وزیر اعظم 7 جولائی کو چھتیس گڑھ اور اتر پردیش کا دورہ کریں گے ؛ تلنگانہ اور راجستھان کا دورہ 8 جولائی کو
وزیر اعظم رائے پور میں تقریباً 7500 کروڑ روپئے کے پروجیکٹوں کو وقف کریں گے اور سنگِ بنیاد رکھیں گے
بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لیے ایک اہم قدم کے طور پر وزیر اعظم چھتیس گڑھ میں قومی شاہراہ کے پانچ پروجیکٹوں کو قوم کے نام وقف کریں گے اور سنگ بنیاد رکھیں گے
وزیر اعظم گورکھپور کی گیتا پریس کے صد سالہ جشن کی اختتامی تقریب میں شرکت کریں گے
وزیر اعظم گورکھپور – لکھنؤ اور جودھپور – احمد آباد (سابرمتی) کو جوڑنے والی دو وندے بھارت ٹرینوں کو ہری جھنڈی دکھائیں گے
وزیر اعظم گورکھپور ریلوے اسٹیشن کی تعمیر نو کا سنگ بنیاد رکھیں گے
وزیر اعظم نے وارانسی میں 12,100 کروڑ روپئے سے زیادہ کے متعدد ترقیاتی پروجیکٹوں کا افتتاح کریں گے اور سنگ بنیاد رکھیں گے
وزیراعظم پنڈت دین دیال اپادھیائے جنکشن- سون نگر مال برداری کی خصوصی راہداری ریلوے لائن کا افتتاح کریں گے
وزیر اعظم وارانسی سے لکھنؤ کے سفر کو آسان اور تیز تر بنانے کے لیے قومی شاہراہ نمبر 56 کے وارانسی-جون پور سیکشن کے چار لین کو قوم کے نام وقف کریں گے
وزیر اعظم منی کارنیکا اور ہریش چندر گھاٹوں کی ترقی نو کا سنگِ بنیاد رکھیں گے
وزیر اعظم اتر پردیش میں استفادہ کنندگان کو پی ایم سواندھی کے قرض، پی ایم اے وائی دیہی گھروں کی چابیاں اور آیوشمان کارڈ تقسیم کریں گے
وزیر اعظم وارنگل میں تقریباً 6100 کروڑ روپئے کی مالیت کے کئی سڑک اور ریل کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے پروجیکٹوں سنگ بنیاد رکھیں گے
وزیر اعظم بیکانیر میں 24300 کروڑ روپئے سے زیادہ کے ترقیاتی پروجیکٹوں کو قوم کے نام وقف کریں گے اور سنگ بنیاد رکھیں گے
وزیر اعظم امرتسر - جام نگر اقتصادی راہداری کے چھ لین والے گرین فیلڈ ایکسپریس وے کے سیکشن اور گرین انرجی کاریڈور کے لیے بین ریاستی ٹرانسمیشن لائن کے پہلے فیز کو قوم کے نام وقف کریں گے
وزیر اعظم بیکانیر ریلوے اسٹیشن کی ترقی ِنو کے لیے سنگ بنیاد رکھیں گے

وزیر اعظم جناب نریندر مودی 7 اور 8 جولائی ، 2023  ء کو چار ریاستوں کا دورہ  کریں گے۔ وہ 7 جولائی کو چھتیس گڑھ اور اتر پردیش کا دورہ کریں گے اور 8 جولائی کو وزیر اعظم تلنگانہ اور راجستھان کا دورہ کریں گے۔

7 جولائی کو، صبح تقریباً 10 بجکر 45 منٹ پر ،  وزیر اعظم رائے پور میں ایک عوامی پروگرام میں مختلف ترقیاتی پروجیکٹوں کے لیے سنگ بنیاد رکھیں گے اور قوم کے نام وقف کریں گے۔ وزیر اعظم تقریباً 2 بجکر 30 منٹ پر اتر پردیش کے  گورکھپور پہنچیں گے، جہاں وہ  گورکھپور کی گیتا پریس  کی صد سالہ تقریبات کی اختتامی تقریب میں شرکت کریں گے ، جس کے بعد  وہ گورکھپور ریلوے اسٹیشن پر وندے بھارت ٹرینوں کو ہری جھنڈی دکھا کر روانہ کریں گے۔ اس کے بعد، تقریباً 5 بجے شام، وزیر اعظم وارانسی پہنچیں گے، جہاں وہ ایک عوامی پروگرام میں شرکت کریں گے، جس میں  وہ  متعدد ترقیاتی  پروجیکٹوں کا سنگِ بنیاد رکھیں گے ، افتتاح کریں گے اور قوم کے نام وقف کریں گے۔

