انہوں نے وقف شدہ فریٹ کوریڈور کی پنڈٹ دین دیال اپادھیائے جنکشن -سون نگر ریلوے لائن کا افتتاح کیا
انہوں نے این ایچ - 56 کے وارانسی - جونپور سیکشن کو چار لین میں چوڑا کئے جانے کو وقف
وارانسی میں متعدد پروجیکٹوں کا افتتاح کیا
منی کرنیکا اور ہریش چندر گھاٹوں کی تعمیر نو کا سنگ بنیاد رکھا
سی آئی پی ای ٹی کیمپس کرسارا میں طلباء کے ہاسٹل کا سنگ بنیاد رکھا
پی ایم سواندھی کے قرض، پی ایم اے وائی دیہی مکانات کی چابیاں اور آیوشمان کارڈ استفادہ کنندگان کو تقسیم کئے
’’آج کے پروجیکٹ کاشی کو اس کی قدیم روح کو برقرار رکھتے ہوئے ایک نیا جسم فراہم کرنے کے ہمارے عزم کی توسیع ہے‘‘
’’حکومت نے استفادہ کنندگان کے ساتھ مذاکرات اور بات چیت کی ایک نئی روایت شروع کی ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ ’براہ راست فائدہ کے ساتھ ساتھ براہ راست فیڈ بک‘‘
’’استفادہ کنندہ طبقہ سماجی انصاف اور سیکولرازم کی حقیقی شکل کی مثال بن گیا ہے‘‘
’’پی ایم آواس اور آیوشمان جیسی اسکیمیں کئی نسلوں کو متاثر کرتی ہیں‘‘
غریبوں کی عزت نفس ہی مودی کی گارنٹی ہے
’’خواہ وہ غریب کلیان ہو یا انفراسٹرکچر، آج بجٹ کی کوئی کمی نہیں ہے‘‘

وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج اتر پردیش کے وارانسی میں 12,100 کروڑ روپے سے زیادہ  مالیت کے متعدد ترقیاتی پرویکٹوں کا افتتاح اور سنگ بنیاد رکھا۔ ان پروجیکٹوں میں  وقف شدہ  فریٹ کوریڈور کی  پنڈت دین دیال اپادھیائے جنکشن -سون نگر ریلوے لائن کو ،  تین ریلوے لائنیں جن کی برقی کاری یا ڈبلنگ مکمل ہو چکی ہے،  این ایچ- 56 کے وارانسی-جون پور سیکشن کو چار لین چوڑا کرنا اور وارانسی میں متعدد پروجیکٹوں کو  وقف کیا جانا  شامل ہیں۔ وزیر اعظم نے 15 پی ڈبلیو ڈی سڑکوں کی تعمیر اور جدید کاری، 192 دیہی پینے کے پانی کی اسکیموں، منی کرنیکا اور ہریش چندر گھاٹوں کی  ری  ڈیزائننگ اور  تعمیر نو، نہانے کے  چھ مذہبی لحاظ سے اہم ح گھاٹوں میں فلوٹنگ  چینجنگ روم جیٹیز اور   سی آئی پی ای ٹی کیمپس کرسارا میں  طلبا کے ہاسٹل کی تعمیر  سمیت  متعد ریلوے  پروجیکٹوں کے  لیے سنگ بنیاد رکھا ۔ جناب مودی نے پی ایم سواندھی کے قرضوں، پی ایم اے وائی دیہی گھروں کی چابیاں اور آیوشمان بھارت کارڈ کی تقسیم کی بھی شروعات کی۔ موقع پر پہنچ کر وزیر اعظم نے منی کرنیکا اور ہریش چندر گھاٹ کے ماڈل کا واک تھرو کیا۔

 

حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ شراون کے مقدس مہینے کے آغاز، بھگوان وشواناتھ  اور ماں گنگا کے آشیرواد اور وارانسی کے لوگوں کی موجودگی سے زندگی ایک نعمت بن جاتی ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ہزاروں کی تعداد میں شیو بھکت ’جل‘ پیش کرنے وارانسی کا رخ کر رہے ہیں اور کہا کہ یہ یقینی ہے کہ شہر میں یاتریوں کی ریکارڈ تعداد دیکھنے کو ملے گی۔ وزیر اعظم نے شہریوں کی مہمان نوازی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ’’وارنسی آنے والے ہمیشہ خوشی کے احساس کے ساتھ لوٹتے ہیں۔‘‘ انہوں نے  جی20 کے مندوبین کا خیرمقدم کرنے اور مذہبی مقامات  کے احاطے کو صاف ستھرا اور شاندار رکھنے کے لیے کاشی کے لوگوں کی تعریف کی۔

