈی دکھائی۔ امرت بھارت ٹرین ایک ایل ایچ بی پش پل ٹرین ہے، جس میں نان ایئر کنڈیشنڈ کوچز ہیں۔ بہتر تیز رفتاری کے لیے اس ٹرین کے دونوں سروں پر لوکو (انجن) ہیں۔ یہ ریل مسافروں کو بہتر سہولیات جیسے خوبصورت اور پرکشش ڈیزائن کردہ سیٹیں، بہتر سامان ریک، مناسب موبائل ہولڈر کے ساتھ موبائل چارجنگ پوائنٹ، ایل ای ڈی لائٹس، سی سی ٹی وی، پبلک انفارمیشن سسٹم وغیرہ فراہم کرتا ہے۔ وزیر اعظم نے چھ نئی وندے بھارت ٹرینوں کو بھی ہری جھنڈی دکھائی۔

 

وزیر اعظم نے دو نئی امرت بھارت ٹرینوں جیسے دربھنگہ-ایودھیا-آنند وہار ٹرمینل امرت بھارت ایکسپریس اور مالدہ ٹاؤن-سر ایم۔ ویسویسوریا ٹرمینس (بنگلور) امرت بھارت ایکسپریس کو ہری جھنڈی دکھائی۔

وزیر اعظم نے امرت ٹرین کے افتتاحی سفر میں سفر کرنے والے اسکولی بچوں سے بات چیت کی۔

وزیر اعظم نے چھ نئی وندے بھارت ٹرینوں کو بھی ہری جھنڈی دکھائی۔ ان میں شری ماتا ویشنو دیوی کٹرا-نئی دہلی وندے بھارت ایکسپریس شامل ہیں۔ امرتسر-دہلی وندے بھارت ایکسپریس؛ کوئمبٹور-بنگلور کینٹ وندے بھارت ایکسپریس؛ منگلور-مڈگاؤں وندے بھارت ایکسپریس؛ جالنا-ممبئی وندے بھارت ایکسپریس اور ایودھیا-آنند وہار ٹرمینل وندے بھارت ایکسپریس شامل ہیں۔

وزیر اعظم نے خطے میں ریل کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے لیے 2300 کروڑ روپے کے تین ریلوے پروجیکٹوں کو بھی قوم کے نام وقف کیا۔ ان منصوبوں میں روما چکیری-چندیری تھرڈ لائن پروجیکٹ، جونپور-تلسی نگر، اکبر پور-ایودھیا، سوہاوال-پٹرنگا اور جونپور-ایودھیا-بارہ بنکی کے صفدر گنج-رسولی سیکشنوں کی ڈبلنگ پروجیکٹ؛ اور ملہور-ڈالی گنج ریلوے سیکشن کا ڈبلنگ اور الیکٹریفکیشن پروجیکٹ شامل ہیں۔

 

مہارشی والمیکی انٹرنیشنل ایئرپورٹ ایودھیا دھام

وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج نو تعمیر شدہ ایودھیا ہوائی اڈے کا افتتاح کیا۔ ہوائی اڈے کا نام مہارشی والمیکی انٹرنیشنل ایئرپورٹ رکھا گیا ہے۔

 

جدید ترین ہوائی اڈے کا پہلا مرحلہ 1450 کروڑ روپے سے زیادہ کی لاگت سے تیار کیا گیا ہے۔ ہوائی اڈے کی ٹرمینل عمارت کا رقبہ 6500 مربع میٹر ہوگا، جو سالانہ تقریباً  10 لاکھ مسافروں کی خدمت کی صلاحیت سے لیس ہوگا۔ ٹرمینل بلڈنگ کا آگے کا حصہ ایودھیا کے مجوزہ شری رام مندر کے ٹیمپل آرکیٹکچر کو ظاہر کرتا ہے۔ ٹرمینل بلڈنگ کے اندرونی حصوں کو مقامی آرٹ، پینٹنگز اور مورلز سے سجایا گیا ہے، جس میں بھگوان شری رام کی زندگی کی عکاسی کی گئی ہے۔ ایودھیا ہوائی اڈے کی ٹرمینل عمارت مختلف پائیداری خصوصیات سے بھی لیس ہے، جس میں انسولیٹیڈ روفنگ سسٹم، ایل ای ڈی لائٹنگ، بارش کے پانی کو جمع کرنے کی سہولت، فوارے کے ساتھ زمین کی تزئین و آرائش، پانی کی صفائی کا پلانٹ، سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ، سولر پاور پلانٹ اور اس طرح کی بہت سی دیگر خصوصیات جی آر آئی ایچ اے- 5 اسٹار ریٹنگز کو پورا کرنے کے لئے فراہم کیا گیا ہے۔ ہوائی اڈہ خطے میں کنیکٹیوٹی کو بہتر بنائے گا، جس سے سیاحت، کاروباری سرگرمیوں اور روزگار کے مواقع میں اضافہ ہوگا۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

