نئی دہلی میں انٹیگریٹڈ کمپلیکس ‘‘کرمایوگی بھون’’ کے فیز I کا سنگ بنیاد رکھا
‘‘روزگار میلہ قوم کی تعمیر میں ہماری یووا شکتی کے تعاون کو بڑھانے میں ایک اہم کردار ادا کرتا ہے’’
‘‘حکومت ہند میں بھرتی کا عمل اب مکمل طور پر شفاف ہو گیا ہے’’
‘‘ہماری کوشش نوجوانوں کو حکومت ہند سے جوڑنے اور انہیں قومی تعمیر میں شراکت دار بنانے کی رہی ہے’’
‘‘ہندوستانی ریلوے اس دہائی کے آخر تک مکمل طور پر تبدیل ہونے والا ہے’’
‘‘اچھی مربوط کاری کا ملک کی ترقی پر براہ راست اثر پڑتا ہے’’
‘‘نیم فوجی دستوں کے انتخاب کے عمل میں اصلاحات سے ہر علاقے کے نوجوانوں کو یکساں مواقع ملیں گے’’

وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ نئے بھرتی ہونے والوں میں 1 لاکھ سے زیادہ تقرری نامے تقسیم کئے۔ انہوں نے نئی دہلی میں انٹیگریٹڈ کمپلیکس ‘‘کرمایوگی بھون’’ کے فیز I کا سنگ بنیاد بھی رکھا۔ یہ کمپلیکس مشن کرمایوگی کے مختلف اداروں کے درمیان تعاون اور ہم آہنگی کو فروغ دے گا۔

اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ 1 لاکھ سے زائد بھرتی ہونے والوں کو تقرری نامے دیے جا رہے ہیں اور اس موقع پر انہیں اور ان کے اہل خانہ کو مبارکباد دی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت ہند میں نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرنے کی مہم زور و شور سے جاری ہے۔ اس بات کی نشاندہی کرتے ہوئے کہ ملازمت کے نوٹیفکیشن اور تقرری ناموں کی تقسیم کے درمیان طویل عرصہ گزرنے سے رشوت ستانی میں اضافہ ہوا، وزیر اعظم نے کہا کہ موجودہ حکومت نے بھرتی کے عمل کو مقررہ مدت کے تحت مکمل کرتے ہوئے پورے عمل کو شفاف بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے ہر نوجوان کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے یکساں مواقع میسر آئے ہیں۔ ‘‘آج، ہر نوجوان کا ماننا ہے کہ وہ محنت اور مہارت سے اپنی ملازمت کی پوزیشن کو مستحکم کر سکتے ہیں’’، پی ایم مودی نے کہا کہ حکومت نوجوانوں کو ملک کی ترقی میں شراکت دار بنانے کی کوشش کرتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ موجودہ حکومت نے گزشتہ 10 برسوں میں گزشتہ حکومتوں کے مقابلے میں 1.5 گنا زیادہ نوجوانوں کو نوکریاں دی ہیں۔ وزیر اعظم نے نئی دہلی میں انٹیگریٹڈ کمپلیکس ‘کرمایوگی بھون’ کے فیز I کا سنگ بنیاد رکھنے کےحوالے سےبھی گفتگو کی اور کہا کہ اس سے صلاحیت سازی کی طرف حکومت کی پیشرفت کو تقویت ملے گی۔

 

حکومت کی کوششوں سے نئے سیکٹرز کھولنے اور نوجوانوں کے لیے روزگار اور خود روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے بارے میں بات کرتے ہوئے وزیر اعظم نے بجٹ میں چھتوں پر نصب کئے جانے والے 1 کروڑ سولر پلانٹس کے اعلان کا ذکر کیا جس سے خاندانوں کے بجلی کے بل میں کمی آئے گی اور وہ گرڈ کو بجلی فراہم کر کے پیسے کما سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس اسکیم سے لاکھوں نئی ملازمتیں بھی پیدا ہوں گی۔

اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ ہندوستان تقریباً 1.25 لاکھ اسٹارٹ اپس کے ساتھ دنیا کا تیسرا سب سے بڑا اسٹارٹ اپ ماحولیاتی نظام وا لا ملک ہے، پی ایم مودی نے خوشی کا اظہار کیا کہ ان میں سے بہت سے اسٹارٹ اپ ٹائر 2 یا ٹائر 3 شہروں سے ہیں۔ چونکہ یہ اسٹارٹ اپ روزگار کے نئے مواقع پیدا کر رہے ہیں، تازہ ترین بجٹ میں اسٹارٹ اپس کے لیے ٹیکس چھوٹ کو جاری رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ وزیر اعظم نے ایک لاکھ کروڑ کے فنڈ کا بھی ذکر کیا جس کا بجٹ میں تحقیق اور اختراع کو فروغ دینے کے لیے اعلان کیا گیا ہے۔

یہ بتاتے ہوئے کہ ریلوے میں بھی آج روزگار میلے کے ذریعے بھرتی ہو رہی ہے، وزیر اعظم نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ جب سفر کی بات آتی ہے تو ریلوے عام لوگوں کی پہلی پسند ہے۔ جناب مودی نے اس حقیقت کی طرف توجہ مبذول کروائی کہ ہندوستان میں ریلوے ایک بڑے پیمانے پر تبدیلی سے گزر رہا ہے اور یہ سیکٹر اگلی دہائی میں مکمل تبدیلی کا مشاہدہ کرے گا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ 2014 سے پہلے ریلوے پر زیادہ توجہ نہیں دی گئی تھی اور انہوں نے ریل لائنوں کی برقی کاری اوران کی تعداد دوگنا کرنے کے ساتھ ساتھ نئی ٹرینوں کو جھنڈی دکھا کر روانہ کرنے اورمسافروں کے لیے سہولیات میں اضافہ کا ذکر کیا۔ لیکن 2014 کے بعد، وزیر اعظم نے بتایا کہ ریلوے کے جدید اور اپ گریڈیشن پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے پورے ٹرین کے سفر کے تجربے کو نئے سرے سے ایجاد کرنے کی مہم شروع کی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ وندے بھارت ایکسپریس جیسی 40,000 جدید بوگیاں تیار کی جائیں گی اور انہیں اس سال کے بجٹ کے تحت عام ٹرینوں میں شامل کیا جائے گا، اس طرح مسافروں کی سہولت اور راحت میں اضافہ ہوگا۔

.

کنیکٹیویٹی کے دور رس اثرات کو اجاگر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے نئی منڈیوں، سیاحت کی توسیع، نئے کاروبار اور بہتر رابطے کی وجہ سے لاکھوں ملازمتیں پیدا کرنے کا ذکر کیا۔ "ترقی کو تیز کرنے کے لیے بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کو بڑھایا جا رہا ہے‘‘، وزیر اعظم نے کہا کہ حالیہ بجٹ میں بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کے لیے 11 لاکھ کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نئے ریل، سڑک، ہوائی اڈے، اور آبی گزرگاہوں کے منصوبے روزگار کے نئے مواقع پیدا کریں گے۔

اس بات کاذکر کرتے ہوئے کہ نئی تقرریوں میں سے بہت سی نیم فوجی دستوں میں کی جارہی ہیں، وزیر اعظم نے نیم فوجی دستوں کے انتخاب کے عمل میں اصلاحات پر توجہ دی اور بتایا کہ اس جنوری سے ہندی اور انگریزی کے علاوہ 13 ہندوستانی زبانوں میں امتحان لیا جائے گا۔ اس سے ہر ایک کو لاکھوں امیدواروں کو یکساں موقع ملے گا۔ انہوں نے سرحدی اور انتہا پسندی سے متاثرہ اضلاع کے کوٹہ میں اضافے کے بارے میں بھی آگاہ کیا۔

