Inaugurates pilot Project of the 'World's Largest Grain Storage Plan in Cooperative Sector' in 11 PACS of 11 states
Lays foundation stone for additional 500 PACS across the country for construction of godowns & other agri infrastructure
Inaugurates project for computerization in 18,000 PACS across the country
“Cooperative sector is instrumental in shaping a resilient economy and propelling the development of rural areas”
“Cooperatives have the potential to convert an ordinary system related to daily life into a huge industry system, and is a proven way of changing the face of the rural and agricultural economy”
“A large number of women are involved in agriculture and dairy cooperatives”
“Modernization of agriculture systems is a must for Viksit Bharat”
“Viksit Bharat is not possible without creating an Aatmnirbhar Bharat”

وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج نئی دہلی کے بھارت منڈپم میں کوآپریٹو سیکٹر کے لیے متعدد کلیدی اقدامات کا افتتاح کیا اور سنگ بنیاد رکھا۔ وزیر اعظم نے ‘کوآپریٹو سیکٹر میں دنیا کے سب سے بڑے اناج ذخیرہ کرنے کے منصوبے’ کے پائلٹ پروجیکٹ کا افتتاح کیا، جو 11 ریاستوں کی 11 پرائمری ایگریکلچرل کریڈٹ سوسائٹیز (پی اے سی  ایس)  میں  نافذ کیا جا رہا ہے۔ وزیر اعظم نے اس اقدام کے تحت گوداموں اور دیگر زرعی بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کے لیے ملک بھر میں اضافی 500 پی اے سی ایس  کا سنگ بنیاد بھی رکھا۔ اس اقدام کا مقصد پی اے سی ایس کے گوداموں کو خوراک کے اناج کی سپلائی چین کے ساتھ مربوط کرنا، نابارڈ کے تعاون سے اور نیشنل کوآپریٹو ڈیولپمنٹ کارپوریشن (این سی ڈی سی) کی سربراہی میں ملک میں غذائی تحفظ کو مضبوط بنانا اور اقتصادی ترقی کو فروغ دینا ہے۔ اس اقدام کو مختلف موجودہ اسکیموں جیسے ایگریکلچر انفرااسٹرکچر فنڈ (اے آئی ایف)، ایگریکلچر مارکیٹنگ انفرااسٹرکچر (اے ایم آئی) وغیرہ کے کنورجن کے ذریعے لاگو کیا جا رہا ہے۔ تاکہ بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لیے سبسڈیز اور سود میں رعایتی فوائد حاصل کرنے کے منصوبے میں حصہ لینے والے پی اے سی ایس کو اہل بنایا جاسکے۔ وزیر اعظم نے ملک بھر میں  18,000 پی اے سی ایس میں کمپیوٹرائزیشن کے ایک منصوبے کا بھی افتتاح کیا، جس کا مقصد ‘‘سہکار سے سمریدھی’’ کے حکومتی وژن کے مطابق کوآپریٹو سیکٹر کو زندہ کرنا اور چھوٹے اور پسماندہ کسانوں کو بااختیار بنانا ہے،

 

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے ذکر کیا کہ بھارت منڈپم وکست بھارت کے سفر میں ایک اور سنگ میل کا مشاہدہ کر رہا ہے۔ یعنی ‘سہکار سے سمردھی’ کی سمت میں ایک قدم آگے۔ زراعت اور کاشتکاری کی بنیاد کو مضبوط بنانے میں تعاون کی طاقت کا بہت بڑا کردار ہے، جس کی وجہ سے تعاون کے لیے ایک الگ وزارت قائم ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوآپریٹو سیکٹر میں دنیا کا سب سے بڑا اناج ذخیرہ کرنے کا منصوبہ آج شروع کیا گیا ہے جس کے نتیجے میں ملک کے کونے کونے میں ہزاروں گودام اور اناج کے ذخائر قائم ہوں گے۔ یہ اور پی اے سی کی کمپیوٹرائزیشن جیسے دیگر منصوبے زراعت کو نئی جہتیں دیں گے اور ملک میں کاشتکاری کو جدید بنائیں گے۔

وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ کوآپریٹیو ہندوستان کے لیے ایک قدیم تصور ہے۔ ایک صحیفے کا حوالہ دیتے ہوئے، وزیر اعظم نے وضاحت کی کہ اگر چھوٹے وسائل کو اکٹھا کیا جائے تو ایک بڑا کام پورا کیا جا سکتا ہے اور کہا کہ ہندوستان میں گاؤں کے قدیم نظام میں اس ماڈل کی پیروی کی گئی تھی۔  وزیراعظم نے کہا‘‘کوآپریٹیو ہندوستان کے آتم نر بھر سماج کی بنیادیں تھیں۔ یہ صرف محض ایک  نظام نہیں ہے، بلکہ ایک عقیدہ، ایک جذبہ ہے’’، پی ایم مودی نے  اس بات کا ذکر کرتے کہا کہ کوآپریٹیو کا یہ جذبہ نظام اور وسائل کی حدود سے باہر ہے اور غیر معمولی نتائج پیدا کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس میں روزمرہ کی زندگی سے متعلق ایک عام نظام کو ایک بڑے صنعتی نظام میں تبدیل کرنے کی صلاحیت ہے اور یہ دیہی اور زرعی معیشت کے بدلتے چہرے کا ثابت شدہ نتیجہ ہے۔ اس نئی وزارت کے ذریعے، وزیر اعظم نے زور دیا،  کہ حکومت کا مقصد ہندوستان کے زرعی شعبے کی بکھری ہوئی طاقتوں کو اکٹھا کرنا ہے۔

 

فارمرز پروڈیوسرز آرگنائزیشن (ایف پی او) کی مثال دیتے ہوئے، وزیر اعظم نے گاؤں میں چھوٹے کسانوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کاروباری صلاحیت کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک الگ وزارت ہونے کی وجہ سے ملک میں 10,000 ایف پی اوز کے ہدف میں سے 8000 ایف پی او پہلے ہی کام کر رہے ہیں۔ کوآپریٹیو کے فوائد اب ماہی گیروں اور مویشی پروروں  تک پہنچ رہے ہیں۔ ماہی گیری کے شعبے میں 25,000 سے زیادہ کوآپریٹو اکائیاں کام کررہی ہیں ۔ وزیر اعظم نے آنے والے سالوں میں 200,000 کوآپریٹو سوسائٹیز کے قیام کے حکومت کے ہدف کا اعادہ کیا۔

گجرات کے وزیر اعلیٰ کے طور پر اپنے تجربے کو یاد کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے امول اور لجت پاپڑ کی کامیابی کی کہانیوں کو کوآپریٹیو کی طاقت قرار دیا اور ان اداروں میں خواتین کے مرکزی کردار کو بھی اجاگر کیا۔ حکومت نے کوآپریٹو سیکٹر سے متعلق پالیسیوں میں خواتین کو ترجیح دی ہے۔ انہوں نے ملٹی سٹیٹ کوآپریٹو سوسائٹیز ایکٹ میں ترمیم کرکے خواتین کی بورڈ میں نمائندگی کو یقینی بنانے کا ذکر کیا۔

 

وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ کوآپریٹیو اجتماعی طاقت کے ساتھ کسانوں کے ذاتی مسائل سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور اس سلسلے میں ذخیرہ  کاری کی مثال دی۔ا سٹوریج کے بنیادی ڈھانچے کی کمی کی وجہ سے کسانوں کو ہونے والے نقصانات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے حکومت کی طرف سے شروع کیے گئے 700 لاکھ میٹرک ٹن کے دنیا کے سب سے بڑے ذخیرہ کرنے کے منصوبے کی طرف توجہ مبذول کروائی جسے 1.25 لاکھ کروڑ روپے کی لاگت سے اگلے 5 سالوں میں مکمل کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ کسانوں کو اپنی پیداوار کو ذخیرہ کرنے اور اپنی ضروریات کے مطابق صحیح وقت پر فروخت کرنے کے قابل بنائے گا جبکہ بینکوں سے قرضے حاصل کرنے میں بھی مدد ملے گی۔

