ایودھیا اور اس کے آس پاس کے علاقوں کو 11,100 کروڑ روپے سے زیادہ کے ترقیاتی پروجیکٹوں سے فائدہ ہوگا
’’دنیا 22 جنوری کا بے صبری سے انتظار کر رہی ہے، میں بھی اس کا منتظر ہوں‘‘
ایودھیا سے وکست بھارت مہم کو نئی توانائی مل رہی ہے
’’آج کا ہندوستان قدیم اور جدید دونوں کو سمیٹ کر آگے بڑھ رہا ہے‘‘
’’ایودھیا، نہ صرف اودھ خطہ بلکہ پورے اتر پردیش کی ترقی کو نئی سمت دے گا‘‘
’’مہارشی والمیکی کی رامائن علم کی ایسی راہ ہے جو ہمیں شری رام سے جوڑتی ہے‘‘
’’غریبوں کی خدمت کا احساس جدید، امرت بھارت ٹرینوں میں شامل حال ہے‘‘
22 جنوری کو ہر گھر میں شری رام جیوتی روشن کریں
’’سکیورٹی اور لاجسٹک وجوہات کی بنا پر، 22 جنوری کو تقریب کے اختتام کے بعد ہی، ایودھیا کے اپنے دورے کا منصوبہ بنائیں‘‘
’’مکر سنکرانتی کے دن 14 جنوری سے ملک بھر میں یاتری مقامات پر صفائی کی ایک بڑی مہم کے ساتھ عظیم الشان رام مندر کا جشن منائیں‘‘
’’آج ملک کو مودی کی گارنٹی پر بھروسہ ہے، کیونکہ مودی نے جو گارنٹی دی ہے اسے پورا کرنے کی پوری کوشش کرتے ہیں، ایودھیا بھی اس کی گواہ ہے‘‘

ایودھیا جی کے تمام لوگوں کو میرا نمسکار! آج پوری دنیا 22 جنوری کے تاریخی لمحے کا بے صبری سے انتظار کر رہی ہے۔ ایسے میں ایودھیا کے لوگوں میں یہ جوش اور ولولہ بہت فطری ہے۔ میں ہندوستان کی مٹی کے ذرے ذرے اور ہندوستان کے لوگوں کا پجاری ہوں اور میں  بھی آپ ہی کی طرح اتنا ہی بے چین ہوں۔ ہم سب کا یہ جوش اور ولولہ کچھ دیر پہلے ایودھیا جی کی سڑکوں پر بھی پوری طرح سے نظر آ رہا تھا۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے پوری ایودھیا نگری ہی سڑک پر اتر آئی ہو۔ میں آپ سب کی اس محبت اور اس آشرواد کے لیے تہہ دل سے ممنونیت کا اظہار کرتا ہوں۔ میرے ساتھ بولئے - سیاور رام چندر کی...جئے. سیاور رام چندر کی...جئے سیاور رام چندر کی... جئے سیاور رام چندر کی

اتر پردیش کی گورنر آنندی بین پٹیل، یہاں کے ہر دلعزیز وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ جی،

کابینہ میں میرے ساتھی جیوتی رادتیہ جی، اشونی ویشنو جی، وی کے سنگھ جی، اتر پردیش کے نائب وزیر اعلیٰ کیشو پرساد موریہ جی، برجیش پاٹھک جی، یوپی حکومت کے دیگر وزراء، تمام ارکان پارلیمنٹاور ممبران اسمبلی صاحبان اور بڑی تعداد میں آئے میرے پریوار جنو۔

30 دسمبر کی یہ تاریخ ملکی تاریخ میں بہت تاریخی رہی ہے۔ آج کے دن 1943 میں نیتا جی سبھاش چندر بوس نے انڈمان میں پرچم لہرایا اور ہندوستان کی آزادی کا اعلان کیا تھا۔ تحریک آزادی سے جڑے ایک ایسے مقدس دن پر آج ہم آزادی کے امرت کال کے عہد کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ آج وکست بھارت کی تعمیر کو تیز کرنے کی مہم کو ایودھیا نگری سے نئی توانائی مل رہی ہے۔ آج یہاں 15 ہزار کروڑ روپے سے زیادہ کے ترقیاتی کاموں کا سنگ بنیاد رکھا گیا اور وقف کیا گیا۔ بنیادی ڈھانچے سے جڑے یہ کام  جدید ایودھیا کو ملک کے نقشے پر پھر سے با وقار طریقے سے قائم کریں گے۔ یہ کام کورونا جیسی عالمی وبا کے درمیان ایودھیا کے لوگوں کی انتھک محنت کا نتیجہ ہے۔ میں ان پروجیکٹوں کے لیے ایودھیا کے تمام لوگوں کو مبارکباد دیتا ہوں۔

 

میرے پریوار جنو،

دنیا کا کوئی بھی ملک ہو اگر اسے ترقی کی نئی بلندیوں تک پہنچنا ہے تو اسے اپنے ورثے کا خیال رکھنا ہوگا۔ ہمارا ورثہ ہمیں تحریک دیتا ہے، ہمیں صحیح راستہ دکھاتا ہے۔ اس لیے آج کا ہندوستان قدیم اور جدید دونوں کو سمیٹ کر آگے بڑھ رہا ہے۔ ایک وقت تھا جب رام للا یہیں ایودھیا میں ٹینٹ میں براجمان تھے۔ آج آج پکا گھر صرف رام للا کو ہی نہیں بلکہ پکا گھر ملک کے چار کروڑ غریبوں کو بھی ملاہے۔آج ہندوستان اپنے مذہبی مقامات کو بھی خوبصورت بنا رہا ہے، تو وہیں ہمارا ملک ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کی دنیا میں بھی نمایاں ہے۔ آج ہندوستان کاشی وشوناتھ دھام کی تعمیر نو کے ساتھ ساتھ، ملک میں 30 ہزار سے زیادہ پنچایت گھر بھی تعمیر کر رہا ہے۔ آج ملک میں نہ صرف کیدار دھام کا احیا کیا گیا ہے بلکہ 315 سے زیادہ نئے میڈیکل کالج بھی بنائے گئے ہیں۔ آج ملک میں نہ صرف مہاکال مہا لوک تعمیر ہو ہئی ہے بلکہ ہر گھر تک پانی پہنچانے کے لیے 2 لاکھ سے زیادہ پانی کے ٹینک بھی بنائےگئے ہیں۔ جب ہم چاند، سورج اور سمندر کی گہرائیوں کی پیمائش کر رہے ہیں، تو ہم اپنی دیو مالائی  مورتیوں کو بھی ریکارڈ تعداد میں ہندوستان واپس لا رہے ہیں۔ آج کے ہندوستان کا مزاج یہاں ایودھیا میں صاف نظر آتا ہے۔ آج یہاں ترقی کا جشن ہے، کچھ دنوں بعد یہاں روایت کا بھی جشن ہوگا۔ آج یہاں ترقی کی رونق نظر آرہی ہے اور چند دنوں کے بعد یہاں وراثت کی شان و شوکت نظر آنے والی ہے۔ یہی تو ہندوستان ہے۔ ترقی اور ورثے کی یہ مشترکہ طاقت 21ویں صدی میں ہندوستان کو سب سے آگے لے جائے گی۔