تقریباً 12000 کروڑ روپے  مالیت کے پروجیکٹوں کا ذکر کرتے ہوئے جن کا سنگ بنیاد رکھا گیا ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ’’یہ کاشی کو اس کی قدیم روح کو برقرار رکھتے ہوئے ایک نیا جسم فراہم کرنے کے ہمارے عزم کی توسیع ہے۔‘‘ انہوں نے پروجیکٹوں کے لیے عوام کو مبارکباد دی۔

وزیر اعظم، جنہوں نے  اس سے قبل  مختلف اسکیموں کے استفادہ کنندگان سے بات چیت کی تھی، کہا کہ پہلے زمانے میں اسکیموں کا نچلی سطح سے رابطہ نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے استفادہ کنندگان کے ساتھ مذاکرات اور بات چیت کی ایک نئی روایت شروع کی ہے، جس کا مطلب’براہ راست فائدہ اور براہ راست فیڈ بیک‘ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس کے نتیجے میں محکموں اور افسران کی کارکردگی بہتر  ہوئی ہے۔  وزیر اعظم نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا ’’آزادی کے اتنے سالوں بعد، جمہوریت کا حقیقی فائدہ صحیح معنوں میں صحیح لوگوں تک پہنچا ہے‘‘۔

وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ استفادہ کنندہ طبقہ سماجی انصاف اور سیکولرازم کی حقیقی شکل کی مثال بن گیا ہے کیونکہ حکومت ہر اسکیم کے فوائد کو آخری آدمی تک پہنچانے کی کوشش کرتی ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ یہ نقطہ نظر کمیشن کے چاہنے والوں، دلالوں اور گھوٹالہ کرنے والوں  کو ختم کرنے کا باعث بنا ہے جس سے بدعنوانی اور امتیازی سلوک کا خاتمہ ہوا ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ گزشتہ 9 برسوں میں حکومت نے صرف ایک خاندان اور ایک نسل کے لیے کام نہیں کیا ہے بلکہ آنے والی نسلوں کی زندگیوں کو بہتر بنانے کے لیے کام کیا ہے۔ انہوں نے پی ایم اے وائی کی مثال دی جہاں 4 کروڑ سے زیادہ خاندانوں کو پکے گھر سونپے گئے ہیں اور بتایا کہ آج اتر پردیش میں 4 لاکھ پکے گھر مستفیدین کے حوالے کئے جاچکے ہیں۔  اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ گھر وں کے مالکان میں سے زیادہ تر خواتین ہیں جنہوں نے پہلی بار اپنے نام پر جائیداد کا اندراج کرایا ہے، وزیر اعظم نے کہا کہ’’یہ گھر تحفظ کا احساس پیدا کرتے ہیں اور مالکان کے خود اعتمادی کو بڑھاتے ہیں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ یہ پکے گھر ایسی خواتین کو مالی تحفظ کا ذریعہ فراہم کرتے ہیں۔

 

سرکاری اسکیموں کے اثرات کا تذکرہ  جاری رکھتے ہوئے، وزیر اعظم نے کہا کہ آیوشمان بھارت اسکیم بھی صرف 5 لاکھ کے مفت علاج تک محدود نہیں ہے، یہ کئی نسلوں پر اثر انداز ہوتی ہے کیونکہ طبی اخراجات نسلوں کو تنگدستی اور قرض میں دھکیل سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ  ’’آیوشمان یوجنا غریب لوگوں کو اس مشکل میں پڑنے سے بچا رہی ہے۔ یہی  وجہ ہے کہ میں ہر غریب کو مشن موڈ میں کارڈ کی دستیابی کو یقینی بنانے کی بھرپور کوشش کر رہا ہوں۔ آج کے پروگرام سے ایک کروڑ ساٹھ لاکھ لوگوں کو آیوشمان بھارت کارڈز کی تقسیم کے کام کا  آغاز ہوا ہے۔‘‘

وزیر اعظم نے 50 کروڑ جن دھن اکاؤنٹس  اور بغیر ضمانت کے   مدرا اسکیم کے تحت قرضوں   جیسے مالیاتی شمولیت کے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ’’کسی ملک کے وسائل پر سب سے بڑا دعوی غریبوں اور محروموں کا ہے ‘‘اس سے غریب، دلت، محروم، پسماندہ، قبائلی، اقلیتوں اور خواتین کاروباریوں کو فائدہ ہوا ہے۔