8 جولائی کو  صبح تقریباً 10 بجکر 45 منٹ پر وزیر اعظم تلنگانہ کے وارنگل پہنچیں گے اور ایک عوامی پروگرام میں شرکت کریں گے جہاں وہ مختلف پروجیکٹوں کا سنگ بنیاد رکھیں گے۔ وزیر اعظم تقریباً 4 بجکر 15 منٹ پر  بیکانیر پہنچیں گے، جہاں وہ راجستھان میں کئی ترقیاتی پروجیکٹوں کا سنگِ بنیاد رکھیں گے اور قوم  کے نام وقف کریں گے۔

وزیر اعظم رائے پور میں

بنیادی ڈھانچے کے فروغ  پر زور دینے کے لیے وزیر اعظم تقریباً 6400 کروڑ روپئے کے پانچ قومی شاہراہوں کے پروجیکٹوں کو قوم کے نام وقف  کریں گے  اورسنگ بنیاد رکھیں گے ۔ جن پروجیکٹوں کو قوم کے نام وقف کیا جائے گا ، ان میں جبل پور-جگدل پور قومی شاہراہ پر رائے پور سے کوڈے بوڈ سیکشن کی 33 کلومیٹر طویل سڑک کو 4  لین والا بنانا شامل ہے۔  سیاحت کو فروغ دینے کے   علاوہ یہ سیکشن  جگدل پور کے قریب خام مال  اور تیار مصنوعات کی مربوط نقل و حمل کے لیے اہم ہے ، جو خام لوہے سے مالا مال علاقے کے لیے کنکٹیویٹی فراہم کرتا ہے ۔ وزیر اعظم  قومی شاہراہ نمبر 130 کے بلاس پور سے امبیکا پور کے سیکشن پر بلاس پور – پتھرا پلی کی  53 کلومیٹر طویل 4 لین والی پٹی کو  قوم کے نام وقف کریں گے ۔ اس سے  اتر پردیش سے چھتیس گڑھ کی کنکٹیویٹی میں بہتری آئےگی اور  آس پاس  کے علاقوں میں کوئلے کی کانوں کو رابطہ فراہم کرکے کوئلے کی نقل و حرکت کو فروغ ملے گا۔

وزیر اعظم 6 لین والے گرین فیلڈ رائے پور - وشاکھاپٹنم کاریڈور کے چھتیس گڑھ سیکشن کے لیے تین قومی شاہراہ پروجیکٹوں کا سنگ بنیاد بھی رکھیں گے۔ ان میں این ایچ 130 سی ڈی  پر 43 کلومیٹر طویل چھ لین جھانکی-سارگی سیکشن ،  این ایچ  130 سی ڈی  پر 57 کلومیٹر طویل چھ لین سارگی-بسنواہی سیکشن؛ اور این ایچ 130 سی ڈی  پر 25 کلومیٹر طویل چھ لین بسنواہی-مرنگ پوری سیکشن  کا فروغ شامل ہے ۔  اس کے علاوہ ، اڑنتی وائلڈ لائف سینچری کے علاقے میں جنگلی جانوروں کے بلا رکاوٹ آمد و رفت کو یقینی بنانے کے لیے 27 جانوروں کی گزرگاہوں اور 17 منکی کینوپیز کے ساتھ 2.8 کلومیٹر طویل چھ لین والی سرنگ ایک اہم جزو  ہے۔ یہ پروجیکٹ دھامتاری میں چاول کی ملوں اور کانکیر میں باکسائٹ سے بھرپور علاقوں کو بہتر رابطہ فراہم کریں گے اور کونڈاگاؤں میں دستکاری کی صنعت کو بھی فائدہ پہنچائے گا۔ مجموعی طور پر یہ منصوبے خطے کی سماجی و اقتصادی ترقی میں بڑا اضافہ کریں گے ۔

وزیر اعظم 103 کلومیٹر طویل رائے پور - کھریار روڈ ریل لائن کو دوگنا کرنے کا کام بھی قوم کے نام وقف کریں گے  ، جس  کو 750  کروڑ روپئے کی لاگت  سے مکمل کیا گیا ہے ۔  اس سے چھتیس گڑھ میں صنعتوں کے لیے بندرگاہوں سے کوئلہ، اسٹیل، کھاد اور دیگر اجناس کی نقل و حمل میں آسانی ہوگی۔  وہ کیوتی-انتا  گڑھ کو جوڑنے والی 17 کلومیٹر لمبی نئی ریلوے لائن بھی قوم کو وقف کریں گے۔ 290 کروڑ روپئے کی لاگت سے تیار کی گئی نئی ریلوے لائن دَلی – راجھارا اور روگھاٹ علاقوں میں لوہے کی کانوں سے بھیلائی اسٹیل پلانٹ کے لیے کنیکٹیویٹی فراہم کرے گی اور گھنے جنگلات سے گزرتی ہوئی جنوبی چھتیس گڑھ کے دور دراز کے علاقوں کو مربوط کرے گی ۔

