آئی این ایس وکرانت صرف ایک جنگی بحری جہاز نہیں ہے بلکہ یہ اکیسویں صدی کے بھارت کی محنت، صلاحیت، اثر و رسوخ اور عزم کا ثبوت ہے: وزیرِ اعظم
آئی این ایس وکرانت آتم نربھر بھارت اور "میک اِن انڈیا" کی ایک شاندار علامت ہے: وزیرِ اعظم
تینوں افواج کے درمیان غیر معمولی ہم آہنگی نے مل کر "آپریشن سندور" کے دوران پاکستان کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کر دیا تھا: وزیرِ اعظم
گزشتہ دہائی میں ہماری مسلح افواج نے خود کفالت کی سمت مسلسل پیش رفت کی ہے: وزیرِ اعظم
ہمارا مقصد بھارت کو دنیا کے صفِ اول کے دفاعی برآمد کنندان میں شامل کرنا ہے: وزیرِ اعظم
بھارتی بحریہ بحرِ ہند کی محافظ ہے: وزیرِ اعظم
ہماری سیکیورٹی فورسز کی بہادری اور عزم کی بدولت ملک نے ایک اہم سنگِ میل حاصل کیا ہے، ہم ماؤ نواز دہشت گردی کو ختم کر رہے ہیں: وزیرِ اعظم

وزیرِ اعظم نریندر مودی نے آج دیوالی کے موقع پر آئی این ایس وکرانت کے جہاز پر مسلح افواج کے جوانوں سے خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ آج کا دن، آج کا لمحہ اور آج کا منظر غیر معمولی ہے — ایک طرف وسیع سمندر ہے اور دوسری طرف بھارت ماں کے بہادر سپاہیوں کی بے پناہ طاقت۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ جہاں ایک جانب لامحدود افق اور بے انتہا آسمان پھیلا ہوا ہے، وہیں دوسری جانب آئی این ایس وکرانت اپنی شاندار قوت کے ساتھ لامحدود طاقت کی علامت بن کر کھڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سمندر پر سورج کی کرنوں کی چمک دیوالی کے اُن دیوں کی مانند ہے جو بہادر فوجی روشن کرتے ہیں، گویا روشنیوں کی ایک الہٰی مالا بن گئی ہو۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ بھارتی بحریہ کے دلیر جوانوں کے درمیان دیوالی منانا ان کے لیے اعزاز کی بات ہے۔

وزیرِ اعظم نے یاد کیا کہ جب انہوں نے ایک رات آئی این ایس وکرانت پر گزاری تھی تو وہ تجربہ الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سمندر کی گہری رات اور پھر طلوعِ آفتاب کا منظر اس دیوالی کو کئی لحاظ سے ناقابلِ فراموش بنا دیتا ہے۔ آئی این ایس وکرانت سے وزیرِ اعظم نے ملک کے 140 کروڑ شہریوں کو دیوالی کی دلی مبارکباد پیش کی۔

 

وزیرِ اعظم نے یاد دلایا کہ جب آئی این ایس وکرانت قوم کے حوالے کیا گیا تھا، تو انہوں نے کہا تھا کہ "وکرانت عظیم، وسیع، دلکش، منفرد اور بے مثال ہے۔" وزیرِ اعظم نے زور دے کر کہا کہ "وکرانت صرف ایک جنگی جہاز نہیں بلکہ اکیسویں صدی کے بھارت کی محنت، ہنر، اثر اور عزم کا ثبوت ہے۔" انہوں نے یاد دلایا کہ جس دن ملک کو مقامی طور پر تیار کردہ آئی این ایس وکرانت ملا، اُسی دن بھارتی بحریہ نے نوآبادیاتی دور کی ایک بڑی علامت کو ترک کیا اور چھترپتی شیواجی مہاراج سے متاثر ہو کر نیا پرچم اپنایا۔

وزیرِ اعظم نے کہا کہ "آئی این ایس وکرانت آج خود انحصار بھارت (آتم نربھر بھارت) اور ’میک اِن انڈیا‘ کی ایک طاقتور علامت کے طور پر کھڑا ہے۔" انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ سمندر کی لہروں کو چیرتا ہوا یہ مقامی طور پر تیار کردہ بحری جہاز بھارت کی جنگی صلاحیت کا مظہر ہے۔ انہوں نے یاد کیا کہ چند ماہ قبل "وکرانت" کا نام ہی پاکستان کی نیندیں حرام کر چکا تھا۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ آئی این ایس وکرانت ایک ایسا جنگی جہاز ہے جس کا نام ہی دشمن کے حوصلے پست کرنے کے لیے کافی ہے۔

