وزیر اعظم نے توقعاتی بلاکس کے لیے ہفتہ بھر چلنے والے ’سنکلپ سپتاہ‘ کا آغاز کیا
توقعاتی بلاکس پروگرام پورٹل کا آغاز کیا
’’میرے لیے، یہ اجتماع جی 20 سے کم نہیں ہے‘‘
’’یہ پروگرام ٹیم بھارت کی کامیابی اور سب کا پریاس کے جذبے کی علامت ہے‘‘
’’توقعاتی اضلاع پروگرام کی پیش رفت کا چارٹ میرے لیے ترغیب کا وسیلہ بن گیا‘‘
’’وسائل کو زیادہ سے زیادہ بروئے کار لانا اور ہم آہنگی ترقی کی بنیاد ہے‘‘
’’ہم نے ’سزا کے طور پر تعیناتی‘ کے تصور کو ’ترغیب کے طور پر تعیناتی ‘میں تبدیل کر دیا ہے‘‘
’’ضرورت مند علاقوں پر خصوصی توجہ کے ساتھ وسائل کی مساویانہ تقسیم کی جانی چاہئے‘‘
’’مسائل کے حل تلاشنے میں جن بھاگیداری اور عوامی شراکت داری زبردست مضمرات کی حامل ہے‘‘
’’وہ 112 اضلاع جو کبھی توقعاتی اضلاع تھے، اب ترغیب فراہم کرنے والے اضلاع بن چکے ہیں‘‘

وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج نئی دہلی کے بھارت منڈپم میں ’سنکلپ سپتاہ‘ کے نام سے ملک میں توقعاتی بلاکس کے لیے ہفتہ بھر چلنے والے ایک منفرد پروگرام کا آغاز کیا۔ انہوں نے توقعاتی بلاکس پروگرام پورٹل ، اور ایک نمائش کا بھی آغاز کیا۔

وزیر اعظم نے بلاک کی سطح کے 3 افسران سے بھی بات چیت کی۔

 

ریاست اترپردیش کے بریلی کے بہیری علاقے سے تعلق رکھنے والی اسکولی ٹیچر محترمہ رنجنا اگروال سے بات چیت کرتے ہوئے وزیر اعظم نے محترمہ کے بلاک میں منعقدہ چنتن شِوِر سے حاصل ہونے والے ازحد اثرانگیز خیال کے بارے میں دریافت کیا۔ محترمہ رنجنا اگروال نے بلاک کے مجموعی ترقیاتی پروگرام کا ذکر کیا اور سرکاری اسکیموں کو ایک عوامی تحریک میں تبدیل کرنے کے لیے اسی پلیٹ فارم پر جمع ہونے والے تمام تر متعلقہ فریقوں کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ وزیر اعظم نے اسکولوں کے تدریسی نتائج کی بہتری کے لیے نافذ کی گئی تبدیلیوں کے بارے میں بھی دریافت کیا۔ محترمہ اگروال نے روایتی تدریسی طریقہ کار کی بجائے سرگرمی پر مبنی تدریسی طریقوں کو اپنانے کے بارے میں بتایا اور بال سبھاؤں، موسیقی کے اسباق، کھیل کود اور جسمانی تربیت ، وغیرہ کے اہتمام کی مثالیں پیش کیں۔ انہوں نے اسمارٹ کلاس رومز اور معیارِ تعلیم کو بہتر بنانے کے لیے تکنالوجی کے استعمال کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے اپنے ضلع میں تمام تر 2500 اسکولوں میں اسمارٹ کلاس رومز کی دستیابی کے بارے میں بھی مطلع کیا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ وکست بھارت کی بنیادی شرائط میں سے ایک بچوں کی معیاری تعلیم ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اساتذہ کی لگن اور شمولیت سے مرعوب ہیں۔ یہ ’سَمرپَن سے سدّھی‘ کا راستہ  ہے۔

جموں و کشمیر کے پونچھ کے  منکوتے سے تعلق رکھنے والے ، جانوروں کے ڈاکٹر، اسسٹنٹ سرجن ڈاکٹر ساجد احمد نے نقل مکانی کرنے والے قبائلی مویشی پالن کرنے والوں کے مسائل کے بارے میں وضاحت کی  اور نقل مکانی کے دوران پیش آنے والے مسائل اور نقصان کو کم کرنے کے طریقوں کے بارے میں بتایا۔ انہوں نے وزیر اعظم  کو اپنے تجربات کے بارے میں بتایا۔ وزیر اعظم نے کلاس روم کے علم اور زمینی تجربے میں فرق کے بارے میں دریافت کیا۔ ڈاکٹر نے ان مضبوط مقامی نسلوں کے بارے میں بتایا جنہیں کلاس روم میں نظر انداز کیا گیا تھا۔ وزیر اعظم کو کھرپکا  منھ پکا بیماری کے لیے ٹیکہ کاری مہم اور علاقے میں بڑے پیمانے پر ٹیکے کے استعمال کے بارے میں بتایا گیا۔ وزیر اعظم نے خطے کے گرجروں کے ساتھ اپنی قربت کے بارے میں بتایا کیونکہ وہ انہیں ہمیشہ کچھ کے باشندوں کی یاد دلاتے ہیں۔

