یہ پروگرام سرمایہ کاری اور کاروباری مواقع کے وسعت پذیر مرکز کے طور پر ریاست کی بے پناہ صلاحیت کو اجاگر کرتا ہے: وزیر اعظم
مشرقی ہندوستان ملک کی ترقی میں ترقیاتی انجن کی حیثیت رکھا ہے، اس میں اڈیشہ کا کلیدی کردار ہے: وزیر اعظم
آج ہندوستان اپنے کروڑوں لوگوں کی امنگوں سے ترقی کی راہ پر رواں دواں ہے: وزیر اعظم
اڈیشہ واقعی شاندار ہے، اڈیشہ نئے ہندوستان کی امید اورعروج کی علامت ہے، اڈیشہ مواقع کی سرزمین ہے، اور یہاں کے لوگوں نے ہمیشہ بہتر کارکردگی کا جذبہ پیش کیا ہے: وزیر اعظم
ہندوستان سبز مستقبل اور سبز تکنیک پر توجہ دے رہا ہے: وزیر اعظم
21ویں صدی کے ہندوستان کے لیے، یہ دور مربوط انفراسٹرکچر اور ملٹی ماڈل کنیکٹیویٹی کا دور ہے: وزیر اعظم
اڈیشہ میں سیاحت کے بے پناہ امکانات ہیں : وزیر اعظم
نوجوان ہنر اور کنسرٹس کے بڑے گروہ کے ساتھ ، ہندوستان کے پاس ترقی پذیر کنسرٹ معیشت کے بہت زیادہ امکانات ہیں: وزیر اعظم

وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج بھونیشور، اڈیشہ میں اتکرش اڈیشہ – میک ان اڈیشہ کانکلیو 2025 اور میک ان اڈیشہ نمائش کا افتتاح کیا۔ وزیر اعظم نے مجمع  عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جنوری 2025 کے مہینے میں اڈیشہ کا ان  کا  یہ دوسرا دورہ ہے ، ان کا پہلا دورہ پرواسی بھارتیہ دیوس 2025 تقریب کے افتتاح کے لیے تھا ۔ ذکر کرتے ہوئے کہ اڈیشہ میں یہ اب تک کا سب سے بڑا کاروباری اجلاس  تھا، جناب نریندرمودی نے کہا کہ میک ان اڈیشہ کانکلیو 2025 میں تقریباً 5-6 گنا زیادہ سرمایہ کاروں نے حصہ لیا ہے۔ انہوں نے اس عظیم الشان تقریب کے انعقاد کے لیے ریاست کے عوام اور حکومت اڈیشہ کو بھی مبارکباد دی۔

وزیر اعظم نے کہا کہ "مشرقی ہندوستان ملک کی ترقی میں ترقیاتی  انجن  کی حیثیت رکھتا ہے اور اڈیشہ اس میں کلیدی کردار ادا کررہاہے"۔ انہوں نے مزید کہا کہ تاریخی اعداد و شمار سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ جب ہندوستان نے عالمی ترقی میں اہم کردار ادا کیا تو اس میں مشرقی ہندوستان کی شراکتیں قابل ذکر رہی ہیں ۔ جناب  نریندر مودی نے کہا  کہ مشرقی ہندوستان میں بہت سارے بڑے صنعتی مراکز، بندرگاہیں، تجارتی مراکز موجود ہیں اور ان  میں اڈیشہ کی شرکت قابل ذکر ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ "اڈیشہ جنوب مشرقی ایشیائی تجارت کا اہم مرکز ہوا کرتا تھا اور یہاں کی بندرگاہیں ہندوستان کے گیٹ وے  شمار ہوتی ہیں " ۔ انہوں نے مزید کہا کہ بالی یاترا آج بھی اڈیشہ میں منائی جاتی ہے۔ انڈونیشیا کے صدر جمہوریہ کے حالیہ دورہ  ہند  کا تذکرہ کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ انڈونیشیائی صدر کے الفاظ یہ تھےکہ شاید ان کے ڈی این اے میں اڈیشہ کے آثار ہیں ۔

 