وزیر اعظم نے وکست بھارت کے سفر میں سرکاری اہلکاروں کے کردار پر روشنی ڈالی۔ وزیر اعظم نے کہا، "1 لاکھ سے زیادہ کرمیوگی جو آج شامل ہو رہے ہیں، اس سفر کو ایک نئی توانائی اور رفتار دیں گے۔" انہوں نے ان سے کہا کہ وہ  اپناہر دن قوم کی تعمیر کے لیے وقف کریں۔ انہوں نے انہیں کرمیوگی بھارت پورٹل کے بارے میں بتایا جس میں 800 سے زیادہ کورسز اور 30 لاکھ صارفین ہیں اور ان سے کہا کہ وہ اس کا پورا فائدہ اٹھائیں۔

پس منظر

ملک بھر میں 47 مقامات پر روزگار میلہ کا انعقاد کیا گیا۔ بھرتیاں مرکزی حکومت کے محکموں اور ریاستی حکومتوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں کی  جارہی ہیں جو اس پہل کی حمایت کر رہے ہیں۔نئے  بھرتی  ہونے والےافراد مختلف وزارتوں/محکموں یعنی ۔ محکمہ محصولات، وزارت داخلہ، محکمہ اعلیٰ تعلیم، محکمہ جوہری توانائی، وزارت دفاع، محکمہ مالیاتی خدمات، وزارت صحت اور خاندانی بہبود، قبائلی امور کی وزارت اور ریلوے کی وزارت میں مختلف عہدوں پرفائز ہوکر حکومت میں شامل ہوں گے۔

 

روزگار میلہ ملک میں روزگار کی فراہمی کو اولین ترجیح دینے کے وزیر اعظم کے عزم کی تکمیل کی طرف ایک قدم ہے۔ روزگار میلے سے روزگار کے مزید مواقع پیدا کرنے اور نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور قومی ترقی میں براہ راست شرکت کے لیے فائدہ مند مواقع فراہم  کئے جانے کی امید ہے۔

نئے شامل کیے گئے افراد کوآئی گوٹ کرم یوگی پورٹل پر ایک آن لائن ماڈیول، کرم یوگی پرارمبھ کے ذریعے خود کو تربیت دینے کا موقع بھی ملے گا جہاں 880 سے زیادہ ای لرننگ کورسز ‘کہیں بھی کسی بھی ڈیوائس’ سیکھنے کے فارمیٹ کے لیے دستیاب کرائے گئے ہیں۔

 

تقریر کا مکمل متن پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
Central schemes bring in electricity, infra and jobs at Kondagaon in Bastar

Media Coverage

Central schemes bring in electricity, infra and jobs at Kondagaon in Bastar
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
This year’s Union Budget reinforces our commitment to sustaining and strengthening economic growth: PM Modi
March 03, 2026
This year’s Union Budget reinforces our commitment to sustaining and strengthening economic growth: PM
Our direction is clear, our resolve is clear,Build more, produce more, connect more, export more: PM
The world is looking for reliable and resilient manufacturing partners, and today India has the opportunity to firmly fulfill this role: PM
India has signed Free Trade Agreements with many countries, a very large door of opportunities has opened for us, and in such a situation, it is our responsibility to never compromise on quality: PM
The Carbon Capture, Utilisation and Storage Mission is an important initiative, integrating sustainability in core business strategy will be essential: PM
The industries that invest in clean technology in time will be able to build better access to new markets in the coming years: PM
A major transformation is happening in the world economy today, as markets now look not only at cost but also at sustainability: PM

नमस्कार !