تقریر کا مکمل متن پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

Explore More
لال قلعہ کی فصیل سے 77ویں یوم آزادی کے موقع پر وزیراعظم جناب نریندر مودی کے خطاب کا متن

Popular Speeches

لال قلعہ کی فصیل سے 77ویں یوم آزادی کے موقع پر وزیراعظم جناب نریندر مودی کے خطاب کا متن
India sets sights on global renewable ammonia market, takes strides towards sustainable energy leadership

Media Coverage

India sets sights on global renewable ammonia market, takes strides towards sustainable energy leadership
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
PM Modi's Interview to IANS
May 27, 2024

पहले तो मैं आपकी टीम को बधाई देता हूं भाई, कि इतने कम समय में आपलोगों ने अच्छी जगह बनाई है और एक प्रकार से ग्रासरूट लेवल की जो बारीक-बारीक जानकारियां हैं। वह शायद आपके माध्यम से जल्दी पहुंचती है। तो आपकी पूरी टीम बधाई की पात्र है।

Q1 - आजकल राहुल गांधी और अरविंद केजरीवाल को पाकिस्तान से इतना endorsement क्यों मिल रहा है ? 370 ख़त्म करने के समय से लेकर आज तक हर मौक़े पर पाकिस्तान से उनके पक्ष में आवाज़ें आती हैं ?

जवाब – देखिए, चुनाव भारत का है और भारत का लोकतंत्र बहुत ही मैच्योर है, तंदरुस्त परंपराएं हैं और भारत के मतदाता भी बाहर की किसी भी हरकतों से प्रभावित होने वाले मतदाता नहीं हैं। मैं नहीं जानता हूं कि कुछ ही लोग हैं जिनको हमारे साथ दुश्मनी रखने वाले लोग क्यों पसंद करते हैं, कुछ ही लोग हैं जिनके समर्थन में आवाज वहां से क्यों उठती है। अब ये बहुत बड़ी जांच पड़ताल का यह गंभीर विषय है। मुझे नहीं लगता है कि मुझे जिस पद पर मैं बैठा हूं वहां से ऐसे विषयों पर कोई कमेंट करना चाहिए लेकिन आपकी चिंता मैं समझ सकता हूं।

 

Q 2 - आप ने भ्रष्टाचार के ख़िलाफ़ मुहिम तेज करने की बात कही है अगली सरकार जब आएगी तो आप क्या करने जा रहे हैं ? क्या जनता से लूटा हुआ पैसा जनता तक किसी योजना या विशेष नीति के जरिए वापस पहुंचेगा ?