 

میگھالیہ میں این جی ایچ (گارو خطہ) کے رسوبیل پارا سے دیہی ترقیات کے جونیئر افسر جناب مکہن چارڈ سی ایچ مومن سے بات چیت کے دوران، وزیر اعظم نے خطے میں شدید موسمی حالات کے باعث درپیش مشکلات کے حل کے بارے میں دریافت کیا۔جناب مومن نے ضروری سامان کی ذخیرہ اندوزی اور پیش رفت کی نگرانی کے لیے ایک ٹیم تشکیل دینے کے ابتدائی احکامات جاری کرنے کے بارے میں بتایا۔ زندگی بسر کرنا آسان بنانے کے عمل کو بہتر بنانے کے لیے پی ایم ۔ آواس (دیہی) میں علاقائی ڈیزائن اور مالکان کی جانب سے چلنے والی تعمیرات متعارف کرانے سے پیداوار کے معیار میں ہونے والی تبدیلیوں کے بارے میں وزیر اعظم کے استفسار پر، جناب مومن نے اثبات میں جواب دیا۔ جب وزیر اعظم نے خطے میں پیدا ہونے والے کاجو کی پیداوار اور مارکیٹنگ کے بارے میں پوچھا تو جناب مومن نے کہا کہ خطے میں پیدا ہونے والا کاجو پورے ملک میں اعلیٰ معیار کا حامل ہے۔ انہوں نے اس کی پیداوار کی حوصلہ افزائی کے لیے منریگا اور سیلف ہیلپ گروپوں کے استعمال کا ذکر کیا۔ جناب مومن نے وزیر اعظم سے خطے میں مزید کاجو پروسیسنگ یونٹیں قائم کرنے پر بھی زور دیا۔ جناب مودی نے بیداری میں اضافے کے لیے خطے میں موسیقی کی مقبولیت پر بھی بات کی۔ وزیر اعظم نے توقعاتی بلاک اور ضلعی پروگرام میں گرام پنچایت کے اہم کردارپر بھی زور دیا۔

 

اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے اجتماع کے مقام بھارت منڈپم  اور ان لوگوں کا ذکر کیا جو دور دراز کے علاقوں میں ترقی  کے کاموں کی نگرانی کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ حکومت کی سوچ کی جانب اشارہ ہے کہ اس طرح کا اجتماع جی 20 سربراہ اجلاس کے مقام پر منعقد ہو رہا ہے، جہاں عالمی امور کی سمت کا تعین کرنے والے افراد محض ایک ماہ قبل جمع ہوئے تھے۔ وزیر اعظم نے زمینی سطح پر تبدیلی لانے والوں کا خیرمقدم کیا۔ جناب مودی نے زور دیتے ہوئے کہا، ’’میرے لیے، یہ جی 20 سے کم نہیں ہے۔‘‘

انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام ٹیم بھارت کی کامیابی اور سب کا پریاس کے جذبے کی علامت ہے۔ یہ پروگرام بھارت کے مستقبل کے لیے اہم ہے اور  اس میں ’سنکلپ سے سدھی‘ کا عنصر شامل ہے۔

وزیر اعظم نے کہا، ’’آزاد بھارت کے سرفہرست 10 پروگراموں کی کسی بھی فہرست میں، توقعاتی اضلاع پروگرام سنہری حرفوں میں لکھا جائے گا۔‘‘ انہوں نے کہا کہ توقعاتی اضلاع پروگرام نے 112 اضلاع میں تقریباً 25 کروڑ افراد کی زندگیاں بدل دی ہیں۔ انہوں نے اس پروگرام کے لیے عالمی ستائش کا ذکرتے ہوئے مزید کہا کہ اس پروگرام کی کامیابی توقعاتی بلاکس پروگرام کی بنیاد بن گئی۔ وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ خواہش مند بلاکس پروگرام نہ صرف اس کے لیے ایک بہت  بڑی کامیابی حاصل کرنے والا ہے کہ یہ اسکیم بے مثال ہے، بلکہ اس لیے بھی کہ اس کے لیے کام کرنے والے لوگ بہترین ہیں۔

 

