عزت مآب، صدرمعزو،

دونوں ممالک کے مندوبین

میڈیا کےہمارے ساتھی

سب کو نمسکار!

سب سے پہلے، میں صدرمعزو اور ان کے وفد کا پرتپاک استقبال کرتا ہوں۔

ہندوستان اور مالدیپ کے تعلقات صدیوں پرانے ہیں۔

اور ہندوستان مالدیپ کا سب سے قریبی پڑوسی اور گہرا دوست ہے۔

مالدیپ کا ہماری "پڑوس سب سے پہلے" پالیسی اور "ساگر" ویژن دونوں میں اہم مقام ہے۔

ہندوستان نے ہمیشہ مالدیپ کے لیے ‘‘فرسٹ ریسپانڈر ’’(پہلے جواب دہندہ)  کا کردار ادا کیا ہے۔

چاہے مالدیپ کے لوگوں کے لیے بنیادی  اشیاء کی ضروریات کو پورا کرنا ہو،

قدرتی آفات کے دوران پینے کے پانی کی فراہمی کو،

کووڈ کے وقت ویکسین دینے کی بات ہو،

بھارت نے ہمیشہ اپنے پڑوسی ہونے کی ذمہ داری نبھائی ہے۔

اور آج، ہم نے اپنے باہمی تعاون کو اسٹریٹجک سمت دینے کے لیے "جامع اقتصادی اور میری ٹائم سیکورٹی پارٹنرشپ" کے وژن کو اپنایا ہے۔

 

 

دوستو

ترقیاتی شراکت داری ہمارے تعلقات کا ایک اہم ستون ہے۔

اور ہم نے ہمیشہ مالدیپ کے عوام کی ترجیحات کو اولیت  دی ہے۔

اس سال ایس بی آئی نے مالدیپ کے 100 ملین ڈالر کے "ٹریژری بلز" کا رول اوور  کیا ہے۔

آج مالدیپ کی ضرورت کے مطابق 400 ملین ڈالر اور تین ہزار کروڑ روپے کا کرنسی سویپ معاہدہ بھی طے ہوا ہے۔

ہم نے مالدیپ میں بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لیے جامع تعاون کے بارے میں بات کی ہے۔

آج، ہم نے دوبارہ ترقی یافتہ ہنی مادھو ہوائی اڈے کا افتتاح کیا ہے۔

اب گریٹر 'مالے کنیکٹیویٹی پروجیکٹ کو بھی تیزی لائی جائےگی۔

تھیلافُشی میں ایک نئی تجارتی بندرگاہ کی ترقی میں بھی تعاون  پیش کیا جائے گا۔

آج، ہندوستان کے تعاون سے بنائے گئے 700 سے زیادہ سماجی ہاؤسنگ یونٹس حوالے کیے گئے ہیں۔

مالدیپ کے 28 جزائر پر پانی اور سیوریج کے منصوبے مکمل کئے گئے ہیں۔

چھ دیگر جزائر پر بھی کام جلد مکمل کر لیا جائے گا۔

ان منصوبوں سے تیس ہزار لوگوں  کو صاف پانی کی فراہمی یقینی بنائیں گے۔

‘‘ہا دالو’’ میں ایگریکلچر اکنامک زون اور‘‘ہا آلیفو’’ میں فش پروسیسنگ کی سہولت کے قیام میں بھی تعاو ن پیش کیا جائے گا۔

ہم اوشنو گرافی  اور بلیو اکانومی میں بھی ساتھ  مل کر کام کریں گے۔

 

دوستو،

اقتصادی تعلقات کو مضبوط کرنے کے لئے ہم نے فری ٹریڈ اگریمنٹ پر بات چیت شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

مقامی کرنسی میں ٹریڈ سیٹلمنٹ پربھی کام کیا جائے گا۔

ہم نے ڈجیٹل کنیکٹی ویٹی پر بھی توجہ دی ہے۔

حال ہی میں مالدیپ میں روپے کارڈ لانچ کیا گیا ہے۔

آنے والے وقت میں ہندوستان اور مالدیپ کو یو پی آئی  سے  بھی جوڑنے کا کام کیا جائے گا۔

ہم نے ‘‘اڈو’’ میں ایک نیا ہندوستانی قونصل خانہ اور بنگلور میں مالدیپ کا ایک نیا قونصل خانہ کھولنے پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

یہ تمام اقدامات ہمارے عوام سے عوام کے تعلقات کو تقویت بخشیں گے۔

 

دوستو

ہم نے دفاعی اور سلامتی تعاون کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔

ایکتا ہاربر پروجیکٹ میں تیزی سے کام جاری ہے۔

ہم مالدیپ کی قومی دفاعی افواج کی تربیت اور صلاحیت کی تعمیر میں اپنا تعاون جاری رکھیں گے۔

ہم بحر ہند کے خطے میں استحکام اور خوشحالی کے لیے مل کر کام کریں گے۔

ہائیڈروگرافی اور ڈیزاسٹر رسپانس میں تعاون بڑھایا جائے گا۔

پر کولمبو سیکورٹی کانکلیو میں بانی رکن کے طور پرجڑنے کے لئے مالدیپ کا خیرمقدم ہے۔

موسمیاتی تبدیلی ہمارے دونوں ممالک کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔

اس سلسلے میں ہندوستان مالدیپ کے ساتھ شمسی اور توانائی کی کارکردگی میں اپنا تجربہ شیئر کرنے کے لیے تیار ہے۔

 

 

عزت مآب

ایک بار پھر آپ اور آپ کے وفد کا ہندوستان میں خیرمقدم ہے۔

آپ کا دورہ ہمارے تعلقات میں ایک نئے باب کا اضافہ کر رہا ہے۔

ہم مالدیپ کے عوام کی ترقی اور خوشحالی کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرتے رہیں گے۔

بہت بہت شکریہ۔

 

 

 

 

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
PM Modi Praises Farmers For Taking India's Rich Mango Heritage To Global Markets

Media Coverage

PM Modi Praises Farmers For Taking India's Rich Mango Heritage To Global Markets
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Prime Minister hold talks with Myanmar President U Min Aung Hlaing
June 01, 2026

The Prime Minister, Shri Narendra Modi, today held productive talks with the President of Myanmar, U Min Aung Hlaing.

The Prime Minister noted that India is honoured that President U Min Aung Hlaing chose India for his first foreign visit as President. He also expressed happiness that the President began his programme in India from Bodh Gaya with the blessings of Lord Buddha.

During the talks, the two leaders reviewed the full range of India-Myanmar relations and discussed ways to further strengthen bilateral cooperation.

The discussions covered avenues to deepen cooperation in trade, rare earths, healthcare, connectivity, heritage restoration and capacity building. The two sides also agreed to work closely in areas such as maritime security, cyber security and other sectors of mutual interest.

The Prime Minister underlined that Myanmar is vital to India’s ‘Neighbourhood First’, ‘Act East’ and Indo-Pacific policies, reaffirming the importance India attaches to its relations with Myanmar.

The Prime Minister wrote on X;

“Had a productive meeting with President U Min Aung Hlaing of Myanmar. We in India are honoured that he has chosen India for his first foreign visit as President. Equally gladdening is the fact that he began the visit from Bodh Gaya, with the blessings of Lord Buddha. We reviewed the full range of India-Myanmar relations. Myanmar is vital to India’s policies of ‘Neighbourhood First’, ‘Act East’ and Indo-Pacific.”

“Our talks covered ways to deepen cooperation in trade, rare earths, healthcare, connectivity, heritage restoration and capacity building. We also agreed to work closely in areas such as maritime security, cyber security and more.”