انڈین آئل کی 518 کلومیٹر کی ہلدیہ-برونی کروڈآئل پائپ لائن کا افتتاح کیا
ودیا ساگر انڈسٹریل پارک، کھڑگپور میں انڈین آئل کے 120 ٹی ایم ٹی پی اے کی صلاحیت والے ایل پی جی بوٹلنگ پلانٹ کا افتتاح کیا
شیاما پرساد مکھرجی پورٹ، کولکتہ میں بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے لیے متعدد پروجیکٹوں کو قوم کے نام وقف کیا اور سنگ بنیاد رکھا
تقریباً 2680 کروڑ روپے مالیت کے اہم ریل پروجیکٹوں کو قوم کے نام وقف کیا
مغربی بنگال میں گندے پانی کی صفائی اور سیوریج سے متعلق تین پروجیکٹوں کا افتتاح کیا
21ویں صدی کا ہندوستان تیز رفتاری سے ترقی کر رہا ہے۔ ہم نے مل کر 2047 تک ایک ترقی یافتہ ہندوستان بنانے کا ہدف مقرر کیا ہے
‘‘مرکزی حکومت مغربی بنگال میں ریلوے کو اسی رفتار سے جدید بنانے کی کوشش کر رہی ہے جس رفتار سے ملک کے باقی حصوں میں’’
‘‘ہندوستان نے دنیا کو دکھایا کہ ماحول کے ساتھ ہم آہنگی کے ساتھ ترقی کیسے کی جا سکتی ہے’’
‘‘کسی بھی ریاست میں بنیادی ڈھانچے کے پروجیکٹ کا آغاز روزگار کے لیے متعدد راستے کھولتا ہے’’

وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج آرام باغ، ہگلی،مغربی بنگال میں 7,200 کروڑ روپے مالیت کے متعدد ترقیاتی پروجیکٹوں کو قوم کے نام وقف کیا اور  کا سنگ بنیادرکھا۔ آج کے ترقیاتی پروجیکٹٹ ریل، بندرگاہوں، تیل کی پائپ لائن، ایل پی جی  سپلائی اور گندے پانی کی صفائی جیسے شعبوں سے وابستہ ہیں۔

حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے 21ویں صدی کے ہندوستان کی تیز رفتار ترقی اور 2047 تک ہندوستان کو وکست بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔ انہوں نے نوجوانوں، خواتین، کسانوں اور غریبوں کو بااختیار بنانے کی ترجیحات کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ غریبوں کی فلاح و بہبود کے لیے کوششیں کی ہیں اور اس کے نتائج اب دنیا کے سامنے ہیں۔ انہوں نے اس حقیقت پر زور دیا کہ 25 کروڑ لوگوں کا غربت سے باہر آنا حکومت کی سمت، پالیسیوں اور فیصلوں کی درستگی کی نشاندہی کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس سب کی بڑی وجہ صحیح نیت ہے۔

 

وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا  کہ مغربی بنگال کی ترقی کے لیے 7,000 کروڑ روپے سے زیادہ  مالیت کے ترقیاتی پروجیکٹوں کا افتتاح کیا گیا اور سنگ بنیاد رکھا گیا ہے جن میں ریل، بندرگاہیں، پٹرولیم اور جل شکتی کے شعبے شامل ہیں۔ وزیر اعظم نے خطے میں سیاحت اور صنعت کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ  ریل کنیکٹی ویٹی کو بہتر بنانے کے لئے جھارگرام - سلگاجھری کو جوڑنے والی تیسری ریل لائن کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ "مرکزی حکومت مغربی بنگال میں ریلوے کو اسی رفتار سے جدید بنانے کی کوشش کر رہی ہے جس رفتار سے ملک کے باقی حصوں میں کررہی ہے۔’’انہوں نے سونڈالیہ - چمپا پوکر اور ڈنکونی - بھٹا نگر - بالٹیکوری ریل لائنوں کو دہرا کرنے کے بارے میں بھی بات کی۔ وزیر اعظم نے کولکتہ میں سیاما پرشاد مکھرجی پورٹ پر بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے ترقیاتی پروجیکٹوں اور 1,000 کروڑ روپے  سے زیادہ مالیت کے تین دیگر پروجیکٹوں کے بارے میں بھی بات کی۔

