تقریباً 5,450 کروڑ روپے کی لاگت سے تیار ہونے والے گروگرام میٹرو ریل پروجیکٹ کا سنگ بنیاد رکھا
تقریباً 1,650 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر ہونے والے ایمس ریواڑی کا سنگ بنیاد رکھا
جیوتیسر، کروکشیتر میں تجرباتی میوزیم ‘انوبھو کیندر’ کا افتتاح کیا
ملک کے متعدد ریلوے منصوبوں کا سنگ بنیاد رکھا اور اُنہیں قوم کے نام وقف کیا
روہتک-مہم-ہنسی سیکشن میں ٹرین سروس کو جھنڈی دکھا کر روانہ کیا
’’ہریانہ کی ڈبل انجن حکومت عالمی معیار کے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کے لیے پرعزم ہے‘‘
ہریانہ کے لیے وکست بھارت کی تعمیر کرنے کے سلسلے میں ترقی یافتہ ہونا بہت ضروری ہے
’’انوبھو کیندر جیوتیسر بھگود گیتا میں بھگوان شری کرشن کی تعلیمات سے دنیا کو متعارف کرائے گا‘‘
’’ہریانہ حکومت نے پانی سے متعلق مسائل کو حل کرنے کے لئے قابل ستائش کام کیا ہے‘‘
’’ہریانہ ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی صنعت میں اپنا ایک بڑا نام پیدا کر رہا ہے‘‘
’’ہریانہ سرمایہ کاری کے لیے ایک سرفہرست ریاست بن کر اُبھر رہا ہے، اور سرمایہ کاری میں اضافے کا مطلب روزگار کے نئے مواقع میں اضافہ ہے‘‘

وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج ریواڑی، ہریانہ میں 9750 کروڑ روپے سے زیادہ کے متعدد ترقیاتی پروجیکٹوں کا افتتاح کیا،  انہیں قوم  کے نام  وقف کیا اور ان کا سنگ بنیاد رکھا۔ یہ منصوبے شہری ٹرانسپورٹ، صحت، ریل اور سیاحت سے متعلق کئی اہم شعبوں کی ضروریات کو پورا کرتے ہیں۔ جناب مودی نے اس موقع پر دکھائی گئی نمائشوں کا گھوم پھر کر معائنہ بھی کیا۔

 

اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے بہادروں کی سرزمین ریواڑی کو خراج عقیدت پیش کیا اور علاقے کے لوگوں کی ان کے لیے محبت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے 2013 میں ریواڑی میں پی ایم امیدوار کے طور پر اپنے پہلے پروگرام کو یاد کیا اور لوگوں کی طرف سے ظاہر کی جانے والی نیک خواہشات کا بھی ذکر کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ عوام کی مہربانیاں ان کے لیے بہت بڑا اثاثہ ہیں۔ انہوں نے ہندوستان کے ذریعے دنیا میں نئی بلندیوں کو چھونے کے پس پشت لوگوں کی دعاؤں کو کارفرما قرار دیا۔یو اے ای اور قطر کے اپنے دورے کے بارے میں بات کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے ہندوستان کے لوگوں کو اس عزت اور خیر سگالی کا سہرا دیا جو ہندوستان کو عالمی سطح پر حاصل ہے۔ اسی طرح، انہوں نے کہا کہ جی 20، چندریان، اور ہندوستانی معیشت کا 11 ویں سے پانچویں نمبر پر آنا، عوام کی حمایت کی وجہ سے حاصل ہونے والی بڑی کامیابیاں ہیں۔ انہوں نے آنے والے برسوں میں ہندوستان کو دنیا کی تیسری سب سے بڑی معیشت بنانے کے لیے لوگوں  کا آشیرواد طلب کیا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ہریانہ کی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ ملک وکست بھارت بنے۔ انہوں نے آج اور ہریانہ کی ترقی کے لئے سڑکوں اور ریلوے نیٹ ورکس کے ساتھ ساتھ اچھی طرح سے لیس اسپتالوں کی جدید کاری کے لئے تقریباً 10,000 کروڑ روپے کے متعدد ترقیاتی پروجیکٹوں کا سنگ بنیاد رکھنے اور انہیں قوم  کے نام  وقف کرنے کا ذکر کیا۔ ترقیاتی منصوبوں کی فہرست پیش کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے ایمس ریواڑی، گروگرام میٹرو، کئی ریل لائنوں اور نئی ٹرینوں کے ساتھ تجرباتی میوزیم - انوبھو کیندر جیوتیسر کا ذکر کیا۔ انوبھو کیندر جیوتیسر پر روشنی ڈالتے ہوئے، وزیر اعظم نے کہا کہ یہ بھگود گیتا میں بھگوان شری کرشن کی تعلیمات سے دنیا کو متعارف کرائے گا اور ساتھ ہی ہندوستانی ثقافت میں ہریانہ کی شاندار سرزمین کے تعاون کو بھی اجاگر کرے گا۔ انہوں نے آج کے ترقیاتی منصوبوں کے لئے ہریانہ کے لوگوں کو مبارکباد دی۔