गत् सप्ताह, बजट वेबिनार सीरीज के पहले वेबिनार का आयोजन हुआ, और मुझे ऐसा बताया गया कि वो बहुत सफल रहा, और बजट प्रावधानों के Implementation को लेकर हर किसी ने काफी उत्तम सुझाव दिए, सबकी सक्रिय भागीदारी का मैं स्वागत करता हूं और आज इस सीरीज के दूसरे वेबिनार का आयोजन हो रहा है। और मुझे बताया गया कि आज हजारों की तादाद में, ढेर सारे विषयों पर अनगिनत लोग अपने सुझाव देने वाले हैं। विषय के जो एक्सपर्ट्स हैं, वे भी हमसे जुड़ने वाले हैं। इतनी बड़ी तादाद में बजट पर चर्चा, ये अपने आप में एक बहुत सफल प्रयोग है। आप सब समय निकाल करके इस वेबिनार में जुड़े। मैं आप सभी का अभिनंदन करता हूं, आपका स्वागत करता हूं। इस वेबिनार की थीम देश की Economic Growth को निरंतर मजबूती देने से जुड़ी हुई है। आज जब भारत अपनी मजबूत economy से पूरे विश्व की उम्मीद बना हुआ है, आज जब ग्लोबल सप्लाई चैन re-shape हो रही है, तब अर्थव्यवस्था की तेज प्रगति विकसित भारत का भी बहुत बड़ा आधार है। हमारी दिशा स्पष्ट है, हमारा संकल्प स्पष्ट है, Build more, produce more, connect more और अब जरूरत है Export more, और निश्चित तौर पर इसमें आज आपके बीच जो मंथन होगा, इस मंथन से जो सुझाव निकलेंगे, उनकी बड़ी भूमिका होगी।

साथियों,

आप सब जानते हैं, मैन्युफैक्चरिंग, लॉजिस्टिक्स, हमारे MSME's, लघु उद्योग, कुटीर उद्योग, इतना ही नहीं, हमारे छोटे-बड़े शहर, ये अर्थव्यवस्था के पिलर्स के तौर पर दिखने में तो अलग-अलग लगते हैं, लेकिन वे सभी interconnected हैं। जैसे, मजबूत मैन्युफैक्चरिंग नए अवसर तैयार करती है, और इससे निर्यात में बढ़ोतरी होती है। Competitive MSMEs से flexibility और इनोवेशन को बढ़ावा मिलता है। बेहतर लॉजिस्टिक्स से लागत कम होती है। Well-planned शहर investment और talent दोनों को अपनी ओर खींचते हैं। इन सभी पिलर्स को इस साल के बजट ने बहुत मजबूती दी है।

लेकिन साथियों,

कोई भी दिशा अपने आप परिणाम नहीं बन जाती, जमीन पर बदलाव तब आता है, जब industry, financial institutions, राज्य सरकारें, मिलकर उसे वास्तविकता बनाते हैं। मेरी अपेक्षा है, इस वेबिनार में आप सभी अपने मंथन में कुछ विषयों को जरूर प्राथमिकता दें, जैसे मैन्युफैक्चरिंग और प्रॉडक्शन, ये कैसे बढ़े, Cost structure को कैसे कंपटीटिव बनाया जा सकता है, निवेश का प्रवाह कैसे तेज हो, और विकास कैसे देश के कोने-कोने तक पहुंचे। इस दिशा में आपके सुझाव बहुत अहम साबित होंगे।

साथियों,

मैन्युफैक्चरिंग के क्षेत्र में आज देश कोर इंडस्ट्रियल क्षमताओं को मजबूत कर रहा है। और इस मार्ग में जो चुनौतियां हैं, उन्हें भी दूर किया जा रहा है। Dedicated Rare Earth Corridors, कंटेनर मैन्युफैक्चरिंग, ऐसे सेक्टर्स पर फोकस करके हम अपने ट्रेड इकोसिस्टम को मजबूत करने का प्रयास कर रहे हैं। बजट में बायोफार्मा शक्ति मिशन की घोषणा भी की गई है। इस मिशन का उद्देश्य है, भारत को biologics और next-generation थेरेपीज के क्षेत्र में ग्लोबल हब बनाना। हम Advanced Biopharma Research और मैन्युफैक्चरिंग में लीडरशिप की ओर बढ़ना चाहते हैं।