وزیراعظم مودی نے ہلدیہ برونی کروڈ پائپ لائن کی مثال دیتے ہوئے کہا، "ہندوستان نے دنیا کو دکھایا کہ ماحول کے ساتھ ہم آہنگی کے ساتھ ترقی کیسے کی جا سکتی ہے"۔ کروڈ آئل کو چار ریاستوں بہار، جھارکھنڈ، اڈیشہ اور مغربی بنگال کے ذریعے پائپ لائن کے ذریعے تین ریفائنریوں تک پہنچایا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں بچت اور ماحولیاتی تحفظ ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایل پی جی بوٹلنگ پلانٹ سے 7 ریاستوں کو فائدہ پہنچے گا اور اس سے علاقے میں ایل پی جی کی مانگ  پوری ہوگی۔ سیویج ٹریٹمنٹ پلانٹس سے بھی کئی اضلاع میں لاکھوں لوگوں کو فائدہ ہوگا۔

 

"کسی بھی  ریاست میں بنیادی ڈھانچے کے منصوبے کا آغاز روزگار کے لیے متعدد راستے کھولتا ہے۔’’ وزیر اعظم نے زور دے کر کہا کہ اس سال کے بجٹ میں مغربی بنگال میں ریلوے کی ترقی کے لیے 13,000 کروڑ روپے سے زیادہ کی رقم مختص کی گئی ہے، جو 2014سے  قبل  کی رقم سے تین گنا زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ریل لائنوں کی برق کاری، مسافروں کی سہولیات کی اپ گریڈیشن اور ریلوے اسٹیشنوں کی تعمیر نو کو ترجیح دیتی ہے۔ پچھلے 10 برسوں میں مکمل ہونے والے زیر التواء پروجیکٹوں پر روشنی ڈالتے ہوئے، وزیر اعظم نے بتایا کہ مغربی بنگال میں 3000 کلومیٹر سے زیادہ ریل لائنوں کی برق کاری کی  گئی ہے، تقریباً 100 ریلوے اسٹیشنوں کو دوبارہ تیار کیا جا رہا ہے جس میں امرت اسٹیشن اسکیم کے تحت تارکیشور ریلوے اسٹیشن کی تعمیر نو ، 150 سے زیادہ نئی ٹرین خدمات کا آغاز، اور 5 نئی وندے بھارت ایکسپریس  ٹرینوں کو جھنڈی دکھاکر روانہ کیا جانا بھی شامل ہے۔

وزیر اعظم نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ وکست بھارت کے عزائم کو مغربی بنگال کے لوگوں کے تعاون سے پورا کیا جائے گا اورآج کے ترقیاتی پروجیکٹوں کے لیے شہریوں سے اپنی نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

 

اس موقع پر مغربی بنگال کے گورنر ڈاکٹر سی وی آنند بوس اور بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں کے مرکزی وزیر مملکت جناب شانتنو ٹھاکر بھی موجود تھے۔

پس منظر

وزیر اعظم نے تقریباً 2,790 کروڑ روپے کی لاگت سے تیار کی گئی انڈین آئل کی 518 کلومیٹر ہلدیہ-برونی کروڈ آئل پائپ لائن کا افتتاح کیا۔ یہ پائپ لائن بہار، جھارکھنڈ اور مغربی بنگال سے گزرتی ہے۔ یہ پائپ لائن برونی ریفائنری، بونگائیگاؤں ریفائنری اور گوہاٹی ریفائنری کو محفوظ، کم لاگت اور ماحول دوست طریقے سے خام تیل فراہم کرے گی۔

وزیر اعظم نے ودیا ساگر انڈسٹریل پارک، کھڑگپور میں 120 ٹی ایم ٹی پی اے کی صلاحیت والے انڈین آئل کے ایل پی جی بوٹلنگ پلانٹ کا بھی افتتاح کیا۔ 200 کروڑ روپے سے زیادہ کی لاگت سے تیار کیا گیا، ایل پی جی بوٹلنگ پلانٹ خطے کا پہلا ایل پی جی بوٹلنگ پلانٹ ہوگا۔ یہ مغربی بنگال میں تقریباً 14.5 لاکھ صارفین کو ایل پی جی فراہم کرے گا۔

 