وزیر اعظم نے کہا  کہ اڈیشہ اس وراثت کا جشن مناتا ہے جو اسے جنوب مشرقی ایشیا سے جوڑتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اڈیشہ نے اب 21ویں صدی میں شاندار وراثت کے احیا ئے نو  کے لیے کام کرنا شروع کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سنگاپور کے صدر نے حال ہی میں اڈیشہ کا دورہ کیا تھا اور سنگاپور اڈیشہ کے ساتھ اپنے تعلقات کے حوالے سے بہت پرعزم تھا۔ انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ آسیان  کے رکن ممالک نے بھی اڈیشہ کے ساتھ تجارت اور روایتی تعلقات کو مضبوط بنانے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ اس خطے میں آزادی کے بعد کی مدت میں پہلے سے کہیں زیادہ مواقع کھل رہے ہیں۔ انہوں نے تقریب میں موجود تمام سرمایہ کاروں سے یہ کہتے ہوئے اپیل کی کہ اڈیشہ کی ترقی کے سفر میں سرمایہ کاری کرنے کا یہ صحیح وقت ہے اور یقین دلایا کہ ان کی سرمایہ کاری  سے کامیابی کی نئی بلندیاں طے ہوں گی ۔

جناب نریندر مودی نے کہا کہ "ہندوستان اپنے کروڑوں لوگوں کی امنگوں سے ترقی کی راہ پر رواں دواں ہے"۔انہوں نے  اس بات پر زور دیا کہ اے آئی کا مطلب مصنوعی ذہانت اور ہندوستان کی توقعات دونوں ہے، جو کہ ملک کی طاقت ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب لوگوں کی ضروریات پوری ہوں تو ان کی خواہشات بڑھتی ہیں، اور گزشتہ دہائی میں کروڑوں شہریوں کو بااختیار بنایا گیا ہے، جس سے ملک کو فائدہ پہنچا ہے۔ وزیر اعظم نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ اڈیشہ اس  توقع کی نمائندگی کرتا ہے۔ انہوں نے اڈیشہ کو شاندار قرار دیا جو کہ نئے ہندوستان کی امید پسندی اور عروج کی علامت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اڈیشہ کے پاس بے شمار مواقع موجود ہیں، اور اس کے لوگوں نے ہمیشہ بہتر کارکردگی کا جذبہ دکھایا ہے۔ گجرات میں اڈیشہ کے لوگوں کی مہارت، محنت اور ایمانداری کا مشاہدہ کرنے کے اپنے ذاتی تجربے کا اشتراک کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے یہ یقین ظاہر کیا کہ اڈیشہ میں ابھرنے والے نئے مواقع کے ساتھ، ریاست جلد ہی ترقی کی بے مثال بلندیوں تک پہنچے گی۔ انہوں نے اڈیشہ کی ترقی کو تیز کرنے  میں وزیر اعلیٰ  جناب موہن چرن مانجھی اور ان کی ٹیم کی کوششوں کی ستائش کی۔ وزیر اعظم نے کہا کہ اڈیشہ مختلف صنعتوں کے لیے ہندوستان کی سرکردہ ریاستوں میں سے ایک بن رہا ہے، جن میں فوڈ پروسیسنگ، پیٹرو کیمیکل، بندرگاہ کے ذریعہ ترقی، ماہی گیری، آئی ٹی، ایجو- ٹیک، ٹیکسٹائل، سیاحت، کان کنی، اور سبز توانائی کی صنعتیں شامل  ہیں ۔

 

 

اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ ہندوستان تیزی سے دنیا کی تیسری سب سے بڑی معیشت بننے کی راہ پر گامزن ہے، وزیر اعظم نے کہا کہ پانچ کھرب ڈالر کی معیشت کا سنگ میل زیادہ دور نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ دہائی کے دوران مینوفیکچرنگ کے شعبے میں ہندوستان کی طاقت بھی عیاں ہوئی ہے۔ وزیر اعظم نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ ہندوستان کی معیشت کی توسیع کا دارومدار دو بڑے ستونوں پر ہے: اختراعی سروس سیکٹر اور معیاری مصنوعات۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ملک کی تیز رفتار ترقی صرف خام مال کی برآمدات  پر منحصرنہیں ہوسکتی ہے ، اس لیے پورے ماحولیاتی نظام کو نئے ویژن کے ساتھ تبدیل کیا جا رہا ہے۔ وزیر اعظم نے اس بات کا ذکر کیا کہ ہندوستان معدنیات کو نکالنے اور مصنوعات کی تیاری اور ان کی قیمت میں اضافے کے لیے بیرون ملک بھیجنے کے رجحان کو تبدیل کر رہا ہے، تاکہ  ان مصنوعات کو ہندوستان میں واپس لاکر فروخت نہ کیا جائے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسی طرح  دیگر ممالک میں پروسیسنگ کے لیے سمندری خوراک برآمد کرنے کے  رجحان کو بھی تبدیل کیا جا رہا ہے۔ جناب نریندر مودی نے کہا کہ حکومت اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کام کر رہی ہے کہ اڈیشہ میں وسائل سے متعلقہ صنعتیں ریاست کے اندر قائم ہوں۔ انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ اتکرش اڈیشہ کانکلیو 2025 اس ویژن کو پورا کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔

یہ بتاتے ہوئے کہ دنیا پائیدار طرز زندگی پر توجہ مرکوز کر رہی ہے اور سبز مستقبل کی طرف بڑھ رہی ہے، جناب نریندر مودی نے کہا کہ سبز ملازمتوں کے امکانات میں بھی نمایاں  اضافہ ہو رہا ہے ۔ انہوں نے وقت کے تقاضوں اور ضروریات سے ہم آہنگ ہونے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ ہندوستان سبز ٹیکنالوجی اور سبز مستقبل   بشمول شمسی، ہوا، ہائیڈرو اور گرین ہائیڈروجن پر توجہ مرکوز کر رہا ہے، جس سے  ترقی یافتہ ہندوستان کی توانائی کے تحفظ کو تقویت ملے گی۔ وزیر اعظم نے ذکر کیا کہ اڈیشہ میں اس ضمن میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے اور انہں نےکہا کہ ملک میں قومی سطح کے گرین ہائیڈروجن اور سولر پاور مشن شروع کیے گئے ہیں۔ جناب نریندر مودی نے کہا کہ اڈیشہ میں قابل تجدید توانائی کی صنعتوں کو فروغ دینے کے لیے بڑے منصوبہ جاتی فیصلے کیے جا رہے ہیں، اور ہائیڈروجن توانائی کی پیداوار کے لیے متعدد اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

 

وزیر اعظم نے کہا کہ سبز توانائی کے ساتھ ساتھ، اڈیشہ میں پیٹرو اور پیٹرو کیمیکل سیکٹر کو وسعت دینے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ پارا دیپ اور گوپال پور میں خصوصی صنعتی پارکس اور سرمایہ کاری کے علاقے تیار کیے جا رہے ہیں، جن  سےاس  شعبے میں سرمایہ کاری کے نمایاں امکانات کی نشاندہی ہوتی ہے ۔ جناب نریندر مودی نے اڈیشہ حکومت کو ریاست کے مختلف خطوں کی صلاحیت کو دیکھتے ہوئے تیز ی سے فیصلے کرنے اور  نیا ماحولیاتی نظام تیار کرنے پر مبارکباد دی۔