وزیر اعظم نے پی ایم سواندھی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ زیادہ تر خوانچہ فروشوں کا تعلق پسماندہ برادریوں سے ہے، ماضی کی حکومتوں نے کبھی بھی ان کے مسائل پر توجہ نہیں دی اور صرف انہیں ہراساں کیا۔ وزیر اعظم نے بتایا کہ پی ایم سواندھی یوجنا سے اب تک 35 لاکھ سے زیادہ لوگوں نے فائدہ اٹھایا ہے  اور آج وارانسی میں 1.25 لاکھ سے زیادہ مستفیدین کو قرض فراہم کیے گئے ہیں۔  وزیر اعظم نے کہا کہ ’’غریبوں کی عزت نفس مودی کی گارنٹی ہے‘‘۔

وزیر اعظم نے پچھلی حکومتوں کی بنیادی بے ایمانی کو اجاگر کیا جس کی وجہ سے فنڈز کی مستقل کمی تھی۔ انہوں نے کہا کہ آج  ’’چاہے وہ غریب کلیان ہو یا انفراسٹرکچر، بجٹ کی کوئی کمی نہیں ہے۔ وہی ٹیکس دینے والے، وہی نظام، بس حکومت بدلی ہے۔ جیسے جیسے ارادے بدلے، نتائج بھی آنے لگے‘‘ ۔انہوں نے کہا کہ  ماضی کے گھوٹالوں اور بلیک مارکیٹنگ کی خبروں کی جگہ وقف کئے جانے اور نئے پروجیکٹوں  کے سنگ بنیاد کی خبروں نے لے لی ہے۔ انہوں نے اس تبدیلی کی مثال کے طور پر ایسٹرن ڈیڈیکیٹڈ فریٹ کوریڈور  ہے جو کہ مال بردار ٹرینوں کے لیے خصوصی ٹریک کا ایک پروجیکٹ ہے۔  انہوں نے بتایا کہ 2006 میں شروع ہونے والے اس پروجیکٹ میں 2014 تک ایک کلومیٹر طویل ٹریک بھی نظر نہیں آیا، گزشتہ 9 سالوں میں اس پروجیکٹ کا ایک اہم حصہ مکمل ہو چکا ہے اور اس علاقے میں مال بردار ٹرینیں چل رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’ آج بھی دین دیال اپادھیائے جنکشن سے نئے سون نگر سیکشن کا افتتاح کیا گیا ہے۔ اس سے نہ صرف مال  بردار ٹرینوں کی رفتار بڑھے گی بلکہ پوروانچل اور مشرقی ہندوستان میں روزگار کے بہت سے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔

 

تیزی سے چلنے والی ٹرینوں کی ملک کی خواہش پر روشنی ڈالتے ہوئے، وزیر اعظم نے بتایا کہ اگرچہ راجدھانی ایکسپریس تقریباً 50 سال پہلے ملک میں پہلی بار چلی تھی، لیکن آج یہ صرف 16 روٹس پر چل سکتی ہے۔ انہوں نے شتابدی ایکسپریس کی مثال بھی دی جو 30-35 سال پہلے شروع ہوئی تھی لیکن فی الحال صرف 19 روٹس پر چل رہی ہے۔ وزیر اعظم نے وندے بھارت ایکسپریس پر روشنی ڈالی اور بتایا کہ یہ ٹرین 4 سال کے مختصر عرصے میں 25 روٹس پر چل رہی ہے۔  وزیر اعظم نے مزید کہا کہ  ’’بنارس  ملک کی پہلی  وندے بھارت کا دعویدار ہے‘‘۔ انہوں نے بتایا کہ دو نئی وندے بھارت ایکسپریس ٹرینوں کو آج گورکھپور سے گورکھپور – لکھنؤ اور جودھپور – احمد آباد روٹس پر جھنڈی دکھا کر روانہ کیا گیا ہے۔ جناب مودی نے کہا کہ  ’’یہ وندے بھارت ملک کے متوسط طبقے میں اتنی سپر ہٹ ہو گئی ہے اور اس کی مانگ میں اضافہ ہی ہو رہا ہے‘‘۔ انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ وہ دن دور نہیں جب وندے بھارت ملک کے ہر کونے کو جوڑے گی۔

گزشتہ 9 برسوں میں کاشی کی کنکٹی وتی کو بہتر بنانے کے لیے کیے گئے بے مثال کام پر روشنی ڈالتے ہوئے وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ اس سے روزگار کے بہت سے نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 7 کروڑ سیاح اور عقیدت مند کاشی آئے جو کہ ایک سال کے اندر ہنے والا  12 گنا اضافہ ہے، اس طرح رکشہ چلانے والوں، دکانداروں، ڈھابوں اور ہوٹلوں اور بنارسی ساڑھی کی صنعت میں کام کرنے والے لوگوں کے لیے آمدنی کے بہتر مواقع پیدا ہوئے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا  کہ ملاحوں کو کافی فائدہ ہوا ہے اور  انہوں نے شام کی گنگا آرتی کے دوران کشتیوں کی تعداد پر حیرت کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا’’آپ لوگ بنارس کا اسی طرح خیال رکھتے ہیں‘‘ ۔

