ہندوستان ایک متحرک تہذیب ہے جو ہزاروں سال سے پھل پھول رہی ہے: وزیر اعظم
دنیا میں ایسی بہت کم مثالیں ملتی ہیں جہاں روایات اتنے طویل عرصے تک مسلسل برقرار رہی ہوں: وزیر اعظم
ہمارے معاشرے میں وقتاً فوقتاً ایسی عظیم شخصیات ابھرتی رہی ہیں، جو محض روحانی رہنمائی تک محدود نہیں رہی ہیں: وزیر اعظم
انہوں نے لوگوں کے درمیان رہ کر ان کے دکھ سکھ سمجھے، ان کی جدوجہد کو محسوس کیا اور معاشرے کو دکھ، تکلیف اور مشکلات سے باہر نکالنے کا راستہ دکھایا: وزیر اعظم
میری پہلی اپیل یہ ہے کہ ہم سب پانی بچانے اور اس کا بہتر انتظام کرنے کا عہد کریں: وزیر اعظم
میری دوسری اپیل درختوں اور فطرت سے متعلق ہے۔ ’ایک پیڑ ماں کے نام‘ مہم کے تحت لاکھوں لوگوں نے اپنی ماؤں کے نام پر درخت لگائے ہیں۔ آئیے ہم بھی اپنی ماں کے اعزاز میں درخت لگائیں اور دھرتی ماں کی حفاظت کا عہد کریں: وزیر اعظم
میری تیسری اپیل صفائی ستھرائی کے بارے میں ہے۔ چاہے وہ مذہبی مقام ہو، عوامی جگہ ہو، گاؤں ہو یا شہر، ہر جگہ صفائی برقرار رکھنا ہماری ذمہ داری ہے: وزیر اعظم
میری چوتھی اپیل سوادیشی اور خود انحصاری سے متعلق ہے۔ آئیے ہندوستانی مصنوعات اپنائیں، ہندوستانی مینوفیکچررز اور صنعتوں کو مضبوط کریں: وزیر اعظم
میری پانچویں اپیل اپنے ملک کی خوبصورتی کی تعریف کرنے سے متعلق ہے۔ آئیے ہم اپنے ملک کو جانیں، اس کے اندر سفر کریں اور مقامی سیاحت کو فروغ دیں: وزیر اعظم
کسانوں سے میری چھٹی اپیل یہ ہے کہ وہ قدرتی کاشتکاری کی طرف بڑھیں: وزیر اعظم
میری ساتویں اپیل صحت بخش غذا سے متعلق ہے۔ موٹاپا ہمارے ملک میں ایک بڑا چیلنج بنتا جا رہا ہے۔ اس سے نمٹنے کے لیے، اپنے کھانے میں تیل کی مقدار کو 10 فیصد کم کرنے کی کوشش کریں: وزیر اعظم
میری آٹھویں اپیل یوگ، کھیلوں اور فٹنس سے متعلق ہے۔ ہم سب کو انہیں اپنی زندگی کا لازمی حصہ بنانا چاہیے: وزیر اعظم
میری نویں اپیل جذبۂ خدمت سے متعلق ہے: وزیر اعظم

 

وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج کرناٹک کے مانڈیہ کے شری شیتر ادیچنچن گری میں شری گرو بھیرویکیہ مندر کا افتتاح کیا۔ اس تقریب کی گہری روحانی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے شری گرو بھیرویکیہ مندر کے عظیم الشان افتتاح کا مشاہدہ کرنے اور انتہائی بلند مرتبہ سنتوں کے ساتھ بات چیت کرنے کا موقع ملنے پر اپنے گہرے تشکر کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ تاریخی جوالا پیٹھ پر وقت گزارنا اور عقیدت مندوں کے بڑے مجمع سے خطاب کرنا ایسے طاقتور جذبات کا باعث بنا جو الفاظ سے بالاتر ہیں۔ وزیر اعظم مودی نے کہا، ’’یہ روحانی تجربات ہمیشہ میری یادداشت میں نقش رہیں گے۔‘‘

مجمع سے خطاب کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے ’تتوگیان‘ (فلسفہ) اور ’تنترگیان‘ (ٹیکنالوجی) کے انوکھے امتزاج کو اجاگر کیا جو کرناٹک کی پہچان ہے، اور مانڈیہ کے ’سکارے نگر‘ (شوگر سٹی) کے لوگوں کی مہمان نوازی پر خصوصی توجہ مرکوز کی۔ انہوں نے مشاہدہ کیا کہ شری ادیچنچن گری مہاسنس تھان مٹھ جیسے ادارے اس خطے کے لیے ایک اخلاقی اور روحانی کمپاس کے طور پر کام کرتے ہیں۔ جناب مودی نے کہا، ’’کرناٹک ایک ایسی سرزمین ہے جہاں فلسفے کی گہرائی جدید ٹیکنالوجی کی طاقت سے مکمل طور پر ملتی ہے۔‘‘