جناب نریندرمودی نے کہا ‘‘21ویں صدی ہندوستان کے لیے مربوط بنیادی ڈھانچے اور ملٹی ماڈل کنیکٹیویٹی کا دور ہے’’۔اور انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ جس پیمانے اور رفتار سے ہندوستان میں خصوصی بنیادی ڈھانچہ تیار کیا جا رہا ہے اس سے ملک سرمایہ کاری کابہترین مرکز بن رہا ہے۔ انہوں نے کہا  کہ مال برداری کے لیے وقف راہداری  کے ذریعے مشرقی اور مغربی ساحلی خطوں کو جوڑ ا جارہا ہے ، جس سے پہلے خشکی سے  گھرے ہوئے علاقوں کے لیے سمندر تک تیز رفتار رسائی فراہم ہوتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ملک بھر میں پلگ اینڈ پلے کی سہولیات والے درجنوں صنعتی شہر تعمیر کیے جا رہے ہیں۔ جناب نریندر مودی نے اس بات پر زور دیا کہ اڈیشہ میں بھی اسی طرح کے مواقع کو بڑھایا جا رہا ہے اور ریاست میں ریلوے اور ہائی وے کے نیٹ ورکس سے متعلق ہزاروں کروڑ روپے کے منصوبے چل رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اڈیشہ میں صنعتوں کے لیے رسد کے اخراجات میں کمی کے واسطے ، حکومت بندرگاہوں کو صنعتی کلسٹروں سے جوڑ رہی ہے ۔انہں نے اس بات کا ذکر کیا کہ موجودہ بندرگاہوں کی توسیع اور نئی بندرگاہوں کی تعمیر دونوں  کے لیے کام ہو رہے ہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ اڈیشہ بلیو اکانومی کے لحاظ سے ملک کی سرفہرست ریاستوں میں سے ایک بننے کے لیے تیار ہے۔

تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا میں عالمی سپلائی چین کے چیلنجوں کو تسلیم کرنے کے لیے ہر ایک سے اپیل کرتے ہوئے وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان منتشر  اور درآمدات  پر مبنی سپلائی چین پر منحصر نہیں رہ سکتاہے ۔ اس کے بجائے، عالمی اتار چڑھاو کے اثرات کو کم کرنے کے لیے ہندوستان کے اندر مضبوط سپلائی اور ویلیو چین کی تعمیر ہونی چاہیے۔ انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ یہ ذمہ داری حکومت اور صنعت دونوں پر عائد ہوتی ہے۔ جناب نریندر مودی نے ترقی کے واسطے تحقیق اور اختراع کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے صنعتوں سے ایم ایس ایم ای اور اسٹارٹ اپس کی حمایت کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ملک میں سرگرم تحقیقی ماحولیاتی نظام تشکیل دے رہی ہے، جس میں خصوصی فنڈ اور انٹرن شپ اور مہارت کی ترقی کے لیے پیکج کا بندوبست ہو ۔ انہوں نے اس بات کے لیے صنعتوں کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ حکومت کے ساتھ فعال طور پر مشغول ہوں اور تال میل کریں ۔ اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ مضبوط تحقیقی ماحولیاتی نظام اور ہنر مند نوجوان افرادی قوت سے صنعت کو براہ راست فائدہ پہنچے گا، جناب نریندر مودی نے صنعت کے شراکت داروں اور اڈیشہ حکومت پر زور دیا کہ وہ نوجوانوں کے لیے نئے مواقع فراہم کرنے کے واسطے ، اڈیشہ کی امنگوں کے مطابق جدید ماحولیاتی نظام کی تعمیر کے لیے ساتھ مل کر کام کریں۔ انہوں نے کہا کہ اس سے اڈیشہ کے اندر روزگار کے مزید مواقع پیدا ہوں گے ، جس سے ریاست کی خوشحالی، طاقت اور ترقی ہوگی۔

 

وزیر اعظم نے  کہا کہ دنیا بھر کے لوگ ہندوستان کے بارے میں سمجھنے اور جاننے کے لیے بے تاب ہیں۔ انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ اڈیشہ  اپنے ہزاروں سال قدیم وراثت اور تاریخ کی بدولت ہندوستان کو سمجھنے کا بہترین منزل ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ریاست ایک مقام پر مذہبی عقیدت ، روحانیت، جنگلات، پہاڑوں اور سمندر کا ایک منفرد امتزاج پیش کرتی ہے۔ جناب نریندر مودی نے اڈیشہ کو ترقی اور وراثت کا نمونہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اڈیشہ میں جی -20 کی ثقافتی تقریبات کا انعقاد کیا گیا اور کونارک سوریہ مندر کے پہیے کو مرکزی تقریب کا حصہ بنایا گیا۔ انہوں نے اڈیشہ میں سیاحتی امکانات کو دریافت کرنے کی ضرورت پر زور دیا، جہاں 500 کلومیٹر ساحلی پٹی، 33 فیصد سے زیادہ جنگلات، اور ماحولیاتی سیاحت اور ایڈونچر ٹورازم کے لامتناہی امکانات موجودہیں ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ہندوستان نے "ویڈ ان انڈیا " اور "ہیل ان انڈیا " پر توجہ مرکوز  کی ہے اور اڈیشہ کی قدرتی خوبصورتی اور ماحول ان اقدامات کے لیے بہت معاون ثابت ہوئے ۔

