ئی دہلی، 12دسمبر /

اسٹیج پر تشریف فرما معزز شخصیات ،

بھارت اور غیر ممالک سے آئے ہوئے مندوبین ،

خواتین و حضرات ،

نمستے

پارٹنر فورم ، 2018 ء میں دنیا بھر سے آئے تمام مندوبین کا دِلی خیر مقدم ہے ۔

صرف شراکت داری سے ہم اپنے اہداف کو حاصل کر سکتے ہیں ۔ شہریوں کے مابین شراکت داری ، برادریوں کے مابین شراکت داری ، ممالک کے مابین شراکت داری ہمہ گیر ترقی ایجنڈا اس کی جھلک ہے ۔

ملک متحدہ کوششوں سے آگے بڑھ چکے ہیں ۔ وہ تمام برادیوں کو با اختیار بنانے ، صحت اور تعلیم میں سدھار کرنے ، ناداری کے خاتمے ، اقتصادی ترقی میں تیزی لانے اور آخر میں کسی کو بھی پسماندہ نہ رہنے دینے کے لئے پابند ِ عہد ہیں ۔ ماں کی صحت سے بچوں کی صحت کا تعین ہوتا ہے اور بچوں کی صحت سے آنے والے کل کی صحت کا تعین ہوتا ہے ۔

ہم یہاں صحت میں سدھار کرنے اور ماؤں اور بچوں کی حفظانِ صحت میں ترقی لانے کے ذرائع پر گفت و شنید کرنے کے لئے جمع ہوئے ہیں ۔ ہماری گفت و شنید کے نتائج سے ہمارے آنے والے کل پر گہرا اثر پڑے گا ۔

پارٹنر فورم کا ویژن بھارت کے پوری دنیا ایک کنبہ ہے ، کے نظریے سے مماثل ہے ۔ یہ میری حکومت کے اصول ‘ سب کا ساتھ سب کا وکاس ’ کے بھی مطابق ہے ، جس کا مطلب شمولیت پر مبنی ترقی کے لئے اجتماعی کوشش اور شراکت داری ہے ۔

زچہ اور بچہ نیز اطفال ترقیات کے لئے شراکت داری ایک منفرد اور موثر اسٹیج ہے ۔ ہم صرف بہتر صحت کی بات نہیں کرتے ، ہم تیز رفتار ترقی کے لئے بھی بات کرتے ہیں ۔

جہاں پوری دنیا تیز ترقی کے نئے نئے طریقے تلاش رہی ہے ، وہیں اس کام کو کرنے کا سب سے اچھا طریقہ خواتین کے لئے بہتر صحت کو یقینی بنانا ہے ۔ اس سمت میں گذشتہ چند برسوں کے دوران ہم نے بہت پیش رفت حاصل کی ہے ۔ اس کے باوجود ابھی بہت کچھ کیا جانا باقی ہے ۔ بڑے بجٹ سے بہتر نتیجوں تک اور اندازِ فکر میں تبدیلی سے کڑی نگرانی تک بہت کچھ کیا جانا ہے ۔

بھارت کی داستان امیدوں والی ہے ۔ امید ہے کہ رکاوٹیں دور ہوں گی ۔ امید ہے کہ برتاؤ میں تبدیلی لائی جا سکے گی ۔ امید ہے کہ تیز رفتار ترقی حاصل کی جا سکتی ہے ۔

جب الفی ترقیات اہداف پر اتفاق رائے قائم ہوا تھا ، اُس وقت بھارت میں خواتین اور بچوں کی شرح اموات سب سے زیادہ تھی ۔ لگاتار مصروفِ عمل رہتے ہوئے گذشتہ کچھ برسوں کے دوران شرح اموات میں تیزی سے آنے والی کمی کی قوت پر بھارت زچہ اور بچوں کی صحت کے لئے ایس ڈی جی اہداف کو حاصل کرنے کی سمت میں چل پڑھا تھا ۔ یہ 2030 ء کی منظور شدہ تاریخ سے بہت آگے ہے ۔