وزیر اعظم نے تقریباً 1000 کروڑ روپے مالیت کے شیاما پرساد مکھرجی پورٹ، کولکتہ میں بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے لیے متعدد پروجیکٹوں  کو قوم کو وقف کیا اور سنگ بنیاد رکھا۔ جن منصوبوں کا سنگ بنیاد رکھا جائے گا ان میں برتھ نمبر 8 این ایس ڈی کی تعمیر نو اور برتھ نمبر7 اور 8 این ایس ڈی،  کولکتہ ڈاک سسٹم کا میکانائزیشن شامل ہے۔ وزیر اعظم نے ہلدیہ ڈاک کمپلیکس، شیاما پرساد مکھرجی پورٹ کے آئل جیٹیوں پر فائر فائٹنگ سسٹم کو بڑھانے کے پروجیکٹ کو بھی قوم کے نام وقف کیا۔ نئی نصب شدہ فائر فائٹنگ سہولت ایک جدید ترین مکمل خودکار سیٹ اپ ہے جو جدید گیس اور شعلے کے سینسرز سے لیس ہے، جو خطرے کی فوری نشاندہی کو یقینی بناتا ہے۔ وزیر اعظم نے 40 ٹن وزن اٹھانے کی صلاحیت والے ہلدیہ ڈاک کمپلیکس کی تیسری ریل ماونٹڈ کے کرین (آر ایم کیو سی) کو وقف کیا۔ شیاما پرساد مکرجی پورٹ، کولکتہ میں یہ نئے پروجیکٹس تیزی سے اور محفوظ کارگو ہینڈلنگ اور انخلاء میں مدد کرتے ہوئے بندرگاہ کی پیداواری صلاحیت میں خاطر خواہ اضافہ کریں گے۔

 

وزیر اعظم نے تقریباً 2680 کروڑ روپے کے اہم ریل پروجیکٹوں کو قوم کے نام وقف کیا۔ ان منصوبوں میں جھارگرام - سلگاجھری (90 کلومیٹر) کو جوڑنے والی تیسری ریل لائن، ۔ سونڈالیہ – چمپاکور ریل لائن کو دہرا کرنا (24 کلومیٹر)؛ اور ڈنکونی - بھٹا نگر - بالٹیکوری ریل لائن (9 کلومیٹر) کو دہرا کرنا شامل ہے۔ یہ پروجیکٹس خطے میں ریل کی نقل و حمل کی سہولیات کو وسعت دیں گے، نقل و حرکت کو بہتر بنائیں گے اور مال بردار ٹریفک کی ہموار سروس کو سہولت فراہم کریں گے جس سے خطے میں اقتصادی اور صنعتی ترقی ہوگی۔

وزیر اعظم نے مغربی بنگال میں گندے پانی کی صفائی اور سیوریج سے متعلق تین منصوبوں کا افتتاح کیا۔ تقریباً 600 کروڑ روپے کی لاگت سے تیار کیے گئے ان پروجیکٹوں کو ورلڈ بینک نے فنڈ فراہم کیا ہے۔ پروجیکٹوں میں انٹرسیپشن اینڈ ڈائیورژن(آئی اینڈ ڈی) کے کام اور ہاوڑہ میں سیویج ٹریٹمنٹ پلانٹس(ایس ٹی پیز) جن کی صلاحیت  65  ایم ایل ڈی اور 3.3 کلومیٹر کا سیوریج نیٹ ورک ہے۔ بالی میں 62 ایم ایل ڈی کی صلاحیت والی آئی اینڈ ڈی ورکس اور ایس ٹی پیز اور 11.3 کلومیٹر کے سیویج نیٹ ورک، اور کمارہاٹی اور بارانگر میں 60 ایم ایل ڈی کی صلاحیت والے اور  اور 8.15 کلومیٹر کے سیوریج نیٹ ورک والے آئی اینڈ ڈی ورکس اور ایس ٹی پیز شامل ہیں۔

 

تقریر کا مکمل متن پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
India's strong growth outlook intact despite global volatility: Govt

Media Coverage

India's strong growth outlook intact despite global volatility: Govt
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Prime Minister urges MPs to vote in favour of Nari Shakti Vandan Adhiniyam Amendment, Calls it Historic Opportunity
April 17, 2026

The Prime Minister, Shri Narendra Modi, has highlighted that a discussion is currently underway in Parliament on the amendment to the Nari Shakti Vandan Adhiniyam, noting that deliberations continued till 1 AM last night.

He stated that all misconceptions surrounding the amendment have been addressed with logical responses, and every concern raised by members has been resolved. The Prime Minister added that necessary information, wherever lacking, has also been provided to all members, ensuring that issues of opposition have been clarified.

Emphasising that the issue of women’s reservation has witnessed political debates for nearly four decades, the Prime Minister said that the time has now come to ensure that women, who constitute half of the country’s population, receive their rightful representation.

He observed that even after decades of independence, the low representation of women in the decision-making process is not appropriate and needs to be corrected.

The Prime Minister informed that voting in the Lok Sabha is expected shortly and urged all political parties to take a thoughtful and sensitive decision by voting in favour of the women’s reservation amendment.