 پی اے سی ایس  جیسی سرکاری تنظیموں کے لیے ایک نیا کردار تخلیق کرنے کی حکومت کی کوششوں پر روشنی ڈالتے ہوئے، وزیر اعظم نے کہا، ‘‘زرعی نظام کی جدید کاری وکشت بھارت کی تشکیل کے لیے بھی اتنی ہی اہم ہے۔’’ انہوں نے کہا کہ یہ کمیٹیاں جن اوشدھی کیندروں کے طور پر کام کر رہی ہیں جبکہ ہزاروں پی ایم کسان سمردھی کیندر بھی چل رہے ہیں۔ انہوں نے پیٹرول، ڈیزل اور ایل پی جی سلنڈر کے شعبوں میں کام کرنے والی کوآپریٹو کمیٹیوں کا بھی ذکر کیا جبکہ پی اے سی ایس کئی دیہاتوں میں واٹر کمیٹیوں کا کردار بھی ادا کرتی ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ اس سے قرضہ کمیٹیوں کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہوا ہے اور آمدنی کے نئے ذرائع بھی پیدا ہوئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ‘‘کوآپریٹو کمیٹیاں اب دیہاتوں میں مشترکہ خدمت مراکز کے طور پر کام کر رہی ہیں اور سینکڑوں سہولیات فراہم کر رہی ہیں’’، وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ کسانوں تک خدمات کو بڑے پیمانے پر لے جانے کے لیے ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل انڈیا کے ظہور  کا ذکر کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس سے دیہات میں نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔

 

وزیر اعظم نے وکست بھارت کے سفر میں کوآپریٹو اداروں کی اہمیت کا خاکہ پیش کیا۔ انہوں نے ان سے کہا کہ وہ آتم نربھر بھارت کے اہداف میں اپنا حصہ ڈالیں۔ وزیر اعظم نے زور دے کر کہا ‘‘وکست بھارت آتم نر بھر بھارت کے بغیر ممکن نہیں ہے’’۔ انہوں نے تجویز دی کہ کوآپریٹو کو چاہیے کہ وہ ان اشیاء کی فہرست بنائے جن کے لیے ہم درآمد پر انحصار کرتے ہیں اور یہ دریافت کریں کہ کوآپریٹو سیکٹر انہیں مقامی طور پر پیدا کرنے میں کس طرح مدد کرسکتا ہے۔ انہوں نے خوردنی تیل کی ایک مثال دی جس کو بطور پروڈکٹ لیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح ایتھنول کے لیے تعاون پر مبنی  توانائی کی ضروریات کے لیے تیل کی درآمدات پر انحصار کو کم کر سکتا ہے۔  دالوں  کی درآمد ایک اور شعبہ ہے جسے وزیراعظم نے غیر ملکی انحصار میں کمی کے لیے کوآپریٹو سوسائٹیز کے لیے تجویز کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ بہت سے مینوفیکچرنگ سامان کوآپریٹیو بھی لے سکتے ہیں۔

وزیر اعظم نے قدرتی کھیتی میں کوآپریٹیو کے کردار اور کسانوں کو توانائی فراہم کرنے والے اور اروراکداتا (کھاد فراہم کرنے والے) میں تبدیل کرنے پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ فارموں کی سرحدوں پر چھتوں پر لگے سولر اور سولر پینل کو آپریٹو پہل کے شعبوں کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ گوبردھن، بائیو سی این جی کی پیداوار، کھاد اور فضلے سےدولت تیار  کرنے میں بھی اسی طرح کی مداخلت ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے کھاد کے درآمدی بلوں میں بھی کمی آئے گی۔ انہوں نے کوآپریٹو سے کہا کہ وہ چھوٹے کسانوں کی کوششوں کو عالمی برانڈنگ میں لانے کے لئے آگے آئیں۔ انہوں نے ان سے شری- انّ - موٹے اناج  کو عالمی سطح پر کھانے کی میزوں پر دستیاب کرانے کو بھی کہا۔

 

دیہی آمدنی بڑھانے میں کوآپریٹو کے کردار پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے اپنے حلقہ انتخاب کاشی میں ڈیری کوآپریٹو کے اثرات کو نوٹ کیا۔ انہوں نے شہد کے شعبے میں کوآپریٹیو کی طرف سے کی گئی پیش رفت کو بھی نوٹ کیا کیونکہ شہد کی پیداوار 75 ہزار میٹرک ٹن سے بڑھ کر 1.5 لاکھ میٹرک ٹن تک پہنچ گئی اور شہد کی برآمد گزشتہ 10 سالوں میں 28 ہزار میٹرک ٹن سے بڑھ کر 80 ہزار میٹرک ٹن تک پہنچ گئی۔ نفیڈ( این اے ایف ای ڈی ) ٹرائفیڈ  اور ریاستی کوآپریٹیو کے کردار کو تسلیم کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے ان اداروں کے عزائم کو وسعت دینے کو کہا۔

ڈیجیٹل ادائیگی اور براہ راست بینیفٹ ٹرانسفر کے فوائد پر روشنی ڈالتے ہوئے، وزیر اعظم نے پی اے سی ایس کے ذریعے براہ راست اور ڈیجیٹل ادائیگی کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے ان سے مٹی کی جانچ کے لیے آگے آنے اور سوائل ہیلتھ کارڈ مہم کو کامیاب بنانے کو بھی کہا۔