بھارت اُن پہلے ممالک میں شامل ہے ، جو نو خیزی کی عمر پر خصوصی توجہ دینے کی بات کہتے ہیں اور نو خیزوں کے لئے جامع صحتی ترقیات اور فروغ نیز روک تھام پروگرام نافذ کرتے ہیں ۔ ہماری کوششوں سے یہ یقینی ہو سکا ہے کہ 2015 ء میں اپنائی جانے والی خواتین ، بچوں اور نو خیزوں کی صحت سے متعلق عالمی حکمت عملی میں اُن کی شناخت قائم ہو سکے ۔

مجھے یہ جان کر مسرت ہوئی ہے کہ اس اسٹیج کے اہتمام کے دوران لاطینی امریکہ ، کیربی یارڈ خطے اور بھارت عالمی حکمت عملی کو اپنانے کے سلسلے میں اپنی جانب سے پیشکش کر رہے ہیں ۔ میں امید کرتا ہوں کہ اس طرح کے تال میل سے یکساں حکمت عملیاں وضع کرنے کے لئے دیگر ممالک اور علاقوں کو بھی ترغیب حاصل ہو گی ۔

دوستو ،

ہمارے مذہبی صحائف کہتے ہیں ‘ جہاں خواتین کی پرستش ہوتی ہے ، وہاں دیوتا قیام کرتے ہیں ’ ۔ یعنی جہاں خواتین کا احترام ہوتا ہے وہاں دیوتاؤں کا قیام ہوتا ہے ۔ میرا پکا یقین ہے کہ ایک ملک تبھی خوشحال ہوتا ہے ، جب وہاں کے عوام خصوصاً خواتین اور بچے تعلیم یافتہ ہوں اور وہ آزاد ، با اختیار اور صحت مند زندگی گزارنے پر قادر ہوں ۔ مجھے یہ جان کر مسرت ہوئی ہے کہ بھارت کے ٹیکا کرن پروگرام کو اس فورم میں بھارت کی کامیابی کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے ۔ یہ موضوع میرے دل کے بہت قریب ہے ۔ اندر دھنش مشن کے تحت گذشتہ تین برسوں کے دوران ہم 32.8 ملین بچوں اور 8.4 ملین حاملہ خواتین تک رسائی حاصل کر سکے ہیں ۔ ہم نے عوامی ٹیکہ کرن کے تحت ٹیکوں کی تعداد 7 سے بڑھا کر 12 کر دی ہے ۔ ہمارے ٹیکوں کے دائرے میں نمونیاں اور ڈائریا جیسے مہلک مرض بھی شامل ہیں ۔

دوستو ،

جب 2014 ء میں میری حکومت نے اقتدار سنبھالا تھا ، اُس وقت ہر سال زچگی کے دوران 44.000 سے زائد ماؤں کو ہم کھو دیتے تھے۔ ہم نے حمل کے دوران خواتین کو ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کے لئے پردھان منتری سورکشِت ماترتو ابھیان کی شروعات کی تھی ۔ ہم نے اپنے ڈاکٹروں سے اصرار کیا تھا کہ وہ اس مہم کے لئے ہر ماہ ایک دن خدمت فراہم کرنے کا عہد کریں ۔ اس مہم کے تحت 16 ملین ما قبل زچگی جانچ کی گئیں ۔

ملک میں 25 ملین نو زائیدہ بچے ہیں ۔ ہمارے یہاں نو زائیدہ بچوں کی دیکھ بھال کا شاندار نظام موجود ہے ، جو 794 ترقی یافتہ خصوصی نو زائیدہ بچوں سے متعلق سہولتوں کی اکائیوں کی ذریعے 10 لاکھ سے زائد نو زائیدہ بچوں کی دیکھ بھال کرتا ہے ۔ یہ ہمارا ایک کامیاب نظام ہے ۔ ہماری اس پہل سے 4 برس قبل کے مقابلے میں یومیہ 5 سال سے کم عمر والے 840 اضافی اطفال کی زندگی کی حفاظت ہوتی ہے ۔

