دوارکا ایکسپریس وے کے 19 کلومیٹر لمبے ہریانہ سیکشن کا افتتاح کیا
’’سال 2024 کے تین ماہ سے بھی کم عرصے میں، 10 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ مالیت کے پروجیکٹ یا تو قوم کے نام وقف کیے گئے ہیں یا ان کے لیے سنگ بنیاد رکھا گیا ہے‘‘
’’مسائل کو امکانات میں تبدیلی کرنا مودی کی گارنٹی ‘‘
’’ اکیسویں صدی کا ہندوستان بڑے وژن اور بڑے مقاصد کا ہندوستان ہے‘‘
’’پہلے، تاخیر ہوتی تھی، اب ڈیلیوری ہو رہی ہے۔ پہلے تاخیر تھی اب ترقی ہو رہی ہے‘‘

وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج  گروگرام، ہریانہ میں تقریباً ایک لاکھ کروڑ روپے   مالیت کے ملک بھر میں پھیلے  112 قومی شاہراہ کے پروجیکٹوں کا افتتاح اور سنگ بنیاد رکھا۔ ٹیکنالوجی کے ذریعے ملک بھر سے لاکھوں لوگ اس ایونٹ سے جڑے۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے  بتایا کہ دہلی میں پروگراموں کے انعقاد کا کلچر  اب تبدیل ہوگیا ہے اور اب  ملک کے دیگرحصوں میں بڑے پروگراموں کے انعقاد  کیا جارہاہے۔ انہوں نے کہا کہ آج ملک  نے جدید کنکٹی وٹی کی طرف ایک اور بڑا اور اہم قدم اٹھایا ہے۔ تاریخی دوارکا ایکسپریس وے کے ہریانہ حصے کو وقف کرنے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے، وزیراعظم  مودی نے کہا کہ اس سے دہلی اور ہریانہ کے درمیان سفر کا تجربہ ہمیشہ کے لیے بدل جاے گا اور ’’نہ صرف گاڑیوں میں گیئر بدلیں گے  بلکہ علاقے کے لوگوں کی زندگیوں میں بھی تبدیلی آئے گی۔ ‘‘

 

پروجیکٹوں کے نفاذ میں رفتار کی تبدیلی پر زور دیتے ہوئے، وزیر اعظم نے کہا کہ 2024 کے تین ماہ سے بھی کم عرصے میں، 10 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کے پروجیکٹ یا تو قوم کے نام وقف کیے گئے ہیں یا ان کا سنگ بنیاد رکھا گیا ہے۔ آج کے ایک لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کے 100 سے زیادہ پروجیکٹوں میں جنوب میں کرناٹک، کیرالہ اور آندھرا پردیش کے ترقیاتی پروجیکٹ شامل ہیں، شمال سے، اتر پردیش اور ہریانہ سے متعلق ترقیاتی کام ہیں، مشرق کی نمائندگی بنگال اور بہار کے پروجیکٹس کے ذریعے کی گئی ہے، جبکہ، مغرب سے، مہاراشٹر، پنجاب اور راجستھان کے بڑے پروجیکٹوں ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ آج کے پروجیکٹوں میں امرتسر بھٹنڈا جام نگر کوریڈور میں 540 کلومیٹر کا اضافہ اور بنگلورو رنگ روڈ کی ترقی شامل ہے۔

جناب نریندر مودی نے مسائل سے امکانات کی طرف تبدیلی کو اجاگر کرتے ہوئے بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے تبدیلی کے اثرات پر زور دیا۔ انہوں نے چیلنجوں کو مواقع میں تبدیل کرنے کی اہمیت پر زور دیا، جو کہ ان کی حکمرانی کی پہچان ہے۔

وزیر اعظم مودی نے دوارکا ایکسپریس وے کی مثال پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ  رکاوٹوں کو ترقی کی راہوں میں تبدیل کرنے کے ان کی حکومت کے عزم کا ثبوت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کس طرح، ماضی میں، جس علاقے میں ایکسپریس وے اب بنایا گیا ہے اسے غیر محفوظ سمجھا جاتا تھا، لوگ غروب آفتاب کے بعد بھی ادھر آنے سے بچتے  تھے  لیکن آج، یہ بڑے کارپوریشنوں کے لیے ایک مرکز کے طور پر کام کررہا ہے، جو قومی راجدھانی  علاقے (این سی آر) کی تیز رفتار ترقی میں تعاون کر رہا ہے۔