اس بات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہ ہندوستان میں کانفرنس ٹورازم کی  خاطر خواہ صلاحیت موجود ہے، وزیر اعظم نے کہا کہ دہلی  کے بھارت منڈپم اور یاشو بھومی جیسے مقامات اس شعبے کے لیے بڑے مراکز بن رہے ہیں۔ انہوں نے کنسرٹ معیشت کے ابھرتے ہوئے شعبے کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ  ہندوستان، موسیقی، رقص، اور قصہ گوئی کی اپنی  بھرپور وراثت اور کنسرٹ  میں جانے والوں  کے بڑے گروہ  کے ساتھ، کنسرٹ معیشت کے لیے بے پناہ امکانات رکھتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ دہائی کے دوران لائیو ایونٹس کا رجحان اور طلب میں اضافہ ہوا ہے۔ ممبئی اور احمد آباد میں حالیہ کولڈ پلے کنسرٹس کو ہندوستان میں لائیو کنسرٹس کی صلاحیت کے ثبوت کے طور پر بتاتے ہوئے، جناب نریندر مودی نے اس بات پر زور دیا کہ بڑے عالمی فنکار ہندوستان کی طرف راغب ہوئے ہیں ، اور کنسرٹ معیشت  سے سیاحت کو فروغ ملتی ہے اور بے شمار ملازمتیں پیدا ہوتی ہیں ۔ انہوں نے ریاستوں اور نجی شعبے پر زور دیا کہ وہ کنسرٹ معیشت کے لیے ضروری بنیادی ڈھانچے اور مہارتوں پر توجہ دیں۔ اس میں ایونٹ مینجمنٹ، آرٹسٹ گرومنگ، سکیورٹی، اور دیگر انتظامات شامل ہیں، جہاں نئے مواقع ابھر رہے ہیں۔

جناب نریندر مودی نے کہا  کہ اگلے مہینے، ہندوستان پہلی بار عالمی آڈیو ویژول اینڈ انٹرٹینمنٹ سمٹ(ڈبلیو اے وی ای ایس ) کی میزبانی کرے گا۔ انہوں نے اس بات   پر روشنی ڈالی کہ یہ اہم تقریب ہندوستان کی اختراعی طاقت کو دنیا کے سامنے ظاہر کرے گی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس طرح کی وقوعات سے آمدنی  ہوتی ہے اور تاثرات طے ہوتے ہیں، جس سے معیشت کی ترقی میں مدد ملتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اڈیشہ میں اس طرح کے پروگراموں کی میزبانی کی بے پناہ صلاحیت موجود ہے ۔

 

وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ "اڈیشہ ترقی یافتہ ہندوستان کی تعمیر میں اہم کردار ادا کررہا ہے" ۔ انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ اڈیشہ کے لوگوں نے خوشحال ریاست کی تعمیر کا عزم کیا ہے، اور مرکزی حکومت اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کر رہی ہے۔ انہوں نے اڈیشہ کے لیے اپنی محبت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ وزیر اعظم کی حیثیت سے تقریباً 30 بار ریاست کا دورہ کر چکے ہیں اور اس کے بیشتر اضلاع میں جا چکے ہیں۔ انہوں نے اڈیشہ کی صلاحیت اور اس کے لوگوں پر اپنے اعتماد کا اعادہ کیا ۔ اپنے خطاب کو ختم کرتے ہوئے ، وزیر اعظم نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ تمام شراکت داروں کی طرف سے کی جانے والی سرمایہ کاری اپنے کاروبار اور اڈیشہ کی ترقی کو نئی بلندیوں تک لے جائے گی۔ انہوں نے اس میں شامل ہر فرد کے تئیں نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