وزیر اعظم کوربا میں 60 ہزار میٹرک ٹن سالانہ کی صلاحیت کے ساتھ انڈین آئل کارپوریشن کا ایک بوٹلنگ پلانٹ بھی قوم کے نام وقف کریں گے، جو 130 کروڑ روپئے سے زیادہ کی لاگت سے تعمیر کیا گیا ہے۔  اس کے علاوہ ، وزیر اعظم آیوشمان بھارت کے تحت استفادہ کنندگان میں 75 لاکھ کارڈوں کی تقسیم کا آغاز بھی کریں گے۔

وزیر اعظم گورکھپور میں

وزیر اعظم گورکھپور میں گیتا پریس کا دورہ کریں گے اور تاریخی پرنٹنگ پریس کی صد سالہ تقریبات کی اختتامی تقریب میں شرکت کریں گے۔ وہ پروگرام کے دوران چترمایا شیوا پران گرنتھ کا اجراء کریں گے۔ وزیر اعظم گیتا پریس میں لیلا چترا مندر بھی جائیں گے۔

وزیر اعظم گورکھپور ریلوے اسٹیشن سے دو وندے بھارت ٹرینوں کو ہری جھنڈی دکھائیں گے۔ ان دو ٹرینوں میں  گورکھپور – لکھنؤ وندے بھارت ایکسپریس اور جودھپور – احمد آباد (سابرمتی) وندے بھارت ایکسپریس شامل ہیں ۔

گورکھپور – لکھنؤ وندے بھارت ایکسپریس ایودھیا سے گزرے گی اور ریاست کے اہم شہروں سے رابطے کو بہتر بنائے گی اور سیاحت کو بھی فروغ دے گی۔ جودھ پور – سابرمتی وندے بھارت ایکسپریس مشہور مقامات جیسے جودھ پور، ابو روڈ، احمد آباد سے رابطے کو بہتر بنائے گی اور خطے میں سماجی اقتصادی ترقی کو فروغ دے گی۔

وزیر اعظم گورکھپور ریلوے اسٹیشن کی تعمیر نو کا سنگ بنیاد بھی رکھیں گے۔ اسٹیشن کو تقریباً 498  کروڑ روپئے کی لاگت سے دوبارہ تیار کیا جائے گا اور یہ مسافروں کو عالمی معیار کی سہولیات فراہم کرے گا ۔

وزیر اعظم وارانسی میں

وارانسی میں عوامی پروگرام کے دوران وزیر اعظم تقریباً 12100 کروڑ روپئے سے زیادہ کے متعدد ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح ا کریں گے اور سنگ بنیاد رکھیں گے۔

وزیراعظم  مال برداری کی مخصوص راہداری  پر پنڈت دین دیال اپادھیائے جنکشن -  سون نگر ریلوے لائن کو قوم کے نام وقف کریں گے ۔  6760 کروڑ روپئے سے زیادہ کی لاگت سے تیار  کی گئی یہ نئی لائن  اشیاء  کی تیز تر  نقل و حمل  میں سہولت فراہم کرے گی۔ وزیر اعظم 990 کروڑ روپئے  سے زیادہ کی لاگت سے  تیار تین ریلوے لائنوں کو بھی قوم کے نام وقف کریں گے ، جن کی برق کاری  اور دوہرا بنانے کا کام مکمل ہو چکا ہے ۔ ان میں غازی پور شہر- اونریہار ریل لائن، آنریہار- جون پور ریل لائن اور بھٹنی- اونریہار ریل لائن شامل ہیں۔ اس سے اتر پردیش میں ریلوے لائنوں کی 100 فیصد برقی کاری کی تکمیل ہوگی۔

وزیر اعظم این ایچ – 56  کے وارانسی-جون پور سیکشن کو چار لین چوڑا کرنے کا کام قوم کو وقف کریں گے، جو کہ 2750 کروڑ روپئے سے زیادہ کی لاگت سے مکمل کیا گیا ہے، جو وارانسی سے لکھنؤ کا سفر آسان اور تیز تر بنائے گا۔

وارانسی میں  ، جن متعدد پروجیکٹوں کا وزیر اعظم افتتاح کریں گے  ، ان میں پی ڈبلیو ڈی کی 18  سڑکوں کی تعمیر اور تزئین و آرائش ؛  بی ایچ یو کیمپس میں بین الاقوامی گرلز ہاسٹل کی عمارت کی تعمیر ؛  کرسارا گاؤں میں سینٹرل انسٹی ٹیوٹ آف پیٹرو کیمیکل انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی (سی آئی پی ای ٹی) – ووکیشنل ٹریننگ سینٹر ؛  پولیس اسٹیشن سندھورا  پی اے سی بھلّن پور میں  رہائشی عمارتیں اور سہولیات ،  پنڈرا پولیس اسٹیشن اور ترسادا  رہائشی سرکاری اسکول  ؛ اقتصادی جرائم کی تحقیقی  ادارے کی عمارت؛ موہن کٹرا سے کونیا گھاٹ تک سیوریج لائن اور رمنا گاؤں میں  گندے پانی کے بندوبست سے متعلق جدید نظام ؛ 30 ڈبل سائیڈیڈ  بیک لِٹ ایل ای ڈی یونی پولز؛  رام نگر میں این ڈی ڈی بی دودھ پلانٹ  میں گائے کے گوبر پر مبنی بایو گیس پلانٹ  اور دریائے گنگا میں عقیدت مندوں کے اشنان میں سہولت کے لیے دشیشور میدھ گھاٹ پر منفرد تیرتی ہوئی کپڑے بدلنے کے کمروں والی جیٹی  شامل ہیں ۔