 

وزیر اعظم نے دوارکا ایکسپریس وے کو دہلی کے اندرا گاندھی بین الاقوامی ہوائی اڈے سے جوڑنے کی حکمت عملی کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس طرح کے بنیادی ڈھانچے کے پروجیکٹ  کنکٹی وٹی  میں اضافہ کرتے ہیں، جس سے اقتصادی سرگرمیاں تیز ہوتی ہیں اور این سی آر کے انٹیگریشن میں بہتری آتی ہے۔

اس کے علاوہ وزیر اعظم مودی نے بنیادی ڈھانچے کے پروجیکٹوں  کی بروقت تکمیل کو یقینی بنانے میں ہریانہ حکومت، خاص طور پر وزیر اعلیٰ منوہر لال کھٹر کی کوششوں کی تعریف کی۔ انہوں نے ریاست کے بنیادی ڈھانچے کو جدید بنانے کے لیے ان کی لگن کی ستائش کی، جو کہ وکست ہریانہ اور وکست بھارت کے لیے بہت اہم ہے۔

وزیر اعظم نے دہلی-این سی آر خطہ میں بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لیے اپنی حکومت کے مجموعی وژن کا اعادہ کیا۔ انہوں نے دوارکا ایکسپریس وے، پیریفرل ایکسپریس وے اور دہلی-میرٹھ ایکسپریس وے جیسے بڑے پروجیکٹوں کی بروقت تکمیل پر زور دیا۔ میٹرو لائنوں کی توسیع اور بین الاقوامی ہوائی اڈوں کی تعمیر کے ساتھ ان پروجیکٹوں  کا مقصد ٹریفک کی بھیڑ کو کم کرنا اور خطے میں آلودگی کو کم کرنا ہے۔  وزیر اعظم نے  کہا کہ ’’21ویں صدی کا ہندوستان بڑے وژن اور بڑے مقاصد کا ہندوستان ہے‘‘۔

 

وزیر اعظم مودی نے بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور غربت کے خاتمے کے درمیان تعلق پر زور دیا اور  اس بات پر روشنی ڈالی کہ کس طرح دیہی علاقوں میں بہتر سڑکیں اور ڈیجیٹل کنکٹی وٹی گاؤں والوں کے لیے نئے مواقع پیدا کرتی ہے۔ انہوں نے دیہی ہندوستان میں نئے امکانات کے ابھرنے کا ذکر کیا، جو کہ  ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور صحت کی دیکھ بھال اور تعلیم جیسی ضروری خدمات تک رسائی سے ہوں گے۔  انہوں نے مزید کہا کہ ’’اس طرح کے اقدامات نے پچھلے 10 سالوں میں 25 کروڑ ہندوستانیوں کو غربت سے نکالنے میں مدد کی ہے اور ہندوستان دنیا کی 5ویں سب سے بڑی معیشت بن گیا ہے‘‘۔ انہوں نے کہا ’’   ملک میں بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کا یہ تیز رفتار کام ہندوستان کو دنیا کی  تیسری سب سے بڑی اقتصادی طاقت بنا دے گا۔‘‘ وزیراعظم جناب نریندر مودی نے ہندوستان بھر میں بنیادی ڈھانچے کی ترقی کو تیز کرنے کے لیے حکومت کے عزم کو دہرایا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس طرح کے اقدامات سے نہ صرف ملکی معیشت مضبوط ہوتی ہے بلکہ خاص طور پر نوجوانوں کے لیے روزگار کے بے شمار مواقع بھی پیدا ہوتے ہیں۔

وزیر اعظم نے موجودہ حکومت کی طرف سے مکمل کیے گئے بہت سے طویل  عرصے  التواء شدہ  پروجیکٹوں کا ذکر کیا جیسے ایسٹرن پیریفرل ایکسپریس وے (2008 میں اعلان کیا گیا 2018 میں مکمل ہوا)، دوارکا ایکسپریس وے بھی پچھلے 20 برسوں سے پھنسا ہوا تھا۔  انہوں نے کہا ’’آج ہماری حکومت جس بھی کام کا سنگ بنیاد رکھتی ہے، اسے وقت پر مکمل کرنے کے لیے اتنی ہی محنت کرتی ہے  اور پھر ہم یہ نہیں دیکھتے کہ انتخابات ہوتے ہیں یا نہیں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ گاؤوں میں لاکھوں کلومیٹر لمبے آپٹک فائبر، چھوٹے شہروں میں ہوائی اڈے اور  سڑکوں جیسے  پروجیکٹ انتخابات کے وقت سے قطع نظر مکمل کیے جاتے ہیں۔