 

میرے پریوار جنو،

مہارشی والمیکی نے خود تفصیل سے بتایا ہے کہ قدیم زمانے میں ایودھیا نگری کیسی تھی۔  انہوں نے لکھا ہے - کوسلو نام مودیتا: اسفیتو جنپدو مہان۔ نیویشٹ سریو تیرے پربھوت- دھن دھنیہ وان۔ یعنی والمیکی جی بتاتے ہیں کہ عظیم ایودھیا پری دھن دولت سے بھری ہوئی تھی، خوشحالی کی بلندی پر تھی، اور خوشیوں سے بھری ہوئی تھی۔ یعنی ایودھیا میں سائنس اور بیراگ تو تھا ہی بلکہ اس کی شان و شوکت بھی اپنے عروج پر تھی۔ ہمیں ایودھیا شہر کی اسی قدیم شناخت کو جدیدیت سے جوڑ کر واپس لانا ہے۔

ساتھیو،

آنے والے وقت میں ایودھیا نگری اودھ خطہ ہی نہیں بلکہ پورے اترپردیش کی ترقی کو یہ ہماری ایودھیا سمت دینے والی ہے۔  ایودھیا میں شری رام کے عظیم الشان مندر کی تعمیر کے بعد یہاں آنے والوں کی تعداد میں بے پناہ اضافہ ہوگا۔ اس کو ذہن میں رکھتے ہوئے ہماری حکومت ایودھیا میں ہزاروں کروڑ روپے کے ترقیاتی کام کر رہی ہے اور ایودھیا کو اسمارٹ بنا رہی ہے۔ آج ایودھیا میں سڑکیں چوڑی ہو رہی ہیں، نئے فٹ پاتھ بنائے جا رہے ہیں۔ آج ایودھیا میں نئے فلائی اوور اور نئے پل بن رہے ہیں۔ ایودھیا کو آس پاس کے اضلاع سے جوڑنے کے لیے ٹرانسپورٹ کے ذرائع کو بھی بہتر بنایا جا رہا ہے۔

 

ساتھیو،

آج مجھے ایودھیا دھام ہوائی اڈے اور ایودھیا دھام ریلوے اسٹیشن کو وقف کرنے کا شرف حاصل ہوا ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ ایودھیا ہوائی اڈے کا نام مہارشی والمیکی کے نام پر رکھا گیا ہے۔ مہارشی والمیکی نے ہمیں رامائن کے ذریعے بھگوان شری رام کے کاموں سے متعارف کرایا۔ بھگوان شری رام نے مہارشی والمیکی سے کہا تھا - ’’تم تریکال درشی منی ناتھا، وشو بدر جمی تمرے ہاتھا‘‘ یعنی اے منی ناتھ! ایسے تریکال درشی ہیں۔ پوری دنیا آپ کے لئےہتھیلی پر رکھے ہوئے بیر کی طرح ہے۔ ایسے تریکال درشی مہا رشی والمیکی جی کے نام پر ایودھیا دھام ایئر پورٹ کا نام، اس ایئرپورٹ پر آنے والے ہر مسافر کو فیض ملے گا۔ مہارشی والمیکی کی لکھی ہوئی رامائن علم کا راستہ ہے جو ہمیں پربھو شری رام سے جوڑتی ہے۔ جدید ہندوستان میں مہارشی والمیکی بین الاقوامی ہوائی اڈہ ایودھیا دھام  ہمیں روحانی، عظیم، نئے رام مندر سے جوڑ ے گا،جو یہ نیا ہوائی اڈہ بنا ہے، اس کی صلاحیت ہر سال 10 لاکھ مسافروں کو خدمت فراہم کرنا ہے۔ جب اس ہوائی اڈے کے دوسرے مرحلے کا کام بھی مکمل ہو جائے گا تو ہر سال 60 لاکھ مسافر مہارشی والمیکی بین الاقوامی ہوائی اڈے پر آمدو رفت کر سکین گے۔ ابھی ایودھیا دھام ریلوے اسٹیشن پر ہر روز 10-15 ہزار لوگوں کی گنجائش ہے۔ اسٹیشن کی پوری ترقی ہونے کے بعد ایودھیا دھام ریلوے اسٹیشن پر ہر روز سات ہزار لوگ آمدورفت کر سکیں گے۔

ساتھیو،

ہوائی اڈے اور ریلوے اسٹیشن کے علاوہ آج یہاں کئی راستوں اور سڑکوں کا بھی افتتاح ہوا ہے۔ رام پتھ، بھکتی پتھ، دھرم پتھ اور شری رام جنم بھومی پتھ سے آمد و رفت مزید  آسان ہو گی۔ ایودھیا میں آج کار پارکنگ کی جگہوں کا افتتاح کیا گیا، نیا میڈیکل کالج یہاں صحت کی سہولیات کو مزید وسعت دے گا۔ ڈبل انجن والی حکومت اس بات کو یقینی بنانے کے لیے پوری طرح وقف ہے کہ سریو جی کی شفافیت برقرار رہے۔ سریوجی میں گرنے والے آلودہ پانی کو روکنے کا کام بھی شروع ہو گیا ہے۔ رام کی پیڑی کو نیا روپ دیا گیا ہے۔سریو کے کنارے نئے گھاٹ بنائے جارہے ہیں۔یہاں کے تمام قدیم تالابوں کی بھی تزئین و آرائش کی جارہی ہے۔لتا منگیشکر چوک ہو یا رام کتھا استھل ، یہ ایودھیا کی شناخت کو بڑھا رہے ہیں۔ ایودھیا میں جو نئی ٹاؤن شپ بننے جا رہی ہے اس سے یہاں کے لوگوں کی زندگی آسان ہو جائے گی۔ ان ترقیاتی کاموں سے ایودھیا میں روزگار اور خود روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ اس سے ٹیکسی ڈرائیوروں، رکشہ چلانے والوں، ہوٹل والوں، ڈھابوں، پرساد فروشوں، پھول فروشوں، پوجا کا سامان بیچنے والوں، ہمارے چھوٹے دکانداروں وغیرہ کی آمدنی میں اضافہ ہوگا۔

 