خطاب کے اختتام پر وزیر اعظم نے آج کے پروجیکٹ کے لیے سبھی کو مبارکباد دی اور یہ اعتماد ظاہر کیا کہ وارانسی کی ترقی کا سفر بابا کے آشیرواد سے جاری رہے گا۔

اتر پردیش کی گورنر محترمہ آنندی بین پٹیل، اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ جناب یوگی آدتیہ ناتھ، اتر پردیش کے نائب وزرائے اعلیٰ، جناب کیشو پرساد موریہ اور جناب  برجیش پاٹھک، بھاری صنعتوں کے مرکزی وزیر جناب مہیندر ناتھ پانڈے، صحت اور خاندانی بہبود کے مرکزی وزیر مملکت پروفیسر ایس پی سنگھ بگھیل اور اتر پردیش حکومت کے وزیر بھی  اس موقع پر  موجود تھے۔

پس منظر

وزیر اعظم نےڈیڈیکیٹڈ فریٹ کوریڈور کی    پنڈت دین دیال اپادھیائے جنکشن - سون نگر ریلوے لائن کووقف کیا جو کہ  6760 کروڑ روپے سے زیادہ کی لاگت سے تیار کی گئی یہ نئی لائن سامان کی تیز رفتار اور زیادہ موثر نقل و حرکت کی سہولت فراہم کرے گی۔ انہوں نے تین ریلوے لائنوں کو بھی قوم کے نام وقف کیا جن کی برق کاری  یا ڈبلنگ 990 کروڑ روپے سے زیادہ کی لاگت سے مکمل ہو چکی ہے۔ ان میں غازی پور شہر- اونریہار ریل لائن، آنریہار- جون پور ریل لائن اور بھٹنی- اونریہار ریل لائن شامل ہیں۔ ان پروجیکٹوں نے اتر پردیش میں ریلوے لائنوں کو 100 فیصد برقی بنانے میں مدد فراہم کی ہے۔

وزیر اعظم نے  این ایچ-56 کے وارانسی -جونپور سیکشن کو چار لین میں  چوڑا کئے جانے  کو قوم کے نام وقف کیا جو کہ وارانسی سے لکھنؤ کا سفر آسان اور تیز تر بنانے کے لیے 2750 کروڑ روپے سے زیادہ کی لاگت سے مکمل کیا گیا ہے۔

وارانسی میں جن متعدد پروجیکٹوں کا وزیر اعظم افتتاح کریں گے ان میں شامل ہیں  18 پی ڈبلیو ڈی سڑکوں کی تعمیر اور جدید کاری ، بی ایچ یو کیمپس میں تعمیر کی گئی  بین الاقوامی گرلز ہاسٹل کی عمارت، سینٹرل انسٹی ٹیوٹ آف پیٹرو کیمیکل انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی (سی آئی پی ای ٹی) – گاؤں کرسارا میں ووکیشنل ٹریننگ سینٹر ؛ پولیس اسٹیشن سندھورا میں ریذیڈنشیل بلڈنگز اور سہولیات ، پی اے سی بھولن پور، فائر اسٹیشن پنڈرا اور گورنمنٹ ریزیڈینشیل  اسکول ترسدا اقتصادی جرائم کی تحقیقی تنظیم کی عمارت؛ موہن کٹرا سے کونیا گھاٹ تک سیور لائن اور گاؤں رمنا میں جدید  سیپٹیج مینجمنٹ سسٹم؛ 30 ڈبل سائڈیڈ بیک لِٹ ایل ای ڈی یونی پولز؛ این ڈی ڈی بی ملک پلانٹ رام نگر میں گائے کے گوبر پر مبنی بائیو گیس پلانٹ  اور دشاسوامیدھ گھاٹ پر ایک انوکھی فلوٹنگ  چینجنگ روم جیٹی جو گنگا ندی میں عقیدت مندوں کو نہانے میں سہولت فراہم کرے گی۔

جن پروجیکٹوں  کا وزیر اعظم نے سنگ بنیاد رکھا ان میں چوکھنڈی، کادی پور اور ہردت پور ریلوے اسٹیشنوں کے قریب 3 دو لین ریل اوور برج (آر بی او) کی تعمیر؛ ویاس نگر پنڈت دین دیال اپادھیائے جنکشن ریل فلائی اوور کی تعمیر  اور 15 پی ڈبلیو ڈی سڑکوں کی تعمیر اور  جدید کاری شامل ہیں۔ یہ پروجیکٹ تقریباً 780 کروڑ روپے کی مجموعی لاگت سے تیار کیے جائیں گے۔