ہندوستان کی متحرک، ہزاروں سال پرانی تہذیب پر روشنی ڈالتے ہوئے، وزیر اعظم نے شری ادیچنچن گری مٹھ کی 2000 سالہ تاریخ کے ذریعے روایات کے نایاب اور اٹوٹ تسلسل پر زور دیا۔ انہوں نے ڈاکٹر بالگنگادھرناتھ مہاسوامی جی جیسی گزشتہ شخصیات کی گہری روحانی رہنمائی کو سراہا اور موجودہ قیادت کی تعریف کی کہ وہ اس ورثے کو نئے عزم کے ساتھ آگے بڑھا رہے ہیں۔ وزیر اعظم مودی نے کہا، ’’اس پوتر ادارے نے نسلوں تک اپنی خدمت کی روایت سے ہماری سرزمین کو مالا مال کیا ہے۔‘‘

معاشرے میں عظیم سنتوں کے تبدیلی لانے والے کردار کی تفصیل بیان کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے نشاندہی کی کہ ڈاکٹر بالگنگادھرناتھ مہاسوامی جی کی روحانی طاقت عام آدمی اور دیہی نوجوانوں کی مشکلات کو حل کرنے سے گہرا تعلق رکھتی تھی۔ انہوں نے وضاحت کی کہ یہ روحانی شخصیت عقیدت کو فرار نہیں بلکہ عوام کی بہتری کے لیے ایک فعال ذمہ داری کے طور پر دیکھتی تھی۔ جناب مودی نے کہا، ’’حقیقی عقیدت معاشرے کی فلاح و بہبود کی ذمہ داری اٹھانے کے لیے آگے بڑھنا ہے۔‘‘

 

مہاسوامی جی کے وسیع پیمانے پر فلاحی اقدامات کو اجاگر کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے ذکر کیا کہ انہوں نے پسماندہ بچوں کے لیے پرائمری تعلیم سے لے کر پیشہ ورانہ ڈگریوں تک کے بے شمار تعلیمی ادارے قائم کیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مٹھ کے صحت کی دیکھ بھال کے ویژنری نقطۂ نظر نے اس بات کو یقینی بنایا کہ معیاری طبی خدمات بلا تفریق سب تک پہنچیں۔ جناب مودی نے زور دے کر کہا، ’’معیاری صحت کی دیکھ بھال ہر شہری کا قابل رسائی حق ہونا چاہیے، نہ کہ صرف چند لوگوں کے لیے استحقاق۔‘‘

مٹھ کی انسانی ہمدردی کی کوششوں اور حکومت کی فلاحی پالیسیوں کے درمیان مماثلت قائم کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے آیوشمان بھارت اسکیم کی کامیابی کو اجاگر کیا جس کے تحت کروڑوں غریب شہریوں کو مفت ہسپتال کا علاج فراہم کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ حال ہی میں اس اسکیم کو 70 سال سے زائد عمر کے تمام بزرگ شہریوں تک توسیع دی گئی ہے۔ جناب مودی نے کہا،’’ہم اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ ہمارے بزرگوں کو وقار کے ساتھ صحت کی اہم سہولیات ملیں۔‘‘

تمام جانداروں کے لیے مہاسوامی جی کے بے پناہ رحم و کرم پر روشنی ڈالتے ہوئے، وزیر اعظم نے موروں کے تحفظ کے لیے ان کی خصوصی سماجی تحریک کی تعریف کی اور اسے ماحولیاتی تحفظ اور ہندوستان کے ثقافتی ورثے دونوں سے جوڑا۔ دہلی میں اپنی رہائش گاہ پر کیے گئے ذاتی مشاہدات کا حوالہ دیتے ہوئے، انہوں نے قومی پرندے کے ساتھ اپنے خوشگوار تعاملات کا ذکر کیا۔ جناب مودی نے تبصرہ کیا، ’’مور نہ صرف ہمارے قومی وقار کی علامت ہے بلکہ ایک انتہائی خوبصورت اور امن پسند مخلوق بھی ہے۔‘‘

موجودہ جگد گرو، ڈاکٹر نرملانند ناتھ مہاسوامی جی کی تعریف کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے اپنے گرو کے نقش قدم پر چلتے ہوئے لوگوں کی زندگیوں میں مثبت تبدیلیاں لانے کے لیے ان کے عزم کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ حال ہی میں تعمیر شدہ شری گرو بھیرویکیہ مندر محض ایک جسمانی ڈھانچے سے بڑھ کر گہری روحانی عقیدت کی حقیقی عملی شکل بن گیا ہے۔ جناب مودی نے زور دے کر کہا، ’’یہ مندر بلاشبہ خدمت اور تحریک کا ایک پائیدار مینار ثابت ہوگا۔‘‘