میرے پریوار جنو،

آج ملک نے جدید ریلوے کی تعمیر کی طرف ایک اور بڑا قدم اٹھایا ہے۔ وندے بھارت اور نمو بھارت کے بعد آج ملک کو ایک اور جدید ٹرین ملی ہے۔ اس نئی ٹرین سیریز کا نام امرت بھارت ٹرین رکھا گیا ہے۔ وندے بھارت، نمو بھارت اور امرت بھارت ٹرینوں کی یہ تثلیث ہندوستانی ریلوے کو نئے سرے سے جوڑنے والی ہے۔ اس سے زیادہ خوشی کی بات کیا ہو سکتی ہے کہ یہ پہلی امرت بھارت ٹرین ایودھیا سے گزر رہی ہے۔ دہلی-دربھنگا امرت بھارت ایکسپریس ٹرین،  دہلی-یوپی-بہار کے لوگوں کے سفر کو جدید بنائے گی۔ اس سے بہار کے لوگوں کے لیے رام للا کا درشن کرنا آسان ہو جائے گا جو عظیم الشان رام مندر میں براجمان ہونے جا رہے  ہیں۔ یہ جدید امرت بھارت ایکسپریس ٹرینیں ہمارے غریب خاندانوں، خاص طور پر ہمارے مزدور ساتھیوں کے لیے بہت مددگار ثابت ہوں گی۔ گوسوامی تلسی داس جی نے شری رام چرت مانس میں کہا ہے – پرہت سرس دھرم نہیں بھائی - پر پیڑا سم نہیں دھمائی۔ یعنی دوسروں کی خدمت سے بڑھ کر کوئی دوسرا مذہبنہیں، کوئی دوسرا فرض نہیں۔ غریبوں کی خدمت کے جذبے سے جدید امرت بھارت ٹرینیں شروع کی گئی ہیں۔ وہ لوگ جو اکثر اپنے کام کی وجہ سے طویل مسافت طے کرتے ہیں اور جن کی اتنی آمدنی نہیں ہوتی وہ بھی جدید سہولیات اور آرام دہ سفر کے حقدار ہیں۔ غریبوں کی زندگی میں وقار ہے، اس مقصد کو ذہن میں رکھ کر ان ٹرینوں کو ڈیزائن کیا گیا ہے۔ آج ہی مغربی بنگال اور کرناٹک کے دوستوں کو بھی اپنی ریاست کی پہلی امرت بھارت ایکسپریس ٹرین مل گئی ہے۔ میں ان ریاستوں کو امرت بھارت ٹرینوں کے لیے بھی مبارکباد دوں گا۔

 

میرے پریوار جنو،

وندے بھارت ایکسپریس ترقی اور ورثے کو جوڑنے میں بہت بڑا کردار ادا کر رہی ہے۔ ملک کی پہلی وندے بھارت ایکسپریس ٹرین کاشی کے لیے چلائی گئی تھی۔ آج وندے بھارت ایکسپریس ٹرینیں ملک کے 34 روٹس پر چل رہی ہیں۔ وندے بھارت کاشی، کٹرا، اجین، پشکر، تروپتی، شرڈی، امرتسر، مدورئی، ویشنو دیوی، اعتقاد کے ایسے ہر بڑے مراکز کو وندے بھارت جوڑ رہی ہے۔  اسی سلسلے میں آج ایودھیا کو بھی وندے بھارت ٹرین کا تحفہ ملا ہے۔ آج ایودھیا دھام جنکشن – آنند وہار وندے بھارت شروع کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ آج ان شہروں کے درمیان کٹرا سے دہلی، امرتسر سے دہلی، کوئمبٹور-بنگلور، منگلورو-مڈگاؤں، جالنا-ممبئی کے درمیان وندے بھارت کی نئی خدمات شروع ہو گئی ہیں۔ وندے بھارت میں رفتار ہے، وندے بھارت میں جدت بھی  ہے اور  وندے بھارت میں آتم نربھر بھارت کا وقار بھی ہے۔ بہت کم وقت میں 1.5 کروڑ سے زیادہ مسافر وندے بھارت سےسفر کر چکے ہیں۔ خاص طور پر نوجوان نسل اس ٹرین کو بہت پسند کر رہی ہے۔

ساتھیو،

ہمارے ملک میں قدیم دور سے ہی تیرتھ یاتراؤں کی اپنی اہمیت اور شاندار تاریخ رہی ہے۔ بدری وشال سے سیتو  بندھ رامیشورم کا سفر، گنگوتری سے گنگا ساگر کا سفر،دوارکادھیش سے جگن ناتھ پوری کی یاترا، دوادش جیوترلنگوں کی یاترا، چار دھاموں کی یاترا، کیلاش مانسروور یاترا، کانوڑ یاترا، شکتی پیٹھوں کی یاترا، پنڈھار پور یاترا، آج بھی ہندوستان کے کونے کونے میں کوئی نہ کوئی یاترا نکلتی رہتی ہے، لوگ عقیدے کے ساتھ ان سے جڑتے رہتے ہیں۔ شیو استھل پاد یاترے، مروگنککو  کاوڑی یاترے، ویشنو تیروپ-پدی یاترے، امّن تروتل یاترے، کیرالا میں سبری مالا یاترا ہو، آندھرا-تلنگانہ میں میدارام میں سمکا اور سرکا کی یاترا ہو، ناگوبا یاترا ہو، ان میں لاکھوں کی تعداد میں عقیدت مند جمع ہوتے ہیں۔ یہاں بہت کم لوگ جانتے ہوں گے کہ کیرالہ میں بھگوان رام اور ان کے بھائیوں بھرت، لکشمن اور شتروگھن کے دھام کی بھی یاترا ہوتی ہے۔ یہ یاترا نالم بلم یاترا کے نام سے جانی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ ملک میں کئی پریکرمائیں بھی جاری رہتی ہیں۔ گووردھن پرکرما، پنچکوسی پرکرما، چوراسی کوسی پرکرما، اس طرح کے سفر اور پرکرما ہر عقیدت مند کا خدا سے تعلق مضبوط کرتے ہیں۔ بدھ مت میں، بھگوان بدھ، گیا، لمبنی، کپل وستو، سارناتھ، کشی نگر سے منسلک مقامات کی یاترائیں ہوتی ہیں۔ بدھ مت کے پیروکاروں کی راجگیر بہار میں پری کرما ہوتی ہے۔ جین دھرم میں پاوا گڑھ ، سمید شیکھر جی، پالیتانہ، کیلاش کی یاتراہو، سکھوں کے لئے پانچ تخت یاترا اور  گرو دھام یاترا ہو، شمال مشرقی ریاست اروناچل پردیش  میں پرشورام کنڈ کی عظیم یاترا ہو، ان میں شامل ہونے کے لئے عقیدت مند پوری عقیدت کے ساتھ  جمع ہوتے ہیں۔ یہ ہیں. ملک بھر میں صدیوں سے ہو رہی ان یاتراؤں کے لیے ویسے ہی مناسب انتظامات کیے جاتے ہیں۔ اب ایودھیا میں ہونے والے یہ تعمیراتی کام ایودھیا دھام کا سفر اور یہاں آنے والے ہر رام بھکت کے لیے بھگوان کے درشن کو آسان بنا دیں گے۔