بچوں کے لئے تغذیہ سے بھر پور خوراک کے مسئلے کا حل تغذیہ مہم کے ذریعے نکالا جا رہا ہے ۔ اس میں مختلف النوع اسکیمیں شامل ہیں، جو بھارت کو سوئے تغذیہ سے مبرا بنانے کے یکساں ہدف کی سمت میں کام کر ہی ہیں ۔ بچوں کی زندگی کی عمدگی میں اصلاح لانے کے لئے ہم قومی اطفال صحت پروگرام لاگو کر رہے ہیں ۔ گذشتہ چار برسوں میں اس سے 800 ملین بچوں کی صحت کی جانچ ہوئی ہے اور 20 ملین بچے علاج کے لئے مفت ریفر کئے گئے ہیں ۔

علاج و معالجے پر کنبوں کے ذریعے اپنے پاس سے زائد اخراجات کئے جانے کی تشویش ہمیشہ ہمیں ستاتی رہی ۔ اس لئے ہم نے آیوشمان اسکیم کا آغاز کیا ۔ آیوشمان بھارت کی دوہری حکمت عملی ہے ۔

پہلی ، اس میں معاشرے کے نزدیک وسیع ابتدائی صحت سہولتوں کی تجویز شامل ہے ، جس میں صحت مند اندازِ حیات اور صحت اور چاق و چوبند رہنے کے مراکز کے توسط سے یوگ شامل ہے ۔ صحت اور بیماریوں سے محفوظ رہنے کے لئے فِٹ انڈیا اور اِیٹ رائٹ مہم بھی ہماری حکمتِ عملی کے اہم عناصر ہیں ۔ اس سے معاشرے کو تناؤ سے مبرا ، ذیابیطس اور پستانوں کے کینسر ، بچہ دانی اور منہ کے کینسر سمیت عام امراض کی مفت جانچ اور معالجے میں مدد ملے گی ۔ مریض اپنے گھر کے نزدیک مفت دوائیں اور معالجاتی امداد حاصل کر سکیں گے ۔ ہماری اسکیم 2022 ء تک ایسے 150 ہزار صحت اور چاق و چوبند مراکز شروع کرنے کی ہے ۔

آیوشمان بھارت اسکیم کا دوسرا عنصر پردھان منتری جن آروگیہ یوجنا ہے ۔ اس کے تحت ہر سال فی کنبہ 5 لاکھ روپئے کی غیر نقد صحت انشورنس کی سہولت کی تجویز ہے ۔ اس کے تحت سب سے غریب اور کمزور طبقے کے 500 ملین شہریوں کو زیر احاطہ لایا جائےگا ۔ یہ تعداد کنیڈا ، میکسیکو اور امریکہ کی مجموعی آبادی کے تقریباً برابر ہے ۔ ہم نے اس اسکیم کے آغاز کے 10 ہفتوں کے اندر مفت معالجہ خدمات فراہم کرنے کے لئے 700 کروڑ روپئے 5 لاکھ کنبوں کو فراہم کئے ہیں ۔

آج عالمی آفاقی صحت احاطہ کا دن ہے ۔ اس موقع پر میں پھر کہتا ہوں کہ ہم سبھی کے لئے وسیع صحتی احاطہ فراہم کرنے کی سمت میں عہد بند ہیں ۔ ہمارے پاس ایک ملین درج رجسٹر سماجی صحتی کارکنان یا آشا کارکنان اور 2.32 لاکھ آنگن واڑی نرسیں ہیں ، جو ہراول دستے کی خواتین صحت کارکنان کی فورس ہے ۔ یہ ہمارے پروگرام کی قوت ہے ۔

بھارت ایک وسیع ملک ہے ۔ کچھ ریاستوں اور ضلعوں نے ترقی یافتہ ممالک کے شانہ بہ شانہ کارکردگی کا مظہر کیا ہے ۔ دیگر کو اب بھی یہ کام کرکے دکھانا ہے ۔ میں نے اپنے افسروں کو 117 توقعاتی اضلاع کی شناخت کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں ۔ ایسے ہر ایک ضلع کو ایک ٹیم دستیاب کرائی گئی ہے ، جو تعلیم ، پانی اور صفائی ، دیہی ترقیات کے شعبے میں صحت اور تغذیہ سے بھر پور خوراک کو اعلیٰ ترین ترجیح دیتے ہوئے کام کرے گی ۔