کچھ دیر قبل بلاک کی سطح کے 3 افسران کے ساتھ اپنی بات چیت کو یاد کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے اس امر کو اجاگر کیا کہ  زمینی سطح پر کام کرنے والے افراد کا حوصلہ دیکھ کر ان کی خوداعتمادی میں کئی گنا اضافہ ہوا۔ جناب مودی نے اس بات پر زور دیا کہ وہ زمینی سطح کے افسران کے ساتھ مل کر ان کی ٹیم کے رکن کے طور پر کام کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ پروگرام کے اہداف وقت سے پہلے حاصل کر لیے جائیں گے۔ وزیر اعظم مودی نے اس بات پر زور دیا کہ اس پروگرام کی ان کی طرف سے باریک بینی سے نگرانی کی جائے گی، اس لیے نہیں کہ وہ ان کی صلاحیتوں کو جانچنا چاہتے ہیں بلکہ اس کے لیے کہ زمینی سطح پر کامیابیاں انہیں انتھک محنت کرنےکے لیے مزید توانائی اور جوش فراہم کرتی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’’توقعاتی اضلاع پروگرام کی پیش رفت کا چارٹ میرے لیے تحریک کا باعث بن گیا ہے۔‘‘

توقعاتی اضلاع پروگرام کے 5 برس مکمل ہونے کا ذکر کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے پروگرام کے تیسرے فریق کے جائزے پر خوشی کا اظہار کیا۔ پروگرام کی سادہ حکمت عملی کا ذکر کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے کہا کہ حکمرانی کے چنوتی بھرے کاموں کو پورا کرنے کے یہی طریقے ہیں۔ جامع ترقی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ ملک کے تمام حصوں اور خطوں کی دیکھ بھال کی جانی چاہئے۔ ’’جامع ترقی، سبھی پر احاطہ ، سبھی کو مستفید کیے بغیر عددی ترقی تو ظاہر ہو سکتی ہے لیکن بنیادی ترقی نہیں۔ اس لیے یہ ضروری ہے کہ ہم  ہر نچلی سطح کے پیرا میٹر کا احاطہ کرتے ہوئے آگے بڑھیں۔

وزیر اعظم نے اس موقع پر موجود محکموں کے سکریٹریوں پر زور دیا کہ وہ دو نئی سمتوں  – یعنی  ہر ریاست کی تیز رفتار ترقی اور پسماندہ اضلاع کی مدد کرنے- میں کام کریں ۔انہوں نے ان سے کہا کہ وہ ملک میں ایسے 100 بلاکس کی نشاندہی کریں جو اپنے متعلق محکموں میں پیچھے ہیں ، اور کہا کہ حالات کو بہتر بنانے کے لیے کام کریں۔ انہوں نے اصرار کیا کہ جب 100 شناخت شدہ بلاکس ملک کے اوسط سے اوپر جائیں گے تو ترقی کے تمام پیمانے تبدیل ہو جائیں گے۔انہوں نے تجویز پیش کی کہ مرکز کے تمام محکمے ان بلاکس کی ترقی پر زور دیں جن میں بہتری کی گنجائش ہے۔ریاستی حکومتوں کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے وزیر اعظم نے 100 انتہائی پسماندہ دیہاتوں کی نشاندہی کرنے اور انہیں بہتر بنانے کے لیے ایک ماڈل وضع کرنے کا مشورہ دیا جسے اگلے 1000 مواضعات کی ترقی کے لیے مزید نقل کیا جا سکتا ہے۔

 

2047 تک بھارت کو ایک ترقی یافتہ ملک بنانے کے عہد کا ذکر کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے کہا کہ ترقی یافتہ ہونے کا مطلب ترقی یافتہ میٹرو شہر اور پسماندہ مواضعات نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہم اس ماڈل کی پیروی نہیں کرتے، ہم 140 کروڑ لوگوں کے ساتھ چلنا چاہتے ہیں۔‘‘ انہوں نے توقعاتی اضلاع پروگرام کے تحت اضلاع کے درمیان صحت مند مسابقت کا ذکر کیا اور گجرات کے کچھ ضلع کی مثال پیش کی جو کبھی افسران کے لیے سزا کی جگہ سمجھا جاتا تھا، لیکن اب وہاں زلزلے کے بعد تعینات ہونے والے افسران کی لگن اور تندہی کی وجہ سے وہ ایک ازحد قابل احترام جگہ بن گیا ہے۔ انہوں نے ملک کے پرجوش اضلاع میں ہونے والی ترقیوں کا سہرا نوجوان افسران کے سر باندھا۔ خواہش مند بلاک پروگرام کے لیے وزیر اعظم نے ریاستی حکومت کو مشورہ دیا کہ وہ نوجوان افسران کی حوصلہ افزائی کرے جو بلاک کی سطح پر کامیاب ہوتے ہیں۔