 

ساتھیو،

یہ تاریخی لمحہ، بہت خوش قسمتی سے، ہم سب کی زندگی میں آیا ہے۔ ہمیں ملک کے لیے نیا عہد کرنا ، خود کو نئی توانائی سے بھرنا ہے۔ اس کے لیے 22 جنوری کو آپ سب اپنے گھروں میں، میں ایودھیا کی اس مقدس سرزمین سے پورے ملک کے 140 کروڑ ہم وطنوں سے دعا کر رہا ہوں، میں بھگوان رام کی شہر ایودھیا سے دعا کر رہا ہوں، میں 140 کروڑ ہم وطنوں سے دعا کر رہا ہوں۔ ہاتھ جوڑ کر میں دعا کر رہا ہوں کہ آپ  22 جنوری کو جب بھگوان رام ایودھیا میں براجمان ہوں، تو  آپ اپنے گھروں میں شری رام جیوتی روشن کریں اور دیوالی منائیں۔ 22 جنوری کی شام پورے ہندوستان میں جگ مگ جگ مگ ہونی چاہئے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ میں اپنے تمام ہم وطنوں سے ایک اور فوری درخواست کرتا ہوں۔ ہر کوئی 22 جنوری کو ہونے والے پروگرام کو دیکھنے کے لیے خود ایودھیا آنا چاہتا ہے، لیکن آپ یہ بھی جانتے ہیں کہ ہر کسی کے لیے آنا ممکن نہیں ہے۔ ہر کسی کے لیے ایودھیا پہنچنا بہت مشکل ہے اور اس لیے ہاتھ جوڑ کر میں تمام رام بھکتوں، ملک بھر کے رام بھکتوں، خاص کر اتر پردیش کے رام بھکتوں سے گزارش کرتا ہوں۔ میری اپیل ہے کہ ایک بار 22 جنوری کو رسمی پروگرام ہو جائے تو 23 کے بعد وہ اپنی سہولت کے حساب سے ایودھیا آئیں۔

22 تاریخ کو ایودھیا آنے کا ارادہ نہ کریں۔ ہم بھکت بھگوان رام کو کبھی تکلیف نہیں پہنچا سکتے۔ بھگوان رام جی آرہے ہیں، تو آئیے ہم بھی کچھ دن انتظار کریں، ہم نے 550 سال انتظار کیا، کچھ دن اور انتظار کریں۔ اور اس طرح سیکورٹی کے نقطہ نظر سے، انتظامات کے نقطہ نظر سے، میں آپ سب سے بار بار درخواست کرتا ہوں کہ مہربانی کریں، کیونکہ اب ایودھیا میں بھگوان رام کا نیا، عظیم الشان اور روحانی مندر آنے والی صدیوں کے لئے دستیاب ہے۔ آئیں، آپ جنوری میں آئیں، فروری میں آئیں، مارچ میں آئیں ، ایک سال بعد آئیں، دو سال بعد آئیں ، یہاں مندر تو ہے ہی۔  اس لیے 22 جنوری کو یہاں بھیڑ بھاڑ سے سے بچیں تاکہ یہاں کے انتظامات، مندر کے منتظمین، مندر کا جو  ٹرسٹ، اتنا مقدس کام جو لوگوں نے کیا ہے اور اتنی محنت سے کیا ہے، پچھلے تین چار سال سے دن رات کام کیا ہے، ان کو ہماری طرف سے  کسی قسم کی تکلیف نہیں ہونی چاہئے۔ اس لیے میں بار بار درخواست کرتا ہوں کہ 22 تاریخ کو یہاں پہنچنے کی کوشش نہ کریں۔ صرف چند لوگوں کو مدعو کیا گیا ہے، وہ آئیں گے اور 23 تاریخ کے بعد تمام اہل وطن کے لیے آنا بہت آسان ہو جائے گا۔

 

ساتھیو،

آج میری ایودھیا کے بھائیوں اور بہنوں سے ایک درخواست ہے۔ آپ کو ملک اور دنیا بھر سے لاتعداد مہمانوں کی تیاری کرنی ہوگی۔ اب پورے ملک اور دنیا سے لوگ روزانہ ایودھیا آتے رہیں گے، لاکھوں لوگ آنے والے ہیں۔ اپنی سہولت کے مطابق آئیں گے، کوئی ایک سال میں آئے گا، کوئی دو سال میں آئے گا، کوئی دس سال میں آئے گا لیکن لاکھوں لوگ آئیں گے اور یہ سلسلہ مسلسل جاری رہے گا، لا محدود وقت تک چلے گا۔ اس لیے ایودھیا کے شہریوں کو ایک عہد کرنا ہوگا اور یہ قرارداد ایودھیا شہر کو ہندوستان کا صاف ترین شہر بنانے کے لیے ہے۔

 صاف ایودھیا یہ ایودھیا کے لوگوں کی ذمہ داری ہے اور اس کے لیے ہمیں مل کر ہر قدم اٹھانا ہوگا۔ آج میں ملک کے تمام تیرتھ استھلوں اور مندروں سے اپنی درخواست کا اعادہ کروں گا۔ ملک بھر کے لوگوں سے میری اپیل ہے۔ عظیم الشان رام مندر کی تعمیر کے موقع پر ایک ہفتہ قبل مکر سنکرانتی کے دن سے ملک بھر کے تمام چھوٹے بڑے تیرتھ استھلوں پر صفائی کی ایک بڑی مہم شروع کی جانی چاہیے۔ ہمیں مکر سکرانتی کے دوران 14 جنوری سے 22 جنوری تک ہندوستان کے ہر مندر اور ہر کونے کو صاف کرنے کی مہم چلانی چاہئے۔ بھگوان رام پورے ملک کے ہیں اور جب بھگوان رام جی آ رہے ہیں تو ہمارا ایک بھی مندر نہیں، ہمارا ایک بھی تیرتھ کا علاقہ اور اس کے آس پاس کا علاقہ آلودہ نہیں ہونا چاہئے، وہاں گندگی نہیں ہونی چاہئے۔