جن منصوبوں کا وزیر اعظم سنگ بنیاد رکھیں گے  ،ان میں چوکھنڈی، کدی پور اور ہردت پور ریلوے اسٹیشنوں کے قریب 3 دو لین ریل اوور برج (آر او بی) کی تعمیر؛ ویاس نگر کی تعمیر – پنڈت  دین دیال اپادھیائے جنکشن ریل فلائی اوور؛ اور پی ڈبلیو ڈی کی 15  سڑکوں کی تعمیر اور تزئین و آرائش  کے پروجیکٹ شامل ہیں ، جو  تقریباً 780 کروڑ روپئے کی مجموعی لاگت سے تیار کیے جائیں گے۔

وزیر اعظم جل جیون مشن کے تحت 550 کروڑ روپئے سے زیادہ کی لاگت سے تعمیر ہونے والی 192 دیہی پینے کے پانی کی اسکیموں کا سنگ بنیاد بھی رکھیں گے۔ یہ 192 گاؤں کے 7 لاکھ لوگوں کو پینے کا صاف پانی فراہم کرے گا۔

وزیر اعظم منی کارنیکا اور ہریش چندر گھاٹوں کی ازسرنو ڈیزائننگ اور دوبارہ ترقی کا سنگ بنیاد بھی رکھیں گے۔  تعمیر نو شدہ گھاٹوں میں عوامی سہولیات، انتظار گاہیں، لکڑی کا ذخیرہ، کچرے کو ٹھکانے لگانے اور ماحول دوست شمشان گھاٹ کا  بندوبست ہوگا۔

دیگر پروجیکٹ جن کی بنیاد رکھی جائے گی ، ان میں وارانسی میں دریائے گنگا پر چھ مذہبی لحاظ سے اشنان کرنے والے  اہم گھاٹوں پر فلوٹنگ روم جیٹی شامل ہیں  ، جو دشیشوامیدھ گھاٹ کی فلوٹنگ چینجنگ روم جیٹی کی طرز پر بنائے جائیں گے  اور کرسارا میں  سی آئی پی ای ٹی کیمپس میں طلباء کے ہاسٹل کی تعمیر شامل ہیں۔

پروگرام کے دوران، وزیر اعظم اتر پردیش میں استفادہ کنندگان میں پی ایم  سواندھی کے قرض، پی ایم اے وائی دیہی گھروں کی چابیاں اور آیوشمان بھارت کارڈ بھی تقسیم کریں گے۔ اس سے 5 لاکھ پی ایم اے وائی استفادہ کنندگان کے گرہ پرویش، اہل استفادہ کنندگان میں 1.25 لاکھ پی ایم  سواندھی قرضوں کی تقسیم اور 2.88 کروڑ آیوشمان کارڈ کی تقسیم کا آغاز ہوگا۔

وزیر اعظم ورانگل میں

وزیر اعظم نریندر  مودی تلنگانہ میں تقریباً  6100  کروڑ روپئے کی لاگت کے کئی اہم بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے پروجیکٹوں کا سنگِ بنیاد رکھیں گے۔

وزیر اعظم 5550 کروڑ روپئے سے زیادہ کے 176 کلومیٹر طویل قومی شاہراہ کےپروجیکٹوں کا سنگ بنیاد رکھیں گے ۔ ان پروجیکٹوں میں ناگپور – وجے واڑہ راہداری کا 108 کلومیٹر طویل منچھیریل – وارنگل سیکشن شامل ہے۔ یہ سیکشن منچھیریل اور وارنگل میں تقریباً 34 کلومیٹر کا فاصلہ کم کرے گا ، جس سےسفر کے وقت میں بچت ہو گی اور این ایچ 44 اور این ایچ 65 پر ٹریفک میں کمی آئے گی ۔ وہ این ایچ 563  پر کریم نگر - وارنگل  کے 68 کلو میٹر طویل سیکشن کو موجودہ دو لین سے چار لین  والا بنانے کے لیے سنگ بنیاد  بھی رکھیں گے۔ اس سے حیدرآباد - وارنگل  صنعتی راہداری ،  ککاتیہ میگا ٹیکسٹائل پارک اور وارنگل  کے ایس ای زیڈ  میں کنیکٹیویٹی کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔

وزیر اعظم قاضی پیٹ میں ریلوے مینوفیکچرنگ یونٹ کا سنگ بنیاد بھی رکھیں گے۔ 500 کروڑ  روپئے سے زیادہ کی لاگت سے تیار ہونے والا یہ جدید مینوفیکچرنگ یونٹ ویگن کی  مینوفیکچرنگ کی صلاحیت میں اضافہ کرے گا ۔ یہ  یونٹ جدید ترین ٹیکنالوجی کے معیارات اور ویگنوں کی روبوٹک پینٹنگ، جدید ترین مشینری اور جدید میٹریل اسٹوریج اور ہینڈلنگ کے ساتھ  جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہوگا۔ اس سے مقامی روزگار پیدا کرنے اور قریبی علاقوں میں ذیلی یونٹوں کی ترقی میں مدد ملے گی۔

وزیر اعظم بیکانیر میں

وزیراعظم بیکانیر میں 24300 کروڑ روپئےسے زیادہ  کے ترقیاتی پروجیکٹوں  کو قوم کے نام وقف کریں گے اور  سنگ بنیاد رکھیں گے ، جن کا مقصد خطے کے بنیادی ڈھانچے اور فلاح و بہبود  میں اضافہ کرنا ہے ۔

وزیر اعظم امرتسر - جام نگر اقتصادی راہداری کے چھ لین گرین فیلڈ ایکسپریس وے سیکشن کو قوم کے نام وقف کریں گے۔ راجستھان میں 500 کلومیٹر سے زیادہ پر محیط یہ سیکشن ، جو ہنومان گڑھ ضلع کے جاکھ دوالی گاؤں   سے جالور ضلع کے کھیتلا واس گاؤں تک جاتا ہے، تقریباً 11125 کروڑ روپئے کی لاگت سے  تعمیر کیا گیا ہے۔ یہ ایکسپریس وے سفر کے وقت میں نمایاں کمی کرے گا اور بڑے شہروں اور صنعتی راہداریوں کے درمیان رابطے کو بہتر بنائے گا۔ ایکسپریس وے نہ صرف سامان کی بغیر کسی رکاوٹ کے نقل و حمل کی سہولت فراہم کرے گا بلکہ اس کے راستے میں سیاحت اور اقتصادی ترقی کو بھی فروغ دے گا۔

خطے میں بجلی کے سیکٹر کو فروغ دینے کی خاطر ، وزیر اعظم تقریباً 10950 کروڑ روپئے  کی لاگت کے گرین انرجی کاریڈور کے لیے بین ریاستی ٹرانسمیشن لائن کے پہلے فیز کو قوم کے نام وقف کریں گے۔  سبز توانائی کا یہ کاریڈور 6 جی ڈبلیو کی قابل تجدید بجلی کو مربوط کرے گا اور شمالی  علاقے میں مغربی خطے اور ہائیڈرو جنریشن  میں قابل تجدید توانائی کو حرارتی بجلی کے ساتھ  گرڈ میں متوازن کرنے  میں مدد کرے گا  ۔ وزیر اعظم بیکانیر سے بھیواڑی ٹرانسمیشن لائن کو بھی قوم کے نام وقف کریں گے۔  پاور گرڈ کے ذریعے 1340 کروڑ روپئے کی لاگت سے تیار ہونے والی بیکانیر سے بھیواڑی تک ٹرانسمیشن لائن  ، راجستھان میں 8.1  جی ڈبلیو  شمسی  بجلی کے اخراج میں مدد  کرے گی۔

وزیر اعظم بیکانیر میں 30 بستروں پر مشتمل ایک نئے ایمپلائز اسٹیٹ انشورنس کارپوریشن ( ای ایس آئی سی ) اسپتال کو قوم  کے نام وقف کریں گے۔  اس اسپتال  کی صلاحیت کو بڑھاکر  100 بستروں  تک کیا جائے گا ۔ یہ اسپتال صحت کی دیکھ بھال کی ایک اہم سہولت کے طور پر کام کرے گا، مقامی لوگوں کی طبی ضروریات کو پورا کرے گا اور قابل رسائی اور معیاری صحت کی دیکھ بھال کی خدمات کو یقینی بنائے گا۔

اس کے علاوہ ، وزیر اعظم بیکانیر ریلوے اسٹیشن کی تعمیر نو کا سنگ بنیاد رکھیں گے۔  تقریباً 450 کروڑ روپئے کی لاگت سے  مکمل کئے جانے والے تعمیر نو کے اس کام میں فرش اور چھت کے ساتھ تمام پلیٹ فارمز کی تزئین و آرائش شامل ہوگی  ، جب کہ ریلوے اسٹیشن کے موجودہ ڈھانچے کی وراثتی حیثیت کے  محفوظ رکھنے کو یقینی بنایا جائے گا۔

