Make in India, for India, for the world: PM Modi
Our endeavour is to increase the number of MSMEs in defence production to 15,000 in the next five years: PM Modi
Immense potential for defence manufacturing in India; there is demand, democracy & decisiveness: PM

نئی دہلی ،05؍فروری: وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج اترپردیش کے لکھنؤ میں  منعقد ہونے والے گیارہویں ڈیف ایکسپو کا افتتاح کیا۔ہندوستان کی دو سالہ فوجی مشق  عالمی دفاعی مینوفیکچرنگ ہب کے طورپر ملک کی صلاحیتوں کی نمائش کے لئے ہوتی ہے۔ڈیف ایکسپو 2020ء ہندوستان کا سب سے بڑا دفاعی نمائش پروگرام کے علاوہ دنیا کے صفحہ اول کے ڈیف ایکسپو میں سے ایک بن گیا ہے۔اس بار ہزار سے زائد دفاعی مینوفیکچرز اور 150 کمپنیاں جن کا تعلق پوری دنیا سے اس ایکسپو کا حصہ بن رہی ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ گیارہویں ڈیف ایکسپو میں ہر ایک کا نہ صرف ہندوستان کے وزیر اعظم کی حیثیت سے ،بلکہ اترپردیش کی رکن پارلیمنٹ کی حیثیت سے خیر مقدم کرتے ہوئے  دوہری خوشی ہورہی ہے۔وزیر اعظم نے کہا ‘‘یہ ہندوستان کے عوام کے علاوہ نوجوانوں کے لئے بھی ایک بڑا موقع ہے۔میک اِن انڈیا نہ صرف ہندوستان کی سیکورٹی میں اضافہ ہوگا، بلکہ دفاع کے شعبوں میں روزگار کے نئے مواقع بھی پید اہوں گے۔اس سے مستقبل میں دفاعی برآمدات کو بھی فروغ حاصل ہوگا۔’’

ہندوستان صرف ایک مارکیٹ ہی نہیں ہے، بلکہ دنیا کے لئے یہاں وسیع مواقع موجود ہیں

آج کا ڈیف ایکسپو ہندوستان کی وسعت ، اس کی اثر انگیزی، اس کے تنوع اور پوری دنیا میں اس کی وسیع شرکت کا زندہ ثبوت ہے۔یہ وہ ثبوت ہے، جو ہندوستان کو سیکورٹی اور دفاع کے شعبے میں اس کے مضبوط کردار کو آگے بڑھا رہا ہے۔اس ایکسپوسے نہ صرف دفاع سے متعلق صنعت کا اظہار ہورہا ہے، بلکہ مجموعی طورپر ہندوستان کے تئیں دنیا کے اعتماد کا بھی مظہر ہے۔جو لوگ دفاع اور معیشت کے بارے میں جانتے ہیں، انہیں یقینی طور پر یہ معلوم ہوگا کہ ہندوستان صرف ایک مارکیٹ ہی نہیں  ہے ،بلکہ پوری دنیا کے لئے وسیع مواقع بھی موجود ہے۔

دفاع کا ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن کل رونما ہونے والے چیلنجوں کا مظہر ہے

وزیر اعظم نے کہا کہ ڈیٹ ایکسپو کا ذیلی مرکزی خیال ‘ڈیجیٹل ٹرانسفاریشن  آف ڈیفنس’ ہے۔اس سے کل درپیش ہونے والی تشویشات اور چیلنجوں کا اظہار ہوتا ہے۔زندگی کیونکہ ٹیکنالوجی پر مبنی ہوگئی ہے، اس لئے سیکورٹی سے متعلق تشویشات اور چیلنجوں میں بھی تیز ی سے اضافہ ہورہا ہے۔یہ صرف آج کے لئے اہم نہیں ہے، بلکہ  ہمارے مستقبل کے لئے بھی اہم ہے۔عالمی سطح پر دفاعی طاقتیں ،نئی نئی ٹیکنالوجیاں بنارہی ہیں۔ ہندوستان بھی دنیا کی رفتار کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔متعدد چھوٹے نمونے بھی تیار کئے جارہے ہیں۔ ہمارا ہدف ہے کہ آئندہ پانچ برسوں کے دوران دفاع کے شعبے میں کم از کم 25 آرٹیفیشل انٹلی جنس مصنوعات تیار کرنی ہیں۔

اٹل بہاری واجپئی کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنا

وزیر اعظم نے کہا کہ لکھنؤ کا یہ ایکسپو دوسری وجہ سے بھی اہم ہے۔سابق وزیر اعظم جناب اٹل بہاری واجپئی کا اندرون ملک دفاعی مینوفیکچرنگ کا خواب تھا اور اس سلسلے میں انہوں نے کئی اقدامات بھی کئے تھے۔

وزیراعظم نے کہا کہ ‘‘ان کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کے لئے ہم نے متعدد دفاعی مصنوعات کی تیاری کی رفتار کو تیز کیا ہے۔ہم نے صرف 2014ء میں ہی 217دفاعی لائسنس  جاری کئے ہیں۔گزشتہ چار برسوں کے دوران یہ تعداد بڑھ کر 460 ہوگئی ہے۔ہندوستان آرٹیلری گن، طیارہ بردار جنگی آبدوز تک آج ہر چیز تیار کررہا ہے۔عالمی دفاعی برآمدات میں ہندوستان کے حصے میں اضافہ ہوا ہے۔گزشتہ دو برسوں کے دوران ہندوستان نے تقریباً 17ہزار کروڑ  دفاعی مصنوعات برآمد کی ہیں، اب ہمارا ارادہ دفاعی برآمدات کو 5 ارب ڈالر کی حد تک پہنچانے کا ہے۔