 

وزیر اعظم نے کہا کہ ’’پہلے تاخیر ہوتی تھی، اب ترسیل ہوتی ہے۔ پہلے تاخیر تھی اب ترقی ہو رہی ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ 9 ہزار کلومیٹر ہائی اسپیڈ کوریڈور بنانے پر توجہ دی جارہی ہے جس میں سے 4 ہزار کلومیٹر پہلے ہی تعمیر ہو چکا ہے۔ میٹرو 2014 میں 5 شہروں کے مقابلے میں 21 شہروں تک پہنچ گئی۔ یہ کام ترقی کے وژن کے ساتھ کیا گیا ہے۔ یہ چیزیں اس وقت ہوتی ہیں جب نیت ٹھیک ہو۔ ترقی کی یہ رفتار اگلے 5 سالوں میں کئی گنا بڑھ جائے گی۔

اس موقع پر ہریانہ کے گورنر جناب بنڈارو دتاتریہ، وزیر اعلیٰ  جناب منوہر لال، مرکزی وزراء جناب نتن گڈکری،  جناب راؤ اندرجیت سنگھ، جناب کرشن پال، ہریانہ کے نائب وزیر اعلیٰ، جناب دشینت چوٹالہ بھی موجود تھے۔

 

پس منظر

این ایچ- 48 پر دہلی اور گروگرام کے درمیان ٹریفک کے بہاؤ کو بہتر بنانے اور بھیڑ  بھاڑ کو کم کرنے میں مدد کے لیے، وزیر اعظم نے تاریخی دوارکا ایکسپریس وے کے ہریانہ سیکشن کا افتتاح کیا۔ 8 لین دوارکا ایکسپریس وے کا 19 کلومیٹر لمبا ہریانہ سیکشن تقریباً  4100 کروڑ  روپے کی لاگت سے تیار کیا گیا ہے۔ اور اس میں 10.2 کلومیٹر طویل دہلی-ہریانہ بارڈر تا بسائی ریل اوور برج (آر او بی) اور 8.7 کلومیٹر لمبا بسائی آر او بی تا کھیڑکی دولا کے دو پیکیج شامل ہیں۔ یہ دہلی کے آئی جی آئی ہوائی اڈے اور گروگرام بائی پاس سے بھی براہ راست کنکٹی وٹی  فراہم کرے گا۔

وزیر اعظم کے ذریعہ افتتاح کردہ دیگر بڑے پروجیکٹوں میں 9.6 کلومیٹر  لمبے  چھ لین اربن ایکسٹینشن روڈ-II  (یو ای آر -II-پیکیج 3 نانگلوئی - نجف گڑھ روڈ سے دہلی کے سیکٹر 24 دوارکا سیکشن تک، اترپردیش میں  تقریباً 4600 کروڑ روپے کی لاگت سے تیار کئے جانےو الے لکھنؤ رنگ روڈ کے تین پیکج ؛آندھرا پردیش ریاست میں  2950 کروڑ روپے کی لاگت سے تیار کئے جانے والے این ایچ 16 کا آنند پورم - پینڈورتھی - انکا پلی سیکشن؛  ہماچل پردیش میں تقریباً تقریباً 3400 کروڑ روپے کی  مالیت کا  ین ایچ- 21 کا  کیرت پور سے نیرچوک سیکشن (2 پیکجز) ؛ کرناٹک میں 2750 کروڑ روپے مالیت کا ڈوباسپیٹ - ہیسکوٹ سیکشن (دو پیکجز)  اور ملک بھر کی مختلف ریاستوں میں 20500 کروڑ روپے مالیت کے 42 دیگر پروجیکٹ شامل ہیں۔

 