साथियों,

आज दुनिया विश्वसनीय और resilient manufacturing partners की तलाश में है। भारत के पास यह अवसर है कि वह इस भूमिका को मजबूती से निभाए। इसके लिए आप सभी स्टेकहोल्डर्स को बहुत आत्मविश्वास के साथ निवेश करना होगा, नई टेक्नोलॉजी अपनानी होगी और रिसर्च में जो कंजूसी करते हैं ना, वो जमाना चला गया, अब हमें रिसर्च में बड़ा इनवेस्टमेंट करना होगा, और ग्लोबल स्टैंडर्ड के अनुरूप क्वालिटी भी सुनिश्चित करनी होगी, और मैं बार-बार कहता हूं कि अब हमें आगे बढ़ने के जब अवसर आए हैं, तो हमारा एक ही मंत्र होना चाहिए, क्वालिटी-क्वालिटी-क्वालिटी।

साथियों,

भारत ने बहुत सारे देशों के साथ फ्री ट्रेड एग्रीमेंट किए हैं। हमारे लिए अवसरों का, यानि अवसरों का बहुत बड़ा द्वार खुला है। ऐसे में हमारी ज़िम्मेदारी है कि हम क्वालिटी पर कभी भी समझौता ना करें, अगर किसी एक चीज पर सबसे ज्यादा ताकत, बुद्धि, शक्ति, समझ लगानी है, तो हमें क्वालिटी पर बहुत ज्यादा जोर देना चाहिए। हमारे प्रोडक्ट्स की क्वालिटी ग्लोबल स्टैंडर्ड, इतना ही नहीं, उससे भी बेहतर हो। और इसके लिए हमें दूसरे देशों की जरूरतों को, वहां के लोगों की अपेक्षाओं को भी, उसका अध्ययन करना पड़ेगा, रिसर्च करनी पड़ेगी, उसे समझना होगा। हमें दूसरे देशों के लोगों की पसंद और उनके कंफर्ट को स्टडी करना, ये सबसे बड़ी आवश्यकता है, और रिसर्च करनी चाहिए। मान लीजिए कोई छोटा पुर्जा मांगता है, और वो बहुत बड़ा जहाज बना रहा है, लेकिन हम पुर्जे में चलो भेज दो, क्या है? तो कौन लेगा आपका पुर्जा? भले आपके लिए वह छोटा पुर्जा है, लेकिन उसकी एक बहुत बड़ी जो मैन्युफैक्चरिंग की यूनिट है, उसमें बहुत बड़ा महत्व रखता है। और इसलिए आज दुनिया में हमारे लिए क्वालिटी ही इस कंपिटिटिव वर्ल्ड के अंदर सुनहरा अवसर बना देती है। हमें उनके हिसाब से यूजर फ्रेंडली प्रोडक्ट बनाने होंगे। तभी हम उन अवसरों का लाभ उठा पाएंगे, और जो फ्री ट्रेड एग्रीमेंट तैयार हो चुका है, अब ये विकास का महामार्ग आपके लिए तैयार है। मैं उम्मीद करता हूं कि इस वेबिनार में इस विषय पर फोकस करते हुए भी आप सब जरूर चर्चा करेंगे।

 

साथियों,

हमने MSME classification में जो Reforms किए, उसका व्यापक प्रभाव दिख रहा है। इससे enterprises का ये डर खत्म हुआ है कि वो अपना विस्तार करेंगे, तो उन्हें सरकार की ओर से मिलने वाले फायदे बंद हो जाएंगे। क्रेडिट तक MSME's की आसान पहुंच बनाने, टेक्नोलॉजी अपग्रेडेशन को बढ़ावा देने और कपैसिटी बिल्डिंग की दिशा में लगातार प्रयास हुए हैं।