जवाब – आपका सवाल बहुत ही रिलिवेंट है क्योंकि आप देखिए हिंदुस्तान का मानस क्या है, भारत के लोग भ्रष्टाचार से तंग आ चुके हैं। दीमक की तरह भ्रष्टाचार देश की सारी व्यवस्थाओं को खोखला कर रहा है। भ्रष्टाचार के लिए आवाज भी बहुत उठती है। जब मैं 2013-14 में चुनाव के समय भाषण करता था और मैं भ्रष्टाचार की बातें बताता था तो लोग अपना रोष व्यक्त करते थे। लोग चाहते थे कि हां कुछ होना चाहिए। अब हमने आकर सिस्टमैटिकली उन चीजों को करने पर बल दिया कि सिस्टम में ऐसे कौन से दोष हैं अगर देश पॉलिसी ड्रिवन है ब्लैक एंड व्हाइट में चीजें उपलब्ध हैं कि भई ये कर सकते हो ये नहीं कर सकते हो। ये आपकी लिमिट है इस लिमिट के बाहर जाना है तो आप नहीं कर सकते हो कोई और करेगा मैंने उस पर बल दिया। ये बात सही है..लेकिन ग्रे एरिया मिनिमल हो जाता है जब ब्लैक एंड व्हाइट में पॉलिसी होती है और उसके कारण डिसक्रिमिनेशन के लिए कोई संभावना नहीं होती है, तो हमने एक तो पॉलिसी ड्रिवन गवर्नेंस पर बल दिया। दूसरा हमने स्कीम्स के सैचुरेशन पर बल दिया कि भई 100% जो स्कीम जिसके लिए है उन लाभार्थियों को 100% ...जब 100% है तो लोगों को पता है मुझे मिलने ही वाला है तो वो करप्शन के लिए कोई जगह ढूंढेगा नहीं। करप्शन करने वाले भी कर नहीं सकते क्योंकि वो कैसे-कैसे कहेंगे, हां हो सकता है कि किसी को जनवरी में मिलने वाला मार्च में मिले या अप्रैल में मिले ये हो सकता है लेकिन उसको पता है कि मिलेगा और मेरे हिसाब से सैचुरेशन करप्शन फ्री गवर्नेंस की गारंटी देता है। सैचुरेशन सोशल जस्टिस की गारंटी देता है। सैचुरेशन सेकुलरिज्म की गारंटी देता है। ऐसे त्रिविध फायदे वाली हमारी दूसरी स्कीम, तीसरा मेरा प्रयास रहा कि मैक्सिमम टेक्नोलॉजी का उपयोग करना। टेक्नोलॉजी में भी..क्योंकि रिकॉर्ड मेंटेन होते हैं, ट्रांसपेरेंसी रहती है। अब डायरेक्ट बेनेफिट ट्रांसफर में 38 लाख करोड़ रुपए ट्रांसफर किए हमने। अगर राजीव गांधी के जमाने की बात करें कि एक रुपया जाता है 15 पैसा पहुंचता है तो 38 लाख करोड़ तो हो सकता है 25-30 लाख करोड़ रुपया ऐसे ही गबन हो जाते तो हमने टेक्नोलॉजी का भरपूर उपयोग किया है। जहां तक करप्शन का सवाल है देश में पहले क्या आवाज उठती थी कि भई करप्शन तो हुआ लेकिन उन्होंने किसी छोटे आदमी को सूली पर चढ़ा दिया। सामान्य रूप से मीडिया में भी चर्चा होती थी कि बड़े-बड़े मगरमच्छ तो छूट जाते हैं, छोटे-छोटे लोगों को पकड़कर आप चीजें निपटा देते हो। फिर एक कालखंड ऐसा आया कि हमें पूछा जाता था 19 के पहले कि आप तो बड़ी-बड़ी बातें करते थे क्यों कदम नहीं उठाते हो, क्यों अरेस्ट नहीं करते हो, क्यों लोगों को ये नहीं करते हो। हम कहते थे भई ये हमारा काम नहीं है, ये स्वतंत्र एजेंसी कर रही है और हम बदइरादे से कुछ नहीं करेंगे। जो भी होगा हमारी सूचना यही है जीरो टोलरेंस दूसरा तथ्यों के आधार पर ये एक्शन होना चाहिए, परसेप्शन के आधार पर नहीं होना चाहिए। तथ्य जुटाने में मेहनत करनी पड़ती है। अब अफसरों ने मेहनत भी की अब मगरमच्छ पकड़े जाने लगे हैं तो हमें सवाल पूछा जा रहा है कि मगरमच्छों को क्यों पकड़ते हो। ये समझ में नहीं आता है कि ये कौन सा गैंग है, खान मार्केट गैंग जो कुछ लोगों को बचाने के लिए इस प्रकार के नैरेटिव गढ़ती है। पहले आप ही कहते थे छोटों को पकड़ते हो बड़े छूट जाते हैं। जब सिस्टम ईमानदारी से काम करने लगा, बड़े लोग पकड़े जाने लगे तब आप चिल्लाने लगे हो। दूसरा पकड़ने का काम एक इंडिपेंडेंट एजेंसी करती है। उसको जेल में रखना कि बाहर रखना, उसके ऊपर केस ठीक है या नहीं है ये न्यायालय तय करता है उसमें मोदी का कोई रोल नहीं है, इलेक्टेड बॉडी का कोई रोल नहीं है लेकिन आजकल मैं हैरान हूं। दूसरा जो देश के लिए चिंता का विषय है वो भ्रष्ट लोगों का महिमामंडन है। हमारे देश में कभी भी भ्रष्टाचार में पकड़े गए लोग या किसी को आरोप भी लगा तो लोग 100 कदम दूर रहते थे। आजकल तो भ्रष्ट लोगों को कंधे पर बिठाकर नाचने की फैशन हो गई है। तीसरा प्रॉब्लम है जो लोग कल तक जिन बातों की वकालत करते थे आज अगर वही चीजें हो रही हैं तो वो उसका विरोध कर रहे हैं। पहले तो वही लोग कहते थे सोनिया जी को जेल में बंद कर दो, फलाने को जेल में बंद कर दो और अब वही लोग चिल्लाते हैं। इसलिए मैं मानता हूं आप जैसे मीडिया का काम है कि लोगों से पूछे कि बताइए छोटे लोग जेल जाने चाहिए या मगरमच्छ जेल जाने चाहिए। पूछो जरा पब्लिक को क्या ओपिनियन है, ओपिनियन बनाइए आप लोग।

