جموں و کشمیر میں 1500 کروڑ روپئے سے زائد کے 84 اہم ترقیاتی پروجیکٹوں کا سنگ بنیاد رکھا اور افتتاح کیا
زراعت اور متعلقہ شعبوں میں مسابقتی بہتری (جے کے سی آئی پی) کے پروجیکٹ کا آغاز کیا جس کی قدر و قیمت 1800 کروڑ روپئے ہے
’’ عوام کو حکومت کی نیت اور پالیسیوں پر اعتماد ہے ‘‘
’’ہماری حکومت عوام کی توقعات پر پورا اتر کر اپنی کارکردگی پیش کرتی ہے اور نتائج سامنے لے کر آتی ہے‘‘
’’اس مرتبہ کے لوک سبھا انتخابات میں عوام نے اپنے مینڈیٹ کے ذریعہ استحکام کا پیغام دیا ہے‘‘
’’ہم اٹل جی کے انسانیت، جمہوریت اور کشمیریت کے تصور کو آج حقیقت میں بدلتے ہوئے دیکھ رہے ہیں‘‘
’’میں جمہوریت کے پرچم کو سربلند رکھنے کے لیے آپ کی کوششوں کا شکریہ ادا کرنے آیا ہوں ‘‘
’’ آج ہندوستان کا آئین جموں و کشمیر میں صحیح معنوں میں نافذ ہو چکا ہے۔ آرٹیکل 370 کی دیواریں گرا دی گئی ہیں۔ ‘‘
’’ ہم دل اور دِلی کی دوریوں کو ختم کرنے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں ‘‘
’’ وہ دن دور نہیں جب آپ اپنے ووٹ کے ذریعہ جموں و کشمیر کی نئی حکومت منتخب کریں گے۔ وہ دن جلد ہی آئے گا جب جموں و کشمیر ایک مرتبہ پھر ایک ریاست کے طور پر اپنا مستقبل تشکیل دے گا ‘‘
’’ وادی دھیرے دھیرے اسٹارٹ اپس، ہنرمندی ترقیات اور کھیلوں کے ایک بڑے مرکز کے طور پر ابھر رہی ہے‘‘
’’ جموں و کشمیر کی نئی نسل مستقل امن کے ساتھ زندگی بسر کرے گی ‘‘

وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج جموں و کشمیر کے سری نگر میں واقع شیرِ کشمیر انٹرنیشنل کانفرنس سینٹر (ایس کے آئی سی سی) میں ’نوجوانوں کی اختیارکاری، جموں و کشمیر کا تغیر ‘ کے موضوع پر منعقدہ پروگرام سے خطاب کیا۔ وزیر اعظم نے جموں و کشمیر میں 1,500 کروڑ روپئے سے زائد کے متعدد ترقیاتی پروجیکٹوں کا افتتاح اور سنگ بنیاد رکھا جس میں سڑک، پانی کی فراہمی اور اعلیٰ تعلیم میں بنیادی ڈھانچے کے شعبوں کو شامل کیا گیا ہے۔ انہوں نے 1,800 کروڑ روپئے کے زراعت اور اس سے منسلک شعبوں کے پروجیکٹ (جے کے سی آئی پی) میں مسابقتی بہتری کا بھی آغاز کیا۔ جناب مودی نے 200 نئی سرکاری بھرتیوں کو تقرری نامے دینے کی بھی شروعات کی۔ اس موقع پر وزیر اعظم نے نمائش کا جائزہ لیا اور مرکز کے زیر انتظام علاقے کے کامیاب نوجوان سے بات چیت کی۔

اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے جموں و کشمیر کے اپنے دورے کے بارے میں جوش کا اظہار کیا اور اس کی دو مخصوص وجوہات کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا، ’’سب سے پہلے، آج کی تقریب جموں و کشمیر میں ترقیاتی منصوبوں کے افتتاح اور سنگ بنیاد رکھنے سے متعلق ہے اور دوسری بات یہ کہ لوک سبھا انتخابات کے بعد جموں و کشمیر کے لوگوں سے یہ پہلی ملاقات ہے۔‘‘ جی7 سربراہ اجلاس کے لیے اپنے حالیہ دورہ اٹلی کو یاد کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے تین میعاد تک حکومت کے تسلسل کے اثرات کو اجاگر کیا کیونکہ اس نے ہندوستان کی جانب دیکھنے کا دنیا کا نظریہ بدل دیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہندوستانیوں کی ہمہ وقت بلند خواہشات ہی ملک کی سب سے بڑی طاقت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ اعلیٰ خواہش حکومت سے بہت زیادہ توقعات کا باعث بنتی ہے اور اس پس منظر میں حکومت کی مسلسل تیسری مدت کار خاص ہے کیونکہ ایک پرامید معاشرے کا واحد پیرامیٹر کارکردگی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ "لوگوں کو حکومت کی نیت اور پالیسیوں پر اعتماد ہے۔"