 

’مودی کی گارنٹی’کے بارے میں قومی اور حتیٰ کہ عالمی سطح پر ہونے والی گونج کے بارے میں بات کرتے ہوئے، پی ایم مودی نے کہا کہ ریواڑی ‘مودی کی گارنٹی’ کا پہلا گواہ ہے۔ انہوں نے ان ضمانتوں کو یاد کیا کہ انہوں نے یہاں ملک کے وقار اور ایودھیا دھام میں شری رام مندر کے بارے میں پیش کیا تھا جس میں اب حقیقت کا روپ اختیار کرلیا ہے۔ اسی طرح آرٹیکل 370 کو پی ایم مودی کی طرف سے دی گئی گارنٹی کے مطابق ختم کر دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ آج جموں و کشمیر میں خواتین، پسماندہ، دلتوں، قبائلیوں کو ان کے حقوق مل رہے ہیں۔

وزیر اعظم نے یہاں ریواڑی میں سابق فوجیوں کو ‘ون رینک ون پنشن’ کی گارنٹی کی تکمیل کو یاد کیا اور اب تک تقریباً ایک لاکھ کروڑ روپے فراہم کرنے کے بارے میں بتایا، جہاں ہریانہ کے کئی سابق فوجیوں نے اس کا فائدہ اٹھایا ہے۔ ریواڑی میں وزیر اعظم نے بتایا کہ او آر او پی سے مستفید ہونے والوں کو اب تک 600 کروڑ روپے سے زیادہ کی رقم ملی ہے۔ انہوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ پچھلی حکومت نے او آر او پی کے لیے 500 کروڑ روپے کا بجٹ مختص کیا تھا جو کہ صرف ریواڑی میں فوجیوں کے اہل خانہ کو ملنے والی رقم سے کم ہے۔

ریواڑی میں ایمس کے قیام کی ضمانت آج کے سنگ بنیاد رکھنے کے ساتھ ہی پوری ہوئی۔ وزیر اعظم نے یقین دلایا کہ وہ ریواڑی ایمس کا بھی افتتاح کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے مقامی شہریوں کو بہتر علاج اور ڈاکٹر بننے کا موقع ملے گا۔ اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ ریواڑی ایمس 22 واں ایمس ہے، پی ایم مودی نے بتایا کہ پچھلے 10 برسوں میں 15 نئے ایمس کو منظوری دی گئی ہے۔ گزشتہ 10 برسوں میں 300 سے زائد میڈیکل کالج وجود میں آئے۔ ہریانہ میں بھی ہر ضلع میں کم از کم ایک میڈیکل کالج  کے قیام کو یقینی بنانے کا کام جاری ہے۔

 

وزیر اعظم نے موجودہ اور ماضی کی حکومتوں کی اچھی اور بری حکمرانی کا موازنہ کیا اور ہریانہ میں پچھلے 10 برسوں سے ڈبل انجن والی حکومت کی کارگزاری کو اُجاگر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ جب مرکزی حکومت کی طرف سے غریبوں کی فلاح و بہبود کے لیے بنائی گئی پالیسیوں کی پابندی کی بات آتی ہے تو  اس معاملے میں  یہ ریاست سرفہرست نظر آتی ہے۔ انہوں نے زرعی شعبے میں ہریانہ کی ترقی اور ریاست کی صنعتوں کی توسیع پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے جنوبی  ہریانہ کی تیز رفتار ترقی پر بھی روشنی ڈالی جو دہائیوں سے پیچھے رہی، چاہے وہ سڑک، ریل ہوں یا میٹرو خدمات ہوں۔ پی ایم مودی نے بتایا کہ دہلی-ممبئی ایکسپریس وے کے دہلی-دوسا-للسوٹ سیکشن کے پہلے مرحلے کا پہلے ہی افتتاح کیا جا چکا ہے،  اس کے ساتھ ہی  انہوں نے مزید کہا کہ دہلی-ممبئی ایکسپریس وے،  جو کہ ہندوستان کا سب سے طویل ایکسپریس وے ہے، ہریانہ کے گروگرام، پلول اور نوح اضلاع سے گزرتا ہے۔