اس موقع پر دیگر معززین کے علاوہ اڈیشہ کے گورنر ڈاکٹر ہری بابو کمبھمپتی، اڈیشہ کے وزیر اعلیٰ جناب موہن چرن مانجھی، مرکزی وزراء جناب   دھرمیندر پردھان، جناب اشونی ویشنو اس تقریب میں موجود تھے۔

پس منظر

اتکرش اڈیشہ – میک ان اڈیشہ کانکلیو 2025 اہم گلوبل انوسٹمنٹ سمٹ ہے، جس کی میزبانی حکومت اڈیشہ کر رہی ہے، جس کا مقصد ریاست کو پورب ادے ویژن کا اینکر  بننے کے  ساتھ ساتھ ہندوستان میں سرمایہ کاری کی سرکردہ منزل اور صنعتی مرکز بنانا ہے۔

وزیر اعظم نے میک ان اڈیشہ نمائش کا بھی افتتاح کیا جس سے متحرک صنعتی ماحولیاتی نظام کی ترقی میں ریاست کی  حصولیابیاں اجاگر ہوتی ہیں ۔ دو روزہ کانکلیو28 سے 29 جنوری تک منعقد ہوگی۔ یہ صنعت کے لیڈروں ، سرمایہ کاروں، اور پالیسی سازوں کے لیے پلیٹ فارم کے طور پر کام کرے گا اور اس میں ان مواقع پر تبادلہ خیال کیا جائے گا جو اڈیشہ کو سرمایہ کاری کی ترجیحی منزل کے طور پر پیش کرتے ہوں ۔ اس کانکلیو  میں سی ای اوز اور صنعتوں کے لیڈروں کی گول میز کانفرنس ، سیکٹرل سیشن، بی 2 بی  ملاقاتیں ، اور پالیسی مباحثوں کی میزبانی  ہوگی ، جس سے دنیا بھر کے سرمایہ کاروں کے ساتھ ہدف بند  مشغولیت کو یقینی بنایا جائے گا۔

 

تقریر کا مکمل متن پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

 

 

 

 

 

 

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
Pharma exports rose 2% to over $31 billion in FY26 despite sharp decline in March

Media Coverage

Pharma exports rose 2% to over $31 billion in FY26 despite sharp decline in March
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
India-ROK Comprehensive Framework for Partnership in Shipbuilding, Shipping and Maritime Logistics
April 20, 2026
Shared Vision for Operation of Yard Asssisted Growth with Efficiency and Scale (VOYAGES)

During the meeting between Prime Minister H.E. Shri Narendra Modi of India and H.E. Mr. Lee Jae Myung of the Republic of Korea (ROK) on the occasion of the latter’s state visit to India on 20 April 2026, the two sides had productive and in-depth exchange of views on mutually beneficial cooperation between their government agencies and private entities for partnership in shipbuilding, shipping and maritime logistics.

India and the ROK are both nations with rich maritime traditions and share extensive common interests and complementary strengths in the domain of maritime industries. With India’s rapid economic growth and internationalization of its economy, the maritime sector is extremely critical to India’s security and prosperity.

Both sides agreed that India’s maritime ambitions under Maritime Amrit Kaal 2047 Vision have created considerable opportunities for long-term collaboration with the ROK, a friendly nation with leading shipbuilding and maritime capabilities. Cooperation in shipbuilding, port development and maritime logistics could channelize the India-ROK Special Strategic Partnership towards practical benefits and economic value for both nations, while forging deeper understanding and partnership among their peoples.

The Indian side briefed the ROK side about opportunities to set up large-scale greenfield shipbuilding clusters in the country and the incentives available under the Government of India’s Shipbuilding Development Scheme as well as incentives provided by relevant state governments and Indian financial Institutions for the same. The Indian side invited leading shipbuilders from the ROK as technical and strategic anchors for these clusters through active involvement in design, production engineering, advanced manufacturing, quality and safety frameworks and operation. The ROK side expressed expectation for the advancement of cooperation based on the participation of the business sector.

To this end, both sides took positive note of the collaborations between Korean Industries and India, such as the conclusion of a non-binding MOU among the Korean shipbuilder HD Korea Shipbuilding & Offshore Engineering Co., Ltd. (HD KSOE), the identified cluster developer and facilitator, and the capital provider Maritime Development Fund (MDF) for joint development, financing, implementation, operation of a large greenfield shipyard in southern India. They hoped for early implementation of the project.