 

وزیر اعظم نے کہا کہ اس لوک سبھا انتخابات میں عوام کے مینڈیٹ کا بڑا پیغام استحکام کا ہے۔ انہوں نے گذشتہ صدی کی آخری دہائی میں غیر مستحکم حکومتوں کے طویل دور کو یاد کیا جب ملک نے 10 برسوں میں 5 انتخابات دیکھے جس کے نتیجے میں ترقی رک گئی۔ "اس مرحلے کو پیچھے چھوڑ کر، ہندوستان اب مستحکم حکومت کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے جس کی وجہ سے جمہوریت مضبوط ہو رہی ہے۔" انہوں نے جمہوریت کی اس مضبوطی میں جموں و کشمیر کے لوگوں کے کردار کا بھی ذکر کیا۔ وزیر اعظم مودی نے کہا کہ ’’ہم اٹل جی کے نظریہ انسانیت، جمہوریت اور کشمیریت کو آج حقیقت میں بدلتے ہوئے دیکھ رہے ہیں۔‘‘ حالیہ انتخابات میں ریکارڈ ووٹر ٹرن آؤٹ کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے جموں و کشمیر کے عوام کے جمہوریت پر اعتماد کی تعریف کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ میں جمہوریت کے پرچم کو بلند رکھنے کے لیے آپ کی کوششوں کا شکریہ ادا کرنے آیا ہوں۔

وزیر اعظم مودی نے کہا کہ "جموں و کشمیر میں تبدیلی حکومت کے ذریعہ گذشتہ 10 برسوں میں کیے گئے کاموں کا نتیجہ ہے۔" اس بات کی نشاندہی کرتے ہوئے کہ خطے میں کم آمدنی والی خواتین اور لوگوں کو ان کے حقوق سے محروم رکھا گیا ہے، وزیر اعظم نے کہا کہ موجودہ حکومت نے 'سب کا ساتھ سب کا وکاس' کے اصول کو اپناتے ہوئے مواقع فراہم کرنے اور ان کے حقوق کی بحالی کے لیے کام کیا۔ وزیر اعظم نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ پاکستان سے ہجرت کرنے والے مہاجرین، والمیکی برادری کے لوگوں اور صفائی ملازمین کے خاندانوں کو پہلی بار ووٹنگ کا حق ملا ہے۔ انہوں نے والمیکی برادری کی دیرینہ خواہش کو پورا کرنے کا بھی ذکر کیا کہ انہیں ایس سی زمرے میں شامل کیا جائے، قانون ساز اسمبلی میں ایس سی طبقہ کے لیے نشستیں ریزرویشن کی جائیں، اور ایس سی زمرے میں پڈاری قبیلے، پہاڑیہ ذات، گڈا برہمن اور کولی برادری کو شامل کیا جائے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ او بی سی ریزرویشن پنچایت، نگر پالیکا اور نگر نگم انتخابات میں لاگو کیا گیا ہے۔ ہندوستان کے آئین کی طاقت اور اس کی اصل روح میں اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ یہ ہندوستان کے 140 کروڑ شہریوں کے حقوق کا تحفظ کرتا ہے اور ملک تعمیر میں شراکت دار بننے کے مواقع فراہم کرتا ہے۔ وزیر اعظم مودی نے ہندوستان کے آئین کو قبول نہ کرنے اور آزادی کے بعد سے جموں و کشمیر کو نظر انداز کرنے پر بھی افسوس کا اظہار کیا۔ وزیر اعظم نے فخر کے ساتھ کہا ،"مجھے خوشی ہے کہ آج ہم ہندوستانی آئین کے زیر سایہ زندگی گزار رہے ہیں۔ آئین کے ذریعے ہم کشمیر کا چہرہ بدلنے کے نئے طریقے تلاش کر رہے ہیں۔بھارت کے آئین کو بالآخر جموں و کشمیر نے صحیح معنوں میں اپنا لیا ہے"۔ وزیر اعظم مودی نے کہا، "آرٹیکل 370 کی دیواریں گرا دی گئی ہیں۔"