وزیر اعظم مودی نے بتایا کہ ہریانہ کا سالانہ ریلوے بجٹ جو 2014 سے پہلے اوسطاً 300 کروڑ روپے تھا اب پچھلے 10 برسوں میں 3000 کروڑ روپے تک بڑھا دیا گیا ہے۔ انہوں نے روہتک-مہم-ہانسی اور جند-سونی پت کے لئے نئی ریلوے لائنوں اور امبالہ کینٹ-ڈپر جیسی لائنوں کو دوگنا کرنے کا ذکر کیا اور کہا کہ اس سے زندگی میں آسانی اور کاروبار کرنے میں آسانی ہوگی جبکہ لاکھوں لوگوں کو فائدہ ہوگا۔

 

وزیر اعظم نے ریاست میں پانی سے متعلق مسائل کو حل کرنے میں ریاستی حکومت کے کام کی بھی ستائش کی جو اب سینکڑوں کثیر قومی( ملٹی نیشنل) کمپنیوں کا گھر ہے جو نوجوانوں کے لیے روزگار پیدا کر رہی ہے۔

پی ایم مودی نے کہا کہ جب ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی صنعت کی بات آتی ہے تو ہریانہ اپنے لئے ایک بہت بڑا نام  پیدا کر رہا ہے جو 35 فیصد سے زیادہ قالین برآمد کرتا ہے اور تقریباً 20 فیصد کپڑے ہندوستان میں تیار کرتا ہے۔ ہریانہ کی ٹیکسٹائل انڈسٹری کو آگے لے جانے والی چھوٹی صنعتوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیر اعظم نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ پانی پت ہینڈلوم(ہتھ کرگھا) مصنوعات کے لیے مشہور ہے، فرید آباد ٹیکسٹائل کی پیداوار کے لیے، گروگرام ریڈی میڈ گارمنٹس کے لیے، سونی پت تکنیکی ٹیکسٹائل کے لیے اور بھیوانی غیر بنے ہوئے کپڑوں کے لیے مشہور ہے۔ وزیر اعظم نے گزشتہ 10 سالوں میں بہت چھوٹی ، چھوٹی  اوراوسط  درجے کی صنعتوں(ایم ایس ایم ایز) اور چھوٹے پیمانے کی صنعتوں کو مرکزی حکومت کی طرف سے لاکھوں کروڑ روپے کی امداد کے بارے میں بتایا، جس کے نتیجے میں پرانی چھوٹی صنعتوں اور کاٹیج (گھریلو)صنعتوں کو تقویت ملی ہے جبکہ ریاست میں ہزاروں نئی صنعتیں بھی قائم ہوئی ہیں۔ .

ریواڑی میں وشوکرما کی پیتل کی کاریگری اور دستکاری کی کاریگری پر روشنی ڈالتے ہوئے وزیر اعظم نے 18 پیشوں سے متعلق ایسے روایتی کاریگروں کے لیے پی ایم وشوکرما یوجنا کے آغاز پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ ملک بھر میں لاکھوں استفادہ کنندگان پی ایم وشوکرما یوجنا کا حصہ بن رہے ہیں اور حکومت ہمارے روایتی کاریگروں اور ان کے خاندانوں کی زندگیوں  میں تبدیلیاں لانے کے لیے 13,000 کروڑ روپے خرچ کرنے جا رہی ہے۔