دفاع میں تحقیق و ترقی ، قومی پالیسی کا اہم حصہ

وزیر اعظم نے کہا کہ ‘‘گزشتہ 6-5برسوں کے دوران  ہماری حکومت نے تحقیق و ترقی کو اپنی قومی پالیسی کا اہم حصہ بنایا ہے۔دفاعی تحقیقی وترقی اور مینوفیکچرنگ کے لئے ملک میں ضروری بنیادی ڈھانچے تیار کئے جارہے ہیں۔دوسرے ممالک کےساتھ جوائنٹ وینچر (اشتراک)کئے جارہے ہیں۔خصوصی توجہ کے ساتھ خامیوں کو جڑ سے ختم کرنے کی کوششیں بھی کی گئی ہیں، اس کے نتیجے میں ایک ایسا ماحول بنا جو سرمایہ کاری اور اختراع پردازی کے لئے تیار ہے۔’’

یوزر اور پیداکاروں کے درمیان شراکت داری

وزیر اعظم نے کہا کہ یوزر اور پیداکاروں کے مابین شراکت داری سے قومی سلامتی کو مزید پاور فل بنایا جاسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ‘‘دفاعی مینوفیکچرنگ صرف سرکاری اداروں تک محدود نہیں ہونی چاہیے، بلکہ اس میں پرائیویٹ سیکٹر بھی مساوی شراکت اور پارٹنرشپ ہونی چاہئے۔

نئے ہندوستان کے لئے نیا اہداف

وزیر جناب نریندرمودی نے کہا کہ ہندوستان میں دو بڑے دفاعی مینوفیکچرنگ کوریڈورز تعمیر کئے جارہے ہیں، ان میں سے ایک تمل ناڈو میں اور دوسرا اترپردیش میں ہے۔اترپردیش کے دفاعی کوریڈور کے تحت علی گڑھ، آگرہ، جھانسی، چترکوٹ اور کانپور کے علاوہ لکھنؤ میں نوڈز قائم ہوں گے۔ہندوستان میں دفاعی مینوفیکچرنگ کو مزید فروغ دینے کی غرض سے نئے اہداف طے کئے گئے ہیں۔

وزیر اعظم نے مزید کہا کہ‘‘ہمارا ہدف آئندہ پانچ برسوں کے دوران دفاعی پیداوار کے شعبے میں بہت چھوٹی، چھوٹی، درمیانی صنعتوں (ایم ایس ایم ای)کی تعداد کو  15ہزار سے آگے لے جانا ہے۔آئی-ڈیکس(I-DEX)کے نظریے میں توسیع کی غرض سے اس میں تیزی لانے کے لئے 200 نئے دفاعی اسٹارٹ اَپ شروع کرنے کا ہدف طے کیا گیا ہے۔کم از کم 50 نئی ٹیکنالوجیاں اور مصنوعات تیار کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ میں نے مشورہ دیا ہے کہ ملک کے اہم صنعتی اداروں کو دفاعی مینوفیکچرنگ کے لئے مشترکہ پلیٹ فارم بنانا چاہئے ، تاکہ وہ دفاع کے شعبے میں ٹیکنالوجی کی تیاری اور پیداوار دونوں کا فائدہ اٹھا سکیں۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
PM Modi Praises Farmers For Taking India's Rich Mango Heritage To Global Markets

Media Coverage

PM Modi Praises Farmers For Taking India's Rich Mango Heritage To Global Markets
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Prime Minister hold talks with Myanmar President U Min Aung Hlaing
June 01, 2026

The Prime Minister, Shri Narendra Modi, today held productive talks with the President of Myanmar, U Min Aung Hlaing.

The Prime Minister noted that India is honoured that President U Min Aung Hlaing chose India for his first foreign visit as President. He also expressed happiness that the President began his programme in India from Bodh Gaya with the blessings of Lord Buddha.

During the talks, the two leaders reviewed the full range of India-Myanmar relations and discussed ways to further strengthen bilateral cooperation.

The discussions covered avenues to deepen cooperation in trade, rare earths, healthcare, connectivity, heritage restoration and capacity building. The two sides also agreed to work closely in areas such as maritime security, cyber security and other sectors of mutual interest.

The Prime Minister underlined that Myanmar is vital to India’s ‘Neighbourhood First’, ‘Act East’ and Indo-Pacific policies, reaffirming the importance India attaches to its relations with Myanmar.

The Prime Minister wrote on X;

“Had a productive meeting with President U Min Aung Hlaing of Myanmar. We in India are honoured that he has chosen India for his first foreign visit as President. Equally gladdening is the fact that he began the visit from Bodh Gaya, with the blessings of Lord Buddha. We reviewed the full range of India-Myanmar relations. Myanmar is vital to India’s policies of ‘Neighbourhood First’, ‘Act East’ and Indo-Pacific.”

“Our talks covered ways to deepen cooperation in trade, rare earths, healthcare, connectivity, heritage restoration and capacity building. We also agreed to work closely in areas such as maritime security, cyber security and more.”