 

Q3- नेहरू से लेकर राहुल गांधी तक सबने गरीबी हटाने की बात तो की लेकिन आपने आत्मनिर्भर भारत पर जोर दिया, इसे लेकर कैसे रणनीति तैयार करते हैं चाहे वो पीएम स्वनिधि योजना हो, पीएम मुद्रा योजना बनाना हो या विश्वकर्मा योजना हो मतलब एकदम ग्रासरूट लेवल से काम किया ?

जवाब – देखिए हमारे देश में जो नैरेटिव गढ़ने वाले लोग हैं उन्होंने देश का इतना नुकसान किया। पहले चीजें बाहर से आती थी तो कहते थे देखिए देश को बेच रहे हैं सब बाहर से लाते हैं। आज जब देश में बन रहा है तो कहते हैं देखिए ग्लोबलाइजेशन का जमाना है और आप लोग अपने ही देश की बातें करते हैं। मैं समझ नहीं पाता हूं कि देश को इस प्रकार से गुमराह करने वाले इन ऐलिमेंट्स से देश को कैसे बचाया जाए। दूसरी बात है अगर अमेरिका में कोई कहता है Be American By American उसपर तो हम सीना तानकर गर्व करते हैं लेकिन मोदी कहता है वोकल फॉर लोकल तो लोगों को लगता है कि ये ग्लोबलाइजेशन के खिलाफ है। तो इस प्रकार से लोगों को गुमराह करने वाली ये प्रवृत्ति चलती है। जहां तक भारत जैसा देश जिसके पास मैनपावर है, स्किल्ड मैनपावर है। अब मैं ऐसी तो गलती नहीं कर सकता कि गेहूं एक्सपोर्ट करूं और ब्रेड इम्पोर्ट करूं..मैं तो चाहूंगा मेरे देश में ही गेहूं का आटा निकले, मेरे देश में ही गेहूं का ब्रेड बने। मेरे देश के लोगों को रोजगार मिले तो मेरा आत्मनिर्भर भारत का जो मिशन है उसके पीछे मेरी पहली जो प्राथमिकता है कि मेरे देश के टैलेंट को अवसर मिले। मेरे देश के युवाओं को रोजगार मिले, मेरे देश का धन बाहर न जाए, मेरे देश में जो प्राकृतिक संसाधन हैं उनका वैल्यू एडिशन हो, मेरे देश के अंदर किसान जो काम करता है उसकी जो प्रोडक्ट है उसका वैल्यू एडिशन हो वो ग्लोबल मार्केट को कैप्चर करे और इसलिए मैंने विदेश विभाग को भी कहा है कि भई आपकी सफलता को मैं तीन आधारों से देखूंगा एक भारत से कितना सामान आप..जिस देश में हैं वहां पर खरीदा जाता है, दूसरा उस देश में बेस्ट टेक्नोलॉजी कौन सी है जो अभीतक भारत में नहीं है। वो टेक्नोलॉजी भारत में कैसे आ सकती है और तीसरा उस देश में से कितने टूरिस्ट भारत भेजते हो आप, ये मेरा क्राइटेरिया रहेगा...तो मेरे हर चीज में सेंटर में मेरा नेशन, सेंटर में मेरा भारत और नेशन फर्स्ट इस मिजाज से हम काम करते हैं।