 

گزشتہ 10 برسوں میں کشمیر میں ہونے والی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ دنیا وادی کشمیر میں حالیہ تبدیلیوں کی گواہ ہے۔ یہ جی20 سربراہ اجلاس کے دوران وادی کے لوگوں کی مہمان نوازی کے لیے ان کی تعریف کرتی رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وادی میں جی 20 سربراہ اجلاس جیسے عالمی پروگرام کے انعقاد نے کشمیری عوام کا سر فخر سے بلند کیا ہے۔ بچوں کو لال چوک پر شام دیر گئے تک کھیلتے دیکھ کر ہر ہندوستانی کا دل خوشی سے بھر جاتا ہے۔ اسی طرح وادی کے پررونق بازار ہر کسی کے چہرے کو منور کرتے ہیں۔ اس سال مارچ میں ڈل جھیل کے قریب منعقدہ اسپورٹس کار شو کو یاد کرتے ہوئے جناب مودی نے کہا کہ پوری دنیا نے اس پروگرام کو دیکھا، جو وادی میں ترقی کا گواہ بن کر کھڑا ہے۔ انہوں نے اس بات کا ذکر کیا کہ کس طرح کشمیر میں سیاحت کا ذکر ہو رہا  ہے، انہوں نے مزید کہا کہ کل کا بین الاقوامی یوگا ڈے پروگرام یہاں اور بھی زیادہ سیاحوں کو راغب کرے گا۔ لیفٹیننٹ گورنر سنہا کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ وادی کا دورہ کرنے والے 2 کروڑ سے زیادہ سیاحوں کی تعداد ریکارڈ توڑ ہے اور مقامی معیشت میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

وزیر اعظم مودی نے زور دیا، "میں اپنے آپ کو پوری لگن اور ایمانداری کے ساتھ وقف کر رہا ہوں تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ پچھلی نسل کے مصائب سے نکلنے کا راستہ تلاش کیا جا سکے۔ ہم تمام دوریوں کو دور کرنے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں،  چاہے وہ دل کی ہوں یا دِلی کی”۔ انہوں نے جمہوریت کے ثمرات ہر خاندان اور فرد تک پہنچنے کو یقینی بنانے کے لیے اجتماعی کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی امداد کا ہر پیسہ جموں و کشمیر کے لوگوں کی فلاح و بہبود پر خرچ کیا جاتا ہے۔ وزیر اعظم نے کہا، "جموں و کشمیر کے عوام اپنے نمائندے کا انتخاب کریں اور ان کے ذریعے اپنے مسائل کو حل کریں اس سے بہتر اور کیا ہو سکتا ہے۔ اس لیے اسمبلی انتخابات کی تیاریاں شروع کر دی گئی ہیں۔ وہ دن دور نہیں جب آپ جموں و کشمیر کی نئی حکومت اپنے ووٹ سے منتخب کریں گے۔ وہ دن جلد ہی آئے گا جب جموں و کشمیر ایک بار پھر ایک ریاست کے طور پر اپنے مستقبل کی تشکیل کرے گا”۔

 

جن پروجیکٹوں کا سنگ بنیاد رکھا گیا یا افتتاح کیا گیا ان کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے 1,500 کروڑ روپئے سے زیادہ کے بڑے ترقیاتی پروجیکٹوں اور 1,800 کروڑ روپئے کے زرعی اور متعلقہ شعبے (جے کے سی آئی پی) کے پروجیکٹ کا ذکر کیا۔ انہوں نے سرکاری ملازمتوں میں تیز رفتار بھرتیوں کے لیے مرکز کے زیر انتظام علاقے کی انتظامیہ کی تعریف کی اور بتایا کہ گزشتہ 5 برسوں میں تقریباً 40,000 بھرتیاں کی گئیں۔ انہوں نے جموں و کشمیر میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کے مثبت اثرات کا بھی ذکر کیا۔

کشمیر میں ترقی کی ستائش کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ آج وادی تقریباً ہر محاذ پر بڑے ترقیاتی کاموں کا مشاہدہ کر رہی ہے جس میں ریل رابطہ، تعلیم، صحت کے بنیادی ڈھانچے، بجلی اور پانی شامل ہیں۔ انہوں نے روشنی ڈالی کہ پردھان منتری گرامین سڑک یوجنا کے تحت ہزاروں کلومیٹر سڑکیں بنائی گئی ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ نئی شاہراہوں اور ایکسپریس وے کے علاوہ وادی کو ریلوے سے بھی جوڑا جائے گا۔ چناب ریلوے پل کا دلکش نظارہ ہر کسی کو فخر سے بھر دیتا ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ شمالی کشمیر کی وادی گریز نے پہلی بار گرڈ کنیکٹیویٹی تک رسائی حاصل کی۔ جناب مودی نے اس بات کا اعادہ کیا کہ آج وادی زراعت ، باغبانی سے لے کر کھیلوں اور اسٹارٹ اپس تک ہر شعبے میں مواقع سے بھری پڑی ہے۔