India has announced the 400+ vessels acquisition plan by the public agencies in India alone for the foreseeable future with a total value of Rs. 2.2 lakh crore (~USD 25 bn) during the India Maritime Week 2025. Taking note of the Government of India’s production-based financial support to local manufacturing, the two sides supported the cooperation of relevant industries from India and the ROK to establish an effective cooperation mechanism to channel this demand into bilateral partnerships, enhancing sustainable and resilient shipbuilding industry.

In recognition of the financial assistance provided by the Government of India for shipyards undertaking brownfield capacity expansion, the two sides supported the collaboration between Indian and the ROK businesses to upgrade existing Indian shipyards, including on a Block Fabrication Facility being built in southern India to support a new dry dock to construct large and specialized vessels.

The two sides believe that the policy and fiscal support from the Government of India for Indian shipbuilding would generate additional demand for components used in shipbuilding and ancillary industries, providing specialized Korean shipbuilding component manufacturers an attractive market to expand their business through local production. To this end, they welcomed the opening of a branch of the Korea Marine Equipment Association (KOMEA) in Mumbai and the interest of Korea Marine Equipment Research Institute (KOMERI) for related cooperation. They also agreed to enhance cooperation among relevant institutions and enterprises of both countries to support the growth of Indian shipbuilding ecosystem.

The two sides agreed to cooperate on skill training in the shipbuilding sector in India through a project to be implemented by Korea International Cooperation Agency (KOICA) in partnership with the Ministry of Ports, Shipping and Waterways (MoPSW) of India. They noted that this project will contribute to capacity building needed for India’s shipbuilding goals through development cooperation and public-private partnership between the two countries.

Indian side also encouragedKorean shipowners to use India’s GIFT IFSCA and E-Samudra to flag vessels in India, in order to benefit from relaxed ownership structures and available financial incentives.

It was noted that India’s rapidly growing seafarer pool (around 320,000 + with a strong growth in women seafarers) allows Korean ship-owners to recruit manpower to support Korean-flag operations.

The two sides welcomed the signing of an MOU between MoPSW of India and the Ministry of Oceans and Fisheries in the ROK for cooperation for port development, which entails collaboration in infrastructure development, knowledge sharing, etc. This opens opportunities for Korean port developers and terminal operators to participate in India’s strong PPP mechanization pipeline amounting to an estimated USD 13.3 billion in the next 5 years, including the 23 million TEU Vadhvan container port (Maharashtra), 150 MTPA multipurpose terminal in Bahuda (Odisha), 135 MTPA modern terminal of Deendayal Port (Gujarat), among others.

The two sides welcomed an MOU signed between Bharat Earth Movers Limited of India, HD Korea Shipbuilding and Offshore Engineering Co., Ltd (HD KSOE) and HD Hyundai Samho Co., Ltd of the ROK to jointly design, manufacture, and support next-generation conventional and autonomous maritime & port cranes in India.

The two sides took positive note of the ongoing discussions between Indian Maritime University (IMU) and Korea Maritime & Ocean University (KMOU) and encouraged them to finalize a strategic partnership in maritime education, research, and innovation with joint programs in naval architecture, marine engineering, and port management; collaborative R&D on green shipping technologies, autonomous vessels, and crane automation; and innovation hubs for student exchanges, faculty collaborations, and industry-linked projects with involvement of Indian and the ROK businesses.

The two sides also recalled with pride the ancient origins of the two countries’ maritime heritages. The Indian side shared that the National Maritime Heritage Complex (NMHC) is being developed at Lothal in the Gujarat State of India as the world’s largest maritime complex. The two sides welcomed the signing of a Memorandum of Understanding on cooperation in the field of Maritime Heritage to facilitate sharing, exchange of artefacts and information, technological support, joint activities, collaboration with universities, museums, and institutions.

Prime Minister Modi and President Lee expressed satisfaction over the direction and content of the progress made in cooperation between India and the ROK in the fields of shipbuilding, shipping and ports. They expressed confidence that, in the coming years, the India-ROK partnership will deliver benefits for the two countries and the world at large.