Appealing on behalf of the women of the country, he urged all Members of Parliament to ensure that no action hurts the sentiments of Nari Shakti. He noted that crores of women are looking towards the Parliament, its intent, and its decisions.

The Prime Minister called upon MPs to reflect upon their families-mothers, sisters, daughters, and wives—and listen to their inner conscience while making the decision.

He described the amendment as a significant opportunity to serve and honour the women of the nation and urged members not to deprive them of new opportunities.

Expressing confidence, the Prime Minister said that if the amendment is passed unanimously, it will further strengthen Nari Shakti as well as the country’s democracy.

Calling it a historic moment, he urged all members to come together to create history by granting rightful representation to women, who form half of India’s population.

The Prime Minister wrote on X;

“संसद में इस समय नारीशक्ति वंदन अधिनियम में संशोधन पर चर्चा चल रही है। कल रात भी एक बजे तक चर्चा चली है।

जो भ्रम फैलाए गए, उनको दूर करने के लिए तर्कबद्ध जवाब दिया गया है। हर आशंका का समाधान किया गया है। जिन जानकारियों का अभाव था, वो जानकारियां भी हर सदस्य को दी गई हैं। किसी के मन में विरोध का जो कोई भी विषय था, उसका भी समाधान हुआ है।

महिला आरक्षण के इस विषय पर देश में चार दशक तक बहुत राजनीति कर ली गई है। अब समय है कि देश की आधी आबादी को उसके अधिकार अवश्य मिलें।

आजादी के इतने दशकों बाद भी भारत की महिलाओं का निर्णय प्रक्रिया में इतना कम प्रतिनिधित्व रहे, ये ठीक नहीं।

अब कुछ ही देर लोकसभा में मतदान होने वाला है। मैं सभी राजनीतिक दलों से आग्रह करता हूं… अपील करता हूं...

कृपया करके सोच-विचार करके पूरी संवेदनशीलता से निर्णय लें, महिला आरक्षण के पक्ष में मतदान करें।

मैं देश की नारी शक्ति की तरफ से भी सभी सदस्यों से प्रार्थना करूंगा… कुछ भी ऐसा ना करें, जिनसे नारीशक्ति की भावनाएं आहत हों।

देश की करोड़ों महिलाओं की दृष्टि हम सभी पर है, हमारी नीयत पर है, हमारे निर्णय पर है। कृपया करके नारीशक्ति वंदन अधिनियम में संशोधन का साथ दें।”

“मैं सभी सांसदों से कहूंगा...

आप अपने घर में मां-बहन-बेटी-पत्नी सबका स्मरण करते हुए अपनी अंतरात्मा को सुनिए ...

देश की नारीशक्ति की सेवा का, उनके वंदन का ये बहुत बड़ा अवसर है।

उन्हें नए अवसरों से वंचित नहीं करिए।

ये संशोधन सर्वसम्मति से पारित होगा, तो देश की नारीशक्ति और सशक्त होगी… देश का लोकतंत्र और सशक्त होगा।

आइए… हम मिलकर आज इतिहास रचें। भारत की नारी को… देश की आधी आबादी को उसका हक दें।”

"Parliament is discussing a historic legislation that paves the way for women’s reservation in legislative bodies. The discussions, which began yesterday, lasted till around 1 AM and have continued since the House proceedings began this morning.

The Government has addressed all apprehensions and misconceptions relating to the legislation with facts and logic. All concerns have been addressed and any gaps in information have also been filled.

For nearly four decades, this issue of women’s reservation in legislative bodies has been inordinately delayed. Now is the time to ensure that half of the nation’s population receives its rightful due in decision making. Even after so many decades of Independence, it is not right that women in India have such limited representation in this area.

In a short while from now, voting will take place in the Lok Sabha. I urge and appeal to all political parties to reflect carefully and take a sensitive decision by voting in favour of women’s reservation.

On behalf of our Nari Shakti, I also request all members not to do anything that may hurt the sentiments of women across India. Crores of women are watching us…our intent and our decisions. I once again request that everyone support the amendments to the Nari Shakti Vandan Adhiniyam.”

"I would like to appeal to all Members of Parliament…

Please reflect upon your conscience, remembering the women in your own families.

The legislation to ensure women’s reservation in legislative bodies is a significant opportunity to do justice to women of our nation.

Please do not deprive our Nari Shakti of new opportunities.

If this amendment is passed unanimously, it will further empower the women of our country and strengthen our democracy.

Let us come together today to create history.

Let us ensure that the women of India, who are half of the nation’s population, receive their rightful due.”