 

گزشتہ 10 برسوں میں کشمیر میں ہونے والی ترقی کی ستائش کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ وادی آہستہ آہستہ اسٹارٹ اپس، ہنر مندی کی ترقی اور کھیلوں کے ایک بڑے مرکز کے طور پر ابھر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ وادی کے تقریباً 70 فیصد سے زائد زرعی شعبے اسٹارٹ اپس پر مشتمل ہیں،  انہوں نے مزید کہا گذشتہ چند برسوں میں وادی 50 سے زائد ڈگری کالج قائم کیے گئے ہیں۔ انہوں نے آگے کہا، ’’پولی ٹیکنک میں نشستوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ نئی ہنر سیکھنے کے لیے مواقع میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔ آئی آئی ٹی، آئی آئی ایم، اور ایمس تعمیر کیے جا رہے ہیں جبکہ متعدد نئی طبی کالج تعمیر کیے جا چکے ہیں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ سیاحت و میزبانی کے شعبے میں مقامی سطح پر نئی ہنرمندیاں پیدا کی جا رہی ہیں۔وزیر اعظم نے ٹورسٹ گائیڈز کے لیے آن لائن کورسز شروع کرنے اور اسکولوں کالجوں یونیورسٹیوں میں یوتھ ٹورازم کلب قائم کرنے کی بھی تجویز دی... یہ سارے کام آج کشمیر میں ہو رہے ہیں۔

وزیر اعظم نے جموں و کشمیر کی ناری شکتی پر ترقیاتی کاموں کے مثبت اثرات کو اجاگر کیا۔ انہوں نے مقامی سیلف ہیلپ گروپس کی خواتین کو دی جانے والی سیاحت اور آئی ٹی کی تربیت کا بھی ذکر کیا۔

 

دو دن پہلے کرشی سکھی پروگرام کی شروعات کے بارے میں بات کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے بتایا کہ جموں و کشمیر کی 1200 سے زیادہ خواتین کرشی سکھیوں کے طور پر کام کر رہی ہیں۔ انہوں نے نمو ڈرون دیدی پروگرام کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ اس اسکیم کے تحت جموں و کشمیر کی بیٹیوں کو تربیت دی جارہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا، "حکومت خواتین کی آمدنی میں اضافہ کرنے اور روزی روٹی کمانے کے مواقع فراہم کرنے کے لیے یہ کوششیں کر رہی ہے۔"

وزیر اعظم نے اِن دو شعبوں میں جموں و کشمیر کی صلاحیتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا،"ہندوستان سیاحت اور کھیلوں میں ایک بڑی عالمی طاقت بننے کی جانب گامزن ہے"۔ انہوں نے جموں و کشمیر کے ہر ضلع میں کھیلوں کے بہترین بنیادی ڈھانچے کی ترقی پر روشنی ڈالی اور تقریباً 100 کھیلو انڈیا مراکز کی تعمیر کا ذکر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ جموں و کشمیر کے تقریباً 4500 نوجوانوں کو قومی اور بین الاقوامی مقابلوں کے لیے تربیت دی جا رہی ہے۔ سرمائی کھیلوں کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے کہا کہ کہ جموں و کشمیر ہندوستان کا سرمائی کھیلوں کا مرکز بنتا جا رہا ہے۔ انہوں نے اس سال فروری میں کھیلو انڈیا سرمائی کھیلوں کے حال ہی میں ختم ہونے والے چوتھے ایڈیشن کے بارے میں بھی بات کی جس میں ملک بھر سے 800 سے زیادہ کھلاڑیوں کی شرکت ملاحظہ کی گئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس طرح کی تقریبات مستقبل میں یہاں بین الاقوامی کھیلوں کے مقابلوں کے لیے نئے امکانات پیدا کریں گی۔

 