وزیرِ اعظم نے اس موقع پر بھارتی مسلح افواج کو خصوصی سلام پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی بحریہ کے پیدا کردہ خوف، بھارتی فضائیہ کی غیر معمولی مہارت، اور بھارتی فوج کی بہادری نے، تینوں افواج کی شاندار ہم آہنگی سے، "آپریشن سندور" کے دوران پاکستان کو تیزی سے ہتھیار ڈالنے پر مجبور کر دیا تھا۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ اس آپریشن میں شامل تمام جوان واقعی مبارکباد کے مستحق ہیں۔

 

وزیرِ اعظم نریندر مودی نے کہا کہ جب دشمن سامنے ہو اور جنگ کے آثار نمایاں ہوں تو وہ فریق ہمیشہ برتری حاصل کرتا ہے جس کے پاس خود سے لڑنے کی طاقت ہو۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مسلح افواج کو مضبوط بنانے کے لیے خود انحصاری ناگزیر ہے۔ وزیرِ اعظم نے فخر کے ساتھ کہا کہ گزشتہ دہائی میں بھارت کی افواج نے خود کفالت کی سمت مسلسل پیش رفت کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ افواج نے ہزاروں ایسی اشیا کی نشاندہی کی ہے جو اب درآمد نہیں کی جائیں گی، اور اس کے نتیجے میں زیادہ تر ضروری دفاعی ساز و سامان اب ملک کے اندر تیار ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 11 برسوں میں بھارت کی دفاعی پیداوار تین گنا سے زیادہ بڑھ چکی ہے اور پچھلے سال 1.5 لاکھ کروڑ روپے کی حد پار کر گئی۔ ایک اور مثال دیتے ہوئے وزیرِ اعظم نے بتایا کہ 2014 سے اب تک بھارتی شپ یارڈز نے بحریہ کو 40 سے زائد مقامی طور پر تیار کردہ جنگی جہاز اور آبدوزیں فراہم کی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت اوسطاً ہر 40 دن میں ایک نیا دیسی جنگی جہاز یا آبدوز بحریہ میں شامل ہو رہی ہے۔

وزیرِ اعظم نے کہا، "براہموس اور آکاش جیسے میزائلوں نے ’آپریشن سندور‘ کے دوران اپنی صلاحیت ثابت کی ہے۔ دنیا کے کئی ممالک اب ان میزائلوں کو خریدنے میں دلچسپی ظاہر کر رہے ہیں۔" انہوں نے زور دے کر کہا کہ بھارت تینوں افواج کے لیے ہتھیار اور آلات تیار کرنے اور برآمد کرنے کی صلاحیت پیدا کر رہا ہے۔ "بھارت کا ہدف دنیا کے صفِ اول کے دفاعی برآمد کنندگان میں شامل ہونا ہے،" وزیرِ اعظم نے کہا اور بتایا کہ گزشتہ دہائی میں بھارت کی دفاعی برآمدات 30 گنا سے زیادہ بڑھ چکی ہیں۔ انہوں نے اس کامیابی کا سہرا دفاعی اسٹارٹ اَپس اور مقامی دفاعی صنعتوں کے سر باندھا۔

وزیرِ اعظم نے کہا کہ بھارت کی طاقت اور صلاحیت کی روایت ہمیشہ اس اصول پر مبنی رہی ہے — “گیانایا دانایا چ رَکشَنایا” — یعنی ہمارا علم، ہماری خوشحالی اور ہماری طاقت انسانیت کی خدمت اور حفاظت کے لیے وقف ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ آج کے جڑے ہوئے عالمی نظام میں، جہاں ممالک کی معیشتیں اور ترقی بحری راستوں پر منحصر ہیں، بھارتی بحریہ عالمی استحکام کو یقینی بنانے میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہے۔ وزیرِ اعظم نے بتایا کہ دنیا کی 66 فیصد تیل کی رسد اور 50 فیصد کنٹینر کے جہاز بحرِ ہند سے گزرتے ہیں، اور بھارتی بحریہ ان راستوں کے تحفظ کے لیے بحرِ ہند کی محافظ کے طور پر تعینات ہے۔ مزید یہ کہ مشن پر مبنی تعیناتیوں، انسدادِ قزاقی گشتوں اور انسانی ہمدردی پر مبنی کارروائیوں کے ذریعے بھارتی بحریہ پورے خطے میں عالمی سلامتی کی شراکت دار کے طور پر کام کر رہی ہے۔