وزیر اعظم 43 کلومیٹر طویل چورو – رتن گڑھ سیکشن کو دوگنا کرنے کا سنگ بنیاد بھی رکھیں گے۔ اس ریل لائن کو دوگنا کرنے سے رابطے میں اضافہ ہوگا، بیکانیر کے علاقے سے ملک کے باقی حصوں تک جپسم، چونا پتھر، اناج  اور کھاد کی مصنوعات کی آسان نقل و حمل میں سہولت ہوگی۔

 

Explore More
لال قلعہ کی فصیل سے 77ویں یوم آزادی کے موقع پر وزیراعظم جناب نریندر مودی کے خطاب کا متن

Popular Speeches

لال قلعہ کی فصیل سے 77ویں یوم آزادی کے موقع پر وزیراعظم جناب نریندر مودی کے خطاب کا متن
GST collection rises 12.5% YoY to ₹1.68 lakh crore in February, gross FY24 sum at ₹18.4 lakh crore

Media Coverage

GST collection rises 12.5% YoY to ₹1.68 lakh crore in February, gross FY24 sum at ₹18.4 lakh crore
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
If Bihar becomes Viksit, India will also become Viksit: PM Modi
March 02, 2024
Dedicates to nation and lays foundation stone for multiple oil and gas projects worth about Rs 1.48 lakh crore
Dedicates to nation and lays foundation stone for several development projects in Bihar worth more than Rs 13,400 crores
Inaugurates Hindustan Urvarak & Rasayan Ltd (HURL) fertilizer plant in Barauni
Inaugurates and lays foundation stone for several railway projects worth about Rs 3917 crores
Dedicates to nation ‘Bharat Pashudhan’ - a digital database for livestock animals in the country
Launches ‘1962 Farmers App’
“Bihar is full of enthusiasm and confidence due to power of double engine government”
“If Bihar becomes Viksit, India will also become Viksit”
“History is proof that India has remained empowered when Bihar and Eastern India have been prosperous”
“True social justice is achieved by ‘santushtikaran’, not ‘tushtikaran’. True social justice is achieved by saturation”
“Bihar is bound to be Viksit with the double efforts of the double-engine government”

बिहार के राज्यपाल श्रीमान राजेंद्र अर्लेकर जी, मुख्यमंत्री श्रीमान नीतीश कुमार जी, मंत्रिमंडल के मेरे सहयोगी गिरिराज सिंह जी, हरदीप सिंह पुरी जी, उपमुख्यमंत्री विजय सिन्हा जी, सम्राट चौधरी जी, मंच पर विराजमान अन्य सभी महानुभाव और बेगुसराय से पधारे हुए उत्साही मेरे प्यारे भाइयों और बहनों।

जयमंगला गढ़ मंदिर और नौलखा मंदिर में विराजमान देवी-देवताओं को मैं प्रणाम करता हूं। मैं आज विकसित भारत के लिए विकसित बिहार के निर्माण के संकल्प के साथ बेगुसराय आया हूं। ये मेरा सौभाग्य है कि इतनी विशाल संख्या में आप जनता-जनार्दन, आपके दर्शन करने का मुझे सौभाग्य मिला है।

साथियों,

बेगूसराय की ये धरती प्रतिभावान युवाओं की धरती है। इस धरती ने हमेशा देश के किसान और देश के मज़दूर, दोनों को मजबूत किया है। आज इस धरती का पुराना गौरव फिर लौट रहा है। आज यहां से बिहार सहित, पूरे देश के लिए 1 लाख 60 हज़ार करोड़ रुपए उससे भी अधिक के प्रोजेक्ट्स का शिलान्यास और लोकार्पण हुआ है, डेढ़ लाख करोड़ से भी ज्यादा। पहले ऐसे कार्यक्रम दिल्ली के विज्ञान भवन में होते थे, लेकिन आज मोदी दिल्ली को बेगुसराय ले आया है। और इन योजनाओं में करीब-करीब 30 हज़ार करोड़ रुपए के प्रोजेक्ट्स सिर्फ और सिर्फ ये मेरे बिहार के हैं। एक ही कार्यक्रम में सरकार का इतना बड़ा निवेश ये दिखाता है कि भारत का सामर्थ्य कितना बढ़ रहा है। इससे बिहार के नौजवानों को यहीं पर नौकरी के, रोजगार के अनेकों नए अवसर बनेंगे। आज के ये प्रोजेक्ट, भारत को दुनिया की तीसरी बड़ी आर्थिक महाशक्ति बनाने का माध्यम बनेंगे। आप रूकिए भैया बहुत हो गया आपका प्यार मुझे मंजूर है, आप रूकिए, आप बैठिए, आप चेयर पर से नीचे आ जाइए, प्लीज, मेरी आपसे प्रार्थना है, आप बैठिए...हां। आप बैठ जाइए, वो कुर्सी पर बैठ जाइए आराम से, थक जाएंगे। आज की ये परियोजनाएं, बिहार में सुविधा और समृद्धि का रास्ता बनाएंगी। आज बिहार को नई ट्रेन सेवाएं मिली हैं। ऐसे ही काम है, जिसके कारण आज देश पूरे विश्वास से कह रहा है, बच्चा-बच्चा कह रहा है, गांव भी कह रहा है, शहर भी कह रहा है- अबकी बार...400 पार!, अबकी बार...400 पार!, अबकी बार...400 पार! NDA सरकार...400 पार!