وزیر اعظم نے جموں و کشمیر کے لوگوں کو امن اور انسانیت کے دشمنوں سے خبردار کیا جو ترقی کے مخالف ہیں۔ جناب مودی نے زور دے کر کہا، " یہاں امن قائم نہ ہو اس امر کو یقینی بنانے کے لیے یہ جموں و کشمیر کی ترقی کو روکنے کی ان کی آخری کوشش ہے"۔انہوں نے زور دے کر کہا کہ حکومت نے دہشت گردی کے حالیہ واقعات کا سنجیدگی سے نوٹس لیا ہے اور مرکزی وزیر داخلہ نے جموں و کشمیر انتظامیہ کے ساتھ مل کر تمام انتظامات کا جائزہ لیا ہے۔ وزیر اعظم نے دہرایا، "میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ جموں و کشمیر کے دشمنوں کو سبق سکھانے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا جائے گا۔ جموں و کشمیر کی نئی نسل مستقل امن سے رہے گی۔ ہم جموں و کشمیر کے منتخب کردہ ترقی کے راستے کو مضبوط بنائیں گے۔ وزیر اعظم نے آج کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے جموں و کشمیر کے عوام کو مبارکباد دیتے ہوئے اپنا خطاب مکمل کیا۔

 

اس موقع پر جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر جناب منوج سنہا اور آیوش کے مرکزی وزیر مملکت  (آزادانہ چارج) جناب پرتاپ راؤ جادھو  بھی موجود تھے۔

پس منظر

’نوجوانوں کی اختیارکاری، جموں و کشمیر کا تغیر‘نامی یہ تقریب خطے کے لیے اہم ہے، جو ترقی کو ظاہر کرتی ہے اور کامیاب نوجوانوں کو حوصلہ افزائی فراہم کرتی ہے۔

وزیر اعظم نے 1500 کروڑ روپئے سے زیادہ مالیت کے 84 بڑے ترقیاتی پروجیکٹوں کا سنگ بنیاد رکھا  اور افتتاح کیا۔ افتتاح میں سڑکوں کے بنیادی ڈھانچے، آبی سپلائی کی اسکیموں اور اعلیٰ تعلیم میں بنیادی ڈھانچے وغیرہ سے متعلق منصوبے شامل ہوں گے۔ مزید برآں، وزیر اعظم نے چنانی-پٹنی ٹاپ-ناشری سیکشن کی بہتری، صنعتی زمین کی ترقی اور 6گورنمنٹ ڈگری کالجوں کے تعمیراتی منصوبوں کا سنگ بنیاد رکھا۔

 

وزیر اعظم نے 1,800 کروڑ روپئے کے زرعی اور متعلقہ شعبوں میں مسابقتی بہتری (جے کے سی آئی پی) پروجیکٹ کا آغاز کیا۔ یہ پروجیکٹ جموں و کشمیر کے 20 اضلاع کے 90 بلاکوں میں نافذ کیا جائے گا، اور اس پروجیکٹ کی رسائی 300,000 گھرانوں تک ہوگی جس میں 15 لاکھ مستفیدین شامل ہوں گے۔ ان پروجیکٹوں کا سنگ بنیاد/ افتتاح اور آغاز نوجوانوں کو بااختیار بنائے گا اور جموں و کشمیر میں بنیادی ڈھانچے کو اپ گریڈ کرے گا۔

وزیراعظم نے سرکاری ملازمت میں تقرری حاصل کرنے والے 2000 سے زائد افراد کے درمیان تقرری نامے بھی تقسیم کئے۔

 

تقریر کا مکمل متن پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

 

 

 

 

 

Explore More
لال قلعہ کی فصیل سے 77ویں یوم آزادی کے موقع پر وزیراعظم جناب نریندر مودی کے خطاب کا متن

Popular Speeches

لال قلعہ کی فصیل سے 77ویں یوم آزادی کے موقع پر وزیراعظم جناب نریندر مودی کے خطاب کا متن
How digital tech and AI are revolutionising primary health care in India

Media Coverage

How digital tech and AI are revolutionising primary health care in India
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Delegation from Catholic Bishops' Conference of India calls on PM
July 12, 2024

A delegation from the Catholic Bishops' Conference of India called on the Prime Minister, Shri Narendra Modi today.

The Prime Minister’s Office posted on X:

“A delegation from the Catholic Bishops' Conference of India called on PM Narendra Modi. The delegation included Most Rev. Andrews Thazhath, Rt. Rev. Joseph Mar Thomas, Most Rev. Dr. Anil Joseph Thomas Couto and Rev. Fr. Sajimon Joseph Koyickal.”