India is ready to protect humanity with not one but two 'Made in India' coronavirus vaccines: PM Modi
When India took stand against terrorism, the world too got the courage to face this challenge: PM
Whenever anyone doubted Indians and India's unity, they were proven wrong: PM Modi
Today, the whole world trusts India: PM Modi

نئی دہلی،09 جنوری ، 2021 /وزیراعظم جناب نریندر مودی نے آج پرواسی بھارتیہ دوس کنوینشن کا افتتاح کیا ۔ اس موقعے پر اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعظم نے بیرون ملک بھارتیوں کو اپنے اپنے ملکوں میں کورونا عالمی وبا کے دوران ان کے رول کے لیے سراہا۔ انہوں نے کہا کہ سربراہان مملکت کے ساتھ اپنے مذاکرات کے دوران ہمیشہ بیرون ملک بھارتیوں پر فخر محسوس کیا ہے جب کبھی سربراہان نے اپنے ملکوں میں ڈاکٹر، نیم طبی عملے اور عام شہریوں کے طور پر ان کے تعاون کی تعریف کی۔ بیرون ملک بھارتیوں کا کووڈ کے خلاف بھارت کی لڑائی میں تعاون کا بھی ذکر کیا۔

وائی ٹو کے بحران سے نمٹنے میں بھارت کے رول کا ذکر کرتے ہوئے اور بھارتی دوا ساز صنعت کی طرف سے اسٹرائڈز بنائے جانے پر وزیراعظم نے کہا کہ بھارت کی صلاحیتوں سے ہمیشہ انسانیت کو فائدہ ہوا ہے۔ بھارت عالمی چیلنجوں سے نمٹنے میں ہمیشہ پیش پیش رہا ہے۔ نوآبادیاتی نظام اور دہشت گردی کے خلاف بھارت کی لڑائی سے دنیا کو ان لعنتوں کا مقابلہ کرنے میں استحکام ملا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ بھارت میں دنیا کے اعتماد اس کے کھانوں ، فیشن، کنبے کی اقدار اور تجارتی اقدار کا سہرا بیرون ملک بھارتیوں کو جاتا ہے۔ بیرون ملک بھارتیوں کے رویے سے بھارتی طور طریقوں ، اقدار اور اس سب کچھ سے جس کی وجہ سے تجسس ایک روایت میں بدل گیا ایک دلچسپی پیدا ہوئی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ جیساکہ بھارت آتم نربھر بھارت کے نشانے کی طرف بڑھ رہا ہے، بیرون ملک بھارتیوں کا بھی اس میں ایک بڑا رول ہے کیونکہ بھارتی میں تیار کی گئی چیزوں کا ان کی طرف سے استعمال کیے جانے سے بھارتی مصنوعات میں مزید اعتماد پیدا ہوگا۔

وزیر اعظم نے بیرون ملک بھارتی برادری سے وبا کے خلاف جنگ میں بھارت کی صلاحیت کے بارے میں بھی تفصیل سے بات کی۔ انہوں نے کہا ، "اس وائرس کے خلاف بین الاقوامی سطح پر جمہوری یکجہتی کی کوئی اور مثال نہیں ہے۔" پی پی ای کٹس ، ماسک ، وینٹی لیٹر یا ٹیسٹنگ کٹس جیسی اہم چیزوں کے لئے درآمدات پر انحصار کرنے کے باوجود ، بھارت نے ان میں سے بہت سے سامان کی برآمد شروع کردی کیونکہ اس نے خود کفیل ہونے کے لیے اپنے اندر صلاحیتیں پیدا ۔ آج بھارت ان ملکوں میں شامل ہے جن میں شرح اموات سب سے کم ہے اور صحت یابی کی شرح سب سے تیز ہے۔ دنیا کی فارمیسی کی حیثیت سے ، بھارت دنیا کی مدد کر رہا ہے اور پوری دنیا بھارت کی طرف دیکھ رہی ہے ، کیونکہ ملک دو دیسی ویکسین کے ذریعہ دنیا کی سب سے بڑی ویکسی نیشن مہم شروع کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔

 

وزیر اعظم نے براہ راست فائدے کی منتقلی (ڈی بی ٹی) کے بینک کھاتوں میں سرکاری امداد کی براہ راست منتقلی کے ذریعے ملک سے بدعنوانی پر قابو پانے میں ہونے والی پیش رفت کا خاکہ پیش کیا، جس کے ذریعے وبائی دور کے دوران ضرورت مندوں کو ملی مدد کو متفقہ طور پر ساری دنیا نے سراہا۔ اسی طرح غریبوں کی ترقی اور قابل تجدید توانائی کے فوائد حاصل کرکے ملکی ساکھ میں اضافہ ہوا ہے۔