लेकिन साथियों,

इन प्रयासों का असर तभी दिखाई देगा, जब MSMEs ज्यादा से ज्यादा कंपटीशन में उतरेंगे, और विजयी होने का लक्ष्य लेकर उतरेंगे। अब समय है कि MSMEs अपनी प्रोडक्टिविटी और बढ़ाएं, क्वालिटी स्टैंडर्ड्स को ऊंचा करें, डिजिटल प्रोसेस और मजबूत वैल्यू चैन से जुड़ें। इस दिशा में, इस वेबिनार में आपके सुझाव बहुत अहम होंगे।

साथियों,

इंफ्रास्ट्रक्चर और लॉजिस्टिक्स हमारी growth strategy के कोर पिलर्स हैं। इस वर्ष के बजट में रिकॉर्ड कैपिटल एक्सपेंडिचर का प्रस्ताव है। High-capacity transport systems का निर्माण, रेलवे, हाइवे, पोर्ट, एयरपोर्ट, वाटरवे के बीच बेहतर तालमेल, अलग-अलग फ्रेट कॉरिडोर और मल्टी-मोडल कनेक्टिविटी का विस्तार, ये सभी कदम खर्च कम करने और efficiency improve करने के लिए आवश्यक है। इसलिए, नए वाटरवेज, शिप रिपेयर फैसिलिटी और Regional Centres of Excellence हमारे लॉजिस्टिक इकोसिस्टम को मजबूत करेंगे। सात नए हाई-स्पीड रेल कॉरिडोर विकास के ग्रोथ कनेक्टर बनने वाले हैं। लेकिन आप भी जानते हैं, इस इंफ्रास्ट्रक्चर का वास्तविक लाभ तभी मिलेगा, जब उद्योग और निवेशक अपनी रणनीतियों को इस विजन के अनुरूप में ढालेंगे। ये रणनीतियां क्या होगी, इस पर भी आपको विस्तार से चर्चा करनी चाहिए, और मुझे पूरा विश्वास है कि आप जरूर इन बातों पर ध्यान देंगे।

 

साथियों,

भारत की विकास यात्रा में अर्बनाइजेशन, शहरीकरण का भी बहुत अहम रोल है। भारत की future growth इस बात पर निर्भर करेगी कि हम अपने शहरों को कितना effectively plan और manage करते हैं। हमारे Tier-II और Tier-III शहर, नए growth anchors कैसे बनें, इसके लिए भी इस बजट वेबिनार में आपके सुझाव बहुत अहम होंगे।

साथियों,

आज दुनिया की अर्थव्यवस्था में एक बड़ा परिवर्तन चल रहा है। बाजार अब केवल लागत नहीं देखते हैं, वे sustainability भी देखते हैं। इस दिशा में Carbon Capture, Utilisation and Storage Mission एक महत्वपूर्ण पहल है। अब sustainability उसको आपको core business strategy का हिस्सा बनाना ही होगा। जो उद्योग समय रहते क्लीन टेक्नोलॉजी में निवेश करेंगे, वे आने वाले वर्षों में नए-नए बाजारों तक बेहतर पहुंच बना पाएंगे। इस साल बजट ने नई दिशा दी है। मेरा आग्रह है कि उद्योग, निवेशक और विभिन्न संस्थान मिलकर इस पर आगे बढ़ें।

साथियों,

विकसित भारत का लक्ष्य collective ownership से ही हासिल किया जा सकता है। ये बजट वेबिनार भी सिर्फ discussion का प्लेटफॉर्म ना बने, सिर्फ अपने ज्ञान को हम बटोरते रहे, ऐसा नहीं होना चाहिए, बल्कि इसमें collective ownership दिखे, ये बहुत जरूरी है। बजट ने framework दिया है, अब आपको मिलकर momentum पैदा करना है। आपको हमारे प्रयासों में सहभागी बनना है। आपका हर सुझाव, हर अनुभव जमीन पर बेहतरीन नतीजें लाने की क्षमता रखता है। आपके सुझाव देश की प्रगति में माइलस्टोन बनें, इसी विश्वास के साथ आपका बहुत-बहुत धन्यवाद।

नमस्कार !