 

Q 4 - एक तरफ आप विश्वकर्माओं के बारे में सोचते हैं, नाई, लोहार, सुनार, मोची की जरूरतों को समझते हैं उनसे मिलते हैं तो वहीं दूसरी तरफ गेमर्स से मिलते हैं, आर्टिफिशियल इंटेलीजेंस की बात करते हैं, इन्फ्लुएंसर्स से आप मिलते हैं इनकी अहमियत को भी सबके सामने रखते हैं, इतना डाइवर्सीफाई तरीके से कैसे सोच पाते हैं?

जवाब- आप देखिए, भारत विविधताओं से भरा हुआ है और कोई देश एक पिलर पर बड़ा नहीं हो सकता है। मैंने एक मिशन लिया। हर डिस्ट्रिक्ट का वन डिस्ट्रिक्ट, वन प्रोडक्ट पर बल दिया, क्यों? भारत इतना विविधता भरा देश है, हर डिस्ट्रिक्ट के पास अपनी अलग ताकत है। मैं चाहता हूं कि इसको हम लोगों के सामने लाएं और आज मैं कभी विदेश जाता हूं तो मुझे चीजें कौन सी ले जाऊंगा। वो उलझन नहीं होती है। मैं सिर्फ वन डिस्ट्रिक, वन प्रोडक्ट का कैटलॉग देखता हूं। तो मुझे लगता है यूरोप जाऊंगा तो यह लेकर जाऊंगा। अफ्रीका जाऊंगा तो यह लेकर जाऊंगा। और हर एक को लगता है एक देश में। यह एक पहलू है दूसरा हमने जी 20 समिट हिंदुस्तान के अलग-अलग हिस्से में की है। क्यों? दुनिया को पता चले कि दिल्ली, यही हिंदुस्तान नहीं है। अब आप ताजमहल देखें तो टूरिज्म पूरा नहीं होता जी मेरे देश का। मेरे देश में इतना पोटेंशियल है, मेरे देश को जानिए और समझिए और इस बार हमने जी-20 का उपयोग भारत को विश्व के अंदर भारत की पहचान बनाने के लिए किया। दुनिया की भारत के प्रति क्यूरियोसिटी बढ़े, इसमें हमने बड़ी सफलता पाई है, क्योंकि दुनिया के करीब एक लाख नीति निर्धारक ऐसे लोग जी-20 समूह की 200 से ज्यादा मीटिंग में आए। वह अलग-अलग जगह पर गए। उन्होंने इन जगहों को देखा, सुना भी नहीं था, देखा वो अपने देश के साथ कोरिलिरेट करने लगे। वो वहां जाकर बातें करने लगे। मैं देख रहा हूं जी20 के कारण लोग आजकल काफी टूरिस्टों को यहां भेज रहे हैं। जिसके कारण हमारे देश का टूरिज्म को बढ़ावा मिला।

इसी तरह आपने देखा होगा कि मैंने स्टार्टअप वालों के साथ मीटिंग की थी, मैं वार्कशॉप करता था। आज से मैं 7-8 साल पहले, 10 साल पहले शुरू- शुरू में यानी मैं 14 में आया। उसके 15-16 के भीतर-भीतर मैंने जो नए स्टार्टअप की दुनिया शुरू हुई, उनकी मैंने ऐसे वर्कशॉप की है तो मैं अलग-अलग कभी मैंने स्पोर्ट्स पर्सन्स के की, कभी मैंने कोचों के साथ की कि इतना ही नहीं मैंने फिल्म दुनिया वालों के साथ भी ऐसी मीटिंग की।