وزیر اعظم نے جل جیون مشن کے تحت 550 کروڑ روپے سے زیادہ کی لاگت سے تعمیر ہونے والی 192 دیہی پینے کے پانی کی اسکیموں کا بھی سنگ بنیاد رکھا۔ یہ 192 گاؤں کے 7 لاکھ لوگوں کو پینے کا صاف پانی فراہم کرے گا۔

وزیر اعظم نے منی کرنیکا اور ہریش چندر گھاٹوں کی ری  ڈیزائن اور تعمیر نو  کا بھی سنگ بنیاد رکھا۔ ری ڈیولپمنٹ گھاٹوں میں عوامی سہولیات، انتظار گاہیں، لکڑی کا ذخیرہ، فضلے کو ٹھکانے لگانے اور ماحول دوست شمشان گھاٹ کے انتظامات ہوں گے۔

دیگر پروجیکٹ جن کا سنگ بنیاد رکھا گیا ان میں وارانسی میں دریائے گنگا پر چھ مذہبی لحاظ سے اہم  اشنان کرنے والے گھاٹوں پر فلوٹنگ چینجنگ  روم جیٹی شامل ہیں جو دشاسوامیدھ گھاٹ کی فلوٹنگ چیجنگ روم جیٹیوں کی طرز پر ہوں گی  اور سی آئی پی ای ٹی کیمپس کرسارا میں طلباء کے ہاسٹل کی تعمیر شامل ہے۔

پروگرام کے دوران، وزیر اعظم نے اتر پردیش میں استفادہ کنندگان کو پی ایم ایس واندھی کے قرض، پی ایم اے وائی دیہی گھروں کی چابیاں اور آیوشمان بھارت کارڈ بھی تقسیم کئے۔ اس سے 5 لاکھ پی ایم اے وائی استفادہ کنندگان کے گرہ پرویش، اہل استفادہ کنندگان میں 1.25 لاکھ پی ایم سواندھی قرضوں کی تقسیم اور 2.88 کروڑ آیوشمان کارڈ کی تقسیم شروع ہوگی۔

 

تقریر کا مکمل متن پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

Explore More
لال قلعہ کی فصیل سے 77ویں یوم آزادی کے موقع پر وزیراعظم جناب نریندر مودی کے خطاب کا متن

Popular Speeches

لال قلعہ کی فصیل سے 77ویں یوم آزادی کے موقع پر وزیراعظم جناب نریندر مودی کے خطاب کا متن
BJP manifesto 2024: Super app, bullet train and other key promises that formed party's vision for Indian Railways

Media Coverage

BJP manifesto 2024: Super app, bullet train and other key promises that formed party's vision for Indian Railways
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Today, Congress party is roaming around like the ‘Sultan’ of a ‘Tukde-Tukde’ gang: PM Modi in Mysuru
April 14, 2024
BJP's manifesto is a picture of the future and bigger changes: PM Modi in Mysuru
Today, Congress party is roaming around like the ‘Sultan’ of a ‘Tukde-Tukde’ gang: PM Modi in Mysuru
India will be world's biggest Innovation hub, creating affordable medicines, technology, and vehicles: PM Modi in Mysuru

नीमागेल्ला नन्ना नमस्कारागलु।

आज चैत्र नवरात्र के पावन अवसर पर मुझे ताई चामुंडेश्वरी के आशीर्वाद लेने का अवसर मिल रहा है। मैं ताई चामुंडेश्वरी, ताई भुवनेश्वरी और ताई कावेरी के चरणों में प्रणाम करता हूँ। मैं सबसे पहले आदरणीय देवगौड़ा जी का हृदय से आभार व्यक्त करता हूं। आज भारत के राजनीति पटल पर सबसे सीनियर मोस्ट राजनेता हैं। और उनके आशीर्वाद प्राप्त करना ये भी एक बहुत बड़ा सौभाग्य है। उन्होंने आज जो बातें बताईं, काफी कुछ मैं समझ पाता था, लेकिन हृदय में उनका बहुत आभारी हूं। 

साथियों

मैसुरु और कर्नाटका की धरती पर शक्ति का आशीर्वाद मिलना यानि पूरे कर्नाटका का आशीर्वाद मिलना। इतनी बड़ी संख्या में आपकी उपस्थिति, कर्नाटका की मेरी माताओं-बहनों की उपस्थिति ये साफ बता रही है कि कर्नाटका के मन में क्या है! पूरा कर्नाटका कह रहा है- फिर एक बार, मोदी सरकार! फिर एक बार, मोदी सरकार! फिर एक बार, मोदी सरकार!

