‘‘ہندوستان کے نوجوانوں کے درمیان پہلی عوامی شمولیت پر خوشی ہے’’
‘‘بھارتی داسن یونیورسٹی ایک مضبوط اور پختہ بنیاد پر شروع ہوئی’’
‘‘یونیورسٹیاں کسی بھی ملک کو سمت دینے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں’’
‘‘ہماری قوم اور اس کی تہذیب ہمیشہ علم پر مرکوز رہی ہے’’
‘‘مجھے نوجوانوں کی صلاحیت پر یقین ہے کہ وہ 2047 تک کے سالوں کو ہماری تاریخ میں سب سے اہم بنائیں گے’’
‘‘نوجوان کا مطلب توانائی ہے۔ اس کا مطلب رفتار، مہارت اور پیمانے کے ساتھ کام کرنے کی صلاحیت ہے ’’
‘‘ہر عالمی حل کے حصے کے طور پر ہندوستان کا خیرمقدم کیا جا رہا ہے’’
‘‘کئی معنوں میں ، مقامی اور عالمی عوامل کی وجہ سے، اس وقت ہندوستان میں نو جوان ہونے کا بہترین فائدہ ہے’’

وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج تمل ناڈو کے تروچیراپلی میں بھرتی داسن یونیورسٹی کے 38ویں  تقسیم اسناد  کی تقریب سے خطاب کیا۔ انہوں نے یونیورسٹی کے ہونہار طلباء کو ایوارڈزسے  بھی نوازا۔

 

اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے  تبصرہ کیاکہ بھارتی داسن یونیورسٹی کی 38ویں کانووکیشن تقریب انتہائی خاص ہے کیونکہ یہ نئے سال 2024 میں ان کی پہلی عوامی بات چیت ہے۔ انہوں نے تمل ناڈو کی خوبصورت ریاست میں اور نوجوانوں کے درمیان موجود ہونے پر خوشی کا اظہار کیا۔ وزیر اعظم مودی نے بھرتی داسن یونیورسٹی میں کانووکیشن کی تقریب میں شرکت کرنے والے پہلے وزیر اعظم بننے پر مسرت  کا اظہار کیا  اور انہوں نے اس موقع پر فارغ التحصیل طلباء، ان کے اساتذہ اور والدین کو دلی مبارکباد پیش کی۔

وزیر اعظم نے کہا کہ یونیورسٹی کا قیام عام طور پر ایک قانون سازی کا عمل ہوتا ہے اور آہستہ آہستہ نئے کالجوں کا الحاق ہوتا ہے اور یونیورسٹی ترقی کرتی ہے، تاہم، بھرتی داسن یونیورسٹی کو مختلف طریقے سے بنایا گیا تھا کیونکہ بہت سے موجودہ نامور کالجوں کو ایک ساتھ لایا گیا تھا تاکہ یونیورسٹی کی تشکیل کی جا سکے اور ایک  مضبوط  اورباوقار یونیورسٹی فراہم کی جا سکے ۔ ایک پختہ بنیا د یونیورسٹی کو بہت سے ڈومین میں مؤثر بناتی ہے۔

 

وزیر اعظم نے نالندہ اور تکشیلا کی قدیم یونیورسٹیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ‘‘ہماری قوم اور اس کی تہذیب ہمیشہ علم کے گرد مرکوز رہی ہے’’۔ انہوں نے کانچی پورم، گنگائی کونڈہ چولاپورم اور مدورائی میں عظیم یونیورسٹیوں کا گھر ہونے کا بھی تذکرہ کیا جہاں دنیا بھر سے طلباء کثرت سے آتے تھے۔

تقسیم  اسنادکی تقریب   کے قدیم ہونے کے تصور کے بارے میں بات کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے تمل سنگمم کی مثال دی جہاں شاعروں اور دانشوروں نے تجزیہ کے لیے شاعری اور ادب پیش کیا ،جس کی وجہ سے ان کاموں کو ایک بڑے سماج نے تسلیم کیا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ یہ منطق آج بھی تعلیمی شعبوں  اور اعلیٰ تعلیم میں استعمال ہوتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا ‘‘نوجوان طلباء علم کی ایک عظیم تاریخی روایت کا حصہ ہیں’’ ۔

 

ملک  کو سمت دینے میں یونیورسٹیوں کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے وزیراعظم نے ذکر کیا کہ کس طرح متحرک یونیورسٹیوں کی وجہ سے قوم اور تہذیب دونوں  متحرک تھیں۔ انہوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ ملک کے علمی نظام کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب ملک حملہ کی زد میں تھا۔ مہاتما گاندھی، پنڈت مدن موہن مالویہ اور سر انامالائی چیٹیار کا ذکر کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ انہوں نے 20ویں صدی کے اوائل میں یونیورسٹیاں شروع کیں جو آزادی کی جدوجہد کے دوران علم اور قوم پرستی کا مرکز بن گئیں۔ اسی طرح، وزیر اعظم نے کہا کہ ہندوستان کے عروج کے پیچھے پوشیدہ  عوامل میں سے ایک اس کی یونیورسٹیوں کا عروج ہے۔ انہوں نے ہندوستان کا اقتصادی ترقی میں ریکارڈ قائم کرنے، پانچویں سب سے تیزی سے ترقی کرنے والی بڑی معیشت بننے اور ہندوستانی یونیورسٹیوں نے ریکارڈ تعداد میں عالمی درجہ بندی میں اپنی جگہ بنانے کا ذکر کیا۔