ساتھیو،

کچھ عرصہ پہلے ایودھیا نگری میں ہی مجھے ایک اور سعادت حاصل ہوئی ہے ۔ آج مجھے یہ کہتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ مجھے اجولا گیس کنکشن کی 10 کروڑویں استفادہ کنندہ بہن کے گھر جا کر چائے پینے کا موقع ملا۔ جب ہم نے یکم مئی 2016 کو بلیا، یوپی سے اجولا یوجنا شروع کی تھی تو کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ یہ اسکیم کامیابی کی اتنی بلندیوں تک پہنچے گی۔ اس اسکیم نے کروڑوں خاندانوں، کروڑوں ماؤں اور بہنوں کی زندگیوں کو ہمیشہ کے لیے بدل دیا ہے، انہیں لکڑی کے دھوئیں سے نجات دلائی ہے۔

ساتھیو،

ہمارے ملک میں گیس کنکشن دینے کا کام 60-70 سال پہلے شروع ہوا تھا۔ یعنی 6-7 دہائی پہلے۔ لیکن 2014 تک صورتحال ایسی تھی کہ 50-55 سالوں میں صرف 14 کروڑ گیس کنکشن دیے گئے۔ یعنی پانچ دہائیوں میں 14 کروڑ ۔ جبکہ ہماری حکومت نے ایک دہائی میں 18 کروڑ نئے گیس کنکشن دیے ہیںاور اس 18 کروڑ میں سے 10 کروڑ گیس کنکشن مفت دیئے گئے ہیں… اجولا اسکیم کے تحت دیئے گئے ہیں۔  جب غریبوں کی خدمت کا جذبہ ہو، جب نیت صافہو،  تو کام بھی اسی طرح ہوتا ہے اور اسی طرح نتائج برآمد ہوتے ہیں۔ آج کل کچھ لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ مودی کی گارنٹی میں اتنی طاقت کیوں ہے؟

 

مودی کی گارنٹی میں اتنی طاقت اس لئے ہے کہ مودی جو کہتے ہیں اسے کرنے کے لیے اپنی زندگی صرف کر دیتے ہیں۔ آج ملک کو مودی کی گارنٹی پر بھروسہ ہے...کیونکہ مودی جو گارنٹی دیتے ہیں اسے پورا کرنے کے لیے دن رات کام کرتے ہیں۔ یہ ایودھیا نگری  بھی تو اس کی گواہ ہے اور آج میں ایک بار پھر ایودھیا کے لوگوں کو یقین دلاتا ہوں کہ ہم اس مقدس مقام کی ترقی میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے۔ شری رام ہم سب کا بھلا کریں، میں اس خواہش کے ساتھ اپنی بات ختم کرتا ہوں۔ میں بھگوان شری رام کے چرنوں میں نمسکار کرتا ہوں اور میں آپ سب کو آپ کے ترقیاتی کاموں کے لیے مبارکباد دیتا ہوں۔ میرے ساتھ بولیئے -

 جے سیا رام!

جے سیا رام!

جے سیارام!

بھارت ماتا کی جے!

بھارت ماتا کی جے!

بھارت ماتا کی جے!

بہت بہت شکریہ۔

 

Explore More
لال قلعہ کی فصیل سے 77ویں یوم آزادی کے موقع پر وزیراعظم جناب نریندر مودی کے خطاب کا متن

Popular Speeches

لال قلعہ کی فصیل سے 77ویں یوم آزادی کے موقع پر وزیراعظم جناب نریندر مودی کے خطاب کا متن
India sets sights on global renewable ammonia market, takes strides towards sustainable energy leadership

Media Coverage

India sets sights on global renewable ammonia market, takes strides towards sustainable energy leadership
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
PM Modi's Interview to IANS
May 27, 2024

पहले तो मैं आपकी टीम को बधाई देता हूं भाई, कि इतने कम समय में आपलोगों ने अच्छी जगह बनाई है और एक प्रकार से ग्रासरूट लेवल की जो बारीक-बारीक जानकारियां हैं। वह शायद आपके माध्यम से जल्दी पहुंचती है। तो आपकी पूरी टीम बधाई की पात्र है।

Q1 - आजकल राहुल गांधी और अरविंद केजरीवाल को पाकिस्तान से इतना endorsement क्यों मिल रहा है ? 370 ख़त्म करने के समय से लेकर आज तक हर मौक़े पर पाकिस्तान से उनके पक्ष में आवाज़ें आती हैं ?

जवाब – देखिए, चुनाव भारत का है और भारत का लोकतंत्र बहुत ही मैच्योर है, तंदरुस्त परंपराएं हैं और भारत के मतदाता भी बाहर की किसी भी हरकतों से प्रभावित होने वाले मतदाता नहीं हैं। मैं नहीं जानता हूं कि कुछ ही लोग हैं जिनको हमारे साथ दुश्मनी रखने वाले लोग क्यों पसंद करते हैं, कुछ ही लोग हैं जिनके समर्थन में आवाज वहां से क्यों उठती है। अब ये बहुत बड़ी जांच पड़ताल का यह गंभीर विषय है। मुझे नहीं लगता है कि मुझे जिस पद पर मैं बैठा हूं वहां से ऐसे विषयों पर कोई कमेंट करना चाहिए लेकिन आपकी चिंता मैं समझ सकता हूं।

 

Q 2 - आप ने भ्रष्टाचार के ख़िलाफ़ मुहिम तेज करने की बात कही है अगली सरकार जब आएगी तो आप क्या करने जा रहे हैं ? क्या जनता से लूटा हुआ पैसा जनता तक किसी योजना या विशेष नीति के जरिए वापस पहुंचेगा ?