साथियों,

आज का दिन इस लोकसभा चुनाव और अगले five years के लिए एक बहुत अहम दिन है। आज ही बीजेपी ने अपना ‘संकल्प-पत्र’ जारी किया है। ये संकल्प-पत्र, मोदी की गारंटी है। और देवगौड़ा जी ने अभी उल्लेख किया है। ये मोदी की गारंटी है कि हर गरीब को अपना घर देने के लिए Three crore नए घर बनाएंगे। ये मोदी की गारंटी है कि हर गरीब को अगले Five year तक फ्री राशन मिलता रहेगा। ये मोदी की गारंटी है कि- Seventy Year की आयु के ऊपर के हर senior citizen को आयुष्मान योजना के तहत फ्री चिकित्सा मिलेगी। ये मोदी की गारंटी है कि हम Three crore महिलाओं को लखपति दीदी बनाएँगे। ये गारंटी कर्नाटका के हर व्यक्ति का, हर गरीब का जीवन बेहतर बनाएँगी।

साथियों,

आज जब हम Ten Year पहले के समय को याद करते हैं, तो हमें लगता है कि हम कितना आगे आ गए। डिजिटल इंडिया ने हमारे जीवन को तेजी से बदला है। बीजेपी का संकल्प-पत्र, अब भविष्य के और बड़े परिवर्तनों की तस्वीर है। ये नए भारत की तस्वीर है। पहले भारत खस्ताहाल सड़कों के लिए जाना जाता था। अब एक्सप्रेसवेज़ भारत की पहचान हैं। आने वाले समय में भारत एक्सप्रेसवेज, वॉटरवेज और एयरवेज के वर्ल्ड क्लास नेटवर्क के निर्माण से विश्व को हैरान करेगा। 10 साल पहले भारत टेक्नालजी के लिए दूसरे देशों की ओर देखता था। आज भारत चंद्रयान भी भेज रहा है, और सेमीकंडक्टर भी बनाने जा रहा है। अब भारत विश्व का बड़ा Innovation Hub बनकर उभरेगा। यानी हम पूरे विश्व के लिए सस्ती मेडिसिन्स, सस्ती टेक्नोलॉजी और सस्ती गाडियां बनाएंगे। भारत वर्ल्ड का research and development, R&D हब बनेगा। और इसमें वैज्ञानिक रिसर्च के लिए एक लाख करोड़ रुपये के फंड की भी बड़ी भूमिका होगी। कर्नाटका देश का IT और technology hub है। यहाँ के युवाओं को इसका बहुत बड़ा लाभ मिलेगा।

साथियों,

हमने संकल्प-पत्र में स्थानीय भाषाओं को प्रमोट करने की बात कही है। हमारी कन्नड़ा देश की इतनी समृद्ध भाषा है। बीजेपी के इस मिशन से कन्नड़ा का विस्तार होगा और उसे बड़ी पहचान मिलेगी। साथ ही हमने विरासत के विकास की गारंटी भी दी है। हमारे कर्नाटका के मैसुरु, हम्पी और बादामी जैसी जो हेरिटेज साइट्स हैं, हम उनको वर्ल्ड टूरिज़्म मैप पर प्रमोट करेंगे। इससे कर्नाटका में टूरिज्म और रोजगार के नए अवसर सृजित होंगे।

साथियों,

इन सारे लक्ष्यों की प्राप्ति के लिए भाजपा जरूरी है, NDA जरूरी है। NDA जो कहता है वो करके दिखाता है। आर्टिकल-370 हो, तीन तलाक के खिलाफ कानून हो, महिलाओं के लिए आरक्षण हो या राम मंदिर का भव्य निर्माण, भाजपा का संकल्प, मोदी की गारंटी होता है। और मोदी की गारंटी को सबसे बड़ी ताकत कहां से मिलती है? सबसे बड़ी ताकत आपके एक वोट से मिलती है। आपका हर वोट मोदी की ताकत बढ़ाता है। आपका हर एक वोट मोदी की ऊर्जा बढ़ाता है।

साथियों,

कर्नाटका में तो NDA के पास एचडी देवेगौड़ा जी जैसे वरिष्ठ नेता का मार्गदर्शन है। हमारे पास येदुरप्पा जी जैसे समर्पित और अनुभवी नेता हैं। हमारे HD कुमारास्वामी जी का सक्रिय सहयोग है। इनका ये अनुभव कर्नाटका के विकास के लिए बहुत काम आएगा।