وزیر اعظم نے حکومت کے بجٹ کے ’محض پیداوار‘ سے ہٹ کر ’نتائج‘ کی جانب منتقلی کے بارے میں بات کی۔ انہوں نے کہا کہ اس سے ایک معیاری تبدیلی آئی ہے۔ حکمرانی کے اپنے وسیع تجربے سے بات کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ بجٹ تبدیلی کا واحد عنصر نہیں ہے۔ انہوں نے وسائل کے زیادہ سے زیادہ استعمال اور ہم آہنگی کو بجٹ کے علاوہ ترقی کی بنیاد قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اسکیموں کی ہم آہنگی اور تکمیلات کا فائدہ اٹھایا جانا چاہئے۔

وزیر اعظم نے اچھی کارکردگی کے پہلوؤں کو لے کر نتائج پر ازحد انحصار اور ان کی حصولیابی کے لیے وسائل کے زیادہ سے زیادہ استعمال کی غلط فہمی کے بارے میں بھی بات کی۔ انہوں نے کہا، ’’وسائل کے زیادہ سے زیادہ استعمال سے فضلہ پیدا ہوتا ہے، جبکہ اگر اسے ضرورت کی جگہوں پر استعمال کیا جائے تو بہتر نتائج برآمد ہوتے ہیں۔ ضرورت مند علاقوں پر خصوصی توجہ مرکوز کرتے ہوئے وسائل کو مساوی طور پر تقسیم کیا جانا چاہئے۔‘‘

 

وزیر اعظم مودی نے حکومت پر منحصر رہنے کی ذہنیت سے باہر نکلنے پر زور دیا اور بڑے کاموں کی تکمیل کے لیے معاشرے کی قوت کو اجاگر کیا۔ جن بھاگیداری کی ضرورت کے بارے میں بات کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے  ہر شعبے میں ایک قائد کی ضرورت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے ’سنکلپ سپتاہ‘ پروگرام میں ٹیم اسپرٹ کے اس پہلو پر روشنی ڈالی جو جن بھاگیداری کے لیے قائدین اور نئے خیالات کے ابھرنے کا باعث بنے گی۔ انہوں نے قدرتی آفات کے دوران ایک دوسرے کا ساتھ دینے کے لیے معاشرے کے اکٹھے ہونے کی مثال دی۔ انہوں نے عوامی شراکت داری کے جذبے کو جاگزیں کرنے کے لیے بلاک کی سطح پر مجموعی طور پر کام کرنے کے بارے میں بھی بات کی اور علاقائی اداروں کی سالگرہ منانے، اور سوئے تغذیہ کے خاتمے کے لیے اس طرح کے مواقع پر اسکولی بچوں کے لیے کھانہ تقسیم کرنے کی مثالیں بھی پیش کیں۔ جناب مودی نے زور دیتے ہوئے کہا، ’’مسائل کے حل تلاشنے میں جن  بھاگیداری یا عوامی شراکت داری زبردست مضمرات کی حامل ہے۔‘‘

اسی طرح، وزیر اعظم نے مطلع عالم پر ملک کے بڑھتے اثر و رسوخ میں غیر مقیم بھارتیوں کے کردار کی وضاحت کرتے ہوئے سماجی شراکت داری کی طاقت کو واضح کیا کیونکہ ان کی فعالیت نے حکومت کی سفارتی کوششوں کو تقویت بہم پہنچائی ہے۔ وزیر اعظم نے مندوبین سے کہا کہ وہ سنکلپ سپتاہ کا زیادہ سے زیادہ استعمال کریں۔ انہوں نے ان سے کہا کہ وہ وسائل جمع کریں اور زیادہ اثرانگیزی کے لیے کوششوں پر توجہ مرکوز کریں۔ اس سے الگ تھلگ رہ کر کام کرنے کا رواج ختم ہوگا اور مکمل حکومت کا نقطہ نظر جاگزیں ہوگا۔مواصلات میں تکنالوجی کے کردار کو تسلیم کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے کہا کہ جسمانی طور پر موجودگی کا کوئی متبادل نہیں ہے اور ہمیں اس کے ساتھ سمجھوتہ نہیں کرنا چاہئے کیونکہ جب ہم وہاں موجود جاتے ہیں تو ہمیں اس جگہ کی خوبیوں کا پتہ چلتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’سنکلپ سپتاہ‘ کے دوران ایک ہفتے تک ساتھیوں کے ساتھ بیٹھنے سے انہیں ایک دوسرے کی قوتوں اور ضروریات کے بارے میں آگاہی حاصل ہوگی اور ٹیم اسپرٹ میں بہتری آئے گی۔

 