साथियों,

2014 में जब आपने NDA को सेवा का अवसर दिया, तब मैं कहता था कि पूर्वी भारत का तेज़ विकास ये हमारी प्राथमिकता है। इतिहास गवाह रहा है, जब-जब बिहार और ये पूर्वी भारत, समृद्ध रहा है, तब-तब भारत भी सशक्त रहा है। जब बिहार में स्थितियां खराब हुईं, तो देश पर भी इसका बहुत बुरा असर बड़ा। इसलिए मैं बेगुसराय से पूरे बिहार की जनता को कहता हूं- बिहार विकसित होगा, तो देश भी विकसित होगा। बिहार के मेरे भाई-बहन, आप मुझे बहुत अच्छी तरह जानते हैं, और जब आपके बीच आया हूं तो मैं दोहराना चाहता हूं- ये वादा नहीं है- ये संकल्प है, ये मिशन है। आज जो ये प्रोजेक्ट बिहार को मिले हैं, देश को मिले हैं, वो इसी दिशा में बहुत बड़ा कदम हैं। इनमें से अधिकतर पेट्रोलियम से जुड़े हैं, फर्टिलाइज़र से जुड़े हैं, रेलवे से जुड़े हैं। ऊर्जा, उर्वरक और कनेक्टिविटी, यही तो विकास का आधार हैं। खेती हो या फिर उद्योग, सब कुछ इन्हीं पर निर्भर करता है। और जब इन पर तेजी से काम चलता है, तब स्वाभाविक है रोजगार के अवसर भी बढ़ते हैं, रोजगार भी मिलता है। आप याद कीजिए, बरौनी का जो खाद कारखाना बंद पड़ चुका था, मैंने उसे फिर से चालू करने की गारंटी दी थी। आपके आशीर्वाद से मोदी ने वो गारंटी पूरी कर दी। ये बिहार सहित पूरे देश के किसानों के लिए बहुत बड़ा काम हुआ है। पुरानी सरकारों की बेरुखी के कारण, बरौनी, सिंदरी, गोरखपुर, रामागुंडम, वहां जो कारखाने थे, वो बंद पड़े थे, मशीन सड़ रहे थे। आज ये सारे कारखाने, यूरिया में भारत की आत्मनिर्भरता की शान बन रहे हैं। इसलिए तो देश कहता है- मोदी की गारंटी यानि गारंटी पूरा होने की गारंटी। मोदी की गारंटी यानि गारंटी जे पूरा होय छय !

साथियों,

आज बरौनी रिफाइनरी की क्षमता के विस्तार का काम शुरु हो रहा है। इसके निर्माण के दौरान ही, हजारों श्रमिकों को महीनों तक लगातार रोजगार मिला। ये रिफाइनरी, बिहार में औद्योगिक विकास को नई ऊर्जा देगी और भारत को आत्मनिर्भर बनाने में मदद करेगी। मुझे आपको ये बताते हुए खुशी है कि बीते 10 साल में पेट्रोलियम और प्राकृतिक गैस से जुड़े 65 हज़ार करोड़ रुपए से अधिक के प्रोजेक्ट्स बिहार को मिले हैं, जिनमें से अनेक पूरे भी हो चुके हैं। बिहार के कोने-कोने में जो गैस पाइपलाइन का नेटवर्क पहुंच रहा है, इससे बहनों को सस्ती गैस देने में मदद मिल रही है। इससे यहां उद्योग लगाना आसान हो रहा है।

साथियों,

आज हम यहां आत्मनिर्भर भारत से जुड़े एक और ऐतिहासिक पल के साक्षी बने हैं। कर्नाटक में केजी बेसिन के तेल कुओं से तेल का उत्पादन शुरु हो चुका है। इससे विदेशों से कच्चे तेल के आयात पर हमारी निर्भरता कम होगी।

साथियों,

राष्ट्रहित और जनहित के लिए समर्पित मजबूत सरकार ऐसे ही फैसले लेती है। जब परिवारहित और वोटबैंक से बंधी सरकारें होती हैं, तो वो क्या करती हैं, ये बिहार ने बहुत भुगता है। अगर 2005 से पहले के हालात होते तो बिहार में हज़ारों करोड़ की ऐसी परियोजनाओं के बारे में घोषणा करने से पहले सौ बार सोचना पड़ता। सड़क, बिजली, पानी, रेलवे की क्या स्थिति थी, ये मुझसे ज्यादा आप जानते हैं। 2014 से पहले के 10 वर्षों में रेलवे के नाम पर, रेल के संसाधनों को कैसे लूटा गया, ये पूरा बिहार जानता है। लेकिन आज देखिए, पूरी दुनिया में भारतीय रेल के आधुनिकीकरण की चर्चा हो रही है। भारतीय रेल का तेज़ी से बिजलीकरण हो रहा है। हमारे रेलवे स्टेशन भी एयरपोर्ट की तरह सुविधाओँ वाले बन रहे हैं।