ہم دیگر محکموں کے توسط سے خواتین پر مرکوز اسکیموں پر کام کر رہے ہیں ۔ 2015 ء تک بھارت کی نصف سے زیادہ خواتین کے پاس رسوئی کے لئے صاف ستھرا ایندھن نہیں تھا ۔ ہم نے اجولا یوجنا کے توسط سے اس میں تبدیلی کی ۔ اجولا یوجنا نے 58 ملین خواتین کو صاف ستھرے باورچی خانے کا متبادل دستیاب کرایا ۔

ہم جنگی پیمانے پر سووچھ بھارت مشن چلا رہے ہیں تاکہ 2019 ء تک کھلے میں رفع حاجت سے مبرا ہو جائے ۔ گذشتہ چار برسوں کے دوران دیہی علاقوں میں صفائی ستھرائی احاطہ 39 فی صد سے بڑھ کر 95 فی صد تک ہو گیا ہے ۔

ہم سبھی یہ کہاوت جانتے ہیں کہ اگر آپ ایک مرد کو تعلیم یافتہ بناتے ہیں تو محض ایک فرد کو تعلیم یافتہ بناتے ہیں ۔ لیکن اگر آپ ایک خاتون کو تعلیم یافتہ کرتے ہیں تو آپ پورے کنبے کو تعلیم یافتہ بناتے ہیں ۔ ہم نے بیٹی بچاؤ ، بیٹی پڑھاؤ کی شکل میں اسے اپنایا ہے ۔ اس پروگرام کی توجہ لڑکی پر اور اسے سب سے اچھی زندگی اور تعلیم فراہم کرنے پر مرکوز ہے ۔ اس کے علاوہ ہم نے لڑکیوں کے لئے جمع بچت اسکیم - سُکنیا سمردھی یوجنا - شروع کی ہے ۔ اس اسکیم کے تحت 12.6 ملین کھاتے کھولے گئے ہیں اور یہ اسکیم لڑکی کا مستقبل یقینی بنانے میں ہماری مدد کر رہی ہے ۔

ہم نے پردھان منتری ماترتو وندنا یوجنا بھی شروع کی ہے ۔ اس اسکیم سے 50 لاکھ حاملہ خواتین اور دودھ پلانے والی ماؤں کو فائدہ حاصل ہو گا ۔ یہ اسکیم تنخواہ میں ہونے والے خسارے ، بچے کی پیدائش سے پہلے اور بعد میں بہتر خوراک اور وافر آرام کے لئے اُن کے کھاتوں میں براہ راست فائدہ منتقلی کے توسط سے رقم فراہم کرنے کی اہل ہے ۔

ہم نے زچگی سے متعلق رخصت کو پہلے کے 12 ہفتوں سے بڑھا کر 26 ہفتے کر دیا ہے ۔ ہم 2025 ء تک مجموعی گھریلو پیداوار کی 2.5 فی صد رقم صحت پر خرچ بڑھانے کے لئے عہد بند ہیں ۔ یہ 100 بلین امریکی ڈالر سے زائد ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ صرف 8 برسوں میں موجودہ حصے سے 345 فی صد کا اصل اضافہ ہو گا ۔ ہم لوگوں کی بہتری کے لئے کام کرتے رہیں گے ۔ ہر ایک پالیسی ، پروگرام اور پہل کے مرکز میں خواتین ، بچوں اور نو جوانوں کو رکھیں گے ۔

میں کامیابی کے حصول کے لئے متعدد حصص داروں کی شراکت داری کی ضرورت پر زور دینا چاہوں گا ۔ ہمیں معلوم ہے کہ کارگر صحت دیکھ بھال ، خصوصاً خواتین اور بچوں کی صحت کے لئے ملی جلی کارروائی سب سے اچھا قدم ہے ۔

دوستو ،

میں سمجھتا ہوں کہ اگلے دو تین دنوں میں یہ فورم پوری دنیا کی 12 کامیاب کہانیوں پر گفت و شنید کرے گا ۔ در اصل یہ مختلف ممالک کے مابین گفت و شنید کا موقع ہے ۔ یہ ایک دوسرے کے نظریات ساجھا کرنے کا موقع ہے ، جب ہم ایک دوسرے سے سیکھ سکتے ہیں ۔ بھارت ہنر مندی اور تربیتی پروگراموں ، رعایتی ادویہ کی تجویز اور ٹیکہ کرن ، علم کی منتقلی اور باہم تبادلے کے پروگراموں کے توسط سے معاون ممالک کو اُن کی ترقی کے اہداف کو حاصل کرنے میں حمایت دینے کے لئے عہد بستہ ہے ۔