وزیر اعظم نے مندوبین سے کہا کہ وہ 5 پیرامیٹرز پر توجہ دیں اور اچھے نتائج حاصل کریں۔ اس سے ان کے اعتماد میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ مسائل کے اس بتدریج حل کے ساتھ، یہ بلاک دوسروں کے لیے امنگوں کا وسیلہ بن جائے گا۔انہوں نے کہا کہ ’’112 اضلاع جو توقعاتی اضلاع تھے، اب متاثرکن اضلاع بن چکے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ ایک سال کے اندر اندر کم از کم 100 توقعاتی بلاکس متاثر کن بلاکس بن جائیں گے۔‘‘

اس موقع پر دیگر افراد کے علاوہ نیتی آیوگ کے نائب چیئرمین جناب سُمن بیری بھی موجود تھے۔

پس منظر

’سنکلپ سپتاہ‘ توقعاتی بلاکس پروگرام (اے بی پی) کے مؤثر نفاذ سے منسلک ہے۔ وزیر اعظم نے 7 جنوری 2023 کو ملک گیر پروگرام کا آغاز کیا۔ اس کا مقصد شہریوں کے معیار زندگی کو بہتر بنانے کے لیے بلاک کی سطح پر حکمرانی کو بہتر بنانا ہے۔ اسے ملک کے 329 اضلاع کے 500 توقعاتی بلاکس میں نافذ کیا جا رہا ہے۔توقعاتی بلاکس پروگرام نافذ کرنے اور ایک مؤثر بلاک ترقیاتی حکمت عملی تیار کرنے کے لیے ملک بھر میں گاؤں اور بلاک کی سطح پر چنتن شِوِر کا اہتمام کیا گیا۔ ’سنکلپ سپتاہ‘ ان چنتن شِوروں کا اختتام ہے۔

’سنکلپ سپتاہ‘ تمام تر 500 توقعاتی بلاکس میں منایا جائے گا۔’سنکلپ سپتاہ ‘ میں  ، 3 اکتوبر سے 9 اکتوبر 2023 تک ، ہر دن ایک مخصوص ترقیاتی موضوع کے لیے وقف رہے گا جس پر تمام ترقیاتی بلاکس کام کریں گے۔ پہلے چھ دنوں کے موضوعات میں ’سپمورن سواستھ‘، ’سپوشت پریوار‘، ’سووَچھتا‘، ’کرشی‘، ’شکشا‘، اور ’سمردھی دیوس‘ جیسے موضوعات شامل ہیں۔ ہفتے کے آخری دن یعنی 9 اکتوبر 2023 کو پورے ہفتے کے دوران انجام دیے گئے کاموں کا جشن  ’سنکلپ سپتاہ – سماویش سماروہ‘ کے طور پر منایا جائے گا ۔

افتتاحی پروگرام  کے دوران بھارت منڈپم میں ملک بھر سے پنچایت اور بلاک کی سطح کے تقریباً 3000 عوامی نمائندگان اور کارکنان کی شرکت ملاحظہ کی جائے گی۔اس کے علاوہ، بلاک اور پنچایت کی سطح کے کارکنان، کاشتکاروں، اور دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد سمیت تقریباً دو لاکھ افراد ورچووَل طریقے سے پروگرام میں شرکت کریں گے۔

 

Explore More
لال قلعہ کی فصیل سے 77ویں یوم آزادی کے موقع پر وزیراعظم جناب نریندر مودی کے خطاب کا متن

Popular Speeches

لال قلعہ کی فصیل سے 77ویں یوم آزادی کے موقع پر وزیراعظم جناب نریندر مودی کے خطاب کا متن
BJP manifesto 2024: Super app, bullet train and other key promises that formed party's vision for Indian Railways

Media Coverage

BJP manifesto 2024: Super app, bullet train and other key promises that formed party's vision for Indian Railways
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Today, Congress party is roaming around like the ‘Sultan’ of a ‘Tukde-Tukde’ gang: PM Modi in Mysuru
April 14, 2024
BJP's manifesto is a picture of the future and bigger changes: PM Modi in Mysuru
Today, Congress party is roaming around like the ‘Sultan’ of a ‘Tukde-Tukde’ gang: PM Modi in Mysuru
India will be world's biggest Innovation hub, creating affordable medicines, technology, and vehicles: PM Modi in Mysuru

नीमागेल्ला नन्ना नमस्कारागलु।

आज चैत्र नवरात्र के पावन अवसर पर मुझे ताई चामुंडेश्वरी के आशीर्वाद लेने का अवसर मिल रहा है। मैं ताई चामुंडेश्वरी, ताई भुवनेश्वरी और ताई कावेरी के चरणों में प्रणाम करता हूँ। मैं सबसे पहले आदरणीय देवगौड़ा जी का हृदय से आभार व्यक्त करता हूं। आज भारत के राजनीति पटल पर सबसे सीनियर मोस्ट राजनेता हैं। और उनके आशीर्वाद प्राप्त करना ये भी एक बहुत बड़ा सौभाग्य है। उन्होंने आज जो बातें बताईं, काफी कुछ मैं समझ पाता था, लेकिन हृदय में उनका बहुत आभारी हूं। 

