اس سال کا مرکزی بجٹ، اقتصادی ترقی کو برقرار رکھنے اور مضبوط بنانے کے ہمارے عزم کو تقویت فراہم کرتاہے: وزیر اعظم
ہماری سمت واضح ہے ، ہمارا عزم واضح ہے ، مزید تیار کریں ، زیادہ پیداوار کریں ، زیادہ مربوط ہوں ، زیادہ برآمد کریں: وزیر اعظم
دنیا قابل اعتماد اور پائیدارمینوفیکچرنگ شراکت داروں کی تلاش میں ہے اور آج ہندوستان کے پاس اس کردار کو مضبوطی سے پورا کرنے کا موقع ہے: وزیر اعظم
ہندوستان نے کئی ممالک کے ساتھ آزادانہ تجارتی معاہدوں پر دستخط کیے ہیں ، ہمارے لیے مواقع کا ایک بہت بڑا دروازہ کھل گیا ہے اور ایسی صورتحال میں معیار پر کبھی سمجھوتہ نہ کرنا ہماری ذمہ داری ہے: وزیر اعظم
کاربن کیپچر ، یوٹیلائزیشن اور اسٹوریج مشن ایک اہم پہل ہے ، بنیادی کاروباری حکمت عملی میں پائیداری کو مربوط کرنا ضروری ہوگا: وزیر اعظم
جو صنعتیں وقت پر ماحولیات کے لئے ساز گارٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کریں گی، وہ آنے والے برسوں میں نئے بازاروں تک بہتر رسائی حاصل کر سکیں گی : وزیر اعظم
آج عالمی معیشت میں ایک بڑی تبدیلی آ رہی ہے ، کیونکہ بازار اب نہ صرف لاگت بلکہ پائیداری پر بھی غور کر رہے ہیں: وزیر اعظم

وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج  "اقتصادی ترقی کو برقرار رکھنے اور مضبوط بنانے" کے موضوع پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے بجٹ ویبینار سیریز کی دوسری قسط سے خطاب کیا۔  پچھلے ہفتے کی پیش رفت پر غور کرتے ہوئے ، وزیر اعظم نے کہا کہ پہلا ویبینار انتہائی کامیاب رہا اور بجٹ کے التزامات کے نفاذ کے حوالے سے بہترین تجاویز پیش کی گئیں ۔

وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ ویبینار ملک کی اقتصادی ترقی کو مسلسل طاقت فراہم کرنے سے وابستہ ہے ۔ وزیر اعظم نے کہاکہ جیسے جیسے عالمی سپلائی چین دوبارہ تشکیل پا رہے ہیں ، ہندوستان کی مضبوط معیشت دنیا کے لیے امید کی کرن بن گئی ہے ۔  جناب مودی نے کہا کہ معیشت کی تیز رفتار ترقی وکست بھارت کی ایک بڑی بنیاد ہے ۔

حکومت کے واضح نظریئے اور ٹھوس عزم کی توثیق کرتے ہوئے ، وزیر اعظم نے کہا کہ "مزید تیار کریں ، زیادہ پیداوار کریں ، زیادہ مربوط کریں ، اور زیادہ برآمد کریں" کے بنیادی منتروں کا اعادہ کیا ۔   وزیر اعظم نے کہا  کہ "یقینی طور پر ، آج آپ کے درمیان ہونے والی بات چیت سے جو تجاویز سامنے آئیں گی ، وہ ایک اہم کردار ادا کریں گی ۔

مختلف شعبوں کے درمیان ہم آہنگی کے بارے میں خطاب کرتے ہوئے ، وزیر اعظم نے وضاحت کی کہ مینوفیکچرنگ ، لاجسٹکس ، ایم ایس ایم ای اور شہری مراکز الگ تھلگ نہیں ہیں، بلکہ ایک ہی اقتصادی ڈھانچے کے باہم جڑے ہوئے ستون ہیں ۔  انہوں نے تفصیل سے بتایا کہ کس طرح مینوفیکچرنگ برآمدات کو آگے بڑھاتی ہے، جبکہ مسابقتی ایم ایس ایم ای پائیداری اور جدت طرازی کو فروغ دیتے ہیں ۔    جناب مودی نے کہا کہ اس سال کے بجٹ نے ان تمام ستونوں کو بڑی طاقت فراہم کی ہے ۔