وزیر اعظم نے کوآپریٹیو میں نوجوانوں اور خواتین کے تعاون کو بڑھانے کی طرف توجہ مبذول کرائی۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ کوآپریٹیو سے وابستہ کسانوں کو مٹی کی صحت کا تجزیہ کرنا اور اس کے مطابق پیداوار بنانا سکھایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک نیا ماحول پیدا کرے گا اور اس شعبے کو دوبارہ متحرک کرے گا۔ وزیر اعظم نے کوآپریٹو سیکٹر میں ہنر مندی اور تربیت کے بارے میں بیداری پیدا کرنے پر بھی زور دیا۔  وزیراعظم نے کہا کہ‘‘ پی اے سی ایس اور کوآپریٹو سوسائٹیز کو بھی ایک دوسرے سے سیکھنا ہو گا’’، وزیر اعظم نے بہترین طریقوں کو بانٹنے کے لیے ایک پورٹل بنانے، آن لائن ٹریننگ کے لیے ایک نظام اور بہترین طریقوں کو آگے بڑھانے کے لیے ماڈیولز بنانے کی تجویز دی۔ خواہش مند ضلعی پروگرام کے بارے میں بات کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے اضلاع کے درمیان صحت مند مسابقت پیدا کرنے کا ذکر کیا اور کوآپریٹو سیکٹر میں بھی ایسا ہی طریقہ کار  اپنانے کی تجویز کی۔ انہوں نے لوگوں کے اعتماد کو بڑھانے کے لیے کوآپریٹو تنظیموں کے انتخابات میں شفافیت لانے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔

 

وزیراعظم نے کوآپریٹو سوسائٹیز کو خوشحالی کی بنیاد بنانے کے لیے حکومت کی کوششوں پر روشنی ڈالی اور 1 کروڑ سے 10 کروڑ روپے کے درمیان آمدنی والی کوآپریٹو سوسائٹیز پر  ٹیکس کو 12 فیصد سے کم کرکے 7 فیصد کرنے کا ذکر کیا۔ اس سے کمیٹیوں کے لیے سرمایہ میں اضافہ ہوا ہے جبکہ کمپنی کے طور پر آگے بڑھنے کے لیے مختلف راستے بھی کھلے ہیں۔ انہوں نے کوآپریٹو سوسائٹیز اور کمپنیوں کے درمیان متبادل ٹیکس میں امتیاز کی نشاندہی کی اور سوسائٹیز کے لیے کم از کم متبادل ٹیکس کو 18.5 فیصد سے کم کر کے 15 فیصد کرنے کا ذکر کیا، اس طرح کوآپریٹو سوسائٹیز اور کمپنیوں کے درمیان مساوات قائم ہو گی۔ وزیر اعظم نے رقم نکالنے پر ٹی ڈی ایس کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے رقم نکالنے کی حد کو 1 کروڑ سالانہ سے بڑھا کر 3 کروڑ روپے کرنے کا بھی  ذکر کیا ۔ خطاب کے اختتام پر وزیراعظم نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ تعاون کی سمت میں مشترکہ کوششوں سے ملک کی اجتماعی طاقت سے ترقی کے تمام امکانات کھلیں گے۔

اس موقع پر مرکزی وزیر داخلہ اور امداد باہمی کے وزیر، جناب امت شاہ، زراعت کے مرکزی وزیر جناب ارجن منڈا اور تجارت کے مرکزی وزیر جناب پیوش گوئل دیگر کے علاوہ موجود تھے۔

پس منظر

یادگاری پروجیکٹ کو 2500 کروڑ روپے سے زیادہ کے مالیاتی اخراجات کے ساتھ منظوری دی گئی ہے۔ اس اقدام میں تمام فنکشنل پی اے سی ایس  کو ایک متحد انٹرپرائز ریسورس پلاننگ (ای آر پی) پر مبنی قومی سافٹ ویئر پر منتقل کرنا شامل ہے، تاکہ بغیر کسی رکاوٹ کے انضمام اور رابطے کو یقینی بنایا جاسکے۔ ان پی اے سی ایس کو ریاستی کوآپریٹو بینکوں اور ڈسٹرکٹ سینٹرل کوآپریٹو بینکوں کے ذریعے  این اے بی اے آر ڈی کے ساتھ جوڑ کر، اس پروجیکٹ کا مقصد پی اے سی ایس کے آپریشن کی کارکردگی اور نظم و نسق کو بڑھانا ہے، اس سے کروڑوں چھوٹے اور معمولی کسانوں کو فائدہ پہنچے گا۔ این اے بی اے آر ڈی نے اس پروجیکٹ کے لیے قومی سطح کا مشترکہ سافٹ ویئر تیار کیا ہے، جو ملک بھر میں پی اے سی  ایس کی متنوع ضروریات کو پورا کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ ای آر پی سافٹ ویئر پر 18,000 پی اے سی ایس کی آن بورڈنگ مکمل ہو چکی ہے، جو اس منصوبے کے نفاذ میں ایک اہم سنگ میل ہے۔