 

شری ادیچنچن گری مٹھ کے نو بنیادی اصولوں—جن میں خوراک، تعلیم، صحت، روحانیت اور ہمدردی شامل ہیں—کا خاکہ پیش کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے ایک اجتماعی قومی عزم کی تجویز پیش کرنے کے لیے تحریک حاصل کی۔ انہوں نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ سماجی مفاد کے نو مخصوص شعبوں پر توجہ مرکوز کرکے ان اقدار کو اپنائیں۔ جناب مودی نے کہا،’’آج میں آپ کے سامنے نو اہم درخواستیں رکھتا ہوں تاکہ ہم اپنے اجتماعی عزم کو مضبوط کر سکیں۔‘‘

پہلی پانچ درخواستوں کی تفصیل بیان کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے مانڈیہ کے لوگوں پر زور دیا کہ وہ پانی کے تحفظ کی مہم چلائیں، ’ایک پیڑ ماں کے نام‘ مہم کے تحت درخت لگائیں اور تمام عوامی و مذہبی مقامات پر سخت صفائی برقرار رکھیں۔ انہوں نے ہندوستانی مصنوعات کو اپنانے اور ملک کی بے پناہ خوبصورتی کو دیکھنے کے لیے ملکی سیاحت کو فروغ دے کر خود انحصاری پر دوبارہ توجہ مرکوز کرنے کا مطالبہ کیا۔ جناب مودی نے زور دے کر کہا، ’’ہمیں دھرتی ماں کی حفاظت کرنی چاہیے اور اپنی گھریلو صنعتوں کو فعال طور پر مضبوط کرنا چاہیے۔‘‘

 

صحت اور زراعت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے، وزیر اعظم نے کسانوں کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ قدرتی کاشتکاری اپنائیں اور نوجوان نسل سے اپیل کی کہ وہ موٹے اناج اور ’راگی مڈے‘ کو اپنی خوراک میں شامل کریں، جو جناب ایچ ڈی دیوے گوڑا کی طرف سے فروغ دیا جانے والا ایک علاقائی اہم جزو ہے۔ انہوں نے موٹاپے سے نمٹنے کے لیے کھانا پکانے والے تیل میں 10 فیصد کمی لانے، فٹنس کو روزمرہ کی زندگی کا حصہ بنانے اور زندگی بھر خدمت کا جذبہ برقرار رکھنے کی بھی وکالت کی۔ جناب مودی نے کہا، ’’یوگ اور صحت بخش غذا کو ترجیح دینا ہماری روزمرہ کی زندگی کے لیے ضروری ہے۔‘‘

 

اپنی تقریر کا اختتام کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ ضرورت مندوں کی خدمت زندگی میں ایک عظیم مقصد کا جذبہ پیدا کرتی ہے اور سماجی تانے بانے کو گہرائی سے مضبوط کرتی ہے۔ انہوں نے اس پختہ یقین کا اظہار کیا کہ ان نو درخواستوں پر عمل کرنا ایک ترقی یافتہ کرناٹک اور ترقی یافتہ ہندوستان کی جانب مشترکہ سفر کو تیز کرے گا۔ جناب مودی نے زور دے کر کہا، ’’دیانت دارانہ عزم کے ساتھ، ہم وکست بھارت کے وژن کی جانب تیزی سے پیش قدمی کریں گے۔‘‘

 

Click here to read full text speech

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
India's strong growth outlook intact despite global volatility: Govt

Media Coverage

India's strong growth outlook intact despite global volatility: Govt
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Prime Minister urges MPs to vote in favour of Nari Shakti Vandan Adhiniyam Amendment, Calls it Historic Opportunity
April 17, 2026

The Prime Minister, Shri Narendra Modi, has highlighted that a discussion is currently underway in Parliament on the amendment to the Nari Shakti Vandan Adhiniyam, noting that deliberations continued till 1 AM last night.

He stated that all misconceptions surrounding the amendment have been addressed with logical responses, and every concern raised by members has been resolved. The Prime Minister added that necessary information, wherever lacking, has also been provided to all members, ensuring that issues of opposition have been clarified.

Emphasising that the issue of women’s reservation has witnessed political debates for nearly four decades, the Prime Minister said that the time has now come to ensure that women, who constitute half of the country’s population, receive their rightful representation.

He observed that even after decades of independence, the low representation of women in the decision-making process is not appropriate and needs to be corrected.