जवाब – आपका सवाल बहुत ही रिलिवेंट है क्योंकि आप देखिए हिंदुस्तान का मानस क्या है, भारत के लोग भ्रष्टाचार से तंग आ चुके हैं। दीमक की तरह भ्रष्टाचार देश की सारी व्यवस्थाओं को खोखला कर रहा है। भ्रष्टाचार के लिए आवाज भी बहुत उठती है। जब मैं 2013-14 में चुनाव के समय भाषण करता था और मैं भ्रष्टाचार की बातें बताता था तो लोग अपना रोष व्यक्त करते थे। लोग चाहते थे कि हां कुछ होना चाहिए। अब हमने आकर सिस्टमैटिकली उन चीजों को करने पर बल दिया कि सिस्टम में ऐसे कौन से दोष हैं अगर देश पॉलिसी ड्रिवन है ब्लैक एंड व्हाइट में चीजें उपलब्ध हैं कि भई ये कर सकते हो ये नहीं कर सकते हो। ये आपकी लिमिट है इस लिमिट के बाहर जाना है तो आप नहीं कर सकते हो कोई और करेगा मैंने उस पर बल दिया। ये बात सही है..लेकिन ग्रे एरिया मिनिमल हो जाता है जब ब्लैक एंड व्हाइट में पॉलिसी होती है और उसके कारण डिसक्रिमिनेशन के लिए कोई संभावना नहीं होती है, तो हमने एक तो पॉलिसी ड्रिवन गवर्नेंस पर बल दिया। दूसरा हमने स्कीम्स के सैचुरेशन पर बल दिया कि भई 100% जो स्कीम जिसके लिए है उन लाभार्थियों को 100% ...जब 100% है तो लोगों को पता है मुझे मिलने ही वाला है तो वो करप्शन के लिए कोई जगह ढूंढेगा नहीं। करप्शन करने वाले भी कर नहीं सकते क्योंकि वो कैसे-कैसे कहेंगे, हां हो सकता है कि किसी को जनवरी में मिलने वाला मार्च में मिले या अप्रैल में मिले ये हो सकता है लेकिन उसको पता है कि मिलेगा और मेरे हिसाब से सैचुरेशन करप्शन फ्री गवर्नेंस की गारंटी देता है। सैचुरेशन सोशल जस्टिस की गारंटी देता है। सैचुरेशन सेकुलरिज्म की गारंटी देता है। ऐसे त्रिविध फायदे वाली हमारी दूसरी स्कीम, तीसरा मेरा प्रयास रहा कि मैक्सिमम टेक्नोलॉजी का उपयोग करना। टेक्नोलॉजी में भी..क्योंकि रिकॉर्ड मेंटेन होते हैं, ट्रांसपेरेंसी रहती है। अब डायरेक्ट बेनेफिट ट्रांसफर में 38 लाख करोड़ रुपए ट्रांसफर किए हमने। अगर राजीव गांधी के जमाने की बात करें कि एक रुपया जाता है 15 पैसा पहुंचता है तो 38 लाख करोड़ तो हो सकता है 25-30 लाख करोड़ रुपया ऐसे ही गबन हो जाते तो हमने टेक्नोलॉजी का भरपूर उपयोग किया है। जहां तक करप्शन का सवाल है देश में पहले क्या आवाज उठती थी कि भई करप्शन तो हुआ लेकिन उन्होंने किसी छोटे आदमी को सूली पर चढ़ा दिया। सामान्य रूप से मीडिया में भी चर्चा होती थी कि बड़े-बड़े मगरमच्छ तो छूट जाते हैं, छोटे-छोटे लोगों को पकड़कर आप चीजें निपटा देते हो। फिर एक कालखंड ऐसा आया कि हमें पूछा जाता था 19 के पहले कि आप तो बड़ी-बड़ी बातें करते थे क्यों कदम नहीं उठाते हो, क्यों अरेस्ट नहीं करते हो, क्यों लोगों को ये नहीं करते हो। हम कहते थे भई ये हमारा काम नहीं है, ये स्वतंत्र एजेंसी कर रही है और हम बदइरादे से कुछ नहीं करेंगे। जो भी होगा हमारी सूचना यही है जीरो टोलरेंस दूसरा तथ्यों के आधार पर ये एक्शन होना चाहिए, परसेप्शन के आधार पर नहीं होना चाहिए। तथ्य जुटाने में मेहनत करनी पड़ती है। अब अफसरों ने मेहनत भी की अब मगरमच्छ पकड़े जाने लगे हैं तो हमें सवाल पूछा जा रहा है कि मगरमच्छों को क्यों पकड़ते हो। ये समझ में नहीं आता है कि ये कौन सा गैंग है, खान मार्केट गैंग जो कुछ लोगों को बचाने के लिए इस प्रकार के नैरेटिव गढ़ती है। पहले आप ही कहते थे छोटों को पकड़ते हो बड़े छूट जाते हैं। जब सिस्टम ईमानदारी से काम करने लगा, बड़े लोग पकड़े जाने लगे तब आप चिल्लाने लगे हो। दूसरा पकड़ने का काम एक इंडिपेंडेंट एजेंसी करती है। उसको जेल में रखना कि बाहर रखना, उसके ऊपर केस ठीक है या नहीं है ये न्यायालय तय करता है उसमें मोदी का कोई रोल नहीं है, इलेक्टेड बॉडी का कोई रोल नहीं है लेकिन आजकल मैं हैरान हूं। दूसरा जो देश के लिए चिंता का विषय है वो भ्रष्ट लोगों का महिमामंडन है। हमारे देश में कभी भी भ्रष्टाचार में पकड़े गए लोग या किसी को आरोप भी लगा तो लोग 100 कदम दूर रहते थे। आजकल तो भ्रष्ट लोगों को कंधे पर बिठाकर नाचने की फैशन हो गई है। तीसरा प्रॉब्लम है जो लोग कल तक जिन बातों की वकालत करते थे आज अगर वही चीजें हो रही हैं तो वो उसका विरोध कर रहे हैं। पहले तो वही लोग कहते थे सोनिया जी को जेल में बंद कर दो, फलाने को जेल में बंद कर दो और अब वही लोग चिल्लाते हैं। इसलिए मैं मानता हूं आप जैसे मीडिया का काम है कि लोगों से पूछे कि बताइए छोटे लोग जेल जाने चाहिए या मगरमच्छ जेल जाने चाहिए। पूछो जरा पब्लिक को क्या ओपिनियन है, ओपिनियन बनाइए आप लोग।

 

Q3- नेहरू से लेकर राहुल गांधी तक सबने गरीबी हटाने की बात तो की लेकिन आपने आत्मनिर्भर भारत पर जोर दिया, इसे लेकर कैसे रणनीति तैयार करते हैं चाहे वो पीएम स्वनिधि योजना हो, पीएम मुद्रा योजना बनाना हो या विश्वकर्मा योजना हो मतलब एकदम ग्रासरूट लेवल से काम किया ?