وزیراعظم نے نوجوان اسکالرز سے کہا کہ وہ تعلیم کے مقصد کے بارے میں گہرائی سے سوچیں اور  یہ کہ معاشرہ اساتذہ  کو کس نظر سے دیکھتا ہے۔ انہوں نے گرودیو رابندر ناتھ ٹیگور کا حوالہ دیا کہ کس طرح تعلیم ہمیں تمام وجود کے ساتھ ہم آہنگی کے ساتھ رہنا سکھاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ طلباء کو آج تک لانے میں پورے معاشرے نے کردار ادا کیا ہے اور انھوں نے انھیں  واپس دینے، ایک بہتر معاشرہ اور ملک بنانے کی اہمیت پر زور دیا ہے۔ انھوں نے کہا ‘‘ایک طرح سے، یہاں کا ہر گریجویٹ 2047 تک ایک ترقی یافتہ ہندوستان بنانے میں اپنا حصہ ڈال سکتا ہے’’۔

 

وزیراعظم نے 2047 تک کے سال کو قوم کی تاریخ کا اہم ترین سال بنانے کے لیے نوجوانوں کی صلاحیت پر اپنے اعتماد کا اعادہ کیا۔ یونیورسٹی کے نصب العین کا حوالہ دیتے ہوئے- ‘آئیے ہم ایک بہادر نئی دنیا بنائیں’، وزیر اعظم نے کہا کہ ہندوستانی نوجوان پہلے ہی ایسی دنیا بنا رہے ہیں۔ انہوں نے وبائی امراض کے دوران ویکسین بنانے میں نوجوان ہندوستانیوں کے تعاون  چندریان ، اور پیٹنٹ کی تعداد 2014 میں 4000 سے بڑھ کر اب تقریباً 50,000 ہونے کا ذکر کیا۔ انہوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ ہندوستان کے ہیومینیٹیز اسکالرز ہندوستان کی کہانی کو اس طرح پیش کررہے ہیں جیسا کہ پہلے کبھی نہیں تھا۔ انہوں نے کھلاڑیوں، موسیقاروں، فنکاروں کی کامیابیوں پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے مزید کہا،‘‘آپ اس دنیا میں داخل ہو رہے ہیں جب ہر کوئی آپ کو ہر شعبے میں نئی امید کے ساتھ دیکھ رہا ہے’’۔

‘‘نوجوان کا مطلب توانائی ہے۔ اس کا مطلب  رفتار، مہارت اور پیمانے کے ساتھ کام کرنے کی صلاحیت ہے’’، وزیر اعظم نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ حکومت گزشتہ چند سالوں میں اسی رفتار اور پیمانے کے ساتھ طلباء کو ملانے کے لیے کام کر رہی ہے۔ گزشتہ دس سالوں میں، وزیر اعظم نے ملک میں ہوائی اڈوں کی تعداد 74 سے تقریباً 150 تک دگنا کرنے، تمام بڑی بندرگاہوں کی کارگو ہینڈلنگ کی صلاحیت کو دوگنا کرنے، ہائی ویز کی تعمیر کی رفتار اور پیمانے کو دوگنا کرنے اور اسٹارٹ اپس کی  بڑھتی تعداد کا ذکر کیاجو 2014 میں 100 سے  بڑھ کر تقریباً 1 لاکھ ہو گئی۔ انہوں نے ہندوستان کے بارے میں بھی بات کی کہ وہ اہم معیشتوں کے ساتھ متعدد تجارتی سودے حاصل کر رہا ہے جس سے ہندوستان کے  لئے سامان اور خدمات کے شعبے میں  نئی منڈیاں کھلیں گی، جبکہ نوجوانوں کے لئے بے شمار مواقع پیدا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہر عالمی حل کے ایک حصے کے طور پر ہندوستان کا خیرمقدم کیا جا رہا ہے اس تناظرمیں  انہوں نے جی 20 جیسے اداروں کو مضبوط بنانے، موسمیاتی تبدیلی سے لڑنے اور عالمی سپلائی چین میں بڑا کردار ادا کرنے کا ذکر کیا۔ وزیراعظم نے کہا‘‘کئی معنوں میں ، مقامی اور عالمی عوامل کی وجہ سے، یہ ہندوستان میں نو جوان ہونے کا بہترین فائدہ ہے’’، انہوں نے طلباء سے اس وقت کا زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے اور ملک کو نئی بلندیوں تک لے جانے کی تاکید کی۔