साथियों,

कर्नाटका उस महान परंपरा का वाहक है, जो देश की एकता और अखंडता के लिए अपना सब कुछ बलिदान करना सिखाता है। यहाँ सुत्तुरू मठ के संतों की परंपरा है। राष्ट्रकवि कुवेम्पु के एकता के स्वर हैं। फील्ड मार्शल करियप्पा का गौरव है। और मैसुरु के राजा कृष्णराज वोडेयर के द्वारा किए गए विकास कार्य आज भी देश के लिए एक प्रेरणा हैं। ये वो धरती है जहां कोडगु की माताएं अपने बच्चों को राष्ट्रसेवा के लिए सेना में भेजने के सपना देखती है। लेकिन दूसरी तरफ कांग्रेस पार्टी भी है। कांग्रेस पार्टी आज टुकड़े-टुकड़े गैंग की सुल्तान बनकर घूम रही है। देश को बांटने, तोड़ने और कमजोर करने के काँग्रेस पार्टी के खतरनाक इरादे आज भी वैसे ही हैं। आर्टिकल 370 के सवाल पर काँग्रेस के राष्ट्रीय अध्यक्ष ने कहा कि कश्मीर का दूसरे राज्यों से क्या संबंध? और, अब तो काँग्रेस देश से घृणा की सारी सीमाएं पार कर चुकी है। कर्नाटका की जनता साक्षी है कि जो भारत के खिलाफ बोलता है, कांग्रेस उसे पुरस्कार में चुनाव का टिकट दे देती है। और आपने हाल में एक और दृश्य देखा होगा, काँग्रेस की चुनावी रैली में एक व्यक्ति ने ‘भारत माता की जय’ के नारे लगवाए। इसके लिए उसे मंच पर बैठे नेताओं से परमीशन लेनी पड़ी। क्या भारत माता की जय बोलने के लिए परमीशन लेनी पड़े। क्या ऐसी कांग्रेस को देश माफ करेगा। ऐसी कांग्रेस को कर्नाटका माफ करेगा। ऐसी कांग्रेस को मैसुरू माफ करेगा। पहले वंदेमातरम् का विरोध, और अब ‘भारत माता की जय’ कहने तक से चिढ़!  ये काँग्रेस के पतन की पराकाष्ठा है।

साथियों,

आज काँग्रेस पार्टी सत्ता के लिए आग का खेल खेल रही है। आज आप देश की दिशा देखिए, और काँग्रेस की भाषा देखिए! आज विश्व में भारत का कद और सम्मान बढ़ रहा है। बढ़ रहा है कि नहीं बढ़ रहा है। दुनिया में भारत का नाम हो रहा है कि नहीं हो रहा है। भारत का गौरव बढ़ रहा है कि नहीं बढ़ रहा है। हर भारतीय को दुनिया गर्व से देखती है कि नहीं देखती है। तो काँग्रेस के नेता विदेशों में जाकर देश को नीचा दिखाने के कोई मौके छोड़ते नहीं हैं। देश अपने दुश्मनों को अब मुंहतोड़ जवाब देता है, तो काँग्रेस सेना से सर्जिकल स्ट्राइक के सबूत मांगती है। आतंकी गतिविधियों में शामिल जिस संगठन पर बैन लगता है। काँग्रेस उसी के पॉलिटिकल विंग के साथ काम कर रहा है। कर्नाटका में तुष्टीकरण का खुला खेल चल रहा है। पर्व-त्योहारों पर रोक लगाने की कोशिश हो रही है। धार्मिक झंडे उतरवाए जा रहे हैं। आप मुझे बताइये, क्या वोटबैंक का यही खेल खेलने वालों के हाथ में देश की बागडोर दी जा सकती है। दी जा सकती है।

साथियों, 

हमारा मैसुरु तो कर्नाटका की कल्चरल कैपिटल है। मैसुरु का दशहरा तो पूरे विश्व में प्रसिद्ध है। 22 जनवरी को अयोध्या में 500 का सपना पूरा हुआ। पूरा देश इस अवसर पर एक हो गया। लेकिन, काँग्रेस के लोगों ने, उनके साथी दलों ने राममंदिर की प्राण-प्रतिष्ठा जैसे पवित्र समारोह तक पर विषवमन किया! निमंत्रण को ठुकरा दिया। जितना हो सका, इन्होंने हमारी आस्था का अपमान किया। कांग्रेस और इंडी अलायंस ने राममंदिर प्राण-प्रतिष्ठा का बॉयकॉट कर दिया। इंडी अलांयस के लोग सनातन को समाप्त करना चाहते हैं। हिन्दू धर्म की शक्ति का विनाश करना चाहते हैं। लेकिन, जब तक मोदी है, जब तक मोदी के साथ आपके आशीर्वाद हैं, ये नफरती ताक़तें कभी भी सफल नहीं होंगी, ये मोदी की गारंटी है।