जवाब – देखिए हमारे देश में जो नैरेटिव गढ़ने वाले लोग हैं उन्होंने देश का इतना नुकसान किया। पहले चीजें बाहर से आती थी तो कहते थे देखिए देश को बेच रहे हैं सब बाहर से लाते हैं। आज जब देश में बन रहा है तो कहते हैं देखिए ग्लोबलाइजेशन का जमाना है और आप लोग अपने ही देश की बातें करते हैं। मैं समझ नहीं पाता हूं कि देश को इस प्रकार से गुमराह करने वाले इन ऐलिमेंट्स से देश को कैसे बचाया जाए। दूसरी बात है अगर अमेरिका में कोई कहता है Be American By American उसपर तो हम सीना तानकर गर्व करते हैं लेकिन मोदी कहता है वोकल फॉर लोकल तो लोगों को लगता है कि ये ग्लोबलाइजेशन के खिलाफ है। तो इस प्रकार से लोगों को गुमराह करने वाली ये प्रवृत्ति चलती है। जहां तक भारत जैसा देश जिसके पास मैनपावर है, स्किल्ड मैनपावर है। अब मैं ऐसी तो गलती नहीं कर सकता कि गेहूं एक्सपोर्ट करूं और ब्रेड इम्पोर्ट करूं..मैं तो चाहूंगा मेरे देश में ही गेहूं का आटा निकले, मेरे देश में ही गेहूं का ब्रेड बने। मेरे देश के लोगों को रोजगार मिले तो मेरा आत्मनिर्भर भारत का जो मिशन है उसके पीछे मेरी पहली जो प्राथमिकता है कि मेरे देश के टैलेंट को अवसर मिले। मेरे देश के युवाओं को रोजगार मिले, मेरे देश का धन बाहर न जाए, मेरे देश में जो प्राकृतिक संसाधन हैं उनका वैल्यू एडिशन हो, मेरे देश के अंदर किसान जो काम करता है उसकी जो प्रोडक्ट है उसका वैल्यू एडिशन हो वो ग्लोबल मार्केट को कैप्चर करे और इसलिए मैंने विदेश विभाग को भी कहा है कि भई आपकी सफलता को मैं तीन आधारों से देखूंगा एक भारत से कितना सामान आप..जिस देश में हैं वहां पर खरीदा जाता है, दूसरा उस देश में बेस्ट टेक्नोलॉजी कौन सी है जो अभीतक भारत में नहीं है। वो टेक्नोलॉजी भारत में कैसे आ सकती है और तीसरा उस देश में से कितने टूरिस्ट भारत भेजते हो आप, ये मेरा क्राइटेरिया रहेगा...तो मेरे हर चीज में सेंटर में मेरा नेशन, सेंटर में मेरा भारत और नेशन फर्स्ट इस मिजाज से हम काम करते हैं।

 

Q 4 - एक तरफ आप विश्वकर्माओं के बारे में सोचते हैं, नाई, लोहार, सुनार, मोची की जरूरतों को समझते हैं उनसे मिलते हैं तो वहीं दूसरी तरफ गेमर्स से मिलते हैं, आर्टिफिशियल इंटेलीजेंस की बात करते हैं, इन्फ्लुएंसर्स से आप मिलते हैं इनकी अहमियत को भी सबके सामने रखते हैं, इतना डाइवर्सीफाई तरीके से कैसे सोच पाते हैं?

जवाब- आप देखिए, भारत विविधताओं से भरा हुआ है और कोई देश एक पिलर पर बड़ा नहीं हो सकता है। मैंने एक मिशन लिया। हर डिस्ट्रिक्ट का वन डिस्ट्रिक्ट, वन प्रोडक्ट पर बल दिया, क्यों? भारत इतना विविधता भरा देश है, हर डिस्ट्रिक्ट के पास अपनी अलग ताकत है। मैं चाहता हूं कि इसको हम लोगों के सामने लाएं और आज मैं कभी विदेश जाता हूं तो मुझे चीजें कौन सी ले जाऊंगा। वो उलझन नहीं होती है। मैं सिर्फ वन डिस्ट्रिक, वन प्रोडक्ट का कैटलॉग देखता हूं। तो मुझे लगता है यूरोप जाऊंगा तो यह लेकर जाऊंगा। अफ्रीका जाऊंगा तो यह लेकर जाऊंगा। और हर एक को लगता है एक देश में। यह एक पहलू है दूसरा हमने जी 20 समिट हिंदुस्तान के अलग-अलग हिस्से में की है। क्यों? दुनिया को पता चले कि दिल्ली, यही हिंदुस्तान नहीं है। अब आप ताजमहल देखें तो टूरिज्म पूरा नहीं होता जी मेरे देश का। मेरे देश में इतना पोटेंशियल है, मेरे देश को जानिए और समझिए और इस बार हमने जी-20 का उपयोग भारत को विश्व के अंदर भारत की पहचान बनाने के लिए किया। दुनिया की भारत के प्रति क्यूरियोसिटी बढ़े, इसमें हमने बड़ी सफलता पाई है, क्योंकि दुनिया के करीब एक लाख नीति निर्धारक ऐसे लोग जी-20 समूह की 200 से ज्यादा मीटिंग में आए। वह अलग-अलग जगह पर गए। उन्होंने इन जगहों को देखा, सुना भी नहीं था, देखा वो अपने देश के साथ कोरिलिरेट करने लगे। वो वहां जाकर बातें करने लगे। मैं देख रहा हूं जी20 के कारण लोग आजकल काफी टूरिस्टों को यहां भेज रहे हैं। जिसके कारण हमारे देश का टूरिज्म को बढ़ावा मिला।

इसी तरह आपने देखा होगा कि मैंने स्टार्टअप वालों के साथ मीटिंग की थी, मैं वार्कशॉप करता था। आज से मैं 7-8 साल पहले, 10 साल पहले शुरू- शुरू में यानी मैं 14 में आया। उसके 15-16 के भीतर-भीतर मैंने जो नए स्टार्टअप की दुनिया शुरू हुई, उनकी मैंने ऐसे वर्कशॉप की है तो मैं अलग-अलग कभी मैंने स्पोर्ट्स पर्सन्स के की, कभी मैंने कोचों के साथ की कि इतना ही नहीं मैंने फिल्म दुनिया वालों के साथ भी ऐसी मीटिंग की।

मैं जानता हूं कि वह बिरादरी हमारे विचारों से काफी दूर है। मेरी सरकार से भी दूर है, लेकिन मेरा काम था उनकी समस्याओं को समझो क्योंकि बॉलीवुड अगर ग्लोबल मार्केट में मुझे उपयोगी होता है, अगर मेरी तेलुगू फिल्में दुनिया में पॉपुलर हो सकती है, मेरी तमिल फिल्म दुनिया पॉपुलर हो सकती है। मुझे तो ग्लोबल मार्केट लेना था मेरे देश की हर चीज का। आज यूट्यूब की दुनिया पैदा हुई तो मैंने उनको बुलाया। आप देश की क्या मदद कर सकते हैं। इंफ्लुएंसर को बुलाया, क्रिएटिव वर्ल्ड, गेमिंम अब देखिए दुनिया का इतना बड़ा गेमिंग मार्केट। भारत के लोग इन्वेस्ट कर रहे हैं, पैसा लगा रहे हैं और गेमिंग की दुनिया में कमाई कोई और करता है तो मैंने सारे गेमिंग के एक्सपर्ट को बुलाया। पहले उनकी समस्याएं समझी। मैंने देश को कहा, मेरी सरकार को मुझे गेमिंग में भारतीय लीडरशिप पक्की करनी है।