’’مودی کی گارنٹی ان لوگوں کے لیے ہے جن کے پاس بینکوں کو ضمانت دینے کے لیے کچھ نہیں ہے’’، وزیر اعظم نے یہ بات  چھوٹے کسانوں کو پی ایم کسان سمان ندھی، غریبوں، دلتوں، کو ضمانت کے بغیر قرضوں کے لیے مدرا یوجنا ، پسماندہ اور او بی سی کمیونٹیز اور ریہڑی پٹری لگانے والے دکانداروں کے لیے پی ایم سواندھی یوجنا فراہم کرنے کا ذکر کرتے ہوئے کہی ۔

 

ریاست میں خواتین کی فلاح و بہبود پر بات کرتے ہوئے وزیر اعظم نے مفت گیس کنکشن اور نلکے کے پانی کی فراہمی کا ذکر کیا اور ساتھ ہی ملک بھر کی 10 کروڑ خواتین کو ہریانہ کی لاکھوں خواتین سمیت سیلف ہیلپ گروپس (خود امدادی گروپوں )سے جوڑنے کا ذکر کیا۔ انہوں نے ان سیلف ہیلپ گروپس کے لیے لاکھوں کروڑوں روپے کی مالی امداد کا بھی ذکر کیا۔ لکھ پتی دیدی اسکیموں کے بارے میں بات کرتے ہوئے وزیر اعظم نے بتایا کہ اب تک 1 کروڑ خواتین لکھپتی دیدی بن چکی ہیں جبکہ اس سال کے بجٹ کے تحت ان کی تعداد کو 3 کروڑ تک بڑھانے پر کام جاری ہے۔ وزیر اعظم نے نمو ڈرون دیدی اسکیم پر بھی بات کی جہاں خواتین کے گروپوں کو کھیتی باڑی میں ڈرون کا استعمال کرنے کے لیے تربیت دی جا رہی ہے، اس طرح ان کے لیے اضافی آمدنی پیدا ہو رہی ہے۔

وزیر اعظم نے ہریانہ کے پہلی بار ووٹ  ڈالنے والوں  کے روشن مستقبل پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ‘‘ہریانہ حیرت انگیز امکانات کی ریاست ہے’’۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ڈبل انجن والی حکومت ہریانہ کو ایک ترقی یافتہ ریاست بنانے اور ہر شعبے میں روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہے، چاہے وہ ٹیکنالوجی ہو یا ٹیکسٹائل، سیاحت ہو یا تجارت۔ وزیر اعظم نے  اپنی بات کااختتام کرتے ہوئے کہا۔‘‘ہریانہ سرمایہ کاری کے لئے ایک اچھی ریاست کے طور پر اُبھر رہا ہے، اور سرمایہ کاری میں اضافہ کا مطلب ہے  روزگار کے نئے مواقع میں اضافہ’’۔

 

اس موقع پر ہریانہ کے گورنر بنڈارو دتاتریہ اور ہریانہ کے وزیر اعلیٰ جناب منوہر لال کھٹر سمیت ہریانہ حکومت کے دیگر وزراء اور ایم ایل ایز بھی موجود تھے۔

پس منظر

وزیر اعظم نے تقریباً 5450 کروڑ روپے کی لاگت سے تیار ہونے والے گروگرام میٹرو ریل پروجیکٹ کا سنگ بنیاد رکھا۔ یہ پروجیکٹ، جس کی کل لمبائی 28.5 کلومیٹر ہے، ملینیم سٹی سینٹر کو ادیوگ وہار فیز -5 سے جوڑ دے گا اور سائبر سٹی کے قریب مولسری ایونیو اسٹیشن پر ریپڈ میٹرو ریل گروگرام کے موجودہ میٹرو نیٹ ورک میں ضم ہو جائے گا۔ دوارکا ایکسپریس وے پر بھی اس  پروگرام کو  بڑھاوا دیا جائے گا۔یہ منصوبہ شہریوں کو عالمی معیار کے ماحول دوست ماس ریپڈ اربن ٹرانسپورٹ سسٹم(تیز رفتار عوامی  شہری نقل وحمل  کا نظام) فراہم کرنے کے وزیر اعظم کے وژن کو عملی جامہ پہنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔

ملک بھر میں صحت عامہ کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے وزیر اعظم کے وژن کے مطابق آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز(اے آئی آئی ایم ایس)، ریواڑی، ہریانہ کا  سنگ بنیاد رکھا جا رہا ہے۔ تقریباً 1650 کروڑ روپے کی لاگت سے بنائے جانے والے ایمس ریواڑی کو ریواڑی کے گاؤں ماجرا مستل بھلاکھی میں 203 ایکڑ اراضی پر تیار کیا جائے گا۔ اس میں 720 بستروں والا ہسپتال کمپلیکس، 100 نشستوں والا میڈیکل کالج، 60 نشستوں والا نرسنگ کالج، 30 بستروں والا آیوش بلاک، فیکلٹی اور عملے کے لیے رہائشی  مکانات ، یو جی اور  پی جی طلباء کے لیے ہاسٹل کی رہائش، نائٹ شیلٹر، گیسٹ ہاؤس جیسی سہولیات،آڈیٹوریم وغیرہ ہوں گی۔ پردھان منتری سوستھیہ  سرکشا یوجنا (پی ایم ایس ایس وائی) کے تحت قائم کیا گیا، اے آئی آئی ایم ایس ریواڑی ہریانہ کے لوگوں کو جامع، معیاری اور جامع تیسرے زمرے والی  دیکھ بھال کی صحت کی خدمات فراہم کرے گا۔ ان سہولیات میں 18 اسپیشلٹیز اور 17 سپر اسپیشلٹیز میں مریضوں کی دیکھ بھال کی خدمات شامل ہیں جن میں کارڈیالوجی، گیسٹرو اینٹرولوجی، نیفرولوجی، یورولوجی، نیورولوجی، نیورو سرجری، میڈیکل آنکولوجی،سرجیکل آنکولوجی، اینڈو کرائنولوجی، برنس اور پلاسٹک سرجری شامل ہیں۔ انسٹی ٹیوٹ میں انتہائی نگہداشت یونٹ، ایمرجنسی اور ٹراما یونٹ، سولہ ماڈیولر آپریشن تھیٹرز، تشخیصی لیبارٹریز، بلڈ بینک، فارمیسی وغیرہ کی سہولیات بھی ہوں گی۔ ہریانہ میں ایمس کا قیام ہریانہ کے لوگوں کے لیےجامع، معیاری اور تیسرے درجے کی جامع دیکھ بھال فراہم کرنے میں ایک اہم سنگ میل ہے۔

 

وزیر اعظم نے ایک نو تعمیر شدہ انوبھو کیندر جیوتیسر، کروکشیتر کا افتتاح کیا۔ یہ تجرباتی میوزیم تقریباً 240 کروڑ کی لاگت سے بنایا گیا ہے۔ میوزیم 17 ایکڑ پر پھیلا ہوا ہے، جس میں 100,000 مربع فٹ اندرونی جگہ شامل ہے۔ یہ مہابھارت کی مہاکاوی داستان اور گیتا کی تعلیمات کو واضح طور پر زندہ کرے گا۔ عجائب گھر جدید ٹیکنالوجی بشمول آگمینٹڈ ریئیلٹی (اے آر) ، تھری ڈی لیزر، اور پروجیکشن میپنگ کی سہولیات سے بھی آراستہ  ہے، تاکہ یہاں آنے والوں کے تجربے کو تقویت ملے۔ جیوتیسر، کروکشیترا وہ مقدس مقام ہے جہاں بھگوان کرشنا نے ارجن کو بھگود گیتا کی ابدی حکمت عطا کی تھی۔

 

وزیراعظم نے ریلوے کے متعدد منصوبوں  کاسنگ بنیاد بھی رکھا اور انہیں قوم کے نام وقف بھی کیا۔ جن پروجیکٹوں کا سنگ بنیاد رکھا جائے گا ان میں ریواڑی-کاتھواس ریل لائن (27.73 کلومیٹر) کو دوگنا کرنا ، کٹھواس-نرنول ریل لائن کو دوگنا کرنا (24.12 کلومیٹر)؛ بھیوانی-ڈوبھ بھلی ریل لائن کو دوگنا کرنا (42.30 کلومیٹر)؛ اور منہیرو-باوانی کھیرا ریل لائن (31.50 کلومیٹر) کو دوگنا کرنا شامل ہے۔ان ریلوے لائنوں کو دوگنا کرنے سے خطے میں ریل کے بنیادی ڈھانچے میں اضافہ ہوگا اور مسافر اور مال بردار ٹرینوں کو بروقت چلانے میں مدد ملے گی۔ وزیر اعظم نے روہتک-مہم-ہانسی ریل لائن (68 کلومیٹر) کو قوم کے نام وقف کیا، جس سے روہتک اور حصار کے درمیان سفر کا وقت کم ہو جائے گا۔ انہوں نے روہتک-مہم-ہانسی سیکشن میں ٹرین سروس کو بھی جھنڈی دکھا کر روانہ کیا، جس سے روہتک اور حصار خطے میں ریل رابطے میں بہتری آئے گی اور ریل مسافروں کو فائدہ پہنچے گا۔