साथियों,

Twenty twenty-four का लोकसभा चुनाव अगले five years नहीं, बल्कि twenty forty-seven के विकसित भारत का भविष्य तय करेगा। इसीलिए, मोदी देश के विकास के लिए अपना हर पल लगा रहा है। पल-पल आपके नाम। पल-पल देख के नाम। twenty-four बाय seven, twenty-four बाय seven for Twenty Forty-Seven.  मेरा ten years का रिपोर्ट कार्ड भी आपके सामने है। मैं कर्नाटका की बात करूं तो कर्नाटका के चार करोड़ से ज्यादा लोगों को मुफ्त राशन मिल रहा है। Four lakh fifty thousand गरीब परिवारों को कर्नाटका में पीएम आवास मिले हैं। One crore fifty lakh से ज्यादा गरीबों को मुफ्त इलाज की गारंटी मिली है। नेशनल हाइवे के नेटवर्क का भी यहाँ बड़ा विस्तार किया गया है। मैसुरु से बेंगलुरु के बीच एक्सप्रेसवे ने इस क्षेत्र को नई गति दी है। आज देश के साथ-साथ कर्नाटका में भी वंदेभारत ट्रेनें दौड़ रही हैं। जल जीवन मिशन के तहत Eight Thousand से अधिक गांवों में लोगों को नल से जल मिलने लगा है। ये नतीजे बताते हैं कि अगर नीयत सही, तो नतीजे भी सही! आने वाले Five Years में विकास के काम, गरीब कल्याण की ये योजनाएँ शत प्रतिशत लोगों तक पहुंचेगी, ये मोदी की गारंटी है।

साथियों,

मोदी ने अपने Ten year साल का हिसाब देना अपना कर्तव्य माना है। क्या आपने कभी काँग्रेस को उसके sixty years का हिसाब देते देखा है? नहीं न? क्योंकि, काँग्रेस केवल समस्याएँ पैदा करना जानती है, धोखा देना जानती है। कर्नाटका के लोग इसी पीड़ा में फंसे हुये हैं। कर्नाटका काँग्रेस पार्टी की लूट का ATM स्टेट बन चुका है। खाली लूट के कारण सरकारी खजाना खाली हो चुका है। विकास और गरीब कल्याण की योजनाओं को बंद किया जा रहा है। वादा किसानों को मुफ्त बिजली का था, लेकिन किसानों को पंपसेट चलाने तक की बिजली नहीं मिल रही। युवाओं की, छात्रों की स्कॉलर्शिप तक में कटौती हो रही है। किसानों को किसान सम्मान निधि में राज्य सरकार की ओर से मिल रहे four thousands रुपए बंद कर दिये गए हैं। देश का IT hub बेंगलुरु पानी के घनघोर संकट से जूझ रहा है। पानी के टैंकर की कालाबाजारी हो रही है। इन सबके बीच, काँग्रेस पार्टी को चुनाव लड़वाने के लिए hundreds of crores रुपये ब्लैक मनी कर्नाटका से देशभर में भेजा जा रहा है। ये काँग्रेस के शासन का मॉडल है। जो अपराध इन्होंने कर्नाटका के साथ किया है, इसकी सजा उन्हें Twenty Six  अप्रैल को देनी है। 26 अप्रैल को देनी है।

साथियों,

मैसूरु से NDA के उम्मीदवार श्री यदुवीर कृष्णदत्त चामराज वोडेयर, चामराजनागर से श्री एस बालाराज, हासन लोकसभा से एनडीए के श्री प्रज्जवल रेवन्ना और मंड्या से मेरे मित्र श्री एच डी कुमार स्वामी,  आने वाली 26 अप्रैल को इनके लिए आपका हर वोट मोदी को मजबूती देगा। देश का भविष्य तय करेगा। मैसुरु की धरती से मेरी आप सभी से एक और अपील है। मेरा एक काम करोगे। जरा हाथ ऊपर बताकर के बताइये, करोगे। कर्नाटका के घर-घर जाना, हर किसी को मिलना और मोदी जी का प्रणाम जरूर पहुंचा देना। पहुंचा देंगे। पहुंचा देंगे।

मेरे साथ बोलिए

भारत माता की जय

भारत माता की जय

भारत माता की जय

बहुत बहुत धन्यवाद।