साथियों,

बिहार ने दशकों तक परिवारवाद का नुकसान देखा है, परिवारवाद का दंश सहा है। परिवारवाद और सामाजिक न्याय, ये एक दूसरे के घोर विरोधी हैं। परिवारवाद, विशेष रूप से नौजवानों का, प्रतिभा का, सबसे बड़ा दुश्मन है। यही बिहार है, जिसके पास भारत रत्न कर्पूरी ठाकुर जी की एक समृद्ध विरासत है। नीतीश जी के नेतृत्व में NDA सरकार, यहां इसी विरासत को आगे बढ़ा रही है। वहीं दूसरी तरफ RJD-कांग्रेस की घोर परिवारवादी कुरीति है। RJD-कांग्रेस के लोग, अपने परिवारवाद और भ्रष्टाचार को उचित ठहराने के लिए, दलित, वंचित, पिछड़ों को ढाल बनाते हैं। ये सामाजिक न्याय नहीं, बल्कि समाज के साथ विश्वासघात है। ये सामाजिक न्याय नय, समाज क साथ विश्वासघात छय। वरना क्या कारण है कि सिर्फ एक ही परिवार का सशक्तिकरण हुआ। और समाज के बाकी परिवार पीछे रह गए? किस तरह यहां एक परिवार के लिए, युवाओं को नौकरी के नाम पर उनकी जमीनों पर कब्जा किया गया, ये भी देश ने देखा है।

साथियों,

सच्चा सामाजिक न्याय सैचुरेशन से आता है। सच्चा सामाजिक न्याय, तुष्टिकरण से नहीं संतुष्टिकरण से आता है। मोदी ऐसे ही सामाजिक न्याय, ऐसे ही सेकुलरिज्म को मानता है। जब मुफ्त राशन हर लाभार्थी तक पहुंचता है, जब हर गरीब लाभार्थी को पक्का घर मिलता है, जब हर बहन को गैस, पानी का नल, घर में टॉयलेट मिलता है, जब गरीब से गरीब को भी अच्छा और मुफ्त इलाज मिलता है, जब हर किसान लाभार्थी के बैंक खाते में सम्मान निधि आती है, तब सैचुरेशन होता है। और यही सच्चा, सामाजिक न्याय है। बीते 10 वर्षों में मोदी की ये गारंटी, जिन-जिन परिवारों तक पहुंची हैं, उनमें से सबसे अधिक दलित, पिछड़े, अतिपिछड़े वही मेरे परिवार ही हैं।

साथियों,

हमारे लिए सामाजिक न्याय, नारीशक्ति को ताकत देने का है। बीते 10 सालों में 1 करोड़ बहनों को, मेरी माताएं-बहनें इतनी बड़ी तादाद में आशीर्वाद देने आई हैं, उसका कारण है। 1 करोड़ बहनों को हम लखपति दीदी बना चुके हैं। मुझे खुशी है इसमें बिहार की भी लाखों बहनें हैं, जो अब लखपति दीदी बन चुकी हैं। और अब मोदी ने 3 करोड़ बहनों को, आंकड़ा सुनिए जरा याद रखना 3 करोड़ बहनों को लखपति दीदी बनाने की गारंटी दी है। हाल में हमने बिजली का बिल जीरो करने और बिजली से कमाई करने की भी योजना शुरु की है। पीएम सूर्यघर- मुफ्त बिजली योजना। इससे बिहार के भी अनेक परिवारों को फायदा होने वाला है। बिहार की NDA सरकार भी बिहार के युवा, किसान, कामगार, महिला, सबके लिए निरंतर काम कर रही है। डबल इंजन के डबल प्रयासों से बिहार, विकसित होकर रहेगा। आज इतना बड़ा विकास का उत्सव हम मना रहे हैं, और आप इतनी बड़ी तादाद में विकास के रास्ते को मजबूत कर रहे हैं, मैं आपका आभारी हूं। एक बार फिर आप सभी को विकास की, हजारों करोड़ की इन परियोजनाओं के लिए मैं बहुत-बहुत बधाई देता हूं। इतनी बड़ी तादाद में माताएं-बहनें आई हैं, उनको विशेष रूप से प्रणाम करता हूं। मेरे साथ बोलिए-

भारत माता की जय !

दोनों हाथ ऊपर करके पूरी ताकत से बोलिए-

भारत माता की जय !

भारत माता की जय !

भारत माता की जय !

बहुत-बहुत धन्यवाद।