The Prime Minister informed that voting in the Lok Sabha is expected shortly and urged all political parties to take a thoughtful and sensitive decision by voting in favour of the women’s reservation amendment.

Appealing on behalf of the women of the country, he urged all Members of Parliament to ensure that no action hurts the sentiments of Nari Shakti. He noted that crores of women are looking towards the Parliament, its intent, and its decisions.

The Prime Minister called upon MPs to reflect upon their families-mothers, sisters, daughters, and wives—and listen to their inner conscience while making the decision.

He described the amendment as a significant opportunity to serve and honour the women of the nation and urged members not to deprive them of new opportunities.

Expressing confidence, the Prime Minister said that if the amendment is passed unanimously, it will further strengthen Nari Shakti as well as the country’s democracy.

Calling it a historic moment, he urged all members to come together to create history by granting rightful representation to women, who form half of India’s population.

The Prime Minister wrote on X;

“संसद में इस समय नारीशक्ति वंदन अधिनियम में संशोधन पर चर्चा चल रही है। कल रात भी एक बजे तक चर्चा चली है।

जो भ्रम फैलाए गए, उनको दूर करने के लिए तर्कबद्ध जवाब दिया गया है। हर आशंका का समाधान किया गया है। जिन जानकारियों का अभाव था, वो जानकारियां भी हर सदस्य को दी गई हैं। किसी के मन में विरोध का जो कोई भी विषय था, उसका भी समाधान हुआ है।

महिला आरक्षण के इस विषय पर देश में चार दशक तक बहुत राजनीति कर ली गई है। अब समय है कि देश की आधी आबादी को उसके अधिकार अवश्य मिलें।

आजादी के इतने दशकों बाद भी भारत की महिलाओं का निर्णय प्रक्रिया में इतना कम प्रतिनिधित्व रहे, ये ठीक नहीं।

अब कुछ ही देर लोकसभा में मतदान होने वाला है। मैं सभी राजनीतिक दलों से आग्रह करता हूं… अपील करता हूं...

कृपया करके सोच-विचार करके पूरी संवेदनशीलता से निर्णय लें, महिला आरक्षण के पक्ष में मतदान करें।

मैं देश की नारी शक्ति की तरफ से भी सभी सदस्यों से प्रार्थना करूंगा… कुछ भी ऐसा ना करें, जिनसे नारीशक्ति की भावनाएं आहत हों।

देश की करोड़ों महिलाओं की दृष्टि हम सभी पर है, हमारी नीयत पर है, हमारे निर्णय पर है। कृपया करके नारीशक्ति वंदन अधिनियम में संशोधन का साथ दें।”

“मैं सभी सांसदों से कहूंगा...

आप अपने घर में मां-बहन-बेटी-पत्नी सबका स्मरण करते हुए अपनी अंतरात्मा को सुनिए ...

देश की नारीशक्ति की सेवा का, उनके वंदन का ये बहुत बड़ा अवसर है।

उन्हें नए अवसरों से वंचित नहीं करिए।

ये संशोधन सर्वसम्मति से पारित होगा, तो देश की नारीशक्ति और सशक्त होगी… देश का लोकतंत्र और सशक्त होगा।

आइए… हम मिलकर आज इतिहास रचें। भारत की नारी को… देश की आधी आबादी को उसका हक दें।”

"Parliament is discussing a historic legislation that paves the way for women’s reservation in legislative bodies. The discussions, which began yesterday, lasted till around 1 AM and have continued since the House proceedings began this morning.

The Government has addressed all apprehensions and misconceptions relating to the legislation with facts and logic. All concerns have been addressed and any gaps in information have also been filled.

For nearly four decades, this issue of women’s reservation in legislative bodies has been inordinately delayed. Now is the time to ensure that half of the nation’s population receives its rightful due in decision making. Even after so many decades of Independence, it is not right that women in India have such limited representation in this area.

In a short while from now, voting will take place in the Lok Sabha. I urge and appeal to all political parties to reflect carefully and take a sensitive decision by voting in favour of women’s reservation.

On behalf of our Nari Shakti, I also request all members not to do anything that may hurt the sentiments of women across India. Crores of women are watching us…our intent and our decisions. I once again request that everyone support the amendments to the Nari Shakti Vandan Adhiniyam.”

"I would like to appeal to all Members of Parliament…

Please reflect upon your conscience, remembering the women in your own families.

The legislation to ensure women’s reservation in legislative bodies is a significant opportunity to do justice to women of our nation.

Please do not deprive our Nari Shakti of new opportunities.

If this amendment is passed unanimously, it will further empower the women of our country and strengthen our democracy.

Let us come together today to create history.

Let us ensure that the women of India, who are half of the nation’s population, receive their rightful due.”