मैं जानता हूं कि वह बिरादरी हमारे विचारों से काफी दूर है। मेरी सरकार से भी दूर है, लेकिन मेरा काम था उनकी समस्याओं को समझो क्योंकि बॉलीवुड अगर ग्लोबल मार्केट में मुझे उपयोगी होता है, अगर मेरी तेलुगू फिल्में दुनिया में पॉपुलर हो सकती है, मेरी तमिल फिल्म दुनिया पॉपुलर हो सकती है। मुझे तो ग्लोबल मार्केट लेना था मेरे देश की हर चीज का। आज यूट्यूब की दुनिया पैदा हुई तो मैंने उनको बुलाया। आप देश की क्या मदद कर सकते हैं। इंफ्लुएंसर को बुलाया, क्रिएटिव वर्ल्ड, गेमिंम अब देखिए दुनिया का इतना बड़ा गेमिंग मार्केट। भारत के लोग इन्वेस्ट कर रहे हैं, पैसा लगा रहे हैं और गेमिंग की दुनिया में कमाई कोई और करता है तो मैंने सारे गेमिंग के एक्सपर्ट को बुलाया। पहले उनकी समस्याएं समझी। मैंने देश को कहा, मेरी सरकार को मुझे गेमिंग में भारतीय लीडरशिप पक्की करनी है।

इतना बड़ा फ्यूचर मार्केट है, अब तो ओलंपिक में गेमिंग आया है तो मैं उसमें जोड़ना चाहता हूं। ऐसे सभी विषयों में एक साथ काम करने के पक्ष में मैं हूं। उसी प्रकार से देश की जो मूलभूत व्यवस्थाएं हैं, आप उसको नजरअंदाज नहीं कर सकते हैं। हमें गांव का एक मोची होगा, सोनार होगा, कपड़े सिलने वाला होगा। वो भी मेरे देश की बहुत बड़ी शक्ति है। मुझे उसको भी उतना ही तवज्जो देना होगा। और इसलिए मेरी सरकार का इंटीग्रेटेड अप्रोच होता है। कॉम्प्रिहेंसिव अप्रोच होता है, होलिस्टिक अप्रोच होता है।

 

Q 5 - डिजिटल इंडिया और मेक इन इंडिया उसका विपक्ष ने मजाक भी उड़ाया था, आज ये आपकी सरकार की खास पहचान बन गए हैं और दुनिया भी इस बात का संज्ञान ले रही है, इसका एक उदहारण यूपीआई भी है।

जवाब – यह बात सही है कि हमारे देश में जो डिजिटल इंडिया मूवमेंट मैंने शुरू किया तो शुरू में आरोप क्या लगाए इन्होंने? उन्होंने लगाई कि ये जो सर्विस प्रोवाइडर हैं, उनकी भलाई के लिए हो रहा है। इनको समझ नहीं आया कि यह क्षेत्र कितना बड़ा है और 21वीं सदी एक टेक्नॉलॉजी ड्रिवन सेंचुरी है। टेक्नोलॉजी आईटी ड्रिवन है। आईटी इन्फोर्स बाय एआई। बहुत बड़े प्रभावी क्षेत्र बदलते जा रहे हैं। हमें फ्यूचरस्टीक चीजों को देखना चाहिए। आज अगर यूपीआई न होता तो कोई मुझे बताए कोविड की लड़ाई हम कैसे लड़ते? दुनिया के समृद्ध देश भी अपने लोगों को पैसे होने के बावजूद भी नहीं दे पाए। हम आराम से दे सकते हैं। आज हम 11 करोड़ किसानों को 30 सेकंड के अंदर पैसा भेज सकते हैं। अब यूपीआई अब इतनी यूजर फ्रेंडली है तो क्योंकि यह टैलेंट हमारे देश के नौजवानों में है। वो ऐसे प्रोडक्ट बना करके देते हैं कि कोई भी कॉमन मैन इसका उपयोग कर सकता है। आज मैंने ऐसे कितने लोग देखे हैं जो अपना सोशल मीडिया अनुभव कर रहे हैं। हमने छह मित्रों ने तय किया कि छह महीने तक जेब में 1 पैसा नहीं रखेंगे। अब देखते हैं क्या होता है। छह महीने पहले बिना पैसे पूरी दुनिया में हम अपना काम, कारोबार करके आ गए। हमें कोई तकलीफ नहीं हुई तो हर कसौटी पर खरा उतर रहा है। तो यूपीआई ने एक प्रकार से फिनटेक की दुनिया में बहुत बड़ा रोल प्ले किया है और इसके कारण इन दिनों भारत के साथ जुड़े हुए कई देश यूपीआई से जुड़ने को तैयार हैं क्योंकि अब फिनटेक का युग है। फिनटेक में भारत अब लीड कर रहा है और इसलिए दुर्भाग्य तो इस बात का है कि जब मैं इस विषय को चर्चा कर रहा था तब देश के बड़े-बड़े विद्वान जो पार्लियामेंट में बैठे हैं वह इसका मखौल उड़ाते थे, मजाक उड़ाते थे, उनको भारत के पोटेंशियल का अंदाजा नहीं था और टेक्नोलॉजी के सामर्थ्य का भी अंदाज नहीं था।