साथियों

मैसुरु और कर्नाटका की धरती पर शक्ति का आशीर्वाद मिलना यानि पूरे कर्नाटका का आशीर्वाद मिलना। इतनी बड़ी संख्या में आपकी उपस्थिति, कर्नाटका की मेरी माताओं-बहनों की उपस्थिति ये साफ बता रही है कि कर्नाटका के मन में क्या है! पूरा कर्नाटका कह रहा है- फिर एक बार, मोदी सरकार! फिर एक बार, मोदी सरकार! फिर एक बार, मोदी सरकार!

साथियों,

आज का दिन इस लोकसभा चुनाव और अगले five years के लिए एक बहुत अहम दिन है। आज ही बीजेपी ने अपना ‘संकल्प-पत्र’ जारी किया है। ये संकल्प-पत्र, मोदी की गारंटी है। और देवगौड़ा जी ने अभी उल्लेख किया है। ये मोदी की गारंटी है कि हर गरीब को अपना घर देने के लिए Three crore नए घर बनाएंगे। ये मोदी की गारंटी है कि हर गरीब को अगले Five year तक फ्री राशन मिलता रहेगा। ये मोदी की गारंटी है कि- Seventy Year की आयु के ऊपर के हर senior citizen को आयुष्मान योजना के तहत फ्री चिकित्सा मिलेगी। ये मोदी की गारंटी है कि हम Three crore महिलाओं को लखपति दीदी बनाएँगे। ये गारंटी कर्नाटका के हर व्यक्ति का, हर गरीब का जीवन बेहतर बनाएँगी।

साथियों,

आज जब हम Ten Year पहले के समय को याद करते हैं, तो हमें लगता है कि हम कितना आगे आ गए। डिजिटल इंडिया ने हमारे जीवन को तेजी से बदला है। बीजेपी का संकल्प-पत्र, अब भविष्य के और बड़े परिवर्तनों की तस्वीर है। ये नए भारत की तस्वीर है। पहले भारत खस्ताहाल सड़कों के लिए जाना जाता था। अब एक्सप्रेसवेज़ भारत की पहचान हैं। आने वाले समय में भारत एक्सप्रेसवेज, वॉटरवेज और एयरवेज के वर्ल्ड क्लास नेटवर्क के निर्माण से विश्व को हैरान करेगा। 10 साल पहले भारत टेक्नालजी के लिए दूसरे देशों की ओर देखता था। आज भारत चंद्रयान भी भेज रहा है, और सेमीकंडक्टर भी बनाने जा रहा है। अब भारत विश्व का बड़ा Innovation Hub बनकर उभरेगा। यानी हम पूरे विश्व के लिए सस्ती मेडिसिन्स, सस्ती टेक्नोलॉजी और सस्ती गाडियां बनाएंगे। भारत वर्ल्ड का research and development, R&D हब बनेगा। और इसमें वैज्ञानिक रिसर्च के लिए एक लाख करोड़ रुपये के फंड की भी बड़ी भूमिका होगी। कर्नाटका देश का IT और technology hub है। यहाँ के युवाओं को इसका बहुत बड़ा लाभ मिलेगा।

साथियों,

हमने संकल्प-पत्र में स्थानीय भाषाओं को प्रमोट करने की बात कही है। हमारी कन्नड़ा देश की इतनी समृद्ध भाषा है। बीजेपी के इस मिशन से कन्नड़ा का विस्तार होगा और उसे बड़ी पहचान मिलेगी। साथ ही हमने विरासत के विकास की गारंटी भी दी है। हमारे कर्नाटका के मैसुरु, हम्पी और बादामी जैसी जो हेरिटेज साइट्स हैं, हम उनको वर्ल्ड टूरिज़्म मैप पर प्रमोट करेंगे। इससे कर्नाटका में टूरिज्म और रोजगार के नए अवसर सृजित होंगे।

साथियों,

इन सारे लक्ष्यों की प्राप्ति के लिए भाजपा जरूरी है, NDA जरूरी है। NDA जो कहता है वो करके दिखाता है। आर्टिकल-370 हो, तीन तलाक के खिलाफ कानून हो, महिलाओं के लिए आरक्षण हो या राम मंदिर का भव्य निर्माण, भाजपा का संकल्प, मोदी की गारंटी होता है। और मोदी की गारंटी को सबसे बड़ी ताकत कहां से मिलती है? सबसे बड़ी ताकत आपके एक वोट से मिलती है। आपका हर वोट मोदी की ताकत बढ़ाता है। आपका हर एक वोट मोदी की ऊर्जा बढ़ाता है।