وزیراعظم نے اشارہ دیا کہ آج کا بھارت کا خلائی پروگرام ٹیکنیکل اسٹارٹ اپ اقتصادی نظام اور اس کی خاصیتیں بھارت کی خواندگی کا کرنوں پرانے پیغام کی شکل بدل رہی ہیں۔ انہوں نے بیرون ملک بھارتیوں کو دعوتی دی کہ تعلیم سے لے کر صنعت تک کے میدانوں میں حالیہ مہینوں میں جو اصلاحات کی گئی ہیں ان کا فائدہ اٹھائیں۔ انہوں نے پیداوار سے متعلق سبسڈیز کی اسکیم کا خاص طور پر ذکر کیا جس کا مقصد اس سلسلے میں مینوفیکچرنگ کو مقبول بنانا ہے۔

وزیراعظم نے بیرون ملک بھارتی برادری کو ان کی مادر وطن سے ہر طرح کی مدد کا یقین دلایا۔ انہوں نے وندے بھارت مشن کا ذکر کیا جس میں 45 لاکھ سے زیادہ بھارتی افراد کو کورونا کے دوران بچایا گیا تھا۔ انہوں نے بیرون ملک بھارتیوں کے روزگار کو بچانے کے لیے سفارتی کوششوں کے بارے میں بھی جانکاری دی۔ خلیج اور دیگر علاقوں سے واپس آنے کے لیے روزگار کی مدد کے مقصد سے ہنر مند کارکنوں کی آمد کے اعداد و شمار سے متعلق بھی اقدامات کیے گیے ہیں۔ انہوں نے بہتر کنکٹیویٹی اور پرواسی بھارتی افراد کے ساتھ مواصلات کے لیے عالمی پرواسی رشتہ پورٹل کے بارے میں بھی بات کی۔

وزیراعظم نے جمہوریہ سورینام کے صدر عزت مآب جناب چندریکا پرساد سنتوکھی کا بھی ان کی قیادت اور کلیدی خطبے پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے ان سے جلد ملاقات کی امید ظاہر کی۔ جناب مودی نے پرواسی بھارتی سمان اور کوئز مقابلے کے فاتحین کو بھی مبارکباد دی۔

وزیراعظم نے بیرون ملک بھارتی افراد سے کہا کہ وہ ملک کی آزادی کی 75ویں سالگرہ کی تقریبات میں شرکت کریں۔ انہوں نے بیرون ملک بھارتی برادری کے ارکان اور پوری دنیا میں بھارتی مشنوں میں لوگوں سے کہا کہ وہ ایک ایسا پورٹل ، ایک ڈیجیٹل پلیٹ فارم تیار کریں جس پر پرواسی بھارتیوں کے بھارت کی جدوجہد آزادی میں تعاون کو دستاویزی شکل میں پیش کیا جائے۔

 

تقریر کا مکمل متن پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
India records highest-ever startup surge with 55,200 recognised in FY26

Media Coverage

India records highest-ever startup surge with 55,200 recognised in FY26
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Cabinet approves Continuation of Pradhan Mantri Gram Sadak Yojana-III till March 2028
April 18, 2026

The Union Cabinet, chaired by the Prime Minister Shri Narendra Modi, today has given its approval for the continuation of Pradhan Mantri Gram Sadak Yojana-III (PMGSY-III) beyond March 2025 upto March 2028. It involves consolidation of Through Routes and Major Rural Links connecting habitations to Gramin Agricultural Markets (GrAMs), Higher Secondary Schools and Hospitals. The revised outlay of the scheme will be Rs.83,977 crore.

The Cabinet further, amongst other things, approved the following:

  • Extension of timeline till March 2028 for completion of roads and bridges in plain areas and roads in hilly areas.
  • Extension of timeline till March 2029 for completion of bridges in hilly areas.
  • Works sanctioned before 31.03.2025 but un-awarded till now may be taken up for tender/award.
  • Long Span Bridges (LSBs) (161 Nos. with estimated cost of Rs.961 crore) pending for sanction but lying on the alignment of already sanctioned roads may be sanctioned and tendered/awarded.
  • Revision of outlay to Rs. 83,977 crore from original outlay of Rs.80,250 crore.

Benefits:

The extension of the timeline of PMGSY-III will enable the full realization of its intended socio-economic benefits by ensuring completion of targeted upgradation of rural roads. It will significantly boost the rural economy and trade by enhancing market access for agricultural and non-farm products, reducing transportation time and costs, and thereby improving rural incomes. Improved connectivity will facilitate better access to education and healthcare institutions, ensuring timely delivery of essential services, particularly in remote and underserved areas.

The continued implementation will also generate substantial employment opportunities, both directly through construction activities and indirectly by promoting rural enterprises and services. Overall, the extension will contribute to inclusive and sustainable development by bridging the rural-urban divide and advancing the vision of Viksit Bharat 2047.