 

Click here to read full text speech

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
India’s 5G traffic surges 70% Y-o-Y: Nokia report

Media Coverage

India’s 5G traffic surges 70% Y-o-Y: Nokia report
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
PM chairs CCS Meeting to review measures being taken in the context of ongoing West Asia Conflict
April 01, 2026
Interventions across agriculture, fertilizers, shipping, aviation, logistics and MSMEs to mitigate emerging challenges discussed
Supply diversification for LPG and LNG, fuel duty reduction and power sector measures reviewed to ensure stability of essential supplies
Steps being taken to ensure stable prices of essential commodities and strict action against hoarding and black-marketing
Control Rooms set up for constant monitoring and interaction with States/UTs on prices and enforcement of Essential Commodities Act
Various efforts being taken to ensure fertilizer supply such as maintaining Urea Production and coordination with overseas suppliers for DAP/NPKS supplies
PM assesses availability of critical needs for the common man
PM discusses availability of fertilisers in the country and steps being taken to ensure its availability in the Kharif and Rabi seasons
PM directs that all efforts must be made to safeguard the citizens from the impact of this conflict
PM underlines the need for timely & smooth flow of authentic information to the public to prevent misinformation and rumour mongering
Enough coal stock exists which shall serve power needs adequately in coming months

Prime Minister Shri Narendra Modi a special of the Cabinet Committee on Security (CCS) to review measures taken by various Ministries/Departments and also discussed further initiatives to be taken in the context of the ongoing West Asia conflict, at 7 Lok Kalyan Marg today. This was the second special CCS meeting on this issue.

Cabinet Secretary briefed about the action taken to ensure supply of petroleum products, particularly LNG/LPG, and sufficient power availability. Sources are being diversified for procurement of LPG with new inflows from different countries. Similarly, Liquefied Natural Gas (LNG) is being sourced from different countries. He further briefed that LPG prices for domestic consumers have remained the same and Anti-diversion enforcement to curb hoarding and black marketing of LPG is being conducted regularly.

Initiatives have also been taken to expand Piped Natural Gas connections. Measures like exempting the gas-based power plants with a capacity of 7-8 GW from gas pooling mechanism and increasing of rake for positioning more coal at thermal power stations etc. have also been taken to ensure availability of power during the peak summer months.

Further, interventions proposed to be taken for emerging challenges in various other sectors such as agriculture, civil aviation, shipping and logistics were also discussed.

Various efforts like maintaining urea production to meet requirements, coordinating with overseas supplies for DAP/NPKS suppliers are being taken to ensure fertilizer supply. State governments are being requested to curb black marketing, hoarding, and diversion of fertilizers through daily monitoring, raids, and strict action.

The retail prices of food commodities have been stable over the past one month. Control Rooms have been set up for constant monitoring and interaction with States/UTs on prices and enforcement of Essential Commodities Act. The prices of agricultural products , vegetables and fruits are also being monitored.

Efforts to globally diversify our sources for energy, fertilizers and other supply chains, and international initiatives for securing safe passage of vessels through the strait of Hormuz and ongoing diplomatic efforts are being taken.

Enhanced coordination, real-time communication, and proactive measures across central, state, and district levels to drive effective information dissemination and public awareness amid the evolving crisis is being undertaken.

Prime Minister assessed the availability of critical needs for the common man. He discussed availability of fertilisers in the country and steps being taken to ensure its availability in the Kharif and Rabi seasons. He said that all efforts must be made to safeguard the citizens from the impact of this conflict. Prime Minister also emphasised smooth flow of authentic information to the public to prevent misinformation and rumour mongering.

Prime Minister directed all concerned departments to take all possible measures to ameliorate the problems of citizens and sectors affected by the ongoing global situation.