साथियों,

कर्नाटका में तो NDA के पास एचडी देवेगौड़ा जी जैसे वरिष्ठ नेता का मार्गदर्शन है। हमारे पास येदुरप्पा जी जैसे समर्पित और अनुभवी नेता हैं। हमारे HD कुमारास्वामी जी का सक्रिय सहयोग है। इनका ये अनुभव कर्नाटका के विकास के लिए बहुत काम आएगा।

साथियों,

कर्नाटका उस महान परंपरा का वाहक है, जो देश की एकता और अखंडता के लिए अपना सब कुछ बलिदान करना सिखाता है। यहाँ सुत्तुरू मठ के संतों की परंपरा है। राष्ट्रकवि कुवेम्पु के एकता के स्वर हैं। फील्ड मार्शल करियप्पा का गौरव है। और मैसुरु के राजा कृष्णराज वोडेयर के द्वारा किए गए विकास कार्य आज भी देश के लिए एक प्रेरणा हैं। ये वो धरती है जहां कोडगु की माताएं अपने बच्चों को राष्ट्रसेवा के लिए सेना में भेजने के सपना देखती है। लेकिन दूसरी तरफ कांग्रेस पार्टी भी है। कांग्रेस पार्टी आज टुकड़े-टुकड़े गैंग की सुल्तान बनकर घूम रही है। देश को बांटने, तोड़ने और कमजोर करने के काँग्रेस पार्टी के खतरनाक इरादे आज भी वैसे ही हैं। आर्टिकल 370 के सवाल पर काँग्रेस के राष्ट्रीय अध्यक्ष ने कहा कि कश्मीर का दूसरे राज्यों से क्या संबंध? और, अब तो काँग्रेस देश से घृणा की सारी सीमाएं पार कर चुकी है। कर्नाटका की जनता साक्षी है कि जो भारत के खिलाफ बोलता है, कांग्रेस उसे पुरस्कार में चुनाव का टिकट दे देती है। और आपने हाल में एक और दृश्य देखा होगा, काँग्रेस की चुनावी रैली में एक व्यक्ति ने ‘भारत माता की जय’ के नारे लगवाए। इसके लिए उसे मंच पर बैठे नेताओं से परमीशन लेनी पड़ी। क्या भारत माता की जय बोलने के लिए परमीशन लेनी पड़े। क्या ऐसी कांग्रेस को देश माफ करेगा। ऐसी कांग्रेस को कर्नाटका माफ करेगा। ऐसी कांग्रेस को मैसुरू माफ करेगा। पहले वंदेमातरम् का विरोध, और अब ‘भारत माता की जय’ कहने तक से चिढ़!  ये काँग्रेस के पतन की पराकाष्ठा है।

साथियों,

आज काँग्रेस पार्टी सत्ता के लिए आग का खेल खेल रही है। आज आप देश की दिशा देखिए, और काँग्रेस की भाषा देखिए! आज विश्व में भारत का कद और सम्मान बढ़ रहा है। बढ़ रहा है कि नहीं बढ़ रहा है। दुनिया में भारत का नाम हो रहा है कि नहीं हो रहा है। भारत का गौरव बढ़ रहा है कि नहीं बढ़ रहा है। हर भारतीय को दुनिया गर्व से देखती है कि नहीं देखती है। तो काँग्रेस के नेता विदेशों में जाकर देश को नीचा दिखाने के कोई मौके छोड़ते नहीं हैं। देश अपने दुश्मनों को अब मुंहतोड़ जवाब देता है, तो काँग्रेस सेना से सर्जिकल स्ट्राइक के सबूत मांगती है। आतंकी गतिविधियों में शामिल जिस संगठन पर बैन लगता है। काँग्रेस उसी के पॉलिटिकल विंग के साथ काम कर रहा है। कर्नाटका में तुष्टीकरण का खुला खेल चल रहा है। पर्व-त्योहारों पर रोक लगाने की कोशिश हो रही है। धार्मिक झंडे उतरवाए जा रहे हैं। आप मुझे बताइये, क्या वोटबैंक का यही खेल खेलने वालों के हाथ में देश की बागडोर दी जा सकती है। दी जा सकती है।

साथियों, 

हमारा मैसुरु तो कर्नाटका की कल्चरल कैपिटल है। मैसुरु का दशहरा तो पूरे विश्व में प्रसिद्ध है। 22 जनवरी को अयोध्या में 500 का सपना पूरा हुआ। पूरा देश इस अवसर पर एक हो गया। लेकिन, काँग्रेस के लोगों ने, उनके साथी दलों ने राममंदिर की प्राण-प्रतिष्ठा जैसे पवित्र समारोह तक पर विषवमन किया! निमंत्रण को ठुकरा दिया। जितना हो सका, इन्होंने हमारी आस्था का अपमान किया। कांग्रेस और इंडी अलायंस ने राममंदिर प्राण-प्रतिष्ठा का बॉयकॉट कर दिया। इंडी अलांयस के लोग सनातन को समाप्त करना चाहते हैं। हिन्दू धर्म की शक्ति का विनाश करना चाहते हैं। लेकिन, जब तक मोदी है, जब तक मोदी के साथ आपके आशीर्वाद हैं, ये नफरती ताक़तें कभी भी सफल नहीं होंगी, ये मोदी की गारंटी है।