وزیر اعظم نے خبردار کیا کہ صنعت ، مالیاتی اداروں اور ریاستی حکومتوں کی فعال شرکت کے بغیر صرف پالیسی کی سمت سے نتائج برآمدنہیں ہوتے۔   انہوں نے متعلقہ فریقوں پر زور دیا کہ وہ مینوفیکچرنگ ، پیداوار بڑھانے اور لاگت کے ڈھانچے کو زیادہ مسابقتی بنانے پر بات چیت کو ترجیح دیں ۔  جناب مودی نے کہا کہ "اس سمت میں آپ کی تجاویز ملک کے ہر کونے تک ترقی کو پہنچانے میں اہم ثابت ہوں گی۔

 

وزیر اعظم نے بنیادی صلاحیتوں کو مستحکم کرنے اور مینوفیکچرنگ کے شعبے میں موجودہ رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے حکومت کی کوششوں پر روشنی ڈالی۔   جناب مودی نے زور دے کر کہا کہ "مخصوص  نایاب زمینی وسائل  راہداری اور کنٹینر مینوفیکچرنگ جیسے شعبوں پر توجہ مرکوز کرنے کا مقصد تجارتی ایکونظام کو تقویت بخشناہے"۔

وزیر اعظم نے بجٹ میں اعلان کردہ 'بائیوفارما شکتی مشن' پر بھی روشنی ڈالی ، جس کا مقصد ہندوستان کو حیاتیاتی اور اگلے سلسلے کے علاج  ومعالجہ کے عالمی مرکز کے طور پر قائم کرنا ہے ۔  جناب مودی نے  کہا کہ "ہم جدید بائیوفارما تحقیق اور مینوفیکچرنگ میں قیادت کی طرف بڑھنا چاہتے ہیں"۔

بدلتے ہوئے عالمی حالات کے تناظر میں ، وزیر اعظم نے کہا کہ دنیا فعال طور پر قابل اعتماد اور پائیدار مینوفیکچرنگ شراکت داروں کی تلاش کر رہی ہے ۔ انہوں نے متعلقہ فریقوں پر زور دیا کہ وہ اعتماد کے ساتھ سرمایہ کاری کریں ، جدید ترین ٹیکنالوجی کو اپنائیں ، تحقیق میں اہم سرمایہ کاری کریں اور عالمی معیار کی پیداوار کو برقرار رکھیں ۔  وزیر اعظم نے زور دے کر کہا کہ ہندوستان کے پاس اس کردار کو مضبوطی سے نبھانے کا موقع ہے ۔

آزادانہ تجارتی معاہدوں (ایف ٹی اے) کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ ان معاہدوں نے مواقع کے بڑے دروازے کھول دیے ہیں ، جس سے ہندوستانی صنعت پر معیار پر زور دینے کی نئی ذمہ داری عائد ہوئی ہے ۔  انہوں نے صارف دوست مصنوعات بنانے کے لیے بین الاقوامی صارفین کی ترجیحات اور اُن کی آسانی کی تحقیق کرنے کی ضرورت پر زور دیا ۔  جناب مودی نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ "تب ہی ہم آزادانہ  تجارتی معاہدوں سے پیدا ہونے والے مواقع سے فائدہ اٹھا سکیں گے"۔

ایم ایس ایم ای شعبے کے بارے میں ،  وزیر اعظم نے کہا کہ درجہ بندی کی حالیہ اصلاحات نے چھوٹے کاروباری اداروں میں توسیع کے خوف کو دور کر دیا ہے ۔  انہوں نے زور دے کر کہا کہ اگرچہ حکومت قرضے تک رسائی اور ٹیکنالوجی میں اپ گریڈ کی سہولت فراہم کرنا جاری رکھے ہوئے ہے ، تاہم  اصل اثر ایم ایس ایم ایز کے عالمی مقابلے میں داخل ہونے پر منحصر ہے ۔  جناب مودی نے زور دے کر کہا  کہ "اب وقت آگیا ہے کہ ایم ایس ایم ای اپنی پیداواری صلاحیت میں مزید اضافہ کریں ، اپنی پیداوار کے معیار کو بلند کریں اور ڈیجیٹل عمل اور مضبوط ویلیو چین سے جڑیں ۔

 

وزیر اعظم نے قومی ترقی کی حکمت عملی کے بنیادی ستونوں کے طور پر بنیادی ڈھانچے اور لاجسٹکس کی نشاندہی کی ، جسے اس سال کے بجٹ میں ریکارڈ سرمایہ جاتی اخراجات کی حمایت حاصل ہے ۔  انہوں نے کارکردگی کے لیے ضروری اقدامات کے طور پر تیز رفتار ریل ، کثیر ماڈل کنیکٹی ویٹی اور جہاز کی مرمت کی سہولیات کی توسیع کو اجاگر کیا ۔  انہوں نے حاضرین کو یاد دلایا کہ "اس بنیادی ڈھانچے کا اصل فائدہ تب ہی حاصل ہوگا،  جب صنعت اور سرمایہ کار اسی کے مطابق اپنی حکمت عملی کو ہم آہنگ کریں گے" ۔