 

وزیرِ اعظم نے زور دیا کہ "بھارتی بحریہ بھارت کے جزائر کی سلامتی اور یکجہتی کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔" انہوں نے یاد دلایا کہ کچھ عرصہ قبل یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ 26 جنوری کو ملک کے ہر جزیرے پر ترنگا لہرایا جائے۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ بحریہ نے اس قومی عزم کو پورا کیا، اور آج بھارت کے ہر جزیرے پر ترنگا فخر سے لہرایا جا رہا ہے۔

وزیرِ اعظم نے کہا کہ جیسے جیسے بھارت تیزی سے ترقی کر رہا ہے، کوشش کی جا رہی ہے کہ کرّہء جنوب کے تمام ممالک بھی ساتھ آگے بڑھیں۔ انہوں نے بتایا کہ بھارت "مہاساگر میری ٹائم وژن" پر کام کر رہا ہے اور کئی ممالک کے لیے ترقیاتی شراکت دار بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی ضرورت پیش آئے، بھارت دنیا کے کسی بھی حصے میں انسانی ہمدردی پر مبنی مدد فراہم کرنے کے لیے تیار رہتا ہے۔ افریقہ سے جنوب مشرقی ایشیا تک، آفات کے وقت دنیا بھارت کو ایک عالمی ساتھی کے طور پر دیکھتی ہے۔ وزیرِ اعظم نے یاد دلایا کہ 2014 میں جب پڑوسی ملک مالدیپ کو پانی کے بحران کا سامنا تھا تو بھارت نے "آپریشن نیر" شروع کیا اور بحریہ نے صاف پانی پہنچایا۔ 2017 میں جب سری لنکا تباہ کن سیلاب سے دوچار ہوا تو بھارت سب سے پہلے مدد کے لیے پہنچا۔ 2018 میں انڈونیشیا میں سونامی کی تباہی کے بعد بھارت نے وہاں کے عوام کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر راحت اور بچاؤ کارروائیاں کیں۔ اسی طرح 2019 میں میانماں میں زلزلے کی تباہی ہو یا 2020 میں موزمبیق اور مدغاسکر کے بحران — بھارت نے ہر جگہ خدمت کے جذبے کے ساتھ پہنچ کر مدد فراہم کی۔

 

وزیرِ اعظم نے کہا کہ بھارت کی مسلح افواج نے وقتاً فوقتاً بیرونِ ملک پھنسے ہوئے لوگوں کو بحفاظت واپس لانے کے لیے مختلف آپریشنز انجام دیے ہیں۔ یمن سے سوڈان تک، جہاں بھی ضرورت پیش آئی، بھارتی افواج کی بہادری اور جرات نے دنیا بھر میں مقیم بھارتیوں کے اعتماد کو مزید مضبوط کیا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ بھارت نے ان مشنز کے ذریعے ہزاروں غیر ملکی شہریوں کی زندگیاں بھی بچائی ہیں۔

وزیرِ اعظم نریندر مودی نے کہا کہ ’’بھارت کی مسلح افواج نے ہر میدان — زمین، سمندر اور فضا — میں اور ہر حالت میں قوم کی خدمت کی ہے۔‘‘ انہوں نے واضح کیا کہ بحریہ سمندروں میں تعینات ہے تاکہ بھارت کی سمندری سرحدوں اور تجارتی مفادات کی حفاظت کی جا سکے، جبکہ فضائیہ آسمانوں کی سلامتی کے لیے ہمہ وقت تیار ہے۔ زمین پر، جھلسا دینے والے صحراؤں سے لے کر برفیلے گلیشیئرز تک، فوج کے ساتھ بی ایس ایف اور آئی ٹی بی پی کے جوان چٹان کی طرح مضبوطی سے ڈٹے ہوئے ہیں۔ وزیرِ اعظم نے یہ بھی تسلیم کیا کہ ایس ایس بی، آسام رائفلز، سی آر پی ایف، سی آئی ایس ایف اور خفیہ ایجنسیوں کے اہلکار مختلف محاذوں پر ماں بھارت کی خدمت میں مصروف ہیں۔ انہوں نے بھارتی کوسٹ گارڈ کے کردار کی بھی بھرپور تعریف کی، جو دن رات بحریہ کے ساتھ رابطے میں رہ کر بھارت کے ساحلی علاقوں کے تحفظ کو یقینی بناتے ہیں۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ قومی سلامتی کے اس عظیم مشن میں ان کا کردار انتہائی اہم اور قابلِ فخر ہے۔