 

یہ نوٹ کرتے ہوئے کہ یونیورسٹی کا سفر آج اپنے اختتام کو پہنچ رہا ہے، وزیر اعظم نے زوردیکرکہا کہ سیکھنے کے سفر کی کوئی انتہا نہیں ہے۔ انھوں نے کہا ‘‘زندگی اب آپ کی استاد بن جائے گی’’۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مسلسل سیکھنے کے جذبے ، دوبارہ ہنر مند بنانے اور اپ سکلنگ پر فعال طور پر کام کرنا ضروری ہے۔، وزیر اعظم مودی نے یہ کہتے ہوئے  اپنا خطاب ختم کیا ‘‘تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا میں، یا تو آپ تبدیلی کو چلاتے ہیں یا تبدیلی آپ کو چلاتی ہے’’ ۔

 

اس موقع پر تمل ناڈو کے گورنر اور بھرتی داسن یونیورسٹی کے چانسلر،  جناب آر این روی،  تمل ناڈو کے وزیراعلیٰ جناب ایم کے اسٹالن، وائس چانسلر، ڈاکٹر ایم سیلوم، اور پرو چانسلر،جناب  آر ایس راجکنپن موجود تھے۔

 

تقریر کا مکمل متن پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
India’s 5G traffic surges 70% Y-o-Y: Nokia report

Media Coverage

India’s 5G traffic surges 70% Y-o-Y: Nokia report
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
PM chairs CCS Meeting to review measures being taken in the context of ongoing West Asia Conflict
April 01, 2026
Interventions across agriculture, fertilizers, shipping, aviation, logistics and MSMEs to mitigate emerging challenges discussed
Supply diversification for LPG and LNG, fuel duty reduction and power sector measures reviewed to ensure stability of essential supplies
Steps being taken to ensure stable prices of essential commodities and strict action against hoarding and black-marketing
Control Rooms set up for constant monitoring and interaction with States/UTs on prices and enforcement of Essential Commodities Act
Various efforts being taken to ensure fertilizer supply such as maintaining Urea Production and coordination with overseas suppliers for DAP/NPKS supplies
PM assesses availability of critical needs for the common man
PM discusses availability of fertilisers in the country and steps being taken to ensure its availability in the Kharif and Rabi seasons
PM directs that all efforts must be made to safeguard the citizens from the impact of this conflict
PM underlines the need for timely & smooth flow of authentic information to the public to prevent misinformation and rumour mongering
Enough coal stock exists which shall serve power needs adequately in coming months

Prime Minister Shri Narendra Modi a special of the Cabinet Committee on Security (CCS) to review measures taken by various Ministries/Departments and also discussed further initiatives to be taken in the context of the ongoing West Asia conflict, at 7 Lok Kalyan Marg today. This was the second special CCS meeting on this issue.

Cabinet Secretary briefed about the action taken to ensure supply of petroleum products, particularly LNG/LPG, and sufficient power availability. Sources are being diversified for procurement of LPG with new inflows from different countries. Similarly, Liquefied Natural Gas (LNG) is being sourced from different countries. He further briefed that LPG prices for domestic consumers have remained the same and Anti-diversion enforcement to curb hoarding and black marketing of LPG is being conducted regularly.

Initiatives have also been taken to expand Piped Natural Gas connections. Measures like exempting the gas-based power plants with a capacity of 7-8 GW from gas pooling mechanism and increasing of rake for positioning more coal at thermal power stations etc. have also been taken to ensure availability of power during the peak summer months.

Further, interventions proposed to be taken for emerging challenges in various other sectors such as agriculture, civil aviation, shipping and logistics were also discussed.

Various efforts like maintaining urea production to meet requirements, coordinating with overseas supplies for DAP/NPKS suppliers are being taken to ensure fertilizer supply. State governments are being requested to curb black marketing, hoarding, and diversion of fertilizers through daily monitoring, raids, and strict action.

The retail prices of food commodities have been stable over the past one month. Control Rooms have been set up for constant monitoring and interaction with States/UTs on prices and enforcement of Essential Commodities Act. The prices of agricultural products , vegetables and fruits are also being monitored.

Efforts to globally diversify our sources for energy, fertilizers and other supply chains, and international initiatives for securing safe passage of vessels through the strait of Hormuz and ongoing diplomatic efforts are being taken.

Enhanced coordination, real-time communication, and proactive measures across central, state, and district levels to drive effective information dissemination and public awareness amid the evolving crisis is being undertaken.

Prime Minister assessed the availability of critical needs for the common man. He discussed availability of fertilisers in the country and steps being taken to ensure its availability in the Kharif and Rabi seasons. He said that all efforts must be made to safeguard the citizens from the impact of this conflict. Prime Minister also emphasised smooth flow of authentic information to the public to prevent misinformation and rumour mongering.

Prime Minister directed all concerned departments to take all possible measures to ameliorate the problems of citizens and sectors affected by the ongoing global situation.