 

تقریر کا مکمل متن پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
India’s 5G traffic surges 70% Y-o-Y: Nokia report

Media Coverage

India’s 5G traffic surges 70% Y-o-Y: Nokia report
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
PM chairs CCS Meeting to review measures being taken in the context of ongoing West Asia Conflict
April 01, 2026
Interventions across agriculture, fertilizers, shipping, aviation, logistics and MSMEs to mitigate emerging challenges discussed
Supply diversification for LPG and LNG, fuel duty reduction and power sector measures reviewed to ensure stability of essential supplies
Steps being taken to ensure stable prices of essential commodities and strict action against hoarding and black-marketing
Control Rooms set up for constant monitoring and interaction with States/UTs on prices and enforcement of Essential Commodities Act
Various efforts being taken to ensure fertilizer supply such as maintaining Urea Production and coordination with overseas suppliers for DAP/NPKS supplies
PM assesses availability of critical needs for the common man
PM discusses availability of fertilisers in the country and steps being taken to ensure its availability in the Kharif and Rabi seasons
PM directs that all efforts must be made to safeguard the citizens from the impact of this conflict
PM underlines the need for timely & smooth flow of authentic information to the public to prevent misinformation and rumour mongering
Enough coal stock exists which shall serve power needs adequately in coming months

Prime Minister Shri Narendra Modi a special of the Cabinet Committee on Security (CCS) to review measures taken by various Ministries/Departments and also discussed further initiatives to be taken in the context of the ongoing West Asia conflict, at 7 Lok Kalyan Marg today. This was the second special CCS meeting on this issue.

Cabinet Secretary briefed about the action taken to ensure supply of petroleum products, particularly LNG/LPG, and sufficient power availability. Sources are being diversified for procurement of LPG with new inflows from different countries. Similarly, Liquefied Natural Gas (LNG) is being sourced from different countries. He further briefed that LPG prices for domestic consumers have remained the same and Anti-diversion enforcement to curb hoarding and black marketing of LPG is being conducted regularly.

Initiatives have also been taken to expand Piped Natural Gas connections. Measures like exempting the gas-based power plants with a capacity of 7-8 GW from gas pooling mechanism and increasing of rake for positioning more coal at thermal power stations etc. have also been taken to ensure availability of power during the peak summer months.

Further, interventions proposed to be taken for emerging challenges in various other sectors such as agriculture, civil aviation, shipping and logistics were also discussed.

Various efforts like maintaining urea production to meet requirements, coordinating with overseas supplies for DAP/NPKS suppliers are being taken to ensure fertilizer supply. State governments are being requested to curb black marketing, hoarding, and diversion of fertilizers through daily monitoring, raids, and strict action.

The retail prices of food commodities have been stable over the past one month. Control Rooms have been set up for constant monitoring and interaction with States/UTs on prices and enforcement of Essential Commodities Act. The prices of agricultural products , vegetables and fruits are also being monitored.

Efforts to globally diversify our sources for energy, fertilizers and other supply chains, and international initiatives for securing safe passage of vessels through the strait of Hormuz and ongoing diplomatic efforts are being taken.

Enhanced coordination, real-time communication, and proactive measures across central, state, and district levels to drive effective information dissemination and public awareness amid the evolving crisis is being undertaken.

Prime Minister assessed the availability of critical needs for the common man. He discussed availability of fertilisers in the country and steps being taken to ensure its availability in the Kharif and Rabi seasons. He said that all efforts must be made to safeguard the citizens from the impact of this conflict. Prime Minister also emphasised smooth flow of authentic information to the public to prevent misinformation and rumour mongering.

Prime Minister directed all concerned departments to take all possible measures to ameliorate the problems of citizens and sectors affected by the ongoing global situation.