 

وزیرِ اعظم نے کہا کہ بھارت کی سیکیورٹی فورسز کی بہادری اور جرات کے باعث قوم نے ایک عظیم سنگِ میل عبور کیا ہے — ماؤ نواز دہشت گردی کا خاتمہ۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اب نکسل-ماؤ نواز انتہا پسندی سے مکمل آزادی کے قریب ہے۔ 2014 سے پہلے تقریباً 125 اضلاع ماؤ نواز تشدد سے متاثر تھے، لیکن آج یہ تعداد گھٹ کر صرف 11 رہ گئی ہے، جن میں سے محض 3 اضلاع نمایاں طور پر متاثر ہیں۔ وزیرِ اعظم نے بتایا کہ 100 سے زائد اضلاع اب ماؤ نواز دہشت گردی کے سائے سے نکل کر پہلی بار آزادی کی سانس لے رہے ہیں اور دیوالی کا جشن منا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نسلوں سے خوف میں جینے والے لاکھوں لوگ اب ترقی کے دھارے میں شامل ہو رہے ہیں۔ جہاں کبھی ماؤ نواز عناصر سڑکوں، اسکولوں، اسپتالوں اور موبائل ٹاورز کی تعمیر میں رکاوٹ بنتے تھے، آج وہاں شاہراہیں بن رہی ہیں اور نئی صنعتیں قائم ہو رہی ہیں۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ یہ کامیابی بھارت کی سیکیورٹی فورسز کی قربانی، لگن اور بہادری کی مرہونِ منت ہے۔ انہوں نے خوشی کا اظہار کیا کہ کئی ایسے اضلاع میں لوگ پہلی بار دیوالی منا رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جی ایس ٹی بچت اتسو کے دوران ان علاقوں میں ریکارڈ خرید و فروخت دیکھی جا رہی ہے۔ جہاں کبھی ماؤ نوازوں کی دہشت نے آئین کا نام لینے پر بھی پابندی لگا رکھی تھی، وہاں آج "سودیشی" کا منتر گونج رہا ہے۔

 

وزیرِ اعظم نے کہا کہ ’’بھارت تیزی سے ترقی کر رہا ہے اور 140 کروڑ شہریوں کے خوابوں کو حقیقت میں بدل رہا ہے۔ زمین سے لے کر خلا تک، وہ کامیابیاں جو کبھی ناقابلِ تصور سمجھی جاتی تھیں، آج حقیقت بن رہی ہیں۔‘‘ انہوں نے قوم کی رفتار، ترقی، تبدیلی، بڑھتے ہوئے اعتماد اور ترقیاتی عزم کو اجاگر کیا اور کہا کہ اس عظیم قومی تعمیر کے مشن میں مسلح افواج کا کردار نہایت اہم ہے۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ ہماری افواج صرف زمانے کے دھارے کے پیچھے نہیں چلتی بلکہ اسے موڑنے کی صلاحیت رکھتی ہیں، وقت کی رہنمائی کا حوصلہ رکھتی ہیں، لامحدود کو عبور کرنے کی جرات اور ناممکن کو ممکن بنانے کا جذبہ رکھتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ’’وہ پہاڑی چوٹیاں جہاں ہمارے سپاہی ڈٹے ہوئے ہیں، بھارت کی فتح کے ستون بنی رہیں گی، اور ان کے نیچے سمندر کی گرجتی لہریں بھارت کی کامیابی کی گونج بنیں گی۔‘‘ اس ولولے اور یقین کے ساتھ، وزیرِ اعظم نے اپنی تقریر کا اختتام کرتے ہوئے ایک بار پھر تمام شہریوں کو دیوالی کی دلی مبارکباد پیش کی اور کہا۔ ’’بھارت ماتا کی جے!‘‘

 