شہر کاری کے بارے میں ، وزیر اعظم نے کہا کہ ہندوستان کی مستقبل کی ترقی اس کے شہروں کی موثر منصوبہ بندی اور انتظام سے منسلک ہے ۔  انہوں نے تجاویز طلب کیں کہ دوسرے  اور تیسرے درجے کے شہر کس طرح ترقی کے نئے محرک کے طور پر کام کر سکتے ہیں ۔  جناب مودی نے زور دے کر کہا کہ اس سلسلے میں پیش کی جانے والی تجاویز  نہایت اہم ہوں گی۔

وزیر اعظم نے پائیداری کی سمت عالمی سطح پر ہونے والی تبدیلی کے بارے میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بازار اب لاگت سے بالاتر ماحولیاتی اثرات کی طرف دیکھ رہے ہیں ۔  انہوں نے 'کاربن کیپچر ، یوٹیلائزیشن اینڈ اسٹوریج مشن' کو ایک اہم قدم قرار دیا اور کاروباری اداروں پر زور دیا کہ وہ ماحولیات کے لئے سازگار ٹیکنالوجی کو اپنی بنیادی کاروباری حکمت عملیوں میں ضم کریں ۔  وزیر اعظم نے کہا کہ "جو صنعتیں وقت پر ماحولیات کے لئے سازگار ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کرتی ہیں ، انہیں آنے والے برسوں میں نئے بازاروں تک بہتر رسائی حاصل ہوگی" ۔

وزیر اعظم نے وکست بھارت کے ہدف کو حاصل کرنے کے لیے "اجتماعی ملکیت" پر زور دیا ۔  انہوں نے شرکاء پر زور دیا کہ وہ بحث سے آگے دیکھیں اور حکومت کے فریم ورک کے ساتھ شراکت میں رفتار پیدا کریں ۔  وزیر اعظم نے اپنی بات ختم کرتے ہوئے کہا کہ "آپ کی ہر تجویز اور ہر تجربہ زمینی سطح پر بہترین نتائج لانے کی صلاحیت رکھتا ہے" ۔

 

تقریر کا مکمل متن پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں 

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
India records highest-ever startup surge with 55,200 recognised in FY26

Media Coverage

India records highest-ever startup surge with 55,200 recognised in FY26
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Cabinet approves Continuation of Pradhan Mantri Gram Sadak Yojana-III till March 2028
April 18, 2026

The Union Cabinet, chaired by the Prime Minister Shri Narendra Modi, today has given its approval for the continuation of Pradhan Mantri Gram Sadak Yojana-III (PMGSY-III) beyond March 2025 upto March 2028. It involves consolidation of Through Routes and Major Rural Links connecting habitations to Gramin Agricultural Markets (GrAMs), Higher Secondary Schools and Hospitals. The revised outlay of the scheme will be Rs.83,977 crore.

The Cabinet further, amongst other things, approved the following:

  • Extension of timeline till March 2028 for completion of roads and bridges in plain areas and roads in hilly areas.
  • Extension of timeline till March 2029 for completion of bridges in hilly areas.
  • Works sanctioned before 31.03.2025 but un-awarded till now may be taken up for tender/award.
  • Long Span Bridges (LSBs) (161 Nos. with estimated cost of Rs.961 crore) pending for sanction but lying on the alignment of already sanctioned roads may be sanctioned and tendered/awarded.
  • Revision of outlay to Rs. 83,977 crore from original outlay of Rs.80,250 crore.

Benefits:

The extension of the timeline of PMGSY-III will enable the full realization of its intended socio-economic benefits by ensuring completion of targeted upgradation of rural roads. It will significantly boost the rural economy and trade by enhancing market access for agricultural and non-farm products, reducing transportation time and costs, and thereby improving rural incomes. Improved connectivity will facilitate better access to education and healthcare institutions, ensuring timely delivery of essential services, particularly in remote and underserved areas.

The continued implementation will also generate substantial employment opportunities, both directly through construction activities and indirectly by promoting rural enterprises and services. Overall, the extension will contribute to inclusive and sustainable development by bridging the rural-urban divide and advancing the vision of Viksit Bharat 2047.