साथियों,

Twenty twenty-four का लोकसभा चुनाव अगले five years नहीं, बल्कि twenty forty-seven के विकसित भारत का भविष्य तय करेगा। इसीलिए, मोदी देश के विकास के लिए अपना हर पल लगा रहा है। पल-पल आपके नाम। पल-पल देख के नाम। twenty-four बाय seven, twenty-four बाय seven for Twenty Forty-Seven.  मेरा ten years का रिपोर्ट कार्ड भी आपके सामने है। मैं कर्नाटका की बात करूं तो कर्नाटका के चार करोड़ से ज्यादा लोगों को मुफ्त राशन मिल रहा है। Four lakh fifty thousand गरीब परिवारों को कर्नाटका में पीएम आवास मिले हैं। One crore fifty lakh से ज्यादा गरीबों को मुफ्त इलाज की गारंटी मिली है। नेशनल हाइवे के नेटवर्क का भी यहाँ बड़ा विस्तार किया गया है। मैसुरु से बेंगलुरु के बीच एक्सप्रेसवे ने इस क्षेत्र को नई गति दी है। आज देश के साथ-साथ कर्नाटका में भी वंदेभारत ट्रेनें दौड़ रही हैं। जल जीवन मिशन के तहत Eight Thousand से अधिक गांवों में लोगों को नल से जल मिलने लगा है। ये नतीजे बताते हैं कि अगर नीयत सही, तो नतीजे भी सही! आने वाले Five Years में विकास के काम, गरीब कल्याण की ये योजनाएँ शत प्रतिशत लोगों तक पहुंचेगी, ये मोदी की गारंटी है।

साथियों,

मोदी ने अपने Ten year साल का हिसाब देना अपना कर्तव्य माना है। क्या आपने कभी काँग्रेस को उसके sixty years का हिसाब देते देखा है? नहीं न? क्योंकि, काँग्रेस केवल समस्याएँ पैदा करना जानती है, धोखा देना जानती है। कर्नाटका के लोग इसी पीड़ा में फंसे हुये हैं। कर्नाटका काँग्रेस पार्टी की लूट का ATM स्टेट बन चुका है। खाली लूट के कारण सरकारी खजाना खाली हो चुका है। विकास और गरीब कल्याण की योजनाओं को बंद किया जा रहा है। वादा किसानों को मुफ्त बिजली का था, लेकिन किसानों को पंपसेट चलाने तक की बिजली नहीं मिल रही। युवाओं की, छात्रों की स्कॉलर्शिप तक में कटौती हो रही है। किसानों को किसान सम्मान निधि में राज्य सरकार की ओर से मिल रहे four thousands रुपए बंद कर दिये गए हैं। देश का IT hub बेंगलुरु पानी के घनघोर संकट से जूझ रहा है। पानी के टैंकर की कालाबाजारी हो रही है। इन सबके बीच, काँग्रेस पार्टी को चुनाव लड़वाने के लिए hundreds of crores रुपये ब्लैक मनी कर्नाटका से देशभर में भेजा जा रहा है। ये काँग्रेस के शासन का मॉडल है। जो अपराध इन्होंने कर्नाटका के साथ किया है, इसकी सजा उन्हें Twenty Six  अप्रैल को देनी है। 26 अप्रैल को देनी है।

साथियों,

मैसूरु से NDA के उम्मीदवार श्री यदुवीर कृष्णदत्त चामराज वोडेयर, चामराजनागर से श्री एस बालाराज, हासन लोकसभा से एनडीए के श्री प्रज्जवल रेवन्ना और मंड्या से मेरे मित्र श्री एच डी कुमार स्वामी,  आने वाली 26 अप्रैल को इनके लिए आपका हर वोट मोदी को मजबूती देगा। देश का भविष्य तय करेगा। मैसुरु की धरती से मेरी आप सभी से एक और अपील है। मेरा एक काम करोगे। जरा हाथ ऊपर बताकर के बताइये, करोगे। कर्नाटका के घर-घर जाना, हर किसी को मिलना और मोदी जी का प्रणाम जरूर पहुंचा देना। पहुंचा देंगे। पहुंचा देंगे।

मेरे साथ बोलिए

भारत माता की जय

भारत माता की जय

भारत माता की जय

बहुत बहुत धन्यवाद।