 

Q 6 - देश के युवा भारत का इतिहास लिखेंगे ऐसा आप कई बार बोल चुके हैं, फर्स्ट टाइम वोटर्स का पीएम मोदी से कनेक्ट के पीछे का क्या कारण है?

एक मैं उनके एस्पिरेशन को समझ पाता हूं। जो पुरानी सोच है कि वह घर में अपने पहले पांच थे तो अब 7 में जाएगा सात से नौ, ऐसा नहीं है। वह पांच से भी सीधा 100 पर जाना चाहता है। आज का यूथ हर, क्षेत्र में वह बड़ा जंप लगाना चाहता है। हमें वह लॉन्चिंग पैड क्रिएट करना चाहिए, ताकि हमारे यूथ के एस्पिरेशन को हम फुलफिल कर सकें। इसलिए यूथ को समझना चाहिए। मैं परीक्षा पर चर्चा करता हूं और मैंने देखा है कि मुझे लाखों युवकों से ऐसी बात करने का मौका मिलता है जो परीक्षा पर चर्चा की चर्चा चल रही है। लेकिन वह मेरे साथ 10 साल के बाद की बात करता है। मतलब वह एक नई जनरेशन है। अगर सरकार और सरकार की लीडरशिप इस नई जनरेशन के एस्पिरेशन को समझने में विफल हो गई तो बहुत बड़ी गैप हो जाएगी। आपने देखा होगा कोविड में मैं बार-बार चिंतित था कि मेरे यह फर्स्ट टाइम वोटर जो अभी हैं, वह कोविड के समय में 14-15 साल के थे अगर यह चार दीवारों में फंसे रहेंगे तो इनका बचपन मर जाएगा। उनकी जवानी आएगी नहीं। वह बचपन से सीधे बुढ़ापे में चला जाएगा। यह गैप कौन भरेगा? तो मैं उसके लिए चिंतित था। मैं उनसे वीडियो कॉन्फ्रेंस से बात करता था। मैं उनको समझाता था का आप यह करिए। और इसलिए हमने डेटा एकदम सस्ता कर दिया। उस समय मेरा डेटा सस्ता करने के पीछे लॉजिक था। वह ईजिली इंटरनेट का उपयोग करते हुए नई दुनिया की तरफ मुड़े और वह हुआ। उसका हमें बेनिफिट हुआ है। भारत ने कोविड की मुसीबतों को अवसर में पलटने में बहुत बड़ा रोल किया है और आज जो डिजिटल रिवॉल्यूशन आया है, फिनटेक का जो रिवॉल्यूशन आया है, वह हमने आपत्ति को अवसर में पलटा उसके कारण आया है तो मैं टेक्नोलॉजी के सामर्थ्य को समझता हूं। मैं टेक्नोलॉजी को बढ़ावा देना चाहता हूं।

प्रधानमंत्री जी बहुत-बहुत धन्यवाद आपने हमें समय दिया।

नमस्कार भैया, मेरी भी आपको बहुत-बहुत शुभकामनाएं, आप भी बहुत प्रगति करें और देश को सही जानकारियां देते रहें।