میں وزراء کے سطح کے اجلاسات کے نتائج کو سننا چاہوں گا ۔ یہ فورم ایک زندہ جاوید اسٹیج کی شکل میں ہمیں ‘ سروائیو –تھرائیو – ٹرانسفارم ’ کے تئیں استحکام فراہم کرے گا ۔

ہمارے پروگرام طے ہیں اور ہم بیشتر طور پر پوری لگن کے ساتھ سبھی کے لئے صحتی سہولت فراہم کرنے کے لئے کام کرتے رہیں گے ۔ بھارت سبھی معاونین کے ساتھ ہمیشہ کھڑا رہے گا ۔ یہاں میں آپ سبھی سے اصرار کرتا ہوں کہ اسے صحیح جذبے سے اپنائیں تاکہ ہم پوری بنی نوع انسانی کو اپنی حمایت فراہم کرنے میں کامیاب ہو سکیں ۔

آئیے ، ہم سب ایک ساتھ مل کر اس نیک کام کے لئے اپنے عہد کا اظہار کریں ۔

شکریہ ۔

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
Modi’s West Asia tour marks India’s quiet reordering of regional security partnerships

Media Coverage

Modi’s West Asia tour marks India’s quiet reordering of regional security partnerships
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
PM chairs 50th meeting of PRAGATI
December 31, 2025
In last decade, PRAGATI led ecosystem has helped accelerate projects worth more than ₹85 lakh crore: PM
PM’s Mantra for the Next Phase of PRAGATI: Reform to Simplify, Perform to Deliver, Transform to Impact
PM says PRAGATI is essential to sustain reform momentum and ensure delivery
PM says Long-Pending Projects have been Completed in National Interest
PRAGATI exemplifies Cooperative Federalism and breaks Silo-Based Functioning: PM
PM encourages States to institutionalise PRAGATI-like mechanisms especially for the social sector at the level of Chief Secretary
In the 50th meeting, PM reviews five critical infrastructure projects spanning five states with a cumulative cost of more than ₹40,000 crore
Efforts must be made for making PM SHRI schools benchmark for other schools of state governments: PM

Prime Minister Shri Narendra Modi chaired the 50th meeting of PRAGATI - the ICT-enabled multi-modal platform for Pro-Active Governance and Timely Implementation - earlier today, marking a significant milestone in a decade-long journey of cooperative, outcome-driven governance under the leadership of Prime Minister Shri Narendra Modi. The milestone underscores how technology-enabled leadership, real-time monitoring and sustained Centre-State collaboration have translated national priorities into measurable outcomes on the ground.

Review undertaken in 50th PRAGATI

During the meeting, Prime Minister reviewed five critical infrastructure projects across sectors, including Road, Railways, Power, Water Resources, and Coal. These projects span 5 States, with a cumulative cost of more than ₹40,000 crore.

During a review of PM SHRI scheme, Prime Minister emphasized that the PM SHRI scheme must become a national benchmark for holistic and future ready school education and said that implementation should be outcome oriented rather than infrastructure centric. He asked all the Chief Secretaries to closely monitor the PM SHRI scheme. He further emphasized that efforts must be made for making PM SHRI schools benchmark for other schools of state government. He also suggested that Senior officers of the government should undertake field visits to evaluate the performance of PM SHRI schools.

On this special occasion, Prime Minister Shri Narendra Modi described the milestone as a symbol of the deep transformation India has witnessed in the culture of governance over the last decade. Prime Minister underlined that when decisions are timely, coordination is effective, and accountability is fixed, the speed of government functioning naturally increases and its impact becomes visible directly in citizens’ lives.

Genesis of PRAGATI

Recalling the origin of the approach, the Prime Minister said that as Chief Minister of Gujarat he had launched the technology-enabled SWAGAT platform (State Wide Attention on Grievances by Application of Technology) to understand and resolve public grievances with discipline, transparency, and time-bound action.