وزیراعظم نے ملک بھر میں نیشنل ہائی وے کے مختلف پروجیکٹوں  کا سنگ بنیاد بھی رکھا۔ جن بڑے پروجیکٹوں کا سنگ بنیاد رکھا جائے گا ان میں آندھرا پردیش  کے بنگلورو - کڈپہ - وجئے واڑہ ایکسپریس وے کے 14 پیکج جن کی مالیت 14000 کروڑ روپے ہے؛کرناٹک میں 8000 کروڑ روپے مالیت کے این ایچ-748 اے کے  بیلگاؤں - ہنگنڈ –رائچور سیکشن کے کے چھ پیکج؛  ہریانہ میں 4900 کروڑ روپے کے شاملی - امبالا ہائی وے کے تین پیکج؛ پنجاب میں 3800 کروڑ روپے مالیت کے  مرتسر-بٹھنڈہ کوریڈور کے دو پیکج اور ملک بھر کی مختلف ریاستوں میں 32700 کروڑ روپے مالیت کے  39 دیگر پروجیکٹ  شامل ہیں۔

یہ پروجیکٹ نیشنل ہائی وے نیٹ ورک کی ترقی میں اہم رول  ادا کریں گے اور ساتھ ہی سماجی و اقتصادی ترقی کو بڑھانے، روزگار کے مواقع بڑھانے اور ملک بھر کے خطوں میں تجارت اور کامرس کو فروغ دینے میں مدد کریں گے۔

 

 

 

 

 

تقریر کا مکمل متن پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
UPI — an eventful journey

Media Coverage

UPI — an eventful journey
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
PM chairs 53rd PRAGATI Meeting
August 25, 2026
PM reviews six key infrastructure projects across the Railway, Road and Power sectors
Projects reviewed span across 9 States with cumulative investment of more than ₹30,000 crore
PM says Infrastructure projects should be viewed as an integrated whole, rather than as individual sections or packages
PM calls for continuous reforms across all stages of project implementation and a proactive work culture across Ministries and States
PM says Speed must go hand-in-hand with quality
While reviewing AgriStack, PM emphasises the need to leverage the latest digital technologies including AI to derive greater value from agricultural data
On cyber fraud and ‘digital arrest’, PM stresses training, public awareness, cyber-safety education and coordinated action

Prime Minister Shri Narendra Modi chaired the 53rd meeting of PRAGATI, the ICT-enabled, multi-modal platform for Pro-Active Governance and Timely Implementation, at Seva Teerth earlier today.

During the meeting, Prime Minister reviewed six key infrastructure projects across the Railway, Road and Power sectors, spanning nine States with a cumulative cost of more than ₹30,000 crore. The projects, significant for strengthening connectivity, supporting industrial and economic activity and improving public services, were reviewed with particular emphasis on adherence to timelines, inter-agency coordination, resolution of pending issues and expeditious completion.

Prime Minister emphasised that delays in infrastructure projects have consequences beyond cost escalation, as they also postpone the benefits intended for citizens, businesses and the economy. He said that infrastructure projects should be viewed and monitored as an integrated whole, rather than as isolated sections, stretches or packages. He noted that progress in individual packages should ultimately translate into timely completion and operationalisation of the entire project. Ministries and States were therefore asked to adopt an end-to-end approach, and address critical gaps that could delay the overall commissioning and delivery of benefits. He called for fostering a proactive work culture across Ministries and State Governments, with greater ownership at every level of project implementation.

Prime Minister stressed the need to explore common utility corridors for infrastructure services, wherever feasible, particularly while planning major transport and infrastructure projects. He called upon Ministries and States to examine such integrated approaches at the planning stage itself, keeping in view their technical and economic feasibility.

Prime Minister said that speed of execution must be accompanied by uncompromising quality. He called upon Ministries, States and implementing agencies to adopt modern technologies and strengthen quality assurance and supervision at every stage.

While reviewing AgriStack under the Digital Agriculture Mission, Prime Minister emphasised the need to leverage the latest digital technologies, including Artificial Intelligence, to derive greater value from agricultural data. He stressed that the data ecosystem should be effectively utilised across the agricultural value chain, from input planning to processing, enabling more informed interventions, better targeting and data-driven decision-making. He appreciated the efforts of the States and the Central Government in building the AgriStack ecosystem and called for further strengthening its use for delivering better outcomes for farmers.

During the review of cyber fraud cases, including incidents of digital arrest, Prime Minister said that prevention must be strengthened through a sustained focus on training, awareness and education. He stressed the need for continuous and targeted public-awareness campaigns, particularly for senior citizens, youth and other vulnerable sections, to familiarise them with common fraud techniques, warning signs and safe digital practices. He also called for regular capacity-building of personnel involved so that emerging modes of cyber fraud are identified and acted upon swiftly.