इतना बड़ा फ्यूचर मार्केट है, अब तो ओलंपिक में गेमिंग आया है तो मैं उसमें जोड़ना चाहता हूं। ऐसे सभी विषयों में एक साथ काम करने के पक्ष में मैं हूं। उसी प्रकार से देश की जो मूलभूत व्यवस्थाएं हैं, आप उसको नजरअंदाज नहीं कर सकते हैं। हमें गांव का एक मोची होगा, सोनार होगा, कपड़े सिलने वाला होगा। वो भी मेरे देश की बहुत बड़ी शक्ति है। मुझे उसको भी उतना ही तवज्जो देना होगा। और इसलिए मेरी सरकार का इंटीग्रेटेड अप्रोच होता है। कॉम्प्रिहेंसिव अप्रोच होता है, होलिस्टिक अप्रोच होता है।

 

Q 5 - डिजिटल इंडिया और मेक इन इंडिया उसका विपक्ष ने मजाक भी उड़ाया था, आज ये आपकी सरकार की खास पहचान बन गए हैं और दुनिया भी इस बात का संज्ञान ले रही है, इसका एक उदहारण यूपीआई भी है।

जवाब – यह बात सही है कि हमारे देश में जो डिजिटल इंडिया मूवमेंट मैंने शुरू किया तो शुरू में आरोप क्या लगाए इन्होंने? उन्होंने लगाई कि ये जो सर्विस प्रोवाइडर हैं, उनकी भलाई के लिए हो रहा है। इनको समझ नहीं आया कि यह क्षेत्र कितना बड़ा है और 21वीं सदी एक टेक्नॉलॉजी ड्रिवन सेंचुरी है। टेक्नोलॉजी आईटी ड्रिवन है। आईटी इन्फोर्स बाय एआई। बहुत बड़े प्रभावी क्षेत्र बदलते जा रहे हैं। हमें फ्यूचरस्टीक चीजों को देखना चाहिए। आज अगर यूपीआई न होता तो कोई मुझे बताए कोविड की लड़ाई हम कैसे लड़ते? दुनिया के समृद्ध देश भी अपने लोगों को पैसे होने के बावजूद भी नहीं दे पाए। हम आराम से दे सकते हैं। आज हम 11 करोड़ किसानों को 30 सेकंड के अंदर पैसा भेज सकते हैं। अब यूपीआई अब इतनी यूजर फ्रेंडली है तो क्योंकि यह टैलेंट हमारे देश के नौजवानों में है। वो ऐसे प्रोडक्ट बना करके देते हैं कि कोई भी कॉमन मैन इसका उपयोग कर सकता है। आज मैंने ऐसे कितने लोग देखे हैं जो अपना सोशल मीडिया अनुभव कर रहे हैं। हमने छह मित्रों ने तय किया कि छह महीने तक जेब में 1 पैसा नहीं रखेंगे। अब देखते हैं क्या होता है। छह महीने पहले बिना पैसे पूरी दुनिया में हम अपना काम, कारोबार करके आ गए। हमें कोई तकलीफ नहीं हुई तो हर कसौटी पर खरा उतर रहा है। तो यूपीआई ने एक प्रकार से फिनटेक की दुनिया में बहुत बड़ा रोल प्ले किया है और इसके कारण इन दिनों भारत के साथ जुड़े हुए कई देश यूपीआई से जुड़ने को तैयार हैं क्योंकि अब फिनटेक का युग है। फिनटेक में भारत अब लीड कर रहा है और इसलिए दुर्भाग्य तो इस बात का है कि जब मैं इस विषय को चर्चा कर रहा था तब देश के बड़े-बड़े विद्वान जो पार्लियामेंट में बैठे हैं वह इसका मखौल उड़ाते थे, मजाक उड़ाते थे, उनको भारत के पोटेंशियल का अंदाजा नहीं था और टेक्नोलॉजी के सामर्थ्य का भी अंदाज नहीं था।

 

Q 6 - देश के युवा भारत का इतिहास लिखेंगे ऐसा आप कई बार बोल चुके हैं, फर्स्ट टाइम वोटर्स का पीएम मोदी से कनेक्ट के पीछे का क्या कारण है?

एक मैं उनके एस्पिरेशन को समझ पाता हूं। जो पुरानी सोच है कि वह घर में अपने पहले पांच थे तो अब 7 में जाएगा सात से नौ, ऐसा नहीं है। वह पांच से भी सीधा 100 पर जाना चाहता है। आज का यूथ हर, क्षेत्र में वह बड़ा जंप लगाना चाहता है। हमें वह लॉन्चिंग पैड क्रिएट करना चाहिए, ताकि हमारे यूथ के एस्पिरेशन को हम फुलफिल कर सकें। इसलिए यूथ को समझना चाहिए। मैं परीक्षा पर चर्चा करता हूं और मैंने देखा है कि मुझे लाखों युवकों से ऐसी बात करने का मौका मिलता है जो परीक्षा पर चर्चा की चर्चा चल रही है। लेकिन वह मेरे साथ 10 साल के बाद की बात करता है। मतलब वह एक नई जनरेशन है। अगर सरकार और सरकार की लीडरशिप इस नई जनरेशन के एस्पिरेशन को समझने में विफल हो गई तो बहुत बड़ी गैप हो जाएगी। आपने देखा होगा कोविड में मैं बार-बार चिंतित था कि मेरे यह फर्स्ट टाइम वोटर जो अभी हैं, वह कोविड के समय में 14-15 साल के थे अगर यह चार दीवारों में फंसे रहेंगे तो इनका बचपन मर जाएगा। उनकी जवानी आएगी नहीं। वह बचपन से सीधे बुढ़ापे में चला जाएगा। यह गैप कौन भरेगा? तो मैं उसके लिए चिंतित था। मैं उनसे वीडियो कॉन्फ्रेंस से बात करता था। मैं उनको समझाता था का आप यह करिए। और इसलिए हमने डेटा एकदम सस्ता कर दिया। उस समय मेरा डेटा सस्ता करने के पीछे लॉजिक था। वह ईजिली इंटरनेट का उपयोग करते हुए नई दुनिया की तरफ मुड़े और वह हुआ। उसका हमें बेनिफिट हुआ है। भारत ने कोविड की मुसीबतों को अवसर में पलटने में बहुत बड़ा रोल किया है और आज जो डिजिटल रिवॉल्यूशन आया है, फिनटेक का जो रिवॉल्यूशन आया है, वह हमने आपत्ति को अवसर में पलटा उसके कारण आया है तो मैं टेक्नोलॉजी के सामर्थ्य को समझता हूं। मैं टेक्नोलॉजी को बढ़ावा देना चाहता हूं।

प्रधानमंत्री जी बहुत-बहुत धन्यवाद आपने हमें समय दिया।

नमस्कार भैया, मेरी भी आपको बहुत-बहुत शुभकामनाएं, आप भी बहुत प्रगति करें और देश को सही जानकारियां देते रहें।