Building on that experience, after assuming office at the Centre, he expanded the same spirit nationally through PRAGATI bringing large projects, major programmes and grievance redressal onto one integrated platform for review, resolution, and follow-up.

Scale and Impact

Prime Minister noted that over the years the PRAGATI led ecosystem has helped accelerate projects worth more than 85 lakh crore rupees and supported the on-ground implementation of major welfare programmes at scale.

Since 2014, 377 projects have been reviewed under PRAGATI, and across these projects, 2,958 out of 3,162 identified issues - i.e. around 94 percent - have been resolved, significantly reducing delays, cost overruns and coordination failures.

Prime Minister said that as India moves at a faster pace, the relevance of PRAGATI has grown further. He noted that PRAGATI is essential to sustain reform momentum and ensure delivery.

Unlocking Long-Pending Projects

Prime Minister said that since 2014, the government has worked to institutionalise delivery and accountability creating a system where work is pursued with consistent follow-up and completed within timelines and budgets. He said projects that were started earlier but left incomplete or forgotten have been revived and completed in national interest.

Several projects that had remained stalled for decades were completed or decisively unlocked after being taken up under the PRAGATI platform. These include the Bogibeel rail-cum-road bridge in Assam, first conceived in 1997; the Jammu-Udhampur-Srinagar-Baramulla rail link, where work began in 1995; the Navi Mumbai International Airport, conceptualised in 1997; the modernisation and expansion of the Bhilai Steel Plant, approved in 2007; and the Gadarwara and LARA Super Thermal Power Projects, sanctioned in 2008 and 2009 respectively. These outcomes demonstrate the impact of sustained high-level monitoring and inter-governmental coordination.

From silos to Team India

Prime Minister pointed out that projects do not fail due to lack of intent alone—many fail due to lack of coordination and silo-based functioning. He said PRAGATI has helped address this by bringing all stakeholders onto one platform, aligned to one shared outcome.

He described PRAGATI as an effective model of cooperative federalism, where the Centre and States work as one team, and ministries and departments look beyond silos to solve problems. Prime Minister said that since its inception, around 500 Secretaries of Government of India and Chief Secretaries of States have participated in PRAGATI meetings. He thanked them for their participation, commitment, and ground-level understanding, which has helped PRAGATI evolve from a review forum into a genuine problem-solving platform.

Prime Minister said that the government has ensured adequate resources for national priorities, with sustained investments across sectors. He called upon every Ministry and State to strengthen the entire chain from planning to execution, minimise delays from tendering to ground delivery.

Reform, Perform, Transform

On the occasion, the Prime Minister shared clear expectations for the next phase, outlining his vision of Reform, Perform and Transform saying “Reform to simplify, Perform to deliver, Transform to impact.”

He said Reform must mean moving from process to solutions, simplifying procedures and making systems more friendly for Ease of Living and Ease of Doing Business.

He said Perform must mean to focus equally on time, cost, and quality. He added that outcome-driven governance has strengthened through PRAGATI and must now go deeper.

He further said that Transform must be measured by what citizens actually feel about timely services, faster grievance resolution, and improved ease of living.

PRAGATI and the journey to Viksit Bharat @ 2047

Prime Minister said Viksit Bharat @ 2047 is both a national resolve and a time-bound target, and PRAGATI is a powerful accelerator to achieve it. He encouraged States to institutionalise similar PRAGATI-like mechanisms especially for the social sector at the level of Chief Secretary.

To take PRAGATI to the next level, Prime Minister emphasised the use of technology in each and every phase of the project life cycle.

Prime Minister concluded by stating that PRAGATI@50 is not merely a milestone it is a commitment. PRAGATI must be strengthened further in the years ahead to ensure faster execution, higher quality, and measurable outcomes for citizens.

Presentation by Cabinet Secretary

On the occasion of the 50th PRAGATI milestone, the Cabinet Secretary made a brief presentation highlighting PRAGATI’s key achievements and outlining how it has reshaped India’s monitoring and coordination ecosystem, strengthening inter-ministerial and Centre-State follow-through, and reinforcing a culture of time-bound closure, which resulted in faster implementation of projects, improved last-mile delivery of Schemes and Programmes and quality resolution of public grievances.