تقریر کا مکمل متن پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
India's electronics exports cross $47 billion in 2025 on iPhone push

Media Coverage

India's electronics exports cross $47 billion in 2025 on iPhone push
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
List of Outcomes: Visit of His Highness Sheikh Mohamed bin Zayed Al Nahyan, President of UAE to India
January 19, 2026
S.NoAgreements / MoUs / LoIsObjectives

1

Letter of Intent on Investment Cooperation between the Government of Gujarat, Republic of India and the Ministry of Investment of the United Arab Emirates for Development of Dholera Special Investment region

To pursue investment cooperation for UAE partnership in development of the Special Investment Region in Dholera, Gujarat. The envisioned partnership would include the development of key strategic infrastructure, including an international airport, a pilot training school, a maintenance, repair and overhaul (MRO) facility, a greenfield port, a smart urban township, railway connectivity, and energy infrastructure.

2

Letter of Intent between the Indian National Space Promotion and Authorisation Centre (IN-SPACe) of India and the Space Agency of the United Arab Emirates for a Joint Initiative to Enable Space Industry Development and Commercial Collaboration

To pursue India-UAE partnership in developing joint infrastructure for space and commercialization, including launch complexes, manufacturing and technology zones, incubation centre and accelerator for space start-ups, training institute and exchange programmes.

3

Letter of Intent between the Republic of India and the United Arab Emirates on the Strategic Defence Partnership

Work together to establish Strategic Defence Partnership Framework Agreement and expand defence cooperation across a number of areas, including defence industrial collaboration, defence innovation and advanced technology, training, education and doctrine, special operations and interoperability, cyber space, counter terrorism.

4

Sales & Purchase Agreement (SPA) between Hindustan Petroleum Corporation Limited, (HPCL) and the Abu Dhabi National Oil Company Gas (ADNOC Gas)

The long-term Agreement provides for purchase of 0.5 MMPTA LNG by HPCL from ADNOC Gas over a period of 10 years starting from 2028.

5

MoU on Food Safety and Technical requirements between Agricultural and Processed Food Products Export Development Authority (APEDA), Ministry of Commerce and Industry of India, and the Ministry of Climate Change and Environment of the United Arab Emirates.

The MoU provides for sanitary and quality parameters to facilitate the trade, exchange, promotion of cooperation in the food sector, and to encourage rice, food products and other agricultural products exports from India to UAE. It will benefit the farmers from India and contribute to food security of the UAE.

S.NoAnnouncementsObjective

6

Establishment of a supercomputing cluster in India.

It has been agreed in principle that C-DAC India and G-42 company of the UAE will collaborate to set up a supercomputing cluster in India. The initiative will be part of the AI India Mission and once established the facility be available to private and public sector for research, application development and commercial use.

7

Double bilateral Trade to US$ 200 billion by 2032

The two sides agreed to double bilateral trade to over US$ 200 billion by 2032. The focus will also be on linking MSME industries on both sides and promote new markets through initiatives like Bharat Mart, Virtual Trade Corridor and Bharat-Africa Setu.

8

Promote bilateral Civil Nuclear Cooperation

To capitalise on the new opportunities created by the Sustainable Harnessing and Advancement of Nuclear Energy for Transforming India (SHANTI) Act 2025, it was agreed to develop a partnership in advance nuclear technologies, including development and deployment of large nuclear reactors and Small Modular Reactors (SMRs) and cooperation in advance reactor systems, nuclear power plant operations and maintenance, and Nuclear Safety.

9

Setting up of offices and operations of UAE companies –First Abu Dhabi Bank (FAB) and DP World in the GIFT City in Gujarat

The First Abu Dhabi Bank will have a branch in GIFT that will promote trade and investment ties. DP World will have operations from the GIFT City, including for leasing of ships for its global operations.

10

Explore Establishment of ‘Digital/ Data Embassies’

It has been agreed that both sides would explore the possibility of setting up Digital Embassies under mutually recognised sovereignty arrangements.

11

Establishment of a ‘House of India’ in Abu Dhabi

It has been agreed in Principle that India and UAE will cooperate on a flagship project to establish a cultural space consisting of, among others, a museum of Indian art, heritage and archaeology in Abu Dhabi.

12

Promotion of Youth Exchanges

It has been agreed in principle to work towards arranging visits of a group of youth delegates from either country to foster deeper understanding, academic and research collaboration, and cultural bonds between the future generations.